Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • امریکی  خط پی ٹی آئی کے منافقانہ رویہ اور پالیسی کی دلیل ہے،طاہر اشرفی

    امریکی خط پی ٹی آئی کے منافقانہ رویہ اور پالیسی کی دلیل ہے،طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل نے بانی پی ٹی آئی کی حمایت میں امریکی نمائندگان کے ممبران کے خط کی بھرپور مذمت کی ہے

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین،علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کو خط ، پاکستان کے داخلی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے ، یہ خط پی ٹی آئی کے منافقانہ رویہ اور پالیسی کی دلیل ہے ، پاکستان علما ء کونسل اس خط کو کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے ، امریکی ایوان نمائندگان کے ممبران مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت اور لاکھوں بے گھر افراد پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے،حکومت پاکستان ، عوام ، سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ، مذکورہ بالاخط اوراسکےمندرجات بلاشبہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خود مختاری کی خلاف ورز ی ہے، مذکورہ بالا خط صرف اور صرف صیہونی طاقتوں کی ایما ء پر لکھا گیا،پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم کا بھرپور جواب دیا جائے گا ،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی لابنگ کی وجہ سے 60 سے زائد امریکی ایوان نمائندگان نےصدر بائیڈن کو خط، لکھا ہے جس میں انہوں نے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،امریکی ایوان نمائندگان نے کبھی غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے تو ایک خط نہیں لکھا۔ جبکہ پوری دنیا میں وہ صیہونی جو اسرائیل کے ذریعے فلسطینیوں پر بے دریغ بربریت کر رہے ہیں

    دوسری جانب پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی ایکس پر کہتے ہیں کہ گرفتاری سے پہلے امریکہ کی مداخلت کی مذمت کرنا لیڈر کو مقبول بناتا ہے۔ مریدوں کی محبت کا یہ عالم ہے کہ گرفتاری کے بعد مرشد کی رہائی کے لئے امریکہ ہی سے رجوع کرتے ہیں بلکہ اس کو منانے کے لیے زر کثیر کا نذرانہ بھی ہیش کرتے ہیں۔

    خط کی لکھنے والے اراکین کی قیادت کی کرنے والے امریکی رکن گریگ کیسارکا کہنا تھا کہ امریکی اراکین کی جانب سے امریکی خارجہ پالیسی کے دیرینہ ناقد اور واشنگٹن کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھنے والے سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی رہائی کیلئے اجتماعی مطالبہ کیا گیا ہے 2022 میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان کے خلاف درجنوں مقدمات درج ہوئے اور وہ اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    جمائما گولڈ اسمتھ کا عمران خان کے بارے بیان،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • آئینی ترمیم کی منظوری، عمران خان کا مؤقف شعیب شاہین نے بتا دیا

    آئینی ترمیم کی منظوری، عمران خان کا مؤقف شعیب شاہین نے بتا دیا

    عمران خان کے وکلا کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے

    وکلاء نے عمران خان کو بشرٰی بی بی کی رہائی، نئے چیف جسٹس کی تعیناتی،قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ اور شوکاز نوٹسز سے متعلق آگاہ کیا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے آئینی ترامیم پر افسوس کا اظہار کیا، بانی پی ٹی آئی نے کہا یہ عوام پر ظلم ہوا، بانی پی ٹی آئی کو نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا بھی بتایا، بانی پی ٹی آئی نے ترامیم کو آئین پر حملہ قرار دیا، بانی پی ٹی آئی نے سب سے پہلے ورکرز کا پوچھا، بانی پی ٹی آئی کو جن حالات میں رکھا گیا بھرپور مذمت کرتا ہوں،بانی پی ٹی آئی کو جیل میں مشکلات میں رکھا گیا ہے،

    شعیب شاہین ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو 26ویں آئینی ترمیم کا بھی نہیں پتہ تھا، کیونکہ ان کی اخبار تک رسائی نہیں، بانی پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ فضل الرحمان نے آئینی ترامیم کیلئے حکومت کو ووٹ دیا،عمران خان پر جیل کے اندر ظلم کیا جا رہا ہے،نا اخبار پڑھنے کو دیتے ہیں،نا کوئی ٹی وی،اور پانچ دن بجلی تک بند رکھی گئی، جس طرح یہ لوگ حرکتیں‌کر رہے ہیں یہ توہین عدالت ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر جو سائیکلنگ مشین دی گئی تھی وہ چھین لی گئی جو کہ آج 20 دن بعد فراہم کی گئی ہے، عمران خان نے ترمیم پر افسوس کا اظہار کیا نئے چیف جسٹس کی تقرری پر کوئی جواب نہیں دیا

    بشریٰ بی بی نے "نو مہینے” جیل میں مشکل برداشت کی،بیرسٹر گوہر

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف کیس کا ریکارڈپیش نا کرنے پر عدالت برہم

    علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف کیس کا ریکارڈپیش نا کرنے پر عدالت برہم

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف کیس کا ریکارڈ فوری طور پر طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : انسداد دہشت گردی عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے مقدمے کی سماعت کی، علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے وکیل نیاز اللہ نیازی، عنصر کیانی و دیگر پیش ہوئے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے خلاف درج مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیا جا سکا۔

    نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ پچھلی سماعت پر بھی ریکارڈ پیش نہیں ہوا جس کی وجہ سے ضمانت نہیں ہو سکی، جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے مقدمے کا ریکارڈ فوری طور پر طلب کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کدھر ہے مسئلہ کیا ہے۔

    وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیئے کہ یہ 600 افراد کا کیس ہے، کوئی سائفر کا کیس تو ہے نہیں کہ دو بندے ہوں، الزام کی تاریخ، وقت، گواہ کچھ بھی نہیں بس خاموشی ہے، الزام ہے عامر مغل ، علیمہ خان ، عظمیٰ خان میگا فون پر تقریر کے ذریعے اشتعال دلواتے رہے، کسی کا کوئی مخصوص کردار واضح نہیں سب پر مشترکہ الزام ہے۔

    سلمان صفدر نے علیمہ خان عظمیٰ خان کی درخواست ضمانت منظور کرنے کی استدعا کر دی، عدالت نے ریکارڈ منگواتے ہوئے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔

  • پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے مکمل طور پر الگ رہنے کا اعلان کر دیا، یہ کمیٹی چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے تشکیل دی گئی ہے جس کا اجلاس آج شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے جاری سیاسی کمیٹی جلاس کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم پرپارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانےکی منظوری دی گئی ہے۔پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ‏آئینی ترمیم کو ووٹ دینے والے اراکینِ کی بنیادی جماعتی رکنیت کی منسوخی سمیت ان کے خلاف حتمی تادیبی کارروائی پراتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق ‏پارٹی سے روابط منقطع کرنے والے دیگر اراکین کو شوکاز نوٹسز کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ ‏ان اراکین کے شوکازنوٹس کے جوابات کی روشنی میں ان کے آئندہ کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سینیٹ کے بعد 21 اکتوبر کو قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد وزیراعظم کی ارسال کردہ سمری پر صدر مملکت کے دستخط کے نتیجے میں 26ویں آئینی ترمیمی بل قانون بن گیا ہے۔اس نئے قانون کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل ہو گیا ہے جہاں اس سے قبل چیف جسٹس کے بعد عدالت عظمیٰ سب سے سینئر ترین جج کو اس عہدے پر تعینات کیا جاتا تھا البتہ اب 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں بننے والے قانون سے صورتحال بدل گئی ہے۔نئے قانون کی روشنی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں کے ناموں پر مشاورت کے بعد ایک حتمی نام چیف جسٹس کے عہدے کے لیے وزیراعظم کو بھیجے گی اور وزیراعظم اس نام کو منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجیں گے۔گزشتہ روز اس قانون کی روشنی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کا اجلاس آج (منگل) شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، شائستہ ملک، سینیٹر اعظم تارڑ اور پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک اور نوید قمر شامل ہیں۔ان کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر علی ظفر، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا بھی کمیٹی کا حصہ ہیں جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن رعنا انصار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔جاری نوٹی فکیشن کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کی شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کنسٹی ٹیوشن روم میں ہوگا۔

    حماس کا اسرائیل پر حملہ، اسرائیلی فوج کی 4گاڑیاں تباہ،متعدد فوجی زخمی

  • دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی ضمانت منظور

    دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی ضمانت منظور

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے دہشتگردی دفعات کے تحت درج مقدمے میں رہنما پی ٹی آئی اعظم سواتی کی ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : انسداد دہشتگری عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی اور تھانہ سنگجہانی میں دہشت گردی کی دفعات پر درج مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی ضمانت منظور کرلی۔

    عدالت نے 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی اعظم سواتی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں اعظم سواتی کے خلاف احتجاج اور توڑ پھوڑ پر دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے گلوکار عمر ملک کو 9 مئی جناح ہاؤس حملہ کیس سے بری کردیا، عمر ملک کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے 10 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    عمر ملک کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ اے ٹی سی کے جج نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو 16 ماہ بعد گرفتار کیا گیا، آپ 16 ماہ خاموش کیوں رہے؟اے ٹی سی کے جج نے پوچھا کہ ملزم کو عدالت سے اشتہاری کیوں نہیں کروایا گیا؟ ملزم کو مقدمے سے بری کیا جاتا ہے۔

  • پی ٹی آئی کا خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے الگ رہنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے الگ رہنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے الگ رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‏تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اہم اجلاس میں ججز کی تقرری کیلئے بنائی گئی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کیخلاف کارروائی کی بھی منظوری دیتے ہوئے ووٹ دینے والے اراکین کی بنیادی پارٹی رکنیت منسوخ کرنے اور تادیبی کارروائی پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق پارٹی سے روابط منقطع کرنے والے دیگر اراکین کو شوکاز نوٹسز کے اجراء کی بھی منظوری دی گئی،پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی جانب سے اراکین پارلیمان سے حکومتی حلقوں سے روابط قائم کرنے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کا کہا جائے گا اور ان اراکین کے جوابات کی روشنی میں ان کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس کی تقرری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر خان، حامد رضا خان اور بیرسٹر علی ظفر کے نام بھی شامل تھے چیف جسٹس کی تقرری کیلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج شام 4 بجے بلایا گیا ہے جس میں سینیئر ترین ججوں کے ناموں میں سے سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے نام کا انتخاب کیا جائے گا۔

    دوسری جانب چیف چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ آج چیمبر ورک پر چلے گئے جہاں وہ فیصلے لکھیں گے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ 25 اکتوبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔

    اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ اور پارلیمانی لیڈر سے کمیٹی کیلئے نام طلب کئے تھے، جس کے بعد چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی لیڈرز سے پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام مانگ لیے، 12 رکنی کمیٹی 8 ممبران قومی اسمبلی اور چار سینیٹرز پر مشتمل ہے۔

    کمیٹی میں شامل اراکین اسمبلی میں ن لیگ کے خواجہ آصف، احسن اقبال، شائستہ پرویز ملک، پیپلز پارٹی سے راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، ایم کیو ایم سے رعنا انصر، پی ٹی آئی سے بیرسٹر گوہر علی خان، سنی اتحاد کونسل سے صاحبزادہ حامد رضا شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں، کمیٹی میں چار سینیٹر بھی شامل ہیں، جن میں پیپلز پارٹی کے فاروق حامد نائیک، ن لیگ کے اعظم نذیر تارڑ، پی ٹی آئی کے بیرسٹر علی ظفر اور جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ شامل ہیں۔

    چیف جسٹس کے ناموں پر غور کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا پہلا ان کیمرا اجلاس آج طلب کرلیا گیا ہے، جو کہ کانسٹیٹیوشن روم میں منعقد ہوگا، اجلاس طلب کرنے کا نوٹس سیکرٹری قومی اسمبلی نے جاری کردیا ہے۔

  • 26 ویں آئینی ترمیم:پی ٹی‌آئی رہنماؤں کا  نیشنل ایکشن کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    26 ویں آئینی ترمیم:پی ٹی‌آئی رہنماؤں کا نیشنل ایکشن کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: رہنما پی ٹی آئی اور ایڈووکیٹ حامد خان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لیے نیشنل ایکشن کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جس سے طرح ہم نے عدلیہ کے تحفظ کےلیے 2002 اور 2007 میں کمیٹی بنا کر احتجاجی تحریک چلائی تھی اسی طرح اب اس کی اہم ضرورت ہے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے آئین کی دھجیاں اڑ رہی ہیں، اس کمیٹی میں ہائیکورٹ بار کے تمام صدور، بار کونسل کے اراکین،سپریم کورٹ بار کے سابقہ صدور سمیت تمام بار کونسلز کے نمائندے ہوں گے۔

    حامد خان نے کہا کہ نیشنل ایکشن کمیٹی میں سماجی کارکن بھی شامل ہوں اور آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے مکمل لائحہ عمل پیش کریں گے کہ تحریک کو کس طرح آگے لے کر جانا ہے آئین اور عدلیہ کے تحفظ کے لیے وکیل ہراول دستہ ہوتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و قانون دان سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے بعد حکومت کو مرضی کے ججز لگانے کا اختیارمل گیا ہےمیثاق جمہوریت کا موجودہ دور سے کوئی تعلق نہیں ہے، آزاد عدلیہ کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، اب یہ صرف پی ٹی آئی کا معاملہ نہیں سب کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔

  • لاہور ہائیکورٹ نے  عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی

    لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کے خلاف غداری کی کارروائی کے لئے دائر درخواست کی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر کے انتقال کے باعث ان کے بیٹے نے عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان ن لیگی حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنے دے کر عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں، عدالت بانی پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا حکم دے۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی کی اپیل خارج کرتے ہوئے 13 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھا اور عدم پیروی کے باعث‌ نظر ثانی درخواست خارج کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت نے فریقین کے وکلا کو ایک اور موقع دیا لیکن کیس پر دلائل نہیں دیے گئے، ہمارے 13 جنوری کے فیصلے میں کوئی غلطی ثابت نہیں کی جا سکی لہٰذا نظرثانی درخواست خارج کی جاتی ہیں۔

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی درخواست خارج

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی درخواست خارج

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی کی اپیل خارج کرتے ہوئے 13 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست پر سماعت شروع ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔ پی ٹی آئی نے نظر ثانی درخواست میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔

    تحریک انصاف کے وکیل حامدخان روسٹرم پرآئے کہا کہ لارجز بنچ تشکیل دینے کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جائے، یہ معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے اور نیا بنچ تشکیل دیا جائے،موجودہ تین رکنی بنچ کیس نہیں سن سکتا، سنی اتحاد کونسل کیس میں 13 رکنی بنچ فیصلہ دے چکا ہے۔

    بشریٰ بی بی کی بیٹیاں والدہ سے ملاقات کیلئے عدالت پہنچ گئیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ یہ نظرثانی کا معاملہ ہےہم نے قانون کودیکھنا ہے، نظرثانی درخواست میں عدالتی فیصلوں قانونی حثیت پر سوالات اٹھانے ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے اس پوائنٹ کو پہلے کیوں نہیں اٹھایا؟

    حامد خان نے کہا کہ عدالت سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن کیس کے فیصلے کا پیراگراف دیکھ لیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ فیصلہ ہم کیوں دیکھیں،یہ اور معاملہ ہے وہ الگ معاملہ ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ حامد خان نے کہا کہ میں اب وہ کہہ دیتا ہوں جو کہنا نہیں چاہتاتھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹی وی پر بات کرنے کی بجاے منہ پر بات کرنے والےکو میں پسند کرتا ہوں، حامد خان نے کہا کہ میں ایسے شخص کے سامنے دلائل نہیں دے سکتا جو ہمارے خلاف بہت متعصب ہو، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں اپ کو مجبور نہیں کر سکتا، وکیل حامد خان نے کہاکہ مجھے دلائل نہیں دینے-

    عمران خان کے ذاتی معالج سے معائنے کیلئے درخواست دائر

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ جب نیازی صاحب وزیراعظم تھے توانٹرا پارٹی انتخابات کا نوٹس ہوا، تب بھی نہیں کروایاگیا، ایسا تونہیں کہ آپ لوگ انٹرپارٹی انتخابات کے لئے دلچسپی نہیں رکھتے؟

    سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت نے فریقین کے وکلا کو ایک اور موقع دیا لیکن کیس پر دلائل نہیں دیے گئے، ہمارے 13 جنوری کے فیصلے میں کوئی غلطی ثابت نہیں کی جا سکی لہٰذا نظرثانی درخواست خارج کی جاتی ہیں۔

    دوران سماعت، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئینی ترمیم ہو چکی ہے اس لیے سپریم کورٹ اب یہ کیس نہ سنے، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ میں نے ترمیم ابھی نہیں دیکھی اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔

    ڈی آئی جی سکھراور ایس ایس پی گھوٹکی کو عہدوں سےہٹادیا گیا

  • بشریٰ بی بی کی بیٹیاں والدہ سے ملاقات کیلئے عدالت پہنچ گئیں

    بشریٰ بی بی کی بیٹیاں والدہ سے ملاقات کیلئے عدالت پہنچ گئیں

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بیٹیاں والدہ سے ملاقات کے لیے عدالت پہنچ گئیں-

    باغی ٹی وی:درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے دائر کی گئی، اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد شاہ ارجمند نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے کل جواب طلب کرلیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ بیٹیوں کی اپنی والدہ بشریٰ بی بی سے تین ہفتوں سے ملاقات نہیں ہوئی، بشریٰ بی بی ناحق قید ہیں اور ان کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے،فیملی کا حق ہوتا ہے کہ وہ ہر ہفتے قیدی سے ملاقات کر سکتے ہیں، سرکاری حکام کی جانب سے ملاقات سے منع کر دیا گیا ہے، یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے جلد از جلد ملاقات کا بندوبست کیا جائے۔ اس حوالے سے سنجیدہ تحفظات ہیں۔

    عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی میں مزید توسیع کردی گئی ہے ، ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی تا حکم ثانی رہے گی، اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی میں توسیع پنجاب حکومت نے کی ہے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے، جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق سیاسی قیدیوں سمیت عام قیدیوں پر بھی ہوگا،پنجاب حکومت نے 4 اکتوبر سے 18 اکتوبر تک اڈیالہ جیل میں ہر قسم کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کی تھی۔ اکتوبر 18 کو جیل ملاقاتوں پرپابندی میں 2 روز کی توسیع کی گئی تھی۔