Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    حکومت پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں سے متعلق غلط اطلاعات کی نشر کرنے پر برطانوی جریدے "بی بی سی” کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرادی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق 27 نومبر 2024 کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے گمراہ کن اور غلط معلومات نشر کیں، جس پر حکومت نے برطانوی میڈیا ادارے سے وضاحت طلب کی ہے۔

    27 نومبر کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں درجنوں ہلاکتوں کی خبر نشر کی، تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی بی سی نے غلط اعداد و شمار اور گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مبالغہ آرائی کی گئی، اور اس بارے میں عوام کو گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں۔حکومت پاکستان نے اس معاملے پر بی بی سی کی انتظامیہ سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غلط رپورٹنگ کی تصحیح کرے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ "بی بی سی نے تین مختلف رپورٹس میں اس حساس معاملے کو غلط طریقے سے پیش کیا، جس سے نہ صرف عوام میں بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔”حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ میڈیا کا کردار کسی بھی معاشرے میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاملے میں حکومتی ترجمان نے کہا، "صحافتی اقدار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کو درست معلومات مل سکیں۔ بی بی سی کو اس غلط رپورٹنگ پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور اس کی تصحیح کرنی چاہیے۔”پاکستانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ غلط خبر اور گمراہ کن اعداد و شمار کی اشاعت سے میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اور ایسی رپورٹس سے نہ صرف سماجی تنازعات کو ہوا ملتی ہے بلکہ عوامی رائے کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔

    حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ کسی بھی عالمی میڈیا ادارے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس معاملات کو احتیاط سے رپورٹ کرے اور حقائق کو مکمل طور پر درست انداز میں پیش کرے تاکہ معاشرتی امن و سکون میں خلل نہ پڑے۔یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور پاکستان کے میڈیا کے حوالے سے شفافیت کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • عمران خان مزید 7 مقدمات میں گرفتار

    عمران خان مزید 7 مقدمات میں گرفتار

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی،سابق وزیراعظم عمران خان کو 28 ستمبر 4 اکتوبر اور 5 اکتوبر کے سات مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو ئی، قبل ازیں پولیس نے عمران خان کو تھانہ نیو ٹاؤن کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور عمران خان جسمانی ریمانڈ پر تھے،بانی پی ٹی آئی پر 28ستمبرکو جلائو گھیرائو سرکاری املاک پرنقصان پہنچانے کا مقدمہ درج تھا ،راولپنڈی پولیس نے تھانہ نیو ٹاؤن میں درج مقدمہ نمبر 2831 میں جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پرچہ ریمانڈ عدالت میں پیش کیا تھا،

    عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
    بانی پی ٹی آئی عمران خان کا تھانہ نیو ٹاون کے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ مکمل ،بانی پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا،28ستمبر اور 5اکتوبر کےمزید چھے مقدمات میں بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیاگیا،مقدمات پر جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی گئی، سماعت اے ٹی سی جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں کی،عدالت نے پولیس کی جانب سے چھ مقدمات میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی،جن سات کیسز میں عمران خان کی گرفتاری کی گئی ان میں بھی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • پی ٹی آئی کارکنوں کے مجرم علی امین اور بشریٰ بی بی ہیں،عظمیٰ بخاری

    پی ٹی آئی کارکنوں کے مجرم علی امین اور بشریٰ بی بی ہیں،عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈر شپ بزدلی کے آخری درجے پر فائز ہے-

    باغی ٹی وی : عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ مظاہرہ تحریک انصاف کی آخری ناکام بغاوت تھی، جتھوں سے وفاق پر چڑھائی کرنے سے این آر او نہیں ملتے،پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈر شپ بزدلی کے آخری درجے پر فائز ہے، کارکنوں کو چھوڑ کر بھاگنے والے کس منہ سے کارکنوں کا دم بھر رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپنی ذلت، بدنامی کو فیک نیوز، افواہوں کے پیچھے چھپا رہے ہیں، عالمی میڈیا نےدیکھا کارکنوں نےڈنڈے مارے، پتھراؤ کیا،جنھیں شرم سےڈوب مرنا چاہیے وہ پھر بھڑکیں مار رہے، بانی پی ٹی آئی کی جماعت ختم کرنے کے لیے بشریٰ بی بی کافی ہے، شدت پسند، انتشاری ٹولہ دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرنے کی غلطی نہیں دہرائے گا۔

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    دوسری جانب خیبر پخونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کی قیادت پر سب کا پورا اعتماد ہے اور انکی سربراہی میں عمران خان رہائی کی تحریک مزید زور پکڑے گی، سانحہ ڈی چوک کے بعد عمران خان رہائی کی تحریک مزید مضبوط ہوگئی ہے-

    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر

  • اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں کے تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں کے تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں نے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاج میں شریک جل حبیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں نے ہمیں پیسے دے کر ڈی چوک میں توڑ پھوڑ کرنے کیلئے چھوڑا،عابد نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ہمیں یہاں لے کر آئے اور پھر ہمیں چھوڑ کر خود بھاگ گئے، ایک اور شر پسند صدیق نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل ہونے اسلام آباد آیا تھا اور یہاں ہمیں پولیس نے گرفتار کیا لیکن پی ٹی آئی کا کوئی بندہ ہمیں چھڑانے نہیں آیا۔

    ایک شرپسند عباس خان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی والوں کے کہنے پر یہاں آیا لیکن وہ ہمیں یہاں چھوڑ کر بھاگ گئے اور پولیس والے ہمیں یہاں لے آئے لیکن کوئی تشدد نہیں کیا، ایک شرپسند طاہر خان نے کہا کہ ہمارا لیڈر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا اور لوگوں نےبہت توڑ پھوڑ بھی کی لہذا اب سے میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہم سب یہاں پی ٹی آئی کی کال پر آئے تھے لیکن ہمیں بہت ذلالت کا سامنا ہوا اور اب ہم انہیں اپنا لیڈر نہیں مانتے۔

  • پی ٹی آئی کے اندر اختلافات ، شوکت یوسفزئی کا بیان سامنے آگیا

    پی ٹی آئی کے اندر اختلافات ، شوکت یوسفزئی کا بیان سامنے آگیا

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ایسے اختلافات نہیں جس کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔

    باغی ٹی وی: پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشال یوسفزئی کو ہٹانے سے متعلق علم نہیں ،اس سے متعلق صوبائی حکومت کا ترجمان ہی بتا سکتا ہے، مشال یوسفزئی نے کہا کہ میں نے میڈیا کو انٹریو دیا اس لیے ہٹایا گیا۔

    کچھ دن پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے ناکام احتجاج پر کہا تھا کہ احتجاج کے دوران بڑے بڑے عہدوں والے کہاں تھے؟ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ سمیت پنجاب کی لیڈر شپ کہاں غائب رہی ؟ علی امین اور عمر ایوب کے سوا احتجاج میں کوئی سیاسی لیڈر شپ موجود نہیں تھی۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور حکومت سنگجانی میں احتجاج پر راضی تھے لیکن بشریٰ بی بی نے بات کیوں نہیں مانی؟ ہم ڈی چوک کیوں گئے؟ پارٹی کو سیاسی لیڈرشپ چلائے گی یا بشریٰ بی بی،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ مشال یوسفزئی کو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی معاون خصوصی کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہےمشال یوسفزئی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہیں معاونِ خصوصی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہےمجھے نجی ٹی وی کو انٹرویو کی بنیاد پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا ہے۔

  • تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ترقی کا سفر جاری ہے ،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں پی آئی اے برباد ہوئی ، پی ٹی آئی دور حکومت میں پی ٹی آئی کیخلاف باتیں کی گئیں ، حکومت منزلیں عبور کرکے معیشت کو بحال کررہی ہے ،تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ، دنیا کی تاریخ میں اس طرح بھاگنے کی مثال نہیں ملے گی ،ہم نے کہا تھا ڈی چوک پر نہیں آنے دیں گے ،بشریٰ بی بی علی امین گنڈا پور کے ساتھ فرار ہوئیں ، علی امین گنڈا پور نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ، یہ یہاڑوں کو عبور کرکے فرار ہوئے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہا 278 لوگ مارے گئے ،پی ٹی آئی کا ہر رہنما ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف نمبرز بتا رہا ہے ،آج تک کسی جنازے کی ویڈیو سامنے نہیں آئی، کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو خونریزی ہوئی ،ہم نے ڈی چوک کے متبادل جگہ فراہم کرنے کی آفر لی جسے بانی پی ٹی آئی نے تسلیم کیا، لیکن ہجوم دیکھ کر بشریٰ بی بی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئیں، انہوں نے کہا ہم ڈی چوک ہی جائیں گے،

  • کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    کنٹینر سے گرنے والے شر پسند طاہر عباس سے متعلق پی ٹی آئی کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو کے ذریعے پی ٹی آئی نے بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کیا،ویڈیو میں ایک شخص کو کنٹینر سے گرتا دیکھا جا سکتا ہے بعدازاں ویڈیو کو بنیاد بنا کرشرپسند شخص کی موت کا جعلی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،سیکیورٹی ذرائع کےمطابق مذکورہ شخص زندہ ہے جبکہ موت سے متعلق حقائق اس کے برعکس ہیں،کنٹینر سے گرنے والے شخص کی شناخت طاہر عباس کے نام سے کر لی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 38 سالہ ٰطاہر عباس ولد فیض احمد تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤالدین کا رہائشی ہے,طاہر عباس کے رشتہ داروں کےمطابق وہ زخمی ہے اور ہسپتال سے ابتدائی علاج کے بعد راولپنڈی میں بہنوئی کے گھرپرہےتکنیکی تحقیقات کے مطابق”طاہر عباس نے اپنا فون بند کر رکھا تھا اور اپنے موبائل فون میں کسی اور کا نمبر استعمال کر رہا تھا،موبائل کے آئی ایم ای آئی نمبر کو ٹریس کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اس وقت راولپنڈی میں ہے ۔طاہر عباس کاشتکار ی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیرون ملک بھیجنے کے لئے بطور ایجنٹ کام کرتا ہے طاہر عباس ویزوں کی غرض سے 21نومبر 2024 کو اسلام آباد آیا،مذکورہ شخص بعدازاں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک ہو گیا.تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ” مذکورہ شخص پی ٹی آئی کا کارکن اور پی پی 41سے پی ٹی آئی کی ایم پی اے بسمہ ریاض چوہدری سے وابستہ ہے۔طاہر عباس پہلے پیپلز پارٹی کا ورکر تھا لیکن بعد میں پی ٹی آئی کا حمایتی بن گیا۔طاہر عباس اس وقت راولپنڈی میں اپنے بہنوئی کے ساتھ رہائش پزیر ہے جس بارے میں پتہ چلایا جا رہا ہے۔دوسری جانب نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے طاہر عباس کی ماں کا کہنا تھا کہ بیٹے کو اسلام آباد جانے سے منع کیا لیکن وہ ضروری کام کا اصرار کرے چلا گیا جس کے بعد ایک دفعہ فون کرکے بتایا کہ میں خیریت سےہوں تھوڑی چوٹ لگی ہے جلدی ٹھیک ہو جاوں گا .

    سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقدامات کرے، آصف زرداری

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

  • اڈیالہ جیل،وکلا کی عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی

    اڈیالہ جیل،وکلا کی عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی

    اڈیالہ جیل جانے والی عمران خان کی وکلاء ٹیم کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

    ایڈوکیٹ فیصل چودھری اور محمد فیصل ملک اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے،اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے مختصر بات چیت میں فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کےمطابق اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے ہیں جیل حکام عدالتی آرڈر لینے سے ہچکچارہے ہیں میں نےعرض کیاہےکہ حکم کیمطابق عمران خان تک رسائی دی جائے۔تاکہ انکی اصل صورتحال کاپتہ چل سکے اور ان سے مقدمات کے سلسلے میں مزید ہدایات لی جا سکیں وکلاء سے ملاقات انکا آئینی حق ہے،

    گزشتہ روز سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور آج انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں عمران خان سے ملاقات کی درخواست دی گئی تھی،انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے وکلاء کی ملاقات کیلئے جیل سپرینڈنٹ کو ہدایت کردی تھی،بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے اے ٹی سی میں ملاقات کیلئے درخواست دی تھی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ محمد فیصل ملک، غلام حسنین، اور راجہ متین کی ملاقات کیلئے احکامات جاری کردئیے تھے، عدالت نے حکم نامہ میں کہا کہ ملزم اس وقت عدالتی تحویل میں نہیں راولپنڈی پولیس کی تحویل میں ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل وکلاء کو تھانہ نیو ٹاون کے مقدمے کے تفتیشی افسر تک رسائی دے، وکلاء ملزم کا حالیہ جسمانی ریمانڈ چیینج کرنا چاہتے ہیں تفتیشی افسر سے ملاقات کروائی جائے

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • عمر ایوب کی فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے،عرفان صدیقی

    عمر ایوب کی فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے،عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کی جانب سے افواج پاکستان پر الزام تراشی کی شدید مذمت کی ہے۔

    عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ "فائنل کال کی شرمناک پسپائی کے بعد، عمر ایوب نے اپنے فسطائی حربوں پر غور کرنے کے بجائے افواج پاکستان میں تفرقہ ڈالنے اور بغاوت پر اُکسانے کی نہایت مذموم کوشش کی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاست کے لبادے میں ریاست پر حملہ کرنے والے لشکروں کی مزاحمت کے لئے آئین اور قانون فوج سمیت تمام سیکورٹی ایجنسیز کو واضح کردار دیتے ہیں۔ہ پی ٹی آئی کی حالیہ یلغار کے دوران نہ صرف فوج بلکہ کسی بھی سیکورٹی ایجنسی نے گولی نہیں چلائی اور نہ ہی گولی چلانے کا کوئی حکم دیا گیا۔ عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ "کھلے جھوٹ اور فرضی لاشوں کی خیالی کہانیاں گھڑنے کے بعد فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے۔”

    عرفان صدیقی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ "کیا پی ٹی آئی واقعی ایک سیاسی جماعت ہے؟” ان کے مطابق، اگر پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، تو اس کے رہنماؤں کو ریاستی اداروں پر اس طرح کی بے بنیاد اور من گھڑت الزامات سے گریز کرنا چاہئے۔عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیز ریاست کے اندرونی مسائل میں مداخلت کے بجائے اپنے آئینی کردار کی بجا آوری کر رہی ہیں، اور ان پر بے بنیاد الزامات لگانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ریاستی استحکام کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف