Baaghi TV

Tag: پولیس

  • آئی ایس ایف کے صدر وقاص اور مصدق شاہ  کا پولیس پر بدترین تشدد

    آئی ایس ایف کے صدر وقاص اور مصدق شاہ کا پولیس پر بدترین تشدد

    اسلام آباد: آئی ایس ایف کے صدر وقاص اور مصدق شاہ نے پولیس پر بدترین تشدد کیا-

    باغی ٹی وی : ہزارہ ڈویژن کے جلوس میں شریک انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن (آئی ایس ایف) کے صدر وقاص نے کٹی پہاڑی کے مقام پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ کے بعد ایک پولیس اہلکار سے وردی اور لاٹھی چھین لی اور پولیس وردی اور لاٹھی میں ویڈیو بنا کر وائرل کردی۔

    آئی ایس ایف کے صدر کے ساتھ پارٹی عہدیدار مصدق شاہ بھی موجود تھے، دونوں وردی پہن کر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے،آئی ایس ایف کے صدر وقاص اور مصدق شاہ نے پولیس پر بدترین تشدد کیا، آئی ایس ایف کے عہدیدار اسلام آباد جانے والے قافلے میں شریک ہیں۔

    واضح رہے کہ احتجاج کے دوران جھڑپوں میں یک اہلکار شہید ہوا اور 5 کی حالت تشویشناک ہے، پولیس کے تقریباً 70 کے قریب اہلکار زخمی ہوچکے ہیں،وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پولیس اہلکار غیر مسلح ہیں، یہ 9 مئی پارٹ ٹو چاہتے ہیں، پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا ہوا ہے، شرپسندی میں ایک اہلکار شہید ہوا اور 5 کی حالت تشویشناک ہے، پولیس کے تقریباً 70 کے قریب اہلکار زخمی ہوچکے ہیں، سرگودھا میں ایف سی اہلکار کی ٹانگ میں گولی ماری گئی ہے، اٹک کٹی پہاڑی پر کانسٹیبل واجد بھی زخمی ہوا ہے۔

  • اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا پرامن احتجاج پر تشدد بن گیا، پتھراؤ سے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے

    پی ٹی آئی کے مظاہرین کی جانب سے اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی گئی جس پر پولیس نے مظاہرین کو روکا، فیض آباد، کھنہ پل و دیگر مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں، اس دوران پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس سے متعددپولیس اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پی ٹی آئی مظاہرین نے اس موقع پر پولیس گاڑی کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا،پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی،

    پی ٹی آئی کے شرپسندوں کا پولیس پر پتھراؤ، متعدد پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے،ڈھوک کالا خان اسلام آباد ہائی وے کے قریب شرپسندوں نے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا،پی ٹی آئی کے شرپسندوں کے پتھراؤ کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے،زخمیوں میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے،شدید زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طور طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیاگیا، کانسٹیبل فیاض حسین کی حالت تشویش ناک ہے ، پولیس اہلکاروں کے سر اور آنکھوں پر شدید چوٹیں آئی ہیں،کھنہ پل کے قریب شر پسندوں نے پولیس کی گاڑی بھی تباہ کر دی،شر پسندوں میں اکثریت کی تعداد غیر قانونی افغانیوں کی ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ شرپسندوں کو کسی صورت قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا،عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والے شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،

    قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی پولیس، ایف سی اور رینجرز جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈی چوک ک پہنچ گئے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے کو سراہا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو جانفشانی سے ڈیوٹی کی ادائیگی پر شاباش دی،وزیرداخلہ محسن نقوی نے فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا ،وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی تعریف کی،وزیرداخلہ محسن نقوی نے فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ آپ کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد پولیس ۔ایف سی اور رینجرز جوانوں کا مورال بہت بلند ہے۔اسلام آباد پولیس ۔ ایف سی اور رینجرز اہلکار ہمہ وقت الرٹ ہیں۔فرائض سرانجام دینے والے تمام اہلکاروں کو شاباش دیتا ہوں۔ قانون کی عملداری یقینی بنانے پر آپ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔آپ فرض شناسی سے قومی فریضہ نبھا رہے ہیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔وفاقی سیکرٹری داخلہ۔ چیف کمشنر اسلام آباد۔آئی جی اسلام آبادپولیس۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی ہمراہ تھے

