Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    پاکستان بنانے کا مقصد ایک ایسے خطے کا حصول تھا جہاں مسلمان اپنے دین اسلام کے مطابق آزدانہ زندگی گزار سکیں اور اپنے اسلامی اصول و قوانین پر عمل کر سکیں ۔ مسلمانوں نے اس لیے بے انتہا قربانیاں دیں تا کہ ان کی آنے والی نسلیں پاکستان میں رہ کر اسلام پر عمل پیرا ہو سکیں ۔ لیکن پاکستانیوں کی بدقسمتی کہ انہیں ایسے حکمران ملے جنہوں نے اس پاک دھرتی پر اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو کامیاب ہونے میں ہمیشہ مدد دی ۔ پاکستانی کی سرزمین میں عاشق رسول ﷺ تو پھانسی کے پھندے تک پہنچتے رہے لیکن پاکستان کہ غدار اور اسلام کے دشمن ہمیشہ ہمارے حکمرانوں کے تحفظ میں رہے ۔ اس پاک دھرتی میں اسلامی قوانین تو راٸج نہ کیے جاسکے البتہ میڈیا کے ذریعے پاکستان میں لبرل ازم کو فروغ ضرور دیا جاتا رہا ہے ۔ اسلام کے نام لیواٶں پر تو یہ زمین تنگ کر دی گٸی لیکن محب وطن پاکستانیوں پر غداری کے مقدمات درج کٸیے گے اور پاک فوج اور پاک وطن اور اسلام کو نقصان پہنچانے والے باعزت بری ضرور ہوتے رہے ۔ پاکستان کے عوام جنہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں عملا نافذ کرنا تھا وہ روٹی کپڑا مکان ، قرض اتارو ملک سنواروں ، ایک کروڑ نوکریوں ، اور دو نہیں ایک پاکستان جیسے نعروں میں ہی الجھ کر رہ گے ۔ نعرے تو ہر الیکشن میں بدلتے رہے ۔ بلہ الیکشن سے پہلے اور نعرے ہوتے جبکہ الیکشن کے بعد مزید نٸے نعرے آجاتے ۔ لیکن ان کھوکھلے نعروں نے ہمیں دیا کیا ؟ کیا پاکستان سے قرضہ ختم ہو گیا ؟ کیا عوام کو روٹی کپڑا اور مکان مل گیا ؟ کیا دو نہیں ایک پاکستان بن گیا ؟ کیا عوام کو انصاف ان کے دروازے پر ملنا ممکن ہوگیا ؟ کیا پولیس کا نظام ، عدلیہ کا نظام ، نظام حکومت سب بدل گیا ؟ کیا یہ سب بدل کر پاکستانی عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہوگیا ؟ ہرگز نہیں اور نہ ہی ایسا تب تک ہو سکتا ہے جب تک ہم اہنا نظام نہ بدل لیں ۔ اگر ملک کو خوشحال بنانا ہے ، عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرنی ہیں تو پھر نعرے نہیں نظام بدلنا ہوگا ۔ نظام بھی نچلی سطح سے لے کر اعلی سطح تک بدلنا ہوگا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام میں بدلا کیا جاٸے ۔ تو سنیں نظام بدلنا کیسے ہے اور کس طرح نظام بدلے گا ۔ ہمارا پولیس کا نظام وہی جو انگریز نے بنایا یعنی عوام کو حکمرانوں اور سیاستدانوں ، جاگیرداروں ، وڈیروں سے ڈرا کر رکھنا اور بدقسمتی سے ہمارا نظام آج بھی وہی ہے ۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کا نظام اس محکمے کے مقاصد وہی رکھیں جاٸیں جو امیر المٶمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس محکمے کو قاٸم کرتے وقت بناٸے تھے ۔ قصور میں آٸے دن بچوں کا ریپ اور پھر درد ناک قتل اس سب کا ذمہ دار موجودہ نظام اور اس نظام کو قاٸم کرنے والے ہیں ۔ اگر اسلامی شریعت کے مطابق ان بچوں کے قاتلوں کو سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تو آٸیندہ کسی کی جرأت نہیں ہوگی کسی معصوم بچے کی طرف غلط نظر سے دیکھ سکے ۔ ہمارے ملک میں رشوت خوری جہاں عروج پر ہے جہاں چور ڈاکو ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر جاٸدادیں بنا لیں یہاں اگر اسلامی شریعت نافذ ہوتی تو پہلی دفعہ ہی چر کا ہاتھ کاٹنے پر اسے عبرت مل جاتی کہ آٸیندہ ہم نے حرام پیسے کو ہاتھ نہیں لگانا ۔ انہیں پتہ ہوتا کہ ہم نے اپنے کتوں کو شہزادے بنا کر نہیں رکھنا بلکہ کتے کے کاٹے کی ویکسین رکھنی ہے ۔ دو نہیں ایک پاکستان بنانے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ان وزیروں مشیروں اور وزیر اعظم کا رہن سہن رکھا جاٸے ۔ دربان یعنی سیکیورٹی گارڈ ، پروٹوکول ختم کیاجاٸے ۔ وزیر اعظم کی تنخواہ عام مزدور کے برابر لاٸی جاٸے تاکہ سب کا معیار زندگی ایک ہو ۔ وزیروں مشیروں کی شاہانہ گاڑیوں پر پابندی لگاٸی جاٸے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صوبوں کے والیوں کو ترکی گھوڑا استعمال کرنے سے منع کیا تھا ۔ اسلامی قانون کے مطابق زکوة و عشر امیروں سے لے کر غریبوں کو دینے کا حکم تھا مگر یہاں غریب کے بچے کی دو روپے کی ٹافی پر بھی ٹیکس لگا کر امیروں کو دیا جارہا ہے ۔ ٹیکس ختم کر کے زکوة و عشر کا نظام لایا جاٸے تاکہ فاٸدہ غریب کا ہو اور امیر کا بھی مال پاک ہوجاٸے ۔ یہ قانون بنایا جاٸے کہ جو حکمران قرض لے گا وہی اس قرض کو واپس بھی کرے گا نہ کہ اس ملک کی غریب عوام کو پیسا جاٸے گا ۔ ملک کی لوٹی ہوٸی رقم واپس لانے کا آسان حل ان چوروں ڈاکوٶں میں سے کسی دو کی سر عام گردنیں اتار دی جاٸیں ۔ باقی روپیہ خود واپس کریں گے ۔ اور اس قانون پر عمل میں خیال یہی رکھا جاٸے کہ اگر اپنی بہن یا بیٹی کی چوری اور زکوة کی جاٸدادیں باہر ہیں تو اسے بھی سزا دی جاٸے ۔

