Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • میری ترجیح میرے بچے، پی ٹی آئی چھوڑ رہی ہوں، شیریں مزاری

    میری ترجیح میرے بچے، پی ٹی آئی چھوڑ رہی ہوں، شیریں مزاری

    پی ٹی آئی کی مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی خبررساں ادارے کے مطابق شیریں مزاری نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا، شیریں مزاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں 9 ، 10 مئی کے پُر تشدد واقعات کی مذمت کرتی ہوں ،بچے اور والدین میری ترجیح ہیں، 12 دن رہائی ، گرفتاری ہوئی، میری بیٹی ایمان کو آزمائش سے گزرنا پڑا، اڈیالہ میں بیٹی کی ویڈیو بھی دیکھی اس لئے سیاست چھوڑ رہی ہوں ، آج سے میں پی ٹی آئی یا کسی جماعت کا حصہ نہیں، میری ترجیح میرے بچے ہیں۔

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    اس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جلیل شرقپوری نے بھی پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے ساتھ ہوں، پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی وجہ سے اس کاحصہ نہیں رہ سکتا تحریکِ انصاف کی اپنی نالائقی تھی کہ دوستوں کو مطمئن نہیں رکھ سکے-

    دریں اثنا تحریک انصاف کے رہنما ؤں افتخار حسن گیلانی اور عبدالرزاق نیازی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ،پی پی 250 سے رکن پنجاب اسمبلی افتخار حسن گیلانی کا کہنا تھا کہ پاک افواج ہماری محافظ ہے، ہرزہ سرائی ہرگز قابل قبول نہیں 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں پی ٹی آئی کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتا، جو شہدا کے مجسموں اور فوجی تنصیبات کے ساتھ کیا گیا وہ قابل قبول نہیں۔

    جلیل شرقپوری نے بھی پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    پی پی 209 خانیوال سے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر عبدالرزاق نیازی نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ٹکٹ واپس کرتا ہوں، نو مئی کو دشمن کو خوش کرنے کا موقع دیاگیا۔

  • جلیل شرقپوری نے بھی پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    جلیل شرقپوری نے بھی پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جلیل شرقپوری نے بھی پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا۔

    باغی ٹی وی: سابق ایم پی اے جلیل شرقپوری جلد پریس کانفرنس میں پاکستان تحریکِ انصاف سے علیحدگی کا اعلان کریں گےاس حوالے سے ایک بیان میں جلیل شرقپوری کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ہوں، پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی وجہ سے اس کاحصہ نہیں رہ سکتا۔

    تحریک انصاف کے مزید 2 رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ جلیل شرقپوری مسلم لیگ ن چھوڑ کر پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل ہوئے تھے۔

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما ؤں افتخار حسن گیلانی اور عبدالرزاق نیازی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ،پی پی 250 سے رکن پنجاب اسمبلی افتخار حسن گیلانی کا کہنا تھا کہ پاک افواج ہماری محافظ ہے، ہرزہ سرائی ہرگز قابل قبول نہیں 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں پی ٹی آئی کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتا، جو شہدا کے مجسموں اور فوجی تنصیبات کے ساتھ کیا گیا وہ قابل قبول نہیں۔

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    پی پی 209 خانیوال سے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر عبدالرزاق نیازی نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ٹکٹ واپس کرتا ہوں، نو مئی کو دشمن کو خوش کرنے کا موقع دیاگیا۔

  • تحریک انصاف کے مزید 2 رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف کے مزید 2 رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف کے رہنما ؤں افتخار حسن گیلانی اور عبدالرزاق نیازی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : پی پی 250 سے رکن پنجاب اسمبلی افتخار حسن گیلانی کا کہنا تھا کہ پاک افواج ہماری محافظ ہے، ہرزہ سرائی ہرگز قابل قبول نہیں 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں پی ٹی آئی کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتا، جو شہدا کے مجسموں اور فوجی تنصیبات کے ساتھ کیا گیا وہ قابل قبول نہیں۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    پی پی 209 خانیوال سے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر عبدالرزاق نیازی نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ٹکٹ واپس کرتا ہوں، نو مئی کو دشمن کو خوش کرنے کا موقع دیاگیا۔

    عبدالرزاق خان نیازی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ واپس کر رہا ہوں اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑوں گا اس وقت پی ٹی آئی کا ٹکٹ ہولڈر ہوں، فوج اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، فوج کی وجہ سے دہشت گردی ختم ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ فوج ہی ہے جس کا عوام نے ساتھ دیا ہے، جو کور کمانڈر ہاؤس اور جی ایچ کیو میں ہوا، یہ عوام سے کروایا گیا، قیادت کی سپورٹ کے بنا ایسا کبھی نہیں ہوتا۔

    یاد رہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد روزانہ کی بنیادوں پر پی ٹی آئی رہنما پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں، آج بھی جمشید چیمہ اور مسرت چیمہ نے اپنے وکیل کے ذریعے پارٹی چھوڑنے کا پیغام بھجوا دیا ہے، گزشتہ روز چودھری وجاہت بھی ق لیگ میں واپس چلے گئے بلکہ انہوں نے چودھری پرویزالٰہی کو بھی واپس آنے کا مشورہ دے دیا۔

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    دوسری جانب عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جمشید چیمہ اور مسرت پارٹی چھوڑکر نہیں جا رہے انہیں زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے، مجھے اپنی پارٹی کی خواتین کی گرفتاری کا سب سے زیادہ دکھ ہے۔

  • ظل شاہ قتل کیس : پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج

    ظل شاہ قتل کیس : پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج

    لاہور کی سیشن کورٹ نے ظل شاہ قتل کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج کردی۔

    باغی ٹی وی : سیشن کورٹ لاہور میں ظل شاہ قتل کیس کی سماعت ہوئی،لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج بلال بیگ نے ظل شاہ قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا محمود الرشید، یاسمین راشد، فرخ حبیب آج عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے-

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    ایڈیشنل سیشن جج بلال بیگ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید اور فرخ حبیب کی عبوری ضمانت خارج کردی، تینوں پی ٹی آئی رہنماوں کی عبوری ضمانت عدم پیروی پر خارج کی گئی۔

    سیشن کورٹ نے فواد چوہدری اور راجہ شکیل زمان کی تفتیش مکمل نہ ہونے پر عبوری ضمانت میں 3 جون تک توسیع کردیاس سے قبل عدالت میں فواد چوہدری کی جانب سے ان کے وکلاء نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی پراسیکیوٹر زبیر موہل نے کہا کہ عدالت تاریخ دے، اگلی تاریخ پر فائنل دلائل دوں گا –

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    دوسرا مقدمہ تھانہ سرور روڈ میں درج کیا گیا، پہلے کیس کے تفتیشی افسر مدعی بنے، پولیس نے ظل شاہ کو اسپتال منتقل کرنے والے ملزمان کے بیان پر مقدمہ درج کیا۔

  • تحریک انصاف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر  پر حملے کی پلاننگ کی تھی،فیصل واوڈا

    تحریک انصاف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی پلاننگ کی تھی،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے سابق وزیر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی پلاننگ کی گئی تھی-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کے 11 لوگ 8 مئی سے 9 مئی تک میرے گھر تھے، ان لوگوں کو یہ ہدایت کی جارہی تھی کہ وہ اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر بھی جائیں، اگر وہ 11 لوگ کچھ سرگرمی کرتے تو میں انہیں پکڑوا دیتا۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    فیصل واوڈا نے کہا میں نے ان سے کہا اگر آپ نے ایسا کیا، اور آپ میرے گھر ہوئے تو میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا، جس پر ان 11 افراد نے جواب میں کہا کہ ہم نہ اس چیز کا حصہ بننا چاہتے ہیں، نہ بنیں گے۔

    رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو انہوں نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر کو ایمانداری سےکام کرنے پر برطرف کردیا تھا پی ٹی آئی نے دھرنا عاصم منیر کو آرمی چیف بنائے جانے سے روکنے کے لئے دیا تھا۔

    فیصل واوڈا نے بتایا کہ انہوں نے عاصم منیر کو بتایا تھا کہ آپ جو کرنے جا رہے ہیں آپ کیلئے نقصان دہ ہوگا۔انہوں نے کہا واوڈا مجھے کہہ رہے ہو اپنے ملک سے بے ایمانی کروں ؟عاصم منیر نے عمران خان کو کرپشن کے شواہد پیش کر دیئے، اگلےدن عمران خان نےانہیں برطرف کردیا۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    واوڈا کے مطابق عمران خان نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیر کو سینیٹ کو مینج کرنے کا آرڈر دیا تھا لیکن عاصم منیر نے یہ کہہ کر منع کر دیا تھا کہ فوج مداخلت نہیں کرسکتی، عاصم منیر نے عمران خان کو کہا یہ جمہوری معاملہ ہے، جمہوری طریقے سے نمٹیں۔

    فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گھڑی اسکینڈل میں تین چار کروڑ روپے ملے، باقی کے بیس پچیس کروڑ اپنے پرائے سب نے مل کر لوٹے،شہزاد اکبر اکیلے نہیں تھے انہیں خاص آدمی کی سپورٹ تھی، عثمان بزدار کے آڈیو، ویڈیو شواہد خان صاحب کو دکھائے گئے تھے، بزدار کے آڈیو، ویڈیو شواہد خان صاحب کو دینے کے گواہ کابینہ کے اورلوگ بھی تھے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے بیان میں فیصل واوڈا نے کہا کہ آپ کے مطابق آپ کی گرفتاری کے 80 فیصد امکانات ہیں اور میرے مطابق 80 فیصد امکانات نہیں ہیں آپ کو ہمیشہ کی طرح غلط اطلاع دے کر مس گائیڈ کیا جا رہا ہے سر اب بھی آپ نہیں سمجھیں گے تو پھر کب؟-

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    واضح رہے کہ عمران خان نے نیب پیشی کے ھآج اپنی ممکنہ گرفتاری کا خدشہ بھی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھاکہ اسلام آباد جارہا ہوں، قانون تو ہے نہیں یہ کسی بھی چیز پر گرفتار کر سکتے ہیں۔

  • تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دو صوبوں کے عوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کا جواب ابھی ملا ہے، پی ٹی آئی نے تحریری جواب جمع نہیں کرایا، کوئی بھی جواب پہلے سے مجھے فراہم نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاید تحریک انصاف نے جواب جمع نہیں کرایا وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کوئی بھی جواب پہلے سے فراہم نہیں کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں کہ جوابات میں کیا کہا گیا ہےپہلے یہ بتانا ہے کہ کیسے نظرثانی درخواست میں نئے گراؤنڈز لے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جواب کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، نظرثانی اختیار کا آرٹیکل 188 اختیارات کو محدود نہیں کرتاچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جاسکتا، نظرثانی کا دائرہ اختیار دیوانی، فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کیلئے رجوع کرنا سول نوعیت کاکیس ہوتا ہے۔

    کراچی میں پولیس اہلکار کو شہید کرنیوالا ملزم سوئیڈن سے گرفتار

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد، دوسرا بنیادی حقوق کا ہے، اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا، اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف پیش کیا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں، جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے۔

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نظر ثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی، بلکہ 90 روز میں انتخابات کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی، انتخابات کے لئے 30 اپریل کی تاریخ صدر مملکت نے دی، جب کہ الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا، سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے، نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا، 90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے، آرٹیکل218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    تحریک انصاف نے مؤقف پیش کیا کہ آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے، آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت ہے، ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی، عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرچکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ انتحابات سے کروڑوں عوام کے حقوق جڑے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کےعوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں، عوامی مفاد تو 90 روز میں انتخابات ہونے میں ہے-

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا ایک حصہ عوامی مفاد اور دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اگر انتخابات کا مقدمہ ہائی کورٹ سے ہوکر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیارنہیں، طریقہ کار محدود ہے-

    چسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نظرثانی کیس میں اپنے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیوں کرے، نظرثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہےکہ دائرہ محدود نہیں،کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں،سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیارمیں ابہام پیدا کرے-

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار کو یکجا کر کے استعمال کر سکتی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے، عدالت کو نظرثانی میں ضابطہ کی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہیے، آئینی مقدمات میں نیا نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ 184(3) میں نظرثانی کواپیل کی طرح سماعت کریں۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 184(3) میں نظرثانی دراصل اپیل ہی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دلائل میں بڑے اچھے نکات اٹھائے ہیں، لیکن ان نکات پرعدالتی حوالہ جات اطمینان بخش نہیں ہیں، وفاقی، نگراں حکومت کے جوابات کو بھی سراہتے ہیں، اس بار کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اس سے پہلے تو سب بینچ کے نمبرز میں لگے ہوئے تھے، جو باتیں اب کر رہے ہیں پہلے کیوں نہیں کیں، کیا ان باتوں کو پہلے نہ کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل مان لیں تونظرثانی میں ازسر نو سماعت کرنا ہوگی اور بہت پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی، آئین میں نہیں لکھاکہ نظرثانی اوراپیل کادائرہ کاریکساں ہوگا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل سوا 12 بجے تک ملتوی کردی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    واضح رہے کہگزشتہ روز پنجاب میں انتخابات کرانےکے فیصلےکے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھاوفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔

    نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

  • مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ مسرت اور جمشید چیمہ پارٹی چھوڑ کر نہیں جا رہے ان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کے دوران صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کی جماعت سے مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں؟-

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ یہ پارٹی چھوڑکر نہیں جا رہے انہیں زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے، مجھے اپنی پارٹی کی خواتین کی گرفتاری کا سب سے زیادہ دکھ ہے۔

    صحافی نے سوال کیا کہ صرف سیاستدان ہی 70 سال سے خاندان کے ہمراہ عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں عمران خان نے جواب دیا کہ ان شاء اللّٰہ وقت بدلے گا۔

    نیب نے عمران خان کو کیس میں شامل تفتیش کرلیا

    واضح رہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنماوں جمشید چیمہ اور مسرت چیمہ نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے،جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کے وکیل ملک محمد ریاض نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمشید چیمہ اور مسرت جمشید پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے جا رہے ہیں۔جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ رہائی کے بعد پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیں گے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

  • 109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کیس میں شامل تفتیش کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نیشنل کرائم ایجنسی کے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی تحقیقات میں شامل تفتیش ہونے کے لیے سابق وزیراعظم عمران خان نیب راولپنڈی آفس میں موجود ہیں-

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی گاڑی میں نیب راولپنڈی پہنچے جہاں پولیس کی جانب سے عمران خان کی سیکیورٹی کونیب دفتر داخلے سے روک دیا گیا۔ عمران خان کچھ دیر تک نیب دفتر کے باہر اپنی گاڑی میں ہی موجود رہے جس کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد انجم خود بھی نیب راولپنڈی آفس پہنچے-

    نیب ذرائع کے مطابق عمران خان نیب کی کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے عمران خان سے کیس سے متعلق 20 سوالات کے جواب طلب کیے جا رہے ہیں، عمران خان کی اہلیہ نیب راولپنڈی آفس کے باہر گاڑی میں موجود ہیں۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل کی۔

    عمران خان نے بتایا کہ 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق فیصلے کا ریکارڈ کابینہ ڈویژن کے پاس ہے، این سی اے برطانیہ کے ریکارڈ تک میری رسائی نہیں، القادر ٹرسٹ کا ریکارڈ نیب کو پہلے ہی مل چکا ہے۔

    نیب کی جانب سےعمران خان سےبرطانوی کرائم ایجنسی کےساتھ خط وکتابت کےریکارڈ سےمتعلق سوالات کیےجارہے ہیں نیب نے عمران خان سے 19 کروڑ پاونڈز کے فریزنگ آرڈرز کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا عمران خان کو منقولہ اورغیر منقولہ اثاثوں کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ بیوی، بچوں سمیت تمام زیر کفالت افراد کےاثاثوں کی تفصیل بھی طلب کرلی گئی۔

    نیب کا کہنا ہے کہ عمران خان کے 1992 کے بعد کے اثاثوں کا مکمل جائزہ لیا جائے گا، برطانیہ سے 190 ملین پاونڈز لا کر واپس ملزمان کو دیئے گئے، عمران خان نے ملزمان کو پیسے واپس دے کرمالی فائدے لیے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو ذاتی حیثیت میں پیش …

    نیب نے مزید کہا کہ ریاست پاکستان کے 190 ملین پاونڈز ملزمان کو واپس کیے گئے، عمران خان نے ملزمان سے 458 کنال زمین اور 28 کروڑ روپے لیے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ٹرسٹ نے عطیات کی مد میں بھاری رقوم لیں۔

    عمران خان کی نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیشی کے موقع وہاں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، پولیس، رینجرز، ایف سی اور ایلیٹ فورس کے دستوں کے علاوہ مرکزی دروازے پر رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ نیب دفتر کے باہر بکتر بند اور قیدی وین بھی پہنچادی گئیں۔

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا …

  • گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں،عمران خان کا عدالت میں بیان

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں،عمران خان کا عدالت میں بیان

    احتساب عدالت کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    باغی ٹی وی: عدالت نے 8 جون تک عمران خان کی 8 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی اے ٹی سی کے جج راجہ جواد عباس نے سماعت کی جس کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ عمران خان کے خلاف 8 کیسز ہیں۔

    احتساب عدالت ،بشری بی بی کی عبوری ضمانت منظور

    اے ٹی سی کے جج نے عمران خان کو کمرہ عدالت میں بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صرف ایک کیس میں عمران خان کا اسٹیٹمنٹ نہیں لیا گیا۔

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو شدید سیکیورٹی خدشات ہیں، ان پر صرف دفعہ 109 کا الزام ہے، تمام مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی ہے، جےآئی ٹی بنی اور عمران خان شاملِ تفتیش ہو گئے، ان کو کوئی انا کا مسئلہ نہیں، ان کے خلاف کیسز کی بڑی تعداد ہے-

    وکیل نے کہا کہ اگر کوئی دیگر تفتیش چاہیے تو عمران خان اس میں بھی شاملِ تفتیش ہونے کے لیے تیار ہیں، اےٹی سی میں کیس لگا ہو تو یہ عدالت پہنچ نہیں پاتے، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ان کے خلاف بے شمار کیسز ہیں، تفتیشی افسر نے عمران خان سے کوئی سوال کرنا ہے تو آج کر لیں، 8 کیسز میں آئندہ تاریخ پر معاونت کرنے کو تیار ہوں۔

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے انہیں ہدایت کی کہ آج دلائل مکمل کر لیں وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے نیب راولپنڈی بھی جانا ہے۔

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    وکیل سلمان صفدر نے عمران خان کی 8 مقدمات میں ضمانت منظور کرنے کی استدعا کر تے ہوئے کہا کہ ہماری استدعا یہی ہے کہ کمرۂ عدالت میں ہی شاملِ تفتیش کیا جائے۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے ہدایت کی کہ آپ تو ایک کیس میں شاملِ تفتیش ہو چکے اسی پر دلائل دے دیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں ایک ساتھ ہی دلائل دینا چاہتا ہوں۔

    پراسیکیوٹر عدنان علی نے عدالت کو بتایا کہ 4 مقدمات میں جے آئی ٹی بنی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا عدالتی حکم نامہ پیش کیا، 27 مارچ کو ایک ہی حکم نامہ ہوا، نوٹسز ہوتے رہے، 6 اپریل، 18 اپریل کو پیش ہوں، لیکن عمران خان پیش نہیں ہوئے، 3 مئی کو کہا کہ اگلی تاریخ پر لازمی پیش ہوں لیکن یہ شاملِ تفتیش نہیں ہوئے۔

    اے ٹی سی کے جج نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے سوالنامہ ان کو دیا ہے؟ پراسیکیوٹر عدنان علی نے بتایا کہ 4 مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنی لیکن عمران خان پیش نہیں ہوئے، پھر کہا گیا کہ ٹانگ خراب ہے، عمران خان پیش نہیں ہو سکتے، عدالت سے استدعا ہے کہ ہدایت دیں کہ عمران خان مقدمات میں شاملِ تفتیش ہوں۔

    کراچی کے لوگوں کی محبت اور زندہ دلی وطن اور گھر سے دوری کا احساس …

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جے آئی ٹی سے سوالنامہ دینے یا ویڈیو لنک پر شاملِ تفتیش ہونے کا کہا گیا، عمران خان کی عدالت میں پیشیوں پر پیسے لگتے ہیں کیونکہ کیسز بے انتہا ہیں جج نے استفسار کیا کہ پنجاب کے جو مقدمات تھے ان میں جے آئی ٹی نے کیسے کام کیا؟

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی بنائی گئی اور پوری جے آئی ٹی زمان پارک میں آئی اور شاملِ تفتیش کیا گیا، عمران خان کو جان کا خطرہ ہےاس موقع پر پراسیکیوٹر کی جانب سے عمران خان کو جے آئی ٹی میں شاملِ تفتیش کرنے کی استدعا کی گئی۔

    جج نے سوال کیا کہ جب عمران خان پولیس لائنز میں موجود تھے تو کیوں انہیں شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا؟ عدالت سے فیصلہ لیتے اور پولیس لائنز میں عمران خان کو شاملِ تفتیش کر لیتے، لاہور کی جے آئی ٹی ان کے گھر چلی جاتی، اسلام آباد کی جے آئی ٹی نے شاملِ تفتیش کیوں نہیں کیا؟

    اے ٹی سی کے جج نے کہا کہ جے آئی ٹی اسلام آباد عدالت کو بتائے کہ کیسے شاملِ تفتیش کرنا چاہتے ہیں؟ جے آئی ٹی اسلام آباد کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ عدالت میں ہی موجود نہیں، اگر جے آئی ٹی سنجیدہ ہوتی تو آج عدالت میں موجود ہوتی اے ٹی سی کے جج نے آدھے گھنٹے میں جے آئی ٹی اسلام آباد کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    نیب پیشی عمران خان بشریٰ بی بی کے ہمراہ روانہ،گرفتاری کا بھی خوف

    سابق وزیراعظم عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور موقف اپنایا کہ ایک قاتلانہ حملہ ہوا، دوسرا ہوا، وزیر داخلہ کا بیان آیا میری جان کو شدید خطرہ ہے۔ گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں وزیر داخلہ میرا مخالف ہے وہ کہہ رہا ہے جان کو خطرہ ہے۔ مجھے بھی معلوم ہوا جان کو خطرہ ہے۔میں شاملِ تفتیش ہونا چاہتا ہوں میرے گھر آجائیں، میں شامل تفتیش ہو جاؤں گا۔

    انسداد دہشتگردی کے جج نے کہا کہ آپ کی درخواست آگئی ہے میں اس پر حکم نامہ جاری کروں گا انسداد دہشتگردی کی عدالت نے آٹھ مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں آٹھ جون تک توسیع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات درج ہیں جن میں وہ آج انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    ایران نے علی رضا عنایتی کوسعودی عرب میں سفیر مقرر کردیا

  • عمران خان کے خلاف کیسز میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

    عمران خان کے خلاف کیسز میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیراعظم عمران خان کی گاڑی کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دی گئی عمران خان 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں نیب راولپنڈی اور مختلف مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    ملک میں جمہوریت رُک چکی ہے، بنیادی طور پر بظاہر یہ مارشل لاجیسا منظر ہے،عمران …

    سابق وزیراعظم عمران خان کی نیب راولپنڈی میں پیشی کے موقع پر نیب کے دفتر کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔نیب کے باہر پولیس، رینجرز، ایف سی اور ایلیٹ سمیت لیڈیز پولیس بھی تعینات ہے میلوڈی میں نیب کے دفتر سے ملحقہ راستوں کو پولیس نے سیل کردیا ہے-

    خاردار تار اوربلاکس لگا کر میلوڈی سےلال مسجد تک مرکزی شاہراہ، ملحقہ گلیاں اورسڑکیں بھی سیل ہیں جب کہ سکیورٹی کے پیش نظر غیر متعلقہ افراد کا نیب دفتر کے اطراف داخلہ ممنوع قراردیا گیا ہےراولپنڈی میں نیب دفتر کے باہر بکتر اور قیدی وین بھی پہنچا دی گئی ہے نقص امن کے پیش نظر راولپنڈی میں دفعہ 144 میں 28 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    احتساب عدالت ،بشری بی بی کی عبوری ضمانت منظور

    دوسری جانب عمران خان کےخلاف کیسز میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دے دی گئی چیئرمین نیب کی منظوری سے پراسیکیوٹر جنرل نیب سید اصغر حیدر نے نوٹیفکیشن جاری کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل سردار مظفر عباسی کی سربراہی میں 7 رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاونڈ سکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں۔

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان