Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے ماضی کو دیکھیں،عظمی بخاری

    کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے ماضی کو دیکھیں،عظمی بخاری

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ سیاسی اختلافات کو جھوٹے الزامات اور سوشل میڈیا مہمات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بیانات اور الزامات کی تصدیق کر کے بات کرنی چاہیے، جبکہ حکومت پر تنقید پالیسیوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے، یہ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ بغیر تصدیق کے باتیں پھیلاتے ہیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے ماضی کو دیکھیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو بھی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، تاہم مثبت سیاست میں پالیسیوں پر تنقید کی گنجائش موجود ہے اگر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی جائے تو اسے خوش دلی سے سنا جا سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر بنائی گئی غیر مصدقہ باتوں کو اسمبلی میں لا کر پیش کرنا درست نہیں منتخب نمائندوں کو ان لوگوں کو جواب دینا پڑتا ہے جو نہ اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں،بعض سیاسی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر اپنی پوزیشن واضح کرنے اور وضاحتیں دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اگر سیاسی کارکن مثبت انداز میں سیا ست کریں اور عوامی مسائل پر بات کریں تو بہتر ہوگا،الزامات لگانے سے پہلے حقائق کی جانچ ضروری ہے۔

    کسانوں کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے ماضی کی حکومتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ سابق دور میں بھی سیلاب جیسے بحران آئے، تاہم اس وقت کیے گئے بعض اقدامات اور بیانات کو عوام آج بھی یاد رکھتے ہیں،موجودہ حکومت کسانوں اور دیگر شعبوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور بجٹ میں عوامی ریلیف کو ترجیح دی گئی ہے۔

  • پارٹی پالیسی سے متصادم بیانات پرڈاکٹر زرقاء کو شوکاز نوٹس جاری

    پارٹی پالیسی سے متصادم بیانات پرڈاکٹر زرقاء کو شوکاز نوٹس جاری

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما سینیٹر ڈاکٹر زرقاء کو پارٹی پالیسی سے متصادم بیانات دینے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، جس میں ان سے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق دیئے گئے بیانات پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    سینیٹر ڈاکٹر زرقاء کو نوٹس پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے دستخط سے جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ فلور پر دیا گیا بیان پارٹی مؤقف سے متصادم ہے شوکاز نوٹس میں آزاد کشمیر کے عوام سے متعلق استعمال کی گئی زبان پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ سینیٹ میں کی گئی تقریر اور بعد ازاں میڈیا پر دیئے گئے بیانات کو بھی نوٹس کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    پارٹی مؤقف کے مطابق ذاتی آراء کو پارلیمانی پلیٹ فارم سے پیش کرنے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے پارٹی بیانیے کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قومی اہمیت کے حساس معاملات پر پارٹی پالیسی کی پابندی لازم ہے، جبکہ آئندہ غیر مجاز بیانات سے گریز کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور ڈاکٹر زرقاء سے 7 روز میں تحریری جواب طلب کیا گیا ہے، پارٹی قیادت نے ہدایت کی ہے کہ حساس قومی و علاقائی معاملات پہلے پارٹی فورم پر اٹھائے جائیں اور عوامی سطح پر بیان بازی سے اجتناب کیا جائے۔

  • پارلیمانی پارٹی میں اختلافات: وزیراعلیٰ  سہیل آفریدی نے کل اجلاس طلب کر لیا

    پارلیمانی پارٹی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کل اجلاس طلب کر لیا

    تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کی اطلاعات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے کل شام 7 بجے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی ہے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اندرونی اختلافات کی اطلاعات کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی وزراء ناراض ارکان اسمبلی سے رابطے کر کے انہیں منانے کی کوششیں کر رہے ہیں ،دوسری جانب ناراض ارکان نے بھی باہمی مشاورت کے لیے کل سہ پہر 4 بجے اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ سے قبل ناراض ارکان کے گروپ کا سامنے آنا وزیراعلیٰ کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے جبکہ اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی آزاد حیثیت بھی ناراض ارکان کو اہم کردار دے سکتی ہے۔

  • بشریٰ بی بی نے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کے لیے نئی درخواست دائر کردی

    بشریٰ بی بی نے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کے لیے نئی درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فوری فیصلے کے لیے متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری کے بعد سزا معطلی درخواست پر جلد فیصلہ کرانے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے-

    بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے دائر اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی مؤکلہ کی سزا سات سال ہے جو کہ کم سزا کے زمرے میں آتی ہے، لہٰذا حالیہ طبی صورتحال اور میڈیکل ایمرجنسی کے پیش نظر سزا معطلی کی درخواست پر جلد فیصلہ سنایا جائے درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری پنڈی کے الشفا آئی اسپتال میں کی گئی، سرجری سے پہلے کسی فیملی ممبر کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر وکیل اور فیملی ممبر کو آگاہ کرنا ضروری ہے، بغیر کسی کو آگاہ کیے بشریٰ بی بی کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اچانک فیملی کو بتایا گیا جس کے بعد فیملی نے جیل میں ملاقات کی بشریٰ بی بی کی فیملی نے ملاقات کے بعد دیکھا کہ ان کو کالی عینک لگا کر بیٹھا دیا گیا ہے اور ان کی میڈ یکل کنڈیشن سیریس نوعیت کی ہے۔

    عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ ڈاکٹروں یا جیل حکام کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، بشریٰ بی بی خاتون ہیں اور ان کی سزا بھی سات سال ہے جو کم کے زمرے میں آتی ہے۔

    وکیل نے مؤقف اپنایا ہے کہ جیل حکام نے عدالتی حکم کے باوجود مجھے جیل میں بشریٰ بی بی تک رسائی نہیں دی، 15 مئی 2025 سے زیر التوا بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کریں اور بشریٰ بی بی تک فیملی اور وکیل کو رسائی دی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے ذرائع نے بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن نجی اسپتال میں کیا گیا اور انہیں واپس جیل منتقل کردیا گیا ہے جیل ذرائع نے بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی نے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی شکایت کی تھی جس پر جیل انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ماہرین چشم سے ان کا معائنہ کرایا۔

    اس حوالے سے مزید بتایا تھا کہ سرجری سے قبل ضروری ٹیسٹ اور طبی معائنہ مکمل کیا گیا، جس کے بعد مریضہ کی رضامندی سے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پینل نے آنکھ کا آپریشن کیا، سرجری اور ایک رات اسپتال میں قیام کے بعد مطمئن حالت میں مریضہ کو ڈسچارج کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بالترتیب 14 اور 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان پر 10 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید ہوگی، اسی طرح بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ کردیا گیا تھا اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 3 ماہ قید ہوگی۔

  • عمران خان  فارن فنڈنگ کیس میں مرکزی ملزم قرار

    عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں مرکزی ملزم قرار

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس میں مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے 57 صفحات پر مشتمل چالان تیار کرلیا گیا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے کیس کا چالان تیار کر لیا گیا ہے جو کل تک عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا،فارن فنڈنگ کیس کا چالان 57 صفحات پر مشتمل ہے جس میں مجموعی طور پر 11 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے چالان میں طارق شفیع، حامد زمان سمیت دیگر افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جب کہ 3 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے جن میں عارف نقوی اور طارق رحیم شیخ سمیت دیگر شامل ہیں، دنیا کے مختلف ممالک سے پی ٹی آئی اکاؤنٹ میں 1800 ٹرانزیکشنز ہوئیں اور یہ رقم ’نیا پاکستان‘ کے نام سے موصول ہوئی، ملزمان پر 2.1 ملین ڈالر کی غیرقانونی فنڈنگ کا الزام ہے جبکہ پی ٹی آئی کو 2.1 ملین ڈالر کی رقم ’ووٹ آن کرکٹ لمیٹڈ‘ نامی کمپنی نے بھی بھیجی۔

    ایف آئی اے چالان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ ریکارڈ میں اس کمپنی کی ملکیت عارف نقوی کے نام ظاہر کی گئی ہے اور پارٹی کے جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق کمپنی کیمن آئرلینڈ میں رجسٹرڈ بتائی گئی ہے مذکورہ کمپنی فیک ہے اور کہیں رجسٹرڈ نہیں پائی گئی ذرائع کے مطابق اسپیشل کورٹ نے ایف آئی اے کو چالان جمع کروانے کی ہدایت دے رکھی ہے، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    دوسری جانب بینکنگ عدالت اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی و دیگر کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی جہاں خصوصی عدالت کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کیس کی سماعت کی اس دوران اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ چالان کی کیا صورتحال ہے، جس پر پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت کو بتایا کہ چالان مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے اور ان کی جانب سے آج یا کل تک رجسٹرار کے پاس جمع کروا دیا جائے گا۔

    بعد ازاں عدالت نے مرکزی کیس کی سماعت 21 اپریل تک ملتوی کر دی جبکہ کیس میں نامزد ملزمان سراج احمد اور فیصل قاضی کی عبوری ضمانت میں بھی 21 اپریل تک توسیع کر دی گئی سماعت کے دوران ملزم فیصل قاضی کی عدم دستیابی کے باعث ضمانت کی درخواست پر دلائل نہ ہو سکے۔

    اس موقع پر پراسکیوٹر واثق ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو بتائے بغیر ملزم بیرون ملک کیسے جا سکتا ہے۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ فیصل قاضی ایک نجی بینک کے دبئی میں ہیڈ ہیں اور ہر سماعت پر پاکستان آتے ہیں اس پر جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ آئندہ پیشی پر اگر ملزم پیش نہ ہوا تو معاملہ دیکھا جائے گا۔

  • تحریک انصاف کی راولپنڈی میں  جلسے کی درخواست مسترد

    تحریک انصاف کی راولپنڈی میں جلسے کی درخواست مسترد

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے لیاقت باغ میں جلسے کے لیے این او سی کی درخواست مسترد کر دی-

    انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی موجودہ صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی (DIC) کے اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا گیا، جس میں موجودہ خطرے کے اسپیکٹرم کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی اجتماعات میں شرکا کے جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں راولپنڈی میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے جب کہ لیاقت باغ کی سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے حفاظتی وسائل کی بڑے پیمانے پر تعیناتی حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت ممکن نہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق موجودہ حالات میں عوامی اجتماع کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری انتظامی، لاجسٹک اور مالی ضروریات کو پورا کرنا ایک چیلنج ہے، اسی لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں جلسے کے این او سی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 9 اپریل کے جلسے کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ پارٹی کے مطابق پرامن جلسہ ہر سیاسی جماعت کا بنیادی آئینی حق ہے۔

    پی ٹی آئی راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ صدر عاقل خان نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں جلسے کے اجازت نامے سے انکار کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  • عمران خان اپنی بہنوں کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر نہیں آ سکتے،شیر افضل مروت

    عمران خان اپنی بہنوں کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر نہیں آ سکتے،شیر افضل مروت

    رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی بہنوں کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بھائی عطا کیے تھے جبکہ عمران خان کو بہنیں نصیب ہوئی ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے عمران خان جیل سے باہر نہیں آسکتے، علی امین گنڈ پور کو ہٹانے کیلئے پارٹی نے الزام تراشیاں کی تھیں اب ایسے بند ےکو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہےجو پرائمری اسکول نہیں چلا سکتا موجودہ وزیراعلیٰ کے پی6 ماہ میں اپنی کابینہ بھی نہیں بنا سکے ہیں کس وزیراعلیٰ کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں ہوتے؟ علی امین گنڈاپور پر اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کا الزام لگاتے ہیں موجودہ وزیراعلیٰ تو اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں میں 10 قدم آگے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شدید مخالفت کے باوجود خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کرلیا، کابینہ میں مزید 14 ارکان کو شامل کیا جائے گا۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق پشاور سے سابق وزیر صحت، سوشل ویلفیئر و عشر زکوٰۃ سید قاسم علی شاہ کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جنوبی وزیرستان سے آصف محسود، ٹانک سے عثمان بیٹنی، کرک سے خورشید خٹک کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، کابینہ توسیع میں چارسدہ سے افتخار اللہ جان، مرد ان سے طارق آریانی اور احتشام خان کو شامل کیا جائے گا دیر سے ہمایوں خان، سوات سے میاں شرافت علی، مالاکنڈ سے پیر مصور کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، ہزارہ ڈویژن سے افتخار جدون اور اکرام غازی کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، کابینہ توسیع میں الیکشن میں ہارے دو ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا،خیبرپختونخوا کابینہ توسیع کا نوٹیفکشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

  • بشریٰ بی بی بھی آنکھ کی تکلیف میں مبتلا، اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ

    بشریٰ بی بی بھی آنکھ کی تکلیف میں مبتلا، اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا گیا، انہوں نے دائیں آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی تھی۔

    جیل ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کا پمز اسپتال کے سربراہ شعبہ چشم ڈاکٹر محمد عارف خان نے معائنہ کیا بشریٰ بی بی کو دائیں آنکھ سے دھندلا نظر آرہا تھا، مریضہ نے سر درد کی شکایت بھی کی تھی، پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف خان نے جیل میں پہنچ کر بشریٰ بی بی کا تفصیلی معائنہ کیاڈاکٹرز نے بشریٰ بی بی کو مخصوص آئی ڈراپس اور ادویات تجویز کر دی ہیں، بشریٰ بی بی کو ڈاکٹر نے مختلف احتیاط تجویز کی ہیں، ڈاکٹر نے بشریٰ بی بی کو ہدایت کی کہ وہ مطالعے کے لیے روشن جگہ کا استعمال کریں تاکہ آنکھوں پر دباؤ کم ہو، 4 ہفتوں بعد دوبارہ معائنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ  گرفتار

    پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ گرفتار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق عالیہ حمزہ کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا عالیہ حمزہ ملک لاہور میں اپنی فیملی سے ملاقات کے لیے آئی تھیں کہ اسی دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا گرفتاری کے بعد عالیہ حمزہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے تاہم تاحال حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ رہنما تحریک انصاف عالیہ حمزہ 9 مئی کے مختلف مقدمات میں سزا یافتہ تھیں، عالیہ حمزہ کو 9 مئی کے مختلف مقدمات میں 10، 10 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

  • 26 نومبر احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    26 نومبر احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی:انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 9 اپریل تک توسیع کر دی۔

    کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے،وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ بشریٰ بی بی کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش کیا جائے، مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے تاحال انہیں کسی بھی مقدمے میں شامل تفتیش نہیں کیا،جس پر عدالت نے حکم دیا کہ 29 مقدمات میں بشریٰ بی بی کو شوہر اور وکلا کی موجودگی میں شامل تفتیش کیا جائے۔

    دریں اثنا انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 7 اپریل تک ملتوی کردی-

    کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی جبکہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور شیریں مزاری عدالت میں پیش ہوئے، دیگر ملزمان کی عدالت میں حاضری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

    سماعت کے دوران آج بھی اڈیالہ جیل اور عدالت کے درمیان ویڈیو لنک سسٹم فعال نہ ہو سکا جس کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی عدالت نے آئندہ سماعت پر ویڈیو لنک سسٹم کو فعال بنانے کی ہدایت جاری کر دی،عدالت کو بتایا گیا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی کیس میں اب تک 119 گواہوں میں سے 44 کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

    وکیل صفائی کے مطابق ویڈیو لنک ٹرائل سے متعلق نوٹیفکیشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جس پر آئندہ سماعت میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