Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی والے گول گول گھوم کر جہاں سے آئے وہیں واپس جائیں گے،کامران ٹیسوری

    پی ٹی آئی والے گول گول گھوم کر جہاں سے آئے وہیں واپس جائیں گے،کامران ٹیسوری

    لندن: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے گول گول گھوم کرواپس وہیں جائیں گے جہاں سے آئے تھے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کامران ٹیسوری نے کہا کہ یہ سیاسی، جذباتی اور آخری اوور کا گیم ہے،اس کے بعد اوورختم ہوجائےگا، ان کی باتوں سے فرسٹریشن ظاہر ہوتی ہےبشریٰ بی بی کے بیان کو ان کی اپنی پارٹی نے بھی اون نہیں کیا اگر بانی نے بشریٰ بی بی سے ایسی کوئی بات کی ہے تو حلف توڑا ہے۔

    کامران ٹیسوری نے کہا کہ اگر کچھ ہوا بھی تھا تو بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم راز افشا نہ کرنے حلف اٹھایا ہےاگر یہ سب بہت سی باتوں کو جوڑ کر رہے ہیں تو یہ ملکی خودمختاری و سالمیت کے خلاف ہے پاکستان معاشی استحکام کیلئے کوششیں کر رہا ہے، دوست ممالک ساتھ ہیں، پی ٹی آئی والے جو بھی کریں گے وہ نہ دوست ممالک کو پسند آئے گا نہ ہی پاکستانی عوام کو پسند آئے گا۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایسا دوست ملک ہے جس نے پاکستان کو ہمیشہ مشکل حالات سے نکالا، سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دیرینہ مذہبی اور بردرانہ تعلقات ہیں سیاسی طور پر وہ جو باتیں کر رہے ہیں وہ سیاسی لوگ ضرور کرتے ہیں، اس سے پہلے بھی جو اپوزیشن میں رہے وہ ان سے زیادہ باتیں کرتے رہے۔

  • سیاسی میدان  میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    سیاسی میدان میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کی احتجاجی کال سے ایک دن قبل اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی۔ یہ مہم آئی جی اسلام آباد علی رضا رضوی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور، اور ڈی آئی جی لیاقت ملک کے خلاف مختلف پلیٹ فارمز پر چلائی گئی۔ پی ٹی آئی کے تمام آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول واٹس ایپ، ٹوئٹر، فیس بک، تھریڈز، اور انسٹاگرام پر یہ مہم جاری رہی۔ اس مہم کا مقصد ان افسران کو تحریک انصاف کے خلاف ہونے والے مبینہ تشدد کا ذمہ دار ٹھہرانا تھا اور عوام کو ان کے خلاف اکسایا گیا۔

    پولیس افسران کے خلاف اس سوشل میڈیا مہم میں تحریک انصاف نے صرف اور صرف احتجاج کی کال اور سکیورٹی انتظامات کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ان پولیس افسران پر تنقید کر کے کمزوری کا ثبوت دیا۔ تحریک انصاف نے ان افسران پر بے بنیاد الزامات لگائے اور ان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے، جو قانونی طور پر "ڈیفیمیشن” اور "انسائٹمنٹ ٹو وائلنس” کے زمرے میں آتا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف سوشل میڈیا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس مہم کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہے۔ جب ایک سیاسی جماعت سرکاری افسران کو نشانہ بنا کر عوام میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے تو کیا ریاست اس مہم کے ماسٹر مائنڈز کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے ذریعے انتشار پھیلا رہی ہے تو کیا ریاست ایسی سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ سے چلنے والی کمپین کے خلاف ایکشن لے گی یا نہیں؟ اگر ریاست ان مہمات کے خلاف ایکشن نہیں لیتی تو یہ آئندہ کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف ابوبکر نے لکھا کہ ریاستی ادارے کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟‼️پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بہادر پولیس افسران کی تصاویر اس طرح شیئر کی جا رہی ہیں جیسے وہ دہشت گرد ہوں۔ یہ نہ صرف ان افسران بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ایک جماعت ملک کے محافظوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو مذاق بنا رہی ہے، اور اب تو افسران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    نعمان قیصر کا ایکس پر کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اب سیاسی میدان میں شکست کھانے کے بعد ریاستی اداروں کے اعلی افسران و عہدیداران کے خلاف گھٹیا مہم اور ذاتی دشمنی جیسے حملے کر رہی ہے،زیر نظر ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ پولیس افسران کی تصاویر پی ٹی آئی آفیشل سائٹ سے ایسے شئر کی جا رہی ہیں جیسے یہ دہشت گرد ہوں

    https://twitter.com/NomanqaiserS/status/1860390047545196722

    عدنان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل گینگ کی ایک اور سازش،پولیس کو بدنام کرنے کے لیے بہادر افسران کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش۔

    بلوچستان کے سابق نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی کہتے ہیں کہ ان پیغامات کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے آفیشل واٹس ایپ گروپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے ان پولیس افسران کے خلاف ایک منفی مہم چلائی۔
    ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ کیلے کی ریاست ہے جہاں کوئی بھی ریاستی اہلکاروں کو دھمکا سکتا ہے / ہراساں کر سکتا ہے اور اس کی کو ہی پکڑ نہیں۔ ریاست کے خلاف اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • محسن نقوی نے احتجاج مو خر کرنے سے متعلق بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    محسن نقوی نے احتجاج مو خر کرنے سے متعلق بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر نے کہا ہے کہ ،وزیرداخلہ محسن نقوی نے احتجاج مو خر کرنے سے متعلق بات نہیں کی اور انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی کہ احتجاج موخر کریں تو بات آگے بڑھے-

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیرداخلہ محسن نقوی سے دو بار نہیں ایک بار رابطہ ہوا ہے، ان سے شام 6 بجے تک حتمی جواب دینے کی بات نہیں کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر میں ہمیں سنا ہی نہیں گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فائنل آرڈر نہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ احتجاج کی کال صرف بانی پی ٹی آئی واپس لے سکتے ہیں، سیاسی کمیٹی میں احتجاج مو خر کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، ہم نے ہر قدم بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق لیا،وزیرداخلہ محسن نقوی نے احتجاج مو خر کرنے سے متعلق بات نہیں کی اور انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی کہ احتجاج موخر کریں تو بات آگے بڑھے ، بانی پی ٹی آئی تمام کیسز میں ضمانت پر ہیں، ہماری کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں، بانی پی ٹی آئی رہا ہوجاتے ہیں مذاکرات تو پھر بھی آگے چلنے ہیں۔

    گوہر نے کہا کہ ابھی تک ہماری بات چیت اس سطح پر نہیں کہ اس میں رہائی کا کوئی مطالبہ ہو، افسوس کی بات ہے پاکستان کے 8موٹرویز بند کیے گئے ، ٹرانسپورٹ بند، ہاسٹلز خالی کرا لیے گئے ، اگر ہم نے احتجاج سے یہ سب کچھ حاصل کرنا تھا تو یہ حکومت نے کردیا، لوگوں کا حق ہے کہ پرامن طریقے سے آئیں اور اپنا احتجاج کریں، ہم سے زیادہ لانگ مارچ تو پی ٹی آئی دور میں انہوں نے کیے۔

    انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا نہ توشہ خانہ سے کوئی تعلق ہے نہ پیسے لیے، ان کو تکلیف دینا کہ شاید اس سے بانی پی ٹی آئی ٹوٹ جائیں، بشریٰ بی بی کا بیان روز روشن کی طرح عیاں ہے، سعودیہ کا نام نہیں لیا، بشریٰ بی بی گرفتاری دینے خود اڈیالہ جیل گئیں تو اس کو متنازع بنادیا گیا، بشریٰ بی بی اس احتجاج میں شرکت نہیں کریں گی، ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں۔

  • پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    تحریک انصاف باز نہ آئی،ملک دشمن اقدامات پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے چلائی جانے لگی،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلز نے پنجاب اور اسلام آباد کے سینئر پولیس افسران کے خلاف ایک منظم مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ان افسران کو دھمکیاں دینا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف مہم واٹس ایپ، فیس بک، ایکس،تھریڈز،پر چلائی جا رہی ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے آئی جی پنجاب عثمان انور،آئی جی اسلام آبادعلی رضا رضوی،ڈی آئی جی لیاقت ملک، سی سی پی او لاہوربلال صدیق کمیانہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے

    اطلاعات کے مطابق، پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپس اور دیگر آن لائن فورمز کے ذریعے پولیس افسران کے خلاف جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈہ مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد پولیس افسران کی عزت کو مجروح کرنا اور ریاستی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ صورتحال ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان ایک "بنانا ریپبلک” بن چکا ہے، جہاں کوئی بھی بغیر کسی خوف کے ریاستی اہلکاروں کو دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر سکتا ہے؟ کیا اس گھناونے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ریاست کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو ریاستی افسران کو ہراساں کرنے اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سخت اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلر اور مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہو سکیں

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم میں پولیس افسران کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں،پولیس افسران کے خلاف پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی یہ منظم مہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے.

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے کسی کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی ہو، پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں کے خلاف متعدد بار مہم چلائی جا چکی ہے اور وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں،کبھی عدالتوں کے خلاف، کبھی پاک فوج کے خلاف،کبھی پولیس کے خلاف، کبھی میڈیا کے خلاف، کوئی بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ سے محفوظ نہیں ہے

  • پی ٹی آئی احتجاج:راستوں کی بندش  کے باعث  چناب ٹول پلازہ پر  باراتیں پھنس گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج:راستوں کی بندش کے باعث چناب ٹول پلازہ پر باراتیں پھنس گئیں

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کی وجہ سے گوجرانوالہ اور گجرات کے درمیان چناب ٹول پلازہ پر دو باراتیں پھنس گئیں۔

    باغی ٹی وی : باراتیں سیالکوٹ اور گوجرانوالہ سے گجرات اور جہلم جا رہی تھیں لیکن چناب ٹول پلازہ پر دونوں باراتیں پھنس گئیں، دلہوں اور بارات کی گاڑیاں گھنٹوں انتظار کر بعد واپس لوٹ گئیں،جبکہ سیالکوٹ سے لاہور جانے والی بارات کو موٹر وے پر ہی روک دیا گیاجس پر د لہا نے میڈیا کے ذریعے اداروں سے فریاد کی کہ ہمیں راستہ دیا جائے تاکہ برقت پہنچ سکیں، دلہے کا کہنا تھا کہ دلہن والے لاہور میں بارات کے منتظر ہیں۔

    دوسری جانب ہیڈ خانکی پل بلاک ہونے کے باعث بارات کافی دیر پھنسی رہی، دلہا اور اس کے بھائی کی پولیس کو منت سماجت کے بعد دلہا کوبارات گجرات لے جانے کی اجازت مل گئی۔

    علاوہ ازیں پلوں اور راستوں کی بندش کے باعث سرائے عالمگیر میں مریض جہلم پل پر دم توڑ گیا، جہلم کے پرانے پل پر راستے بند ہونے کے باعث مریض ہسپتال نہ پہنچ سکا، گاڑیوں کو اجازت نہ ملنے کے باعث لواحقین میت کو اٹھائے ہوئے پیدل چلتے رہے، فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متوفی کے لواحقین میت اٹھائے پیدل چل رہے ہیں، دیگرفوت ہونے والے کو بھی راستوں کی بندش کے باعث ہسپتال نہ پہنچایا جا سکا، احتجاج کے باعث جہلم کے تینوں پلوں کو بند کیا ہوا ہے

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے باسث حکومت نے اسلام آباد کے راستے بند کردیے، دارالحکومت کو جانے والے زیادہ تر راستوں پر بندش ہے اور چھبیس نمبر چُنگی کنٹینر لگا کر مکمل سیل کردی گئی، سری نگر ہائی وے بھی زیرو پوائنٹ کے مقام پر بند ، مختلف شاہراہوں پر کنٹینر رکھ کر راستے بند کردیئے گئے،راولپنڈی آئی جے پی روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے-

    مری سے آنیوالی سڑک کو کنٹینر رکھنے کے علاوہ بعض مقامات سے کھود کر بند کردیا گیا ہے اُدھر موٹرویز صبح سے بند ہیں، راستے بند ہونے کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد کے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں اس کے علاوہ جہلم کی اہم شاہراہوں پر بھی کنٹینر کھڑے کردیے گئے ، فیصل آباد کے دا خلی راستے بھی بند ہیں اور لاہور، پشاور اور فیصل آباد سے اسلام آباد کیلئے جانے والی موٹر ویز بھی بند کردی گئیں۔

  • پی ٹی آئی قیادت کی لاہور کیلئے احتجاج کا پلان تبدیل کیے جانے کا امکان

    پی ٹی آئی قیادت کی لاہور کیلئے احتجاج کا پلان تبدیل کیے جانے کا امکان

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قیادت کی طرف سے لاہور اور پنجاب کے لیے احتجاج کا پلان تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت 24 نومبر کے احتجاج کے معاملے پر لاہور اور پنجاب میں احتجاج کا پلان بدل سکتی ہے،لاہور کے ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کی طرف سے پنجاب کے دارالحکومت میں ہی احتجاج کیے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی لاہور کی قیادت اور کارکن بتی چوک پر احتجاج کرسکتے ہیں، جس کو جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا لیڈ کریں گے، راستوں کی بندش کی وجہ سے دیگر اضلاع کے رہنما اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کریں گے جبکہ راستے کھلنے کے بعد وہ دیگر شہروں سے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کل انٹرنیٹ سروس بند رہے گی، ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق آج رات بارہ بجے کے بعد انٹرنیٹ سروس بند کر دی جائے گی، ذرائع نے بتایاکہ موبائل فون نیٹ ورک کھلے رہیں گے تاہم انٹرنیٹ اور وائی فائی بند ہوگا جبکہ بڑے شہروں میں بھی انٹرنیٹ سروس بند ہوگی۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی ہر صورت اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔

  • پی ٹی آئی احتجاج میں بشریٰ بی بی کا شامل ہونے سے انکار

    پی ٹی آئی احتجاج میں بشریٰ بی بی کا شامل ہونے سے انکار

    پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، بشریٰ بی بی احتجاج کے لیے متحرک تھیں، بندے اور پیسے جمع کرنے کے ٹاسک دیئے، اب احتجاج میں شمولیت کی باری آئی تو بشریٰ بی بی خود بھاگ گئیں ،

    تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے احتجاج میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے،بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسفزئی کا کہنا تھاکہ بشریٰ بی بی خرابی طبیعت کے باعث احتجاج میں شریک نہیں ہوں گی،اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کارکنان میں مایوسی پھیل گئی ہے، گزشتہ روز علیمہ خان نے بھی کہا تھا کہ بشریٰ احتجاج میں شریک ہوں گی یا نہیں اس پر ان سے خود ہی سوال کیا جائے،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا بھی کہنا تھا کہ احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ عمران خان کا ہو گا، وہ کہیں گے تو احتجاج مؤخر ہو گا ہم کچھ نہیں کر سکتے،بشریٰ بی بی پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ میں شریک نہیں ہوں گی،وہ گھریلو خاتون ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،بشریٰ عمران کا پیٍغام پہنچا رہی تھی پارٹی تک، سیاست میں وہ ان نہیں ہیں،عمران اسکا شوہر جیل میں ہے ، پیغام بشریٰ ہی دے سکتی ہے، اسکا حق ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا، اسکو سیاست نہیں کہتے،

    بشریٰ بی بی اڈیالہ سے رہائی کے بعد پشاور گئیں اور وہیں مقیم ہیں، بشریٰ کی آڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو بندے لانے کا ٹاسک دیا ،اور پارٹی ٹکٹ نہ دینے کی دھمکی بھی دی، بشریٰ نے قوم سے ویڈیو خطاب بھی کیا جس میں سعودی عرب متنازعہ بات چیت کی، اس واقعہ کے بعد بشریٰ بی بی کے خلاف کئی شہروں میں مقدمے درج ہو چکے ہیں، بشریٰ بی بی کو گرفتاری کا ڈر ہے اسلئے وہ احتجاج میں شامل نہیں ہو رہیں،بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں،

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • سعودی حکومت کومعلوم ہے کہ  عمران خان اور  بشریٰ بی بی نے مل کر فراڈ کیا تھا،خواجہ آصف

    سعودی حکومت کومعلوم ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے مل کر فراڈ کیا تھا،خواجہ آصف

    سیالکوٹ: وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور باقاعدہ اسٹریٹیجی کے تحت لوگوں کو مروانا چاہتے ہیں-

    باغی ٹی وی : خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 24 نومبر کے حوالے سے حکومت نے اپنا لائحہ عمل طے کرلیا ہے، اگر یہ لوگ مسلح جتھے لائیں گے تو حکومت بھی ان کا مقابلہ کرے گی، یہ لوگ لاشوں کی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں، حکومت ان حربوں سے گریز کر رہی ہے،یہ چاہتے ہیں لاشیں لے کر خیبرپختونخوا جاکر مسئلہ بنائیں، وزیراعلیٰ کے پی باقاعدہ اسٹریٹیجی کے تحت لوگوں کو مروانا چاہتے ہیں، یہی اسٹریٹیجی بانی پی ٹی آئی کی ہے، یہ ہدایات وہاں سے آتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے بیان سے خارجہ پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑا، بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ سے متعلق سعودی حکومت باخوبی واقف ہے، دونوں میاں بیوی کو جو گھڑیاں اور تحائف ملے ان کو بیچا گیا، سعودی حکومت کومعلوم ہے کہ دونوں میاں بیوی نے مل کر فراڈ کیا تھا، بدقسمتی سے اس طرح کے لوگ ہمارے حکمران بن جاتےہیں، سعودی حکومت اس کو ہماری کمزوری سمجھ کر درگزر کرے گی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف سے کسی سطح پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، بیرسٹر گوہر سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم بتانے سے متعلق رابطہ کیا گیا محسن نقوی کا بیرسٹرگوہر سے صرف ایک بار رابطہ ہوا ہےاور وہ بھی محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر پر واضح کر دیا کہ احتجاج کی کوئی اجازت نہیں اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہیں۔ جو آئے گا گرفتار ہو گا۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ کسی کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے احتجاج میں شریک سرکاری افسران کو آئندہ ترقی نہیں ملے گی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے سرکاری افسران سے بھی نمٹا جائے گا، خیبر پختونخوا میں دہشتگردی ہو رہی ہے اور آپ اسلام آباد آرہے ہیں، اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو چاہیے کہ اپنے صوبے پر توجہ دیں آپ کی سیاسی جماعت ہے یا آپ ملک دشمن ہیں ؟۔

  • احتجاج،رستے بند،میت لے جانے والی ایمبولینس بھی پھنس گئی

    احتجاج،رستے بند،میت لے جانے والی ایمبولینس بھی پھنس گئی

    پی ٹی آئی احتجاج، حکومت نے لاہور، اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں اہم شاہراہیں بند کر دیں جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،

    پنجاب کے شہر گوجوانوالہ میں ایمبولینس بھی راستے بند ہونے کی وجہ سے پھنس گئی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے،ایمبولینس میں میت کو منتقل کیا جا رہا ہے،چناب ٹول پلازا پر میت کے ساتھ جانے والی ایمبولینس بھی پھنس گئی،ایمبولینس ڈرائیور نے پولیس اہلکاروں سے راستہ کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی میں میت ہے مہربانی کر دیں،لیکن راستہ نہ ملا جس پر شہریوں نے میت کو اسٹریچر پر خود ہی ایمبولینس سے اتار کر لے جانے کی کوشش کی، اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، بعد ازاں ڈرائیور کی اپیل پر پولیس اہلکاروں نے ایمبولینس گزرنے کے لیے راستہ کھول دیا۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے موٹر ویز سمیت کئی اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے، سڑکیں بلاک کرنے کے لیے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے،لاہور میں جلسے، جلوسوں اور احتجاج کے باعث رنگ روڈ کو 2 دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے،اسلام آباد اور راولپنڈی جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

  • ایسا علاج ہو گا کہ دوبارہ اسلام آباد کا نام نہیں لیں گے،حنا پرویز بٹ

    ایسا علاج ہو گا کہ دوبارہ اسلام آباد کا نام نہیں لیں گے،حنا پرویز بٹ

    مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک سخت بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اس بار پی ٹی آئی کا ایسا علاج کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ کبھی اسلام آباد کا رخ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گی۔

    اپنے بیان میں حنا پرویز بٹ نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "یہ جماعت ہر بار جب کوئی غیر ملکی سربراہ پاکستان آنے والا ہوتا ہے، اپنے سیاسی تھیٹر کا آغاز کر دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں بھی رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔” پی ٹی آئی کا طرزِ سیاست ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ جماعت صرف افراتفری اور انتشار پیدا کرنے کی سیاست کرتی ہے۔ حنا پرویز بٹ کے مطابق، پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی اور رویے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جماعت پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے۔

    حنا پرویزبٹ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور دیگر حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کو ایک "غیر ذمہ دارانہ” عمل قرار دے رہی ہیں۔حنا پرویز بٹ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے خلاف سخت حکمت عملی اپنانے کے لیے تیار ہے تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری