Baaghi TV

Tag: چاند

  • قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

    قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رمضان کا مقدس مہینہ اختتام پذیر ہونے کو ہے، روزے 29 ہوں گے یا 30، اس حوالہ سے روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا،جو چاند دیکھے گا اور عید کے ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کرے گا، سعودی عرب میں بھی آج 29 واں روزہے اور پاکستان میں بھی 29 واں روزہ ہے

    رویئت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی‌صدارت مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے، پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان میں بھی روئیت ہلال کے اجلاس ہوں گے،شہادتوں کی بنیاد پر مرکزی کمیٹی چاند کا اعلان کرے گا، تا ہم آج ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی جس نے سب کو حیران کر دیا،

    مقبوضہ جموں کشمیر کے مفتی ناصر الاسلام کی ویڈیو لیک ہوئی ہے جس میں‌ وہ چاند کے حوالے سے پہلے ہی اپنا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا چکے ہیں،مفتی ناصر الاسلام اپنے ویڈیو پیغام میں کہتے ہیں برادارن اسلام ، السلام علیکم، آج 20 اپریل جمعرات، رویت ہلال کمیٹی جموں کشمیر کو چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی، علماء کرام سے مشاورت سے یہ طے ہے کہ عیدالفطر 22 اپریل کو منائی جائے گی،

    مفتی ناصر الاسلام کا ویڈیو پیغام ایک منٹ 21 سیکنڈ کا ہے، روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس شام مغرب کے وقت ہوتا ہے، اور مفتی ناصر الاسلام نے اجلاس سے قبل ہی ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا دیا کہ چاند نظر نہیں آیا اور عید 22 اپریل کو ہو گی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی، مفتی ناصر الاسلام جنہیں جموں کشمیر کا مفتی اعظم بھی کہا جاتا ہے کی جانب سے عید کے حوالہ سے ویڈیو پہلے ریکارڈ کروانے پر سوال اٹھ رہے ہیں، کیا دین اسلام ہمیں اس امر کی اجازت دیتا ہے؟ کیا مفتی ناصر الاسلام روئیت ہلال کمیٹی کے رکن ہیں، کیا اجلاس اور وقت سے قبل ایسی ویڈیو ریکارڈ کروانے پر انکی گواہی قبول کرنی چاہئے ؟

    پاکستان میں عید کو لے کر ہمیشہ ہی قوم مسائل سے دو چار رہتی ہے، خاص کر عید الفطر ہمیشہ دو ہی منائی جاتی ہیں، رمضان کے روزے کتنے ہوں گے اس پر کوئی بھی قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتا،29 بنیں گے یا 30، صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے، ہلال کمیٹی شہادتوں کی بنیاد پر اعلان اور فیصلہ کرتی ہے تا ہم مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے پہلے ہی عید 22 اپریل کو کرنے کا ویڈیو پیغام رویئت ہلال کمیٹی کو ہی متاثر کر رہا ہے، کیا ہلال کمیٹی ایسی شہادتیں قبول کرتی ہے اس حوالہ سے مرکزی ہلال کمیٹی کو بھی وضاحت کرنی چاہئے اور ایسے اراکین کے خلاف سخت نوٹس لینا چاہئے

    مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے عید الفطر کے حوالہ سے چاند دیکھے بنا اعلان ریکارڈ کرنے کی ویڈیو لیک نہ ہوتی تو ہو سکتا ہے کہ چاند آج نظر آ جائے اور مفتی ناصر الاسلام اسی پیغام پر بضد ہوں کہ چاند نظر نہیں آیا،عید 22 کو ہی ہو گی، ضرورت اس امر کی ہے رویت ہلال کمیٹی میں ایسے علماء کو شامل کیا جائے جو امت کو گمراہ کرنے کی بجائے صحیح رہنمائی کریں ،

  • شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا

    شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا

    شوال کا چاند دیکھنےکےلیےمرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہو گا-

    باغی ٹی وی: مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس وزارت مذہبی امور کی بلڈنگ میں ہوگا اجلاس کی صدارت مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے جبکہ زونل کمیٹیوں کے اجلاس ملک بھر کے مقررہ مقامات پر ہوں گے-

    دنیا کے کئی ممالک میں ہائبرڈ سورج گرہن

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ملک بھر میں عید کا چاند نظر آنے کا امکان بہت کم ہے، چاند نظر نہ آنے کی صورت میں عید الفطر 22 اپریل بروز ہفتہ کو ہو گی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 20 اپریل کو سورج گرہن ہو گا،سورج گرہن کے باعث مختلف ممالک میں نیا چاند نظر نہیں آئےگا، 20 اپریل کو سورج گرہن صبح ساڑھے 6 بجے شروع ہو کر دوپہر 12 بجے ختم ہو گا سورج گرہن چاند کی 29 تاریخ کو ہوتا ہے، اگلے روز نیا چند نظر آتا ہے۔

    سوات:شدید بارشیں،نالوں میں طغیانی،بحرین بازار میں پانی داخل،روڈ بند،شہری محصور

    ماہرین کے مطابق جن ملکوں میں سورج گرہن دیکھا جائے گا وہاں نیا چاند نظر نہیں آئے گا۔ سورج گرہن کے منفی اثرات کی وجہ سے دنیا کے کئی ملکوں میں موسم بہت خراب ہوگا، اس صورتحال کے سبب عید الفطر 30 روزے مکمل ہونے کے بعد ہفتہ 22 اپریل 2023ء کو منائے جانے کا قوی امکان ہے۔

  • اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    فلکیاتی اعتبار سے رواں سال عرب دنیا میں رمضان المبارک 29 روزوں پرمشتمل ہو گا ، اس لحاظ سے وہاں عیدالفطر جمعہ 21 اپریل کو منائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: "العربیہ ڈاٹ نیٹ ” کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے ام القری کیلنڈر کے مطابق جمعرات 29 رمضان المبارک 1444 ہجری کی شام شوال کا چاند دیکھنے کیلئے کہہ دیا ہے۔

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق …

    سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے تمام مسلمانوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ جمعرات کی شام چاند دیکھنے کی کوشش کریں سپریم کورٹ ان لوگوں سے درخواست کرتی ہے جو چاند کھلی آنکھوں سے یا دوربین کے ذریعے دیکھیں تو قریبی عدالت کو مطلع کردیں اور وہاں اپنی گواہی ریکارڈ کرا دیں۔ یا ایسے افراد قریبی مرکز سے رابطہ کریں۔

    عدالت امید کرتی ہے کہ جس میں بھی اس معاملے میں دلچسپی ظاہر کرنے کی اہلیت ہو وہ اس مقصد کے لیے خطوں میں بنائی گئی کمیٹیوں میں شامل ہو اور اجرو ثواب حاصل کرے کیونکہ یہ کام نیکی اور تقویٰ میں تعاون کا باعث ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

    دوسری جانب چند روز قبل مصرمیں فلکیاتی تحقیق کےقومی ادارے نےاطلاع دی تھی کہ ریسرچ لیبارٹری کے فلکیاتی حساب کےمطابق رواں سال رمضان المبارک 29 دن کا ہوگا اورماہ شوال کا آغاز جمعہ 21 اپریل سے ہوگا۔ یہ ہرچند سال بعد سامنےآنے والی چند نایاب چیزوں میں سے ایک ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    فلکیاتی تحقیق کے مرکز کے مطابق شوال کا چاند قاہرہ کے وقت کے مطابق صبح ٹھیک 6 بج کر 14 منٹ پرپیدا ہوجائے گا اور 29 رمضان جمعرات کو شوال کا چاند دیکھنے کا دن ہوگا تاہم ماہرین نے اس روز ایک الگ فلکیاتی واقعہ کا بتایا ہے جو مصر سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں پیش آئے گا اور یہ واقعہ سورج کا مکمل گرہن ہے۔

    مصرمیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے فلکیاتی تحقیق کےپروفیسر ڈاکٹر اشرف کے مطابق 20 اپریل کو چاند زمین کے قریب ہوگا اور سورج کی ڈسک کو مکمل طور پر دھندلا دے گا، اس طرح سے یہ گرہن دنیا کے کچھ حصوں میں مکمل اوردوسرے حصوں میں کنارہ نما نظرآئے گا اس دن پوری رات آسمان پر چاند نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ سورج کے ساتھ طلوع ہوگا اور اس کے ساتھ پوری طرح غروب ہوگا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    انہوں نے کہا کہ چاند کا نورانی چہرہ سورج اورسیاہ چہرہ زمین کی طرف ہوگا۔ یہ رات اپریل کے مہینے کی بہترین رات تصورکی جاتی ہے جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں، کیونکہ اس سےدور دراز ستاروں کا آسمانی اجسام کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہےمکمل سورج گرہن کا راستہ جنوبی بحر ہند سے شروع ہو کر مغربی آسٹریلیااورجنوبی انڈونیشیاکےکچھ حصوں سےہوتا ہوا گزرے گاجزوی گرہن انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے بیشتر حصوں میں نظر آئے گا۔