    پاکستان میں حکمران صرف اسی کو منتخب کیا جاٸے ، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف تک کے عہدے ان لوگوں کو دٸیے جاٸیں جن کے بزرگ پاکستان میں دفن ہیں جن کی اپنی ساری عمریں اسی پاکستان میں گزر گٸیں اور جن کے بچے بھی ہمیشہ پاکستان میں رہے ہیں ۔ ایم این اے ، ایم پی اے سے پروٹوکول ، سرکاری گاڑیاں سیکیورٹی واپس لی جاٸے اور انہیں پابند کیا جاٸے کہ یہ لوگ عام عوم کے ساتھ سفر کریں ۔ پھر دیکھیں ملک میں کوٸی ایک ادنی سی چوری بھی ہوگٸی یا دھماکہ ہوگیا تو کہنا ۔ شراب پر پابندی عاٸد کی جاٸے اور دیگر نشہ آور چیزوں کے استعمال پر سر عام کوڑے مارے جاٸیں تاکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں نشہ کے کاروبار ختم ہوں ۔ مزدوروں کے لیے ہسپتال الگ بناٸیں جاٸیں اور پھر ان عوامی نماٸیندوں کو پابند کیا جاٸے کہ وہ اپنا علاج انہیں ہسپتالوں سے کرواٸیں ۔ مزدور کا جیسا علاج معالجہ ہو ویسا ہی ان عوامی نماٸیندوں کا بھی ۔ بے حیاٸی کے خاتمے کے لیے بچوں کے بالغ ہوتے ہی ان کی شادیاں کروانے پر حکومتی سطح پر سختی کی جاٸے ۔ جو وزیر بے حیاٸی پھیلانے والوں کے ساتھ نظر آٸے اس کے لیے سزا مختص کی جاٸے تاکہ وہ بے حیاٸی پھیلانے والیوں کو ایوارڈ دینے کی بجاٸے شریعی سزا دے سکیں ۔ پہلی وحی ” پڑھ اپنے رب کے نام سے ” پر عمل کیاجاٸے اور اپنے رب کی دی ہوٸی تعلیم یعنی اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم دی جاٸے ۔

    لیکن یہ سبھی قوانین تب بنے گے جب لیڈر اور نماٸیندے ایمان دار ہوں گے ۔ حرمت نبی ﷺ کو بیچ دینے والے ، شراب جس نے پینی ہے پی جس نے نہیں پینی نہ پیے کہنے والے ایسا نظام نہیں لاسکتے ۔ جو اپنے حرام پن کا دفاع کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ جسے خالص دودھ ویسے مل جاٸے اسے گاٸے پالنے کی کیا ضرورت ہے وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ۔ جو یہ کہے قادیانی ہمارے بہن بھاٸی ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جو یہ کہیں کہ پتنگ بازی چھوڑنی ہے تو قربانی کرنا بھی چھوڑ دیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جن کے اپنے بچے باہر کے ملکوں میں والدین کی عزتیں خاک میں ملا رہے ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟

    اللہ ہمارے شہدا کی قربانیاں قبول فرماٸے اور کوٸی معجزہ دکھا دے کہ ہم بھی اپنے وطن کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنتے ہوٸے دیکھ سکیں ۔ آمین

  • وال مارٹ نے امریکہ میں ای سگریٹ کی فروخت بند کردی

    وال مارٹ نے امریکہ میں ای سگریٹ کی فروخت بند کردی

    امریکہ میں کاروبار کے سب سے بڑے بروکر وال مارٹ نے الیکٹرنک سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ، اس پابندی کی بڑی وجہ الیکڑانک سگریٹ کے باعث نوجوانوں میں پھیلنے والی سانس کی بیماریاں ہیں،
    وال مارٹ کی انتظامیہ کو ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں الیکٹرانک سگریٹ اور نکوٹین کے نوجوانوں میں استعمال بڑھنے کے اثرات کا زکر کیا گیا تھا ، اس رپورٹ میں واضع زکر تھا کہ کتنے فیصد امریکی نوجوان اس نشے کی لت میں دھت ہو کر یا بیمار ہو چکے ہیں یا اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ، اور وال مارٹ نے اپنے کسٹمر کی حفاظت کی غرض سے یہ قدم اٹھایا اور الیکٹرانک سگریٹ کو بند کر دیا ،

  • افراط زر اگلے دو سال تک  مزید بڑھے گا ، اسٹیٹ بینک

    افراط زر اگلے دو سال تک مزید بڑھے گا ، اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے دو سال تک افراط زر کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ، دو سال بعد افراط زر اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف 7-5 فیصد تک آجائے گا ،
    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اسپیشل پینل برائے فنانس کی چیئرمین عائشہ غوث پاشا کو بریفنگ دی جو کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کیلئے افراط زر کو کم کرنے پر تجاویز دینے کیلئے بننے والی کمیٹی کی چیئرمین ہیں، عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث افراط زر ڈبل فگر میں پہنچ گیا ہے ،
    یادرہے افراط زر جتنا بڑھے گا عام پاکستانی کی قوت خرید اتنی کم سے کم تر ہو گی اور ملک میں غربت کا سکیل بھی اوپر جائے گا ،

  • حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہ بن سکے

    حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہ بن سکے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق نے سری لنکا کیخلا ف شیڈول ون ڈے سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان کر دیا ، قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہونگے جبکہ بابر اعظم نائب نائب کپتان ہونگے ، فحر زمان، امام الحق، بابر اعظم، حارث سہیل، عماد وسیم، شاداب حان، محمد نواز، محمد حسنین، وہاب ریاض،محمد عامر، عابد علی، افتحار احمد، قومی ٹیم کا حصہ ہو نگے ، شاہین شاہ آفریدی ڈینگی وائرس کے باعث سکواڈ حصہ نہیں ہونگے ، جبکہ حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہیں ہیں ،


    سپورٹس جرنلسٹ احتشام الحق نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر حسن علی کے سکواڈ میں شامل نہ ہونے کی خبر شئیر کی جس پر ٹوئیٹر صارفین کے جواب بہت دلچسپ اور مزاخیہ تھے ، عدیل خان بنگش لکھتے ہیں "اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں”
    ، سید جیند لکھتے ہیں "حسن علی کو سلاجیت کی ضرورت ہے”،

  • ڈومیسٹک اسٹرکچر کیساتھ کھلاڑیوں کا مائنڈ سیٹ بھی بدلنا ہو گا ، اسد شفیق

    ڈومیسٹک اسٹرکچر کیساتھ کھلاڑیوں کا مائنڈ سیٹ بھی بدلنا ہو گا ، اسد شفیق

    پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق نے قائداعظم ٹرافی کا دوسرا سیزن شروع ہونے سے پہلے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکت کا معیار بلند ہو رہا ہے ، اچھی پچز تیار ہو رہی ہیں ، اچھے گراؤنڈز میں میچز ہو رہے ہیں ، کوکا بورا بال کا پاکستان کی ڈومیستک میں استعمال خوش آئند ہے ، لیکن اب کھلاڑیوں کو اپنے مائنڈ سیٹ بھی انٹرنیشنل کرکٹ کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے ،
    اسد شفیق کا پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ میں غیر مستقل مزاجی کے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ کے پچھلے کچھ عرصے سے ہم اچھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکے جسے بہتر کرنا ہو گا خواہ کیسی ہی مشکل کنڈیشنز ہوں ہمیں پروفیشنل کے طور پر پرفارم کرنا ہو گا ، مصباح الحق سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ مصباح الحق کے آنے سے یقیننا فرق پڑے گا ، وہ کسی بھی مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی حواس باحتہ نہیں ہوتے ،ان کے تجربے سے نوجوانوں کو بہت کچھ سیکھنے ک وملے گا ،

  • مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    (ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
    مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
    ۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
    ۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
    ۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
    مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
    ۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
    ۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
    ۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
    ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
    سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
    مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
    تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
    جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
    جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
    اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
    متحدہ قومیت:
    جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
    متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
    متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
    مدینہ کی مثال:
    حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
    میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
    جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
    جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
    مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
    دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
    لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
    ….گومگو کا شکارمسلمان:
    مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
    سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
    ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
    مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
    مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
    عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
    ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
    آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
    تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
    مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
    باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
    مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
    بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
    ۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
    ۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
    ۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
    ۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
    ۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
    ۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
    ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
    آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
    (ترجمہ رانامحمدآصف)

  • شیل اور ایگزون موبل پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    شیل اور ایگزون موبل پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    وفاقی وزیر برئے پاور اینڈ پیٹرولیم عمر ایوب خان سے آئل اینڈ گیس کی انٹرنیشنل کمپنیوں کے ایک وفد نے ملاقات کی اور پاکستان میں نئے ایل این جی ٹرمینل بنانے اور ملک میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا،
    ملک میں 5 نئے ایل این جی ٹرمینلز بنائے جائیں گے ، جن کو ایل این جی فراہم کرنے کی زمہ داری ایگزون موبل اور شیل کمپنیوں کی ہو گی ، اس سے پاکستان میں گیس کے بحران سے نمٹنے میں بڑی مدد ملے گی اور پاکستان اپنے انڈسٹریل سیکٹر کو بلا تعطل گیس فراہم کرنے میں کامیاب ہو گا ،
    اس وقت پاکستان میں صرف دو ایل این جی ٹرمینلز ہیں جو کہ ہورٹ قاسم پر واقع ہیں، ان کی کل گنجائش 750 ملین کیوبک فٹ ہے جس میں سے حکومت صرف 600 ملین کیوبک فٹ یومیہ کا استعمال کر پا رہی ہے اور 150 ملین کیوبک فٹ کی گنجائش کے استعمال نہ ہونے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ، اور نئے ایل این جی ٹرمینلز کے بن جانے سے اس بڑے نقصان سے بھی بچا جا سکے گا ،

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین

  • سرلنکن کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان کیلئے پرامید

    سرلنکن کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان کیلئے پرامید

    سری لنکن کرکٹ بورڈ نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے دورہ پاکستان وزارت دفاع سری لنکا کی اجازت سے مشروط کر دیا، سیکرٹری سری لنکن کرکٹ بورڈ موہن ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان کیلئے پرامید ہے، ان کا مزید کہنا ہے کہ اگست میں جب ہم نے سیکورٹی انتطامات کا جائزہ لینے کی غرض سےدورہ پاکستان کیا تو ہم پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے مطمئن تھے ، بعد میں حساس اداروں کی معلومات کے باعث ہمیں ڈیفنس منسٹری کی اجازت کا نتظار کرنا پڑ رہا ہے،