Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • ورلڈ بینک نے پاکستانیوں کو بڑی خوشحبری سنا دی

    ورلڈ بینک نے پاکستانیوں کو بڑی خوشحبری سنا دی

    پاکستان میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پاچا موتو النگو نے کہا ہے پاکستان سرمایہ کار کو کاروبار کیلئے دوستانہ ماحول فراہم کرنے والے ممالک کی لسٹ میں پہلے 20 ممالک میں اگیا ہے، اور اس کی بڑی وجہ وفاق ، پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومتوں کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات ہیں ،
    ورلڈ بینک نے پچھلے سال جو پاکستان متعلق رپورٹ جاری کی تھی اس میں بھی پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کیا تھا لیکن ان کوششوں کو اعلانیہ طور پر سراہا نہیں تھا ، پہلے بیس ممالک میں پاکستان کی رینکنگ 24 اکتوبر کو شائع کی جائے گی ، رینکنگ میں بہتری کی وجہ سے پاکستان کی تمام ممالک کی لسٹ میں بھی بہتری آئے گی جس میں 190 ملک شامل ہیں اور پاکستان 136 ویں نمبر پر موجود ہے،
    پچھلے سال کی رپورٹ میں ورلڈ بینک نے پاکستان کی نو میں صرف تین اصلاحات کو تسلیم کیا تھا ، اور تسلی بحش ثابت نہ ہونے والی اصلاحات میں بجلی کا کنکشن لینے میں آسانی، ٹیکسز کی ادائیگی، تعمیرات کے محفوظ پرمٹ، پراپرٹی کی رجسٹریشن، اور سرحد کے پار تجارت میں مشکلات شامل تھیں ، لیکن اس سال ورلڈ بینک نے پاکستان کی 10 میں سے 6 اصلاحات کو تسلیم کیا ہے اور اس رپورٹ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان "ایز آف ڈوئنگ بزنس” کی رینگ میں مزید بہتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا اور پاکستان میں سرمایہ کار مزید دلچسپی کا اظہار کرے گا،

  • اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ اور ہم سب مسلمان ہیں ۔ حج کرنے ، عمرہ کرنے ، خیرات دینے میں پاکستانیوں کا دنیا میں اور کوٸی ثانی نہیں اور الحَمْدُ ِلله ہمیں اس بات پر فخر ہے ۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر انسان پریشانیوں ، دکھوں ، اور تکیلفوں میں کیوں گھرا ہوا ہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک اللہ کو ماننے والے ، سارے اختیارات کا مالک صرف اللہ پاک کو ماننے والے ، حاجت روا صرف ایک اللہ کو ماننے والے ، ہم لوگ آخر بے چینیوں اور تکلیفوں کا شکار ہیں کیوں ؟

    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاٸیں اور اپنی معاشرتی زندگی پر غور کریں تو ہمیں اپنے اردگرد جھوٹ ، بددیانتی ، بد لحاظی ، منافقت ، نفرت ، فساد ، رشتوں سے الجھاٶ ہر جگہ کثرت سے نظر آٸے گا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اسلام کو ماننے والے ، ایک اللہ کو قادر مطلق سمجھنے والے ، خود کو مسلمان کہنے والے اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں کہ ہم جھوٹ بولنا حق سمجھتے ہیں ،ڈاکہ زنی لوٹ مار ، کسی مسلمان کا حق کھانا ، ناپ تول میں کمی کرنا ، والدین کی گستاخی کرنا ، کسی مسلمان کی چغلی اور غیبت کرنا ، کسی بھولے بھالے مسلمان پر بہتان لگانا ، الزام تراشی کرنا معیوب نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ ہمیں ہمارا اسلام ان سب باتوں سے سختی سے منع کرتا ہے ۔ اسلام میں چغل خور کو شیطان کا بھاٸی کہا گیا ہے تو کہیں غیبت کو اپنے مردہ بھاٸی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔ کہیں دکھاوے کی مذمت کی گٸی ہے تو کہیں مسلمان کا راز فاش کرنے والے کو یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان کے کسی راز کو فاش کرے گا تو اللہ بھی اسے ذلیل و رسوا کر دے گا ، کہیں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے تو کہیں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے واقعات بتا کر عبرت حاصل کرنے کی تنبیہ کی گٸی ہے ۔ کہیں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا رکھی گٸی ہے تو کہیں زنا اور شراب پر حد مقرر کی گٸی ہے ۔ اور بات مختصرا یہ کہہ دی گٸی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا ۔ قصور وار کون ؟ کیا ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجہ ہم خود تو نہیں ؟ کیا ہم صرف نام کے مسلمان تو نہیں ؟ کیا ہم نے اسلام کا صرف نام سنا ہے یا اسلام کو پڑھا بھی ہے کہ اسلام کہتا کیا ہے ؟ اگر ہم ان چند سوالوں پر غور کریں توبات سامنے یہ آتی ہے کہ ہم صرف پیداٸشی مسلمان ہیں جنہوں نے اسلام کا صرف نام ہی سن رکھا ہے ۔ اگر ہم نے اسلام پڑھا ہوتا تو ہمیں پتہ ہوتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اور اللہ نے ہمیں چغلی ، غیبت ، بے حیاٸی ، شراب جوٸے ،چوری ، جھوٹ ، بہتان سے نا صرف منع کیا ہے بلکہ اس پر سخت وعیدیں بھی آٸی ہیں ۔ ہم لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ہمارے کیا حقوق ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا کہ ہمارے فراٸض کیا ہیں ۔ والدین اولاد کا حق دینے کو تیار نہیں تو اولاد والدین کو بوجھ سمجھ رہی ہے ، سسرالی رشتوں کے ساتھ جو ہمارا رویہ ہوتا ہے وہ تو اللہ کی پناہ ۔ ساس یہ تو چاہتی ہے کہ بہو بیٹی بنے لیکن خود بہو کو بیٹی سمجنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح بہو یہ تو چاہتی ہے کہ ساس سسر اپنی بیٹی سے زیادہ بہو کا خیال رکھیں لیکن بہو خود اپنے ساس سسر کو والدین کا درجہ دینے کو تیار نہیں ، عورتیں صرف اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے دلوں میں ان کی دادی ، پھوپھو ، چچا جیسے مقدس رشتوں کے لیے نفرت ڈال رہی ہیں جبکہ مرد اپنے بچوں کے سامنے اپنے بچوں کی امی ، اس کے والدین اور بہن بھاٸیوں کو برا بھلا کہتے ہیں جس کی وجہ سے اولاد کے دل میں ماں کے مقدس رشتوں کے لیے بغض اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس طرح جب مرد اور عورت اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے لڑاٸی جھگڑا کرتے ہیں تو بچے بھی والدین کی عزت و احترام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ جب والدین بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں تو بچے بھی ایسی ہی تربیت پاتے ہیں ۔ ہم اپنی خود غرضی اور لالچ کی بنا پر اپنے خون پسینے کی کماٸی کو جھوٹی قسم اٹھا کر ، ناپ تول میں کمی کر کے ، اپنے ڈیوٹی کے گھنٹوں میں کمی بیشی کر کے حلال سے حرام میں بدل دیتے ہیں ۔ اور جب ہمارا کھاناپینا حرام ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے گھروں میں نااتفاقی ، ناچاکی اور نفرتیں جنم لیتی ہیں ۔ بیوی کو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ جس ساس کے خلاف وہ اپنے شوہر کے کان بھر رہی ہے وہ اس کے شوہر کی جنت ہے ایسی عورتیں اپنے ہم سفر اپنے مزاجی خدا کی جنت خود اپنے ہاتھوں برباد کر رہی ہوتی ہیں ۔ استاد اپنے فراٸض بھول کر بس اپنی تنخواہ کے چکروں میں پڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے آج کے طالب علم کے پاس علم کا تو ذخیرہ ہوگا لیکن وہ تربیت سے بالکل خالی ہوگا ۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں اعلی مقام حاصل کر سکیں ۔ اپنے غموں اور پریشانیوں کا خاتمہ کر سکیںتو ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کا مطالعہ کر کے سچے پکے مسلمان بنیں اور پھر اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کریں ۔ ہماری مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پر عمل سے ہی ممکن ہے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے پہلے اسلامی تعلیمات کو جاننا ضروری ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔
    آمین

  • جارح مزاج بیٹسمین اگر ٹک ٹک کرنے لگے گا تو کھیل نہیں پائے گا ، مصباح الحق

    جارح مزاج بیٹسمین اگر ٹک ٹک کرنے لگے گا تو کھیل نہیں پائے گا ، مصباح الحق

    پاکستان کرکٹ ٹيم کے ہيڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ہو یا کوئی اور ملک، اب کہیں بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے، ہمیں کرکٹ کو جاری رکھنا چاہیے، دنیا کو چاہیے کہ اب وہ پاکستان آکر کرکٹ کھیلے، اب یہاں کے فینز کو زیادہ دير ایکشن سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ہوتا اگر سری لنکا کی فل اسٹرینتھ ٹیم یہاں ہوتی لیکن جو ٹیم آئی ہے وہ بھی بہتر ہے اور پاکستان ٹیم کو سرپرائز کرسکتی ہے۔ بطور پروفیشنل کرکٹرز وہ یہ نہیں سوچتے کہ کون سا کھلاڑی ہے اور کون سا نہیں، سری لنکا کی ٹیم ویسے ہی نوجوان پلییئرز پر مشتمل ہے۔قومی ٹیم کے ہيڈ کوچ کے مطابق سری لنکا سے سیریز ميں نوجوان کرکٹرز کیلئے بھی کارکردگي دکھانے کے مواقع موجود ہيں کھلاڑی سیریز میں اپني سو فیصد پرفارمنس دیں گے، پاکستان اس سیریز میں بھرپور کرکٹ کھیلے گا اور امید ہے کہ فینز کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

    مصباح الحق کا کہنا تھا کہ یہ سب کیلئے اہم لمحہ ہے کیوں کہ پاکستان کافی عرصہ بعد ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رہا ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سے متعلق ہیڈ کوچ نے کہا کہ سرفراز احمد نے بہت محنت کی ہے، اس کی کپتانی کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی پرفارم کرے، میری تمام سپورٹ سرفراز احمد کے ساتھ ہے اور امید ہے کہ وہ سیریز میں اچھا پرفارم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی سرفراز کی حمایت کی اور آج بھی ان کی سپورٹ کرتے ہیں، ماضی میں سرفراز نے بطور کپتان کافی اچھے نتائج دییے ہیں جن میں چیمپئنز ٹرافی کی جیت اور ٹی ٹوئنٹی میں نمبر ایک ہونا شامل ہے، چیزیں اوپر نیچے ہوجاتی ہیں جو جلد بہتر ہوجائیں گی۔
    قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ وہ اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ پلیئرز اپنا نیچرل گیم کھیلیں، جارح مزاج بیٹسمین اگر ٹک ٹک کرنے لگے گا تو نہیں کھیل پائے گا، ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیسٹ کیلئے ایک مضبوط ٹیم تیار کی جائے، اور یہی ان کا فوکس ہے۔ مصباح کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ سے انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے کیلئے صرف پرفارمنس ہی کافی نہیں، پلیئرز کو معیار کے مختلف باکسز پر ٹک مارک کرنا ضروری ہے جس کے بعد وہ انٹرنیشنل معیار پر پورا اترتاہے، ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بہتر ہونے سے امید ہے کہ کرکٹ بھی بہتر ہوگی۔ مصباح الحق نے کہا آسٹریلیا میں ہمیشہ بیٹنگ کی وجہ سے پریشانی رہتی تھی لیکن پچھلے دورے میں بیٹنگ سے زیادہ پریشان بولنگ نے کیا تھا،
    آسٹریلیا میں کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ حریف کی 20 وکٹیں حاصل کی جائیں۔ ایک سوال پر چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ فاسٹ بولرز کا ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنا اچھی بات نہیں کیوں کہ ٹیسٹ کی کارکردگی کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے لیکن اب یہ ایک کھلاڑی ہی بہتر بتاسکتا ہے کہ اس کا جسم کتنا ورک لوڈ برداشت کرسکتا ہے۔ ک سوال کے جواب میں مصباح الحق نے کہا کہ مکی آرتھر اور انضمام الحق کی مینجمنٹ نے اچھے کام بھی کیے، بابر اعظم جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی کا آنا، شاہین آفریدی اور شاداب جیسے بولرز ملنا ، اس کا سابق مینجمنٹ کو کریڈیٹ جاتا ہے، جو ان کے اچھے کام ہوئے، ہم ان کو آگے بڑھائیں گے۔ یاد رہے کہ مصباح الحق کے قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ بننے کے بعد پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلی سیریز ہے جس کیلئے انہوں نے ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ سری لنکا کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے اور وہ کراچی میں 3 ایک روزہ اور لاہور میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ 27 ستمبر کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

  • سری لنکا کی ٹیم ون ڈے اور ٹی20 سیریز کیلئے پاکستان پہنچ گئی ،پاکستانی کرکٹ ٹیم کےآفیشلز نے بھرپور استقبال کیا

    سری لنکا کی ٹیم ون ڈے اور ٹی20 سیریز کیلئے پاکستان پہنچ گئی ،پاکستانی کرکٹ ٹیم کےآفیشلز نے بھرپور استقبال کیا

    کراچی : پاکستان سے ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کھیلنے کے لیے سری لنکا کی ٹیم لہیرو تھری مانے کی قیادت میں کولمبو سے کراچی ایئرپورٹ پر پہنچی جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔سری لنکا کی ٹیم کراچی میں تین ون ڈے میچز کھیلنے کے بعد لاہور میں تین ٹی20 میچز کھیلے گی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق سری لنکن ٹیم کی آمد کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور شاہراہ فیصل پر پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خصوصی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔سری لنکن ٹیم نے بھی پاکستان پہنچ کر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ پاکستان آکر بڑے خوش ہوئے ہیں‌

    مہمان ٹیم کی آمد پر خصوصی کھانوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ پاکستانی کھانوں کے ساتھ سری لنکن اور چائینز کھانے پیش کیےجارہےہیں، اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سنیئر رہنما اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کے آئے ہوئے سنیئر ممبران کھانے کے ساتھ ساتھ مشاورت میں بھی مصروف ہیں

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 27ستمبر کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جس کے بعد 29 ستمبر کو دوسرا اور دو اکتوبر کو تیسرا ون ڈے میچ کھیلا جائے گا۔اس کے بعد لاہور کا قذافی اسٹیڈیم 5، 7 اور 9اکتوبر کو تین ٹی20 میچوں کی میزبانی کرے گا اور 10اکتوبر کو سری لنکن ٹیم وطن واپس لوٹ جائے گی۔

  • پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ، جنید خان

    پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ، جنید خان

    پاکستان کے ٹیسٹ فاسٹ بولر جنید خان کا کہنا ہے کہ ان کے نززدیک پاکستان سے بڑھ کر کوئی معاہدہ عزیز نہیں ، جنید خان کو انگلینڈ کی ایک کاؤنٹی کی جانب سے چار سالہ معاہدے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو ترجیح دیتے ہوئے معاہدہ ٹھکرا دیا ،
    قائداعظم ٹرافی میں خیبرپحتونحوا کی نمائندگی کرنے والے فاسٹ بولر نے یو بی ایل گراؤنڈ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری کارکردگی سب کے سامنے ہے ، ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی پرفارمنس دے کر قومی ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کروں گا ، یاد رہے جنید خان کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے لیکن اس کے باوجود ان اولین ترجیح پاکستان ہے ،

  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    "کشمیر ”
    وہ خطہء جس کا نام لکھتے ہوئے دل غم سے پھٹنے لگے
    لکھتے ہوئے الفاظ بھی ساتھ نہ دیں
    کہنے کو میری جنتِ ارضی لیکن حقیقت میں شعلوں کی لپیٹ میں جلتی ہوئی جہنم بن چکی ہے بلکہ بنا دی بھارت کی سفاک درندہ فوج نے
    چناروں کی وادی کوہساروں کی وادی جہنم بنا دی گئی
    ظلم و بربریت کی ایسی المناک دردناک داستانیں کہ اللہ کا عرش بھی ہل گیا ہوگا
    جہاں کے چنار رو رہے ہیں
    جہاں آبشاروں اور جھیلوں میں پانی نہیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے
    ظلم و ستم کا یہ قصہ کب سے چلتا آ رہا ہے
    جہاں معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے
    ماؤں کی گودیں اجاڑیں جاتی ہیں
    سہاگنوں سے سہاگ چھین لئے جاتے ہیں
    لیکن قربان جاؤں اسلام کی ان شہزادیوں پر جن کے حوصلے گودیں اجاڑ کر جگر کے ٹکڑے قربان کر کے
    سہاگ لٹا کر بھی حوصلے پست نہیں ہوتے
    مسلمان غلامی کبھی بھی قبول نہیں کرتا
    تبھی تو
    ہاں تبھی تو
    آزادی کے یہ پروانے اسلام کے بیٹے کشمیر کے بیٹے ماؤں کے گھبرو جوان لختِ جگر دیوانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں
    آگ اگلتی بندوقوں کے سامنے کشمیر کے دلیر بیٹے نہتے ہی پاکستان کا پرچم سینوں پہ لپیٹے ہوئے آتے ہیں
    اس شعر کی مصداق

    "ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں”

    اور پھر سفاک بھیڑیوں کی گولی اسلام کے بیٹوں کے جگر چھلنی کرتی چلی جاتی ہے
    لیکن پاکستان کی محبت پاکستان کا پرچم شہادت کے بعد بھی ان کے سینے سے جڑا رہتا ہے
    جنازوں پہ پاکستان کے پرچم اور پھر قبروں پر بھی پاکستان کے پرچم اس بات کی گواہی ہیں کہ ہمیں شہید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ارض پاکستان سے کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا
    ایک بیٹا ابھی ماں دلہا بنا کر جنت کی طرف بھیجنے کو تیاری کر رہی ہوتی ہے کہ دوسرے جوان بیٹے کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی گھر آ جاتی ہے
    ایک ہی وقت میں ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھ رہے ہیں
    اللہ اکبر
    جنکی صبح بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے رات بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے
    پاکستانیوں کیا کبھی سوچا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟
    کیا ہم اپنی ہی دنیا میں مست تو نہیں؟؟
    کیا ہم بھی ان کے لئے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں ؟؟
    کیا ہمارے دل بھی ان کے لئے یوں ہی ڈھڑک رہے ہیں ؟؟
    اگر نہیں تو خدارا سنبھل جائیے کہ یہ وقت سونے کا نہیں ہے
    خدا نہ کرے غفلت کی نیند میں سوتے رہنے سے ظلم و بربریت کا یہ سیلاب ہمارے دروازوں تک آ جائے
    اللہ نہ کرے ایسا ہو تو اس پہلے جاگ جائیے
    کہ کلمہ کی بنیاد پر اسلام کی نسبت سے وہ کوئی غیر نہیں ہمارے ہی بیٹے بچے جوان قربان ہو رہے ہیں
    ہماری ہی مائیں بہنیں بیٹیاں عصمتیں لٹا رہی ہیں
    کیا جرم ہے انکا صرف لا الہ الا اللہ
    کلمہ انکا جرم بن گیا
    اسلام کی نسبت سے پاکستان سے محبت انکا جرم بن گئی
    یوں اسلام پورا ہی کفر کی نظر میں مجرم ہے
    آج نہ ہم جاگے تو یہ آگ کے شعلے ہمیں بھی لپیٹ سکتے ہیں
    خدرا جاگ جائیے
    اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لئے آواز تو بلند کر سکتے ہیں
    ہر جگہ ہر محفل میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کی سفاکیت کا پول تو کھول سکتے ہیں
    ہم انکی آواز تو بن سکتے ہیں نا
    کہ جہاں سے اب انکی دلدوز چیخیں بھی سنائی نہیں دے سکتیں
    موبائل سروس, انٹر نیٹ سب بند کئیے ہوئے نہ جانے ان پہ کیا قیامت بیت رہی ہوگی
    الغرض کشمیر کا چپہ چپہ لہو رنگ ہے کہ بھارت کی درندگی بیان سے باہر ہے
    آخر میں سوال ہے میرا
    عالمی حقوق کی کھوکھلی تنظیموں سے
    "ہاں تم ہی بتاؤ
    انسانوں سے ان کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے کیا عدل و انصاف کے یہ پیمانے ہیں ؟؟”

  • جنوبی افریقہ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا

    جنوبی افریقہ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا

    جنوبی افریقہ نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کو 9 وکٹ کے بڑے مارجن سے شکست دے دی ، اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل بھارتی ٹیم کا غرور خاک میں ملا دیا ،
    بھارت کے شہر بنگلور میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئیں ، بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ، بھارت کے اوپنرز نے اچھا سٹارٹ فراہم کیا اس کے بعد وکٹیں گرنا شروع ہوئیں اور کوئی کھلاڑی جم کر کھیل نہ سکا ، شکھر دھون نے 36 اور رشب پانٹ نے 19 رنز بنائے ، بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز 9 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز بنا سکی، جنوبی افریقہ کی طرف سے ربادا نے 3 ، ہینڈرکس نے 2 اور فورٹو ان نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ،
    جواب میں جنوبی افریقہ نے ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کر لیا ، جنوبی افیقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کاک نے 52 گیندوں پر 79 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی ، ریزا ہینڈرکس اور تیمبا بوما نے بھی 27 اور 28 ارنز بنا کر کپتان کا خوب ساتھ دیا ، بھارتی بالرز نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا مگر انہیں وکٹیں نہ مل سکیں اور یوں جنوبی افریقہ نے ہدف سترھویں اوور میں با آسانی پورا کر لیا ، شاندار باولنگ کرنے پر بیورن ہینڈرکس کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا اور ٹی ٹوئینٹی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی،

  • وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    پاکستان بنانے کا مقصد ایک ایسے خطے کا حصول تھا جہاں مسلمان اپنے دین اسلام کے مطابق آزدانہ زندگی گزار سکیں اور اپنے اسلامی اصول و قوانین پر عمل کر سکیں ۔ مسلمانوں نے اس لیے بے انتہا قربانیاں دیں تا کہ ان کی آنے والی نسلیں پاکستان میں رہ کر اسلام پر عمل پیرا ہو سکیں ۔ لیکن پاکستانیوں کی بدقسمتی کہ انہیں ایسے حکمران ملے جنہوں نے اس پاک دھرتی پر اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو کامیاب ہونے میں ہمیشہ مدد دی ۔ پاکستانی کی سرزمین میں عاشق رسول ﷺ تو پھانسی کے پھندے تک پہنچتے رہے لیکن پاکستان کہ غدار اور اسلام کے دشمن ہمیشہ ہمارے حکمرانوں کے تحفظ میں رہے ۔ اس پاک دھرتی میں اسلامی قوانین تو راٸج نہ کیے جاسکے البتہ میڈیا کے ذریعے پاکستان میں لبرل ازم کو فروغ ضرور دیا جاتا رہا ہے ۔ اسلام کے نام لیواٶں پر تو یہ زمین تنگ کر دی گٸی لیکن محب وطن پاکستانیوں پر غداری کے مقدمات درج کٸیے گے اور پاک فوج اور پاک وطن اور اسلام کو نقصان پہنچانے والے باعزت بری ضرور ہوتے رہے ۔ پاکستان کے عوام جنہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں عملا نافذ کرنا تھا وہ روٹی کپڑا مکان ، قرض اتارو ملک سنواروں ، ایک کروڑ نوکریوں ، اور دو نہیں ایک پاکستان جیسے نعروں میں ہی الجھ کر رہ گے ۔ نعرے تو ہر الیکشن میں بدلتے رہے ۔ بلہ الیکشن سے پہلے اور نعرے ہوتے جبکہ الیکشن کے بعد مزید نٸے نعرے آجاتے ۔ لیکن ان کھوکھلے نعروں نے ہمیں دیا کیا ؟ کیا پاکستان سے قرضہ ختم ہو گیا ؟ کیا عوام کو روٹی کپڑا اور مکان مل گیا ؟ کیا دو نہیں ایک پاکستان بن گیا ؟ کیا عوام کو انصاف ان کے دروازے پر ملنا ممکن ہوگیا ؟ کیا پولیس کا نظام ، عدلیہ کا نظام ، نظام حکومت سب بدل گیا ؟ کیا یہ سب بدل کر پاکستانی عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہوگیا ؟ ہرگز نہیں اور نہ ہی ایسا تب تک ہو سکتا ہے جب تک ہم اہنا نظام نہ بدل لیں ۔ اگر ملک کو خوشحال بنانا ہے ، عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرنی ہیں تو پھر نعرے نہیں نظام بدلنا ہوگا ۔ نظام بھی نچلی سطح سے لے کر اعلی سطح تک بدلنا ہوگا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام میں بدلا کیا جاٸے ۔ تو سنیں نظام بدلنا کیسے ہے اور کس طرح نظام بدلے گا ۔ ہمارا پولیس کا نظام وہی جو انگریز نے بنایا یعنی عوام کو حکمرانوں اور سیاستدانوں ، جاگیرداروں ، وڈیروں سے ڈرا کر رکھنا اور بدقسمتی سے ہمارا نظام آج بھی وہی ہے ۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کا نظام اس محکمے کے مقاصد وہی رکھیں جاٸیں جو امیر المٶمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس محکمے کو قاٸم کرتے وقت بناٸے تھے ۔ قصور میں آٸے دن بچوں کا ریپ اور پھر درد ناک قتل اس سب کا ذمہ دار موجودہ نظام اور اس نظام کو قاٸم کرنے والے ہیں ۔ اگر اسلامی شریعت کے مطابق ان بچوں کے قاتلوں کو سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تو آٸیندہ کسی کی جرأت نہیں ہوگی کسی معصوم بچے کی طرف غلط نظر سے دیکھ سکے ۔ ہمارے ملک میں رشوت خوری جہاں عروج پر ہے جہاں چور ڈاکو ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر جاٸدادیں بنا لیں یہاں اگر اسلامی شریعت نافذ ہوتی تو پہلی دفعہ ہی چر کا ہاتھ کاٹنے پر اسے عبرت مل جاتی کہ آٸیندہ ہم نے حرام پیسے کو ہاتھ نہیں لگانا ۔ انہیں پتہ ہوتا کہ ہم نے اپنے کتوں کو شہزادے بنا کر نہیں رکھنا بلکہ کتے کے کاٹے کی ویکسین رکھنی ہے ۔ دو نہیں ایک پاکستان بنانے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ان وزیروں مشیروں اور وزیر اعظم کا رہن سہن رکھا جاٸے ۔ دربان یعنی سیکیورٹی گارڈ ، پروٹوکول ختم کیاجاٸے ۔ وزیر اعظم کی تنخواہ عام مزدور کے برابر لاٸی جاٸے تاکہ سب کا معیار زندگی ایک ہو ۔ وزیروں مشیروں کی شاہانہ گاڑیوں پر پابندی لگاٸی جاٸے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صوبوں کے والیوں کو ترکی گھوڑا استعمال کرنے سے منع کیا تھا ۔ اسلامی قانون کے مطابق زکوة و عشر امیروں سے لے کر غریبوں کو دینے کا حکم تھا مگر یہاں غریب کے بچے کی دو روپے کی ٹافی پر بھی ٹیکس لگا کر امیروں کو دیا جارہا ہے ۔ ٹیکس ختم کر کے زکوة و عشر کا نظام لایا جاٸے تاکہ فاٸدہ غریب کا ہو اور امیر کا بھی مال پاک ہوجاٸے ۔ یہ قانون بنایا جاٸے کہ جو حکمران قرض لے گا وہی اس قرض کو واپس بھی کرے گا نہ کہ اس ملک کی غریب عوام کو پیسا جاٸے گا ۔ ملک کی لوٹی ہوٸی رقم واپس لانے کا آسان حل ان چوروں ڈاکوٶں میں سے کسی دو کی سر عام گردنیں اتار دی جاٸیں ۔ باقی روپیہ خود واپس کریں گے ۔ اور اس قانون پر عمل میں خیال یہی رکھا جاٸے کہ اگر اپنی بہن یا بیٹی کی چوری اور زکوة کی جاٸدادیں باہر ہیں تو اسے بھی سزا دی جاٸے ۔

    پاکستان میں حکمران صرف اسی کو منتخب کیا جاٸے ، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف تک کے عہدے ان لوگوں کو دٸیے جاٸیں جن کے بزرگ پاکستان میں دفن ہیں جن کی اپنی ساری عمریں اسی پاکستان میں گزر گٸیں اور جن کے بچے بھی ہمیشہ پاکستان میں رہے ہیں ۔ ایم این اے ، ایم پی اے سے پروٹوکول ، سرکاری گاڑیاں سیکیورٹی واپس لی جاٸے اور انہیں پابند کیا جاٸے کہ یہ لوگ عام عوم کے ساتھ سفر کریں ۔ پھر دیکھیں ملک میں کوٸی ایک ادنی سی چوری بھی ہوگٸی یا دھماکہ ہوگیا تو کہنا ۔ شراب پر پابندی عاٸد کی جاٸے اور دیگر نشہ آور چیزوں کے استعمال پر سر عام کوڑے مارے جاٸیں تاکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں نشہ کے کاروبار ختم ہوں ۔ مزدوروں کے لیے ہسپتال الگ بناٸیں جاٸیں اور پھر ان عوامی نماٸیندوں کو پابند کیا جاٸے کہ وہ اپنا علاج انہیں ہسپتالوں سے کرواٸیں ۔ مزدور کا جیسا علاج معالجہ ہو ویسا ہی ان عوامی نماٸیندوں کا بھی ۔ بے حیاٸی کے خاتمے کے لیے بچوں کے بالغ ہوتے ہی ان کی شادیاں کروانے پر حکومتی سطح پر سختی کی جاٸے ۔ جو وزیر بے حیاٸی پھیلانے والوں کے ساتھ نظر آٸے اس کے لیے سزا مختص کی جاٸے تاکہ وہ بے حیاٸی پھیلانے والیوں کو ایوارڈ دینے کی بجاٸے شریعی سزا دے سکیں ۔ پہلی وحی ” پڑھ اپنے رب کے نام سے ” پر عمل کیاجاٸے اور اپنے رب کی دی ہوٸی تعلیم یعنی اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم دی جاٸے ۔

    لیکن یہ سبھی قوانین تب بنے گے جب لیڈر اور نماٸیندے ایمان دار ہوں گے ۔ حرمت نبی ﷺ کو بیچ دینے والے ، شراب جس نے پینی ہے پی جس نے نہیں پینی نہ پیے کہنے والے ایسا نظام نہیں لاسکتے ۔ جو اپنے حرام پن کا دفاع کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ جسے خالص دودھ ویسے مل جاٸے اسے گاٸے پالنے کی کیا ضرورت ہے وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ۔ جو یہ کہے قادیانی ہمارے بہن بھاٸی ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جو یہ کہیں کہ پتنگ بازی چھوڑنی ہے تو قربانی کرنا بھی چھوڑ دیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جن کے اپنے بچے باہر کے ملکوں میں والدین کی عزتیں خاک میں ملا رہے ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟

    اللہ ہمارے شہدا کی قربانیاں قبول فرماٸے اور کوٸی معجزہ دکھا دے کہ ہم بھی اپنے وطن کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنتے ہوٸے دیکھ سکیں ۔ آمین