اسلام آباد:باغی ارکان مستقبل کیا ہوگا؟جینا محال ہوگا یا اس سے بھی بُرا حال ہوگا:آئی ایس ایف کا خطرناک پلان ، یہ پلان ویسے تو ابھی منظرعام پر نہیںآیا لیکن اس کے حوالے سے کچھ اہم چیزیں مختلف ذرائع سے ہوتے ہوئے منظرعام پر آنا شروع ہوگئی ہیں
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے باغی ارکان اسمبلی کو منانے کی کوشش کی جائے گئی جیسا کہ ہورہا ہے اور جو لوگ مان گئے وہ امان پا گئے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ مانیٹرنگ کی جارہی ہے
باغی ٹی وی ذرائع کو ملنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایس ایف کی قیادت کا ایک اہم اجلاس آج شام اسلام آباد میں ہوا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو ارکان اسمبلی پارٹی کے ساتھ وفا نہیں کریں گے ان کے ساتھ وفا نہیں کی جائے گی
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں یہ طئے ہوا ہے کہ جو لوگ باغی ہوں گے ان کا گھروں سے نکلنا ناممکن بنا دیا جائے گا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ان کے گھروں کے سامنے 40 سے 50 پی ٹی آئی ورکر باری باری روزانہ بلا تعطل احتجاج کیا کریں گے اور ان کے منحرف اور پارٹی سے بے وفائی کے ساتھ ساتھ ان ارکان کے سیاسی شب وروز کے متعلق لوگوں کو باخبر رکھا جائے گا ، بلکہ یہ طئے ہوا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پرایسے بے وفاوں کی بے وفائی کو بے نقاب کیا جائے گا اور یہ مہم اس منحرف کے حلقے کیے ہرعلاقے میں چلائی جائے گی
یہ بھی معلوم ہوا ہے پارٹی سے بے وفائی کرنے والے بکاو ممبران کا ملک سے باہر جانا بھی مشکل بنا دیا جائے گا اور اگرکوئی گیا تو پھروہاں مقیم اوورسیز پاکستانی ان کا گھیراو کریں گے اور یوں منحرفین کی آیک ایک سانس مشکل کردیں گے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی منصوبہ ہے کہ ایسے ارکان کے علاقوں میں ضمیرفروش بورڈ آویزا کیے جائیں گے تاکہ وہاں کے لوگوں کوان ارکان اسمبلی کی منافقانہ طرز عمل سے آگاہ کرکے ان سے دور رہنے کیے لیے آمادہ کیا جائے
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صرف منحرف ارکان اسمبلی ہی نہیں ان کے بچوں کا تعارف بھی بکاومال اورمنحرف کے نام کے تعارف کے ساتھ کروانے اور اسے مسلسل جاری رکھنے کے منصوبے ہیں اور اس کے لیے آئی ایس ایف نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے
اس حوالے سے نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پھرمنحرف ارکان اسمبلی کی زندگیاں اجیرن ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی آنے والی نسلوں کےلیے یہ ایک بدنامی کا ٹکا لگ جائے گا جس سے متاثرخاندان کی تمام خوشیاں اور سرگرمیاں تباہ ہوکررہ سکتی ہیں،
کراچی: پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رہنما خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ ہمارے مذہب کیلئے جو وزیر اعظم نے اپنا اقدام کیا ہے اسے جتنا سراہا یا جائے کم ہے-
باغی ٹی وی : خرم شیر زمان کی سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اہم قرارداد اسمبلی میں جمع کروائی ہے،وزیر اعظم اعمران خان کی بہت سے کاوشیں ہیں ہمارے مذہب کیلئے جو وزیر اعظم نے اپنا اقدام کیا ہے اسے جتنا سراہا یا جائے کم ہے-
خرم شیر زمان نے کہا کہ جن جن ممالک میں اسلام اور نبی پاک کے گستاخانہ خاکوں کے خالف ایک دن منایا جائے گا انہوں نے کہا کہ مولانا افضل نے کا بھی اس کیلئے آواز نہیں اٹھائی-
خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں وزیر اعظم کو خارج تحسین پیش کرتے ہیں دنیا بھر میں 15 مارچ کو آگاہی کا دن منایا جائے گا کانفرنسسز کی جائے گی سیکریٹری سندھ اسیمبلی کوخط لکھ دیا ہے 26 ایم پی ایزکوسندھ ہاؤس میں کمرے دیئے جائیں-
انہوں نے کہا کہ 25 سے 28 تاریخ تک کمرے چاہیئے 28 تاریخ پاکستان کی تاریخ کا بڑا دن ہوگا اپوزیشن جماعتوں کوشکست ہوگی-
عمران خان ڈی چوک پر اپنا اعمال نامہ لے کر آئیں،مریم اورنگزیب
چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت التواء کی درخواست مسترد کردی
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ 7 سال سے التواء پر چل رہے ہیں اب ایسا نہیں ہوگا۔سماعت جاری رہے گی انور منصور کو بخار ہے شاہ خاور بھی الیکشن کمیشن نہیں آئے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پچھلی بار یہ کہہ کر التوا لیا کہ انور منصور ملک سے باہر ہیں جب کہ وہ کراچی میں تھے ۔
ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 7سال سے جاری کیس میں پیش ہورہے ہیں ،اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ سے متعلق درخواست دی فارن فنڈنگ کیس میں 75سماعتیں ہوگئی ہیں،پی ٹی آئی والے دوسروں سے حساب مانگتے ہیں ،اپنا حساب دینے کو تیار نہیں،ن لیگ کے فنڈنگ کے ریکارڈز ہم جمع کرواچکے ہیں ،7سال سے یہ لوگ اپنا کیس ثابت نہ کرسکیں اسٹیٹ بینک کا ریکارڈ کہتا ہے 2009میں 5 اکاونٹس چھپائے اور 2 دکھائے،اوورسیز پاکستانیوں نے جو فنڈز دئیے ہیں وہ کھا گئے اور چھپائے ہیں7ملین ڈالرز آف شور کمپنی سے لیے جسے ڈکلئیر نہیں کیا گیا،
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان ڈی چوک پر 4ذاتی ملازمین کے بارے میں بتائیں پی ٹی آئی سینٹرل آفس کے 4 ملازمین کےاکاؤنٹس میں فارن فنڈنگ آتی رہی، پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب سےسوال کروتوکہتے ہیں آپ حساب دیں،فارن فنڈنگ کیس پرالیکشن کمیشن کوفوری فیصلہ دینا چاہیے اسٹیٹ بینک کا پورا ریکارڈ پبلک کیا جائے،عمران خان ڈی چوک پر اپنا اعمال نامہ لے کر آئیں 7سال میں ایک بھی دستاویز الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرایاگیا،
وزیر مملکت فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ آج الیکشن کمیشن آئے تھے ،ہمارے ممبران پارٹی کو فنڈز کرتے ہیں ہماری حکومت آئی تو ترسیلات زرمیں اضافہ ہوا،بیرون ملک پاکستانی وزیراعظم عمرا ن خان پر بھر پور اعتماد کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان کو ہمیشہ ڈونیشن اوورسیز پاکستانیوں نے کی فارن فنڈنگ کرنے والوں کا تعلق جرمنی ،کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک سے ہیں اوورسیز پاکستانی اپنے ملک میں قانون کی بالادستی کے خواہاں ہیں ہمیں کہا جاتاہے کہ فارن فنڈنگ کہاں سے آئی؟ اوورسیز پاکستانی ہمارے مشن کے ساتھ ہیں خوشی ہے ایزی لوڈ والے کھل کرسامنے آئے تارکین وطن پاکستان کوسالانہ 30 ارب ڈالربھجوارہےہیں پارٹی ارکان سالانہ پارٹی کوپیئنگ ممبرکےطورپرفنڈزدیتےہیں، پی ٹی آئی نےملک میں پولیٹیکل فنڈ ریزنگ کی بنیادرکھی سپریم کورٹ میں حنیف عباسی کا کیس واضح ہے،پی ٹی آئی اپنی جانچ پڑتال کروارہی ہے اسکروٹنی کمیٹی نے جو ریکارڈ مانگا وہ ہم نے دئیے ہیں ،پیپلز پارٹی اپنے 12 اکاونٹس کا بتائیے کہاں سے کروڑوں روپے آئے،مولانا فضل الرحمان کون ہوتے ہیں جو فوری فیصلہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں مسلم لیگ ن برطانیہ میں پرائیویٹ لمیٹڈ رجسٹرڈ ہے ،ہمیں بھارت،اسرائیل سے فنڈنگ کے طعنے دیئے جاتے تھے،پیئنگ ممبران میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں مریم،بلاول،فضل الرحمان ہمارےفارن فنڈنگ کے ذرائع سے آکرمل لیں
پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو بچانے کیلئے اسی دن اس جگہ بلائیں گے ،کوئی مارشل لا نہیں لگ رہا،یہ عمران خان کی خواہش ہے حکمرانوں نے پارلیمنٹ کی توہین کی فضل الرحمان کی کال پر پیپلزپارٹی اپنے لوگ نکالے گی،ہم نے پہلے بھی عوام کو نکالا اب بھی نکالیں گے دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،اگر ووٹنگ نہ کرائی گئی تو انارگی پھیل جائے گی،
پیپلز پارٹی کے رہنما صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی کا کہناتھا کہ حکمران آئینی عمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کررہے ہیں حکومت 172کی تعداد کو پوری کرے عمران خان جو کسی کے پاس جاتے نہیں تھے آج ہر شخص سے مل رہے ہیں، کسی بھی حکومت کی جانب سے دھمکی آنا آئین کی خلاف ورزی ہے،حکمران جماعت کے لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں ،لوگوں کواکسا رہے ہیں،اگر ان کے 172 نمبر پورے ہوتے تو یہ سب نہ کر رہے ہوتے اتحادی ان کو سنتے ہیں، چائے پلاتے اور پھر کہتے ہیں سوچ کر بتائیں گے،ان کے ساتھ کوئی اتحادی نہیں،تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق ووٹنگ ہوتی ہے تو ان کی عبرت ناک شکست ہوگی،جو کہتا تھا میں ان کو رلاوں گا وہ آج خود رو رہا ہے،پھر یہ بھی کہیں گے کہ مجھے کیوں نکالا؟
نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک پر عدم اعتماد کے دن جلسہ اور ارکان کا گھیرائو کرنے کی حکومتی منصوبہ بندی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، حکومت کھلے عام کشیدگی کا اعلان کر رہی ہے،سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے تصادم کی ذمہ دار حکومت ہوگی، بوکھلاہٹ میں یہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے بھی تیار ہیں، حکومت کے پاس نمبرز پورے ہیں تو عدم اعتماد کو پارلیمان میں چیلینج کرے،وزیراعظم کے گھر جانے کا فیصلہ پارلیمان میں ہوگا ڈی چوک پر نہیں یہ پر اعتماد ہوتے تو ایک پارلیمانی اور آئینی معاملے کو ڈی چوک پر نہ لے جاتے، تحریک انصاف کی سیاست ڈی چوک سے شروع ہوئی تھی ختم بھی وہیں ہوگی
