Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والوں سے نہیں،مریم اورنگزیب فواد چودھری پر برس پڑیں

    بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والوں سے نہیں،مریم اورنگزیب فواد چودھری پر برس پڑیں

    اسلام آباد:وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اوراپوزیشن میں اتنی تقسیم نہ ہو کہ گفتگو ہی مشکل ہوجائے۔

    باغی ٹی وی : فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ اپوزیشن کی بغیر سوچے سمجھے عدم اعتماد کی تحریک نے سیاست میں تلخیاں ہیدا کر دیں جمہوریت اتنی انتہائی تقسیم کا نظام نہیں ہے۔

    آئی ایم ایف نے ایمنسٹی اسکیم، غیرا ہدافی سبسڈیز پر سوالات اٹھا دیئے

    فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت میں کم از کم اتفاق رائے پر نظام استوار ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں اتنی تقسیم نہ ہو کہ کسی بھی سبب گفتگو ہی مشکل ہو جائے لڑنا مشکل نہیں بعد میں صلح مشکل ہوتی ہے-


    دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کے بیان پرردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والوں، غنڈوں اوربدمعاشوں سے نہیں۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کودشمنی میں بدلا اورجس نے معاشرے میں تقسیم ، انتشاراور فساد پیدا کیا اس کا نام عمران خان ہے۔

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں گند اور غلاظت عمران صاحب نے ڈالا ہوا ہے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس گندگی اور غلاظت کو صاف کرکے معاشرے میں پھیلے تعفن اور گھٹن کو ختم کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کوگالی اوردھمکیاں دی گئیں بے بنیاد الزامات لگائے گئے اوربہنوں بیٹیوں کوجیلوں میں ڈالا گیا اس سب کے بعد بات چیت کے لیکچر دینے والے فواد چوہدری نے کیا عوام کوپاگل سمجھ رکھا ہے۔

    عثمان بزدار سے ن لیگی اراکین اسمبلی ملنے لگے

  • حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    لاہور:حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں : شوزیب:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:ایم این اے کنول شوزیب نے حامد میر کی شرارتوں سے تنگ آکران شرانگیزیوں سے محفوظ رہنے کے لیے ایسی بات کہہ دی کہ اب حامد میر کے پاس سوائے معافی کے کوئی راستہ ہی نہیں بچا

    اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا سمیت دیگرچینلزپرپی ٹی آئی ایم این اے کنول شوزیب کے خلاف جاری مہم کے پیچھے سازش کرنے والوں کا پتہ لگ چکا ہے اور اب تو وہ چہرے کھل کرسامنے آگئے ہیں کہ جن کے بارے میں ہرزبان سے یہ الفاظ سننے کو مل رہے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے کہ لوگ اس کی شر سے بچنے کےلیے اس کوسلام کرتے ہیں

     

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے کنول شوزیب بڑے دکھ کے ساتھ کہتی ہیں کہ حامد میراگرآپ کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز ہوتی تو آپ پہلے الزامات کی تحقیق ضرور کرتے لیکن افسوس کہ آپ کے مقدر میں خیر نہیں ہے

    کنول شوزیب کہتی ہیں کہ آپ پولیس لیکر میرے گھر تشریف لے آتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ؟ ان محترمہ کو سمجھائیں کہ اگر کوئ انٹرویو نہ دینا چاہے اور کہے کہ آپ نے جتنا انٹرویو کیا ہے یہ ڈلیٹ کر دئیں میں آپکے چینل کو انٹرویو نہیں دینا چاہتی اور آپ کہیں کہ نہیں ہم چلائیں گے تو؟

     

    آگے چل کر وہ شرپسندی سے تنگ آکر مزید کہتی ہیں کہ :شکر ہے کی میں میل MNA نہیں ورنہ کوئ بعید نہیں کہ یہ محترمہ مجھ پر کوئ اور الزام بھی لگا جاتیں انکو پیش کی گئ چائے ابھی تک پڑی ہے اب ان پر ہتک عزت کا رقبہ کرواؤں گی تو پھر آزادی صحافت پر حملہ ہو جائے گا اور میڈیا پر قدغن کا ڈرامہ بھی کوئی جج صاحب سے پوچھ کر بتائے کہ میں کیا کروں

     

    کنول شوزیب اپنے خلاف لگنے والے الزامات سے تنگ آکر مزید لکھتی ہیں کہ "آپ نے بغیر تحقیق کئے یہ الزام لگا دیا کہ آپکے گینگ کی رکن بتول راجپوت جنکو گھٹیا صحافت کیوجہ سے پہلے بھی چینلز نے نکال دیا تھا انھیں میں نے حبس بے جا میں رکھا اس کو آزادی صحافت کہیں گے؟ نوبت یہ ہے کہ اب آپ لوگوں کو گھروں میں گھس کر بلیک میل کریں گے اغوا کا الزام لگا دیں گے؟

    یاد رہے کہ متنازعہ اینکرحامد میرنے بھی ٹویٹ کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ خاتون اینکر بتول راجپوت کو پی ٹی آئی کی ایم این اے کنول شوزیب نے انٹرویو کے بعد یرغمال بنا لیا اور کہا کہ انٹرویو ڈیلیٹ کرو

    جس کے جواب میں‌ مجبور ہوکر کنول شوزیب نے اپنی مظلومانہ درخواست عرض گزار کی ہے

  • وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا ،اطلاعات کے مطابق ملک سیاسی محاذ آرائی بڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اہم مشن پر لاہور تشریف لا رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کل دورہ لاہور متوقع ہے، وفاقی وزراء بھی ہمراہ ہوں گے، جہاں وہ گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سے بھی ملیں گے، وزیراعظم عدم اعتماد سے متعلق اراکین اور پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی امور پر اہم اجلاس ہو گا، پنجاب میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج کراچی میں مصروف دن گزارا، جہاں ایم کیو ایم مرکز پہنچنے کے بعد متحدہ رہنماؤں سے ملاقات بھی کی، جبکہ گورنر ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے بعد سندھ مشاورتی کمیٹی اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات بھی کی۔

    سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، جو پی ٹی آئی والا دھوکہ دے گا اسے دیکھ لیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، کچھ نہیں ہوگا، یہ سازش بھی بے نقاب ہوجائے گی۔ مجھے دیکھ کر آپ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ میں گھبرایا ہوا ہوں؟ عدم اعتماد میں اِن چوروں کا ساتھ ان کے اپنے لوگ بھی نہیں دیں گے۔ ایک بار یہ سب ختم ہو جائے، اِن سب کو دیکھ لوں گا۔

  • ذاتی اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ قومی نقصان کریں:صوبائی وزیرنےعلیم خان کوکھری کھری سنادیں

    ذاتی اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ قومی نقصان کریں:صوبائی وزیرنےعلیم خان کوکھری کھری سنادیں

    لاہور :ذاتی اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ قومی نقصان کریں:صوبائی وزیرنے علیم خان کوکھری کھری سنادیں ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف حکومت کے خلاف سازشوں کا بازار گرم ہے تودوسری طرف ان سازشوں کو تہس نہس کرنے والے بھی کسی سے کم نہیں ، اس سوچ اور فکرکا تازہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ لوگوں نے پی ٹی آئی کے ایک صوبائی وزیرکوپارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر اکسایا ،

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کے صوبائی وزیر اختر ملک نے علیم خان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور کہا مشکل وقت میں پارٹی نہیں چھوڑ سکتا۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر اختر ملک نے علیم خان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اختر ملک نے علیم خان کو جواب میں کہا کہ مشکل وقت میں پارٹی نہیں چھوڑ سکتا۔اختر ملک اور علیم خان کی 2روز قبل ملاقات ہوئی تھی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اختر ملک سے رابطہ کیا، اختر ملک آج وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے وزیراعلیٰ پنجاب نے ترین اورسپرمیسی آف پارلیمنٹ گروپ کوملاقات کیلئےبلالیا ہے، ارکان میں خرم لغاری، فیصل جبوانہ عبدالحئی دستی،رفاقت علی ،طاہر رندھاوا شامل ہیں۔جہانگیر ترین سے الگ ہونیوالے نذیر چوہان بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کریں گے جبکہ ایم این اےریاض فتیانہ،صاحبزادہ محبوب سلطان، امیر سلطان سے بھی ملاقات ہوگی۔

  • پی ٹی آئی اراکین پارٹی سے ناراض کیوں؟ وجوہات سامنے آ گئیں

    پی ٹی آئی اراکین پارٹی سے ناراض کیوں؟ وجوہات سامنے آ گئیں

    اسلام آباد : پی ٹی آئی ارکان کی پارٹی سے ناراضی کی ایسی وجوہات سامنے آئیں کہ خود پی ٹی آئی والے بھی حیران رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے جس کے مطابق یہ کہا جارہا ہےکہ پارٹی ممبران کو عمران خان کی قیادت پر اعتراض نہیں بلکہ آپ کے اختلافات ہیں جن کو وضاحت کے باوجود بھی حل نہ کیا جاسکا ،

    پارٹی کے اندراختلافات کی نوعیت بھی علاقائی ہے ، مثلا فیصل آباد ڈویژن کے ارکان شہبازگل کی مداخلت پر ناراض ہیں کیونکہ شہبازگل فیصل آباد میں آئندہ الیکشن میں اپنے لیے سپورٹ مانگتے رہے،ارکان نے وزیراعظم کو شہبازگل کی مداخلت پر تحفظات سے آگاہ کیا لیکن وزیراعظم ارکان کے تحفظات دورکرنے کے بجائے شہبازگل کو ماسکو لے گئے۔

    ایسے ہی کے پی سے نور عالم خان کو اسپیکر اسد قیصر کے خلاف بولنا مہنگا پڑا، وہ حکومتی فنڈز صرف صوابی میں خرچ کرنے پر نالاں تھے اور اپنے حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈز مانگتے رہے جو نہیں ملے، نورعالم خان کی وزیراعظم سے ملاقات میں بھی تحفظات دورنہیں کیے گئے جب کہ پارٹی کےشوکاز نوٹس اور پی اے سی سے نکالنا نورعالم کی ناراضی کی وجہ بنا۔

    ذرائع کے مطابق فواد چوہدری نے نجی محفل میں ایک دو اپنے مخالف ارکان کو غدار قرار دیا اور کہا کہ غدار ارکان کو بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے، ارکان تک فواد چوہدری کی باتیں پہنچ گئیں جس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا، اس معاملے پر بھی وزیراعظم نے ارکان کے تحفظات دور نہیں کیے۔ایسے ہی میجر ریٹائرڈ طاہرصادق کے حلقے میں ملک امین اسلم کی مداخلت کی شکایات رہیں اور وزیراعظم کو شکایت کے باوجود ملک امین اسلم کو مداخلت سے نہیں روکا گیا،

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اقبال خان نے بھی اپنے حلقے میں ایوب آفریدی کی مداخلت کا شکوہ کیا لیکن وزیراعظم نے اقبال خان کے تحفظات کو دور نہیں کیا، ایوب آفریدی متعلقہ حلقے میں ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح کرتے رہے۔اس کے علاوہ بعض اراکین پر شک ناراضی کا باعث بنا اور غلام بی بی بھروانا کو پہلے روز سے ہی شک کے دائرے میں رکھا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اکثر اراکین کی جانب سے پارٹی ارکان کو عزت نہ ملنے پر بھی ناراضی ہے اور بعض ارکان نے پارٹی ارکان قومی اسمبلی کیلئے قائم واٹس ایپ گروپ بھی چھوڑ دیا۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ناراض اراکین نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم سے ضرور یہ شکوہ کریں‌ گے کہ بعض ارکان بعض کی مخالفت کرکے پارٹی کو نقصان دے رہے ہیں جس کا اگر ازالہ نہ کیا گیا تو پارٹی کو مزید نقصان ہوسکتا ہے

  • پوری متحدہ کرپٹ اپوزیشن یکجا ہو کر بھی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے،شہباز گل

    پوری متحدہ کرپٹ اپوزیشن یکجا ہو کر بھی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے،شہباز گل

    راولپنڈی: وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اللہ نے وزیر اعظم کو عزت دی ہے اور عمران خان کو اللہ آگے بھی عزت دے گا-

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خواتین کے لیے کالجز بنائے ہیں چوروں، منافقوں اور لٹیروں سے نہ گھبرائیں، اللہ چوروں، منافقوں اور لٹیروں کو شکست دے گا،اللہ نے وزیر اعظم کو عزت دی ہے اور عمران خان کو اللہ آگے بھی عزت دے گا-

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    جبکہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ متحدہ کرپٹ اپوزیشن مل کر بھی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے کرپٹ نظام کو عمران خان نے نکیل ڈالی لیکن نظام کی تبدیلی نااہلوں سے برداشت نہیں ہو رہی نئے پاکستان میں کرپٹ نظام اور فائدہ لینے والوں کی کوئی جگہ نہیں جبکہ ملک لوٹنے والا نااہل ملک سے فرار ہے۔

    شہباز گل نے کہا کہ آدھی ن لیگ بھگوڑی اور آدھی عدالتوں میں اپنا کیا بھگت رہی ہے اور جب نااہل میاں کا احتساب ہوا تو ان کی چیخیں نکل گئیں آج پوری متحدہ کرپٹ اپوزیشن یکجا ہو کر بھی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طاقتورکہتا ہےمیری بلیک میلنگ میں نہ آئے توحکومت گرادوں گا لیکن یاد رکھیں آپ کےسامنےجوآدمی کھڑاہےوہ کبھی این آراونہیں دےگا ڈاکووں کا دستہ ،چوروں کا ٹولہ جتنی بھی پلاننگ کریں گے میں تیار رہوں گا۔کپتان جب میدان میں ہوتاہے تو وہ ہر چیز کے لیے خود کو تیا ر کرتا ہے۔عمران خان جب تک زندہ ہے این آر او نہیں دے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہاں طاقتورقانون کےنیچےنہیں آناچاہتا۔طاقتورکوسزانہ دینےاورکمزورکوسزادینےسےمعاشرہ تباہ ہوتا ہے۔ یہاں طاقت ور چوری کرکے بچ جاتاہے اور غریب کو سزا ہوجاتی ہے۔طاقت ور چور بڑی بڑی چوریاں کرتاہے۔مجرم کو قبول کرنا تباہی کی بنیاد قائم کرنا ہے۔

    پی پی کا عوامی مارچ اسلام آباد پہنچنے سے قبل زرداری،مولانا،شہباز کرینگے بڑا اعلان

  • پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نےعثمان بزدار کو عہدے سے ہٹانے کی حمایت کردی

    پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نےعثمان بزدار کو عہدے سے ہٹانے کی حمایت کردی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے عثمان بزدار کو ہٹانے کی حمایت کردی،پنجاب میں عثمان بزدار کی جگہ علیم خان کو وزیر اعلیٰ بنائے جانے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وفاق کے کئی اہم وزراءعثمان بزدار کی تبدیلی کے حامی ہیں اور کئی اہم سینئر وزرا نے وزیراعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے وزیر اطلاعات فواد چوہدری وزارت اعلی کی تبدیلی کے سب سے بڑے حامی ہیں، پارٹی کے سیکریٹری جنرل، اسد عمر، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور بھی صوبے میں تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔

    فواد چوہدری اورعمران اسماعیل ناراض اراکین کی سفارشات لے کر بنی گالہ پہنچ گئے

    جبکہ وفاقی وزیر پرویز خٹک بھی گورننس کے معاملات اور پارٹی امیج بہتر بنانے کے لیے عثمان بزدار کی تبدیلی کے حامی ہیں جب کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی پنجاب میں پارٹی کی متحرک شخصیت کو وزیر اعلی دیکھنا چاہتے ہیں۔

    سینئر قیادت کی تجویز ہے کہ علیم خان اور ترین گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے سے مقتدر حلقے بھی راضی ہیں اس لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرنا ہی بہتر ہوگا –

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم تمام سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کریں گےتاہم پنجاب میں عثمان بزدار کی جگہ پی ٹی آئی کا ہی وزیر اعلیٰ لایا جائے گا جبکہ اس حوالے سے مسلم لیگ ق بروقت فیصلہ نہیں کرسکی اس لیے تحریک انصاف کی جانب سے اپنی حکمت عملی طے کر لی گئی پنجاب میں حکومت خود تبدیلی لائے گی-

    پی ٹی آئی کارکن کے خلاف اپنی ہی پارٹی کی عہدیدار خاتون کو ہراساں کرنےکا مقدمہ

    ادھروفاق میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے میں جہانگیر ترین اور علیم گروپ نے بھی بھرپور حمایت کا عندیہ دیا ہے، ترین اور علیم گروپ کی جانب سے اپوزیشن کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

    دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد آج جمع کرانے کا فیصلہ کچھ دیر میں ہوگا جبکہ اس متعلق مولانا فضل الرحمان اور میاں شہباز شریف نے الگ الگ پارٹی اجلاس طلب کیے ہیں-

    اپوزیشن کی لیگل ٹیم نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کر لیا۔ مسودہ آصف زرداری،مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کو ارسال بھی کردیاگیارکن لیگل ٹیم کا کہنا ہےکہ تحریک عدم اعتماد سےمتعلق لیگل ٹیم نے3 تحاریک کےمسودے تیار کیےہیں تحریک وزیراعظم،اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے خلاف تیار کی گئیں۔

    وزیر اعظم ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر میں سے کس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پہلے پیش کی جائے گی، یہ فیصلہ اپوزیشن کی قیادت مشاورت سےکرے گی۔

    عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل

  • پی ٹی آئی کارکن کے خلاف اپنی ہی پارٹی کی عہدیدار خاتون کو ہراساں کرنےکا مقدمہ

    پی ٹی آئی کارکن کے خلاف اپنی ہی پارٹی کی عہدیدار خاتون کو ہراساں کرنےکا مقدمہ

    کراچی: پی ٹی آئی کے کارکن سمیت دیگر نامعلوم افراد کے خلاف اپنی ہی خواتین ونگ کی عہدیدار کو ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے پی ٹی آئی خواتین ونگ کی عہدیدار صنوبر فرحان کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 293 بجرم دفعات 354 ، 504 اور 506/34 کے تحت پی ٹی آئی کے کارکن ارسل اور دیگر نامعلوم صورت شناس افراد کے خلاف درج کرلیا۔

    مدعیہ کے مطابق وہ پی ٹی آئی لیڈیز ونگ کی ورکر ہے اور 6 مارچ کو قائد آباد چوک ملیر پل کے نیچے لیڈیز کنٹینر پر موجود تھی جو کہ پی ٹی آئی کے جلوس کے استقبال کے سلسلے میں لگایا گیا تھا ، میرے ہمراہ کنٹینر پر امبرین سمیت دیگر خواتین ورکرز بھی تھیں کہ پی ٹی آئی کا کارکن ارسل خان اور اس کے دیگر 10 سے 12 نامعلوم ساتھی آئے اور کنٹینر پر چڑھ گئے اور مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا ، اس دوران میرے ساتھ نازیبا حرکات ، غلط قسم کی زبان استعمال اور ہراساں کیا اور کنٹینر سے نیچے اتر کر بھی گالم گلوچ کرتے ہوئےدھمکیاں دیں۔

    پی ٹی آئی میں ورکر کی تذلیل کی جاتی ہے۔لیلی پروین نے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا

    مدعیہ کے مطابق یہ تمام واقعہ میری دوست امبرین اور دیگر خواتین ورکرز نے بھی دیکھا ، بعدازاں پارٹی عہدیداران کو بتایا۔ پولیس نے خاتون ورکر کی جانب سے نامزد ملزم سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی کی سابق مقامی رہنما لیلیٰ پروین نے بھی یہ کہتے ہوئے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی میں ورکر کی تذلیل کی جاتی ہےانہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پارٹی میں ورکرز کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا بلکہ عزت ہی نہیں کی جاتی ، لیلیٰ‌پروین نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے پارٹی سربراہ عمران خان پر بھی الزامات لگائے تھے کہ کرپشن کم نہیں ہوئی اور پھر مسائل بھی ویسے کے ویسے ہیں‌-

    وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج

  • وزیراعظم نےسینئر پارٹی رہنماؤں کو کل وزیر اعظم ہاؤس طلب کرلیا

    وزیراعظم نےسینئر پارٹی رہنماؤں کو کل وزیر اعظم ہاؤس طلب کرلیا

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے ناراض ارکان اور اپوزیشن جماعتوں کی صف بندی کے پیش نظر سینئر پارٹی رہنماؤں کو کل وزیر اعظم ہاؤس طلب کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عمران خان کی جانب سے مذکورہ فیصلہ ملکی سیاست میں رونما ہونے والی سیاسی ہلچل کے تناظر میں لیا گیا ہے ایک جانب تحریک انصاف کے ناراض رہنما علیم خان نے ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کردیا اور دوسری جانب اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تاریخ پر اتفاق کیا ہے۔

    عدم اعتماد والے شوق پورا کر لیں،وزیراعظم

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے موجودہ صورتحال میں سینئر پارٹی رہنماؤں سے پھر مشاورت کافیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں اپوزیشن کی ممکنہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کی حکمت عملی پربھی غور ہوگا۔

    واضح رہے کہ کل ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس پہلے ہی ملتوی کیا جا چکا ہے۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شاہ محمودقریشی ، اسد عمر، پرویز خٹک، بابر اعوان، گورنر خیبرپختونخوا، گورنر سندھ اورپنجاب نے اجلاس میں شرکت کی تھی اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیاگیا تھا-

    وزیر اعظم کا یورپی یونین کونسل سے یوکرین تنازع پرتشویش کا اظہار

    مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قانونی امور پر بریفنگ دی،وزیراعظم عمران خان اجلاس کے دوران پر اعتماد نظر آئے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چوروں کا ایجنڈا ناکام بنا دیں گے،عدم اعتماد والے شوق پورا کر لیں، ہماری تیاری مکمل ہے،جمہوری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،جن کو مقدمات سے خطرہ ہے وہ لوٹی ہوئی دولت سے انقلاب نہیں لا سکتے وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب صوبہ کا بل قومی اسمبلی لانے کا فیصلہ کیا اورقانونی و پارلیمانی ٹیم سے بل کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کی-

    پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گرا لی

  • پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گرا لی

    پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گرا لی

    پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گرا لی-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے پی پی 26 جہلم کے سرگرم رہنما پیر سید امیرحمزہ کرمانی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آستانہ عالیہ پیر پشاوری عید گاہ جہلم کینٹ کے سجادہ نشین پیر سید امیر حمزہ کرمانی کی پی پی پی شمولیت پر مبارک باد ی-


    قبل ازیں وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی ندیم افضل چن نے پیپلزپارٹی میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی ہے-

    دوسری جانب بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد جمہوری ہتھیار ہے، ہٹا کر الیکشن ریفارمز کر کے آزادانہ شفاف انتخابات ہمارا مقصد ہے۔ مارچ کے نتائج نظر آنا شروع ہو گئے ہیں-

    پی پی پی چئیرمین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بہت پریشان ہیں، دھمکیاں دینے پر آ گئے ہیں مگر وہ اب خود کو نہیں بچا سکتے، دھمکی جو وہ دے رہے ہیں وہ جیالوں کو نہیں جانتے جو آمروں سے ٹکراتے ہیں،

    نجی ٹی وی کی اینکر کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال علیم خان کی ساتھیوں سمیت جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت۔۔ کیا پنجاب میں پہلے عدم اعتماد آ سکتی ہے؟ کے جواب میں بلاول نے کہا کہ ہمارا نشانہ وزیراعظم ہے، طے یہی ہوا ہے مگر سیاسی کمیٹی طے کرے گی آج آصف زرداری، شہباز مولانا ملاقات کیں چیزیں سامنے آ جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ پہلے سے سب طے ہے، کوئی کنفیوژن نہیں ہے، پی پی پی کا وزیراعظم کا کوئی امیدوار نہیں ہو گا، وزیراعظم کا امیدوار اپوزیشن کا مشترکہ ہو گا اور وہ اکثریتی جماعت مسلم لیگ ن اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف ہے سندھ حکومت ہمارے پاس ہے، پنجاب حکومت میں تبدیلیاں آئیں گی، بلوچستان میں باپ اور مولانا کا اتحاد ہے۔۔ سب فیصلے مل کر ہوں گے اور ہم جلد از جلد انتخابات چاہتے ہیں۔ فری اینڈ فیئر الیکشن۔۔ سلیکشن نہیں،

    کیا اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہے؟ کے جواب میں بلاول زرداری نے کہا کہ امتحان آنے والا ہے، عدم اعتماد میں سب پتہ چل جائے گا، یہ سفر ایک دن کا نہیں، پارلیمان کی اسپیس واپس لینا پڑے گی جو راتوں رات نہیں ہو سکتا۔