اسلام آباد:اسلام آباد کی ایک اورنااہلی سامنےآگئی:طالبعلموں کو ڈاکو سمجھ کر گولی چلا دی، ایک زخمی:4 اہلکار گرفتار ،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں طالبعلموں کو ڈاکو سمجھ کر پولیس نے فائرنگ کر دی، ایک طالبعلم زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، فائرنگ کرنے والے کہ چاروں پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے گیا۔
اسلام آباد کے علاقے تھانہ نون کی پولیس نے ڈاکو سمجھ کر طالب علموں پر فائرنگ کردی،جس کے نتیجے میں اٹھارہ سالہ نوجوان طالب علم زخمی ہوگیا جبکہ باقی طالب علم جرار اور حیدر محفوظ رہے، اہل محلہ نے زخمی طالبعلم کو ہسپتال پہنچا دیا۔موٹرسائیکل پر سوار تین طالب علم اکیڈمی سے گھر کی طرف آرہے تھے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے ڈاکو قرار دینے کی کوشش کی۔ زخمی طالبعلم کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا حذیفہ رحمان ٹیوشن کے بعد دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھر جا رہا تھا۔ دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ بچے کو خود پمز ہسپتال منتقل کیا، حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس اہلکاروں کا موقف ہے کہ موٹر سائیکل سواروں پر نہ رکنے پر فائرنگ کی گئی۔اُدھر پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے گیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد محمد احسن یونس نےسرپرائز چیکنگ کے دوران بہترین ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ اورکیش انعامات دیئے۔آپ جس جذبے سے ناکوں اور دیگر ڈیوٹی پوائنٹس پر کھڑے ہوتے ہیں میں اسکو سلام پیش کرتا ہوں۔آئی جی اسلام آباد pic.twitter.com/8L839mPANT
جبکہ دوسری طرف اسی پولیس کو انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے ، اسی حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آج آئی جی اسلام آباد محمد احسن یونس نےسرپرائز چیکنگ کے دوران بہترین ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ اورکیش انعامات دیئے۔آپ جس جذبے سے ناکوں اور دیگر ڈیوٹی پوائنٹس پر کھڑے ہوتے ہیں میں اسکو سلام پیش کرتا ہوں
یاد رہےکہ چندمہینے قبل بھی پولیس نے ایک طالب علم کو ڈاکو سمجھ کر مار دیا تھا
ایران: بیوی کا سر تن سے جدا کر کے سڑکوں پر گھمانے والا شخص گرفتار کر لیا گیا-
باغی ٹی وی :ایران میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کو سڑکوں پرچلتے دیکھا گیا تھا جس کے ہاتھ میں ایک خاتون کا تن سے جدا کیا گیا سر موجود تھا۔ یہ سر اس کی بیوی کا بتایا جاتا ہے جسے اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر قتل کیا۔
A 17yo female escaped her husband to Turkey. Husband brought her back to Iran and today, he with the help of his brother, decapitated her. The murderer later on paraded the city with her head in his hand. Islamic laws provide impunity or min jail for "honor killings!"#IranTruthpic.twitter.com/rkQZj0Mhex
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کو دسیوں ہزار لوگوں نے دیکھا جس میں ایک شخص کو ایک ہاتھ میں بڑا چاقو اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں دوسرے ہاتھ میں لمبے بالوں والا کٹا ہوا سر پکڑا ہوا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری ’ایلنا‘ نیوز ایجنسی نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کا سر تن سے جدا کرنے کا الزام ہے پولیس نے ملزم اور اس کےبھائی دونوں کو حراست میں لےکران سے پوچھ گچھ کی ہے دونوں نے پولیس کے سامنے قتل کی گھناؤنی واردات کا اعتراف کیا ہے۔
https://twitter.com/NilofarAyoubi/status/1490069026478899208?s=20&t=zbZU3ftBWw2pEWZKumRGjw
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں افراد کو ان کے جرم کے چار گھنٹے بعد ہفتے کے روز جنوب مغربی شہر اہواس سے گرفتار کیا گیا "ایلنا” نے پولیس افسر کرنل سہراب حسین نژاد کے حوالے سے بتایا کہ "ملزمان نے پولیس تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کیا جس کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ قتل کے اس گھناؤنے جرم کی ممکنہ وجہ گھریلو ناچاقی ہوسکتی ہے لیکن پولیس کا کہنا ہےکہ اس کیس کی مزید تفتیش ہو رہی ہے۔ پولیس نے دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے قتل کے بارے میں یا ریکارڈنگ سے مزید تفصیلات فراہم کیں۔
ایرانی پریس کنٹرول کمیٹی نے ہفتے کے روز اہواز میں ایک قاتل کی خبریں اور ویڈیو کلپس شائع ہونے کے بعد "رکنا” نیوز سائٹ کو بلاک کرنے کا اعلان کیا۔ اس ویب سائٹ پرایک شخص کا اپنی 17 سالہ بیوی کا سر قلم کرنے کی خبر شائع کی گئی تھی۔
کل اتوار 6 فروری کو ایرانی طلباء کی خبر رساں ایجنسی (ایسنا) نے لکھا کہ "رکنا” ویب سائٹ کو بلاک کرنے کی وجہ اھواز میں ایک 17 سالہ خاتون کے قتل کی ویڈیو کلپ نشر کرنا تھا اس نیوز سائٹ کا معاملہ پریس کورٹ میں اٹھایا جائے گا۔
پولیس یونیفام میں ناکہ لگا کر وارداتیں کرنے والا گروہ گرفتار کر لیا گیا
شفیق آباد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا،ملزمان پولیس وردیاں پہن کر معصوم شہریوں کو چیکنگ کے بہانے روک کر لوٹتے خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا ،دوران واردات گروہ کا سرغنہ سب انسپکٹر کی جبکہ دیگر نے کنسٹیبلان کی یونیفارم پہنتے ملزمان کے قبضہ سے ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے،ملزمان نے چند روز قبل شہری سے دوران چیکنگ رقم چھینی تھی ،گرفتار ملزمان میں سرغنہ عثمان سمیت ارسلان, ثمن, ساحل اور مرزا برہان بیگ شامل ہیں،ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں جبکہ تفتیش جاری ہے،ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کا کہنا ہے کہ شریف شہریوں کو لوٹنے والے کسی رعائیت کے مستحق نہیں
قبل ازیں ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف کی اپنے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گاڑی چوری کرنیوالے پیشہ ور گینگ کے 2ملزمان ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں،گرفتار ملزمان میں گینگ کا سرغنہ ہمدان محمود اور ہاشم عادل شامل ہیں،ملزمان سے80 لاکھ روپے مالیت کی2 کاریں برآمد کی گئی ہیں ملزمان نے شہر کے مختلف تھانوں میں گاڑی چوری کی مزید وارداتوں کا انکشاف کیا ہے، ملزمان مختلف ہوٹلز میں گیسٹ بن کر ریمورٹ کنٹرول چابیاں چرالیتے ملزمان پارکنگ میں جا کر ریمورٹ کنٹرول سے جو گاڑی اَن لاک ہوتی اسے چوری کر کے فرار ہو جاتے ملزمان عرصہ دراز سے لاہور کے مختلف علاقوں میں وہیکل چوری کی وارداتیں کررہے تھے، ملزمان چوری شدہ گاڑی کو نمبر پلیٹ تبدیل کر کے استعمال کرتے، بعد ازاں پرپرزے کر کے فروخت کر دیتے ،ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف کا کہنا تھا کہ پیشہ ور ملزمان کی گرفتاری سے وہیکل چوری کے گراف میں واضح کمی آئے گی، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے،جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی،
سیشن کورٹ اسلام آباد میں نورمقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی
نور مقدم قتل کیس۔ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی تینوں درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں
عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے، عدالت نے ملزم کی تینوں درخواستیں جو گزشتہ سماعت پر دائر کی گئی تھیں خارج کر دی ہیں، صبح جب عدالت میں سماعت ہوئی تومرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہماری پہلی درخواست سم کی ملکیت ے متعلق ہے مدعی نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ یہ نمبر ان کی اہلیہ کے نام پر ہے ہماری درخواست ہے کہ عدالت ریکارڈ منگوا ئے فون نمبر کسی اور کے نام پر ہے ہماری دوسری درخواست آئی جی احسن یونس کے خلاف ہے آئی جی نے 25 جنوری کو عدالتی سماعت کے بعد ٹویٹر پر وضاحت پیش کی تھی مرکزی ملزم کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ہماری تیسری درخواست نقشے سے متعلق ہے جو نقشہ جائے وقوعہ کا بنایا گیا اس میں غلط چیزیں شامل کی گئی ہیں
پبلک پراسیکیوٹر حسن عباس نے آئی جی اسلام آباد کے خلاف دائر درخواست پر دلائل دیتے کہا کہدرخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عدالتی کارروائی پر وضاحت جاری کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے ایسی کوئی پریس کانفرنس نہیں کی اسلام آباد پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے میڈیا پر عدالتی کارروائی کی غلط رپورٹنگ پر وضاحت دی گئیپولیس نے ملزم کے کپڑوں پر خون کے نشانات نہ ہونے اور فنگر پرنٹس میچ نہ ہونے سے متعلق وضاحت دی تھی
مدعی کے وکیل نثار اصغر عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی جانب سے اس موقع پر درخواستیں دینا کیس کو طول دینے کے علاوہ کچھ نہیں ،مرکزی ملزم کے وکیل کے معاون شہریار خان نے موقف اپنایا کہ پولیس نے اگر میڈیا کی غلط رپورٹنگ پر وضاحت دی بھی ہے تو وہ عدالتی کارروائی سے متعلق ہے۔ کیا آئی جی اسلام آباد کو زیر التوا مقدمے سے متعلق وضاحت دینے کا اختیار ہے؟انہوں نے استدعا کی کہ عدالت اس معاملے پر مناسب احکامات جاری کرے
مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی جانب سے 3 درخواستوں پر مدعی کے وکیل کے دلائل مکمل کر لئے گئے مدعی کے وکیل نے تینوں درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کردی عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی 3 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھامرکزی ملزم ظاہر جعفر کی جانب سے اسٹیٹ کونسل شہریار کے دلائل مکمل ہو گئے،عدالت نے کیس کی سماعت نو فروری تک کے لئے ملتوی کر دی ہے
گزشتہ سماعت پرمرکزی ملزم کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں ملزم نے موقف اپنایا کہ ایک زیر التو کیس سے متعلق پولیس کا وضاحتی بیان جاری کرنے پر آئی جی اسلام آباد پولیس کے خلاف کارروائی کی جائے دوسری درخواست تفتیشی افسر کے خلاف تھی جس میں موقف اپنایا گیا کہ تفتیشی افسر نے جائے وقوعہ کا نقشہ صحیح نہیں بنایا لہذا عدالت تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائے تیسری درخواست مدعی کے بیان میں ذکر کیے گئے ایک موبائل نمبر کی تحقیقات سے متعلق ہے جس میں ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے عدالت سے اس موبائل نمبر کی اونرشپ کی تصدیق کروانے کی استدعا کی ہے
@MumtaazAwan
واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے
پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،
گوجرانوالہ: پولیس نے جائیداد کی لالچ میں بوڑھی ماں کو زنجیروں سے باندھ کر رکھنے والے بد بخت بیٹے کو گرفتار کرلیا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گوجرنوالہ کے تھانہ گکھڑ منڈی میں بوڑھی ماں کو جائیداد کی لالچ میں زنجیروں سے باندھ کر قید رکھنے والے بدبخت بیٹے کو گرفتار کرکے معمر خاتون کو بازیاب کرالیا۔
سی پی او گوجرانوالہ حماد عابد کے مطابق ملزم اعجاز اپنی والدہ کا گھر زبردستی اپنے نام کروانا چاہتا تھا، اور والدہ کے انکار پر بدبخت بیٹے نے ماں کو گھر میں زنجیروں سے باندھ کر قید کردیا، مقامی پولیس نے ایکسپریس نیوز کی نشاندہی پر کارروائی کرکے بدبخت بیٹے کو گرفتار کر لیا، اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
سی پی او گوجرانوالہ کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں تحفظ والدین آرڈیننس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے، قانون شکن عناصر کو راہ راست پر لانے کے لئے ہر قانونی راستہ اپنائیں گے۔
قبل ازیں بھائی کو قتل کر کے خود ہی مدعی بننے والا پولیس سے نہ بچ سکامقتول ظہور احمد کا بھائی مدعی مقدمہ وقار احمد قاتل نکلا ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ملزم آلہ قتل سمیت گرفتار ملزم کو تھانہ خانمائی منتقل کردیا گیا چارسدہ کے تھانہ خانمائی کی حدود عمرگلے میں حال ہی میں فائرنگ کے اندھے قتل کا واقعہ پیش آیا جس میں مدعی وقار احمد نے ابتدائی رپورٹ کے دوران کہا تھا کہ ان کے بھائی مقتول ظہور ولد خالد خان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ہے –