ن لیگ کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ احتساب کا مذاق جاری ہے،تحریک عدم اعتمادمیں مداخلت چیئرمین نیب کاکام نہیں چیئرمین نیب کو بھی جواب دہ ہونا ہوگا،احتساب کے عمل سے ہمارے ارکان پردباؤ ڈالا جا رہا ہے، تحریک عدم اعتماد کے بعد ہمارے کچھ لوگوں کو نیب کے نوٹس ملے ہیں،میں حکومت کے ان اوچھے ہتھکنڈوں پر سب کو ساتھ نہ دینے کا کہوں گا،نیب کو یہ نوٹس مہنگے پڑنے والے ہیں،جب کسی کے پاس کچھ نہ رہے، پھر گالم گلوچ پر اتر آتا ہے، جس میں ہمت ہے وہ اسمبلی جانے سے روک کردکھا دے ،10لاکھ لوگوں کے دعوے عدم اعتماد کو نہیں روک سکتے، عوام کی آواز کو جو روکے گا، اس کو سبق دیا جائے گا،جو اراکین کو پارلیمنٹ جانے سے روکے گا اسے آرٹیکل 6 کاسامنا کرنا پڑے گا،حکمرانوں کی دھمکیاں انہیں مہنگی پڑیں گی جو حکومت سڑکوں کا رخ کرے وہ ناکام ہو چکی ہوتی ہے،
دوسری جانب وزیراعظم کے انتخاب کے فوری بعد حزب اختلاف کا منفی ردعمل ،سینیٹر فیصل جاوید نے ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر ڈال دی ملاحظہ کیجئے، یہ ہے وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں قائد اعوان منتخب ہونے کے فوراً بعد پہلا خطاب، سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی چیخ و پکار سنیے، یہ انتخاب کے فوری بعد شور کر رہے ہیں کہ حکومت نہ اہل ہو چکی ہے پہلے منٹ ہی میں،یہ شور کررہے ہیں کہ این آر او دے دو، ایک دن بھی اپوزیشن نے تعمیری اپوزیشن نہیں کی،کرپٹ مافیا روزِ اوّل سے حکومت کیخلاف سازشوں میں مصروف ہے،
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت کرنے کا چیلنج دیا تھا جسے مسلم لیگ ن نے وزیر اعظم کے اس چیلنج کو قبول کرلیا تھا وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت اور براہ راست ٹی وی پر نشر کرنے پر بھی تیار ہیں، بے شک فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھا دیا جائے بلکہ پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر کیس سنا جائے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ اور چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ 10 لاکھ لوگ اکھٹے کرلیں گے-
باغی ٹی وی : نجی ٹیو یو چینل کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد سمیت معروف ٹاک ٹاکر حریم شاہ اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے-
پروگرام میں سینئیر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ اگر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو کوئی گارنٹی چاہیئے یا کچھ چاہیئے تو سب مولانا فضل الرحمان کے پاس آتے ہیں کو ئی مانے یا نا مانے اس وقت پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کے طور پر ابھر کر آگے آئی ہے –
پروگرام میں مولانا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے عزت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے-
میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک چلے گی؟ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک رہنے والی بات تو رہی نہیں جب عدم اعتماد کی تحریک اسپیکر کے پاس جا کر جمع ہو جاتی ہے تو پھر ان کے اپنے قوانین و ضوابط ہیں کہ آپ کتنے دنوں کے اندر اندر نہیں لاسکتے ہیں اور کتنے دنوں کے اندر لانا لازمی ہے اس کا تعین بھی ہمارا آئین ہی کرتا ہے قانون اور رول اینڈ ریگولیشنز بھی کرتے ہیں اور اس وقت ہم نے ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے اس کی مدت کا تعین ہے کتنے دنوں کے اندر ریکوزیشن جمع ہو نے کے بعد اجلاس بلانا ہوتا یے اس حوالے سے فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے وہ کس وقت اجلاس بلاتے ہیں ظاہر ہے یہ تحریک ہم نے پیش کی ہے تو ہماری سو فیصد توانائیاں اس پر صرف ہوں گی کہ وہ ہر قیمت پر کامیاب ہو سکے-
10 لاکھ لوگ حکومت اور اپوزیشن بھی لوگوں کو ڈی چوک پر بلارہے ہیں کیا ہم انارکی کی طرف کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں مولانا فضل ا لرحمان نے کہا کہ یہ بات تو ان کو نہیں کہنی چاہیئے تھی لیکن عمران خان کو شائد گھمنڈ ہے کہ شاید میں 10 لاکھ لوگ لا سکوں گا کیا 10 لاکھ لوگوں کے اکٹھے ہونے سے حالات پر اثر انداز ہو سکے گا کیا ٹرمپ نے اپنی ووٹنگ کے دن امریکا میں لاکھوں لوگوں کو اعلان نہیں کیا تھا کیا وہ کامیاب ہو گیا تھا پھر لوگوں کی رائے بدل گی ووٹ گننے والے دباؤ میں آگئے مرعوب ہو گئے ایسی صورتحال نہیں ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عمران خان ہر صورت کوئی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اگر تو بات رہی پبلک کی تو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے بھی عوام کو اور اپنے کارکنوں کومتاثرہ طبقات کو جو اس وقت پاکستان کی نااہل حکومت کی وجہ سے برے حالات بھوک اور مہنگائی کا شکار ہیں اور بچوں کی فیسیں اور بجلی کا بل نہیں ادا کر سکتے یہ ساری چیزیں اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں تو اگر ہم نے بلا لیا لوگوں کو تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہاں پر کوئی کنٹرول کر سکےگا-
مولانا فضل الرحمان نے مبشر لقمان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرف سے بھی ہمیں انارکی کی طرف نہیں جانا چاہیئے اگر ہم اس طرف جانا چاہتے تو پھر ظاہر ہے آپ کو پتہ ہے ہماری ترجیح تو یہ تھی کہ ہم استعفے دے کر ایوانوں سے نکل آئیں لیکن پھر بھی چند دوستوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ہمارا جمہوری اور آئینی راستہ ہے عدم اعتماد کا اس کو اپنانا چاہتے ہیں جب ہم نے ان کو اپنا لیا ہے تو حکومت بھی اسی محاز پر مقابلہ کریں ا نارکی کی طرف تو انہوں نے اشارات دیئے ہیں اور اگر ملک میں حالات ایسے خراب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے بھی کچھ چھوڑا تو نہیں ہے یا پھر کچھ بچا کھچا ہے امکان ہے کہ آنے والے لوگ سنبھال سکیں گے تو اس کا خیال ہے وہ بالکل نہیں سنبھال سکیں گے-
مبشر لقمان نے سول پوچھا کہ یہ نارمل الیکشن نہیں ہیں اس میں ووٹ اسپیکر نے گننے ہیں اسپیکر نیشنل اسمبلی کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ تو حکومت ک سا ئڈ لے چکی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے ووٹوں کو گننا نہیں وہ ڈس کوالیفائی کرلیں گے-
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں کرسکتا اس قسم کے جبر سے اسمبلی ختم ہو جائے گی پوری اپوزیشن کے ساتھ آپ نے یہ کھیل کھیل لیا تو پوری اپوزیشن استعفے دے دے گی نہ آپ کی پبنجاب اسمبلی نا وفاق میں قومی اسمبلی رہ سکے گی آپ کے آدھے سے زیادہ لوگ مستعفی ہو جائیں گے ملک کا نظام کیسے چلائیں گے یہ حماقت کبھی بھی اسپیکر نہیں کرے گا –
ایک سوال کے جواب میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنا بھی مذاق ہے باہر کے اشاروں پر اس طرح کے کام کرنا جو ہم کر رہے ہیں یہ بھی کہنا مذاق ہے تو مذاق کے ذریعے سے تو سیاست نہیں کر سکتے غیر سنجیدہ ہو کر جو چاہو کہہ دو کسی کے بارے میں گالیاں دے دو یہ روش ایک نارمل انسان کی نہیں ہوا کرتی عمران خان ایک نارمل حثیثت بھی کھو چکے ہیں اور ایسے ایسے گفتگو ان کی زبان سے نکل رہی ہے جو ایک شریف انسان کی نہیں ہو سکتی-
سوال کہ آپ کو کتنی امید ہے کہ جو اتحادی ہیں حکومت کے وہ آپ لوگوں کے ساتھ عنقریب مل جائیں گے؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چیزیں ہیں ایک ہے ان کی اتحادی حکومت کی کرگردگی سے مطمن ہو اور وہ چاہتے ہوں ہم حکومت سے وابستہ رہیں اور دوسرا یہ کہ وہاں سے بالکل اطمینان ختم ہو چکا ہے لیکن نئے اتحاد کی طرف آنا اور اپوزیشن سائیڈ پر ایڈجسٹ کرنا اعتماد حاصل کرنا میرے خیال میں اصل پہلو یہی ہے ادھر سے میرے خیال میں وہ 100 فیصد کٹ چکے ہیں اور کسی قسم کا ان کا وہاں پر اعتماد والی کیفیت نہیں رہی ہے اور مایوسی کی آخری حدود تک پہنچے ہیں –
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آپ ق لیگ پیر پگاڑا کی جماعت یا ایم کیو یم کی بات کریں یہ سب مجھے مل چکے ہیں ور ان سب کے خیالات و احساسات سے میں واقف ہوں اور اب یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ آ کر ملیں گے تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو بہت سے لوگوں کے تقاضے مطالبات ایڈجسٹمنٹ کے لئے کچھ شرائط چھوٹی موٹی سامنے آتی رہی ہیں میرے سامنے تو ایسی صورتحال نہیں میں کسی کو وزارت دوں اپنے صوبے میں تو میرے پاس اتنی تعداد نہیں کہ کسی کو کہوں منسٹر وزارت دوں گا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اور سندھ میں پی پی کی اپوزیشن ہے اگر ان سے کوئی رابطہ ہو اور ایسی بات یوئی تو میں نہیں کہہ سکتا میرے سامنے ایسا نہیں ہوا .
مشر لقمان نے پوچھا کچھ تو ناراض اراکین کو وعدہ کیا ہو گا نا پی پی نے مسلم لیگ ن نے جے یو آئی نے؟ مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے ایک مرتبہ ہم نے نئی حکومت بنانی ہے اس میں ہم شامل ہوں گے نئے لوگ آئیں گے ہم نے بھی تو حکومت میں آنے کے بعد وزارتیں دینی ہیں بغیر وزارتوں کے نظام نہیں چلتا تو کچھ آپ کے نئے آنے والے لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں-
مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ک جہانگیر خان ترین یا علیم خان ہوں یہ ایک مستقل جماعت نہیں ہیں پی ٹی آئی کا حصہ ہیں ہم نے پی ٹی آئی کی حلیف جماعتوں کی بات کی ہے دونوں میں فرق تو ہے اور اس اعتبار سے اگر کسی اور جماعت سے ان کے روابط ہوں ہماری اپوزیشن کی لیکن میرے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں میں اس پر کوئی تبصریہ نہیں کر سکتا-
اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنی حکومت پر اعنبار نہیں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جو مجھے معلومات ہیں جو مجھے رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے ان کی اپنی صفیں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں بس ایک یا دو وزیر ان کے دفاع کی کوشش کرتے ہیں -مولانا فض الرحمان نے کہا کی جو بھی شکل ہے اس کی بس دو تین ایسے ہیں جو گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسی لیڈر کی زبان ہو گی پیرو کاروں کی بھی وہی زبان ہو گی گالیاں دیں گے یہ بوکھلاہٹ ہے اس بوکھلاہٹ کا کوئی فائدہ نہیں-
مبشر لقمان نے پوچھا کی آپ نے کہا عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کی ایک سوال جو میں تقریباً دس بارہ سال سے اٹھا رہاہوں آپ اس کے ثبوت آج مجھ سے پوچھ رہے ہیں پہلے تو مجھے آپ جیسے باخبر آدمی سے توقع نہیں تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر میں کافی کہہ چکا ہوں اور اب تو ہر مخالف وہ ہی باتیں کر رہا ہے مجھے زیادہ تر نہیں کہنی پڑ رہیں باقی لوگ اب اس کے لئے کافی ہو گئے ہیں کہ کس طریقے سے ان کے جو امریکا کے جے کیسنجتر جس زمانے میں ہمارے خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے تھے اس میں گواسمتھ بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہمارے لونڈے کا خیال رکھا کرو اس زمانے سے ہم جانتے ہیں پھر کہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آرہا ہے کس کے کہنے پر ہو رہا ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن کے فورا بعد ایک وفد مجھے ملا اس نے مجھے کہا کہ ہم دو تین سال سے آپ کی تقریر نوٹ کر رہے ہیں آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں کیا ہم نے صحیح نوٹ کیا ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے صحیح نوٹ کیا ہے-مولانا کے مطابق میری اس بات پر وفد نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں آپ نے صحیحح نوٹ کیا-اس پر مبشر لقمان نے بھی انکشاف کیا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا-
مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ووٹ دو اور کھڑے ہو جا ؤ یہ ان کا(عمران خان) ایک آئینی حق ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے اگر فارن فنڈنگ کیس کی پٔزیشن یہ ہے کہ اگر الیکشن میں اس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو ملک پاک ہو جاتا ہے ایک گند سے ایک ایسی پارٹی سے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا الیکشن کمیشن کس مصلحتوں کا شکار ہے کہ اتنے بڑے جرم پانامہ کا کیس ایک دم آتا ہے اور ایک دم آپ حکومت سے شخص کو نااہل کر کے باہر کر دیتے ہیں ایک کیس پڑا ہوا ہے اس کا مدعی دندنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں گھر کے اندر سے گواہی دے رہاہوں گھر کے اندر سے گواہ تو بڑا زبردست قسم کا ہوتا ہے تو وہاں پر ہمارا ایک بڑا ادارہ جس کے پاس یہ کیس ہے وہ کیوں انصاف کے تقاضوں کو موخر کررہا ہے میرے سمجھ نہیں آ رہا-
ایک سول کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر عمران خان مصالحت کے لئے رابطہ کریں گے تو یا تو بُری چیز ختم کر دی جانے چاہیئے یا پھر مٹ جانا چاہئئے اور یہ بھی ایک بُری چیز ہے اس کا بھی نام و نشان مٹ جانا چاہیئے اس کو فنا ہو جانا چاہیئے-
مبشر لقمان نے کہا کہ اسلامی ریاست ہو نے کے باوجود مولوی لوگ پاپولر ووٹ کیوں نہیں لےسکتے ؟
جس پر مولانا نے کہا کہ یہ ایک لمبی بحث ہے میں علماء کو کہتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو انبیا ء کے وارث سمجھتے ہیں اگر انبیا کی وراثت محراب کا مصلہ ہے تو اس پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی اگر ممبر رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت ہے تو وہاں پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی تو پھر سیاست بھی منصب انبیا ہے ار اس سیاست کے منصب پر علما اکرام کو کیوں کہا جاتا ہے اگر سیاست شریعہ ہو انبیا کی سیاست ہو آج بھی اس کے اصل وارث علما اکرام ہیں لیکن پھر یہ ہمیں خود عالم کو سوچنا ہو گا کہ ہم نے عام آدمی کو اس حوالے سے مطمن کیوں نہیں کیا –
انہوں نے کہا کی عام آدمی بہتر معشیت مسائل مشکلات کا حل چاہتا ہے ظلم سے نجات حاصل کرنا چہاتا ہے تھانے کچہری کے ظلم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں آپ انتخابی سیات کرتے ہیں اور آپ کا ناقابل اجر کام ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی فضیلت بیان کی ہے اس کام کی لیکن شاید ہم اس طرخ سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں آج جمیعت علما اسلام کے ساتھ جو وابستہ علما ہیں 4 سے 5 لاکھ علما اکرام ہیں وہ عوام میں جاتے ہیں اگر جو ن لیگ کی پی پی کی بات کرتا ہے عوامی حوالے سے اس طرض جے یو آئی کی بھی بات کرتا ہے اس پر ہم نے کام کیا ہے بڑی محنت کی ہے پورے پاکستان کے مکاتب فکر کے ساتھ رابطے میبں ہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں ہم نے پاکستان کے ساتھ جمہوری نظام کے ساتھ رہنا ہے –
عمران خان کو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ عوام کا منتخب نہیں ہے ایک بدترین قسم کی دھاندلی کی گئی 25 جولائی 2018 کوجو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے وہ فوری مسعفی ہوں اور قوم کا مینڈینٹ اور امانت واپس کریں اگر نہیں کریں گے تو اس کے خلاف ہم ڈٹے رہیں گے-
انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت پولیس مہیا کر سکتی ہیں؟ اگر میرے رضا کار نہ ہوں تو پھر جھوٹ بولا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں رضا کار آ گئے 10 رضا کر آئے جن کا گیٹ پاس بنا باقی واپس چلے گئے ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے ہوو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی –
انہوں نے مزید کہا کہ پھر آدھے گھنٹے کے اندر اند رمیں پہنچا ار پورا ملک جام ہو گیا پھر جا کر یہ نیچے آئے انہوں نے جو بدمعاشی کی ہے جو قانون توڑا ہے ریاست دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے مجھے اس پر احتجا ج ہے کہ میرے ساتھ بات کس بنیاد پر کرتے ہیں منہ بنا کر بات کر دینا دہشتگرد یہ اور وہ اس قسم کی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو ہم تم سے لاکھ درجے بہتر شریف اور آئین کے تابع اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں تمہیں تو آئین کی سمجھ ہی نہیں قانون کی سمجھ ہی نہیں جہاں ایک بنیادی انسانی شرافت کی جگہ نہیں ہم پر بات کر رہے ہیں-
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت فواد چودھری کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کا اصل ایجنڈا او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے خلاف ہے-
باغی ٹی وی : فواد چودھری نے مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں کی گئی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان کا اصل ایجنڈا اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کے خلاف ہے،15سال بعد اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس ان کو ہضم نہیں ہورہی-
فواد چودھری نے کہا کہ کانفرنس کو ناکام بنانےکیلئے 23مارچ کو اسلام آباد بلاک کرناچاہتےہیں،فسادیوں نے نمٹنا جانتےہیں-
ادھر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہبا زگل نے پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکووں کے گلدستے کا مقصد انتشار پھیلانا ہے اسلام آباد میں پوری اسلامی دنیا سے وزرائے خارجہ آرہے ہیں،اپوزیشن کا مقصد انتشار پھیلانا ہے اسے ناکام بنا دیا جائے گا-
شہباز گل نے کہا کہ ان لوگوں کی ہر سازش کا ناکام بنائیں گے،تحریک انصاف ان کی سیاست مکمل طو رپر سمجھتی ہے،قانون توڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،جہاں قانون توڑیں گے قانون کے مطابق ان سے نمٹیں گے-
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس ہونے جارہی ہےاب یہ لوگ انتشار کی طرف جارہےہیں یہ لوگ پہلے کہہ رہے تھے ہمارے پاس نمبر پورے ہیں اگر ان کے پاس نمبر پورے ہیں تو دھرنا کیوں دینے جارہےہیں-
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 23 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے قائدین کا مشترکہ اجلاس ہوا،اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک قومی امنگوں کی امین ہے-
پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ طے ہوا ہے جعلی وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد قومی مفقاد کی امین ہے، حکومت آئینی دستوری اور جمہوری دائرے میں رہ کر سامنے کرنے کے بجائے فساد کی راہ اپنا چکی ہے، اور ارکان کو اسمبلی میں آنے سے روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں-
انہوں نے کہا تھا کہ 23 مارچ کو پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا،وہ ہو گا باضابطہ طور پر تمام جماعتوں کے کارکنوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کرتا ہوں پیپلز پارٹی اور عوامی پارٹی کو لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں پورے ملک سے بیک وقت لانگ مارچ کے قافلے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوں گے،اپوزیشن ارکان تحریک عدم اعتماد تک اسلام آباد رہیں گے،ہمت ہے تو حکومت 172 ارکان پورے کرے-
مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے اور پتھر کا جواب پتھر سے دیں گے، اپوزیشن متحد اور سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے،ہماری اسٹرٹیجی پچھلے لانگ مارچ سے مختلف ہوگی ،لانگ مارچ کے شرکاء 24 مارچ کو اسلام آباد پہنچیں گے،ہم بہت کچھ کرنے جا رہے ہیں، ان کو چھٹی کا دودھ یاد کرا دیں گے-
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ نہ وزیراعظم جارہا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ۔
باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ172 تو کیا، 182 ووٹ دے دیں تو بھی وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں نہ وزیراعظم جارہا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہوگی۔
انشاء اللہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ آزادی چوک اسلام آباد میں 27 مارچ بروز اتوار کو ہوگا-وزیراعظم عمران خان تاریخی خطاب کریں گے-تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 27 مارچ کر بعد ہوگی-اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد میں بھرپور ناکامی ہوگی – وزیراعظم عمران خان پر اعتماد پلس ہو جائے گا
انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’انشا اللہ پاکستان کی تاریخ کا ’سب سے بڑا جلسہ‘ آزادی چوک اسلام آباد میں27 مارچ بروز اتوار کو ہوگا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان تاریخی خطاب کریں گے،عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہو گی، اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد میں بھرپور ناکامی ہوگی، وزیراعظم عمران خان پر اعتماد پلس ہوجائے گا۔
کئی ہفتوں تک مشاورت اور مسلسل اجلاس منعقد کرنے کے بعد اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت قرارداد جمع کرانے کے علاوہ اپوزیشن نے آئین کے آرٹیکل 54 (3) کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔
آئین کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ریکوزیشن نوٹس جمع کرانے کے بعد 14 دن کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں 22 مارچ تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا ہوگا اور تین سے سات دن کے اندر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانا ہوگی۔
لاہور: بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ق لیگ کس کشتی میں سوار ہوگی، حتمی فیصلے کیلئے آج پھر اہم بیٹھک شیڈول ہے، مشاورتی اجلاس میں تحریک عدم اعتماد اور دیگر معاملات پر بات چیت ہوگی۔
تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے فتح کے دعوے جاری ہیں، قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ق لیگ کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے درمیان آج اہم ملاقات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک میں عالمی قوتیں ملوث ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے و اتحادی عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوامی رابطہ مہم عروج پر ہے، وزیر اعظم آج حافظ آباد پہنچیں گے جہاں عوامی جلسے سے خطاب کریں گے۔ جلسے کے دوران وزیراعظم ترقیاتی پیکج کا بھی اعلان کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے 7 ارکان قومی اسمبلی کی مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف ہوا ہے۔ان حکومتی ارکان قومی اسمبلی نے گزشتہ 3 روز میں (ق) لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران حکومتی ایم این ایز نے (ق) لیگ کے ساتھ کھڑا ہونے کی یقین دہانی کرائی۔
اسلام آباد:وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اوراپوزیشن میں اتنی تقسیم نہ ہو کہ گفتگو ہی مشکل ہوجائے۔
باغی ٹی وی : فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ اپوزیشن کی بغیر سوچے سمجھے عدم اعتماد کی تحریک نے سیاست میں تلخیاں ہیدا کر دیں جمہوریت اتنی انتہائی تقسیم کا نظام نہیں ہے۔
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت میں کم از کم اتفاق رائے پر نظام استوار ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں اتنی تقسیم نہ ہو کہ کسی بھی سبب گفتگو ہی مشکل ہو جائے لڑنا مشکل نہیں بعد میں صلح مشکل ہوتی ہے-
اپوزیشن کی بغیر سوچے سمجھے عدم اعتماد کی تحریک نے سیاست میں تلخیاں ہیدا کر دیں، جمہوریت اتنی انتہائ تقسیم کا نظام نہیں ہے اس میں کم از کم اتفاق رائے پر نظام استوار ہوتا ہے،سمجھتا ہوں اتنی تقسیم نہ ہو کہ کسی بھی سبب گفتگو ہی مشکل ہو جائے لڑنا مشکل نہیں بعد میں صلح مشکل ہوتی ہے
دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کے بیان پرردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والوں، غنڈوں اوربدمعاشوں سے نہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کودشمنی میں بدلا اورجس نے معاشرے میں تقسیم ، انتشاراور فساد پیدا کیا اس کا نام عمران خان ہے۔
مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں گند اور غلاظت عمران صاحب نے ڈالا ہوا ہے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس گندگی اور غلاظت کو صاف کرکے معاشرے میں پھیلے تعفن اور گھٹن کو ختم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کوگالی اوردھمکیاں دی گئیں بے بنیاد الزامات لگائے گئے اوربہنوں بیٹیوں کوجیلوں میں ڈالا گیا اس سب کے بعد بات چیت کے لیکچر دینے والے فواد چوہدری نے کیا عوام کوپاگل سمجھ رکھا ہے۔
لاہور:حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں : شوزیب:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:ایم این اے کنول شوزیب نے حامد میر کی شرارتوں سے تنگ آکران شرانگیزیوں سے محفوظ رہنے کے لیے ایسی بات کہہ دی کہ اب حامد میر کے پاس سوائے معافی کے کوئی راستہ ہی نہیں بچا
اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا سمیت دیگرچینلزپرپی ٹی آئی ایم این اے کنول شوزیب کے خلاف جاری مہم کے پیچھے سازش کرنے والوں کا پتہ لگ چکا ہے اور اب تو وہ چہرے کھل کرسامنے آگئے ہیں کہ جن کے بارے میں ہرزبان سے یہ الفاظ سننے کو مل رہے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے کہ لوگ اس کی شر سے بچنے کےلیے اس کوسلام کرتے ہیں
@HamidMirPAK sb آپ پولیس لیکر میرے گھر تشریف لے آتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ؟ ان محترمہ کو سمجھائیں کہ اگر کوئ انٹرویو نہ دینا چاہے اور کہے کہ آپ نے جتنا انٹرویو کیا ہے یہ ڈلیٹ کر دئیں میں آپکے چینل کو انٹرویو نہیں دینا چاہتی اور آپ کہیں کہ نہیں ہم چلائیں گے تو؟ https://t.co/LPfcl43ayE
اس حوالے سے پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے کنول شوزیب بڑے دکھ کے ساتھ کہتی ہیں کہ حامد میراگرآپ کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز ہوتی تو آپ پہلے الزامات کی تحقیق ضرور کرتے لیکن افسوس کہ آپ کے مقدر میں خیر نہیں ہے
کنول شوزیب کہتی ہیں کہ آپ پولیس لیکر میرے گھر تشریف لے آتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ؟ ان محترمہ کو سمجھائیں کہ اگر کوئ انٹرویو نہ دینا چاہے اور کہے کہ آپ نے جتنا انٹرویو کیا ہے یہ ڈلیٹ کر دئیں میں آپکے چینل کو انٹرویو نہیں دینا چاہتی اور آپ کہیں کہ نہیں ہم چلائیں گے تو؟
شکر ہے کی میں میل MNA نہیں ورنہ کوئ بعید نہیں کہ یہ محترمہ مجھ پر کوئ اور الزام بھی لگا جاتیں انکو پیش کی گئ چائے ابھی تک پڑی ہے اب ان پر ہتک عزت کا رقبہ کرواؤں گی تو پھر آزادی صحافت پر حملہ ہو جائے گا اور میڈیا پر قدغن کا ڈرامہ بھی کوئ جج صاحب سے پوچھ کر بتائے کہ میں کیا کروں pic.twitter.com/QI2P2pyKym
آگے چل کر وہ شرپسندی سے تنگ آکر مزید کہتی ہیں کہ :شکر ہے کی میں میل MNA نہیں ورنہ کوئ بعید نہیں کہ یہ محترمہ مجھ پر کوئ اور الزام بھی لگا جاتیں انکو پیش کی گئ چائے ابھی تک پڑی ہے اب ان پر ہتک عزت کا رقبہ کرواؤں گی تو پھر آزادی صحافت پر حملہ ہو جائے گا اور میڈیا پر قدغن کا ڈرامہ بھی کوئی جج صاحب سے پوچھ کر بتائے کہ میں کیا کروں
آپ نے بغیر تحقیق کئے یہ الزام لگا دیا کہ آپکے گینگ کی رکن بتول راجپوت جنکو گھٹیا صحافت کیوجہ سے پہلے بھی چینلز نے نکال دیا تھا انھیں میں نے حبس بے جا میں رکھا اس کو آزادی صحافت کہیں گے؟ نوبت یہ ہے کہ اب آپ لوگوں کو گھروں میں گھس کر بلیک میل کریں گے اغوا کا الزام لگا دیں گے؟ https://t.co/FRanDYH3qHpic.twitter.com/pwf9eo2e8n
کنول شوزیب اپنے خلاف لگنے والے الزامات سے تنگ آکر مزید لکھتی ہیں کہ "آپ نے بغیر تحقیق کئے یہ الزام لگا دیا کہ آپکے گینگ کی رکن بتول راجپوت جنکو گھٹیا صحافت کیوجہ سے پہلے بھی چینلز نے نکال دیا تھا انھیں میں نے حبس بے جا میں رکھا اس کو آزادی صحافت کہیں گے؟ نوبت یہ ہے کہ اب آپ لوگوں کو گھروں میں گھس کر بلیک میل کریں گے اغوا کا الزام لگا دیں گے؟
یاد رہے کہ متنازعہ اینکرحامد میرنے بھی ٹویٹ کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ خاتون اینکر بتول راجپوت کو پی ٹی آئی کی ایم این اے کنول شوزیب نے انٹرویو کے بعد یرغمال بنا لیا اور کہا کہ انٹرویو ڈیلیٹ کرو
جس کے جواب میں مجبور ہوکر کنول شوزیب نے اپنی مظلومانہ درخواست عرض گزار کی ہے
لاہور:وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا ،اطلاعات کے مطابق ملک سیاسی محاذ آرائی بڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اہم مشن پر لاہور تشریف لا رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کل دورہ لاہور متوقع ہے، وفاقی وزراء بھی ہمراہ ہوں گے، جہاں وہ گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سے بھی ملیں گے، وزیراعظم عدم اعتماد سے متعلق اراکین اور پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی امور پر اہم اجلاس ہو گا، پنجاب میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج کراچی میں مصروف دن گزارا، جہاں ایم کیو ایم مرکز پہنچنے کے بعد متحدہ رہنماؤں سے ملاقات بھی کی، جبکہ گورنر ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے بعد سندھ مشاورتی کمیٹی اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات بھی کی۔
سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، جو پی ٹی آئی والا دھوکہ دے گا اسے دیکھ لیں گے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، کچھ نہیں ہوگا، یہ سازش بھی بے نقاب ہوجائے گی۔ مجھے دیکھ کر آپ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ میں گھبرایا ہوا ہوں؟ عدم اعتماد میں اِن چوروں کا ساتھ ان کے اپنے لوگ بھی نہیں دیں گے۔ ایک بار یہ سب ختم ہو جائے، اِن سب کو دیکھ لوں گا۔