Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا، بشریٰ بی بی کھل کر سامنے آ گئیں، قیادت سنبھال لی، بشریٰ بی بی کارکنان کو لے کر 26 نمبر چونگی سے ریڈ زون کی طرف روانہ ہو گئیں

    بلیو ایریا اسلام آباد میں بشریٰ بی بی نے مظاہرین سے حلف لیا کہ جب تک خان باہر نہیں آتے کوئی بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر اسلام آباد سے نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کینٹینر پر آئیں اور کارکنان سے کہا کہ مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا، میرے ساتھ رہنا ہے، کوئی مجھے چھوڑ کر نہیں جائے جب تک ہمارے خان ہمارے پاس نہیں آ جاتے کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی نے کارکنا ن سے حلف لیا،بشریٰ بی بی نے اس موقع پر وکٹری کا نشان بھی بنایا.

    بشری بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ اسلام آباد کے زیروپوائنٹ پہنچ گیا ہے، احتجاجی قافلہ کی منزل ڈی چوک ہے، تحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ جی 11 اور جی 9 سے گزرا وہاں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں تصادم ہوا، اس وقت بھی دونوں جانب سے ایک دوسرے پر آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے اور پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا جارہا ہے۔قافلے کے شرکا نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، انقلاب ، انقلاب کے نعرے لگائے جا رہےہیں،کئی مقامات پر پولیس پیچھے ہٹ گئی اور قافلے کو آسانی سے آگے بڑھنے کا موقع ملا،پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے میں نوجوان،بزرگ، خواتین بھی شامل ہیں، پی ٹی آئی نے اپیل کی ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کے راستوں پر رہنے والوں سے گزارش ہے اپنے وائی فائی کے پاسورڈ ہٹا دیں تاکہ احتجاج کے شرکاء انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے احتجاج کے مناظر اور عوام کے خلاف بدترین جبر کے ثبوت دنیا بھر تک پہنچا سکیں۔

    پی ٹی آئی احتجاج، شرکاء ڈی چوک کے قریب،زیروپوائنٹ کراس کر گئے

    بلیو ایریا میں شہید ملت اسٹیشن کے قریب میبنہ طور پرپی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے درختوں کو آگ لگائی جارہی ہے،پولیس کی شیلنگ اور کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے

    قبل ازیں عمران خان کے احتجاج کیلئے متبادل جگہ کی حامی بھرنے کے باوجود بشریٰ بی بی نے ماننے سے انکار کردیا تھا، بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ چند سازشی عناصر ڈی چوک کے بجائے دوسرے مقام پر ہمیں روکنا چاہتے ہیں، عمران خان نے مجھے ہر صورت ڈی چوک جانے کا کہا ہے، ڈی چوک سے کم کسی بھی مذاکراتی فیصلے پر کارکنان راضی نہیں ہیں

    ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکے،پی ٹی آئی کےذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت دھرنے کیلئے حتمی مقام کا تعین کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، مرکزی قیادت میں کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں،پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق علی امین نے کہا کہ کارکنان کو اسلام آباد حتمی مقام تک لے جانے کیلئے رابطہ کاری میں مشکل ہو رہی ہے۔

    قبل ازیں بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان سے دوسری ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور سے ملاقات کیلئے روانہ ہوئے تھے،بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان کیساتھ 40 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت میں بیرسٹر گوہر نے احتجاج اور حکومت کی طرف سے آپشنز سےبانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا،دوسری ملاقات میں عمران خان نےبشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور کارکنوں کیلئے اہم پیغام ریکارڈ کروایا تھا، بیرسٹر گوہر بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام دکھانے کیلئے روانہ ہوئے تھے، عمران خان کے ویڈیو پیغام سننےکےبعد بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے آئندہ کےلائحہ عمل کے اعلان کا امکان تھامیڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کے ویڈیو پیغام میں حکومتی تجاویز میں سے ایک پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ہم نے مظاہرین سے کہا تھا ڈی چوک پر جس نے بھی جلسہ کیا کبھی اجازت نہیں ملی، درخواست دیں اور سنجانی چلے جائیں،پی ٹی آئی قیادت ملاقات کیلئے دو مرتبہ اڈیالہ گئی، انہیں وہاں سے بھی اپروول مل گئی ہے،چاہےدفعہ 144 نافذ کرنی ہو یا ہمیں انتہائی اقدام تک جانا پڑے، پہلے ہی بتارہےہیں، نقصان ہوا تو ہم ذمے دار نہیں ہوں گے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کانسیٹبل کے قتل کی ایف آئی آر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ شہدا کی فیملی سے وعدہ ہے ان کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، جن لوگوں نے احتجاج کی کال دی، جنہوں نے لوگوں کو بلایا ان سب کو نہیں چھوڑیں گے۔

    قبل ازیں مظاہرین کے مبینہ تشدد سے جاں بحق پولیس کانسٹیبل مبشر کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کردی گئی،نمازجنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی آئی جی پنجاب سمیت اعلیٰ پولیس قیادت بھی شریک ہوئی جبکہ وزیراعظم نے بھی مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکار کو شہید کرنے کی مذمت کی۔

    تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران انتشار سے نمٹنے کیلئے وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب کرلی گئی، وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو بلایا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، آرمی کو کسی بھی علاقے میں امن امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کرفیو لگانے کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں، سکیورٹی اداروں کو انتشار پھیلانے والوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران سری نگر ہائی وے پر شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس سے 4 رینجرز اہلکار شہید جب کہ 5 رینجرز اور 2 پولیس کے جوان بھی شدید زخمی ہوگئے،سکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اب تک رینجرز کے 4 اور پولیس کے 2 جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ اب تک 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد شدید زخمی ہیں۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ہمارے 119 بندے زخمی ہوئے، پولیس بھی اسلحہ چلا سکتی ہے لیکن ہمارے اہلکار مسلح نہیں ہیں، پنجاب پولیس کے 22 ہزار اہلکار یہاں موجود ہیں، پاکستان اور اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لئے ہم یہاں موجود رہیں گے،

    26 نمبر چنگی،پی ٹی آئی کارکنوں نے میڈیا ڈی ایس این جیز پر حملہ کیا،جیو نیوز،سما ٹی وی، سنو نیوز ، آج ٹی وی، اے آر وائی نیوز،92 نیوز کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے ،گاڑیوں پر کارکنان نے پتھر مارے، لوہے کے راڈوں سے حملہ کیا،میڈیا سٹاف بمشکل ہجوم سے جان بچا کر نکلے،

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کارکنان کی سنگجانی ٹول پلازہ میں سرکاری سامان چوری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی،پی ٹی آئی کارکنان کمپیوٹرز اور دیگر قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئے،پرتشدد مظاہرین کی جانب سے پولیس کی گاڑی بھی جلا دی گئی، پرتشدد کارکنان کے حملوں سے سرکاری املاک کوبھی نقصان پہنچا ،پرتشدد کارروائیوں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی متعدد ویڈیوز منظرعام پرآ چکی ہیں

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے سبب اسلام آباد کی چائنہ چوک اور ڈی چوک پر پولیس کی نفری تعینات ہے،سیکرٹری داخلہ نے ڈی چوک کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا،احتجاج کے با‏عث راولپنڈی اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش ہے، اسلام آباد آنے والے تمام راستے بند ہیں اور میٹرو بس سروس معطل ہے جب کہ جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ کی فراہمی بھی جزوی معطل ہے،تعلیمی اداروں میں جڑواں شہروں میں آج پھر چھٹی کی گئی ہے، اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے،

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • کوئی مذاکرات نہیں ہیں،جو ڈی چوک پہنچے گا وہ گرفتار ہوگا،محسن نقوی

    کوئی مذاکرات نہیں ہیں،جو ڈی چوک پہنچے گا وہ گرفتار ہوگا،محسن نقوی

    اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جو ڈی چوک پہنچے گا وہ گرفتار ہوگا، وہ آئیں اور ہم انہیں جانے دیں یہ نہیں ہوگا-

