Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس ہوکر گھر  بیٹھ گیا ہے،عطا اللہ تارڑ

    پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گیا ہے،عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہےکہ جیل مینول کی خلاف ورزی کوئی بھی کرےگا ملاقات بند ہوگی-

    عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ناشتہ غریب کے چار دن کے کھانے کے برابر ہے،جیل میں بانی پی ٹی آئی کو ٹریڈمل دستیاب ہے، وہ ڈیڑھ گھنٹہ سائیکلنگ کرتے ہیں، تحریک انصاف کی کال پر اب لوگ نہیں نکلتے،کے پی میں ان کی حکومت ہے، اس کے باوجود لوگ نہیں نکال پا رہے، پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گیا ہے نوازشریف جیل میں تھے تو ان کے وکلا نے کبھی سیاسی بات نہیں کی، وہ صرف کیسز پر توجہ دیتے تھے، یہ جب آتے ہیں سیاسی گفتگو کرتے ہیں، جیل مینول کی خلاف ورزی کوئی بھی کرےگا ملاقات بند ہوگی ۔

    واضح رہے کہ عمران خان سے ملاقات کے معاملے میں تحریک انصاف پنجاب نے کل منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنے کی کال دے دی پی ٹی آئی پنجاب کے تمام ارکان قومی اسمبلی، رکن پنجاب اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدے داران کو کل دو بجے اڈیالہ کے باہر پہنچنے کا پیغام جاری کردیا گیا ہےتحریک انصاف پنجاب کے چیف آرگنائزر نے کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہونے تک وہی موجود رہا جائے،اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے تمام رکن قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز کو لازمی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

    دوسری جانب پانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر آئی ہے، مجھے لگتا ہے وہ تصویر اصل ہے لیکن پرانی ہے،گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر عمران خان کی ایک مبینہ تصویر سامنے آئی جس میں انہیں بظاہر ورزش کرتے دیکھا گیا جب یہ تصویر وائرل ہوئی تو شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ اے آئی سے بنائی گئی تصویر ہے، تاہم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اس حوالے سے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ عمران خان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر آئی ہے، مجھے لگتا ہے وہ تصویر اصل ہے لیکن پرانی ہے، جب تصویر سامنے آئی تو پہلے میں نے بھی اسے دیکھا تو کہا کہ آج کل اے آئی سے بہت سی تصاویر بن جاتی ہیں، لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو میں نے وہ تصویر کسی اور کو بھیجی اور کہا کہ چیک کروائیں کہ آیا یہ اے آئی ہے یا نہیں، کیونکہ یہ عمران خان ہی لگ رہے ہیں۔

    pti

    علیمہ خان نے کہا کہ اب مجھے یقین ہے کہ وہ تصویر عمران خان کی ہی ہے۔ یہ قیدِ تنہائی سے پہلے کی تصویر ہے کیونکہ اس میں انہیں کافی پسینہ آیا ہوا ہے۔ یہ تصویر گرمیوں کی لگتی ہے، سردیوں کی نہیں،عدالتوں میں جھوٹے گواہان پیش کیے جاتے ہیں، منگل کا دن اڈیالہ میں ہماری ملاقات کا دن ہوتا ہے، کل ہماری ملاقات کا دن ہے ہم جائینگے وہاں بیٹھیں گے، جو جو بانی کی رہائی چاہتا ہے وہی ہماری ٹیم کا حصہ ہے۔

  • پی ٹی آئی کی رہنماؤں اور کارکنوں کو کل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنے کی کال

    پی ٹی آئی کی رہنماؤں اور کارکنوں کو کل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنے کی کال

    لاہور:عمران خان سے ملاقات کے معاملے میں تحریک انصاف پنجاب نے کل منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنے کی کال دے دی۔

    پی ٹی آئی پنجاب کے تمام ارکان قومی اسمبلی، رکن پنجاب اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدے داران کو کل دو بجے اڈیالہ کے باہر پہنچنے کا پیغام جاری کردیا گیا ہےتحریک انصاف پنجاب کے چیف آرگنائزر نے کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہونے تک وہی موجود رہا جائے۔

    اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے تمام رکن قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز کو لازمی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

  • رہنما مسلم لیگ ن کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کے بیان پر سخت ردعمل

    رہنما مسلم لیگ ن کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیان پر سخت ردعمل

    وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کوہاٹ جلسے میں کی گئی تقریر پر ردعمل میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقریر سن کر یوں محسوس ہوا جیسے کوئی شخص خواب کی دنیا میں حقائق سے دور کھڑے ہو کر خطاب کر رہا ہو۔

    وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا امیر مقام نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کوہاٹ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مسترد کر دیا گیا، عوام کو اب احساس ہوا کہ یہ لوگ صرف دعوے کرتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتے، وزیراعلیٰ کے دعوے اور حقیقت میں واضح تضاد ہے اور تقریر ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔

    امیر مقام نے کہا کہ نوجوانوں کو ایک بار پھر لاشوں اور کفن کی سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، 2014، 2018 اور 2022 میں سڑکوں کی سیاست نے ملک کو نقصان پہنچایا، ریاست کو بلیک میل کرنے کی سیاست اب نہیں چلے گی، مریم نواز آئینی اور منتخب وزیراعلیٰ ہیں، ذاتی حملے ناکامی کا ثبوت ہیں، پنجاب پولیس اور صحت کے شعبے میں اصلاحات مریم نواز کی اولین ترجیح ہے جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے صوبے کے اسپتالوں اور صحت بحران پر بات سے گریزاں ہیں-

    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو خط لکھ کر ملک کو ڈیفالٹ کے قریب کس نے پہنچایا؟ 2018 سے 2022 تک تاریخی قرضے اور معاشی تباہی پی ٹی آئی کی نالائقی کا نتیجہ ہے، زیرو کرپشن کے دعوؤں کے باوجود بی آر ٹی اور صحت کارڈ اسکینڈلز سامنے آئے اور بلین ٹری، گندم اور دیگر اسکینڈلز نیب اور عدالتی رپورٹس میں موجود ہیں-

    ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں منصوبوں کے اعلانات بہت ہوئے ہیں لیکن تکمیل نہ ہونے کے برابر ہے، پشاور، سوات اور قبائلی اضلاع کے اسپتالوں کی حالت زار ان کی ترجیحات ظاہر کرتی ہے، خیبرپختونخوا میں بے روزگاری عروج پر ہے اور نوجوان احتجاج پر مجبور ہیں، سب کچھ شفاف ہے تو نوجوان دربدر کیوں ہیں، آزادی یا موت جیسے نعرے آئین اور قانون کے منافی ہیں، سیاست آئین اور پارلیمان سے چلتی ہے، تشدد کے نعروں سے نہیں، اداروں پر حملے اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش ہیں، میڈیا کو گالیاں دینا اور صحافیوں کو غدار کہنا آمریت کی علامت ہے۔

    امیر مقام نے کہا کہ آزاد میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے، اسے دبایا نہیں جا سکتا، وزیراعلیٰ کی تقریر کارکردگی نہیں بلکہ خوف اور نفرت کا مجموعہ ہے، عوام نعروں اور دھمکیوں سے آگے بڑھ چکے ہیں، پاکستان کو استحکام، روزگار اور قانون کی حکمرانی چاہیے اور ملک کو استحکام صرف مسلم لیگ (ن) ہی دے سکتی ہے-

  • اس بار ڈی چوک جائیں گے تو آزادی لے کر یا کفن میں واپس آئیں گے،سہیل آفریدی

    اس بار ڈی چوک جائیں گے تو آزادی لے کر یا کفن میں واپس آئیں گے،سہیل آفریدی

    کوہاٹ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک میں جلد ہی صرف بانی پی ٹی آئی کی حکومت ہو گی، جب بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال آئے گی ہم نکل پڑیں گے-

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال آئے گی ہم نکل پڑیں گے صوبے میں کرپٹ عناصر کا خاتمہ کریں گے اور ملک میں جلد ہی صرف بانی پی ٹی آئی کی حکومت ہو گی، خیبر پختونخوا کی طرف انگلی اٹھانے والے پہلے اپنی صوبے کی کرپشن دیکھیں، پنچاب میں ہزاروں اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے اس بار ڈی چوک جائیں گے تو آزادی لے کر یا کفن میں واپس آئیں گے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنوں کو جعلی مقدموں میں پھنسایا ہوا ہے تاہم ہم بانی پی ٹی آئی کو آزاد کرائیں گے انہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے جج سے ملنے جاتے ہیں تو ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا،جنہوں نے ہمارے مینڈیٹ کی حفاظت کرنی تھی انہوں نے ڈاکہ ڈالا ہوا ہے اور ہمارے محافظ ہی ہمارے قاتل بنے ہوئے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ کچھ ٹاؤٹس رات کو میڈیا پر بیٹھ کر گولیوں کی دھمکی دیتے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے احتجاج یا مذاکرات کی ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دی ہے، جب بھی ان کی طرف سے کال آئے گی سب نے تیار رہنا ہے، پنجاب پولیس کو پورے پاکستان میں کرپٹ ترین ادارہ بنا دیا گیا ہے خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور پنجاب میں سرمایہ کاری کم ہو گئی ہے۔ جبکہ یہ مشورے بھی ہمیں دیئے جا رہے ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنما  احتجاجاً پارٹی سے مستعفیٰ

    پی ٹی آئی رہنما احتجاجاً پارٹی سے مستعفیٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینئر قانون دان قاضی انور ایڈووکیٹ نے پارٹی قیادت سے اختلافات پر احتجاجاً پارٹی سے مستعفیٰ ہوگئے۔

    اتوار کو پی ٹی آئی رہنما و سینئر قانون دان قاضی انور ایڈووکیٹ نے پاکستان تحریک انصاف سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا،پشاور سے جاری اپنے بیان میں قاضی انور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پارٹی کی موجودہ قیادت نے میری بے عزتی کی، جس کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی اذیت پہنچی، وہ اس صورت حال کے پیش نظر احتجاجاً پارٹی چھوڑ رہے ہیں تاہم بانی پی ٹی آئی سے ان کا ذاتی تعلق برقرار رہے گا۔

    قاضی انور ایڈووکیٹ کے مطابق جس منشور پر پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی تھی، پارٹی اس منشور پر عمل نہیں کر رہی،انہوں نے طویل عرصے تک پارٹی کے لیے خدمات انجام دیں لیکن موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے ساتھ مزید وابستہ رہنا ممکن نہیں رہا۔

    خیال رہے کہ قاضی انور ایڈووکیٹ انصاف لائرز فورم خیبرپختونخوا کے صدر بھی تھے، وہ پی ٹی آئی کے کور کمیٹی سمیت متعدد کمیٹوں کے ممبر بھی تھے اس سے قبل آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما میجر (ر) طارق محمود نے فوج مخالف بیانیہ پر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، میجر (ر) طارق محمود ریاست کے ضلع بھمبر کی تحصیل سماہنی سے پی ٹی آئی کے صدر تھے۔

  • صاحب اختیار لوگ اگر  سمجھتے ہیں تو  ہمارے ساتھ مذاکرات کریں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

    صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو ہمارے ساتھ مذاکرات کریں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہےکہ اگر کسی معاملے پر فیض حمیدکو سزا ہوئی ہے تو یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے –

    بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے آئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ فیض حمید ایک ادارےکے ملازم تھے، اگر کسی معاملے پر فیض حمیدکو سزا ہوئی ہے تو یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے بانی پی ٹی آئی پاکستان اور اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں، صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو ہمارے ساتھ مذاکرات کریں، مذاکرات کا اختیار بانی نے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا ہے، محمود خان اچکزئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ایک وزیر اعلیٰ کو عدالتی احکامات کے باوجود ملنے نہیں دیا جارہا، پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ جو ہوا وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات پر کیا گیا-

    بلاول بھٹو نے فیض حمید کے حوالے سے فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید رکھا گیا ہے، یہ لوگ تصدیق شدہ چور ہیں، جب ہماری حکومت آئےگی تو اس کا حساب کتاب کیا جائےگاساڑھے تین سال سے کوشش کی جارہی ہے مائنس بانی پی ٹی آئی کیا جائے، یہ 1947 سے ایک ہی نسخہ بار بار آزماتے ہیں، 9 اپریل 2022 سے ان کا واسطہ ایسی قوم سے پڑا ہے جو بانی پی ٹی آئی سے عشق کرتی ہے، ہم آزاد عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں، یہ کون ہوتے ہیں کہ ہمیں بتائیں کہ کس وقت تک بیٹھنا ہے اور کس وقت تک نہیں،حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ نوجوان پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، ساڑھے تین سال سے کیا جانے والا تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے-

    ناروے کے سفیر کی ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت، وزارت خارجہ کا سخت ڈیمارش جاری

  • پی ٹی آئی  رہنماپیپلز پارٹی میں شامل

    پی ٹی آئی رہنماپیپلز پارٹی میں شامل

    پاکستان تحریک انصاف کےایک اور اہم رہنما نے پارٹی چھوڑ دی۔

    تحریک انصاف ضلع لیہ سے سجاد حسین العمروف سجن خان نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا،چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سجن خان کو پی پی پی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا،بلاول بھٹو سے دربار حضرت سلطان باہو کے گدی نشین صاحبزادہ نجیب سلطان نے بھی ملاقات کی ،صاحبزادہ نجیب سلطان نے پیپلزپارٹی کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی سے بریگیڈئیر ریٹائرڈ عاصم نواز و دیگر نے بھی ملاقات کی ،بریگیڈیئرریٹائرڈ عاصم نواز اور سابق سٹی ناظم طاہر اعوان نے بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا,wa رہے چند روز قبل ہی پی ٹی آئی کے تحصیل صدر میجر (ر) طارق محمود نے سماہنی میں پریس کانفرنس کے دوران پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

  • خیبرپختونخوا میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئےپی ٹی آئی رہنماؤں کا وزیراعلیٰ کو خط

    خیبرپختونخوا میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئےپی ٹی آئی رہنماؤں کا وزیراعلیٰ کو خط

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے وزیراعلی خیبر پختونخواہ اور اسپیکر صوبائی اسمبلی سے عام انتخابات 2024 میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے۔

    ملک میں منعقدہ عام انتخابات 2024 میں پشاور سے پی ٹی آئی کے امیدواروں تیمور سلیم جھگڑا، محمود جان، علی عظیم، ارباب جہاندار، ملک شہاب، محمد عاصم، کامران بنگش، ساجد نواز اور حامد الحق نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم کو خط لکھا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے لکھے گئے تین صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے قاعدہ 237 کے تحت تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے،گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی بروقت تحقیقات کی جاتی تو این اے-18 ہری پور کے ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی نہیں ہوتی۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں متعدد نشستیں ہیں جن کے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں، جن میں پشاور سے بڑی تعداد میں نشستوں میں غیر معمولی دھاندلی بھی شامل ہےوزیراعلیٰ اور اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے رولز آف بزنس کے قاعدہ 237 کے تحت صوبائی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات کی جاسکتی ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ تمام پریذائیڈنگ افسران نے دستخط شدہ فارم 45 کے نتائج فراہم کیے لیکن ان نتائج کو بعد میں تبدیل کر دیا گیا، جیسے ہی ابتدائی نتائج پی ٹی آئی کے حق میں آئے، ان اسکرینوں کو بند کر دیا گیا، ڈی آر او پشاور، سی سی پی او پشاور اور ایس ایس پی آپریشنز ان واقعات کے اہم گواہ ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نےکہا ہے کہ سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو قیوم اسٹیڈیم کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، اس وقت کے چیف سیکریٹری اور آئی جی آف پولیس مبینہ طور پر کنٹرول رومز میں موجود تھے،مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

  • پی ٹی آئی کا جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد:پی ٹی آئی نے جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے فوری طور پر تیاری شروع کی جائے گی،پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی ہدایت پر پارٹی آئین کا جامع جائزہ لینے کے لیے ایک اہم کمیٹی قائم کر دی گئی۔

    کمیٹی کو پارٹی آئین سے تمام خامیاں دور کرنے اور اسے دیگر سیاسی جماعتوں کے آئین کے تقابلی معیار کے مطابق لانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن کے ممکنہ اعتراضات سے بچنے اور قانونی و آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پارٹی آئین میں ضروری اصلاحات ناگزیر قرار دی گئی ہیں،کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محدود وقت میں اپنا کام مکمل کرے اور 10 روز کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے جبکہ آئینی جائزہ کمیٹی کی سفارشات اس سلسلے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کا جائزہ لینے کے لیے سینئر و اہم رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی، حمید خان، اسد قیصر، روؤف حسن اور فردوس شمیم نقوی شامل ہیں،کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرنے کے بعد پارٹی آئین کی جدید خطوط پر نظرِ ثانی اور انٹرا پارٹی الیکشن کے نئے لائحہ عمل کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔

  • پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی کیلئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا

    پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی کیلئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا

    بانی پی ٹی آئی تک رسائی کیلئے پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھنے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائےبطور سینیٹرز انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شہری، بالخصوص سابق وزیراعظم اور قومی اسمبلی کے منتخب رکن، کی جیل میں حالت کا جائزہ لیں۔

    پارلیمانی کمیٹی کے لئے سینیٹر علی ظفر، سینیٹر حامد خان، سینیٹر اعظم سواتی اور سینیٹر مشال اعظم کے نام تجویز کئے گئے ہیں۔

    https://x.com/PTIKPOfficial/status/1998698752954261931?s=20