Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • ملک دشمنی کا ایک اور قدم،بھارت سے فنڈوصولی ،ہالینڈ میں پی ٹی آئی کریگی احتجاج

    ملک دشمنی کا ایک اور قدم،بھارت سے فنڈوصولی ،ہالینڈ میں پی ٹی آئی کریگی احتجاج

    پی ٹی آئی کو بھارت اور بنگلہ دیش سے امداد موصول ہوئی ہے، بنگلہ دیش ،بھارت سے پیسے ملنے کے بعد پی ٹی آئی پانچ دسمبر کو ہالینڈ میں احتجاج کرنے جا رہی ہے،

    عمران خان نے جیل سے رہائی کے لئے ہرممکن کوشش کی لیکن انہیں کسی صورت کامیابی نہ ملی،عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک انصاف نے جہاں بھارتی لابی کے ساتھ ملکر بیرون ممالک میں قراردادیں لائیں، احتجاج کیا ، اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی، عمران خان کے ہامی،پاکستان مخالف ،اسرائیلیوں کے قریبی سمجھنے جانے والے رہنماؤں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی، لیکن عمران خان کو تمام تر کوششوں کے باوجود رہائی نہ مل سکی،گولڈ اسمتھ فیملی سے رابطہ کر کے پی ٹی آئی نے مدد مانگی، اسلام آباد پر خیبر پختونخوا حکومت نے یلغار کی، ایک بار پھر نومئی کو دوہرایا گیا مگر عمران خان جیل سے پھر بھی باہر نہ آ سکے، بشریٰ بی بی نے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی، نوجوانوں کو اکسایا،پولیس پر پی ٹی آئی شرپسندوں نے گولیاں برسائیں اور پھر ڈی چوک پہنچنے سے قبل ہی بشریٰ بی بی کارکنان کو رات کے اندھیرے میں چھوڑ کر خود علی امین گنڈا پور کے ساتھ فرار ہو گئیں، عمران خان کی رہائی پھر بھی نہ ہو سکی.

    اب پی ٹی آئی کی جانب سے بیرون ملک احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری متحرک ہیں، زلفی بخاری کی کوشش ہے کہ بیرون ممالک مؤثر احتجاج کیا جائے،اسی سلسلہ میں پی ٹی آئی کل پانچ دسمبر کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے احتجاج کر رہی ہے،پی ٹی آئی کارکنان بینرز،پوسٹر لے کر آرہے ہیں، کارکنان جمع ہوں گے، ریاست پاکستان، حکومت پاکستان،افواج پاکستان کے خلاف پی ٹی آئی احتجاج کرے گی،تاہم فلسطین کے حق اور اسرائیل کے خلاف پی ٹی آئی کو کہیں بھی احتجاج کرنے کی توفیق نہیں ہوئی،پی ٹی آئی جو ہمیشہ سے فارن فنڈز سے ہی چلتی آ رہی ہے، پاکستان کی عدالتوں میں بھی فارن فنڈز کے کیس زیر سماعت ہیں، اب عمران خان کی رہائی اور ذاتی مفادات کے لئے پی ٹی آئی نے ایک بار پھر فنڈز جمع کئے ہیں جس میں سے سب سے زیادہ فنڈز پی ٹی آئی کو بھارت اور بنگلہ دیش سے ملے ہیں، پی ٹی آئی ان فنڈز کی وصولی کے بعد ہالینڈ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے احتجاج کرنے جا رہی ہے، کل 5 دسمبر کو پی ٹی آئی احتجاج کرے گی جس کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے اور مختلف مقدمات میں سزایافتہ پاکستانی مجرم کو بے قصور ثابت کرنا ہے،پی ٹی آئی اس سے پہلے بھی کئی ممالک میں احتجاج کر چکی ہے تا ہم پی ٹی آئی والے یہ نہیں بتاتے کہ عمران خان پر ایک نہیں درجنوں مقدمات ہیں اور ان مقدمات کی وجہ سے ہی عمران خان جیل میں ہیں، گھڑی چوری کا مقدمہ بھی عمران خان نے بنایا تھا، کیا کبھی پی ٹی آئی نے سعودی ولی عہد کے گھر کے باہر جا کر احتجاج کیا کہ عمران خان نے سعودی ولی عہد کی تحفہ دی ہوئی گھڑی خود رکھ لی تو ان پر مقدمہ درج کر لیا گیا، وہ کبھی نہیں کریں گے، کیونکہ پاکستان کے قوانین کو عمران خان نے توڑا اور اسی لئے ان پر مقدمے بنے،

    پی ٹی آئی کی حالیہ سرگرمیاں،اندرون و بیرون ملک جو ریاست اور افواج پاکستان کے خلاف ہ مہم کی شکل اختیار کر چکی ہیں، نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی عمران خان کے لئے تو احتجاج کرتی ہے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت فلسطین کے حق میں کھل کر آواز نہیں اٹھا پائی، اور نہ ہی اسرائیل کے خلاف کوئی مؤثر اور مضبوط موقف اپنانے کی توفیق حاصل کر سکی۔

    ملک دشمنی پر مبنی اقدامات کرکے پی ٹی آئی کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ پی ٹی آئی نے کبھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھے، کبھی امریکہ،کبھی برطانیہ،غرض جہاں ان کو موقع ملا انہوں نے ملک دشمنی کے لئے تمام حدیں پار کر لی ہیں،پی ٹی آئی کو پاکستان میں اسرائیل کے خلاف کبھی جلوس نکالنے کی توفیق نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی ہمیشہ ملکی تشخص کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور ان کے اسرائیل کے مظالم کی کھل کر مذمت نہ کرنے کی وجہ سے ان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، اب اوورسیز پاکستانی عمران خان کا ہدف ہیں، تحریک انصاف جو بھی کر رہی ہے یہ اکیلے پی ٹی آئی نہیں کر رہی ،یہ ایک بیرونی سازش ہے، بھارت سے پیسے آ رہے تو اسرائیل بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے،یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی والےاسرائیل کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولتے،

  • پی ٹی آئی احتجاج،بشریٰ،گنڈاپور،عارف علوی سمیت 96 رہنماؤں کے وارنٹ

    پی ٹی آئی احتجاج،بشریٰ،گنڈاپور،عارف علوی سمیت 96 رہنماؤں کے وارنٹ

    24 نومبر ،پی ٹی آئی احتجاج کے بعد درج مقدمات کا معاملہ، اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت 96نامزدملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے ہیں

    اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں 24 نومبر کے احتجاج کے مقدمے میں پیشرفت ہوئی ہے۔اسلام آباد پولیس نے 96 نامزد ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے، پی ٹی آئی رہنماؤں شیخ وقاص اکرم، عمر ایوب، شیر افضل مروت کا نام بھی لسٹ میں شامل ہے،کوہسار پولیس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے بھی وارنٹ لے لئے، پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ، سیمابیہ طاہر، شعیب شاہین، علی بخاری کے وارنٹ بھی لے لئے گئے، ملزمان کی گرفتاری کے لئے اسلام آباد پولیس سپیشل ٹیمیں تشکیل دے گی، تمام پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کیا جائے گا،پی ٹی آئی رہنماؤں عاطف خان، اسد قیصر،سہیل آفریدی،شہرام ترکئی،پیر نورالحق قادری،عمر امین گنڈا پور،مشال یوسفزئی، عارف علوی،زرتاج گل،شاہد خٹک،عمیر نیازی و دیگر کے وارنٹ بھی پولیس نے لے لئے ہیں،

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 8 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی، اسمبلی ایکٹ کی خلاف ورزی، پولیس پر حملوں، اور اغوا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اور شیخ وقاص سمیت پارٹی کے بانی عمران خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ، ہزاروں نامعلوم افراد بھی ان مقدمات میں شامل کیے گئے ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں درج دفعات میں کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، پولیس اہلکاروں پر حملے اور عوامی تحفظ کے لئے نافذ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری عملے کو ہراساں کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ، 24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف اسلام آباد کے تاجروں کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے امن و امان بحال کرنا تھا مگر آپ نے پورا اسلام آباد بند کر دیا، درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے کاروبار کو چلنے دیں، آپ نے میڈیا پر ہر جگہ کہا اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر پر ہم اجازت نہیں دے رہے، عدالت نے آپ سے کہا تھا کہ شہریوں، تاجروں اور مظاہرین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھیں، وہ پی ٹی آئی سے بھی پوچھیں گے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی گئی، پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا، درخواست گزار کا کیا قصور تھا، ان کے کاروبار کو کیوں بند کیا،

    اسٹیٹ قونصل ملک عبدالرحمٰن نے کہا کہ کچھ رپورٹس آگئی ہیں اور کچھ رپورٹس آنا باقی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسٹیٹ قونصل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پہلی بار عدالت میں پیش ہوئے ہیں، یہ ماہرانہ رائے وہاں دینی تھی، آپ نے اسلام آباد کو ایسے بند کیا تھا کہ ججز سمیت میں بھی نہیں آسکا، میں اپنے ہی آرڈر کا خود ہی شکار ہوگیا تھا،عدالت نے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے ایس ایچ او طاہر اقبال کا کہنا ہے کہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایس ایچ او تھانہ نیو ائیرپورٹ طاہر اقبال کا کہنا تھا کہ 24 نومبر 2024 کو میں لا اینڈ آرڈر کیلئے موٹروے پر تعینات تھا، رات تقریباً 11 بجے پرتشدد مظاہرین سے ہمارا سامنا ہوا یہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران آس پاس کی پہاڑیوں پر موجود شرپسند جن کے پاس آتشی اسلحہ تھا وہ ہم پر حملہ آور ہوئے اور ان تمام شرپسندوں کے پاس تیس بور رائفل اور پسٹل تھے۔ ان شرپسندوں نے پہاڑوں پر آگ لگائی اور فائرنگ کرتے ہوئے ہماری جانب بڑھنے لگے،شرپسندوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کھائی میں پھینک دیا جس سے میرا بازو فریکچر ہو گیا اور دیگر چوٹیں بھی آئیں اسی دوران ڈی پی او کے اسکواڈ نے مجھے کھائی سے ریسکیو کیا، اگر ایسا بروقت نہ کیا جاتا تو شاید آج میں یہاں موجود نہ ہوتا آج میں نے ایک بار پھر اپنی ڈیوٹی کو جوائن کرلیا ہے اور میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہوں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی فائنل کال احتجاج کے دوران اسلام آباد میں پی ٹی آئی مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ شرپسندوں کے حملوں کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ڈیوٹی دینے سے معذرت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی پولیس کے اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے 3 دسمبر کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری پر سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

    سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 23 سے 26 نومبر تک غیر حاضر رہنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔ اس حوالے سے فہرستیں فوری طور پر طلب کر لی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ سرکلر کی نقول اسلام آباد کے تمام اہم پولیس افسران جیسے ڈی آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی سکیورٹی، ڈی آئی جی لاء اینڈ آرڈر، ڈی آئی جی سیفٹی، اے آئی جی لاجسٹکس اور اے آئی جی سپیشل برانچ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

    اس وقت تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران پولیس کی ڈیوٹی پر غیر حاضری ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری کا الزام تھا کہ کچھ اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے یا حکومت کے خلاف کسی قسم کی ہمدردی کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنے فرائض سے گریز کیا،سرکلر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس سے پولیس فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے ایسا رویہ اپنانے سے بچا جا سکے جو ادارے کی ساکھ اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالے۔

    اس کارروائی کو حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی سیاسی دباؤ یا ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض کو انجام دیں گے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پولیس فورس میں انضباطی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

    نتیجہ:

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے یہ کارروائی پولیس اہلکاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہیں برتی جائے گی، اور کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو اپنے فرائض سے غفلت یا لاپرواہی برتے گا۔ اس کا مقصد عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

  • احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی،مریم نواز

    احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی،مریم نواز

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ احتجاج کا حق ضرور ہے مگر کوئی احتجاج کے لیے ہتھیاروں سے لیس ہوکر نہیں آتا بیٹھ کر بات کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں ’’ستھرا پنجاب‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے جانے کے چار سال بعد مجھے جو پنجاب ملا اس میں تمام وہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں جو شہباز شریف بناکر گئے تھے، صفائی کا نظام بھی نہیں تھا، مفت دوا ئیں بند ہوچکی تھیں اسپتالوں کا برا حال تھا، میٹرو بس کا ٹریک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اگر شہباز شریف کی حکومت چلتی رہتی تو پنجاب آج نجانے کہاں ہوتا۔

    انہوں ںے کہا کہ ہم کچرا اٹھانے کا نظام متعارف کرارہے ہیں کچرا آپ کے گھر سے اٹھایا جائے گا اور گاربیج تک پہنچایا جائے گا، یہ نظام شہروں اور دیہات میں متعارف کرایا جارہا ہے یہ صرف حکومت کا کام نہیں ہر شخص کی ذمہ داری ہے،اس پروگرام کے تحت پنجاب میں ایک ہفتے کے اندر ایک لاکھ نئی نوکریاں سامنے آئیں گی، سڑکیں دھوئی جائیں گی، کچرا لینڈ فل سائٹ پہنچایا جائے گا، صفا ئی کے نئی آلات خرید لیے۔

    انہوں ںے کہا کہ کوڑا صاف کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ سیاسی گند صاف کیا جائے، بار بار کال دی گئی کہ باہر نکلو، ماردو، جلادو، توڑ دو لیکن انہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑی اور پنجاب میں ان کی کال پر ایک بندہ نہیں نکلا، میں نے کسی بھی شہر میں دو درجن سے زیادہ لوگ نکلتے نہیں دیکھے، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں لاہور کی سڑکوں پر پھر رہا ہوں یہاں لوگوں کو جمع ہونے نہیں دیا جارہا، لوگ جب اکٹھے ہوکر آتے ہیں تو انہیں روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا مگر جب کوئی نکلا ہی نہیں تو نظر کیسے آئے گا؟-

    انہوں نے کہا کہ آج یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ ہم نے انہیں جلسے جلوسوں کی اجازت دی مگر ن لیگ ہمیں نہیں دے رہی، ہم نے برسوں تک جلسے جلوس کیے مگر کوئی بتادے ہم نے کبھی کوئی گملا بھی توڑا ہو، مریم نواز نے کوئی شیشہ توڑا، کہیں آگ لگائی کوئی بتادے، احتجاج منع نہیں ہے وائلنس منع ہے سی ایم ایچ گئی تو درجنوں پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو زخمی دیکھا، ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں انہیں آپ عوامی احتجاج کہتے ہیں؟ احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی، ہم نے جیلیں کاٹیں مگر کبھی کسی نے سنا کہ احتجاج کی کال دی ہو کہ جلادو مارو شہر بند کردو نہ نواز شریف نے ایسی بات کی۔

    مریم نواز نے کہا کہ کوئی مجھے ان کا ایک دھرنا دکھادے جو 2014 سے اب تک عوامی احتجاج ہو، انہوں ںے غیر ملکیوں کو ہائر کرکے انہیں ٹاسک دیا ہے اور ہتھیار دے کر کہا ہے کہ ملک میں آگ لگانی ہے، فی دہشت گرد انہوں ںے پچاس پچاس ہزار روپے دیے ہیں، کے پی کے عوام کا پیسہ دہشت گردی میں چلاگیاانہوں ںے دعویٰ کیا کہ ان کا ہزار بندہ مارا گیا اتنے بندے مریں اور کسی کو پتا نہ چلے؟ پھر یہ پانچ سو پر آگئے، بشریٰ بی بی کی فرار ہوتی ہوئی ویڈیو سامنے آگئی ان لاشوں کی کہاں ہے؟-

  • ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار ہونیوالے 116 شر پسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار ہونیوالے 116 شر پسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد ڈی چوک میں احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 116 شر پسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : 26 نومبر کو ڈی چوک پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے 116 کے اعترافی بیانات کی ویڈیو سامنے آگئی ہےڈی چوک سےگرفتار ہونے والے ’شرپسندوں‘ میں افغان شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اسلحہ فراہم کیا گیا تھا اور جب شیلنگ ہوئی تو انہوں نے پولیس و رینجرز پر فائرنگ کی۔

    ویڈیو میں متعدد افغان باشندوں نے اپنا تعلق افغان صوبے سے بتایا جبکہ ایک نے دعویٰ کیا کہ بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور نے پیسوں کا لالچ دے کر یہاں بلایا تھا، پھر ہمارے سامنے ایک گاڑی آئی جس میں اسلحہ تھا ایک اور گرفتار ملزم نے دعویٰ کیا کہ ہمیں کلاشنکوف دی گئی تھی جس سے ہم نے ہوائی فائرنگ کی اور جب شیلنگ ہوئی تو پھر پولیس و رینجرز پر فائرنگ کی۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی چوک سے گرفتار مزید ملزمان بھی اعترافی بیانات دینے کو تیار ہیں۔

  • پی ٹی آئی احتجاج اور  رہنماؤں کیخلاف درج 8 مقدمات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

    پی ٹی آئی احتجاج اور رہنماؤں کیخلاف درج 8 مقدمات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں درج 8 مقدمات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی-

    باغی ٹی وی: جے آئی ٹی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف آئی اے اور پولیس کے نمائندے شامل ہیں،ذرائع کے مطابق تھانہ کھنہ، ترنول، سنگجانی، گولڑہ اور کوہسار کے مقدمات میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ، سیکرٹریٹ اور کراچی کمپنی میں درج مقدمے میں بھی جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی تمام مقدمات میں گواہان کے بیانات قلم بند کرے گی، ٹیم نامزد ملزمان کے بیانات بھی لے گی، جے آئی ٹی کی سربراہی اسلام آباد پولیس کا نمائندہ کرے گا، کیسز کے تفتیشی افسران کی بھی جے آئی ٹی سربراہی کرے گی۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پر بانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی کے 96 رہنماؤں اور کارکنان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے،بشریٰ بی بی، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین، علی بخاری، عامر مغل کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، کوہسار پولیس نے مقدمے میں 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے ہیں، عمر ایوب، شیر افضل مروت، خالد خورشید، فیصل جاوید کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے، ایم این اے عبدالطیف، فاتح الملک، علی ناصر، صوبائی وزیر ریاض خان کے بھی وارنٹ جاری کردیئے گئے۔

  • بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    اسلام آباد: مشعال یوسف زئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو۔

    باغی ٹی وی : بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسف زئی اور مریم ریاض وٹو نے برطانوی اخبار گارجئین کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ پارٹی رہنما، بانی کی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے جس کے سبب بشریٰ بی بی کو عملی میدان میں آگے لایا گیا، فائنل کال کے احتجاج والے دن بھی بشریٰ بی بی نے صرف بانی پی ٹی آئی کی ہدایت اور ان کے مفاد کیلئے کام کیا،عمران خان کو اپنی پارٹی کے “کمپرومائز” لیڈرز سے زیادہ بشریٰ بی بی پر اعتماد ہے۔

    مشعال یوسف زئی نے کہاکہ سابق وزیر اعظم 500 سے زائد دنوں سے جیل میں ہیں، انہیں 100 سے زائد الزامات کا سامنا ہےبانی پی ٹی آئی، پارٹی قیادت کی طرف سے اپنی ہدایات عوام تک نہ پہنچانے اور ان کے جوڑ توڑ سے سخت مایوس ہیں، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی سے کہا ہے کہ وہ اب ان کا پیغام براہ راست پہنچائیں، بشریٰ بی بی کو سیاست کا تجربہ نہ ہونے کے سبب انہیں قطعی ہدایات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو بشریٰ بی بی کے سیاسی عزائم نہیں، وہ پرسکون روحانی شخصیت ہیں، وہ صرف بانی اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کررہی ہیں۔

    بشریٰ بی بی بہن مریم ریاض وٹو نے الزام عائد کیاکہ بانی کے قریبی ساتھیوں کا کردار مشکوک ہے، لگتا ہے کہ اپنے فائدے کیلئے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، بشریٰ بی بی پر احتجاج کے دوران اسلام آباد کے مرکز جانے سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔

    برطانوی اخبار کے مطابق مریم ریاض وٹو نے ہی 2015 میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا تعارف کرایا تھا، بانی کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر سیاسی اور پر اسرار روحانی شخصیت سمجھا جاتا ہے،پی ٹی آئی میں ایک عنصر بشریٰ بی بی کو پسند نہیں کرتا اور ان کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔

  • جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پی ٹی آئی 26 نومبر کی رات ڈی چوک میں سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں اپنے سیکڑوں کارکنوں کے جاں بحق ہونے کے دعوے سے دستبردار ہوگئی اور صرف 12 کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائنل کال کے بعد آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہوئی، جس میں اسلام آباد احتجاج واقعے پر بات ہوئی، ہم نے بانی کو مظاہرے پر معلومات فراہم کیں، اخبار اور ٹی وی کی سہولت نہ ہونے کے باعث بانی کو کوئی پتا نہیں تھا کہ اسلا م آباد میں 26 نومبر کو کیا ہوا ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو ورکرز باہر نکلےبانی پی ٹی آئی نےانہیں خراج تحسین پیش کیا، بانی کا پیغام ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ جائیں، پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھائیں اور احتجاج کریں، آگے کے لائحہ عمل کااعلان بانی پی ٹی آئی بعد میں کریں گے، آج ہم نے خان کو رینجرز، پولیس اور پی ٹی آئی کے شہداء کا بتایا، جس پر انھوں نے سب کی شہادت پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، دھرنا اور مظاہرہ اسلا م آباد میں یا جہاں بھی ہو اس پر گولی نہیں چلانی چاہیے تھی، انھوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی، زخمیوں کی تیمار داری کا حکم دیا، بانی نے تمام کارکنوں اور لیڈرز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے پارٹی کو پیغام دیا ہے اتحاد برقرار رکھو، مخالفین تفرقہ ڈال رہے ہیں، پارٹی کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ گولی کیوں چلائی گئی، جہاں بھی تھے گولی نہیں چلنی چاہیے تھی، گولی جس طرف سے بھی چلی جس نے بھی چلائی جیسے بھی چلی، اس کی مذمت کرتے ہیں۔

    بانی نے پنجاب کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی خراج تحسین پیش کیا، پنجاب کےایم این اے ،ایم پی اے مشکل دورسے گزر ےہیں،بیرسٹر گوہر نے علی امین گنڈاپور سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے سیکڑوں کارکنوں کی شہادت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم غیرذمہ دارانہ بیان نہیں دیں گے، ہماری صرف 12 شہادتیں ہوئی ہیں،، بانی پی ٹی آئی کو رینجرز، پولیس اور پی ٹی آئی کے 12 شہدا کا بتایا، جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں۔

    پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی مراحل میں داخل

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سےمتعلق غلط خبر چل رہی تھی، بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں بالکل ٹھیک ہیں، ڈی چوک آنا کوئی مقصد نہیں تھا اور نہ ہی ہر لیڈر کو کہا گیا تھا کہ سب ڈی چوک پہنچو، کسی بھی لیڈر کو اسی وقت ریلی کے ساتھ ڈی چوک آنے کا نہیں کہا گیا تھا، سب لوگ اپنی اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے، ایک دوسرے سے رابطے میں تھے، تفرقہ ڈالنے والے لوگ ڈی چوک کی بات کررہے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے واقعے پر انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جس نے گولی چلائی اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