    قومی ادارہ برائے فلکیاتی اور جیو فزیکل ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر جاد القاضی نے کہا کہ عیدالفطر کا بابرکت ہلال نہ دیکھنے کا امکان موسمی حالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

  • یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    برسلز: یورپی خلائی یونین نے اپنا جدید ترین مشن خلا میں روانہ کردیا ہے جو آٹھ سال بعد نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر تحقیق کرے گا۔

    باغی ٹی وی :مشن کو جوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر(جوس) کا نام دیا گیا ہےجو ایک جدید روبوٹک خلائی جہاز ہےاسے فرنچ گیانا کے خلائی مرکز سے بھیجا گیا ہے اور زمین چھوڑنے کے 27 اور 36 منٹ بعد اس نےاپنےتمام آلات کی درستگی اورکام کےکئی سگنل زمین پربھیجے ہیں۔

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    اگست 2024 میں یہ بالترتیب زمین، چاند اور سیارہ وینس کے قریب سے گزر کرگریویٹی فلائے بائے لے گا اور اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے 2031 میں مشتری کے قریب پہنچے گا اس کے بعد وہ مشتری کے مزید چاندوں کیلسٹو، یوروپا، جینی میڈ وغیرہ سے بھی فلائے بائے کرے گا۔ آخرکار وہ جینی میڈ کے مدار میں پہنچ کر گھومنے لگے گا ہمارے اپنے علاوہ کسی خلائی جہاز نے کبھی چاند کے گرد چکر نہیں لگایا۔

    جدید ترین جوس خلائی جہاز مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا جس کے لیے دس اہم ترین آلات نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں اسپیکٹرومیٹر، جدید کیمرے، لیزر سینسر اور مقنا پیما وغیرہ مل کر اس عظیم دنیا کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کریں گے تمام مشن کی طرح یہ بھی مشتری کے چاندوں پر پانی کی تلاش کرے گا –

    یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ تصویر میں مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر، جوس، خلائی جہاز کو گیس دیو کے گرد چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    بہت سارے چاندوں کے ساتھ،ماہرین فلکیات مشتری کو اپنا ایک چھوٹا نظام شمسی سمجھتے ہیں، جس میں جوس جیسے مشن طویل عرصے سے زیر التواء ہیں یورپی خلائی ایجنسی کے پروجیکٹ سائنسدان، اولیور وِٹاس نے زور دیا کہ ہم جوس کے ساتھ زندگی کا پتہ لگانے والے نہیں ہیں لیکن چاندوں اور ان کے ممکنہ سمندروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے سے سائنس دانوں کو اس سوال کا جواب دینے کے قریب لے آئے گا کہ کہیں اور زندگی موجود ہے۔ "یہ واقعی مشن کا سب سے دلچسپ پہلو ہو گا-

    جوس مشتری تک ایک لمبا، چکر کاٹ رہا ہے، جو 6.6 بلین کلومیٹر (4 بلین میل) پر محیط ہے یہ کیلیسٹو کے 200 کلومیٹر (125 میل) اور یوروپا اور جینی میڈ کے 400 کلومیٹر (250 میل) کے اندر اندر جھپٹے گا، مشتری کے گرد چکر لگاتے ہوئے 35 فلائی بائی مکمل کرے گا۔ اس کے بعد یہ 1.6 بلین یورو مشن (تقریباً $1.8 بلین) کا بنیادی ہدف جینی میڈ کے مدار میں بریک لگائے گا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    جینی میڈ نہ صرف نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے بلکہ اس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جس میں قطبین پر چمکتی ہوئی اورورا ہیں اس سے بھی زیادہ دلکش، یہ سوچا جاتا ہے کہ ایک زیر زمین سمندر ہے جس میں زمین سے زیادہ پانی ہے۔ کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے سکاٹ شیپارڈ کے مطابق، جو جوس مشن میں شامل نہیں ہے، یوروپا اور اس کے رپورٹ کردہ گیزروں کے لیے ڈٹٹو، اور بھاری بھرکم کریسٹو، جو مشتری کی کمزور تابکاری بیلٹ سے دوری کے پیش نظر انسانوں کے لیے ایک ممکنہ منزل ہے۔

    "ہمارے نظام شمسی میں سمندری دنیاؤں میں ممکنہ زندگی کا سب سے زیادہ امکان ہے، لہذا مشتری کے یہ بڑے چاند تلاش کرنے کے لیے اہم امیدوار ہیں،” شیپارڈ نے کہا، جس نے بیرونی نظام شمسی میں 100 سے زیادہ دریافتیں کرنے میں مدد کی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    جوس مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر کے لیے مختصر تین سال کالسٹو، یوروپا اور جینی میڈ کےمدار میں گزارے گا۔ خلائی جہاز 2034 کے آخر میں گنیمیڈ کے گرد مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، تقریباً ایک سال تک چاند کے گرد چکر لگائے گا، اس سے پہلے کہ فلائٹ کنٹرولرز اسے 2035 میں گر کر تباہ کر دیں، بعد میں اگر کافی ایندھن باقی رہ جائے۔

    یوروپا خاص طور پر سائنسدانوں کے لیے پرکشش ہے جو زمین سے باہر زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ جوس کے حساس الیکٹرانکس کو تابکاری سے بچانے کے لیے سیسے میں بند کیا گیا ہے۔ 6,350 کلوگرام (14,000 پاؤنڈ) خلائی جہاز بھی تھرمل کمبل سے لپٹا ہوا ہے – مشتری کے قریب درجہ حرارت منفی 230 ڈگری سیلسیس (مائنس 380 ڈگری فارن ہائیٹ) کے ارد گرد منڈلاتا ہے۔ اور اس کے سولر پینلز 27 میٹر (88 فٹ) تک پھیلے ہوئے ہیں تاکہ سورج کی روشنی میں سورج سے اتنا ہی دور ہو-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: "سی این بی سی” کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کے تحت جو انسان 5 دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سرزمین پر قدم رکھیں گے، وہ وہاں 4 جی نیٹ ورک کی بدولت سوشل میڈیا سائٹس پر سیلفی شیئر کر سکیں گے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    فن لینڈ کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیااس سال کے آخر میں چاند پر ایک 4G موبائل نیٹ ورک شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، چاند کی دریافتوں کو بڑھانے کی امید میں اور سیٹلائٹ سیارے پر انسانی موجودگی کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گاکمپنی کی جانب سے اس کا عندیہ فروری 2023 کے آخر میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران دیا گیا تھا۔

    نوکیا کے پرنسپل انجینئر لوئس ماسٹرو روئز ڈی ٹیمینو نے اس ماہ کے شروع میں بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس ٹریڈ شو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ فینیش ٹیلی کمیونیکیشن گروپ آنے والے مہینوں میں اسپیس ایکس راکٹ پر نیٹ ورک کو لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    لینڈر اور روور کے درمیان ایک LTE کنکشن قائم کیا جائے گابنیادی ڈھانچہ شیکلٹن کریٹر پر اترے گا، جو چاند کے جنوبی حصے کے ساتھ واقع ہےنوکیا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خلا کے انتہائی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اس نیٹ ورک کو ناسا کے آرٹیمس 1 مشن کے اندر استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد 1972 کے بعد چاند کی سطح پر چلنے کے لیے پہلے انسانی خلابازوں کو بھیجنا ہے۔

    امریکی اسپیس کمپنی Intuitive Machines کی جانب سے رواں سال اسپیس ایکس راکٹ کے ذریعے نووا سی لینڈر چاند پر بھیجا جائے گا جس کے ساتھ نوکیا کا 4 جی بیس اسٹیشن بھی ہوگا لینڈر اور بیس اسٹیشن کے ساتھ ایک سولر پاور سے کام کرنے والا روور بھی اس مشن کا حصہ ہوگا۔

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

    جب یہ بیس اسٹیشن چاند کے Shackleton crater پر پہنچ جائے گا تو روور اور لینڈر کی جانب سے 4 جی ایل ٹی ای کنکشن کو قائم کیا جائے گاکمپنی کو توقع ہے کہ اس نیٹ ورک سے چاند پر مستقبل کے انسانی تحقیقی مشن کو معاونت ملے گی آرٹیمس مشن میں شامل افراد ایک دوسرے سے اس نیٹ ورک کے ذریعے رابطے میں رہ سکیں گے جبکہ رئیل ٹائم میں زمین پر ویڈیو اسٹریمنگ کے ساتھ ساتھ ڈیٹا بھیج سکیں گے۔