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • سیاسی میدان  میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    سیاسی میدان میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کی احتجاجی کال سے ایک دن قبل اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی۔ یہ مہم آئی جی اسلام آباد علی رضا رضوی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور، اور ڈی آئی جی لیاقت ملک کے خلاف مختلف پلیٹ فارمز پر چلائی گئی۔ پی ٹی آئی کے تمام آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول واٹس ایپ، ٹوئٹر، فیس بک، تھریڈز، اور انسٹاگرام پر یہ مہم جاری رہی۔ اس مہم کا مقصد ان افسران کو تحریک انصاف کے خلاف ہونے والے مبینہ تشدد کا ذمہ دار ٹھہرانا تھا اور عوام کو ان کے خلاف اکسایا گیا۔

    پولیس افسران کے خلاف اس سوشل میڈیا مہم میں تحریک انصاف نے صرف اور صرف احتجاج کی کال اور سکیورٹی انتظامات کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ان پولیس افسران پر تنقید کر کے کمزوری کا ثبوت دیا۔ تحریک انصاف نے ان افسران پر بے بنیاد الزامات لگائے اور ان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے، جو قانونی طور پر "ڈیفیمیشن” اور "انسائٹمنٹ ٹو وائلنس” کے زمرے میں آتا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف سوشل میڈیا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس مہم کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہے۔ جب ایک سیاسی جماعت سرکاری افسران کو نشانہ بنا کر عوام میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے تو کیا ریاست اس مہم کے ماسٹر مائنڈز کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے ذریعے انتشار پھیلا رہی ہے تو کیا ریاست ایسی سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ سے چلنے والی کمپین کے خلاف ایکشن لے گی یا نہیں؟ اگر ریاست ان مہمات کے خلاف ایکشن نہیں لیتی تو یہ آئندہ کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف ابوبکر نے لکھا کہ ریاستی ادارے کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟‼️پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بہادر پولیس افسران کی تصاویر اس طرح شیئر کی جا رہی ہیں جیسے وہ دہشت گرد ہوں۔ یہ نہ صرف ان افسران بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ایک جماعت ملک کے محافظوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو مذاق بنا رہی ہے، اور اب تو افسران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    نعمان قیصر کا ایکس پر کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اب سیاسی میدان میں شکست کھانے کے بعد ریاستی اداروں کے اعلی افسران و عہدیداران کے خلاف گھٹیا مہم اور ذاتی دشمنی جیسے حملے کر رہی ہے،زیر نظر ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ پولیس افسران کی تصاویر پی ٹی آئی آفیشل سائٹ سے ایسے شئر کی جا رہی ہیں جیسے یہ دہشت گرد ہوں

    https://twitter.com/NomanqaiserS/status/1860390047545196722

    عدنان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل گینگ کی ایک اور سازش،پولیس کو بدنام کرنے کے لیے بہادر افسران کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش۔

    بلوچستان کے سابق نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی کہتے ہیں کہ ان پیغامات کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے آفیشل واٹس ایپ گروپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے ان پولیس افسران کے خلاف ایک منفی مہم چلائی۔
    ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ کیلے کی ریاست ہے جہاں کوئی بھی ریاستی اہلکاروں کو دھمکا سکتا ہے / ہراساں کر سکتا ہے اور اس کی کو ہی پکڑ نہیں۔ ریاست کے خلاف اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    تحریک انصاف باز نہ آئی،ملک دشمن اقدامات پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے چلائی جانے لگی،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلز نے پنجاب اور اسلام آباد کے سینئر پولیس افسران کے خلاف ایک منظم مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ان افسران کو دھمکیاں دینا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف مہم واٹس ایپ، فیس بک، ایکس،تھریڈز،پر چلائی جا رہی ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے آئی جی پنجاب عثمان انور،آئی جی اسلام آبادعلی رضا رضوی،ڈی آئی جی لیاقت ملک، سی سی پی او لاہوربلال صدیق کمیانہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے

    اطلاعات کے مطابق، پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپس اور دیگر آن لائن فورمز کے ذریعے پولیس افسران کے خلاف جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈہ مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد پولیس افسران کی عزت کو مجروح کرنا اور ریاستی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ صورتحال ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان ایک "بنانا ریپبلک” بن چکا ہے، جہاں کوئی بھی بغیر کسی خوف کے ریاستی اہلکاروں کو دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر سکتا ہے؟ کیا اس گھناونے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ریاست کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو ریاستی افسران کو ہراساں کرنے اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سخت اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلر اور مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہو سکیں

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم میں پولیس افسران کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں،پولیس افسران کے خلاف پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی یہ منظم مہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے.

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے کسی کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی ہو، پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں کے خلاف متعدد بار مہم چلائی جا چکی ہے اور وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں،کبھی عدالتوں کے خلاف، کبھی پاک فوج کے خلاف،کبھی پولیس کے خلاف، کبھی میڈیا کے خلاف، کوئی بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ سے محفوظ نہیں ہے

  • پرویز الہٰی کی بھانجی باسمہ چوہدری کے گھر پرپولیس کا چھاپہ

    پرویز الہٰی کی بھانجی باسمہ چوہدری کے گھر پرپولیس کا چھاپہ

    منڈی بہاؤالدین: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کی بھانجی اور پی ٹی آئی کی رکن پنجاب اسمبلی باسمہ چوہدری نے کہا کہ منڈی بہاؤالدین میں ان کے آبائی گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔

    باغی ٹی وی : پرویز الہٰی کی بھانجی باسمہ چوہدری نے الزام لگایا کہ رات ڈھائی بجے پولیس اور سادہ لباس اہلکار ان کے گھر میں گھس آئے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، ملازمین کو ہراساں کیا، گھر کا سارا سامان توڑ دیا گیا، پنجاب حکومت سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ہے، انہیں صرف بانی پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کی سزا دی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں24 نومبر کا احتجاج کے لئے پہلے سے چھپے پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریاں جاری ہیں گزشتہ شب اسلام آباد پولیس آفیسرز کی سربراہی میں 27 ٹیموں نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا، پی ٹی آئی کے 200 کار کنوں کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتار کارکنوں میں مرد اور خواتین بھی شامل ہیں، گرفتار شر پسندوں سے ہتھیار اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے-

  • باجوڑ میں دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت

    باجوڑ میں دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت

    باجوڑ میں دہشت گردی کے واقعات، دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت ہو گئی

    باجوڑ میں دھماکے الگ الگ مقامات پر ہوئے، ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق کے مطابق ضلع باجوڑ کے تحصیل ماموند میں دو الگ الگ بم دھماکوں میں 2 افراد کی موت ہوئی ہے، پہلا بم دھماکا تھانہ لوئی ماموند کی حدود کے علاقے ایراب میں ہوا جس میں ملک اصغر کی موت ہوئی ہے،دوسرا دھماکہ تھانہ لوئی ماموند کے علاقے مینہ خوڑ میں ہوا جس میں پولیس اہلکار احسان اللہ کی موت ہوئی ہے،

    شہید پولیس اہلکار احسان اللہ کی نمازِ جنازہ پولیس لائن باجوڑ میں پورے سرکاری اعزاز کیساتھ ادا کردی گئی۔پولیس جوانوں کے چاک وچوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی اور انکے بلند درجات کیلئے اجتماعی دعا کی گئی۔

    ڈی پی او باجوڑ کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ہونے والے دو دھماکوں کے واقعات کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے

  • پی ٹی آئی احتجاج، اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

    پی ٹی آئی احتجاج، اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

    تحریک انصاف کا احتجاج، اڈیالہ جیل جانے والے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

    اڈیالہ جیل کے گردو نواح کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سیل کو تھانہ ڈکلیئر کرکے پولیس تعینات کر دی گئی ہے، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے سیل سرکل 4 کو تھانہ نیو ٹاؤن قرار دے دیا گیا ہے، سرکل 4 کو تھانہ قرار دینے کے احکامات سی پی او راولپنڈی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں

    دوسری جانب جڑواں شہروں ے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے،اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والا مرکزی راستہ فیض آباد انٹرچینج بھی بند کر دیا گیا ہے،سکستھ روڈ سے فیض آباد تک بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ فیض آباد لاری اڈے پر ہوٹل اور ریسٹورنٹ خالی کرا دیے گئے،سی پی او راولپنڈی کا کہنا ہے کہ امن و امان خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے، سیف سٹی کیمروں سے شہر کی نگرانی کی جا رہی ہے

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

  • ملک کا نظام عدالتوں ،پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا،عدالت

    ملک کا نظام عدالتوں ،پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا،عدالت

    عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،

    راولپنڈی پولیس کے حکام اور درخواست گزار علی اعجاز بٹر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ۔ راولپنڈی پولیس کے آر پی او اور جیل سپرنٹینڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نا کرانے پر توہین عدالت کیس،غیر مشروط معافی چاہتے ہیں ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے بیان حلفی عدالت میں پیش کر دیا گیا ،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالتی حکم کے حوالے سے پولیس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا ، ہم سوچ بھی نہیں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کریں ، عدالت نے کہا کہ ان کے بیان حلفی کے مطابق دو بجے وہ اڈیالہ جیل کے گیٹ پر تھے چار بجے تک وہ موجود رہے ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ بچے بچے کو معلوم تھا کورٹ نے آرڈر کیا تھا آپ کہہ رہے ہیں ہمیں یہ آرڈر معلوم ہی نہیں ،ریجنل پولیس افسر راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بتا دیں کہ آپکو پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات روکنے کا کس نے کہا تھا تو کارروائی آپکے نہیں بلکہ اُن کے خلاف کروں گا ورنہ مجھے آپکے خلاف کارروائی کرنی پڑے گی،

    شعیب شاہین نے کہا کہ ہم گیٹ کے اندر موجود تھے اس کی ویڈیوز موجود ہیں ،اپوزیشن لیڈر کو گھسیٹتے ہوئے لیکر جاتے ہیں ،کوئی اور بندے نہیں تھے وہ صرف 5 بندے ہی موجود تھے

    عدالتی احکامات کے باوجود اڈیالہ جیل جانے سے روکنے کی عمر ایوب کی درخواست پر سماعت کے دوران شعیب شاہین نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود چار چار گھنٹے مجھے اڈیالہ جیل کے گیٹ پر بیٹھایا جاتا ہے ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ شعیب صاحب غصہ ان پر نکال رہے ہیں غصہ کسی اور پر نکالیں ،

    عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ،عدالت نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اور آر پی او راولپنڈی کی غیر مشروط معافی منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کاروائی شروع نا کرنے کا فیصلہ کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے آر پی او راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی معافی قبول کر لی عدالت نے کہا کہ آپکو یہ آخری بار موقع دیا جا رہا ہے،عدالت نے ہدایات کے ساتھ توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی

    شعیب شاہین نے کہا کہ ہمارے ملک کا نظام ہی ایسا ہے ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ شعیب صاحب ملک کا نظام ایک یا دو عدالتوں سے ٹھیک نہیں ہو گا،آپ کے ملک کا نظام عدالتوں کے ہاتھ سے نکل کر پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا ہے ،

    بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا ردعمل

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

  • لاہور پولیس ویلڈن، چوری شدہ 2730 موبائل مالکان کے سپرد

    لاہور پولیس ویلڈن، چوری شدہ 2730 موبائل مالکان کے سپرد

    لاہور:ای گیجٹ ایپ کے ذریعے موبائل فونز کی برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے-

    باغی ٹی وی:رواں سال ریکور ہونیوالے 5کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 2730 موبائل فونز اصل مالکان کے سپرد کیے گئے ہیں،اپنے موبائل فونز کی واپسی پر شہریوں نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا شکریہ ادا کیا ،ای گیجٹ موبائل ایپ لاہور میں 46132 دکاندار جبکہ مجموعی طور پر پنجاب میں 1,55,694 دکاندار استعمال کر رہے ہیں،

    اب تک ای گیجٹ کے ذریعے 38لاکھ36ہزار275 موبائل فونز کی خرید وفروخت ہوئی،ایِ گیجٹ ایپلی کیشن پلے سٹور سے باآسانی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے،دوکاندار ایپلی کیشن میں اپنے کوائف درج کر کے خود کو با آسانی رجسٹر کروا سکتے ہیں، چوری ہونیوالے موبائل کا IMEI نمبر تبدیل کرنا قانونا جرم ہیں-

    https://x.com/BaaghiTV/status/1859674236446703669?t=ZgIV4u7-EsuTgDM0y9I3wQ&s=19
    دکاندار موبائل کی خرید و فروخت کے دوران ایِ گیجٹ اپلیکیشن کا استعمال یقینی بنائیں، ایِ گیجٹ ایپلی کیشن کی مدد سے رواں سال 2730 موبائل فونز شہریوں کے سپرد کیے گئے،عوام الناس کی خدمت اور انہیں ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

  • ضلع کرم،مسافر گاڑیوں پر فائرنگ،اموات 38 ہو گئیں

    ضلع کرم،مسافر گاڑیوں پر فائرنگ،اموات 38 ہو گئیں

    خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 38 افراد کی موت ہو گئی ہے

    ضلع کرم میں پارا چنار سے پشاور جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر اوچت کے مقام پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں 38 افراد جاں بحق ہوگئے۔اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،پولیس حکام کے مطابق فائرنگ سے 3 خواتین سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا،واقعے کے بعد سکیورٹی حکام نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ضلع کرم جاوید اللہ محسود نے فائرنگ سے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

    پاراچنار سے پشاور جانے والی کانوائی میں شامل مسافر گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ،عینی شاہدین کے مطابق گاڑیوں پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی،پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے بعد متعدد ایمبولینس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوع پہنچ چکے ہیں جبکہ بگن چیک پوسٹ میں 30 سے زائد خواتین پناہ لئے امداد کا انتظار کر رہے ہیں ۔

    نہتے مسافروں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل ہے،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع کُرّم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے،صدر مملکت نے کرم میں فائرنگ میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ نہتے مسافروں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل ہے- معصوم شہریوں پر حملے کے ذمےداران کو کیفر کردار پہنچایا جائے،صدر مملکت نے زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی، ذمے داران کے خِلاف کاروائی کی ضرورت پر زور دیا .

    شرپسند عناصر جو معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں وہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں. وزیراعظم
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ضلع کرم میں شرپسندوں کی معصوم شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،وزیرِاعظم نے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور اہلِ خانہ کیلئے صبر کی دعا کی،وزیرِ اعظم نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،وزیرِاعظم نے حملہ آوروں کی نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ملک کے امن کے دشمنوں نے معصوم شہریوں کے قافلے پر حملہ کیا جو حیوانیت کے مترادف ہے. ملک دشمن عناصر کے وطن عزیز کے امن کو تباہ کرنے کی تمام تر مزموم کوششوں کو ناکام بنائیں گے. واقعے میں ملوث شر پسند عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں مثالی سزا دی جائے گی. تخریب کار ایسی بزدلانہ کاروائیوں سے بہادر پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے. شرپسند عناصر جو معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں وہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں.

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکے ،سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر
    سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ کے ضلع کرم اوچت(بگن)میں دہشتگردوں کی کانوائے پر فائرنگ کے نتیجے میں کم و بیش 38 افراد کی شہادت یا زخمی ہونے پر انتہائی افسردہ ہوں۔ دہشتگردی کی اس گھناونی واردات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم نے ضلع کرم اور پاراچنار کے حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو کئی پریس کانفرنسز، احتجاجات، میٹنگز اور پیغامات کے ذریعے خبردار کیا ہے لیکن کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی۔ صوبائی حکومت کی درجنوں میٹنگز اور کئی جرگے بھی اس ظلم کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ضلع کرم(پاراچنار) کا ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او تک بدلنے کے اختیارات نہیں رکھتے۔ افسوس؛ ہمارے سیکیورٹی ادارے معاملات کو حل کرنے کے بجائے، جنگ کی آگ کو بڑھکانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ پاراچنار اور ضلع کرم میں کشیدہ حالات کا فائدہ کس کو ہورہا ہے؟ کون سے عناصر ہیں جو پاراچنار میں امن نہیں چاہتے؟ میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو ایک مرتبہ پھر ہوش کے ناخن لینے کی انتباہ کرتا ہوں۔