Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے ایس ایچ او طاہر اقبال کا کہنا ہے کہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایس ایچ او تھانہ نیو ائیرپورٹ طاہر اقبال کا کہنا تھا کہ 24 نومبر 2024 کو میں لا اینڈ آرڈر کیلئے موٹروے پر تعینات تھا، رات تقریباً 11 بجے پرتشدد مظاہرین سے ہمارا سامنا ہوا یہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران آس پاس کی پہاڑیوں پر موجود شرپسند جن کے پاس آتشی اسلحہ تھا وہ ہم پر حملہ آور ہوئے اور ان تمام شرپسندوں کے پاس تیس بور رائفل اور پسٹل تھے۔ ان شرپسندوں نے پہاڑوں پر آگ لگائی اور فائرنگ کرتے ہوئے ہماری جانب بڑھنے لگے،شرپسندوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کھائی میں پھینک دیا جس سے میرا بازو فریکچر ہو گیا اور دیگر چوٹیں بھی آئیں اسی دوران ڈی پی او کے اسکواڈ نے مجھے کھائی سے ریسکیو کیا، اگر ایسا بروقت نہ کیا جاتا تو شاید آج میں یہاں موجود نہ ہوتا آج میں نے ایک بار پھر اپنی ڈیوٹی کو جوائن کرلیا ہے اور میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہوں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی فائنل کال احتجاج کے دوران اسلام آباد میں پی ٹی آئی مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ شرپسندوں کے حملوں کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ڈیوٹی دینے سے معذرت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی پولیس کے اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے 3 دسمبر کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری پر سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

    سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 23 سے 26 نومبر تک غیر حاضر رہنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔ اس حوالے سے فہرستیں فوری طور پر طلب کر لی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ سرکلر کی نقول اسلام آباد کے تمام اہم پولیس افسران جیسے ڈی آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی سکیورٹی، ڈی آئی جی لاء اینڈ آرڈر، ڈی آئی جی سیفٹی، اے آئی جی لاجسٹکس اور اے آئی جی سپیشل برانچ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

    اس وقت تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران پولیس کی ڈیوٹی پر غیر حاضری ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری کا الزام تھا کہ کچھ اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے یا حکومت کے خلاف کسی قسم کی ہمدردی کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنے فرائض سے گریز کیا،سرکلر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس سے پولیس فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے ایسا رویہ اپنانے سے بچا جا سکے جو ادارے کی ساکھ اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالے۔

    اس کارروائی کو حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی سیاسی دباؤ یا ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض کو انجام دیں گے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پولیس فورس میں انضباطی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

    نتیجہ:

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے یہ کارروائی پولیس اہلکاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہیں برتی جائے گی، اور کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو اپنے فرائض سے غفلت یا لاپرواہی برتے گا۔ اس کا مقصد عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

  • احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی،مریم نواز

    احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی،مریم نواز

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ احتجاج کا حق ضرور ہے مگر کوئی احتجاج کے لیے ہتھیاروں سے لیس ہوکر نہیں آتا بیٹھ کر بات کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں ’’ستھرا پنجاب‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے جانے کے چار سال بعد مجھے جو پنجاب ملا اس میں تمام وہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں جو شہباز شریف بناکر گئے تھے، صفائی کا نظام بھی نہیں تھا، مفت دوا ئیں بند ہوچکی تھیں اسپتالوں کا برا حال تھا، میٹرو بس کا ٹریک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اگر شہباز شریف کی حکومت چلتی رہتی تو پنجاب آج نجانے کہاں ہوتا۔