    باغی ٹی وی : اپنے ایک بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ ڈی چوک پہنچے گا وہ گرفتار ہوگا، وہ آئیں اور ہم انہیں جانے دیں یہ نہیں ہوگا، میانوالی میں ہم پر فائرنگ کی گئی، وہ لاشیں چاہ رہے تھے، ہمارے تمام لوگ گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں، اگر میں ان پر فائرنگ کرتے تو وہ پتھر گڑھ سے آگے نہیں نکل سکتے تھے، اگر پانچ منٹ فائرنگ ہو تو ایک بندہ نظر نہیں آئے گا، کسی پولیس اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں ہے، پولیس اہلکاروں کے پاس ڈنڈے، آنسو گیس کے شیل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مذاکرات پر چند گھنٹے ٹھہر جائیں، کوئی مذاکرات نہیں ہیں، یہ بات کلیئر کردوں، پہلی کوشش ہے لوگوں کی جانیں نہ جائیں،دوسری ، تیسری کوشش ہے لوگوں کی جانیں نہ جائیں، ہماری کوشش اپنے لوگوں کی جانیں بچانا ہے۔

    دوسری جانب رہنما تحریک انصاف رؤف حسن نے کہا ہے کہ اسلام آباد پہنچنا ہدف ہے دیکھتے ہیں حکومت کتنے دن شہر بند رکھتی ہے،پی ٹی آئی قافلے کا سست ہونا ہماری سٹرٹیجی کا حصہ ہے، سارے قافلے اکٹھے ہو کر اسلام آباد میں داخل ہوں گے، قافلہ26نمبر چونگی پر موجود ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں داخل ہونے کا فیصلہ لیڈرشپ نےکرنا ہے، اسلام آباد میں کونسی جگہ دھرنا دینا ہے ، فیصلہ پارٹی کرےگی، آج بیرسٹرگوہر،بیرسٹرسیف نےبانی پی ٹی آئی سے ہدایات لی ہیں، پشاورموڑہماری منزل نہیں ہے۔رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہم نےماضی میں سیکڑوں جلسے کیے ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا، ہمارا کوئی ایسا ہدف نہیں جو پرتشدد ہو، ہمارا پہلا ہدف اسلام آباد پہنچنا تھا، ہم دیکھتے ہیں حکومت کتنے دن اسلام آباد بند رکھے گی۔

  • مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی وفد  عمران خان سے مشاورت کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گیا

    مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی وفد عمران خان سے مشاورت کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گیا

    راولپنڈی:حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا وفد بانی پی ٹی آئی سے مشاورت اور لائحہ عمل پر مشاورت کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ایاز صادق کے گھر پر مذاکرات اور پیشرفت کے بعد بیرسٹر گوہر ، شبلی فراز اور اسد قیصر اڈیالہ جیل پہنچے پی ٹی آئی وفد حکومت بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے بات اور احتجاج کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی تعین کرے گا، پی ٹی آئی رہنما حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد احتجاج کے حوالے سے عمران خان سے فیصلہ کن ہدایات لینے کیلئے اڈیالہ جیل پہنچے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے وفد کی اڈیالہ جیل میں آج دوسری بار بانی چیئرمین سے ملاقات ہورہی ہے، اس سے قبل بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف نے ملاقات کی تھی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے حکومت کی جانب سے امیر مقام، ایاز صادق، محسن نقوی اور رانا ثنا اللہ مذاکرات میں شریک ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسد قیصر، شبلی فراز اور بیرسٹر گوہر مذاکرات کر رہے ہیں،یہ مذاکرات منسٹر انکلیو میں ہوئے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کو اسلام آباد نہ آنے کی درخواست کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیلاروس کے سرمایہ کاروں کے ساتھ کل اسلام آباد میں بزنس کانفرنس ہورہی ہے،پی ٹی آئی کو دھرنے کے لیے پریڈ گراؤنڈ یا پشاور موڑپر جگہ دینے کی پیش کش کی گئی ہے، جس کو پی ٹی آئی نے مسترد کردیا، پی ٹی آئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری رہا کیا جائے پھر ہی بات آگے ہوسکتی ہے۔

  • اسلام آباد پہنچنے کی جلدی نہیں ،ہماری کوشش ہے بات چیت ہو،روؤف حسن

    اسلام آباد پہنچنے کی جلدی نہیں ،ہماری کوشش ہے بات چیت ہو،روؤف حسن

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما روؤف حسن کا کہنا ہے کہ ہمیں اسلام آباد پہنچنے کی جلدی نہیں ہے، قیادت طے کرے گی کہ کہاں جانا ہے کیا کرنا ہے۔

    باغی ٹی وی : روؤف حسن نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے بات چیت ہو، بات چیت کے دروازے کھلے ہونے چاہئیں چند دن پہلے بات چیت میں کچھ پیشرفت ہوئی تھی لیکن پھر معاملات کسی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے ،اگر اس اسٹیج کے اوپر ہم نے اسے پبلک کیا تو معاملات ڈیمیج ہوسکتے ہیں جو مناسب نہیں ہوگا۔

    رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ بات چیت اسٹبلشمنٹ سے ہو رہی تھی اور اس میں حکومت کا کوئی وزیر یا نمائندہ شامل نہیں تھا ہم چاہتے ہیں تعطل دور ہو، آخر کار بات چیت تو کرنی ہی ہے، لیکن لچک دکھائے بغیر بات چیت نہیں ہوسکتی، دونوں اطراف سے لچک دکھانی چاہئے، امید ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی معاملات آگے بڑھانے پر اتفاق کریں گے، ملک اس وقت خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، آج بیرسٹر گوہر اور شبلی فراز بانی سے ملاقات کرنے گئے، دونوں بات چیت کی اجازت لینے گئے تھے۔

  • پی ٹی آئی نے پریڈگراؤنڈ یا پشاور موڑ پر دھرنے کی حکومتی پیشکش مسترد کردی

    پی ٹی آئی نے پریڈگراؤنڈ یا پشاور موڑ پر دھرنے کی حکومتی پیشکش مسترد کردی

    اسلام آباد: پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے-

    باغی ٹی وی:میڈیا ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے امیر مقام، ایاز صادق، محسن نقوی اور رانا ثنا اللہ مذاکرات میں شریک ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسد قیصر، شبلی فراز اور بیرسٹر گوہر مذاکرات کر رہے ہیں،یہ مذاکرات منسٹر انکلیو میں جاری ہیں –

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کو اسلام آباد نہ آنے کی درخواست کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیلاروس کے سرمایہ کاروں کے ساتھ کل اسلام آباد میں بزنس کانفرنس ہورہی ہے،پی ٹی آئی کو دھرنے کے لیے پریڈ گراؤنڈ یا پشاور موڑپر جگہ دینے کی پیش کش کی گئی ہے، جس کو پی ٹی آئی نے مسترد کردیا، پی ٹی آئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری رہا کیا جائے پھر ہی بات آگے ہوسکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں متفقہ طور پر دھرنا پوائنٹ فائنل کیا جائے گا، ممکنہ طور پر پشاور موڑ کو دھرنا پوائنٹ ڈکلیئر کیاجائے گا دھرنا پوائنٹ ڈکلئیر ہونے کے بعد حکومت مظاہرین کی راہ میں رکاوٹیں نہیں کھڑی کرے گی، مظاہرین بھی پشاور موڑ سے آگے ریڈ زون کی جانب پیش قدمی نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں احتجاجی قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوچکا ہے،جبکہ تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی، قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی-

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان تحریک انصاف کی جانب سے فیڈریشن پر جتھوں کے ساتھ حملہ کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے، ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹو اور سابق خاتون اول فیڈریشن پر جتھوں کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں،شر پسندوں اور بلوائیوں نے پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے،ایک مخصوص ٹولے نے سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے، تحریک انصاف کے ایک دن کے احتجاج کے باعث پاکستان کو 190 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، تحریک انصاف ایک شدت پسند جماعت ہے اس پر فوری پابندی عائد کی جائے.

  • میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    بشریٰ بی بی کا سخت مؤقف ،عمران خان نے بھی حمایت کر دی، بولے، میں تو جیل میں ہوں، اب فیصلے بشریٰ بی بی کریں گے، جو فیصلہ بشریٰ کا ہو گا، پارٹی اس پر عمل کرے، عمران خان کا پیغام لے کر اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے والے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف روانہ ہوئے اور کہا کہ احتجاج ملتوی نہیں ہو گا،جاری رہے گا

    پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد کے قریب ہے، اسلام آباد کی حدود میں داخل ہو چکا تا ہم ابھی شہر سے دور ہے، 26 نمبر چونگی پر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے، علی امین گنڈا پور قافلے کی قیادت کرتے روانہ ہوئے تو راستے میں بشریٰ بی بی نے قافلے کی کمان سنبھال لی،بشریٰ بی بی نے کارکنان سے خطاب بھی کیا اور ویڈیو پیغام بھی جاری کیا،احتجاج کے حوالہ سے مشاورت کے لئے بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف نے آج عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی، عمران خان سے ملاقات کا آج دن بھی نہیں تھا اسکے باوجود ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں عمران خان کو آگاہ کیا گیا کہ پنجاب اور سندھ کے عوام نے ان کی "فائنل کال” پر توقع کے برعکس کوئی خاطر خواہ ردعمل نہیں دیا۔ اس اطلاع کے بعد عمران خان شدید پریشانی کا شکار ہوگئے،عمران خان کو بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی نے احتجاج کی قیادت سنبھال لی ہے اور اب وہی فیصلے کر رہی ہیں، جس پرباخبر ذرائع کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ "اب فیصلے بشریٰ بی بی ہی کریں گے، میں نے کئی بار احتجاج کا کہا لیکن کسی نے نہیں کیا، بشریٰ کے فیصلوں پر سب کو عمل کرنا ہو گا”. بیرسٹر گوہر نے عمران خان کو بتایا کہ بشریٰ بی بی نے کارکنان سے خطاب بھی کیا ہے جس پر عمران خان مسکرائے اور کہا کہ بشریٰ بی بی میرا پیغام پہنچا رہی ہیں، عمران خان نے پارٹی رہنماوں کو ہدایت کی کہ احتجاج ملتوی نہیں ہو گا، پہلے ہم نے بہت دھوکے کھا لئے، اب مطالبات کی منظوری تک احتجاج ہو گا، مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں ملتی تو بشریٰ بی بی سے مشاورت کریں، حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو کریں لیکن احتجاج ملتوی نہیں ہونا چاہئے.

    دوسری جانب بشریٰ بی بی کے احتجاج میں سخت مؤقف اور کسی بھی قسم کی نرمی نہ دکھانے پر پارٹی رہنما جو ماضی میں احتجاج میں شامل نہیں ہوتے تھے ،وہ پریشان ہیں، بشریٰ بی بی نے مفاہمتی گروپ پر واضح کر دیا ہے کہ اس بار نہ تو کوئی ڈیل ہوگی اور نہ ہی کسی مذاکراتی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنان سے خطاب کے دوران اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اکیلی بھی رہ گئیں، تب بھی وہ عمران خان کی رہائی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

    تحریک انصاف کے مفاہمتی گروپ کی جانب سے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ احتجاج کو ختم کیا جا سکے، تاہم بشریٰ بی بی نے ان تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ عمران خان کی رہائی کے بغیر کوئی بھی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔بشریٰ بی بی کے اس فیصلے سے پارٹی رہنماؤں نے سر جوڑ لئے ہیں وہیں احتجاج میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کی عدم موجودگی پر بھی پارٹی رہنما سوالات اٹھا رہے ہیں کہ علیمہ خان کیوں شریک نہیں ہیں،احتجاجی قافلے کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کے امتیوں‌کو خان کو اور میرا سلام،نہتی عوام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام آباد پہنچ رہی ہے، جو ابھی تک نہیں نکلے وہ اپنے اور ملک کے مستقبل کے لئے اسلام آباد پہنچیں کیونکہ یہ آپ کے ملک کے مستقبل کا سوال ہے،

    بشریٰ بی بی کے اس بیان کے بعد سیاسی ماحول میں مزید شدت آنے کا امکان ہے،بشریٰ بی بی کے سخت مؤقف کے بعد حکومت کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاہم حکومت عمران خان کو رہا نہیں کر سکتی کیونکہ عمران خان پر مقدمات قائم ہیں اور انہیں عدالتیں ہی رہا کر سکتی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حتمی کال کاآنے والے دنوں میں نتیجہ کیا نکلے گا؟

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا عمران خان کی رہائی کے لئے احتجاج کا اعلان کپتان کی رہائی نہیں بلکہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سیاسی طور پر لانچنگ کے لئے ہے، بشریٰ بی بی کو پی ٹی آئی میں لانچ کر دیا گیا، بشریٰ بی بی نے پارٹی قیادت سنبھال لی ہے، احتجاجی قافلے کی نہ صرف قیادت کی بلکہ کارکنان سے رات کو اور صبح خطاب بھی کیا، ویڈیو پیغام بھی جاری کیا

    سفید رنگ کا نقاب پہنے بشریٰ بی بی نے گزشتہ شب کینیٹنر پر چڑھ کر کارکنان سے خطاب کیا تو آج صبح بھی بشریٰ بی بی کینٹینر پر نظر آئیں اور کارکنان کو کہا کہ میرے میاں کا نہیں ملک کا مسئلہ ہے، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آئیں گے،بعد ازاں بشریٰ بی بی جو پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے کی قیادت کر رہی ہیں نے گاڑی سے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا جس میں بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ رسول اللہ کے امتیوں‌کو خان کو اور میرا سلام،نہتی عوام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام آباد پہنچ رہی ہے، جو ابھی تک نہیں نکلے وہ اپنے اور ملک کے مستقبل کے لئے اسلام آباد پہنچیں کیونکہ یہ آپ کے ملک کے مستقبل کا سوال ہے،

    عمران خان کے جیل میں ہونے کی وجہ سے بشریٰ بی بی اور علیمہ خان میں پارٹی پر قبضے کی جنگ جاری تھی، عمران خان نے 24 نومبر کے احتجاج کی کال اپنی بہن علیمہ خان سے دلوائی تا ہم بعد ازاں بشریٰ بی بی نے اجلاس بلایا اور علیمہ خان اور اسکے قریبی افراد کو دعوت نہ دی، بشریٰ بی بی نے احتجاج کے لئے رہنماؤں کی بندے لانے کی ڈیوٹیاں سونپی ، بعد ازاں خود مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد آ رہی ہیں تو وہیں علیمہ خان کل سے کہیں نظر نہیں آ رہی، اب تک کی احتجاجی قافلے کی سامنے آنے والی ویڈیوز، تصاویر میں علیمہ خان کہیں بھی دکھائی نہیں دے، پارٹی بھی علیمہ خان کے حوالے سے خاموش ہے،بشریٰ بی بی نے احتجاجی قافلے کی قیادت کر کے اور علیمہ خان کو سائیڈ پر کر کے پی ٹی آئی پر قبضہ جما لیا ہے اور آج سے بشریٰ بی بی کی پی ٹی آئی میں سیاسی لانچنگ ہو گئی ہے،

    عمران خان کہتے تھے کہ بشریٰ بی بی گھریلو خاتون ہیں لیکن یہاں احتجاجی قافلے کے دوران بشریٰ بی بی کی ویڈیو سامنے آئی ہیں جہاں سفید نقاب پہنے بشریٰ بی بی اپنےہاتھ ہلا ہلا کر آگے بڑھنے کا کہہ رہی ہیں وہیں دعویٰ کرتی ہیں کہ خان کو لئے بغیر واپس نہیں جانا،خطاب کے دوران، بشریٰ بی بی نے "اللہ اکبر” اور "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” کے نعرے بلند کیے اورعمران خان کی طرح مذہبی ٹچ دینا نہ بھولیں،

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کی حقیقی معنوں میں لانچنگ کر دی ہے اب بشریٰ بی بی پارٹی میں کھل کر کھیلیں گی، عمران خان جو موروثی سیاست کے خلاف تھے اب وہ پارٹی میں بشریٰ بی بی کے زیر اثر رہیں گے کیونکہ عمران خان خود تو جیل میں ہیں اور فیصلے اب بشریٰ بی بی کریں گی جو عمران خان کو تسلیم کرنا ہوں گے، ماضی میں بھی بشریٰ بی بی جب عمران حکومت میں تھے، بشریٰ کے ہی فیصلوں کو مانتے تھے اور کسی کی بات نہیں سنتے تھے،سیاسی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی نے اس احتجاج کے نام پر عمران خان کو رہا نہیں کروانا بلکہ یہ احتجاج بشریٰ کی سیاست میں باضابطہ انٹری کے لئے تھا،جس میں پی ٹی آئی کامیاب ہو گئی ہے.

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • نومئی مقدمہ، شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کیخلاف فرد جرم کی تاریخ مقرر

    نومئی مقدمہ، شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کیخلاف فرد جرم کی تاریخ مقرر

    انسداد دہشت گردی عدالت ،نو مئی عسکری ٹاور حملہ اور زمان پارک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمات کی سماعت ہوئی

    انسدادِ دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کی،عدالت نے پی ٹی آئی رہنما خالد محمود گجر کے پیش نہ ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ،عدالت نے کہا کہ ملزم خالد محمود گجر ضمانت پر ہے اور مسلسل غیر حاضری رہا ہے ،سابق وزیر خزانہ کی بیٹی خدیجہ شاہ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی گئی،عدالت نے دونوں مقدمات میں مزید سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی

    آئندہ سماعت پر عسکری ٹاور کیس میں شاہ محمود قریشی سمیت دیگر پر فرد جرم عائد ہو گی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی،عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر کے خلاف فرد جرم کی تاریخ مقرر کردی ۔عدالت نے آئندہ سماعت تمام ملزمان کو فرد جرم کے لیے طلب کرلیا ۔جج نے کہا کہ عدالت دو دسمبر کو فرد جرم عائد کرے گی ۔پولیس نے عسکری ٹاور حملہ میں 10 نئے ملزمان کا سپلیمنٹری چالان جمع کرا رکھا ہے ،فرد جرم کیلئے نئے ملزمان کو چالان کی نقول تقسیم کی جا چکی ہیں ،عدالت نے زمان پارک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے کیس میں گواہان شہادت قلمبند کیلئے طلب کر لیئے ،زمان پارک جلاؤ گھیراؤ کیس پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے،دیگر برضمانت ملزمان ٹرائل کی حاضری کیلیے جیل میں پیش ہوئے

    شاہ محمود قریشی ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر زیر حراست ملزمان کی حاضری مکمل کی گئی ،سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ ہسپتال داخل ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے ،عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کیس میں شاہ محمود قریشی ٫ ڈاکٹر یاسمین راشد ٫عمر سرفراز چیمہ ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ٹرائل جاری ہے،زمان پارک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے کیس میں شاہ محمود قریشی ٫اعجاز چوہدری ، عمر سرفراز چیمہ ، میاں محمودالرشید ، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ٹرائل جاری ہے

  • عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کردی ،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے جو وعدے الیکشن میں عوام سے کئے اس پر ہمارا فوکس ہے، آپ کو اس لیے نہیں ووٹ ملتے کہ عوام کے حقیقی مسائل کو چھوڑ دیں، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے آتے ہی کسان کارڈ دیئے،20 ارب روپے سے زیادہ کے کسان کارڈ دیئے گئے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی دن رات کوششیں جاری ہیں، ٹرانسپورٹ سیکٹر اپنی محنت جاری رکھے ہوئے ہے، ریڈ لائن بی آر ٹی اور ییلو لائن بی آرٹی پر کام چل رہا ہے،پاکستان کی پہلی ای وی ٹیکسیز لارہے ہیں،بے روزگار نوجوانوں کو ای وی ٹیکسی دیں گے، نوجوان ای وی ٹیکسی سے عزت والا روزگار کمائے گا،

    لوگوں کی بھلائی کیلئے باہر نکلیں تو سب آپ کے ساتھ ہوں گے، شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ہفتے میں 90 سے زیادہ لوگوں کی شہادت ہوئی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس وقت کہاں ہیں؟ خیبرپختونخوا کی مشینری اس وقت کہاں ہے؟ خیبرپختونخوا کی حکومت وفاق پر چڑھائی کررہی ہے،خیبرپختونخوا کی پولیس وفاقی پر چڑھائی کرے یہ ان کی ترجیح ہے، کوئی ایک پراجیکٹ بتادیں جو 12سالوں میں صوبے کو دیا ہو، ان 12سالوں میں خیبرپختونخوا کے لوگوں کو کونسا ریلیف ملا، ریلیف ملا ہوتا تو کے پی کے عوام سندھ یا دیگر صوبوں میں روزگار کیلئے نہ آتے،آج بھی اسٹاک ایکسچینج اوپر گئی ہے، ایک انتشاری ٹولہ یہ چاہتا ہے کہ ملک میں انتشار کی سیاست کی جائے ، آپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے پرامن احتجاج بھی کرسکتے ہیں، کیا ضرور ی ہے کہ آپ نے پولیس پر شیلنگ اور افراتفری کرنی ہے، بتائیں کراچی میں کتنے لوگ گھروں سے نکلے؟ لوگ اب بیزار ہوچکے ہیں، آپ لوگوں کو مزید بے وقوف بنانا بند کریں،لوگوں کو انتشار نہیں بنیادی مسائل کا حل چاہیے، لوگوں کو برائی اور گالم گلوچ کی سیاست نہیں چاہیے، آپ لوگوں کی بھلائی کیلئے باہر نکلیں تو سب آپ کے ساتھ ہوں گے، ہر حکومت کا یہ کام ہے کہ وہ اپنی ڈومین میں رہے اور جس مقصد کیلئے اقتدار دیا گیا وہ کام کرے، ہماری بھی لیڈر شپ گرفتار ہوئی ہم یہاں سے کوئی جتھہ نہیں لے کر گئے،ہم صوبے سے کوئی سرکاری مشینری نہیں لے کر گئے،

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • پی ٹی آئی احتجاج،20 سے زائد پولیس اہلکار حملوں میں زخمی ،وزیراعلیٰ پنجاب برہم

    پی ٹی آئی احتجاج،20 سے زائد پولیس اہلکار حملوں میں زخمی ،وزیراعلیٰ پنجاب برہم

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب پولیس افسروں اور اہلکاروں پر حملے پر شدید ردعمل دیا ہے

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پولیس کانسٹیبل پر فائرنگ پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پولیس پوسٹوں پر فائرنگ کی شدیدمذمت کی ہے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایس پی، ڈی ایس پی ایس ایچ او سمیت 20 سے زائد پولیس اہلکار کا حملوں میں زخمی ہونا افسوسناک ہے ۔مظاہرین کے پاس شارٹ مشین گن ، آنسو گیس،چاقو،ماسک وغیرہ بھی دیکھے گئے ۔ مظاہرین کی جانب سے پنجاب پولیس حملوں میں ایسا اسلحہ استعمال ہوا جو صرف پولیس کے پاس ہوتا ہے ۔غازی بروتھا ،میانوالی ،ہزارہ موٹروے اور دیگر مقامات پر فائرنگ کی گئی۔پنجاب پولیس کو پہلے بھی تصادم سے بچنے کےلئے غیر مسلح رکھا گیا تھا ۔ اب بھی غیر مسلح ہے۔پچھلے احتجاج میں بھی ایک کانسٹیبل شہید۔ 25 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ ایک صوبے کی پولیس کا دوسرے صوبے پر سرکاری وسائل سے حملہ قومی یک جہتی کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ کونسا احتجاج ہے جہاں سرکاری وسائل استعمال کیا جارہے ہیں ۔احتجاج کی بجائے یہ تحریک مسلح دہشت گردی کی کاوش ہے۔

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب