Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

    مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

    لاہور:مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری ہوچکا ہے ،جس میں لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست خارج کرنے کا اقدام کالعدم کر دیا تھا

    تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ نے منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر 5 مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا تحریری حکم جاری کردیا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کی فہرست پر خالی نشستوں پر ممبران پنجاب اسمبلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے تحریری حکم میں کہا کہ ایڈیشنل رجسٹرارجوڈیشل عدالت کے حکم سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست خارج کرنے کا اقدام کالعدم کرکرتے ہوئے تحریک انصاف کی پنجاب اسمبلی میں خواتین اور اقلیتی ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست منظورکرلی۔

    لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کی جانب سے مخصوص نشستوں پر ارکان کی نااہلی کے بعد کوٹہ دوبارہ نکالنے کی درخواست خارج کردی۔

    ادھرلاہور ہائیکورٹ کے کل کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟

    بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا، سماعت ابھی جاری ہے

  • صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کرادیا

    صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کرادیا

    کراچی :صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کرادیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر اور رکن سندھ اسمبلی بلال غفار نے اپنی ہی جماعت کے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کروادیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک شہزاد کی قیادت میں 70 سے 80 افراد میرے گھر پہنچے، مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار ملک شہزاد ہوں گے، انہیں گرفتار کیا جائے۔

    پاکستان تحریک انصاف کراچی کے اراکین سندھ اسمبلی ایک دوسرے کیخلاف ہوگئے، صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف تھانہ ٹیپو سلطان میں مقدمہ درج کرادیا، ایف آئی آر میں حملہ کرنے، بلوہ اور نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    بلال غفار نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک شہزاد کی قیادت میں گزشتہ رات ایک بج کر 15 منٹ پر میرے گھر 70 سے 80 افراد پہنچے، میرے گارڈ اور دیگر ملازمین کو حبس بے جا میں رکھا اور تشدد کیا۔صدر پی ٹی آئی کراچی نے مزید کہا کہ مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار ملک شہزاد ہوں گے، انہیں گرفتار کیا جائے۔

    دوسری جانب ملک شہزاد کا کہنا ہے کہ بلال غفار ہمارے بھائی ہیں، ان سے رابطہ نہیں ہورہا تھا، بلدیاتی الیکشن پر کچھ کارکنان کو تحفظات تھے، بات کرنے گئے تھے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ کارکنان نے چوکیدار وغیرہ سے بدتمیزی کی ہے، بلال غفار سے رابطے میں ہیں، معاملہ ختم ہوجائے گا۔

    واضح رہے کہ نومبر 2021ء میں کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے شہری کے گھر میں داخل ہوکر تشدد اور قتل کی دھمکیاں دینے کے کیس میں رکن سندھ اسمبلی ملک شہزاد اعوان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

    اس سے قبل مارچ 2021ء میں ملک شہزاد اعوان نے این اے 249 پر امجد آفریدی کو ٹکٹ جاری کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ حلیم عادل شیخ کو جمع کرایا تھا۔

  • چیف الیکشن کمشنر سے پی ٹی آئی نے استعفے کا مطالبہ کردیا

    چیف الیکشن کمشنر سے پی ٹی آئی نے استعفے کا مطالبہ کردیا

    پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں کیونکہ ان کی ساکھ ختم ہو گئی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری اور اسد عمر کے ہمراہ شیریں مزاری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ آئین کو بدلنے کی کوششیں اعلیٰ عدالت سے مسترد کی جا رہی ہیں، سیکریٹری الیکشن کمیشن بھی استعفیٰ دیں۔

    شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر چاہتے ہیں کہ آئین کو بدل دیا جائے اور وہ آئین کو بیک ڈور سے بدلنا چاہ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن نہیں کرا سکتا لہذا سپریم کورٹ اس کے خلاف ایکشن لے اور چیف الیکشن کمشنر کی عزت اسی میں ہے کہ وہ خود استعفیٰ دیں۔

    سابق وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب میں 5 مخصوص نشستوں کو فوری نوٹیفائی کیا جائے، الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن پر بیٹھا ہوا ہے۔
    انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشنر کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہئے. کیونکہ آئین کے خلاف فیصلے کیئے جارہے ہیں.

    فواد چودھری نے کہا کہ: بی اے پی رکن نے کہا کہ ٹیلفون کالز پر اجلاس کا بزنس چل رہا ہے، اور یہ ایجنڈا پر نہین بلکہ کالز پر چل رہا ہے.

    انہوں نے مزید کہا کہ صدر پاکستان سپریم کورٹ کو کہہ رہے ہیں کہ کمیشن بنایا جائے مگر کمیشن نہیں بنایا جائے.

    فواد چودھری کے مطابق: 25 مئی سے پاکستان کا آئین معطل ہے اور پاکستان میں تو آمریت نافض ہے.

  • لانگ مارچ میں توڑپھوڑ سے متعلق کیس: پی ٹی آئی کے 14 رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں  توسیع

    لانگ مارچ میں توڑپھوڑ سے متعلق کیس: پی ٹی آئی کے 14 رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے چار مختلف مقدمات میں پی ٹی آئی کے 14 رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 19 جولائی تک توسیع کر دی۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے منگل کو 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف پارٹی کے لانگ مارچ کے دوران جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے چار مختلف مقدمات میں پی ٹی آئی کے 14 رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 19 جولائی تک توسیع کر دی۔

    کراچی: شہریوں نے ڈاکو کو پکڑ کر زندہ جلا دیا

    برہان معظم ملک ایڈووکیٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس جان بوجھ کر ان کے مؤکلوں سے پوچھ گچھ نہیں کر رہی اور تفتیشی افسر (IO) اس وقت دستیاب نہیں تھے۔

    اے ٹی سی لاہورنے پی ٹی آئی رہنماؤں کو متعلقہ تھانوں میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود ، حماد اظہر ، یاسمین راشد ، اسلم اقبال،جمشید اقبال چیمہ ، مراد راس ،عندلیب عباس سمیت 18 ملزمان اے ٹی سی لاہور پیش ہوئے،تھانہ شفیق آباد پولیس نےپی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے-

    قومی اسمبلی نےآئندہ مالی سال 2022-23 کیلئے 278 کھرب روپےکے اخراجات کی منظوری دیدی

  • پی ٹی آئی کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے،یاسمین راشد

    پی ٹی آئی کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے،یاسمین راشد

    پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد نے سیکرٹری اطلاعات عندلیب عباس۔ ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی۔ زینب عمیر کے ہمراہ پارٹی آفس جیل روڈ میں پریس کانفرنس کرتے ھوئے کہاکہ پنجاب کی مخصوص نشستوں پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے ہمارے شک بالکل ٹھیک ہیں۔ سندھ میں الیکشن کمیشن بالکل ناکام رہی ہے۔ زرداری مافیا نے ساری سیٹیں لینے کیلئے دھاندلی کی ہے ۔جب بات کرو الیکشن کمیشن سے الیکشن کی تو وہ کہتے ہے کہ ابھی تیاری نہیں ہے۔ ضمنی الیکشن پرانی لسٹوں میں ہورہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ شبیر گجر کے معاملے پر ہماری ایف آئی آر ابھی تک درج نہیں ہوئی ھے۔ الیکشن کمیشن اگر بے بس ہے تو ن لیگ دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس الیکشن میں دھاندلی ہو گی۔گزشتہ روز چئیرمین عمران خان لاہور تشریف لائے اور انہوں نے لاھور کے چاروں ضمنی حلقوں میں ورکرز کنونشن سے خطاب کیا اور ہمارے ورکرز کنونشن جلسوں میں بدل گئے۔لوگ سڑکوں پر کھڑے ہو کر خطاب سنتے رہے ۔

    اس وقت تک سروے کے مطابق ضمنی حلقوں میں پنجاب میں تحریک انصاف لیڈ کر رہی ہیں۔ ہر روز سی ایم ہاؤس میں میٹنگز ہوتی ہیں کہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کس طرح کرنی ہیں۔ انہوں مزید کہاکہ کسی ادارے کا کام نہیں کہ الیکشن میں انٹر فیر کرے۔ اب نیوٹرل کو کہتے ہیں وہ نیوٹرل رہیں ۔الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات شفاف ہوں۔

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد نے پارٹی دفتر جیل روڈ میں رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں ضمنی الیکشن کی کمپین کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر یاسمین راشد نے گفتگو کرتے ھوئے کہاکہ پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کی منظوری خوش آئند عمل ھے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کر دی ھے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ یہ پی ٹی آئی کی بہت بڑی فتح ھے۔ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہائیکورٹ کے شکر گزار ہیں۔ اس فیصلے سے حمزہ شہباز کی ناجائز پنجاب حکومت کی آئینی اور قانونی حیثیت ختم ہو گئی ھے۔ اداروں کی طرف سے پی ٹی آئی کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کو پنجاب میں 20 سیٹوں پر ہرانے کی کوشش کی جا رہی ھے۔ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی عوام کی طاقت سے کامیابی حاصل کرے گی اور پنجاب میں حکومت بنائے گی۔

    اس موقع پر عندلیب عباس۔ محمد احمد چٹھہ۔ اعجاز منہاس ۔ طارق حمید ۔ مبین سلطان ۔ شنیلہ علی موجود تھے

  • پی ٹی ائی کو5مخصوص نشستوں کے باوجود پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

    پی ٹی ائی کو5مخصوص نشستوں کے باوجود پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا نوٹیفکیشن نہ کرنےکے خلاف تحریک انصاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری کرنےکی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت کے بعد اگر پانچ مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو مل جائیں تو بھی پیجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی عددی اکثریت برقرار رہے گی اور حمزہ شہباز کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا.

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    مسلم لیگ ن کے وزیراعلی پنجاب کے لئے امیدوارحمزہ شہباز 16 اپریل 2022کو پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے انہیں پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں سے197 ووٹ ملے تھےتاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے 25 ارکان اسمبلی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا جس بنا پر انہیں ڈی سیٹ کر دیا گیا ،25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی ممبران کی تعداد 346 رہ گئی۔

    پنجاب اسمبلی کی موجودہ صورتحال کے مطابق پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت (ن) لیگ کے پاس 166 سیٹیں ہیں. پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی حمایت بھی مسلم لیگ ن کو حاصل ہے اورپنجاب کے ایون میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد7ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے تین آزاد ارکان اور راہ حق پارٹی کا ایک ووٹ بھی (ن) لیگ کے پاس ہے.انہیں جمع کر کے پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ کے حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 177 ہے۔

    وپنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کو183 نشستیں ملی تھیں لیکن پی ٹی ائی کے 25 ارکان پارٹی کی پالیسیوں کے باعث منحرف ہو گئے اور انہوں نے وزارت اعلی کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز کو ووٹ دیا جس پر انہیں ڈی سیٹ کر دیا گیا. ڈی سیٹ ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی میں نشستیں 158 رہ گئیں۔

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 158جبکہ تحریک انصاف کی اتحادی (ق) لیگ کے 10 ارکان ہیں انہیں ملا کر اپوزیشن کے 168 ارکان بنتے ہیں ، رپورت کے مطابق اگر عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انساف کو 5 مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو اپوزیشن اتحادکی تعداد173بنتی ہے یعنی مخصوص نشستوں کے بعد بھی حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر 4 ووٹوں کی برتری حاصل رہے گی۔

    اس صورتحال میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو اپوزیشن اتحاد سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم اپوزیشن اتحاد کی کوشش ہے کہ وہ وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ضمنی الیکشن میں ذیادہ سے ذیادہ نشستیں حاصل کرے.تاہم دوسری جانب حکومت بھی پرعزم ہے کہ وہ ضمنی الیکشن میں کلین سوئپ کرے کرے گی.

  • لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کاالیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا نوٹفکیشن نہ کرنے کے حوالہ سے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں کو منظور کر لیا،پی ٹی آئی کی نشستوں کا نوٹیفکیشن کرنے کا حکم دے دیا پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفرکی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دلائل دیئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواستوں کی مخالفت کی،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن پانچ مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے

    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری نہیں کررہا، منحرف ارکان کوڈی سیٹ کرنے کے بعد الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کرنے کا پابند ہے جنرل سیٹ کے تناسب سے فہرست کے مطابق نوٹیفکیشن کیا جاتا ہے لہٰذا الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی دی گئی فہرست بدل نہیں سکتا ہم نے الیکشن کمیشن کوکہا کہ اس پرنوٹیفکیشن جاری کریں الیکشن کمیشن نے کہا کہ 20 سیٹیں خالی ہوئی ہیں اس لیے پارٹیوں کی کل نشستیں بھی بدلی ہیں الیکشن کمیشن کا یہ مؤقف قانون کے مطابق نہیں

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جنرل الیکشن کے بعد ہوتا ہے اب 20 نشستوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بدل گئی ہے میرا تو خیال تھا کہ یہ لارجر بینچ کا معاملہ ہے عدالت نے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن نہ کرنے کے خلاف درخواست منظور کرلی اور الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری کرنےکی ہدایت کردی

    عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر آئینی اور غیر قانونی اسٹینڈ لیا ہو ا تھا،لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی کےلیے تازہ ہوا کا پہلا جھونکا ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ اس ناجائز حکومت کے خلاف جو بھی کیسز ہیں، ہماری شنوائی کریں،ہم بھی شہری ہیں، آئین اور قانون کے مطابق ہمارا حق دیا جائے سندھ میں بھی آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں،

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے،سپریم کورٹ

    عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین امیز ریمارکس،سینئر اینکر پرسن بارے عدالت کا بڑا حکم

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے اراکین نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیئے تھے جس کے بعد الیکشن کمیش نے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا، اب خالی سیٹوں پر الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے، مخصوص نشستوں کے حوالہ سے پی ٹی آئی نے درخؤاست دی ہے کہ نئی سیٹیں الاٹ کی جائیں

    پنجاب اسمبلی کی کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اور ان کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات تک روک دیا تھا، الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلایل سننے کے بعد پی ٹی آئی کے 25 منحرف قانون سازی کی ڈی سیٹ ہونے کے بعد خالی ہونے والی خواتین اور اقلیتوں کی 5 مخصوص نشستوں پر نئے اراکین پنجاب اسمبلی کے نوٹی فکیشن سے متعلق فیصلہ سنایا تھا اور پی ٹی آئی کی درخؤاست کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا

  • پی کے 7 سوات:پی ٹی آئی کے فضل مولاکامیاب ہو گئے

    پی کے 7 سوات:پی ٹی آئی کے فضل مولاکامیاب ہو گئے

    سوات: خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ 7 میں ضمنی الیکشن میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار فضل مولا کامیاب ہوگئے۔خیبر پختون خوا کے ضلع سوات میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار کر 12 جماعتی اتحاد کو شکست سے دو چار کر دیا۔

     

    ضمنی الیکشن،عمران خان کاحکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ ،اتوار کو دورہ لاہور

    تفصیلات کے مطابق ضلع سوات کے انتخابی حلقے پی کے 7 پر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے فضل مولا اور اے این پی کے حسین احمد خان سمیت 4 امیدوار اس نشست پر مد مقابل ہوئے۔

    پی کے 7 کے 124پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پی ٹی آئی کے فضل مولا 18 ہزار 42 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ اے این پی کے حسین احمد 14 ہزار 665 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    عامر لیاقت کی سیٹ پر پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہو گا؟ سابق گورنر سندھ نے بتا دیا

    خیال رہے کہ یہ نشست اے این پی کے وقار خان کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی، جس پر آج صبح 8 بجے پولنگ کا عمل شروع ہوا اور شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔

    یہ نشست اے این پی کے ایم پی اے وقار احمد خان کی 30 اپریل کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔پی ٹی آئی کے حاجی فضل مولا، اے این پی کے حسین احمد خان، تحریک انقلاب پولیٹیکل موومنٹ کے دولت خان اور آزاد امیدوار محمد علی شاہ میدان میں ہیں۔

    پی ٹی آئی کے علاوہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں نے 2007-09 کی سوات کی شورش کے دوران مقتول کے خاندان کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    پی کے 7 پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مواصلات مراد سعید کا آبائی حلقہ ہے۔ اے این پی پہلے ہی صوبائی وزراء کی جانب سے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کے لیے ‘سرگرم مہم’ کی شکایت کر چکی ہے۔

    عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے لہذا پی ٹی آئی ایم این ایز اسپیکر سے رجوع کریں

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس حلقے میں 183,308 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 102,088 مرد اور 81,220 خواتین شامل ہیں۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہو کر شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ضمنی انتخاب کے لیے کل 124 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 41 کو حساس اور 12 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

  • پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہاہے کہ ساڑھے3 سال ملک پر مسلط رہنے والے نااہل اور نالائق ٹولہ نے ملکی ترقی و بہتری کیلئے کوئی کام نہیں کیااور اپنی ساری توجہ اپوزیشن کی کردار کشی اور بلاجواز الزام تراشیوں سمیت انتقامی کاروائیوں پر مرکوز رکھی جس سے ملکی معیشت کا جنازہ نکل گیا اور ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا جس پر ہمیں مجبوراً اقتدار سنبھالنا پڑا اوراپنی سیاست داؤ پر لگاتے ہوئے ریاست بچانے کیلئے نہ چاہنے کے باوجود مشکل فیصلے کرنا پڑے کیونکہ اگر ہم مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا۔

    فیصل آباد میں مہر حامد رشید کے ڈیرہ پر پارٹی ورکرز سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل اور نالائق ٹولہ نے اپنے دور اقتدار میں اپنے انتخابی نعروں اور وعدوں پر عمل کی بجائے صرف اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے و بے بنیاد مقدمات درج کروائے اور یہی کہتا رہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی اپنی انتقامی کارروائیوں میں اتنا آگے چلا گیا کہ امریکہ جا کر بھی ایسی ہی باتیں کرتا رہالیکن اسے جب مخالفیں کے خلاف کچھ نہیں ملا تو اس نے ان کے خلاف جھوٹا ہیروئن کی برآمدگی کا مقدمہ بنوادیا۔رانا ثناللہ نے کہا کہ انہی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف پہنچ گیا کیونکہ انہوں نے ملکی معیشت کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جس کے اثرات مشکل فیصلوں کی صورت میں ہماری حکومت پر پڑ رہے ہیں لیکن اگر ہم یہ مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا اور سب جانتے ہیں کہ جب کوئی ملک ڈیفالٹ کرجا ئے تو اس ملک کا غریب اور متوسط طبقہ پس جاتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے قائد شہباز شریف اور ہماری جماعت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہرگز نہیں بڑھانا چاہتی تھی اسلئے ہم نے دوسرے ملکوں کو بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بٹھایا کہ ہم کسی اور طرح سے آپ کے پیسے پورے کردیتے ہیں لیکن آئی ایم ایف نہیں مانااور اس نے کہاکہ جوپہلی حکومت نے معاہدہ کیا ہوا ہے اسے ہی پورا کرنا ہوگا تب جا کر یہ مشکل فیصلے کرنا پڑے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایالیکن ہم اب بھی اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ معیشت میں بہتری آئے اور پاکستان 2018سے پہلے والی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جس میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے دہشت گردی پر قابو پایا،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جبکہ اب جو لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے وہ وقت پر گیس نہ لینے کی وجہ سے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں ڈی سی اور اے سی بھی رشوت دے کر لگتے تھے اس طرح تمام ادارے تباہ کئے گئے لہٰذا ایسے حالات میں عدم اعتماد کا فیصلہ کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ جنہوں نے دھرنوں اور جلاؤ گھیراؤ کے ارادے بنائے تھے 25مئی کو ان کا شافی علاج کردیاگیا جبکہ پورے ملک کو ڈندے کے زور پراپنی صوابدید کے تحت چلانے کے ارادوں کو ہم نے ایساروکا کہ اب مارچ کا نام نہیں لیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان کے کسی علاقے میں بھی17یا 18سو سے زائد لوگ باہر نہیں نکلے ۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے پریڈ گراؤنڈ کو پر امن احتجاج کیلئے مختص کیا ہوا ہے اور چونکہ پرامن جلسہ و احتجاج ہر کسی کا حق ہے اسلئے کسی کو نہیں روکا جائے گالیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  • پی ٹی آئی میں واپسی کیلئے پرویز الہی نے 10 کروڑ روپے کی آفر کی،سابق پی ٹی آئی رہنما کا دعویٰ

    پی ٹی آئی میں واپسی کیلئے پرویز الہی نے 10 کروڑ روپے کی آفر کی،سابق پی ٹی آئی رہنما کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سابق رہنما نعمان لنگڑیال نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پرویز الہٰی کی طرف سے پی ٹی آئی میں واپسی کیلئے 10 کروڑ کی آفر کی گئی۔

    باغی ٹی وی :چیچہ وطنی میں حلقہ پی پی 202 پر ضمنی انتخاب کے لئے ہونے والے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نعمان لنگڑیال کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہٰی نے واپس آنے کا کہا لیکن ہم ڈٹے رہے، سلام پیش کرتا ہوں ان ساتھیوں کو جو جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے رہے۔

    نعمان لنگڑیال کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھی محب وطن تھے جنہوں نے رقم کی پیش کش ٹھکرا دی اپنے ساتھیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے رہے پی ٹی آئی والے کہتے ہیں ہم نے ضمیر کا سودا کیا، میں وزیر تھا لیکن پی ٹی آئی میں جرأت نہ تھی کہ مجھے نکال سکتے۔

    واضح رہے کہ نعمان لنگڑیال (ن) لیگ کے ٹکٹ پر پی پی 202 سے ضمنی الیکشن لڑ رہے ہیں۔