Baaghi TV

Tag: پولیس

  • پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    راولپنڈی: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اٹک ڈاکٹر غیاث گل نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے،برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیلز پولیس کے پاس موجود شیلز سے 3 سے 4 گنا زیادہ تیز ہیں-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی پولیس لائنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پاکستان میں موجود ہی نہیں، وہ انہوں نے درآمد کئے،اٹک میں مظاہرین کا ایک شخص بھی زخمی نہیں ہوا، 26 نومبر کی رات کو پولیس پر فائرنگ کی گئی لیکن ہم نے جانفشانی سے معاملے کو سنبھالا۔

    ڈی پی او نے کہاکہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیلز پولیس کے پاس موجود شیلز سے 3 سے 4 گنا زیادہ تیز ہیں، مظاہرین کے ہینڈلرز پولیس کی وائرلیس فریکوئینسی متاثر کرتے رہے پتلون کے ساتھ تصویر بنا کر شہد ااور غازیوں کی تذلیل کی جارہی ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہم کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں۔

    ڈی چوک احتجاج، عمران ، بشری کے وارنٹ جاری

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے کہاکہ گرفتار مظاہرین عسکری ونگ کے کارندے ہیں، ان لوگوں نے پولیس پر فائرنگ کی، گرفتار افراد میں سے 89 لوگ ایسے ہیں جن کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ ہی نہیں، مظاہرین کی گاڑیوں میں موجود کین میں کیمیکل موجود تھا، اندازاً 8 فیصد لوگ مظاہرین میں ایسے تھے جو مظاہرین پر حملوں میں ملوث تھے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین میں شامل عسکری سکواڈ کے نمائندے 500،500 کی ٹولیوں میں چل رہے تھے یہ لوگ 3 سے 4 منٹ میں پہاڑوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھےغازی بروتھا کے مقام پر جیٹ انجن کے ذریعے پولیس پر آنسو گیس چلائی گئی، پولیس مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی پی ٹی آئی 3 بار احتجاج کرتے ہوئے اٹک میں آئی ہے اور 250 پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا، ان اہلکاروں کی فیملیز ہیں، ہم کس کس کو جواب دیں گے۔

    جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

  • خواتین سے نازیبا حرکات ،سکول پرنسپل کی ویڈیو وائرل

    خواتین سے نازیبا حرکات ،سکول پرنسپل کی ویڈیو وائرل

    شیخوپورہ کے ایک اسکول کے پرنسپل کو خواتین  سے نازیبا حرکات کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم پرنسپل ارسلان ولد ریاست خواتین  کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کرتا اور ان کی ویڈیوز بناتا تھا۔ یہ ویڈیوز بعد ازاں ملزم ان اساتذہ کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پرنسپل کے خلاف اس وقت کارروائی کی گئی جب خواتین  کی چار ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔پولیس حکام کے مطابق ملزم کی جانب سے خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، سکول میں لگے سی سی ٹی وی کی ویڈیو سامنے آئی ہیں، ملزم نے خواتین کے ساتھ زیادتی کی اور نازیبا حرکات کیں، اس واقعے نے اسکول کے تعلیمی ماحول اور مقامی کمیونٹی میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ملزم نے اس نوعیت کی مزید ویڈیوز اور بلیک میلنگ کی سرگرمیاں تو نہیں کیں۔

    اس اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد مقامی اسکول کے اساتذہ اور والدین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزم پر سنجیدہ الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    پشاور: خیبرپختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے قریبی رشتہ دار ثقلین خان گنڈاپور جاں بحق ہوگئے۔

    واقعہ ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی میں پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ثقلین گنڈاپور کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مقتول ثقلین گنڈاپور کے والد اسماعیل خان، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے رشتہ میں چچا ہیں۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، اور پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس نے واقعے کے فوراً بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ ذاتی رنجش یا زمین کے تنازعے کے باعث ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات کے بعد ہی اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے قریبی رشتہ دار کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ واقعہ افسوسناک ہے اور ہم ہر ممکن اقدام اٹھا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔”اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور مقامی لوگ اس قتل کو ایک بڑے جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔پولیس کی ٹیموں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ قاتلوں تک پہنچا جا سکے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • قصور شہر کے وسط میں آغاز صبح کیساتھ ہی واردات،ڈی پی او سے نوٹس کی اپیل

    قصور شہر کے وسط میں آغاز صبح کیساتھ ہی واردات،ڈی پی او سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    تھانہ سٹی اے ڈویژن میں آغاز صبح کیساتھ ہی شہری سے واردات ،ڈاکو اسلحہ کے زور پر ،موٹر سائیکل،قیمتی موبائل فون اور نقدی لے گئے،جاتے ہوئے شہری پر سیدھی فائرنگ بھی کی،شہری معجزاتی طور پر محفوظ رہا،ڈی پی او قصور سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور شہر کے مرکز میں چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس کے باعث لوگوں کا اب رات کیساتھ دن کو بھی گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا
    شہر میں ڈاکو راج قائم ہو چکا ہے
    شہر قصور کے مرکز گورنمنٹ ڈگری کالج قصور کے بلکل ساتھ واقع سیٹھی کالونی حدود تھانہ سٹی اے ڈویژن کا رہائشی اسد جاوید بھٹی ولد جاوید بھٹی آج صبح بوقت 6:30 اپنی موٹر سائیکل نمبری KSK 2652 پر اپنے گھر سے چارا لینے نکلا اور گھر کے قریب ہی دھوبی گراؤنڈ پر تین نقاب پوش اسلحہ بردار ڈاکوؤں نے روک کر موٹر سائیکل،قیمتی موبائل فون اور نقدی چھین لی جس پر اسد نے ڈاکوؤں ساتھ مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو ڈاکوؤں نے سیدھی فائرنگ کی تاہم اسد معجزاتی طور پر محفوظ رہا
    قصور شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شہریوں میں سخت خوف و ہراس پایا جا رہا ہے جس پر شہریوں نے ڈی پی او قصور سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانے پر رات گئے دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشت گر فرار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق لکی مروت کے علاقے تھانہ درہ پیزو پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دو اطراف سے حملہ کیا اور اسنائپر گن سے پولیس کانسٹیبل کرامت اللہ کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا،دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان مقابلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے، واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا،شہید اہلکار کی لاش ریسکیو حکام کی مدد سے اسپتال منتقل کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لکی مروت پہاڑ خیل پکہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے شہید پولیس اہلکار چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا جو اس دہشت گردی کا شکار بن گیا، وزیراعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

  • صحافی شاکر اعوان بازیابی کیس، آئی جی پنجاب ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    صحافی شاکر اعوان بازیابی کیس، آئی جی پنجاب ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں صحافی شاکر اعوان کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ لیکر آدھ گھنٹے تک عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ تمام فریقین سے معلومات لیکر سرکاری وکیل پیش ہوں ،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ شاکر اعوان سینئر کورٹ رپورٹر ہیں،رات کے اندھیرے میں 20 کے قریب لوگ آئے ،شاکر اعوان پر ایک مقدمہ درج ہے اس میں عبوری ضمانت پر ہے ،تاحال علم نہیں شاکر اعوان کہاں پہ ہے، عدالت معلومات لیکر بتائیں کہ اس وقت مغوی کس کے پاس ہے،ہم نے سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو پارٹی بنا دیا ہے

    صدر کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن محمد اشفاق نے دلائل دیے اور کہا کہ تمام فریقین کو نوٹسز کرکے معلوم کیا جائے اس وقت مغوی کس کے پاس ہے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہناز بیگم کی درخواست پر سماعت کی،کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اشفاق ،نائب صدر رانا یاصف ،نعمان نور ،محمد وقاص ،ارشد علی ،افضال سیال سمیت دیگر پیش ہوئے

    عدالت نے آئی جی پنجاب کو دوپہر تین بجے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل کے لیے تمام کوششیں کر رہے ہیں، مزید وقت مل جائے تو عدالتی حکم کی تعلیم ہوگی،ایس پی پولیس نے کہا کہ مغوی ہمارے پاس نہیں ہیں، اگر آپ کہتے ہیں تو تحریری طور پر دے دیتے ہیں، ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے ایس پی پولیس کو ریڈ کی ویڈیو دکھا دی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایس پی کو ہدایت کی کہ آپ منہ کیوں پیچھے کر رہے ہیں، ویڈیو دیکھیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ مغوی کو ڈھونڈنا ہماری زمہ داری ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ وہ تو آپ کی زمہ داری ہے، آپ کو پورا کرنا ہوگی، صحافی محمد اشفاق نے کہا کہ شاکر محمود کو جب گرفتار کیا گیا تو انہیں تھپڑ مارے گئے، پولیس کچھ تو کرے، مطیع اللہ جان کی طرح ان پر بھی کچھ منشیات ڈال دے، آئی جی پنجاب کو طلب کرکے پوچھا جائے شاکر اعوان پر کونسا مقدمہ ہے ،

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت میں پولیس نے شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ پیش کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:مغل پورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے 5 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں ہوئی، انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی ،جس میں پولیس نے تمام مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر عمر دلائل کے لیے پیش نہیں ہوئے اس موقع پر معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ راستے بند ہیں ، سینئر وکیل آج دلائل کے لیے پیش نہیں ہو سکتے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ راستے تو کھل گئے ہیں، آپ تاریخ لینا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔

    بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے شاہ محمود قریشی کی 5 مقدمات میں ضمانتوں پر سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کردی۔

  • اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے جناح ایونیوخالی کرا لیا، مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع

    اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے جناح ایونیوخالی کرا لیا، مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع

    اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مظاہرین سے جناح ایونیوخالی کرا لیا، جس کے بعد مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس اور رینجرز نے شدید شیلنگ کی اور پی ٹی آئی مظاہرین سےجناح ایونیو خالی کراتے ہوئے مظاہرین کو خیبر پلازہ سے آگے تک دھکیل دیا،جناح ایونیو سے واپسی کے بعد پی ٹی آئی مظاہرین گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے اور اسلام آباد سے پشاور جانے والے راستے پر بڑی تعداد میں لوگ روانگی کے لیے تیار ہیں

    تحریک انصاف کے کارکنوں کی اسلام آباد کے ریڈ زون میں پولیس سے جھڑپیں ہوئیں، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ڈی چوک میں کچھ کنٹینرز رسیوں کی مدد سے ہٹائے تو کچھ کنٹینرز کو پلٹ دیا، گیس ماسک پہنے، ڈنڈوں اور غلیلوں سے مسلح کارکنوں نے پولیس پر پتھر برسائے، غلیلوں سے نشانہ بنایا،رینجرز نے پہنچ کر ڈی چوک کو کلئیر کیا اور کارکنوں کو پیچھے دھکیل دیا، اب پولیس اور رینجرز نے پی ٹی آئی مظاہرین سےجناح ایونیوخالی کرا لیا

    واضح رہے کہ احتجاج کے دوران رینجرز اور پولیس کے 4 جوان شہید اور 100 سے زائد اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران کارکنان پیش قدمی نہ کرنے پر برہم ہوگئے اور ایک کارکن نے مبینہ طور پر علی امین گنڈاپور کو بوتل مار دی، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیادت میں کارکنان اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں گاڑی میں موجود رہنماؤں پر متعدد کارکنان نے برہمی کا اظہار کیا۔

    سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیوز کے مطابق کارکنان کی جانب سے علی امین گنڈاپور پر حملے کی بھی کوشش کی گئی،اطلاعات کے مطابق علی امین گنڈاپور گاڑی سے باہر نکل کر کارکنان سے خطاب کرنا چاہتے تھے، لیکن کارکنان انہیں ڈی چوک جانے کا کہتے رہے،ڈی چوک جانے سے مبینہ انکار پر کارکنان نے علی امین گنڈاپور کی گاڑی کا گھیراؤ کیا اور گاڑی پر بھی چڑھ گئے، ایک کارکن نے برہم ہو کر کہا کہ خود گاڑی میں بیٹھے ہو، جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیکیورٹی طلب کر لی اور دوبارہ گاڑی میں سوار ہو گئے۔

  • پولیس اہلکار کی موت کا مقدمہ عمران خان و دیگر پر درج

    پولیس اہلکار کی موت کا مقدمہ عمران خان و دیگر پر درج

    راولپنڈی میں ہکلہ انٹرچینج کے قریب پولیس کانسٹیبل کے جاں بحق ہونے اور دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ ٹیکسلا میں درج کیا گیا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان، عمر امین گنڈاپور، سالار خان کاکڑ اور شاید خٹک کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت 14 مختلف دفعات شامل ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق، حملہ آور ملزمان ٹیر گیس گن، ربڑ بلٹ گنز اور دیگر اسلحے سے لیس تھے۔ ملزمان نے پولیس افسران اور اہلکاروں پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا۔ ملزمان نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کو منتشر کیا اور شیلنگ کی۔ حملے میں کانسٹیبل مبشر حسن زخمی ہو گیا، جسے ملزمان نے اغوا کر کے لے گئے۔ بعد ازاں اطلاع ملی کہ ملزمان نے کانسٹیبل مبشر حسن کو ہکلہ پل کے نیچے پھینک کر فرار ہو گئے۔ کانسٹیبل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔

    مذکورہ حملے میں کانسٹیبل عدنان، رئیس اور نعیم بھی زخمی ہوئے۔ پولیس حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    9 مئی کے ماسٹر مائنڈز آج بھی ریاست پر حملہ آور ہیں،گورنر خیبر پختونخوا
    دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، شہید اہلکاروں کے اہل خانہ اور ساتھیوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،9 مئی کے ماسٹر مائنڈز آج بھی ریاست پر حملہ آور ہیں، رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھانا ریاست دشمن ٹولے کے مشن کا حصہ ہے۔ خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کو بسانے والی جماعت اسلام آباد میں دہشت گردی کر رہی ہے، ملک دشمن جماعت کی سہولت کاری کرنے والے تمام جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔

    واضح رہے کہ پرتشدد احتجاج، ہکلہ انٹرچینج پر پولیس کانسٹیبل شہید، 70 اہلکار زخمی ہو گئے، احتجاج کی آڑ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنان نے ہکلہ انٹرچینج پر ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پنجاب پولیس کے کانسٹیبل مبشر شہید ہو گئے۔ 46 سالہ کانسٹیبل مبشر، جو مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے تھے، سر پر شدید چوٹ کے باعث تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے تھے جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ شہید کانسٹیبل مبشر کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔

    اسلام آباد،رینجرز اہلکاروں کو کچلنے والا شخص گرفتار

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب