Baaghi TV

Tag: پی پی پی

  • بختاور زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش

    بختاور زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش

    دبئی: صدر مملکت آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو شہید کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام پر بختاور بھٹو اور ان کے شوہر محمود چوہدری نے یہ خوشخبری دی اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا،بختاور بھٹو نے فی الحال اپنے تیسرے صاحبزادے کا نام نہیں بتایا لیکن انہوں نے بتایا ہے کہ تیسرے بیٹے کی پیدائش گزشتہ روز 20 اکتوبر 2024 کو ہوئی ہے۔

    بختاور بھٹو زرداری کے تیسری بار ماں بننے اور بیٹے کی پیدائش کی خبر پر مبارک باد اور نیک خواہشات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بختاور بھٹو زرداری کی 31 جنوری 2021 کو محمود چوہدری کے ساتھ شادی ہوئی تھی اور تیسرے بیٹے سے بڑے دو بیٹے میر حاکم محمود چوہدری اور میر سجاول محمود چوہدری ہیں ان کے پہلے بیٹے میر حاکم محمود چوہدری کی پیدائش 11 اکتوبر 2021 کو اور دوسرے بیٹے میر سجاول محمود چوہدری کی پیدائش 05 اکتوبر 2022 کو ہوئی تھی۔

  • بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر 2007 سانحہ کارساز دنیا بھر میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ تھا۔ شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ آئینی ترامیم سب کی مشاورت سے ہوں گی، کوئی ایک جماعت کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ اگر بانی پی ٹی آئی سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےسانحہ کارساز کے اعظم بستی قبرستان میں مدفون 7 شہدا کی قبروں پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبال ساندھ، ٹائون چیئرمین چنیسر ٹائون فرحان غنی، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آصف خان و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج ہم نے سانحہ کارساز میں شہید کارکنان کی قبروں پر حاضری دی ہے، اس قبرستان میں سات شہیدوں کے قبریں ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں جہاں جہاں سانحہ کارساز کے شہید دفن ہیں انکی قبروں پر حاضری دیں۔ سعید غنی نے کہا کہ 18 اکتوبر کو دہشت گردی کا واقعہ دنیا کا بڑا واقعہ تھا۔ اس سانحہ میں ہمارے 170 سے زائد کارکن شہید ہوئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے شہیدوں کی قربانی پاکستان میں جب جب جمہوریت کی بحالی کی تاریخ لکھی جائے گی، ان شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی کہانی اور تاریخ اس سانحہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ جب 18 اکتوبر کو بم دھماکہ ہوا ہمارے جو کارکن تھے، جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ محترمہ کی گاڑی کے ساتھ جن کی ڈیوٹی تھی، وہ پہلے دھماکہ کے بعد بھاگتے وہ وہاں موجود رہے اور بی بی کے ٹرک کو مزید پروٹیکٹ کیا تو اس میں دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے نتیجہ میں اتنی بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئی۔
    سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی ایک انوکھی اور عجیب مثال ہے، کہ بم کا دھماکہ ہوتا ہے اور کارکنان بھاگتے نہیں ہیں، یہ واقعہ ہمارے کارکنان کی اپنی قیادت کے ساتھ عزم ہے، محبت ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کو کتنی محبت تھی کہ بم دھماکے کے بعد بھی لوگ بھاگے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پیپلز پارٹی اس ملک کی جمہوریت کے لئے قربانیں دے رہی ہیں، ہم نے اپنے کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوئی ایسی جماعت نہیں کہ جس کے قائدین اور کارکنان نے جمہوریت کی بحالی کے لئے اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، پرامن سیاسی طریقے سے کام کرتے ہیں اور ہم نے اپنے قائدین اور کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لئے آئین میں طریقے کار موجود ہے، کوئی جماعت اپنی مرضی کی تجاویز مسلط نہیں کر سکتی۔
    اس ہے لئے دو تہائی اکثریت لازمی ہے اور جب دو دھائی اکثریت تو سب کی مشاورت سے آئینی ترمیم ہوگی۔ یہ اچھی بات ہے کہ سب مل جل کر بیٹھیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جب سے بنی ہے وہ تضادات کا شکار رہی ہے، ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں اور آج بھی وہ تضادات کا شکار ہیں۔ ایک طرف وہ آج بھی کہتے ہیں کہ ہم احتجاج کریں گے دوسری طرف وہ مولانا فضل الرحمن سے بات کرکے ان کے ذریعے حکومت سے بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    پی ٹی آئی والے ترمیم چاہتے ہیں لیکن کھل کر نہیں بول رہے۔ احتجاج کی بات شاید ان کے دوسرے گروپ نے کی ہوگی اور ڈائیلاگ کی بات دوسرے گروپ سے کی ہوگی۔ اس سے پی ٹی آئی میں واضح گروپ بندی ثابت ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنایا۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ملک میں مسائل کی جڑ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔
    پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ سعید غنی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا رویہ غیر سیاسی ہے۔ وہ آج بھی کسی سیاسی جماعتوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ آج تک اس ملک میں ان کے آنے کے بعد جتنے بھی کرائسیس ہوئے ہیں، یہ سب عمران نیازی کی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ہے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی، جو ایک آئینی عمل ہے اور اس آئینی عمل کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تھی تو دنیا تو ختم نہیں ہوگئی تھی۔
    عمران خان اسمبلی میں راہ کر بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرسکتا تھا، عمران خان کے پاس اس وقت پنجاب اور خیبر پختون خواہ دونوں کی حکومت تھی، وہ دو صوبے میں حکومت کرکے جو نئی پی ڈی ایم کی حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتا تھا، لیکن اس نے جمہوری طر عمل اختیار نہیں کیا بلکہ جمہوریت اور ملک کے خلاف سازشیں شروع کردی کہ کسی طرح سے یہ حکومت نہ چل سکے،کسی طرح یہ ملک نہ چل سلے، کسی طرح سے یہ ملک کی تباہ و برباد ہوجائے، کسی طرح سے عوام مشکلات کا شکار ہوجاییں۔اس میں زیادہ مسائل جو پیدا کئے اس میں عدالتوں کے کچھ فیصلے بھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کرائسس مزید بڑھ گئے۔ اگر وہ سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام کرائسز چند ہفتوں میں حل ہو سکتے ہیں۔

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    جنرل سیکریٹڑی پی پی پی کراچی و صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کی زیر صدارت 18 اکتوبر شہدائے سانح? کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمعہ 18 اکتوبر کو حیدرآباد میں منعقد کئے جانے والے جلسے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سینیٹر سید وقار مہدی نے خصوصی شرکت کی –

    اجلاس میں سینئر نائب صدر پی پی پی ضلع جنوبی حاجی عبدالمجید ، جنرل سیکریٹری پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز انجنیئرنگ فورم سندھ تیمور سیال ، سیکریٹری اطلاعات پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کرچی ڈویڑن فرید میمن ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول صدر پیپلز لیبر بیورو کراچی اسلم سموں ، صدر پیپلز یوتھ ضلع جنوبی فضل بلوچ ، جنرل سیکریٹری پی پی پی خواتین ونگ ضلع جنوبی عالیہ بیگم ، ٹاؤن چیئرمین لیاری ناصر کریم ، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے سٹی ایریا اور یونین کمیٹیوں کے صدور جنرل سیکریٹریز سیکریٹری اطلاعات لیاری و صدر ٹاؤن میں پی پی پی کے منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین نے شرکت کی – اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری پی پی پی سندھ سینیٹر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز کی شہید چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹع کی 2007 میں وطن واپسی پر جیالوں نے تاریخی استقبال کیا جو کہ ملک دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہ بھایا ایک آمر کے دور حکومت میں شہید بی بی پر حملہ کیا گیا اور ہم سمیت ساری دٴْنیا اس بات کی شاہد ہے کہ جیالوں نے اپنی جانیں قٴْربان کرکے شہید بے نظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کو ناکام بنایا قٴْربانی کی یہ مثال رہتی دنیا تک یاد رکھی جا? گی ہر سال ہم 18 اکتوبر کو شہدائے کارساز کے حذبے ہمت اور بے لوث قٴْربانی پر اٴْن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں اس سال چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی ہدایت کے مطابق شدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پی پی پی کارکنان اور عوام 18 اکتوبر جمعہ کے روز حیدرآباد میں ہٹری بائی پاس کے مقام پر جلسے میں شرکت کریں گے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی پی پی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے جمہوری نظام لازم ہے پاکستان میں جمہوریت 18 اکتوبر 2007 کو سانحہ کارساز میں شہید ہونے والوں کی مرہون منت ہے 2007 میں کارساز کے مقام پر دٴْنیا نے یہ منظر دیکھا پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان دھماکے کی جگہ سے دور ہٹنے کے بجائے اٴْس ہی جانب بھاگتے ہوئے گئے اور اپنی رہبر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قٴْربان کی اور آمر اور اٴْس کے آلہ کاروں کو یہ باور کروایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان بے خوف و خطر ملک کی خاطر جان قٴْربان کرسکتے ہیں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی تیمور سیال نے اجلاس کے شرکاء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی اور ذیلی تنظیموں کے تمام عہدیداران و کارکنان حیدرآباد جلسے میں بھرپور شرکت کرکے شہدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کریں گے ۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترکمانستان کا دو روزہ دورہ، اشک آباد پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے

  • دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو بلیک میلنگ سے روکا نہیں جا سکتا،شازیہ مری

    دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو بلیک میلنگ سے روکا نہیں جا سکتا،شازیہ مری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے پی پی کی جانب سے عزم استحکام آپریشن کی حمایت کی تصدیق کی ہے-

    ترجمان پیپلزپارٹی شازیہ مری نے عزم استحکام آپریشن کی حمایت کی تصدیق کی کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں عزم استحکام آپریشن پر بات ہوئی، پیپلزپارٹی دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلاف ہے اور ہم نے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    شازیہ مری نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن پر سیاسی فریقین کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، ہم اس معاملے پر سیاسی ڈائیلاگ چاہتے ہیں اور خواہش ہے کہ حکومت سیاسی فریقین کو عزم استحکام آپریشن پر آن بورڈ لیا جائے تاکہ سیاسی فریق آپریشن کی ذمہ داری لیں،ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کو جواب دینا ضروری ہے، بلاول بھٹو عزم استحکام آپریشن کو وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں، دہشتگردی کے خاتمے تک شہری خود کو محفوظ تصویر نہیں کر سکتے، اس لیے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضروری ہے۔

    اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

    ترجمان نے کہا کہ دہشتگردی ،انتہا پسندی کے خاتمے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، عزم استحکام آپریشن پر فریقین کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے، عزم استحکام آپریشن کے پلان پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت ضروری ہے، ہم سب کو مل کر ملک کو امن کا گہوارہ بنانا ہے کیونکہ قوم نے امن کیلئے 80 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا، امن ملک کی ترقی کا ضامن ہے اور اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، پیپلزپارٹی دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہے، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، اور دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو بلیک میلنگ سے روکا نہیں جا سکتا۔

    آپریشن عزم استحکام پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے، بیرسٹر …

  • لگتاہےگنڈاپور کو شاید غنڈہ بننا تھا اور وہ غلطی سےوزیر اعلیٰ بن گئے،شرجیل میمن

    لگتاہےگنڈاپور کو شاید غنڈہ بننا تھا اور وہ غلطی سےوزیر اعلیٰ بن گئے،شرجیل میمن

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو دھمکیاں دینا بند کریں اور غنڈے نہ بنیں بلکہ وزیر اعلیٰ رہیں۔+

    باغی ٹی وی: سندھ کے سینئرصوبائی وزیر اور رہنما پیپلزپارٹی شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو دھمکیاں دینا بند کریں اور غنڈے نہ بنیں بلکہ وزیر اعلیٰ رہیں، ہم گنڈاپورکو کےپی کا نہیں، صرف پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں،لگتاہےگنڈاپور کو شاید غنڈہ بننا تھا اور وہ غلطی سےوزیر اعلیٰ بن گئے۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گورنر کو دھمکی دینا محض ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ ہمارے آئینی نظام پرحملہ ہے، فیصل کریم کنڈی اہم آئینی عہدے پر فائز ہیں، ان کو دھمکی ناقابل قبول اور دہشتگردی کی زمرے میں آتی ہےاعلیٰ عوامی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے دھمکیاں سنگین نوعیت کامعاملہ ہے، لہذا علی امین گنڈا پور کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے، ہماری پارٹی نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ ،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں وفاق کو پھر دھمکی دی، اور گورنر خیبرپختونخوا کو سرعام گالیاں دیں-

    حزب اللہ کا اسرائیلی بستی پر حملہ 2 افراد ہلاک 9 زخمی

    علی امین گنڈاپور اگر گورنر کو پھینک سکتے ہیں تو انھیں بھی پھینکا جاسکتا ہے،رانا …

    بھارت نے آئرلینڈ کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

  • بلاول  بھٹو کا ارکان سندھ اسمبلی کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار

    بلاول بھٹو کا ارکان سندھ اسمبلی کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار

    کراچی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بلاول نے ارکان سندھ اسمبلی کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے ارکان میں سستی نظرآرہی ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کی سیاست بند ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں بلاول بھٹو کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اس موقع پر بلاول نے ارکان سندھ اسمبلی کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے ارکان میں سستی نظرآرہی ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کی سیاست بند ہونی چاہیے، فوکس کرنا ہوگا محدود وسائل میں مسائل کیسے حل ہوں گے امید ہے بجٹ سے پہلے مسائل حل ہوں گے وزیراعظم شہباز شریف اپنا وعدہ پورا کریں گے، وفاقی حکومت کی طرف سے پیسہ ملنا چاہیے، یاد رکھا جائے کہ اندرونی مسائل کے باعث پارٹی اور حکو مت کو نقصان نہ پہنچے۔

    بلاول نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مشکل معاشی صورتحال، اراکین کے سامنے رکھی، ہمیں محدود وسائل سے گورننس بہتر کرنی ہوگی، الیکشن کو کئی ماہ گزر گئے، اپنےارکان اسمبلی میں سستی دیکھ رہا ہوں، کچھ لوگوں کی اچھی رپورٹس مل رہی ہیں، کچھ کی نہیں، پیپلزپارٹی کے وزرا محنت کریں تاکہ ان کا کام نظر آئے،ایک دوسرے کو سیاسی مخالفت کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، آپ لوگ بار بار کامیاب ہوکر آرہے ہیں، ٹرانسفرپوسٹنگ کی سیاست بند ہونی چاہیے۔

    صنم جاوید سرگودھا جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ضروری ہے کہ آپ عوام کی توقعات پر پورا اتریں، الیکشن کو کئی ماہ گزر گئے، مگر آپ توجہ نہیں دے رہے، ارکان کو کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے حلقوں پر توجہ دیں،اپنے منصوبوں کے فیصلے کھلی کچہری میں مشورے لے کر کریں، پارلیمانی حاضری کے ساتھ اپنےحلقوں میں بھی وقت دینا ہو گا، اندرونی مسائل کے باعث پارٹی اور حکومت کو نقصان نہ پہنچے، ہمیں اچھے آفیسرز کو موقع دینا چاہیے۔

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام نفرت کی سیاست سے بہت مایوس ہیں، حکومت میں آنے کا مقصدغریب عوام کی خدمت کرنا ہے، آپس کی لڑائیوں سے کارکردگی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، پر امید ہوں کہ صوبے کےعوام کی توقعات پرپورا اتریں گے، ارکان اسمبلی اپنے اضلاع میں افسران پر نظر رکھیں، اگر کوئی افسر بدنامی کا سبب بن رہا ہے تو قیادت اور وزیر اعلیٰ کو بتایا جائے، تاکہ پارٹی اور حکومت کی بدنامی نہ ہو، سیلاب کےباعث تباہ اسکولوں کی بحالی اولین ترجیح ہے، سولر بجلی کی فراہمی ہمارے پلان کا سب سے اہم حصہ ہے، مجھے سندھ پولیس پر پورا بھروسہ ہے، پولیس جرایم پیشہ افراد پر قابو پالے گی، ہمارے علاقائی حالات براہ راست ہمارے کرائم کی صورت حال سے براہ راست منسلک ہے۔

    نیپرا عوام دشمن پالیسیوں پر گامزن ہے ۔احمدندیم اعوان

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ سے کہا ہے کہ ہر 6 مہینے بعد بیٹھ کر کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے، اسکول کی طرح رپورٹ کا جائزہ لیں گے اور وزیراعلیٰ سے تمام وزرا کی رپورٹ لوں گا لہٰذا تمام اراکین عوامی رابطے جاری رکھیں، وزرا کو بھی دستیاب ہونا چاہیے اور اراکین کے لیے مخصوص دن رکھیں جہاں آپ عوام کے لیے بھی دستیاب ہوں، وزرا کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی تنظیمیں اور کارکنوں کو رکن اسمبلی یا وزیر کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے، اگر وہ آپ سے ملنا چاہیں تو آپ کو دستیاب ہونا، اگر ان کا کوئی کام ہے تو اس کے لیے کوشش کریں۔

  • مولانا فضل الرحمان کو تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہئے،رہنما پی پی

    مولانا فضل الرحمان کو تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہئے،رہنما پی پی

    اسلام آباد: مرکزی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ تصادم کا راستہ اختیار کریں گے تو نقصان جمہوریت کو پہنچے گا رہنما پی پی ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی دعوت دی گئی تھی جس کے لیے وہ خود تحریک انصاف کے پاس گئے-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں رہنما پاکستان پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی اور ندیم افضل چن نے پریس کانفرنس کی فیصل کریم کنڈی کا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی والے راستے پر نہیں چلنا چاہئے، اگر کے پی میں مولانا کے مینڈیٹ کو چرایا گیا تو پی ٹی آئی ہمت کرے اور ان کی سیٹیں واپس کرے ہم نے ہمیشہ کہا ہے آئیں بات چیت سے معاملات حل کریں، عوام نے مولانا فضل الرحمان کو مستر د کیا ہے تو وہ اس کا بدلہ جمہوریت سے نہ لیں، مولانا فضل الرحمان کو تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے، اپنےخلاف فیصلےبھی تسلیم کیے ہیں، تاہم مخصوص نشستوں پرعدالت نے فیصلہ دیا، اور وزیراعلی خیبرپختونخوا نے معاملے پر پریس کانفرنس کی، وزراء سے حلف لینا وزیراعلی کا کام نہیں ہے وزیرعلیٰ کو معاملے پر پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے تھی، مخصوص نشستیں کسی کی جاگیر نہیں ہوتیں، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا فیصلہ اسپیکر قومی اسمبلی نے کرنا ہے اور یہ اپوزیشن کا حق ہے، تحریک انصاف کے علاوہ جے یو آئی بھی اپوزیشن میں ہے تاہم حتمی فیصلہ اسپیکر قومی اسمبلی کریں گے۔

    رہنما پیپلزپارٹی ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ قصور ہمارا اپنا ہے کہ ہم الیکشن کو کبھی آزاد،خود مختار نہیں بناسکے، اگر گالم گلوچ کی سیاست ہوتی رہے گی تو یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے،صدر آصف زرداری نے جو پارلیمنٹ میں خطاب کیا اس کے نکات دیکھ لیں، پی ٹی آئی کے رویے سے عوام میں مایوسی پھیلتی جارہی ہے، ملک میں مہنگائی اور لاقانونیت ہے۔

    ندیم افضل چن نے مزید کہا کہ پاکستان میں فوڈ سکیورٹی ایک بڑا ایشو ہے، حکومت پنجاب اور وفاق سے گزارش ہے گندم کا ایک ایک دانہ خریدیں، کسان کو معاشی قتل سے بچائیں، اگر کسان بھی سڑکوں پر آگیا تو ملک مزید بحرانوں میں جائے گا، کسان کیلئے جو گندم کی قیمت3900روپے مقرر کی ہے اس کو یقینی بنائیں۔

    انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی دعوت دی گئی تھی جس کے لیے وہ خود تحریک انصاف کے پاس گئے لیکن تحریک انصاف نے بات چیت سے انکار کر دیا بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی جماعت غلطی پر غلطی کر رہی ہے،ندیم افضل نے انکشاف کیا کہ انہوں نے خود بانی پی ٹی آئی کو کہتے سنا ہے کہ اپوزیشن کو پھانسی لگا دیتے ہیں۔

  • پیپلز پارٹی کابینہ کا حصہ کیوں نہیں بنی؟عمران خان نے بتا دیا

    پیپلز پارٹی کابینہ کا حصہ کیوں نہیں بنی؟عمران خان نے بتا دیا

    راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ پانچ چھ ماہ جیل میں رہوں گا پھر حکومت ختم ہوجائے گی۔

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کرتےہوئے عمران خان نے کیسز کے بارے میں کہا کہ فیصلے پہلے سے ہوچکے ہیں یہاں صرف کارروائی ہو رہی ہے، القادر ٹرسٹ کمال کا کیس ہے جس میں چوری بھی نہیں ہوئی پیسہ بھی حکومت کے پاس ہے اور ٹرسٹ بھی چل رہا ہے،پی ٹی ائی کو کرش کرنے کیلئے مجھے ایک ہفتے میں تین سزائیں دی گئیں ، لیکن یہ پلان فیل ہوگیا، میں مزید پانچ چھ ماہ جیل میں رہوں گا اس کے بعد حکومت ختم ہوجائے گی، مجھے معلوم ہے یہ حکومت پانچ سے 6 مہینے سے زیادہ نہیں چل سکے گی، پیپلز پارٹی کابینہ کا حصہ اس لیے نہیں بنی کیونکہ انہیں پتہ ہے یہ سیٹ اپ نہیں چلے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حسن شریف نے انگلینڈ میں 9 ارب کا گھر 18 ارب میں بیچا، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے مشکوک ٹرانزیکشن پکڑ لی، حسن نواز سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ گھر خریدنے کا پیسہ کہاں سے لایا ، حسن نواز اور حسین نواز پانامہ میں پکڑے گئے تھے، حسین نواز نے ٹی وی پر کہا تھا کہ فلیٹ مریم نواز کے ہیں۔

    امریکا میں آئی ایم ایف کے خلاف احتجاج اوورسیز پاکستانیوں نے کیا ، …

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سارا نظام بے نقاب ہو گیا ہے نگران حکومت الیکشن کمیشن اور اسٹیبلشمنٹ سب ایک ہیں ، سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے، الیکشن جھوٹ پر مبنی ہوئے جس نے سب کچھ ایکسپوز کر دیا، الیکشن کمشنر کتنا جھوٹا شخص ہے فافن سمیت پانچ رپورٹس کے باوجود بھی وہ بیٹھا ہوا ہے، سب کہہ رہے ہیں چیف الیکشن کمشنر کو استعفی دینا چاہیے۔

    سرحد پار سے دہشتگردی اب برداشت نہیں کر سکتے،وزیراعظم

    ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا، میں نے آئی ایم ایف کو کہا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام آنے تک قرض جاری نہ کیا جائے، سیاسی استحکام نہ ہونے سے قرض کے پیسے ضائع ہو جائیں گے، آمدن کے ذرائع نہ بڑھانے تک قرض لینے کا کوئی فائدہ نہیں، ہماری معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ ڈالرز کی کمی ہے، ڈالر ملک میں لانے کا توڑ ہمارے پاس ہے اور یہ بیرون ملک پاکستانیوں کے ذریعے ممکن ہے، وہ اس وقت سرمایہ کاری کریں گے جب مستحکم حکومت ہوگی، موجودہ صورتحال سے ہمیں صرف بیرون ملک مقیم پاکستانی نکال سکتے ہیں۔

    سپریم کورٹ،رجسٹرار آفس کی رپورٹ پر قاسم سوری کو نوٹس جاری

    انہوں نے کہا کہ طالبان اور امریکہ کے ڈائیلاگ ہم نے کروائے، ہمارے دور میں افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، جنرل باجوہ سے کہا تھا کہ جنرل فیض کو تبدیل نہ کریں وہ دہشت گردی اور افغانستان کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں، جنرل باجوہ کور کمانڈرز کانفرنس میں کہتا تھا کہ عمران خان جنرل فیض کو آرمی چیف بنانا چاہتا ہے، حالانکہ یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی، جس جنرل نے افغانستان اور امریکہ کے ڈائیلاگ کروائے اسی کو شریفوں کے کہنے پر ہٹایا گیا، جنرل فیض کو ہٹا کر باجوہ نے ذاتی فائدے کا سوچا ملکی مفاد کا نہیں سوچا، پی ڈی ایم کی حکومت نے افغانستان پر کوئی توجہ نہیں دی، ایران اور افغانستان کے ساتھ خراب تعلقات خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔

  • رہنما پی پی اور  رکن قومی اسمبلی نے پارٹی سے راہیں الگ کر لیں

    رہنما پی پی اور رکن قومی اسمبلی نے پارٹی سے راہیں الگ کر لیں

    کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خواجہ سہیل منصور نے پارٹی سے راہیں الگ کر لیں-

    باغی ٹی وی: سابق رکن قومی اسمبلی اورپاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے اعلیٰ قیادت کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا، عام انتخابات 2024 میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 250 کراچی سے خواجہ سہیل منصور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے ، ان کے مدمقابل ایم کیو ایم کے امیدوار فرحان چشتی سیٹ جیت گئے تھے ،فارم 47 کے مطابق انہوں نے 5 ہزار 7 سو 20 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے امیدوار فرحان چشتی نے 79 ہزار 925 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

    بھارتی ریڈیو کے مشہور صدا کار امین سیانی 91 سال کی عمر میں …

    واضح رہے کہ خواجہ سہیل منصور نے ایک سال قبل ایم کیو ایم پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی ، خواجہ سہیل منصور دو بار رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں۔

    کے پی کی گورنرشپ کیلئے پیپلزپارٹی کی طرف سےنام سامنے آگئے

    گران وزیر اعلی پنجاب سے چینی اور ایرانی قونصل جنرلز سے الگ الگ ملاقاتیں

  • نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں،  بلاول بھٹو زرداری

    نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹیرینز کے چئیر مین بلاول بھٹو نے کہا کہ جس روپ میں میاں صاحب اس بار سامنے آ رہے ہیں، یہ وہ میثاق جمہوریت والے میاں صاحب نہیں ہیں، یہ ووٹ کو عزت دو والے میاں صاحب نہیں، یہ وہی پرانے آئی جے آئی والے میاں صاحب ہیں جن کا ساتھ دینا میرے لیے مشکل ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ان کیلئے تحریک انصاف اور ن لیگ سے اتحاد کا معاملہ کنویں اور کھائی جیسا ہے، دونوں جماعتیں ایک جیسی سیاست کر رہی ہیں۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت اور آئینی حالات میں بھی ایک بحران نظر آ رہا ہے، تقسیم کی سیاست جو بانی پی ٹی آئی کرتے تھے اور میاں صاحب کی بھی روایت تھی، وہ اب ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے، میں پاکستان میں اس تقسیم کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں انتخابی مہم چلا رہی ہے، ہم نے سب سے پہلے انتخابی مہم کا آغاز کیا، سب سے پہلے منشور دیا۔
    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر معیشت، جمہوریت اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنا ہے تو پہلے اس تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے میں بہترین پوزیشن میں ہوں، ہماری انتخابی مہم بہت زبردست رہی ہے، عوام کا ردعمل امیدوں سے زیادہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، میاں صاحب کو خبردار کرتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے، ا مید ہے کہ نوازشریف کے دباؤ کے باوجود نگران حکومت اور انتظامیہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت اور انتظامیہ نواز شریف کے حق میں جانبدار ہیں، نگران وزیر اعظم کی تقرری شہباز شریف نے راجہ ریاض کے ساتھ ملکر کی، راجہ ریاض اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