    ابھی چاند پر اس 4 جی سیٹلائیٹ کو بھیجنے کی تاریخ طے نہیں ہوئی مگر ماہرین کے خیال میں 2023 میں ایسا ہونے کا قوی امکان ہے اگر چاند پر یہ موبائل نیٹ ورک کام کرنے لگتا ہے تو یہ خلا میں پہلا 4 جی سسٹم ہوگا جس سے چاند کی سطح پر رہتے ہوئے بھی رابطوں، تیز انٹرنیٹ اور دیگر کاموں میں مدد مل سکے گی۔

    ناسا کی جانب سے 2020 میں فن لینڈ کی کمپنی کو چاند پر 4 جی نیٹ ورک کی تنصیب کا کام سونپا تھا اور جب سے اس کی تیاریاں کی جا رہی تھیں یہ نیٹ ورک بہت زیادہ درجہ حرارت، ریڈی ایشن اور خلائی ماحول میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ میں وائس چیٹ اور کال میں تبدیلیاں متوقع

  • رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان

    رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کلائمٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر نے رمضان المبارک کے چاند کی پیشگوئی کی ہےکہ رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان ہے رمضان المبارک کا چاند 22مارچ کو نظر آئے گا اور 23 مارچ کو پہلا روزہ ہوگا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش 21 مارچ کی شب 10 بج کر 23 منٹ پر ہوگی، اس لیے 22 مارچ کو مغرب کے وقت چاند کی عمر 20 گھنٹے سے زائد ہوگی، غروب آفتاب 6 بج کر 41 منٹ جب کہ غروب قمر 7 بج کر 32 منٹ پر ہوگا چاند دیکھنے کے دوران کراچی میں کہیں مطلع صاف اور کہیں ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب سعودی سپریم کورٹ نے مملکت میں موجود مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منگل 21یعنی 29شعبان کو رمضان المبارک کا چاند دیکھیں اور حکومت کو اپنی شہادت ریکارڈ کرائیں۔ سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شہری کھلی آنکھ سے یا دوربین کے ذریعے چاند کو دیکھے وہ فوری طور پر قریبی عدالت جاکر اپنی شہادت درج کرائے۔

  • رواں برس میں پہلی اور آخری بار چاند آج رات خانہ کعبہ کے عین اوپرآگیا

    رواں برس میں پہلی اور آخری بار چاند آج رات خانہ کعبہ کے عین اوپرآگیا

    جدہ: 2023ء میں پہلی بارچاند خانہ کعبہ کے عین اوپر آگیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاھرۃ نے کہا ہےکہ گرینیج ٹائم کے مطابق رات7 بج کر 43 منٹ پر چاند 89.5 ڈگری کے اوپر مکہ مکرمہ کے آسمان پر نظر آیا۔

    چاند پاکستانی وقت کےمطابق رات 12 بج کر 43 منٹ پرخانہ کعبہ کےاوپر آیا، ایسا 2023 کے دوران پہلی اور آخری مرتبہ ہوا ہے۔

    فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چاند خانہ کعبہ کے اوپر آنے سے دنیا کے مختلف علاقوں میں قبلے کے رخ کا درست تعین کیا جاسکتا ہے۔

    قبل ازیں جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چاند 93 فیصد روشن ہو گا اس کے علاوہ دیگر چمک دار ستارے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔دنیا کے مختلف علاقوں میں قبلے کا رخ متعین کرنے کا بہترین موقع ہے۔

  • ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی-

    باغی ٹی وی : ناسا کے خلائی جہاز اورین نے اپنے خلائی سفر کے چھٹے روز چاند کی تصویر لی، جسے ناسا نے اپنے آفیشل اکاونٹ سے جاری کیا ہے-

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    ناسا کے مطابق چاند کی ہائی ریزولوشن تصویر اس وقت لی گئی جب خلائی جہاز چاند کی سطح سے 129 کلومیٹر اوپر سے گزر رہا تھا۔


    ناسا نےتصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ تصویر ناسا کے اورین خلائی جہاز نے لی ہے جو آرٹیمیس ون مشن کے ایک حصّے کے طور پر پچھلے ہفتے سفر پر روانہ ہوا تھا۔

    واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    تقریباً 270,000 میل (430,000 کلومیٹر) دور،آرٹیمس 1 جلد ہی خلابازوں کو لے جانے کے لیے بنائے گئے خلائی جہاز میں اپولو 13 کے زمین سے ریکارڈ قائم کرنے والے فاصلے کو پیچھے چھوڑ دے گا۔


    واضح رہے اورین خلائی جہاز میں کوئی انسان موجود نہیں ہے لیکن اسی کے ذریعے مستقبل میں عام لوگوں کے چاند کا سفر ممکن ہو سکے گا، اس جہاز کو روانہ کرنے کیلئے ستمبر میں دو مرتبہ کوشش کی گئی تھی لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے روک دیا گیا۔

    110 سال قبل ڈوبنے والے ٹائی ٹینک جہاز سے ملنی والی گھڑی 98 ہزار پاؤنڈز میں نیلام

  • سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    آسٹریلوی سائنسدانوں نے خلائی مشن سے متعلق معلومات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کی کوشش کریں گے۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں ماہر نباتیات بریٹ ویلیمز نے بتایا کہ چاند پر پودے لگانے کے ایک پرائیویٹ اسرائیلی مشن کے تحت پودوں کے بیجوں کو بیری شیٹ 2 خلائی جہاز کے ذریعے چاند پر لے جایا جائے گا جہاں انہیں ایک سیل بند چیمبر کے اندر پانی دیا جائے گا اور ان کے اگنے اور نشو و نما کی نگرانی کی جائے گی ۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدان دیکھیں گے کہ پودے کس حد تک انتہائی شدید حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور کتنی دیر میں اُگاؤ کا عمل شروع ہوتا ہے، ماہرین چاند پر ریسوریکشن گھاس کا بھی چناؤ کر سکتے ہیں جو بغیر پانی کے بھی زندہ رہ سکتی ہے۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر کیٹلین برٹ نے کہا ہے کہ اگر چاند پر پودے اگانے کا نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے تو پھر زمین پر بھی انتہائی مشکل ماحول میں خوراک اگانے کا سسٹم بنا سکیں گے۔

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ خوراک، ادویات اور آکسیجن پیدا کرنے کے لیے پودوں کو اگانے کی جانب ایک ابتدائی قدم ہے، جو سب ہی چاند پر انسانی زندگی کے قیام کے لیے بہت اہم ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    کینبرا میں آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کیٹلن برٹ نے کہا کہ یہ تحقیق موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے غذائی تحفظ کے خدشات سے بھی منسلک ہے اگر آپ چاند پر پودوں کو اگانے کے لیے ایک نظام تشکیل دے سکتے ہیں، تو آپ زمین پر بھی کچھ مشکل ترین ماحول میں خوراک اگانے کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

    اس پراجیکٹ کو لوریا ون نامی تنظیم چلا رہی ہے، جس میں آسٹریلیا اور اسرائیل کے سائنسدان شامل ہیں۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

  • چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    فلوریڈا:امریکی خلائی سائنسدانوں کی چاند پرپہلے خلائی مشن بھیجنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے ، اس حوالے سے امریکی میڈیا نے خلائی ادارے ناسا کے حوالے سے کچھ معلومات دی ہیں ، جن کے مطابق ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ فنی خرابی کی وجہ سے خلائی مشن روانہ نہیں کیا جاسکا۔

    چاند پر خلائی مشن بھیجنے میں ناکامی کے حوالے سے جو تفصیلات آئی ہیں ان کے مطابق غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا ہے کہ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔

     

     

     

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

     

     

     

    اس خلائی مشن میں کسی خلا باز کو راکٹ کے ذریعے نہیں بھیجا جارہا ہے تاہم راکٹ میں کچھ ایسی سنسرز( حساس آلات ) نصب ہیں جو ریڈیشن لیول، حرارت اور دیگر تبدیلیوں کو ریکارڈ کریں گے۔

    آرٹیمز ون کے مشن منیجر مائیک سرافن نے بتایا کہ موجودہ ہفتے میں 2 ستمبر کو جمعہ کے روز خلائی مشن کو روانہ کرنے کی دوبارہ کوشش کی جائے گی۔”یہ مشن بہت سارے لوگوں کی بہت سی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہے۔ اور اب ہم آرٹیمس نسل ہیں،”

     

    آرٹیمیس 1 نامی چھ ہفتے کی آزمائشی پرواز کا مقصد ایس ایل ایس اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے جو راکٹ کے اوپر بیٹھا ہے۔ یہ کیپسول چاند کے گرد چکر لگائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ جہاز مستقبل قریب میں لوگوں کے لیے محفوظ ہے۔

     

    اگراس بار بھی کسی وجہ سے خلائی مشن کو بھیجنا ممکن نہ ہوا تو 5 ستمبر بروز پیر کو خلائی مشن کو بھیجاجائےگا۔

     

    پیرکو خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔

     

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