مدعی رپورٹ پر مقدمہ درج کرلیا اندھے قتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ایس پی انویسٹیگیشن چارسدہ سجاد خان کی سربراہی میں ڈی ایس پی سرڈھیری صابرگل خان،ایس ایچ او خانمائی طارق سعید خان سی آئی او خانمائی اور دیگر پولیس افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی پولیس ٹیم نے سائنسی خطوط پر تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے شک کی بناء پر مقتول کے بھائی وقار احمد کو شامل تفتیش کیا ۔ دوران تفتیش مقتول کے بھائی مدعی مقدمہ نے اقرار جرم کرتے ہوئے حقائق اگل دیئے ان کا کہنا تھا کہ مقتول بھائی ظہوراحمد کو گھریلو اختلافات پر قتل کیا ہے۔پولیس نے ملزم کو تھانہ خانمائی منتقل کرکے مزید تفتیش شروع کردی-
لاہور میں ٹیوشن سے واپسی پر 16 سالہ طالبہ کو ہراساں کرنے والے 3 اوباش نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ تینوں لڑکے آتے جاتے میرا راستہ روکتے، جملے کستے اور پریشان کرتے تھے۔ نشتر کالونی پولیس نے متاثرہ طالبہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا اور کاروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گرفتار نوجوانوں میں شعیب عرف شعبی، حسنین اور چاند شامل ہیں۔
ایس ایچ او نشتر کالونی رانا نعیم اللہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کو مزید تحقیقات کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا گیا ہے جب کہ ایس پی ماڈل ٹاؤن وقار کھرل کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے ایسے ناسور کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
قبل ازیں شاد باغ اکیڈمی سے گھر جانے والی لڑکیوں کو تنگ کرنے والے برقعہ پہنے اوباش لڑکے گرفتار کر لئے تھے شاد باغ پولیس نے کاروائی کی اوردو ملزمان گرفتار کر لئے، دونوں لڑکے ایک برقعہ پہنے جوڑی کی شکل میں لڑکیوں کو تنگ کرتے اور فرار ہو جاتے شاد باغ پولیس نے کاروائی کرتے دونوں کو گرفتار کیا دریافت پر برقعہ پوش بھی لڑکا ہی نکلا،گرفتار ملزمان میں حبیب ڈار اور برقعہ پہنے شاہ میر شامل ہیں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے-
طالبات کو ہراساں اور تنگ والوں کو گرفتار کرنے پر شاد باغ پولیس کی ٹیم کو شاباش دی گئی ہے ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں اور تنگ کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی عورتوں اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹا جا رہا ہے-
دوسری جانب حال ہی میں پنجاب کے شہر گجرات میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے،لاوہر کی رہائشی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، واقعہ پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، گجرات کے تھانہ سول لائن میں تین ملزمان کے خلاف لڑکی نے مقدمہ درج کروایا ہے درج ایف آئی آر کے مطابق لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ دس روز قبل اسے مدثر نامی شخص نے دو آدمیوں سے پیسے لے کر مجھے فروخت کر دیا، جس کے بعد وہ دونوں آدمی مجھے نامعلوم مقام پر لے گئے اور تین روز تک زیادتی کا نشانہ بناتے رہے، اس دروان ملزمان نے تشدد بھی کیا اور تکالیف دیں، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، پولیس کا کہنا تھا کہ جلد ملزمان کو گرفتار کرلیں گے-
سوات: تحصیل چارباغ میں نامعلوم افراد نے میاں بیوی کو بے دردی سے قتل کردیا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوات کی تحصیل چار باغ میں قتل کی لرزہ خیز واردات ہوئی جہاں ملزمان نے میاں بیوی کو بڑی بے دردی سے قتل کردیا ملزمان نے دونوں میاں بیوی کو چھری سے زبح کردیا اور فرار ہوگئے۔ قتل ہونے والے میاں بیوی کا تعلق کوہستان سے ہے جب کہ پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لیکر تفتیش شروع کردی ہے۔
ادھر پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل ظفر وال میں سوتیلی ماں نے تشدد کرکے 8 سالہ بیٹی کو قتل کردیااحسان نامی شخص نے دوسری شادی کی ہوئی تھی، گزشتہ رات سوتیلی ماں نے 8 سالہ زارا فاطمہ پر شدید تشدد کیا جس سے بچی جاں بحق ہوگئی ملزمہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، اور اس کے خلاف بچی کے ماموں کی مدعیت میں مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔
ظفروال پولیس حکام کے مطابق نواحی گاؤں سپوال کے رہائشی احسان نے دوسری شادی کی ہوئی تھی، اور اس کی دوسری بیوی ماریہ بچوں کو اکثر مار پیٹ کرتی تھی، گزشتہ رات سوتیلی ماں نے 8 سالہ زارا فاطمہ پر شدید تشدد کیا جس سے بچی جاں بحق ہوگئی، اہل محلہ نے پولیس کو واقعہ کی فوری اطلاع دی، اور پولیس تھانہ ظفروال نے موقع پر پہنچ کر سوتیلی ماں کو گرفتار کر لیا-
قبل ازیں راولپنڈی میں تلخ کلامی پر ملزم نے فائرنگ کرکے سٹیج اداکار کو جان سے مار ڈالا راولپنڈی کے تھانہ کینٹ کے علاقہ سیروز تھیٹ میں فائرنگ کے باعث سٹیج اداکار اور ڈانسر نوید گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے،۔کینٹ پولیس نے مقدمہ میں نامزد مرکزی ملزم افتخار شہزاد کو گرفتار کر لیا مدعی کا کہنا تھا کہ نوید حسین کی عمران وینس کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کردی ہے
لاہور:پنجاب پولیس میں افسران کے تقرروتبادلے،اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر افسران کو دربدر کردیا گیا ہے ،ادھر اسی حوالے سے آئی جی پنجاب نے 28 ایس پیز کے تقرروتبادلوں کے احکامات جاری کر دیئے
آئی جی پنجاب کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق دانیال احمد جاوید کو ایس پی انویسٹیگیشن پاکپتن تعینات کر دیا گیاجبکہ ایس پی انویسٹیگیشن راجن پور محمد اصغر ملک کو ایس ایس پی RIB سرگودھا ریجن تعینات کر دیا گیا
ایس پی انویسٹیگیشن سول لائن لاہور عمران احمد ملک کو ایس ایس پی ٹیکنیکل CTD کامران نواز کو ایس ایس پی انویسٹیگیشن CTD ،ایس پی آپریشنز علامہ اقبال ٹاون لاہور ڈاکٹر محمد رضا تنویر کو ایس پی انویسٹیگیشن سول لائن لاہور تعینات کر دیا گیا
نوٹیفکیشن کے مطابق اخلاق اللہ کو ایس پی آپریشنز علامہ اقبال ٹاون ٹاون لاہور تعینات کر دیا گیا جبکہ زین عاصم کو ایس پی انویسٹیگیشن صدر لاہور ،ایس پی انویسٹیگیشن صدر لاہور حمزہ امان اللہ کو ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ لاہور ،غیور احمد خان کو ایس پی انویسٹیگیشن میانوالی تعینات کر دیا گیا
ادھر آئی جی پنجاب کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایس پی ضیاء اللہ کی خدمات ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے سپرد کردی گئی ہیں، ایسے ہی ایس پی اقبال ٹاون فیصل آباد محمد طاہر مقصود کو ایس پی ایڈمن فیصل آباد تعینات کر دیا گیا
محمد نبیل کو ایس پی اقبال ٹاون فیصل آباد تعینات،ایس پی جڑانوالہ ڈویژن فیصل آباد غلام مصطفی گیلانی کو ایس پی اکاونٹیبلیٹی برانچ فیصل آباد ریجن ،ارتضی کومیل کو ایس پی جڑانوالہ ڈویژن فیصل آباد ،ایس پی سلمان لیاقت کی خدمات ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے سپرد ،ایس پی صدر ملتان احمد نواز شاہ کو ایس ایس پی RIB ملتان ریجن تعینات کر دیا گیا اور ایس پی اکاونٹیبلیٹی برانچ ملتان ریجن کا اضافی چارج سونپ دیا گیا
ایس پی ارسلان زاہد کی خدمات ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے سپرد ،احمد زبیر چیمہ کو ایس پی صدر راولپنڈی تعینات ،ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ لاہور نوید ارشاد کو چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی ،ایس پی انویسٹیگیشن چکوال فیصل سلیم کو ایس پی سیکورٹی راولپنڈی،ایس پی انویسٹیگیشن جہلم حافظ عطا الرحمن کو ایس پی انویسٹیگیشن چکوال تعینات کر دیا گیا
نوٹیفکیشن کے مطابق انعم فریال افضل کو ایس پی انویسٹیگیشن جہلم تعینات،عثمان منیر سیفی کو ایس پی انویسٹیگیشن جھنگ تعینات،عصمہ روف کو ایس پی اکاونٹیبلیٹی برانچ سرگودھا ریجن تعینات ،حنا نیک بخت کو ایس پی PC سہالہ،ایس پی سپیشل برانچ فیصل آباد ریجن ساجد حسن کو ایس پی پٹرولنگ پولیس بہاولپور تعینات کردیا گیا ہےجبکہ ایس پی پٹرولنگ پولیس بہاولپور محمد شریف کو سی پی او اور ایسے ہی شفقت علی ڈی ایس پی سےائی اے صدر لاہور معطل کر کے سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے
بیرون ملک بیٹھ کر لاہور میں واراداتیں کروانیوالا افضال کنو لاہور پولیس کے لئے چیلنج
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے،آئے روز چوری ،ڈکیتی، قتل کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں،پولیس سب اچھا ہونے کا دعوئ کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے،لاہور میں 2012 میں ہونیوالے ایک معمولی تصادم نے درجنوں جانیں لے لیں تا ہم ابھی تک معاملہ ختم نہ ہوا، مقدموں کے مدعی، گواہوں کو سنگین دھمکیوں کے بعد قتل کر دیا گیا،بچ جانے والے بھی خوف و ہراس میں زندگی گزار رہے ہیں اور ملزمان ٹھاٹھ باٹھ میں ،دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں، دس برسوں میں مدعی کو انصاف ملنے کی بجائے نہ صرف والد کی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا ،ملازمت بھی کھونی پڑی بلکہ گولیاں لگنے کی وجہ سے مستقل معذوری بھی جھیلنی پڑی، طویل ترین عرصے میں یعنی ایک دہائی گزرنے کے باوجود ابھی تک ملزمان کی جانب سے نہ صرف دھمکیاں دی جاتی ہیں ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ دھمکیاں دلوائی بھی جاتی ہیں دوسری جانب حالت یہ ہے کہ گینگ کے سرغنہ،شوٹراور درجنوں مقدمات میں پولیس کو مطلوب،دھمکیاں دینے والے سوشل میڈیا پر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں.
باغی ٹی وی لاہور میں جرائم پیشہ عناصر کے کرتوتوں کو سامنے لا رہا ہے،باغی ٹی وی کی تحقیقات کے مطابق افضال کنو نامی گینگ کا سرغنہ جس کے بیرون ممالک بھی دہشت گرد تنظیموں سے رابطے ہیں نے لاہور میں انت مچا رکھی ہے، افضال کنو لاہور پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب ہے اور اس نے خود کو ایک ویڈیو میں بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، افضال کنو کی فیملی کے افراد بھی جرائم پیشہ ہیں اور اس کے گینگ میں ہی شامل ہیں، افضال کنو گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہے اور خفیہ مقام سے اپنے گینگ کے اراکین کو ہدایات دیتا ہے، افضال کنو گینگ لاہور کے اندر قتل، ڈکیتی، بھتہ خوری کیسزمیں ملوث ہے، افضال کنو گینگ کے افراد مسلح ہو کر نہ صرف دن دہاڑے دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ معمولی بات پر قتل کرنے میں بھی دیر نہیں کرتے،
باغی ٹی وی کو دستیاب دستاویزات اور معلومات کے مطابق افضال کنو کے والد پرویز عرف پیجی اور بڑے بھائی لال حسین کا ذریعہ معاش بھی چوروں کی سرپرستی اور ریلوے سے ریلوے ملازمین کو گن پوائنٹ پر ہراساں کر کے ریلوے کا مال لوٹنا تھا ۔ اسی لوٹ مار کے دوران پولیس کے ہاتھوں اس کا باپ پرویز عرف پیجا قتل اور اس بھائی لال حسین زخمی ہوا تھا ۔ جس کی خبر روزنامہ خبریں 18 اپریل 2005ء میں شائع ہوئی تھی،۔ اس کے بعد ان چوروں کی سرپرستی اس کے دوسرے بھائی بلال نے لے لی تھی ۔ اور یہ اپنے علاقے کے لوگوں کو تنگ کرتا رہتا تھا جس کی بیشمار ایف آئی آر لاہور کے مختلف تھانوں میں درج ہیں ۔ اس کے دوستوں میں ایک بلال قلچہ تھا جو قتل ہو چکا ہے اس کا بھائی سی آئی اے پولس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا جس نے لاہور شہر کے 3 تاجروں کو اغوا کے بعد پیسے لے کر بھی قتل کر دیا تھا ۔ ان ملزمان کی حرکتوں کی وجہ سے پورا علاقہ بہت تنگ تھا ۔ اس دوران افضال کنو کا بھائی بلال اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایک کاروباری فیملی کے لڑکے کے ہاتھوں قتل ہوا ۔جس کے بعد افضال کنو نے اپنے دوستوں سے مل کر گینگ بنایا اور کرایہ کے قاتلوں کا کاروبار شروع کیا اور لاہورو دیگر شہروں میں بہت سے لوگوں کو پیسے لے کر قتل کیا۔
13 جنوری 2022 کو ڈی آئی جی آپریشنر لاہور نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ شادباغ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 7 خطرناک شوٹر ملزمان کو گرفتارکرلیا، ملزمان افضال عرف کنو جو کہ بیرون ملک ہے کے شوٹر ہیں، "جرائم کے انسداد کے لیے موثر اقدامات اپناتے ہوئے کاروائیاں جاری رکھیں گے” ملزمان کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا،
شادباغ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 7 خطرناک شوٹر ملزمان کو گرفتارکرلیا، ملزمان افضال عرف کنو جو کہ بیرون ملک ہے کے شوٹر ہیں، "جرائم کے انسداد کے لیے موثر اقدامات اپناتے ہوئے کاروائیاں جاری رکھیں گے" ڈی آئی جی آپریشنز@OfficialDPRPP@Lahorepoliceopspic.twitter.com/wrqicPEape
گرفتار ملزمان میں شہباز عزیز بٹ، ساجد علی اور ندیم، ساحر بٹ، نعیم بٹ، شہزاد، اشرف عرف ماموں، عبداللہ عرف گنجا شامل ہیں۔ انہی ملزمان کے انکشاف پر جاوید عرف بابا، فہد عرف گاما، فاروق کرمانوالہ ہوٹل والا، چوہدری اسلم، قدیر گھوڑا، فیضان عرف چیں، زبیر عرف بیری، وقار عرف حاجی گنجا، علی عرف پون، علی عرف سائیکو، ملک احمد، ملک عاصم وغیرہ کی گرفتاری کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ اس سے پہلے پولیس مقابلے میں فاروق ڈار، ندیم عرف مٹھا گاڈی، وقاص گجر مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ گرفتار ملزمان کے قبضہ سے ناجائز اسلحہ پسٹل اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی، دوران تفتیش ملزمان کا درجنوں واداتوں کا انکشاف کیا اور ملزمان نے بتایا کہ وہ اُجرتی قاتل ہیں اور خطرناک اشتہاری ملزم افضال عرف کنوں کے لیے کام کرتے جو کہ بیرون ملک ہے۔
ملزمان شہباز عزیز بٹ اور ساجد علی اور دیگر شامل ہیں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سرغنہ افضال کنو کے کہنے پر بہت سے قتل وغارت کیے۔ 2012ء میں لڑائی کے دوران اپنے ہی دوست بلال قلچے کو قتل اور راہگیر مبین بٹ کو زخمی کیا جو کہ مشہور تاجر زاہد امین کا بیٹا ہے اور اسی کیس میں گواہی دینے اور صلح نہ کرنے کی وجہ سے 2012ء ہی میں ضعیف العمر ہال روڈ کے تاجر زاہد امین جو کہ دبئی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی کرتے تھے کو بہت بے رحمی سے مال روڈ بندو خان کے سامنے ساجد علی، اور رمضان عرف صاحب، فاروق ڈار اور قدیر عرف قدیرا نے افضال کنو کے ساتھ مل کر قتل کیا۔ اسی طرح 2013ء میں ہال روڈ کے مشہور ضعیف العمر تاجر یوسف خان کو بھی قتل کیا۔ اور آپسی رنجش کے باعث رانا شان جو کہ ان کا قریبی دوست تھا اور اس کے ضعیف العمر والد رانا ادریس کو مسجد میں شہید کیا گیا جس کے نشانات ابھی بھی مسجد میں موجود ہیں۔ اسی طرح رانا کاشف جو کہ رانا شان کے قتل کا واحد چشم دید گواہ تھا اس کو فاروق ڈار نے کرمانوالہ ہوٹل میں بلا کر افضال کنو کے کہنے پر بے رحمی کے ساتھ قتل کروایا جس کی ایف آئی آر فاروق ڈار کے خلاف باغبانپورہ تھانہ میں درج ہوئی۔ اور اس کے بھائی اور ضعیف العمر والد پر بھی حملہ کیا گیا کیونکہ وہ اس کیس کے چشم دید گواہ تھے۔ 2018ء میں شان عرف مٹھو مشہور گولے والا جو کہ زاہد امین قتل اور بلال عرف قلچے کے قتل کیس کا بھی واحد چشم دید گواہ تھا اس کو بھی قتل کروا دیا۔ اسی طرح اگست 2020ء میں سبزہ زار کے علاقے میں ساجد نے گلی میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے اور ریکی کر کے فائرنگ سے حافظ فیصل منیر جو کہ یوسف خان قتل کیس کا چشم دید گواہ بھی تھا کو قتل کر دیا ۔
گرفتار ملزم شہباز بٹ کا دوبئی میں مقیم بنگش پٹھان سے بھی تعلق ہے جو قحبہ خانہ چلاتا ہے اور قحبہ خانہ پر کام کرنے والی پاکستانی لڑکیوں کو حراساں کرتے ہیں ۔ ملزمان بھتہ خوری کی خاطر معصوم لوگوں پر فائرنگ کرتے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے۔ ملزمان شہباز بٹ نے لاہور کے مشہور تاجر جونا بٹ جو بلال یسین کا کزن ہے کے قتل کا پلان کر رکھا تھا۔ دوارن تفتیش ملزمان نے مزید انکشاف کیا کہ ملزمان نے ہی فائرنگ کے لیے عابد باکسر کے گھر کی ریکی کی اور ساجد نے کیمرے انسٹال کیے۔
افضال عرف کنو جس کا تعلق فیض باغ مصری شاہ سے ہے جس نے اپنے آپ کو سوشل میڈیا پر مظلوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی اس کی بے گناہی کے تمام دلائل اور مقدمات کا ریکارڈ پولیس کے پاس موجود ہے، افضال کنو کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ گندی گالیاں دیتے ہوئے کسی کو دھمکیاں دے رہا ہے، سوشل میڈیا پر کہا گیا ہے کہ دھمکیاں عابد باکسر کو دی گئی ہیں تا ہم ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ دھمکیاں اور گالیاں عابد باکسر کو دی گئیں یا کسی اور کو، اس ویڈیو میں افضال کنو نے اسلحہ بھی ہاتھ بھی پکڑا ہوا ہے.
باغی ٹی وی کو ملنے والی رپورٹس کے مطابق افضال کنو کے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں،افضال کنو اور اسکی فیملی آجکل روپوش ہے افضال کنوں اور اس کا بھائی چھوٹا بھائی فیضان عرف چیں اور زبیر عرف بیری پنجاب پولس کو بہت سارے سنگین جرائم میں مطلوب ہے ۔
باغی ٹی وی کو موصول رپورٹ کے مطابق افضال کنو نے مبینہ طور پر انکے خلاف کیسز میں گواہی دینے والوں کو قتل کروا دیا ہے یا پھر انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو مدعی ہیں انکے گھروں میں بم دھماکوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،اور کہا جاتا ہے کہ کنو کے دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات ہیں اسلئے وہ کچھ بھی کروا سکتا ہے، عزت سے جینا ہے تو کیسز سے پیچھے ہٹ جاؤ،
افضال کنو پر درج ایک مقدمے کا عکسافضال کنو کی ایک فائل فوٹو
کراچی :ارسلان محسود کو کس کی ایما پر قتل کیا گیا ؟اہم انکشافات نے اہم شخصیات کو بے نقاب کردیا،اطلاعات کے مطابق ارسلان محسود قتل کیس میں پولیس نے عبوری چالان عدالت میں پیش کردیا ، جس میں بتایا گیا کہ ملزمان نے سابقہ ایس ایچ اواعظم گوپانگ کی ایماپر ارسلان کو قتل کیا۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں ارسلان محسود قتل کیس پر سماعت ہوئی، سماعت میں پولیس نے مقدمے کا عبوری چالان عدالت میں پیش کیا۔
چالان میں بتایا گیا کہ ملزم انٹیلی جنس اہلکار توحید اور دوست عمیر نے سابقہ ایس ایچ او اعظم گوپانگ کی ایما پر موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر ارسلان کو قتل کیا۔
چالان میں کہا کہ زخمی نوجوان یاسر اور عینی شاہدین نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ملزمان کو شناخت کیا، فارنسک رپورٹ میں جائے وقوعہ سے ملنے والے خول ملزم توحید کے اسلحے سے میچ کرتے ہیں۔
عبوری چالان کے مطابق سابق ایس ایچ او اعظم گوپانگ نے ذاتی ملکیت کا پستول اور تین خول جائے وقوعہ پر رکھ کر مقابلہ ظاہر کیا اور ذاتی پستول رکھ کر واقعے کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
پولیس نے چالان کہا کہ ملزم اعظم گوپانگ کے خلاف سندھ آرمز ایکٹ کے تحت ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے، ملزم توحید اور سابق ایس ایچ او اعظم گوپانگ کے اسلحے لائسنس کی تصدیق کے لئے بلوچستان اور کے پی خطوط تحریر کئے ہیں، اسلحہ لائسنس کی تصدیق اور پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوسکی ہے۔
خیال رہے 7 دسمبر کو تھانہ اورنگی کی حدود میں پولیس اہلکار کی فائرنگ سے سولہ سالہ ارسلان محسود جاں بحق جبکہ دوست یاسر زخمی ہوا تھا،ارسلان اور یاسر ٹیوشن سے واپس گھر جارہے تھے۔