Baaghi TV

Tag: پی ایس ایل

  • مستقبل کے ستاروں کے پاس خود کومنوانےکا بہترین موقع

    مستقبل کے ستاروں کے پاس خود کومنوانےکا بہترین موقع

    کراچی، 19 فروری 2021ء:
    ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ ہر سال ابھرتے ہوئے نوجوان ستاروں کواپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔یہ لیگ ان باصلاحیت کھلاڑیوں کو دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
    ایچ بی ایل پی ایس ایل اپنے گزشتہ پانچ ایڈیشنز میں شریک نوجوان کھلاڑیوں کے لیےایک شاندار پلیٹ فارم ثابت ہوچکا ہے۔ حسن علی اس پلیٹ فارم کی سب سے نمایاں مثال ہیں، جنہوں نے ایچ بی ایل پی ایس ایل کی فرنچائز پشاور زلمی سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خود کو ایک نامورکھلاڑی کی حیثیت سےمنوالیا۔ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھنے کے ایک سال بعد ہی پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
    پاکستان سپر لیگ اپنے سٹیج سے شاداب خان، حیدر علی، عمر خان، ارشد اقبال اور روحیل نذیر جیسے کھلاڑیوں کو بھی متعارف کروا چکا ہے۔ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں شریک تمام چھ ٹیمیں اس مرتبہ بھی اپنے پلیٹ فارمز سے دو نئے ایمرجنگ کھلاڑیوں کو متعارف کروارہی ہیں۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ:
    محمد وسیم جونئیر ایک باصلاحیت میڈیم فاسٹ باؤلر ہیں۔محمد وسیم جونیئر گزشتہ سال جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے آئی سی سی انڈر19 کرکٹ ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستان انڈر 19 کے اسکواڈ میں شامل تھے،انہوں نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف گروپ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کو فتح سے ہمکنار بھی کیا تھا۔محمد وسیم جونیئر کا کہنا ہے وہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں پرفارمنس کی بنیاد پر ایچ بی ایل پی ایس ایل کا حصہ بننے پر خوش ہیں اور وہ اپنی کارکردگی سے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔
    اُدھر احمد صفی عبداللہ بھی ایک نوجوان اسپنر ہیں،ایچ بی ایل پی ایس ایل کے گذشتہ ایڈیشن میں انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے تین میچوں میں 8.12کےاکانومی ریٹ سے چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔احمد صفی عبداللہ ڈومیسٹک سیزن 21-2020میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔ انہوں نے سنٹرل پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف دس10 میچوں میں 245 رنز بنائے بلکہ اپنی اسپن باؤلنگ سےبھی 34 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    کراچی کنگز: محض 18 سالہ قاسم اکرم نے حال ہی میں ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قاسم اکرم نے کمنٹریٹر اور تجزیہ کار بازید خان کو بھی اپنی صلاحیت سے متاثرکیا، وہ مڈل آرڈر پر بیٹنگ کرنے والے ایک باصلاحیت کرکٹر ہیں اوراننگز کے اختتامی اوورز میں اچھاعمدہ کھیل پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
    قاسم اکرم بھی آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ2019 میں پاکستان کے اسکواڈ کا حصہ تھے۔ اگرچہ انہوں نے چار اننگز میں صرف 93 رنز ہی بنائے تھے مگر اس دوران ان کے رنز بنانے کی اوسط 46.50 رہی تھی۔ انہوں نے ایونٹ میں 3 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔
    قاسم اکرم نےحالیہ فرسٹ کلاس سیزن میں تین نصف سنچریوں کی مدد سے 389 رنز بنائے اور آل راؤنڈر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 وکٹیں بھی حاصل کیں، انہوں نے سنٹرل پنجاب کو مشترکہ ونر کا اعزاردلوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
    اس موقع پر قاسم اکرم نے اہنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہوئے کراچی کنگز کی نمائندگی کرنا وہ اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ ان کے لیے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا ایک بڑا موقع ہے۔
    اُدھر محمد عباس آفریدی کا انتخا ب وسیم اکرم نے کیا ۔ وسیم اکرم کا کہناہے کہ انہوں نے محمد عباس آفریدی کی ویڈیو دیکھی، نوجوان فاسٹ باؤلر کے ایکشن نےانہیں متاثر کیا۔عباس آفریدی کا تعلق فاٹا سے ہے۔
    عباس آفریدی کو آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا۔ پانچ میچوں میں نو وکٹیں حاصل کرنے والے عباس آفریدی اس ایونٹ میں پاکستان کی طرف سے سب زیادہ وکٹیں حاصلر کرنے والے باؤلر تھے۔

    لاہور قلندرز:
    لاہورقلندرز نہ صرف نئے کھلاڑیوں کی تلاش سے جانی جاتی ہے بلکہ ان کا ڈویلپمنٹ پروگرام ان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا بہتری موقع بھی فراہم کرتا ہے۔خیبرپختونخوا کے علاقے جمرود سے تعلق رکھنے والےاسپنر معاذ خان کا شمار بھی چندایسے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے کہ جو ڈویلمپنٹ پروگرامز سے لاہور قلندرز کاحصہ بنے ہیں۔ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کا کہنا ہے معاذ خان گگلی اور فلپر کے ماہر ہیں جو نئی گیند کروانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔معاذ خان حال ہی میں ٹی ٹین لیگ میں بھی قلندرز کی نمائندگی کرچکے ہیں۔زیدعالم کی کہانی بھی خاصی منفرد ہے، زید عالم کے والد چائے کا کاروبار کرتے ہیں ۔ نوجوان کرکٹر بھی اپنے اسٹال پر اپنے والد کے ساتھ کام کرتے تھے اور فارغ اوقات میں گلیوں میں کرکٹ کھیلتے تھے۔
    زیدعالم لاہور کی گلیوں میں ٹیپ بال کرکٹ کھیلتے رہے ہیں ۔ وہ نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2018 میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔ زیدعالم ایونٹ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ تو نہ کرسکے مگر اب وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار چکے ہیں۔ وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

    ملتان سلطانز:
    دائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر محمد عمر ایچ بی ایل پی ایس ایل کو اپنے لیے بہترین موقع قراردیتے ہیں۔ محمدعمر ڈومیسٹک سیز ن میں سندھ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
    ملتان سلطانز نے محمد عمر کو ایمرجنگ کیٹگری میں جگہ دی ہے۔ وہ خود بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے منتظر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایچ ابی ایل پی ایس ایل ایک شاندار ایونٹ ہے، انھوں نے مزید کہا کہ وہ ملتان سلطانز کا حصہ بننے پر خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔
    شاہنواز دھنی بھی اس بڑے پلیٹ فارم پر خود کو منوانا چاہتے ہیں۔فاسٹ باؤلر شاہنواز دھنی کا تعلق سندھ کے علاقے لاڑکانہ سے ہے۔
    دھنی کا مزید کہنا ہے کہ وہ اظہر محمود کے زیر نگرانی فرنچائز کرکٹ کھیلنے کا موقع ملنے پر بہت مسرور ہیں۔
    نوجوان فاسٹ باؤلر نے قائد اعظم ٹرافی کے دوران 140-135 کی رفتار کے ساتھ باؤلنگ کی ۔ اس دوران انہوں نے سات میچوں میں 26 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