    انہوں ںے کہا کہ ہم کچرا اٹھانے کا نظام متعارف کرارہے ہیں کچرا آپ کے گھر سے اٹھایا جائے گا اور گاربیج تک پہنچایا جائے گا، یہ نظام شہروں اور دیہات میں متعارف کرایا جارہا ہے یہ صرف حکومت کا کام نہیں ہر شخص کی ذمہ داری ہے،اس پروگرام کے تحت پنجاب میں ایک ہفتے کے اندر ایک لاکھ نئی نوکریاں سامنے آئیں گی، سڑکیں دھوئی جائیں گی، کچرا لینڈ فل سائٹ پہنچایا جائے گا، صفا ئی کے نئی آلات خرید لیے۔

    انہوں ںے کہا کہ کوڑا صاف کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ سیاسی گند صاف کیا جائے، بار بار کال دی گئی کہ باہر نکلو، ماردو، جلادو، توڑ دو لیکن انہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑی اور پنجاب میں ان کی کال پر ایک بندہ نہیں نکلا، میں نے کسی بھی شہر میں دو درجن سے زیادہ لوگ نکلتے نہیں دیکھے، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں لاہور کی سڑکوں پر پھر رہا ہوں یہاں لوگوں کو جمع ہونے نہیں دیا جارہا، لوگ جب اکٹھے ہوکر آتے ہیں تو انہیں روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا مگر جب کوئی نکلا ہی نہیں تو نظر کیسے آئے گا؟-

    انہوں نے کہا کہ آج یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ ہم نے انہیں جلسے جلوسوں کی اجازت دی مگر ن لیگ ہمیں نہیں دے رہی، ہم نے برسوں تک جلسے جلوس کیے مگر کوئی بتادے ہم نے کبھی کوئی گملا بھی توڑا ہو، مریم نواز نے کوئی شیشہ توڑا، کہیں آگ لگائی کوئی بتادے، احتجاج منع نہیں ہے وائلنس منع ہے سی ایم ایچ گئی تو درجنوں پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو زخمی دیکھا، ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں انہیں آپ عوامی احتجاج کہتے ہیں؟ احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی، ہم نے جیلیں کاٹیں مگر کبھی کسی نے سنا کہ احتجاج کی کال دی ہو کہ جلادو مارو شہر بند کردو نہ نواز شریف نے ایسی بات کی۔

    مریم نواز نے کہا کہ کوئی مجھے ان کا ایک دھرنا دکھادے جو 2014 سے اب تک عوامی احتجاج ہو، انہوں ںے غیر ملکیوں کو ہائر کرکے انہیں ٹاسک دیا ہے اور ہتھیار دے کر کہا ہے کہ ملک میں آگ لگانی ہے، فی دہشت گرد انہوں ںے پچاس پچاس ہزار روپے دیے ہیں، کے پی کے عوام کا پیسہ دہشت گردی میں چلاگیاانہوں ںے دعویٰ کیا کہ ان کا ہزار بندہ مارا گیا اتنے بندے مریں اور کسی کو پتا نہ چلے؟ پھر یہ پانچ سو پر آگئے، بشریٰ بی بی کی فرار ہوتی ہوئی ویڈیو سامنے آگئی ان لاشوں کی کہاں ہے؟-

  • ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار ہونیوالے 116 شر پسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار ہونیوالے 116 شر پسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد ڈی چوک میں احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 116 شر پسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : 26 نومبر کو ڈی چوک پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے 116 کے اعترافی بیانات کی ویڈیو سامنے آگئی ہےڈی چوک سےگرفتار ہونے والے ’شرپسندوں‘ میں افغان شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اسلحہ فراہم کیا گیا تھا اور جب شیلنگ ہوئی تو انہوں نے پولیس و رینجرز پر فائرنگ کی۔

    ویڈیو میں متعدد افغان باشندوں نے اپنا تعلق افغان صوبے سے بتایا جبکہ ایک نے دعویٰ کیا کہ بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور نے پیسوں کا لالچ دے کر یہاں بلایا تھا، پھر ہمارے سامنے ایک گاڑی آئی جس میں اسلحہ تھا ایک اور گرفتار ملزم نے دعویٰ کیا کہ ہمیں کلاشنکوف دی گئی تھی جس سے ہم نے ہوائی فائرنگ کی اور جب شیلنگ ہوئی تو پھر پولیس و رینجرز پر فائرنگ کی۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی چوک سے گرفتار مزید ملزمان بھی اعترافی بیانات دینے کو تیار ہیں۔

  • پی ٹی آئی احتجاج اور  رہنماؤں کیخلاف درج 8 مقدمات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

    پی ٹی آئی احتجاج اور رہنماؤں کیخلاف درج 8 مقدمات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں درج 8 مقدمات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی-

    باغی ٹی وی: جے آئی ٹی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف آئی اے اور پولیس کے نمائندے شامل ہیں،ذرائع کے مطابق تھانہ کھنہ، ترنول، سنگجانی، گولڑہ اور کوہسار کے مقدمات میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ، سیکرٹریٹ اور کراچی کمپنی میں درج مقدمے میں بھی جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی تمام مقدمات میں گواہان کے بیانات قلم بند کرے گی، ٹیم نامزد ملزمان کے بیانات بھی لے گی، جے آئی ٹی کی سربراہی اسلام آباد پولیس کا نمائندہ کرے گا، کیسز کے تفتیشی افسران کی بھی جے آئی ٹی سربراہی کرے گی۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پر بانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی کے 96 رہنماؤں اور کارکنان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے،بشریٰ بی بی، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین، علی بخاری، عامر مغل کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، کوہسار پولیس نے مقدمے میں 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے ہیں، عمر ایوب، شیر افضل مروت، خالد خورشید، فیصل جاوید کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے، ایم این اے عبدالطیف، فاتح الملک، علی ناصر، صوبائی وزیر ریاض خان کے بھی وارنٹ جاری کردیئے گئے۔

  • بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    اسلام آباد: مشعال یوسف زئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو۔

    باغی ٹی وی : بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسف زئی اور مریم ریاض وٹو نے برطانوی اخبار گارجئین کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ پارٹی رہنما، بانی کی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے جس کے سبب بشریٰ بی بی کو عملی میدان میں آگے لایا گیا، فائنل کال کے احتجاج والے دن بھی بشریٰ بی بی نے صرف بانی پی ٹی آئی کی ہدایت اور ان کے مفاد کیلئے کام کیا،عمران خان کو اپنی پارٹی کے “کمپرومائز” لیڈرز سے زیادہ بشریٰ بی بی پر اعتماد ہے۔

    مشعال یوسف زئی نے کہاکہ سابق وزیر اعظم 500 سے زائد دنوں سے جیل میں ہیں، انہیں 100 سے زائد الزامات کا سامنا ہےبانی پی ٹی آئی، پارٹی قیادت کی طرف سے اپنی ہدایات عوام تک نہ پہنچانے اور ان کے جوڑ توڑ سے سخت مایوس ہیں، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی سے کہا ہے کہ وہ اب ان کا پیغام براہ راست پہنچائیں، بشریٰ بی بی کو سیاست کا تجربہ نہ ہونے کے سبب انہیں قطعی ہدایات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو بشریٰ بی بی کے سیاسی عزائم نہیں، وہ پرسکون روحانی شخصیت ہیں، وہ صرف بانی اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کررہی ہیں۔

    بشریٰ بی بی بہن مریم ریاض وٹو نے الزام عائد کیاکہ بانی کے قریبی ساتھیوں کا کردار مشکوک ہے، لگتا ہے کہ اپنے فائدے کیلئے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، بشریٰ بی بی پر احتجاج کے دوران اسلام آباد کے مرکز جانے سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔

    برطانوی اخبار کے مطابق مریم ریاض وٹو نے ہی 2015 میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا تعارف کرایا تھا، بانی کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر سیاسی اور پر اسرار روحانی شخصیت سمجھا جاتا ہے،پی ٹی آئی میں ایک عنصر بشریٰ بی بی کو پسند نہیں کرتا اور ان کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔

  • جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پی ٹی آئی 26 نومبر کی رات ڈی چوک میں سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں اپنے سیکڑوں کارکنوں کے جاں بحق ہونے کے دعوے سے دستبردار ہوگئی اور صرف 12 کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائنل کال کے بعد آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہوئی، جس میں اسلام آباد احتجاج واقعے پر بات ہوئی، ہم نے بانی کو مظاہرے پر معلومات فراہم کیں، اخبار اور ٹی وی کی سہولت نہ ہونے کے باعث بانی کو کوئی پتا نہیں تھا کہ اسلا م آباد میں 26 نومبر کو کیا ہوا ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو ورکرز باہر نکلےبانی پی ٹی آئی نےانہیں خراج تحسین پیش کیا، بانی کا پیغام ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ جائیں، پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھائیں اور احتجاج کریں، آگے کے لائحہ عمل کااعلان بانی پی ٹی آئی بعد میں کریں گے، آج ہم نے خان کو رینجرز، پولیس اور پی ٹی آئی کے شہداء کا بتایا، جس پر انھوں نے سب کی شہادت پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، دھرنا اور مظاہرہ اسلا م آباد میں یا جہاں بھی ہو اس پر گولی نہیں چلانی چاہیے تھی، انھوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی، زخمیوں کی تیمار داری کا حکم دیا، بانی نے تمام کارکنوں اور لیڈرز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے پارٹی کو پیغام دیا ہے اتحاد برقرار رکھو، مخالفین تفرقہ ڈال رہے ہیں، پارٹی کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ گولی کیوں چلائی گئی، جہاں بھی تھے گولی نہیں چلنی چاہیے تھی، گولی جس طرف سے بھی چلی جس نے بھی چلائی جیسے بھی چلی، اس کی مذمت کرتے ہیں۔

    بانی نے پنجاب کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی خراج تحسین پیش کیا، پنجاب کےایم این اے ،ایم پی اے مشکل دورسے گزر ےہیں،بیرسٹر گوہر نے علی امین گنڈاپور سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے سیکڑوں کارکنوں کی شہادت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم غیرذمہ دارانہ بیان نہیں دیں گے، ہماری صرف 12 شہادتیں ہوئی ہیں،، بانی پی ٹی آئی کو رینجرز، پولیس اور پی ٹی آئی کے 12 شہدا کا بتایا، جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں۔

    پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی مراحل میں داخل

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سےمتعلق غلط خبر چل رہی تھی، بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں بالکل ٹھیک ہیں، ڈی چوک آنا کوئی مقصد نہیں تھا اور نہ ہی ہر لیڈر کو کہا گیا تھا کہ سب ڈی چوک پہنچو، کسی بھی لیڈر کو اسی وقت ریلی کے ساتھ ڈی چوک آنے کا نہیں کہا گیا تھا، سب لوگ اپنی اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے، ایک دوسرے سے رابطے میں تھے، تفرقہ ڈالنے والے لوگ ڈی چوک کی بات کررہے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے واقعے پر انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جس نے گولی چلائی اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

  • پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    حکومت پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں سے متعلق غلط اطلاعات کی نشر کرنے پر برطانوی جریدے "بی بی سی” کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرادی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق 27 نومبر 2024 کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے گمراہ کن اور غلط معلومات نشر کیں، جس پر حکومت نے برطانوی میڈیا ادارے سے وضاحت طلب کی ہے۔

    27 نومبر کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں درجنوں ہلاکتوں کی خبر نشر کی، تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی بی سی نے غلط اعداد و شمار اور گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مبالغہ آرائی کی گئی، اور اس بارے میں عوام کو گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں۔حکومت پاکستان نے اس معاملے پر بی بی سی کی انتظامیہ سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غلط رپورٹنگ کی تصحیح کرے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ "بی بی سی نے تین مختلف رپورٹس میں اس حساس معاملے کو غلط طریقے سے پیش کیا، جس سے نہ صرف عوام میں بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔”حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ میڈیا کا کردار کسی بھی معاشرے میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاملے میں حکومتی ترجمان نے کہا، "صحافتی اقدار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کو درست معلومات مل سکیں۔ بی بی سی کو اس غلط رپورٹنگ پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور اس کی تصحیح کرنی چاہیے۔”پاکستانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ غلط خبر اور گمراہ کن اعداد و شمار کی اشاعت سے میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اور ایسی رپورٹس سے نہ صرف سماجی تنازعات کو ہوا ملتی ہے بلکہ عوامی رائے کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔

    حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ کسی بھی عالمی میڈیا ادارے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس معاملات کو احتیاط سے رپورٹ کرے اور حقائق کو مکمل طور پر درست انداز میں پیش کرے تاکہ معاشرتی امن و سکون میں خلل نہ پڑے۔یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور پاکستان کے میڈیا کے حوالے سے شفافیت کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • عمران خان مزید 7 مقدمات میں گرفتار

    عمران خان مزید 7 مقدمات میں گرفتار

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی،سابق وزیراعظم عمران خان کو 28 ستمبر 4 اکتوبر اور 5 اکتوبر کے سات مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو ئی، قبل ازیں پولیس نے عمران خان کو تھانہ نیو ٹاؤن کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور عمران خان جسمانی ریمانڈ پر تھے،بانی پی ٹی آئی پر 28ستمبرکو جلائو گھیرائو سرکاری املاک پرنقصان پہنچانے کا مقدمہ درج تھا ،راولپنڈی پولیس نے تھانہ نیو ٹاؤن میں درج مقدمہ نمبر 2831 میں جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پرچہ ریمانڈ عدالت میں پیش کیا تھا،

    عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
    بانی پی ٹی آئی عمران خان کا تھانہ نیو ٹاون کے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ مکمل ،بانی پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا،28ستمبر اور 5اکتوبر کےمزید چھے مقدمات میں بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیاگیا،مقدمات پر جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی گئی، سماعت اے ٹی سی جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں کی،عدالت نے پولیس کی جانب سے چھ مقدمات میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی،جن سات کیسز میں عمران خان کی گرفتاری کی گئی ان میں بھی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • پی ٹی آئی کارکنوں کے مجرم علی امین اور بشریٰ بی بی ہیں،عظمیٰ بخاری

    پی ٹی آئی کارکنوں کے مجرم علی امین اور بشریٰ بی بی ہیں،عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈر شپ بزدلی کے آخری درجے پر فائز ہے-

    باغی ٹی وی : عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ مظاہرہ تحریک انصاف کی آخری ناکام بغاوت تھی، جتھوں سے وفاق پر چڑھائی کرنے سے این آر او نہیں ملتے،پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈر شپ بزدلی کے آخری درجے پر فائز ہے، کارکنوں کو چھوڑ کر بھاگنے والے کس منہ سے کارکنوں کا دم بھر رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپنی ذلت، بدنامی کو فیک نیوز، افواہوں کے پیچھے چھپا رہے ہیں، عالمی میڈیا نےدیکھا کارکنوں نےڈنڈے مارے، پتھراؤ کیا،جنھیں شرم سےڈوب مرنا چاہیے وہ پھر بھڑکیں مار رہے، بانی پی ٹی آئی کی جماعت ختم کرنے کے لیے بشریٰ بی بی کافی ہے، شدت پسند، انتشاری ٹولہ دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرنے کی غلطی نہیں دہرائے گا۔

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    دوسری جانب خیبر پخونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کی قیادت پر سب کا پورا اعتماد ہے اور انکی سربراہی میں عمران خان رہائی کی تحریک مزید زور پکڑے گی، سانحہ ڈی چوک کے بعد عمران خان رہائی کی تحریک مزید مضبوط ہوگئی ہے-

    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر