Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی

    پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی

    پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی ہے جس کا نوٹم جاری کردیا گیا ہے۔

    نوٹم کے مطابق پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود ایک ماہ کے لیے بندکی ہیں پاکستانی فضائی حدودکی بندش کا نوٹم 23 مئی کی رات 12 بجے تک مؤثر ہوگا،پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے باقاعدہ نوٹم جاری کر دیا ہے۔

    نوٹم کے مطابق پاکستانی فضائی حدود بھارتی رجسٹرڈ سول اور ملٹری طیاروں کے لیے دستیاب نہیں بھارتی ائیر لائنز و آپریٹرز کی ملکیت طیارے پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرسکتے بھارت کے لیز پر لیےگئے طیارے بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرسکتے۔

    ویلٹر ویٹ باکسنگ: پاکستانی باکسر نے بھارتی حریف کو شکست دیدی

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی طیاروں کو اضافی 2 گھنٹے لگیں گے جب کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سےبھارتی پروازوں کو روزانہ لاکھوں ڈالرز کےاضافی اخراجات ہوںگے 100 سےزائد بھارتی پروازیں روزانہ پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں جن میں ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس، اسپائس جیٹ، انڈیگو ایئر اور آکاسا ایئر سمیت دیگر شامل ہیں۔

    پچھلی بار فضائی حدود کی چند روزہ بندش سے بھارتی ایئرلائنز کو آٹھ کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا جس سے مسافروں کے سفری اخراجات میں بھی بہت اضافہ ہوا تھا۔

    بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان نے جوابی فیصلوں سےتحریری آگاہ کردیا

  • پہلگام تنازعہ:بھارتی چینل نے پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ معطل کردی

    پہلگام تنازعہ:بھارتی چینل نے پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ معطل کردی

    بھارت نے پہلگام واقعہ پر اسپورٹس اسٹریمنگ چینل فینکوڈ نے ہندوستان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی لائیو اسٹریمنگ کو معطل کرتے ہوئے ٹورنامنٹ سے متعلق ویڈیوز اور میچز کی جھلکیاں بھی ہٹادیں۔

    فینکوڈ نامی اسپورٹس اسٹریمنگ چینل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں ڈیجیٹل اسٹریمنگ پارٹنر تھا تاہم اب پہلگام واقعہ کے بعد انہوں نے اب پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کی فوری طور پر نشریات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے،فینکوڈ کے علاوہ بھارتی اسپورٹس پارٹنرز میں سونی نیٹ ورک بھی سیٹلائٹ ٹی وی کا براڈکاسٹنگ پارٹنر ہے، جس کی جانب سے بھی یہ اقدام اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے پہلگام واقعہ کے بعد انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔

    بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا ،اسحاق ڈار

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کی جنگی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے،شرجیل میمن

    پہلگام تنازعہ:بھارتی کرکٹ بورڈ کاپاکستان سے کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے سے انکار

  • بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا ،اسحاق ڈار

    بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا ،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ و دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کیا تو پاکستان بھی شملہ معاہدے سمیت دیگر معاہدے ختم کرنے کا حق رکھتا ہے۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے پڑھ کر سنائے اسحاق ڈار نے بتایا کہ آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں عسکری و سول قیادت نے شرکت اور بھارت کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں کئی فیصلے کیے گئے بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا اگر اس نے سندھ طاس معاہدہ ختم کیا تو ہم بھی شملہ معاہدے سمیت دیگر معاہدے ختم کرنے پر غور کریں گے۔

    بھارتی دہشتگردی بے نقاب،دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انہوں نے کہا کہ جو جو اقدامات بھارت نے کیے ہیں ہم نے انہیں اس سے بڑھ کر جواب دیا ہے بلکہ ہم نے ان کے لیے فضائی حدود بھی بند کردی ہے بھارت ہمیشہ بلیم گیم کرتا ہے اگر بھارت کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو پیش کرے، ہم نے واہگہ بارڈر فوری طور پر بند کردی ہے، بھارت کے ہائی کمیشن کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 تک محدود کردی ہے جس کا اطلاق 30 اپریل سے ہوگا، ہم نے اسلام آباد میں موجود دفاعی، بحری اور فضائی مشیران کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک سے جانے کا حکم دیا ہے۔

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کی جنگی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے،شرجیل میمن

    اسحاق ڈار نے بھارت کی مسلسل الزام تراشیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کے پاس کوئی شواہد ہیں تو وہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرے سری نگر میں غیر ملکیوں کے پاس بھاری اسلحہ موجود ہے اور پاکستان صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

    وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ افواجِ پاکستان ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور بھارت کو ہر جارحیت کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا، پاکستان احتیاط کے ساتھ اپنی سفارتی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے لیکن کسی بھی ”مس ایڈونچر“ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا میں نے بنگلادیش کا دورہ ملتوی کردیا ہے، پاکستانی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی کم کی گئی توہم بھی ایسا ہی کریں گے، بھارتی اقداما ت کا برابر جواب دیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بامعنی جواب دے سکتا ہے، پانی 24 کروڑ افراد کی ضرورت ہے، بھارت پانی نہیں روک سکتا، پاکستان پہلے ہی اپنے 3 دریا کھو چکا ہے، پانی بند کرنے کا اقدام جنگ تصور کیا جائے گا، بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تویہ جنگ کا عندیہ ہوگا، ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے کوئی ہمیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، ورلڈ بینک کو بھارتی بیان سے متعلق آگاہ کریں گے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پہلگام حملے پر بھارت نے ابھی تک آفیشل طور پر پاکستان کا نام نہیں لیا تاہم بھارتی میڈیا ضرور نام چلارہا ہے، آج تک امریکا نے کسی ملک کے وزیراعظم کو دہشت گرد اور قاتل قرار دے کر داخلے پر پابندی نہیں لگائی مودی سرٹیفائیڈ دہشت گرد ہے اس نے بطور وزیراعلیٰ گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی موجودگی کے باوجود پہلگام واقعہ بھارتی فوج پر سوالیہ نشان ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے نو لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، اس کے باوجود اگر وہاں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی ہو، پاکستان اس کے خلاف کھڑا ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور بھارت اس میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے لیڈرز بھارت میں موجود ہیں اور وہیں سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو آپریٹ کیا جاتا ہے، بھارت دہشت گردی کے تانے بانے نہ صرف پاکستان بلکہ کینیڈا تک پھیلا رہا ہے کینیڈا نے بھارت کی مدا خلت پر اپنے سفارتی تعلقات خطرے میں ڈال دیے تھے اور مغربی دنیا میں بھارت کے خلاف بڑے مظاہرے بھی ہو چکے ہیں، دنیا کا کوئی ملک پاکستان پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگا رہا جبکہ بھارت کے خلاف عالمی سطح پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

    اسحاق ڈار نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی یادداشت پڑھ کر سنائی جس میں انہوں نے بھارتی دہشت گردی کا تذکرہ کیا تھا۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بھارت کا بیان ایک بچگانہ حیثیت ہے اور اس کی قانونی حیثیت نہیں ہے یہ محض گیدڑ بھکیاں ہیں جس کا جواب آج پاکستان نے دگنا دیا ہے، آج سے انڈین ایئرلائن پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرسکتے، بھارتی کو معاشی نقصان پہنچے گا، آپ کی صرف باتیں تھیں جب کہ ہم نے اقدام کرکے دکھادیا، یہ سب کو پتا ہے کہ انڈیا وکٹم بننے کے لیے دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرتا رہا ہے، کلبھوشن اس کا واضح ثبوت موجود ہے، ہم نے سود سمیت حساب برابر کردیا ہے۔

    انڈس واٹر ٹریٹی کے ممبر نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ دو جنگوں کے باوجود قائم رہا وجہ یہ ہے کہ اس معاہدے میں معطلی ہو نہیں سکتی، اگر اس معاہدے کو ختم کرنا ہے تو بھی اس کے لیے دونوں ممالک کو جمع ہوکر ٹریٹی کرنی ہوگی، یہ ابھی تک محض ایک بیان ہے، اگر کوئی معاملہ آگے بڑھا تو پاکستان اس کے متعلقہ فورم سے رجوع کرے گا یہ فی الوقت صرف ایک بیان ہے۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کی جنگی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے،شرجیل میمن

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کی جنگی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے،شرجیل میمن

    کراچی:سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نےبھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے-

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے اس فیصلے کو کھلی جارحیت اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا کہا کہ بھارتی اقدام اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے یہ عمل نہ صرف امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے، بلکہ بھارت کی خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے بھارت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ عالمی توجہ ہٹانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیا ہےانہوں نے یاد دلایا کہ صدر کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران بھی ایک فالس فلیگ آپریشن میں بے گناہ سکھوں کا خون بہایا گیا تھا آج پہلگام میں ایک بار پھر وہی پرانی چال دہرائی جا رہی ہے۔

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

    انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی مہم کا ایک مؤثر اور متحرک حصہ رہا ہے ہم نے ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا نذرانہ دے کر دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے اے پی ایس کے سانحے سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قربانی تک، ہماری جدوجہد کی فہرست طویل اور عظیم ہے۔

    بھارتی جھوٹ پکڑا گیا،پہلگام حملہ متاثرین زندہ نکلے،ویڈیو وائرل

    شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی محض آبی تنازع نہیں، بلکہ یہ بھارت کی جنگی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہےپاکستان بھارتی اشتعال انگیزی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گاانہوں نے عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیں۔

    بھارتی رویئے کی مذمت، جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

  • ملک کی سالمیت اور قومی مفاد کے لئے ہم سب متحد ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

    ملک کی سالمیت اور قومی مفاد کے لئے ہم سب متحد ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: بھارتی جارحیت پر خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پورا پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 31 واں اجلاس ہوا جس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حکومت کے جارحانہ رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی-

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ رویہ افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے اور مودی سرکار ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، خیبر پختونخوا اور پورا پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے یہ واقعہ بھارتی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے پاکستان کے خلاف زہر اگل رہی ہے اور اگر بھارت نے جارحیت کی کوشش کی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی، ملک کی سالمیت اور قومی مفاد کے لئے ہم سب متحد ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں، بھارتی حکومت کا جارحانہ رویہ ہمیشہ سے خطے کے امن کے لئے ایک بڑا خطرہ رہا ہے اور یہ صورتحال مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

  • ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کیلئے 33 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کیلئے 33 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان

    اسلام آباد:ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے 33 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے،یہ امداد سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں میں استعمال کی جائے گی-

    اے ڈی بی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق امدادی رقم سے 93 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کے لیے مشرو ط نقد رقوم فراہم کی جائیں گی اس امداد کا مقصد بہتر غذائیت تک رسائی کو یقینی بنانا ہے، اس اقدام سے خاص طور پر آفت زدہ علاقوں میں رہنے والی خواتین، نوجوان لڑکیوں اور بچوں کو فائدہ پہنچے گا، صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی امدادی پروگرام کا حصہ ہو گی۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ

    رپورٹ کے مطابق یہ سہولیات ان طبقات کے لیے ہوں گی جنہیں عمومی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے وسطی اور مغربی ایشیا کے ممالک کو ترقیاتی تفریق اور سماجی بہبود کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے، افغانستان، کرغزستان اور پاکستان جیسے ممالک میں غربت کی شرح اب بھی بلند ہے،ان ممالک کے عوام کو ضروری سہولیات تک رسائی محدود ہے یہی وجہ ہے کہ بینک ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو سماجی فلاح کو فروغ دیں۔

    علاوہ ازیں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان 7.6 فیصد کی شرح سود پر 1 ارب ڈالر کے قرض کی فراہمی کے لیے مفاہمت طے پا گئی ہے۔

    روس کا یوکرینی دارالحکومت پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ، 9 افراد ہلاک

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی کمزور کریڈٹ ریٹنگ کی وجہ سے یہ قرضہ پاکستان کو ایشیائی ترقیاتی بینک کی ضمانت پر مل رہا ہے، ضمانت دینے کے لیے اے ڈی بی ایک معمولی سی فیس بھی وصول کرے گا، قرض کی فائنل ٹرم شیٹ اور قرض کی فراہمی اے ڈی بی کی جانب سے 500 ملین ڈالر کی گارنٹی کی منظوری سے مشروط ہے، جو اے ڈی بی 28 مئی کو ہونے والے اپنے بورڈ اجلاس میں د ے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ڈی بی کی جانب سے 500 ملین ڈالر کی ضمانت دینے کی بنیاد پر پاکستان 1.5 ارب روپے کا قرض حاصل کرسکے گا، حکومت یہ قرض پانچ سال کی مدت کے لیے حاصل کر رہی ہے، اس طرح ری فنانسنگ کے خطرات کم ہوں گے۔

    بھارت نے حکومتِ پاکستان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کر دیا

    واضح رہے کہ یہ پہلا قرض ہے جو پانچ سال کی مدت کے لیے لیا جارہا ہے، وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ یہ معاہدہ اسٹینڈرڈ چارٹر ڈ بینک اور دبئی اسلامک بینک سے طے کیاجارہا ہے، معاہدے کے تحت اوور نائٹ فنانسنگ ریٹ( سوفر) کے علاوہ 3.25 فیصد سود ادا کیا جائے گا، جو مجموعی طور پر 7.6 فیصد بنے گا، جس میں سوفر میں تبدیلی کی صورت میں تبدیلی ہوتی رہے گی۔

    غیرملکی تجارتی بینک اے ڈی بی کی جانب سے منظوری دیئے جانے کے بعد پراسس کو مکمل کریں گے، حکومت کا خیال ہے کہ یہ قرض جون میں حاصل ہوگا، جس سے رواں مالی سال کے اختتام پر فارن ایکسچینج کے ذخائر میں اضافہ ہوگا، اس وقت پاکستان کے فارن ایکسچینج 10.6 ارب ڈالر کی کم سطح پر موجود ہیں، جن کو حکومت جون کے آخر تک 14 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہے، حکومت فارن ایکسچینج کے ذخائر میں بہتر ہوتی ترسیلات زر، 1 ارب ڈالر کے نئے قرض، اور 1.3 ارب ڈالر کے چینی قرضوں کی ری فنانسنگ کے ذریعے اضافہ کرنا چاہتی ہے۔

    فحش ویڈیو وائرل ہونے پر ٹک ٹاکر سجل کا ردعمل

  • سندھ طاس معاہدہ معطلی، عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی

    سندھ طاس معاہدہ معطلی، عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی

    بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا بلاشبہ بھارتی جارحیت اور انتہا پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل یا منسوخ نہیں کرسکتا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی بلاشبہ بھارت کے جارحیت اور انتہا پسندی کی نشاندہی کرتی ہے،مگر یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل یا منسوخ نہیں کرسکتا۔انڈس واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت یافتہ معاہدہ ہے اگر بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا منسوخ کرتا ہے تو پھر ان تمام معاہدوں پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے جو دیگر ممالک کے ساتھ کئے گئے ہیں ۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک بھی ہے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت یکطرفہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کو منسوخ یا معطل کرسکتا ہے۔۔؟معاہدے کے تحت بھارت از خود انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل یا منسوخ کرنے کی کوئی قانونی اہلیت نہیں رکھتا۔معاہدے کا آرٹیکل 12(4) صرف اس صورت میں معاہدہ ختم کرنے کا حق دیتا ہے جب بھارت اور پاکستان دونوں تحریری طور پر راضی ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم کرنے کے لیے دونوں ریاستوں کی طرف سے ایک برطرفی کے معاہدے کا مسودہ تیار کرنا ہوگا اور پھر دونوں کی طرف سے اس کی توثیق کرنی ہوگی۔

    اس معاہدے میں یکطرفہ “معطلی” کی کوئی شق نہیں ہے۔ یہ ایک غیر معینہ مدت کا ہے اور اس کا مقصد کبھی بھی وقت کے ساتھ مخصوص یا واقعہ سے متعلق نہیں ہے۔یہ دونوں ممالک انڈس واٹر ٹریٹی کے یکساں طور پر پابند ہیں ۔ کسی معاہدے سے ہٹنا دراصل اس کی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت یکطرفہ طور پر “تنسیخ”، “معطلی”، “واپس لینے” یا “منسوخ” وغیرہ جیسے جواز پیش کرکے معاہدے کی پیروی کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ اس نے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جسے بھارت “منسوخ یا دستبرداری” کہے گا، پاکستان اسے “خلاف ورزی” سے تعبیر کرے گا۔

    سوال یہ بھی کہ کیا ہوگا اگر بھارت پاکستانی پانی کو نیچے کی طرف روکتا ہے اور کیا یہ چین کے لیے اوپر کی طرف کوئی مثال قائم کر سکتا ہے؟ اگر بھارت پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ نہ صرف بین الاقوامی آبی قانون کی خلاف ورزی ہوگی، بلکہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گا۔بین الاقوامی قانون کے مطابق، بالا دستی والا ملک (جیسے بھارت) زیریں ملک (جیسے پاکستان) کے پانی کو روکنے کا حق نہیں رکھتا، چاہے سندھ طاس معاہدہ موجود ہو یا نہ ہو۔ اگر بھارت ایسا قدم اٹھاتا ہے تو یہ علاقائی سطح پر ایک نیا طرزِ عمل قائم کرے گا، جو بین الاقوامی قانون میں ایک مثال کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔

    اس کا فائدہ چین اٹھا سکتا ہے، جو دریائے برہمپترا کے پانی کو روکنے کے لیے اسی بھارتی طرزِ عمل کو بنیاد بنا سکتا ہے۔ اس طرح بھارت کا یہ قدم نہ صرف پاکستان کے لیے خطرناک ہوگا بلکہ خود بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ چین جیسی طاقتیں اس صورتحال کو بغور دیکھ رہی ہوں گی.بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا نہ صرف اس کے طے شدہ طریقہ کار، جیسے مستقل انڈس کمیشن، غیر جانبدار ماہرین یا ثالثی عدالت کے ذریعے تنازع کے حل، کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے۔ یہ معاہدہ ماضی میں کئی جنگوں اور سیاسی کشیدگیوں کے باوجود قائم رہا ہے، جو اس کی قانونی اور اخلاقی طاقت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

    انڈس واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت یافتہ معاہدہ ہے اگر بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا منسوخ کرتا ہے تو پھر ان تمام معاہدوں پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے جو دیگر ممالک کے ساتھ کئے گئے ہیں ۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک بھی ہے۔

    یہ دونوں ممالک انڈس واٹر ٹریٹی کے یکساں طور پر پابند ہیں ۔ کسی معاہدے سے ہٹنا دراصل اس کی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت یکطرفہ طور پر “تنسیخ”، “معطلی”، “واپس لینے” یا “منسوخ” وغیرہ جیسے جواز پیش کرکے معاہدے کی پیروی کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ اس نے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جسے بھارت “منسوخ یا دستبرداری” کہے گا، پاکستان اسے “خلاف ورزی” سے تعبیر کرے گا۔

    پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا نامناسب ہے، وزیر دفاع

    پی ایس ایل 10، اسلام آباد کی ملتان کو 7 وکٹوں سے شکست

    سعودی اتھارٹی کی مکہ میں پرمٹ کے بغیر داخلے پر پابندی

    ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ آئندہ سال کے آخر تک ائیربس 320 کیلئے اپ گریڈ ہوگا

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب ، اہم فیصلے متوقع

  • اسلام آباد میں بین الاقوامی کانفرنس،جنرل ساحر مرزا مہمان خصوصی

    اسلام آباد میں بین الاقوامی کانفرنس،جنرل ساحر مرزا مہمان خصوصی

    سنٹر برائے اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے تحت 2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے .

    میڈیا رپورٹ س کے مطابق سی آئی ایس ایس کے تحت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے دور میں نیوکلئیر ڈیٹرنس کے موضوع پر کانفرنس ہوئی ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا افتتاحی سیشن میں مہمان خصوصی تھے.اپنے خطاب میں جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ پاکستان عالمی اسٹریٹجک مسائل پر تعمیری مکالمے کے لیے پرعزم ہے۔جنوبی ایشیا میں امن و استحکام باہمی اقدامات اور جوہری خطرات میں کمی سے ممکن ہے.

    کانفرنس میں اقوام متحدہ، چین، روس، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ سے ماہرین کی شرکت کی ،ممتاز بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے عالمی نیوکلیئر پالیسیوں پر اظہارِ خیال کیا،کانفرنس کا مقصد پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور تعاون کو فروغ دینا تھا.
    عالمی دنیا کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی، شہباز شریف

    بلاول بھٹو سےمیئر کراچی سمیت پارٹی رہنماوں کی ملاقاتیں

    آئی جی سندھ کا ہیلمٹ نہ ہونے پر موٹر سائیکل بند کرنے کا اعلان

    پی ایس ایل، نامناسب اشارے،عامر جمال پر جرمانہ

    پاکستان اب صحیح سمت میں چل پڑا ،نواز شریف

  • ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    ہارون نور محمد — ایک ایسا نام جو با بصیرت قیادت، انسانیت کی خدمت اور بین الاقوامی سفارت کاری کا استعارہ بن چکا ہے — ایک بار پھر اپنے پیارے وطن پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں، عالمی تجارت اور سماجی خدمت میں 48 سال سے زائد کا شان دار تجربہ رکھنے والے ہارون نور محمد کی حکومتِ پاکستان کی دعوت پر وطن واپسی ایک باوقار لمحہ، سنجیدہ غور و فکر اور تجدیدِ عہد کی علامت ہے۔

    جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے ہارون نور محمد صرف 13 سال کی عمر میں پاکستان آ گئے تھے، ان کی ابتدائی تعلیم ملک کے مایہ ناز اداروں میں ہوئی، جن میں کراچی گرامر اسکول، سینٹ پیٹرک کالج اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) شامل ہیں، جہاں سے انہوں نے 1963 سے 1976 کے دوران ایم بی اے مکمل کیا اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف تب سامنے آیا جب وہ 1971-72 میں سینٹ پیٹرک کالج کے صدر منتخب ہوئے، یہی جذبہ انہیں آگے لے گیا اور 1976 میں انہوں نے HNM انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد رکھی—ایک ایسا تجارتی ادارہ جو آج بین الاقوامی تجارتی تعاون اور اقتصادی خوشحالی کی پہچان بن چکا ہے۔

    اگرچہ آج کل وہ پریٹوریا، جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں، لیکن ان کا کردار کاروبار سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ ہارون ایک پُرخلوص انسان دوست کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہوں نے قومی سانحات کے موقع پر، خاص طور پر 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران، معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی مرحوم کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا۔ انسانیت کی بے لوث خدمت پر انہیں دنیا بھر کے رہنماؤں نے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    پاکستان کی سابق وزیرِاعظم، شہید محترمہ بینظیر بھٹو بھی ہارون نور محمد کی معترف تھیں انہوں نے ہمیشہ انہیں ’’پاکستان کا بیٹا‘‘ قرار دیا اور ان کی انسان دوستی و سماجی خدمات کو سراہا ان دونوں شخصیات کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ہارون نور محمد نے کبھی اپنی جڑوں اور قوم سے رشتہ نہیں توڑا۔

    اب پندرہ سال کے طویل عرصے کے بعد وہ ایک بار پھر لاہور آئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ روحانی جذبات اور حب الوطنی سے لبریز ہے۔ انہوں نے داتا دربار پر حاضری دی، فاتحہ پڑھی اور خاص طور پر پاکستان کی سلامتی، خوش حالی اور عوام کی فلاح کے لیے دعائیں کیں۔ اس موقع پر اپنے دل کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

    "پاکستان میری ماں دھرتی ہے، میرے آباؤ اجداد کی سرزمین ہے۔ مجھے اس ملک اور اس کے لوگوں سے بے حد محبت ہے۔ ان کی سلامتی اور خوش حالی میری دل کی دعا ہے، اور میں ہمیشہ ان کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہوں۔”

    بیرون ملک رہنے کے باوجود، ان کے یہ الفاظ اس سچائی کو بیان کرتے ہیں کہ وطن سے محبت کا کوئی فاصلہ اور کوئی وقت حد نہیں بنتا، یہ محض ایک کامیاب بزنس مین اور سماجی کارکن کی واپسی نہیں، بلکہ ایک بیٹے کی اپنی مادرِ وطن سے جذباتی واپسی ہے۔

    ہارون نور محمد کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قیادت، خلوص، اور حب الوطنی نہ صرف سرحدوں کے اندر بلکہ باہر بھی دیرپا اثرات پیدا کرتی ہے۔ جیسے جیسے وہ پاکستان میں اپنی مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں — قومی رہنماؤں سے ملاقاتیں، عوام سے روابط، اور خدمت کے نئے امکانات تلاش کر رہے ہیں — قوم ان کا پرجوش خیر مقدم کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ صرف ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایک اُمید، حوصلے، اور اتحاد کا استعارہ بن چکے ہیں

  • یو اے ای  کے وزیر خارجہ 20 سے 21 اپریل تک پاکستان کا دورہ کریں گے

    یو اے ای کے وزیر خارجہ 20 سے 21 اپریل تک پاکستان کا دورہ کریں گے

    اسلام آباد:متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان 20 سے 21 اپریل تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔

    دورے کے دوران شیخ عبداللہ بن زید النہیان پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے بات چیت کریں گےملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کےتمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائےگا سرکاری دورے کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری،توانائی تعاون، علاقائی سلامتی اور عوام سے عوام کے روابط پر بات چیت کی جائے گی۔

    غزہ میں حماس کی حکومت کا برقرار رہنا اسرائیل کیلئے بہت بڑی شکست ہوگی،نیتن یاہو

    یہ دورہ دونوں فریقین کو باہمی دلچسپی اور تشویش کی علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گاشیخ عبداللہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے، ملاقات خطے میں امن اور خوشحالی کے مشترکہ وژن کی توثیق کرے گی۔

    شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کا دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا جبکہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں مدد دے گا جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

    متنازعہ کینالز منصوبہ رانا ثنااللہ اور شرجیل میمن کا رابطہ، بات چیت پر اتفاق