    پشاور زلمی:
    اسپنر ابرار احمد کے لیے ایچ بی ایل پی اسی ایل کا پلیٹ فارم نیا نہیں ،وہ 2017 میں کراچی کنگز کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف پہلے ہی انہیں جادوگر اسپنر کا لقب دے چکے ہیں۔
    ابرار احمد بہترین اسپن باؤلنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی بلے باز پراپنی دھاک بٹھا نے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اُدھر محمد عمران راندھاوا ایک فاسٹ باؤلرہیں جو اپنی اسپیڈ اور ایکشن سے بیٹنگ لائن کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز:
    گزشتہ چند سالوں سے آرش علی خان جونئیر ٹیموں میں بھرپور انفرادی کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ وہ محدود طرز کی کرکٹ میں نپی تلی باؤلنگ سے نہ صرف بیٹسمینوں کو پریشان کرنے بلکہ رنز روکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔آرش خان گزشتہ سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے آئی سی سی انڈر19 کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کے اسکواڈ کا حصہ تھے لیکن بدقسمتی سے وہ کوئی میچ نہیں کھیل سکے۔ آرش علی خان نے 2016 میں پی سی بی کے ایک ٹورنامنٹ میں 45 وکٹیں حاصل کی تھیں۔سال 2019 میں انہوں نے پی سی بی کے تین روزہ انڈر 19 ٹورنامنٹ میں 30 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔صائم ایوب بھی ایک عمدہ بیٹسمین ہیں،صائم نے پاکستان انڈر 16 کی نمائندگی کرتے ہوئے انڈر 16 ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ وہ گزشہ سال زخمی ہونے کی وجہ سے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم رہیں گے۔صائم کا کہنا ہے وہ ذہنی اور جسمانی طورپر اس چیلنج کے لیے مکمل تیار ہیں، وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

  • ایچ بی ایل پی ایس ایل2021 میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا محور کونسے چھ کھلاڑی ہیں؟

    ایچ بی ایل پی ایس ایل2021 میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا محور کونسے چھ کھلاڑی ہیں؟

    یوں تو ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں کئی معروف اور ممتاز کھلاڑی شرکت کررہے ہیں مگر یہاں ہر ٹیم میں سے ایک ایسے منفرد کھلاڑی کا انتخاب کیا گیا ہے کہ جو اپنی ٹیم کو ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔یہ چھ کھلاڑی لیگ کے دوران شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔

    بابراعظم، کراچی کنگز:
    انگلینڈ کے سابق کپتان اور ممتاز کمنٹیٹر ناصر حسین نے گزشتہ سال ایک موقع پر کہا تھا کہ وہ بابراعظم کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ دوسرے بلے بازوں سے بالکل مختلف پچ پر بیٹنگ کررہے ہوں۔
    ہاتھ کا انگوٹھا ٹوٹا ہونے کی وجہ سے کرکٹ فینز انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں ایکشن میں نہیں دیکھ سکے تھے مگر اب وہ انجری سے صحتیاب ہوچکےاور انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں اس کا جلوہ بھی دکھایا ہے۔ بابراعظم اب ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ میں فینز کو اپنے کھیل سے محظوظ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    تینوں فارمیٹ میں پاکستان کے کپتان بابراعظم کی وجہ شہرت ان کے بلے سے نکلے اسٹروکس کی ٹائمنگ اور دلکش ڈرائیوز ہیں۔
    جس طرح پاکستان کو بابراعظم سے لمبی اننگز کی خواہش رہتی ہے ایسے ہی کراچی کنگز کو بھی فرنچائز کرکٹ میں بابراعظم سے عمدہ بیٹنگ کی امید ہوگی۔ بابراعظم نے لیگ کے ابتدائی ایڈیشن کے علاوہ تمام ٹورنامنٹس میں کراچی کنگز کی نمائندگی کی۔

    بابراعظم نے گزشتہ سال ایونٹ کے 12 میچوں میں 59.12 کی اوسط اور 124 کے اسٹرائیک ریٹ سے 473 رنز بنائے۔وہ کامران اکمل کے بعد ایچ بی ایل پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے کامیاب بلے باز ہیں۔ وہ 47 میچوں میں 1516 رنز بناچکے ہیں۔

    حیدر علی(پشاور زلمی):
    پاکستان انڈر19 کرکٹ ٹیم میں عمدہ کارکردگی کی بدولت کرکٹ کی دنیا کے افق پر ابھرنے والے نوجوان کرکٹر حیدر علی نے گزشتہ سال لیگ کے کُل 10 میچوں میں 239 رنز بنائے تھے۔ ایڈیشن 2020 میں انہوں نے 26.55 کی اوسط اور 157.23 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے تھے، جس کے بعد ہی انہیں دورہ انگلینڈ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔
    انہوں نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹی ٹونٹی میچ میں ڈیبیو کیاتھا۔ اس میچ میں نوجوان بیٹسمین نے 33 گیندوں پر 54 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیل کر انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔
    حیدر علی برق رفتار اننگز کھیلنے کی صلاحیتوں کے مالک ہے۔ حیدر علی کا رنز اگلنے والا بلا اپنے زور دار اسٹروکس کی وجہ سے اس ایڈیشن میں بھی فینز کی توجہ کا مرکز رہے گا۔
    حال ہی میں حیدر علی نے جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اننگز کا آغاز کیا تھا۔ لہٰذا پشاور زلمی چاہے تو حیدر علی کو اوپنر کی حیثیت سے بھی فائنل الیون کا حصہ بناسکتی ہے۔

    حسن علی (اسلام آباد یونائیٹڈ):
    حسن علی صحیح معنوں میں ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کی پراڈکٹ ہیں۔ انہیں پشاور زلمی نے سال 2016 میں بطور ایمرجنگ پلیئر پہلی مرتبہ لیگ کا حصہ بنایا تھا۔یہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کا بھی پہلا ہی سال تھا۔

    حسن علی نے لیگ کے دوسرے سال میں 11 میچز کھیل کر 12 وکٹیں حاصل کی تھیں۔پھر ایک سال کےاندر ہی حسن علی ایک ستارے کی مانند ابھرے ۔ انہوں نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایونٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔

    بعدازاں حسن علی کی پرفارمنس میں مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ کمر کی انجری کے باعث حسن علی کچھ عرصہ کرکٹ سے دور بھی ہوگئے۔

    حسن علی کے ساتھی کھلاڑی انہیں فائٹر کہتے ہیں اور ایک فائٹر ہی انجریز کے بعد شاندار کم بیک کرسکتا ہے۔ حسن علی نے یہ کر کے بھی دکھایا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 میں کھیلی گئی قائداعظم ٹرافی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس بنیاد پر انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کے ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔
    حسن علی نے جنوبی افریقہ کےخلاف ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کے بعد حسن علی ہی اس سیریز میں پاکستان کے سب سے نمایاں کرکٹر تھے۔
    یہ پہلا سال ہوگا کہ جب آلراؤنڈر حسن علی اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ ہوں گے۔ اسلام آباد یونائیٹڈنے ان سے بہت سی توقعات وابستہ کررکھی ہیں۔اسلام آباد یونائیٹڈ وہ واحد ٹیم ہے، جو دومرتبہ ایونٹ کی چیمپئن رہ چکی ہے۔اب حسن اور یونائیٹڈ کا یہ مشترکہ سفر شائقین کرکٹ کی توجہ حاصل کررہا ہے۔

    محمد رضوان (ملتان سلطانز):
    محمد رضوان اس وقت اپنے کرکٹ کیرئیر کی بہترین فارم میں ہیں۔ اس وقت تو ان کا بلا سونے کی مانند ہے۔ فارمیٹ کوئی بھی ہو ان کا بلا صرف رنز اگل رہا ہے۔
    اس ایڈیشن سے قبل محمد رضوان کو محدود طرز کی کرکٹ کا کھلاڑی نہیں سمجھا جاتا تھا مگر انہوں نےپہلے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 21-2020 سیزن پھر نیوزی لینڈ اوررواں ماہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں یہ تاثر بدل کر رکھ دیا ہے۔
    محمد رضوان نہ صرف اپنی وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ کی بدولت نیوزی لینڈ میں پاکستان کے اسٹینڈ آؤٹ پلیئر بنے بلکہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی وہ ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی پلیئر آف دی سیریز قرار پائے۔
    سال بھر بہترین بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ کی بدولت پی سی بی ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ حاصل کرنے والے محمد رضوان نے دورہ انگلینڈ میں بھی اپنی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ کی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ۔
    ملتان سلطانز نے اسی سیزن کے لیے محمد رضوان کو اپنے اسکواڈ میں شامل کیاہے۔وہ اس سے قبل کراچی کنگز کا حصہ تھے مگر انہیں وہاں زیادہ میچز کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔
    اس مرتبہ نہ صرف ملتان سلطانز نے انہیں اپنے اسکواڈ میں شامل کیا ہے بلکہ ٹیم کی قیادت بھی ان کے سپرد کردی ہے۔ محمد رضوان کو کپتانی سونپے جانا ملتان سلطانز کی وکٹ کیپر بیٹسمین سے جڑی امیدوں کی عکاسی کرتا ہے۔
    شائقین کرکٹ اس سیزن میں محمد رضوان کی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ اسکلز دیکھنے کے منتظر ہیں۔

    شاہین شاہ آفریدی (لاہور قلندرز):
    یارکر ہو، باؤنسر یا پھر گڈ لینتھ کو ٹارگٹ کرنا، شاہین شاہ آفریدی کی انگلیاں اور دماغی مضبوطی انہیں دیگر فاسٹ باؤلرز سے ممتاز کرتی ہے۔ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر نہ صرف پاکستان کرکٹ ٹیم کی پیس بیٹری میں سب سے منفرد نظر آتے ہیں بلکہ وہ کئی مرتبہ لاہور قلندرز کے لیے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔

    فرنچائز کرکٹ میں عمدہ باؤلنگ کی بدولت لاہور قلندرز نے ایڈیشن 2021 کے لیے شاہین شاہ آفریدی کو اپنا نائب کپتان مقرر کیا ہے۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل کی تاریخ میں ان کی سب سے شاندارکارکردگی ملتان سلطانز کے خلاف 4 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کرنا ہے۔

    انہوں نے گزشتہ سال ایچ بی ایل پی ایس ایل میں 17 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ بھی دکھائی تھی۔ بین ڈنک کی شاندار بیٹنگ کے ساتھ ساتھ شاہین شاہ آفریدی کی نپی تلی باؤلنگ نےبھی لاہور قلندرز کو ایونٹ کے فائنل میں پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
    شاہین شاہ آفریدی انٹرنیشنل سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منواچکے ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2019 میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 16 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

    اعظم خان (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز):
    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین اعظم خان ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021 میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نوجوان کرکٹرایک بیٹسمین کی حیثیت سے ٹی ٹونٹی کرکٹ کے عین مطابق دھواں دھار چھکے لگانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ وہ بطور وکٹ کیپر وکٹوں کے پیچھے بھی عمدگی سے کیچز تھامنے اور اسٹمپ آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    اپنی پاؤر ہٹنگ صلاحیت کے باعث اعظم خان کا نام سلیکٹرز کے ریڈار پر ہے تاہم قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے انہیں فٹنس میں خاطر خواہ بہتری کے ساتھ ساتھ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں بھی بہترین بیٹنگ فارم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

    دو سال قبل جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر نے اعلان کیا تھا کہ اعظم خان پاکستان کے کرس گیل بن سکتے ہیں تو بہت کم لوگوں نے اس بیان کو سنجیدگی سے لیا تھا مگر جو اعظم خان کی بیٹنگ صلاحیتیں دیکھ چکے ہیں وہ اس پر یقین بھی کرتے ہیں۔

    اعظم خان کے گھر میں ہی ورلڈکپ ونر موجود ہیں۔ انہیں اپنے والدمعین خان کی طرح سخت محنت کرنا ہوگی۔ معین خان کا شمار پاکستان کے فٹ ترین کھلاڑیوں میں کیا جاتا تھا۔

    اعظم خان نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 2019 میں صرف ایک میچ کھیلا اور12 رنز بنائے تاہم ایڈیشن 2020 نے ان کی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے لیگ کے گزشتہ ایڈیشن میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ایک میچ میں 33 گیندوں پر 59 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی تھی۔ انہوں نے گزشتہ سال لیگ کے پانچویں ایڈیشن میں 150 رنز بنائے تھے۔

  • ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کا آغاز کب ہو گا!!!

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کا آغاز کب ہو گا!!!

