Baaghi TV

Tag: چاند

  • یکم محرم 19 جولائی کو ہونے کا امکان ہے ،محکمہ موسمیات

    یکم محرم 19 جولائی کو ہونے کا امکان ہے ،محکمہ موسمیات

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ محرم الحرام کا چاند 18 جولائی کو نظر آنے کا قوی امکان ہے۔

    باغی ٹی وی :محرم الحرام کے چاند کی رویت کے حوالے سے حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی کرے گی لیکن محکمہ موسمیات نے نئے اسلامی سال کے چاند کے حوالے سے پہلے ہی پیشگوئی کی ہے کہ چاند 18 جولائی کو چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے۔

    اس حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ محرم کا چاند 18 جولائی 29 ذی الحج کو نظر آنے کا قوی امکان ہے اس طرح یکم محرم 19 جولائی بروزبدھ کو ہونے کا امکان ہے اور یوم عاشورہ 28 جولائی بروز جمعہ ہونے کا امکان ہے۔

    مختلف اضلاع میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    Muharram 2023
    محکمہ موسمیات کے کلائمیٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کے مطابق چاند کی پیدائش 17 جولائی کی رات 11 بج کر 32 منٹ پر ہوگی اور چاند نظر آنے کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں بادل چھائے رہنے کا امکان ہے،غروب آفتاب شام 7 بج کر24 منٹ پر ہونے کا امکان ہے جب کہ چاند رات 8 بجے طلوع ہو سکتا ہے۔

    فیصلے کےاعلان کے بعد گھرجا کرپتہ چلتا تھا کہ عملیات سےکچھ اورفیصلہ کیا گیا،فردوس عاشق

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 20 گھنٹے 17 منٹ ہوگی،چاند غروب آفتاب کے بعد 46 منٹ تک دیکھا جا سکتا ہے، چاند نظر آنے کے لئے 19 گھنٹے کی عمر ضروری ہے جبکہ اس دن چاند کی عمر 20 گھنٹے سے زائد ہو گی۔

    آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج،اجلاس ایجنڈے میں پاکستان بھی شامل ہوگا

  • چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    بیجنگ: چین سال 2026 تک وہ چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا-

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق ان سیٹلائٹ میں ایک مرکزی اور 8 چھوٹے سیٹلائٹ چاند کے گرد مدار میں بھیجے جائیں گے۔ چینی حکام کے مطابق کائنات میں انتہائی بعید ترین ریڈیائی سگنلوں کو دیکھنا ممکن ہوگااس کے لیے چھوٹی دوربینوں کا ڈیٹا مرکزی دوربین تک جائے گا۔ اس کے بعد وہاں ڈیٹا جمع ہوکر زمین کی جانب بھیجا جائے گااس منصوبے کا نام ’طویل طولِ موج سے فلکیاتی دریافت‘ یا ہونگ مینگ پروجیکٹ رکھا گیا ہے۔

    امریکا پاکستان کو آئی ایم ایف کیجانب سےامداد کی فراہمی میں کردارادا کرے،امریکی رکن کانگریس

    ماہرین کے مطابق قمری دوربینیں زیادہ گہرائی سے کائنات کے ان دیکھے گوشے دیکھ سکیں گی اور یوں ہمارے علم میں پیش بہا اضافہ ہوگا۔ زمین میں فضا، اور دیگر آلودگی کی وجہ سے یہ ریڈیائی مشاہدہ ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ چاند اس کے مشاہدے کی ایک بہترین جگہ ہے اس سے قدیم ترین ان ریڈیائی امواج کو سمجھنے میں مدد ملے گی جو عین بگ بینگ کے بعد نمودار ہوئی تھیں-

    ہرملک کواپنی توانئی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے مطابق فیصلہ کرنا ہے،امریکا

    چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) سے وابستہ زیولائی چین نے کہا کہ چاند پر رصدگاہ بنانے سے بہتر ہے کہ آلودگی سے پاک قمری مداروں میں دوربینی سیٹلائٹ روانہ کیے جائیں۔ انہیں بنانا کم خرچ ہے اور سادہ طریقہ بھی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو گرفتار کرلیا گیا

  • ملک بھر میں ماہ ذیقعد کا چاند نظر نہیں آیا

    ملک بھر میں ماہ ذیقعد کا چاند نظر نہیں آیا

    لاہور: ملک بھر میں ماہ ذیقعد کا چاند نظر نہیں آیا تاہم 22 مئی سوموار کو یکم ذیقعد 1444ھ ہوگی۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہ ذیقعد 1444ھ کا چاند دیکھنے کیلئے لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس منعقد ہوئے،چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے صوبائی دارالحکومت میں منعقدہ زونل رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں ریجنل ڈائریکٹرمحکمہ موسمیات، سپارکوکے ذمہ داروں نے بھی شرکت کی۔

    فوج اور پاکستان کے عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنانہ تو قابل برداشت ہے اور …

    زونل رویت ہلا ل کمیٹیوں کو ملک بھر سے چاند دکھائی دینے کی ایک بھی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے بعد چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے ملک بھر میں ذیقعد کا چاند دکھائی نہ دینے کا اعلان کردیا۔

    سلمان خان کی ایک شاندار پرتعیش ہوٹل بنانے کی تیاری

  • یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    ناسا کی جانب سے ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ان کے مرکز اور برفیلے خول کے درمیان ممکنہ طور پر پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق، ایسی پہلی تحقیق ہے جس میں یورینس کے پانچوں بڑے چاندوں (ایریئل، امبریئل، ٹائٹینیا، اوبیرون اور مِیرانڈا) کے سانچے اور اندرونی تشکیل کے ارتقاء کے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے تحقیق کے مطابق چار چاندوں میں سمندر موجود ہیں جو ممکنہ طور پر میلوں گہرے ہوسکتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے


    ناسا کے وائجر خلائی جہاز کے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ، نئے کمپیوٹر ماڈلنگ کے ساتھ، ناسا کے سائنسدانوں کو اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یورینس کے سب سے بڑے چاندوں میں سے چار ممکنہ طور پر اپنے کور اور برفیلی پرتوں کے درمیان ایک سمندری تہہ پر مشتمل ہیں-

    مجموعی طور پر، کم از کم 27 چاند یورینس کے گرد چکر لگاتے ہیں، جس میں چار سب سے بڑے ایریئل سے لے کر، 720 میل (1,160 کلومیٹر) کے اس پار، ٹائٹینیا تک ہیں، جو 980 میل (1،580 کلومیٹر) تک ہیں سائنسدانوں نے طویل عرصے سےٹائٹینیا کےسائز کو دیکھتے ہوئےسوچا ہے کہ اندرونی حرارت کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ امکان ہے، جو تابکار کشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    دوسرے چاند کو پہلے بڑے پیمانے پر بہت چھوٹا سمجھا جاتا تھا کہ وہ اندرونی سمندر کو جمنے سےبچانے کے لیے ضروری حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت چھوٹا سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ یورینس کی کشش ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت گرمی کا صرف ایک معمولی ذریعہ ہے۔

    نیشنل اکیڈمیز کے 2023 پلانیٹری سائنس اینڈ ایسٹروبائیولوجی ڈیکاڈل سروے نےیورینس کی تلاش کو ترجیح دی۔ ایسے مشن کی تیاری میں، سیاروں کے سائنس دان پراسرار یورینس نظام کے بارے میں اپنے علم کو بڑھانے کے لیے برف کےپہاڑوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

    جنوبی کیلی فورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے لیڈ مصنف جولی کاسٹیلوروگیز نے کہا کہ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ میں شائع ہوا، نیا کام یہ بتا سکتا ہے کہ مستقبل کا مشن چاندوں کی تحقیقات کیسے کر سکتا ہےلیکن اس مقالے میں ایسے مضمرات بھی ہیں جو یورینس سے آگے بڑھتے ہیں-

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کی جولی کاسٹیلو روگیزنےایک بیان میں کہا کہ جب چھوٹےاجرامِ فلکی کی بات آتی ہےتوماضی میں سیاروی سائنس دانوں کو متعدد غیر متوقع جگہوں پر سمندروں کے شواہد ملے ہیں۔ ان جگہوں میں بونے سیارے سِیریز اور پلوٹو اور سیارے زحل کا چاند مِیماس شامل ہیں۔لہٰذا ان جگہوں پر کچھ ایسے نظام ہیں جن کو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ یہ دریافت وائجر اسپیس کرافٹ سے حاصل ہونے والے اصل ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ وائجر نے یہ تفصیلی معلومات 1980 کی دہائی میں یورینس کے قریب سے دو بار گزرنے کے دوران اکٹھا کی تھیں۔

    ڈیٹا کے استعمال کے ساتھ ناسا سائنس دانوں نے روایتی ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے سیاروں کے کمپیوٹر ماڈل بنائے جن میں ناسا کے گیلیلیو، کیسینی، ڈان اور نیو ہورائزنز سے حاصل ہونے والی معلومات بھی شامل تھیں۔

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ …

  • چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    فلوریڈا: ناسا کا کہنا ہے کہ چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: ناسا کے مطابق ایک حالیہ ٹیسٹ کے دوران، ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کے سائنسدانوں نے چاند کی مصنوعی مٹی سے کامیابی کے ساتھ آکسیجن نکالی یہ پہلا موقع تھا جب یہ اخراج خلاء کے ماحول میں کیا گیا ہے، جس سے خلانوردوں کے لیے چاندی کے ماحول میں ایک دن نکالنے اور وسائل کے استعمال کی راہ ہموار ہوئی ہے، جسے ان-سیٹو ریسورس یوٹیلائزیشن کہتے ہیں۔

    واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    اس ضمن میں جانسن اسپیس سینٹر میں ایک کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ کاربوتھرمل ریڈکشن ڈیمنسٹریشن (کارڈ) نامی ایک ٹیسٹ ویکیوم چیمبر میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ویکیوم چیمبر میں ہوا بالکل نہیں ہوتی بلکہ اس میں خلا جیسی کیفیت ہوتی ہے۔

    اسی ویکیوم چیمبر میں چاند جیسی مٹی کی سیمولیٹڈ کیفیت پر یہ تجربہ کیا گیا ہے۔ یہاں مٹی سے مراد باریک ذرات کی وہ دھول ہے جو چاند کو ڈھانپے ہوئے ہےمٹی سے آکسیجن کے کامیاب حصول کےبعد چاند پر انسانی موجودگی کو طویل عرصے تک ممکن رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق …

    15 فٹ قطر کے تھرمل ویکیوم چیمبر میں عین چاند جیسی کیفیات پیدا کی گئیں اور لیزر سے گرم کرکے مٹی کو گرم کرکے پگھلایا۔ اس عمل کو کاربوتھرمل کا نام دیا جاتا ہےکیونکہ اس طرح مادوں میں پھنسی ہوئی گیسوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔ اس کے بعد ویکیوم چیمبر سے کاربن مونو آکسائیڈ اور آکسیجن کشید کی گئی ہے۔

    توقع ہے کہ اس عمل سے چاند پر رہنے والے ماہ نورد بھی اپنی آکسیجن خود بناسکیں گے۔

  • شوال کا چاند نظر آگیا؛ ملک بھر میں عیدالفطر منائی کل جائے گی

    شوال کا چاند نظر آگیا؛ ملک بھر میں عیدالفطر منائی کل جائے گی

    شوال کا چاند نظر آگیا؛ ملک بھر میں عیدالفطر منائی کل جائے گی

    پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا ہے، کل ملک بھر میں عیدالفطر منائی جائے گی جبکہ پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا ہے، اور کل بروز ہفتہ 22 اپریل کو ملک بھر میں عیدالفطر منائی جائے گی۔

    دوسری جانب عید کا چاند نظر آتے ہی مساجد میں اعتکاف میں بیٹھنے والے افراد اپنے گھروں کو واپس روانہ ہورہے ہیں، اور مساجد میں متعکفین کے رشتہ داروں و دوست احباب کی لاکھوں کی تعداد پہنچ گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    رمضان المبارک کے آخری (10 دن ) عشرے میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں شرکت کرتے ہیں، اور بعض مساجد میں ایک ماہ کا بھی اعتکاف کیا جاتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی مساجد سے بھی ہزاروں معتکفین گھروں کو واپس جارہے ہیں۔

  • قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

    قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رمضان کا مقدس مہینہ اختتام پذیر ہونے کو ہے، روزے 29 ہوں گے یا 30، اس حوالہ سے روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا،جو چاند دیکھے گا اور عید کے ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کرے گا، سعودی عرب میں بھی آج 29 واں روزہے اور پاکستان میں بھی 29 واں روزہ ہے

    رویئت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی‌صدارت مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے، پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان میں بھی روئیت ہلال کے اجلاس ہوں گے،شہادتوں کی بنیاد پر مرکزی کمیٹی چاند کا اعلان کرے گا، تا ہم آج ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی جس نے سب کو حیران کر دیا،

    مقبوضہ جموں کشمیر کے مفتی ناصر الاسلام کی ویڈیو لیک ہوئی ہے جس میں‌ وہ چاند کے حوالے سے پہلے ہی اپنا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا چکے ہیں،مفتی ناصر الاسلام اپنے ویڈیو پیغام میں کہتے ہیں برادارن اسلام ، السلام علیکم، آج 20 اپریل جمعرات، رویت ہلال کمیٹی جموں کشمیر کو چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی، علماء کرام سے مشاورت سے یہ طے ہے کہ عیدالفطر 22 اپریل کو منائی جائے گی،

    مفتی ناصر الاسلام کا ویڈیو پیغام ایک منٹ 21 سیکنڈ کا ہے، روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس شام مغرب کے وقت ہوتا ہے، اور مفتی ناصر الاسلام نے اجلاس سے قبل ہی ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا دیا کہ چاند نظر نہیں آیا اور عید 22 اپریل کو ہو گی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی، مفتی ناصر الاسلام جنہیں جموں کشمیر کا مفتی اعظم بھی کہا جاتا ہے کی جانب سے عید کے حوالہ سے ویڈیو پہلے ریکارڈ کروانے پر سوال اٹھ رہے ہیں، کیا دین اسلام ہمیں اس امر کی اجازت دیتا ہے؟ کیا مفتی ناصر الاسلام روئیت ہلال کمیٹی کے رکن ہیں، کیا اجلاس اور وقت سے قبل ایسی ویڈیو ریکارڈ کروانے پر انکی گواہی قبول کرنی چاہئے ؟

    پاکستان میں عید کو لے کر ہمیشہ ہی قوم مسائل سے دو چار رہتی ہے، خاص کر عید الفطر ہمیشہ دو ہی منائی جاتی ہیں، رمضان کے روزے کتنے ہوں گے اس پر کوئی بھی قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتا،29 بنیں گے یا 30، صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے، ہلال کمیٹی شہادتوں کی بنیاد پر اعلان اور فیصلہ کرتی ہے تا ہم مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے پہلے ہی عید 22 اپریل کو کرنے کا ویڈیو پیغام رویئت ہلال کمیٹی کو ہی متاثر کر رہا ہے، کیا ہلال کمیٹی ایسی شہادتیں قبول کرتی ہے اس حوالہ سے مرکزی ہلال کمیٹی کو بھی وضاحت کرنی چاہئے اور ایسے اراکین کے خلاف سخت نوٹس لینا چاہئے

    مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے عید الفطر کے حوالہ سے چاند دیکھے بنا اعلان ریکارڈ کرنے کی ویڈیو لیک نہ ہوتی تو ہو سکتا ہے کہ چاند آج نظر آ جائے اور مفتی ناصر الاسلام اسی پیغام پر بضد ہوں کہ چاند نظر نہیں آیا،عید 22 کو ہی ہو گی، ضرورت اس امر کی ہے رویت ہلال کمیٹی میں ایسے علماء کو شامل کیا جائے جو امت کو گمراہ کرنے کی بجائے صحیح رہنمائی کریں ،

  • شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا

    شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا

    شوال کا چاند دیکھنےکےلیےمرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہو گا-

    باغی ٹی وی: مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس وزارت مذہبی امور کی بلڈنگ میں ہوگا اجلاس کی صدارت مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے جبکہ زونل کمیٹیوں کے اجلاس ملک بھر کے مقررہ مقامات پر ہوں گے-

    دنیا کے کئی ممالک میں ہائبرڈ سورج گرہن

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ملک بھر میں عید کا چاند نظر آنے کا امکان بہت کم ہے، چاند نظر نہ آنے کی صورت میں عید الفطر 22 اپریل بروز ہفتہ کو ہو گی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 20 اپریل کو سورج گرہن ہو گا،سورج گرہن کے باعث مختلف ممالک میں نیا چاند نظر نہیں آئےگا، 20 اپریل کو سورج گرہن صبح ساڑھے 6 بجے شروع ہو کر دوپہر 12 بجے ختم ہو گا سورج گرہن چاند کی 29 تاریخ کو ہوتا ہے، اگلے روز نیا چند نظر آتا ہے۔

    سوات:شدید بارشیں،نالوں میں طغیانی،بحرین بازار میں پانی داخل،روڈ بند،شہری محصور

    ماہرین کے مطابق جن ملکوں میں سورج گرہن دیکھا جائے گا وہاں نیا چاند نظر نہیں آئے گا۔ سورج گرہن کے منفی اثرات کی وجہ سے دنیا کے کئی ملکوں میں موسم بہت خراب ہوگا، اس صورتحال کے سبب عید الفطر 30 روزے مکمل ہونے کے بعد ہفتہ 22 اپریل 2023ء کو منائے جانے کا قوی امکان ہے۔

  • اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    فلکیاتی اعتبار سے رواں سال عرب دنیا میں رمضان المبارک 29 روزوں پرمشتمل ہو گا ، اس لحاظ سے وہاں عیدالفطر جمعہ 21 اپریل کو منائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: "العربیہ ڈاٹ نیٹ ” کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے ام القری کیلنڈر کے مطابق جمعرات 29 رمضان المبارک 1444 ہجری کی شام شوال کا چاند دیکھنے کیلئے کہہ دیا ہے۔

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق …

    سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے تمام مسلمانوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ جمعرات کی شام چاند دیکھنے کی کوشش کریں سپریم کورٹ ان لوگوں سے درخواست کرتی ہے جو چاند کھلی آنکھوں سے یا دوربین کے ذریعے دیکھیں تو قریبی عدالت کو مطلع کردیں اور وہاں اپنی گواہی ریکارڈ کرا دیں۔ یا ایسے افراد قریبی مرکز سے رابطہ کریں۔

    عدالت امید کرتی ہے کہ جس میں بھی اس معاملے میں دلچسپی ظاہر کرنے کی اہلیت ہو وہ اس مقصد کے لیے خطوں میں بنائی گئی کمیٹیوں میں شامل ہو اور اجرو ثواب حاصل کرے کیونکہ یہ کام نیکی اور تقویٰ میں تعاون کا باعث ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

    دوسری جانب چند روز قبل مصرمیں فلکیاتی تحقیق کےقومی ادارے نےاطلاع دی تھی کہ ریسرچ لیبارٹری کے فلکیاتی حساب کےمطابق رواں سال رمضان المبارک 29 دن کا ہوگا اورماہ شوال کا آغاز جمعہ 21 اپریل سے ہوگا۔ یہ ہرچند سال بعد سامنےآنے والی چند نایاب چیزوں میں سے ایک ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    فلکیاتی تحقیق کے مرکز کے مطابق شوال کا چاند قاہرہ کے وقت کے مطابق صبح ٹھیک 6 بج کر 14 منٹ پرپیدا ہوجائے گا اور 29 رمضان جمعرات کو شوال کا چاند دیکھنے کا دن ہوگا تاہم ماہرین نے اس روز ایک الگ فلکیاتی واقعہ کا بتایا ہے جو مصر سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں پیش آئے گا اور یہ واقعہ سورج کا مکمل گرہن ہے۔

    مصرمیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے فلکیاتی تحقیق کےپروفیسر ڈاکٹر اشرف کے مطابق 20 اپریل کو چاند زمین کے قریب ہوگا اور سورج کی ڈسک کو مکمل طور پر دھندلا دے گا، اس طرح سے یہ گرہن دنیا کے کچھ حصوں میں مکمل اوردوسرے حصوں میں کنارہ نما نظرآئے گا اس دن پوری رات آسمان پر چاند نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ سورج کے ساتھ طلوع ہوگا اور اس کے ساتھ پوری طرح غروب ہوگا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    انہوں نے کہا کہ چاند کا نورانی چہرہ سورج اورسیاہ چہرہ زمین کی طرف ہوگا۔ یہ رات اپریل کے مہینے کی بہترین رات تصورکی جاتی ہے جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں، کیونکہ اس سےدور دراز ستاروں کا آسمانی اجسام کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہےمکمل سورج گرہن کا راستہ جنوبی بحر ہند سے شروع ہو کر مغربی آسٹریلیااورجنوبی انڈونیشیاکےکچھ حصوں سےہوتا ہوا گزرے گاجزوی گرہن انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے بیشتر حصوں میں نظر آئے گا۔

    قومی ادارہ برائے فلکیاتی اور جیو فزیکل ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر جاد القاضی نے کہا کہ عیدالفطر کا بابرکت ہلال نہ دیکھنے کا امکان موسمی حالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

  • یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    برسلز: یورپی خلائی یونین نے اپنا جدید ترین مشن خلا میں روانہ کردیا ہے جو آٹھ سال بعد نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر تحقیق کرے گا۔

    باغی ٹی وی :مشن کو جوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر(جوس) کا نام دیا گیا ہےجو ایک جدید روبوٹک خلائی جہاز ہےاسے فرنچ گیانا کے خلائی مرکز سے بھیجا گیا ہے اور زمین چھوڑنے کے 27 اور 36 منٹ بعد اس نےاپنےتمام آلات کی درستگی اورکام کےکئی سگنل زمین پربھیجے ہیں۔

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    اگست 2024 میں یہ بالترتیب زمین، چاند اور سیارہ وینس کے قریب سے گزر کرگریویٹی فلائے بائے لے گا اور اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے 2031 میں مشتری کے قریب پہنچے گا اس کے بعد وہ مشتری کے مزید چاندوں کیلسٹو، یوروپا، جینی میڈ وغیرہ سے بھی فلائے بائے کرے گا۔ آخرکار وہ جینی میڈ کے مدار میں پہنچ کر گھومنے لگے گا ہمارے اپنے علاوہ کسی خلائی جہاز نے کبھی چاند کے گرد چکر نہیں لگایا۔

    جدید ترین جوس خلائی جہاز مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا جس کے لیے دس اہم ترین آلات نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں اسپیکٹرومیٹر، جدید کیمرے، لیزر سینسر اور مقنا پیما وغیرہ مل کر اس عظیم دنیا کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کریں گے تمام مشن کی طرح یہ بھی مشتری کے چاندوں پر پانی کی تلاش کرے گا –

    یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ تصویر میں مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر، جوس، خلائی جہاز کو گیس دیو کے گرد چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    بہت سارے چاندوں کے ساتھ،ماہرین فلکیات مشتری کو اپنا ایک چھوٹا نظام شمسی سمجھتے ہیں، جس میں جوس جیسے مشن طویل عرصے سے زیر التواء ہیں یورپی خلائی ایجنسی کے پروجیکٹ سائنسدان، اولیور وِٹاس نے زور دیا کہ ہم جوس کے ساتھ زندگی کا پتہ لگانے والے نہیں ہیں لیکن چاندوں اور ان کے ممکنہ سمندروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے سے سائنس دانوں کو اس سوال کا جواب دینے کے قریب لے آئے گا کہ کہیں اور زندگی موجود ہے۔ "یہ واقعی مشن کا سب سے دلچسپ پہلو ہو گا-

    جوس مشتری تک ایک لمبا، چکر کاٹ رہا ہے، جو 6.6 بلین کلومیٹر (4 بلین میل) پر محیط ہے یہ کیلیسٹو کے 200 کلومیٹر (125 میل) اور یوروپا اور جینی میڈ کے 400 کلومیٹر (250 میل) کے اندر اندر جھپٹے گا، مشتری کے گرد چکر لگاتے ہوئے 35 فلائی بائی مکمل کرے گا۔ اس کے بعد یہ 1.6 بلین یورو مشن (تقریباً $1.8 بلین) کا بنیادی ہدف جینی میڈ کے مدار میں بریک لگائے گا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    جینی میڈ نہ صرف نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے بلکہ اس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جس میں قطبین پر چمکتی ہوئی اورورا ہیں اس سے بھی زیادہ دلکش، یہ سوچا جاتا ہے کہ ایک زیر زمین سمندر ہے جس میں زمین سے زیادہ پانی ہے۔ کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے سکاٹ شیپارڈ کے مطابق، جو جوس مشن میں شامل نہیں ہے، یوروپا اور اس کے رپورٹ کردہ گیزروں کے لیے ڈٹٹو، اور بھاری بھرکم کریسٹو، جو مشتری کی کمزور تابکاری بیلٹ سے دوری کے پیش نظر انسانوں کے لیے ایک ممکنہ منزل ہے۔

    "ہمارے نظام شمسی میں سمندری دنیاؤں میں ممکنہ زندگی کا سب سے زیادہ امکان ہے، لہذا مشتری کے یہ بڑے چاند تلاش کرنے کے لیے اہم امیدوار ہیں،” شیپارڈ نے کہا، جس نے بیرونی نظام شمسی میں 100 سے زیادہ دریافتیں کرنے میں مدد کی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    جوس مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر کے لیے مختصر تین سال کالسٹو، یوروپا اور جینی میڈ کےمدار میں گزارے گا۔ خلائی جہاز 2034 کے آخر میں گنیمیڈ کے گرد مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، تقریباً ایک سال تک چاند کے گرد چکر لگائے گا، اس سے پہلے کہ فلائٹ کنٹرولرز اسے 2035 میں گر کر تباہ کر دیں، بعد میں اگر کافی ایندھن باقی رہ جائے۔

    یوروپا خاص طور پر سائنسدانوں کے لیے پرکشش ہے جو زمین سے باہر زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ جوس کے حساس الیکٹرانکس کو تابکاری سے بچانے کے لیے سیسے میں بند کیا گیا ہے۔ 6,350 کلوگرام (14,000 پاؤنڈ) خلائی جہاز بھی تھرمل کمبل سے لپٹا ہوا ہے – مشتری کے قریب درجہ حرارت منفی 230 ڈگری سیلسیس (مائنس 380 ڈگری فارن ہائیٹ) کے ارد گرد منڈلاتا ہے۔ اور اس کے سولر پینلز 27 میٹر (88 فٹ) تک پھیلے ہوئے ہیں تاکہ سورج کی روشنی میں سورج سے اتنا ہی دور ہو-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …