Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے اور آنکھ کے گرد سوجن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

    نورین خانم نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ اتوار کی دوپہر Imran Khan کا طبی معائنہ Adyala Jail کے اندر کیا گیا، جہاں خصوصی طور پر slit lamp، OCT scan مشین اور مکمل سہولیات سے لیس ہیوی ایمبولینس بھی موقع پر پہنچائی گئی۔

    ڈاکٹر عارف (PIMS) اور ڈاکٹر ندیم قریشی (الشفا) نے جیل کے اندر فزیکل ایگزامینیشن کی بعد ازاں انہوں نے سینئر ڈاکٹروں کو اپنی رپورٹ سے آگاہ کیا، جن میں ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر مرزا شامل تھے جو کانفرنس کال کے ذریعے شریک ہوئے، بیرسٹر گوہر بھی اس تمام پیشرفت سے آگاہ ہیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق!سوجن میں کمی آئی ہے، بینائی میں بہتری آ رہی ہے، تاحال کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی،تاہم Shifa International Hospitals کے ڈاکٹرز اب بھی محتاط ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو شفا منتقل کیا جائے گا، انہیں وہاں نہیں لایا گیا شفا کے ریٹینا اسپیشلسٹس جن میں ڈاکٹر امیر اعوان بھی شامل ہیں آج رات دیر تک اسٹینڈ بائی رہے، مگر عمران خان کو منتقل نہیں کیا گیا

    Eylea انجیکشن کی ایک ڈوز دی جا چکی ہے، جبکہ دوسری ڈوز 25 فروری کو دی جائے گی، ماہرین بشمول ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق Vabysmo زیادہ طاقتور اور مؤثر ہو سکتا ہے، اور یہ رائے PIMS کے CEO اور ریٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی تک پہنچا دی گئی ہے تاہم فی الحال Eylea ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

    اگلا مرحلہ angiogram کا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ لیزر ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے یا نہیں،عمران خان کی دائیں آنکھ کی صحت سے متعلق ہماری تشویش برقرار ہے، اور شفافیت کے ساتھ خان صاحب کی زاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج کی جائے-

  • مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر مراد سعید نے حلف اٹھائے بغیر سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

    پی ٹی آئی سینیٹر مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو ارسال کر دیا ہےمراد سعید جولائی 2025 میں خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کی حمایت سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم اس کے بعد وہ ایوان بالا میں نہیں آئے اور حلف بھی نہیں اٹھایامراد سعید پی ٹی آئی کے 6 سینیٹرز میں شامل تھے جن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 24 جولائی 2025 کو جاری کیا گیا تھاالیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ نومنتخب سینیٹرز کی مدت اپریل 2030 میں ختم ہوگی۔

    وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،صدر مملکت

    صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، طارق فضل چوہدری

    خیبر پختونخوا: بھارتی ترانہ گانے پر 4 طلبہ یونیورسٹی سے فارغ

  • حکومت کی کوشش ہے کہ 9 مئی جیسے واقعات کی فضا پیدا کی جائے،سہیل آفریدی

    حکومت کی کوشش ہے کہ 9 مئی جیسے واقعات کی فضا پیدا کی جائے،سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے علاج کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سنگین نتائج جنم دے سکتی ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پورے پاکستان میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور اپنے آج اور مستقبل کی بات کر رہے ہیں، تاہم سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وفاقی حکومت کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کیا جائے اور اس میں اپنے عناصر شامل کر کے 9 مئی جیسے واقعات کی فضا پیدا کی جائے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کارکنان مکمل طور پر پرامن ہیں، گزشتہ دو دنوں سے مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہے لیکن اب تک کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ذمہ دار اور پرامن ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود حکومتی تاخیری حربے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ نیت صاف نہیں، ہم بار بار واضح کر چکے ہیں کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے، ان کا علاج ذاتی معالج کی نگرانی میں اور اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر کیا جانا ان کا بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے، یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر جتنی تاخیر کی جائے گی اتنا ہی ملک کے حالات حکومت اپنے ہاتھوں سے خراب کرے گی، جب عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں تو علاج میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بنتی، اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو وہ چھپ نہیں سکے گی اور اگر کوئی غلطی نہیں ہوئی تو تاخیر کی ضرورت ہی کیا ہے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم اپنے کارکنان کو مسلسل ہدایت دے رہے ہیں کہ کسی بھی اشتعال انگیزی یا انتشار پھیلانے کی کوشش کو ناکام بنائیں، اگر کوئی شرپسند عناصر احتجاجی صفوں میں گھسنے کی کوشش کریں تو انہیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد آئینی، قانونی اور پرامن ہے اور رہے گی، اگر قوم اور پارٹی کو مطمئن نہیں کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ پارٹی قیادت مشاورت سے کرے گی حکومت جان بوجھ کر پینک پیدا کرنا چاہتی ہے جو نہایت خطرناک طرز عمل ہے، ماضی میں تشدد اور گولیوں کے واقعات سب کے سامنے ہیں، اس لیے حکومت کو انسانی جانوں سے کھیلنے سے باز رہنا ہوگا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس پر تالوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ لنگڑی جمہوریت کی علامت ہے جسے موجودہ حکمرانوں نے خود بند گلی میں دھکیل دیا ہے اور یہ تالا انہیں سیاسی طور پر بہت مہنگا پڑے گاسپریم کورٹ کے احکامات پر فوری عمل ہی ملک میں استحکام کی واحد ضمانت ہے اور مزید تاخیر سنگین نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔

  • عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے ہیں، عطا تارڑ

    عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے ہیں، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق ،حقائق سامنے آنے کے بعد منفی پروپیگنڈا دم توڑ چکا ہے۔

    عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی جیل میں مبینہ بدسلوکی اور خراب حالات سے متعلق بیانیہ بے بنیاد ثابت ہوا ہے اور روزمرہ معمولات اور خوراک سے متعلق رپورٹ نے تمام ابہام دور کر دیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ علیمہ خان اور عمران خان کے اہلِ خانہ کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا میں جیل میں ناروا سلوک اور ناقص حالات سے متعلق جو بیانیہ پیش کیا جا رہا تھا، وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کے روزمرہ معمولات اور خوراک کے منصوبے سے متعلق جاری کی گئی رپورٹ نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے ہیں، سا بق وزیراعظم کو جیل میں تمام سہولیات میسر ہیں اور انہیں دیگر قیدیوں کی نسبت زیادہ مراعات حاصل ہیں،حقائق سامنے آنے کے بعد منفی پروپیگنڈا دم توڑ چکا ہے۔

  • اسلام آباد دھماکہ: پی ٹی آئی کا مجلس وحدت مسلمین کے ملک گیر سوگ و احتجاج کی حمایت کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں پیش آنے والے المناک بم دھماکے میں درجنوں معصوم شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے 7 فروری 2026 بروز ہفتہ دی گئی ملک گیر سوگ اور احتجاج کی کال کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان کے مطابق معصوم شہریوں، نمازیوں اور عبادت گزاروں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے دہشتگردی کے اس وحشیانہ واقعے نے ایک بار پھر ریاستی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور انسدادِ دہشتگردی کے مؤثر اقدامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ وہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اس سانحے کے خلاف پرامن، جمہوری اور آئینی احتجاج کو عوام کا حق سمجھتی ہے،پارٹی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوگ اور احتجاج کے دوران اتحاد، نظم و ضبط اور پرامن طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں۔

    پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف، فوری اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کا راستہ روکا جا سکے۔

  • علیمہ خان  کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    علیمہ خان کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے ایس پی راول کو ملزمہ کو گرفتار کرکے کل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹ، شناختی کارڈ جب تک ڈی فریز نہیں ہوں گے وہ عدالت پیش نہیں ہوں گی۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتیں، نہ عدالت کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، ملزمہ پیش ہی نہیں ہو رہیں تو شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کیسے ڈی فریز کیے جائیں؟،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہو ئے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    عدالت نے کہا کہ ملزمہ جب تک عدالت میں پیش نہیں ہوں گی بینک اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ بلاک رہیں گے ، بعد ازاں عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  • عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص

    عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کی تشخیص ہوئی ہے

    ماہرین امراض چشم کے مطابق یہ عارضہ عموماً عمر رسیدہ افراد میں پایا جاتا ہے اور اس کا تعلق دل اور خون کی نالیوں سے جڑے خطراتی عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے ہوتا ہے سی آر وی او اس وقت ہوتا ہے جب ریٹینا (آنکھ کے پردے) سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ، جسے سینٹرل ریٹینل وین کہا جاتا ہے، بند ہو جاتی ہے، جو عموماً خون کے لوتھڑے (clot) کے باعث ہوتا ہے اس رکاوٹ کے نتیجے میں خون کی روانی متاثر ہو جاتی ہے، جس سے ریٹینا میں سوجن، رطوبت اور خون کا رساؤ اور بعض اوقات آنکھ کے اندر خون بہنے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اس کے باعث نظر اچانک یا بتدریج کمزور ہو سکتی ہے۔

    سی‌آر وی او کے مریضوں کو قریبی اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کچھ مریضوں میں چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اس بیماری کو بعض اوقات غیر رسمی طور پر “سو دن کا گلوکوما” بھی کہا جاتا ہے، جو دراصل نیو ویسکیولر گلوکوما کی طرف اشارہ ہے یہ ایک پیچیدگی ہے جو شدید ریٹینل وین اوکلوژن کے بعد پیدا ہو سکتی ہے، جب غیر معمولی نئی خون کی نالیاں بنتی ہیں اور آنکھ کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار

    ماہرِ چشم جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ یہ صرف آنکھوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ جسم میں موجود خون کی نالیوں کی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے، اس لیے مریض کی مجموعی صحت کی سخت نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

    عمران خان کے معاملے میں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی نظر کم ہونے پر تفصیلی معائنہ کیا گیا، جس میں ریٹینا کی امیجنگ اور آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (OCT) شامل تھی یہ معائنہ اڈیالہ جیل میں کیا گیا ان نتائج کی بنیاد پر ڈاکٹروں نے اسپتال میں فالو اَپ علاج کا مشورہ دیا، جس کے بعد گزشتہ ہفتے رات گئے انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تاکہ تجویز کردہ طریقۂ علاج کیا جا سکے۔

    پمز میں عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف دوا کا آنکھ کے اندر انجیکشن دیا گیا، جو ریٹینا کی سوجن (جسے میکولر ایڈیما کہا جاتا ہے) کم کرنے اور خون کی نالیوں سے ہونے والے رساؤ کے باعث مزید نقصان کو روکنے کے لیے ایک معیاری علاج ہے ماہرِ چشم کے مطابق اس نوعیت کے انجیکشن عموماً ماہانہ بنیادوں پر لگانے پڑتے ہیں، خاص طور پر علاج کے ابتدائی مرحلے میں،زیادہ امکان ہے کہ انہیں ہر ماہ مزید انجیکشنز کی ضرورت پڑے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریٹینا علاج پر کس طرح ردِعمل دیتا ہے۔

    انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

  • پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    مشال یوسفزئی نے انکشاف کیا ہے کہ شیخ وقاص اکرم کے ذریعے جاری پریس ریلیز میں وہ تمام اہم فیصلے غائب ہیں جو کور کمیٹی کی میٹنگ میں طے پائے تھے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کی گئی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کور کمیٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں 2 گھنٹے طویل نشست کے بعد لیے گئے فیصلے شامل نہیں ہیں اور یہ پریس ریلیز اصل میٹنگ کے منٹس سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس میں عمران خان کے احکامات، ملاقاتوں یا شوکت خانم کے ڈاکٹروں کی رسائی کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں ہے۔

    ملائیشین مذہبی امور کے وزیر کے ہم جنس پرستی کے بیان نے شدید تنازع کھڑا کر دیا

    مشال یوسفزئی نے کہا کہ شیخ وقاص اکرم کے ذریعے جاری پریس ریلیز میں وہ تمام اہم فیصلے غائب ہیں جو کور کمیٹی کی میٹنگ میں طے پائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پریس ریلیز میں جو معلومات دی گئی ہیں، وہ حقیقت سے مختلف ہیں اور میٹنگ کے اصل منٹس سے مطابقت نہیں رکھتیں، میٹنگ میں کئی دیگر اہم امور پر بات ہوئی جو پریس ریلیز میں شامل نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے پارٹی کے اندرونی فیصلوں کی مکمل تصویر عوام کے سامنے نہیں آ رہی۔

    بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    یہ واضح رہے کہ پریس ریلیز پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کی جانب سے جاری کی گئی تھی، تاہم مشال یوسفزئی کے مطابق اس میں کور کمیٹی کی میٹنگ میں ہونے والے حقیقی فیصلوں کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔

  • پی ٹی آئی کے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پی ٹی آئی کے اندر 5 سے 6 چھوٹے چھوٹے گروپس بن چکے ہیں-

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے اور اس کے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے جماعت کے اندر 5 سے 6 چھوٹے چھوٹے گروپس بن چکے ہیں اور ایسے میں 8 فروری کو ان کا احتجاج مؤثر نہیں ہو سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پی ٹی آئی نے بہت شور مچایا لیکن اب ان کی سیاسی طاقت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے تحریک انصاف کو سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث اٹھانا پڑا ہےجس کا خمیازہ پارٹی کو عوامی سطح پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے اب تک کسی قسم کا سنجیدہ جواب سامنے نہیں آیا اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خود نہ لینا ہی پی ٹی آئی کی بددیانتی کو ظاہر کرتا ہے تحریک انصاف سیاسی فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے مگر ذمہ داری لینے سے گریزاں ہےمحمود خان اچکزئی کے ساتھ ان کا اتحاد کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے 8 فروری کو عام انتخابات کے دو سال مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور قوم سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی-

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے،ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنے والے الگ زبان بول رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کےخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے، بہت اچھی بات ہےکہ وہ اپوزیشن لیڈر بنےہیں میں ان کو ویلکم کرتا ہوں، نواز شریف اور شہباز شریف مجھےحق دیتے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرسکتا ہوں حالانکہ کوئی وزیر اعظم اپنے وزرا کو یا ورکرز کو اتنی اسپیس نہیں دیتاجتنی شہبازشریف دیتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ ایک رول ماڈل ہیں۔

    دریں اثنا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں کراچی میں جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ایک موثر نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے ضلع، تحصیل اور وارڈ کی سطح پر منتقل ہوں۔

    خواجہ آصف کے مطابق نہ تو کہیں مؤثر لوکل گورنمنٹ ہے، اور جہاں ہے وہاں بھی اختیارات نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے ملک میں ایک مضبوط اور مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم لانا ضروری ہے،جب تک آپ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو بااختیار نہیں بنائیں گے تب تک یہ ہاؤس بے معنی ہوگا۔ اگر ہم نے واقعی پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنی ہے تو پہلے عوام کو گلی محلے میں نمائندگی دیں۔ جب تک گلی محلے والوں کی نمائندگی نہیں ہوگی تو وہاں کوئی فائربریگیڈ نہیں ہوگا۔ پھر وزارت دفاع کا فائر بریگیڈ آ کر آگ بجھائے گا۔‘

    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے اور اس کے مؤثر نظام کے قیام کی تجویز دی گئی تھی، اور اس پر اتفاق رائے بھی موجود تھا۔ تاہم حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑاستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی فوجی ڈکٹیٹرز آئے تو انہوں نے بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرایا۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف تینوں نے یہ نظام متعارف کرایا۔ ہر 5 سال بعد باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہے ہم لوگ الیکشن ہی نہیں کرواتے اگر شیڈول آ جائے تو ہمارے صوبائی دارالحکومت کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اختیارات نیچے منتقل کرنے سے ہچکچاتے رہتے ہیں بلکہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ یہ پاور گراس روٹ لیول پر نہ جائے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ لوکل گورنمنٹ سے اوپر آئے اور ملک کے صدر بنے ایک پراسیس سے گزر کر چینی قیادت سامنے آئی وہ پیرا شوٹ کے ذریعے نہیں اتری،کراچی میں آگ بجھانے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک کو ایک ایسے سسٹم کی ضرورت ہے تمام ضلعو ں، تحصیلوں، محلوں میں لوکل گورنمنٹ کا نمائندہ ہو اور لوگوں کو شکایت ہو تو وہ اس کے گریبان پر ہاتھ ڈال سکیں اس طرح لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، لوگ بااختیار ہوں گے انہیں حقوق ملیں گے کراچی کا واقعہ خطرے کی گھنٹی ہے ہمیں کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں بامعنی آئینی ترمیم منظور کرکے پوری قوم کو بااختیار کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرائیں۔

    خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت تک یکساں نصاب تعلیم ہو، تاکہ ہماری نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ اپنی صوبائیت کو بھی پہچانے۔ اس میں کوئی مفادات کا تصادم نہیں تھا۔ نصاب تعلیم ایک قومی شناخت دیتا ہے۔ لیکن اسے بھی ہمیں ڈراپ کرنا پڑا کیونکہ اس پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