    پی سی بی کا ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کی اسٹریمنگ کے لیے ٹیپمیڈ سے معاہدہ ہوا۔
    پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا، مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ میں ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 6 کی اسٹریمنگ کے لیے ٹیپمیڈ سے معاہدہ کرلیا ہے۔ یہ اسٹریمنگ www.tapmad.com/psl6 پر دستیاب ہوگی۔
    شراکت داری کے اس معاہدے سےنہ صرف آسٹریلیا، مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ میں موجود کرکٹ فینز کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کی کوریج میسر آئے گی بلکہ اس سے پاکستان کرکٹ کی مزید پذیرائی بھی ہوگی۔
    اس نئے معاہدے کے ساتھ ہی اب ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 دنیا بھر میں اسٹریم ہوگی۔شمالی امریکہ میں وِلو ٹی وی، کیریبئن میں فلو اسپورٹس، یو کے میں اسکائے اسپورٹس یوکے، سب سہارا افریقہ میں سپر اسپورٹس، جنوبی ایشیا میں سونی پکچرز نیٹ ورک، نیوزی لینڈ میں اسکائے نیوزی لینڈ، مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ، آسٹریلیا اور باقی دنیا میں ٹیمپیڈ ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کو اسٹریم کرے گا۔
    ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کا آغاز 20 فروری سے ہوگا، جہاں دفاعی چیمپئن کراچی کنگز اور ایڈیشن 2019 کی فاتح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیمیں نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مدمقابل آئیں گی۔ایونٹ کا فائنل 22 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

  • کرکٹر عمر اکمل پرلگائی جانے والی پابندی کا معاملہ.

    کرکٹر عمر اکمل پرلگائی جانے والی پابندی کا معاملہ.

    کرکٹر عمر اکمل نے ڈاکٹر بابر اعوان لا فرم کی خدمات حاصل کرلیں. عمر اکمل کے خلاف لگائی جانی والی پابندی پر ڈاکٹر بابر اعوان لا فرم نے تیاری شروع کر دی. ڈاکٹر بابر اعوان لا فرم عمر اکمل کے خلاف عائد پابندی کو چیلینج کرے گی. پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی. عمر اکمل نے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پی ایس ایل میں بوکیوں سے رابطے سے بروقت آگاہ نہیں کیا
    عمر اکمل پر پی سی بی کی سیکورٹی اینڈ ویجلنس ڈیپارٹمنٹ نے سزا سنائی تھا

  • پاکستان سپر لیگ میں ساڑھے 13ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ، تحقیقات کی سفارش

    پاکستان سپر لیگ میں ساڑھے 13ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ، تحقیقات کی سفارش

    اسلام آباد:پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل )میں ساڑھے 13ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) کو معاملات کی تحقیقات کی سفارش کردی ہے۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق فرنچائزز کی نیلامی غیر منصفانہ طریقے سے کی گئی ،فرنچائزز کو طے شدہ حصے سے زائد ادائیگیاں کی گئیں اور دوسری طرف فرنچائزز سے مکمل وصولیاں بھی نہ کی جا سکیں۔آڈیٹر جنرل نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے دو آڈیشنز کا آڈٹ مکمل کرلیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پی ایس ایل ون میں 97 کروڑ 42 لاکھ آمدن اور 90 کروڑ 80 لاکھ روپےکے اخراجات ہوئے۔پی ایس ایل ٹو میں 1 ارب 46 کروڑروپے آمدن اور1 ارب 6 کروڑ روپے کےاخراجات ہوئے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق لاہور میں کھیلے گئے فائنل میں ایک کروڑ 88 لاکھ زائد اخراجات آئے۔

    آڈٹ رپوٹ میں کہا گیا ہےکہہ پی ایس یل میں یوں مجموعی طور پر پہلے دو آڈیشنز میں 47 کروڑ کمائی ہوئی ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ فرنچائزز کو شیئر سے24 کروڑ 86لاکھ روپے زائد ادائیگیاں کی گئیں۔فرنچائزز کو 5 کروڑ 44 لاکھ زر تلافی دئیے گئے۔