Baaghi TV

Tag: چاند

  • ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: "سی این بی سی” کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کے تحت جو انسان 5 دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سرزمین پر قدم رکھیں گے، وہ وہاں 4 جی نیٹ ورک کی بدولت سوشل میڈیا سائٹس پر سیلفی شیئر کر سکیں گے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    فن لینڈ کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیااس سال کے آخر میں چاند پر ایک 4G موبائل نیٹ ورک شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، چاند کی دریافتوں کو بڑھانے کی امید میں اور سیٹلائٹ سیارے پر انسانی موجودگی کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گاکمپنی کی جانب سے اس کا عندیہ فروری 2023 کے آخر میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران دیا گیا تھا۔

    نوکیا کے پرنسپل انجینئر لوئس ماسٹرو روئز ڈی ٹیمینو نے اس ماہ کے شروع میں بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس ٹریڈ شو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ فینیش ٹیلی کمیونیکیشن گروپ آنے والے مہینوں میں اسپیس ایکس راکٹ پر نیٹ ورک کو لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    لینڈر اور روور کے درمیان ایک LTE کنکشن قائم کیا جائے گابنیادی ڈھانچہ شیکلٹن کریٹر پر اترے گا، جو چاند کے جنوبی حصے کے ساتھ واقع ہےنوکیا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خلا کے انتہائی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اس نیٹ ورک کو ناسا کے آرٹیمس 1 مشن کے اندر استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد 1972 کے بعد چاند کی سطح پر چلنے کے لیے پہلے انسانی خلابازوں کو بھیجنا ہے۔

    امریکی اسپیس کمپنی Intuitive Machines کی جانب سے رواں سال اسپیس ایکس راکٹ کے ذریعے نووا سی لینڈر چاند پر بھیجا جائے گا جس کے ساتھ نوکیا کا 4 جی بیس اسٹیشن بھی ہوگا لینڈر اور بیس اسٹیشن کے ساتھ ایک سولر پاور سے کام کرنے والا روور بھی اس مشن کا حصہ ہوگا۔

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

    جب یہ بیس اسٹیشن چاند کے Shackleton crater پر پہنچ جائے گا تو روور اور لینڈر کی جانب سے 4 جی ایل ٹی ای کنکشن کو قائم کیا جائے گاکمپنی کو توقع ہے کہ اس نیٹ ورک سے چاند پر مستقبل کے انسانی تحقیقی مشن کو معاونت ملے گی آرٹیمس مشن میں شامل افراد ایک دوسرے سے اس نیٹ ورک کے ذریعے رابطے میں رہ سکیں گے جبکہ رئیل ٹائم میں زمین پر ویڈیو اسٹریمنگ کے ساتھ ساتھ ڈیٹا بھیج سکیں گے۔

    ابھی چاند پر اس 4 جی سیٹلائیٹ کو بھیجنے کی تاریخ طے نہیں ہوئی مگر ماہرین کے خیال میں 2023 میں ایسا ہونے کا قوی امکان ہے اگر چاند پر یہ موبائل نیٹ ورک کام کرنے لگتا ہے تو یہ خلا میں پہلا 4 جی سسٹم ہوگا جس سے چاند کی سطح پر رہتے ہوئے بھی رابطوں، تیز انٹرنیٹ اور دیگر کاموں میں مدد مل سکے گی۔

    ناسا کی جانب سے 2020 میں فن لینڈ کی کمپنی کو چاند پر 4 جی نیٹ ورک کی تنصیب کا کام سونپا تھا اور جب سے اس کی تیاریاں کی جا رہی تھیں یہ نیٹ ورک بہت زیادہ درجہ حرارت، ریڈی ایشن اور خلائی ماحول میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ میں وائس چیٹ اور کال میں تبدیلیاں متوقع

  • رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان

    رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کلائمٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر نے رمضان المبارک کے چاند کی پیشگوئی کی ہےکہ رمضان المبارک کا چاند 22 مارچ کو نظر آنے کا قوی امکان ہے رمضان المبارک کا چاند 22مارچ کو نظر آئے گا اور 23 مارچ کو پہلا روزہ ہوگا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش 21 مارچ کی شب 10 بج کر 23 منٹ پر ہوگی، اس لیے 22 مارچ کو مغرب کے وقت چاند کی عمر 20 گھنٹے سے زائد ہوگی، غروب آفتاب 6 بج کر 41 منٹ جب کہ غروب قمر 7 بج کر 32 منٹ پر ہوگا چاند دیکھنے کے دوران کراچی میں کہیں مطلع صاف اور کہیں ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب سعودی سپریم کورٹ نے مملکت میں موجود مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منگل 21یعنی 29شعبان کو رمضان المبارک کا چاند دیکھیں اور حکومت کو اپنی شہادت ریکارڈ کرائیں۔ سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شہری کھلی آنکھ سے یا دوربین کے ذریعے چاند کو دیکھے وہ فوری طور پر قریبی عدالت جاکر اپنی شہادت درج کرائے۔

  • رواں برس میں پہلی اور آخری بار چاند آج رات خانہ کعبہ کے عین اوپرآگیا

    رواں برس میں پہلی اور آخری بار چاند آج رات خانہ کعبہ کے عین اوپرآگیا

    جدہ: 2023ء میں پہلی بارچاند خانہ کعبہ کے عین اوپر آگیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاھرۃ نے کہا ہےکہ گرینیج ٹائم کے مطابق رات7 بج کر 43 منٹ پر چاند 89.5 ڈگری کے اوپر مکہ مکرمہ کے آسمان پر نظر آیا۔

    چاند پاکستانی وقت کےمطابق رات 12 بج کر 43 منٹ پرخانہ کعبہ کےاوپر آیا، ایسا 2023 کے دوران پہلی اور آخری مرتبہ ہوا ہے۔

    فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چاند خانہ کعبہ کے اوپر آنے سے دنیا کے مختلف علاقوں میں قبلے کے رخ کا درست تعین کیا جاسکتا ہے۔

    قبل ازیں جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چاند 93 فیصد روشن ہو گا اس کے علاوہ دیگر چمک دار ستارے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔دنیا کے مختلف علاقوں میں قبلے کا رخ متعین کرنے کا بہترین موقع ہے۔

  • ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی-

    باغی ٹی وی : ناسا کے خلائی جہاز اورین نے اپنے خلائی سفر کے چھٹے روز چاند کی تصویر لی، جسے ناسا نے اپنے آفیشل اکاونٹ سے جاری کیا ہے-

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    ناسا کے مطابق چاند کی ہائی ریزولوشن تصویر اس وقت لی گئی جب خلائی جہاز چاند کی سطح سے 129 کلومیٹر اوپر سے گزر رہا تھا۔


    ناسا نےتصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ تصویر ناسا کے اورین خلائی جہاز نے لی ہے جو آرٹیمیس ون مشن کے ایک حصّے کے طور پر پچھلے ہفتے سفر پر روانہ ہوا تھا۔

    واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    تقریباً 270,000 میل (430,000 کلومیٹر) دور،آرٹیمس 1 جلد ہی خلابازوں کو لے جانے کے لیے بنائے گئے خلائی جہاز میں اپولو 13 کے زمین سے ریکارڈ قائم کرنے والے فاصلے کو پیچھے چھوڑ دے گا۔


    واضح رہے اورین خلائی جہاز میں کوئی انسان موجود نہیں ہے لیکن اسی کے ذریعے مستقبل میں عام لوگوں کے چاند کا سفر ممکن ہو سکے گا، اس جہاز کو روانہ کرنے کیلئے ستمبر میں دو مرتبہ کوشش کی گئی تھی لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے روک دیا گیا۔

    110 سال قبل ڈوبنے والے ٹائی ٹینک جہاز سے ملنی والی گھڑی 98 ہزار پاؤنڈز میں نیلام

  • سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    آسٹریلوی سائنسدانوں نے خلائی مشن سے متعلق معلومات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کی کوشش کریں گے۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں ماہر نباتیات بریٹ ویلیمز نے بتایا کہ چاند پر پودے لگانے کے ایک پرائیویٹ اسرائیلی مشن کے تحت پودوں کے بیجوں کو بیری شیٹ 2 خلائی جہاز کے ذریعے چاند پر لے جایا جائے گا جہاں انہیں ایک سیل بند چیمبر کے اندر پانی دیا جائے گا اور ان کے اگنے اور نشو و نما کی نگرانی کی جائے گی ۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدان دیکھیں گے کہ پودے کس حد تک انتہائی شدید حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور کتنی دیر میں اُگاؤ کا عمل شروع ہوتا ہے، ماہرین چاند پر ریسوریکشن گھاس کا بھی چناؤ کر سکتے ہیں جو بغیر پانی کے بھی زندہ رہ سکتی ہے۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر کیٹلین برٹ نے کہا ہے کہ اگر چاند پر پودے اگانے کا نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے تو پھر زمین پر بھی انتہائی مشکل ماحول میں خوراک اگانے کا سسٹم بنا سکیں گے۔

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ خوراک، ادویات اور آکسیجن پیدا کرنے کے لیے پودوں کو اگانے کی جانب ایک ابتدائی قدم ہے، جو سب ہی چاند پر انسانی زندگی کے قیام کے لیے بہت اہم ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    کینبرا میں آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کیٹلن برٹ نے کہا کہ یہ تحقیق موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے غذائی تحفظ کے خدشات سے بھی منسلک ہے اگر آپ چاند پر پودوں کو اگانے کے لیے ایک نظام تشکیل دے سکتے ہیں، تو آپ زمین پر بھی کچھ مشکل ترین ماحول میں خوراک اگانے کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

    اس پراجیکٹ کو لوریا ون نامی تنظیم چلا رہی ہے، جس میں آسٹریلیا اور اسرائیل کے سائنسدان شامل ہیں۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

  • چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    فلوریڈا:امریکی خلائی سائنسدانوں کی چاند پرپہلے خلائی مشن بھیجنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے ، اس حوالے سے امریکی میڈیا نے خلائی ادارے ناسا کے حوالے سے کچھ معلومات دی ہیں ، جن کے مطابق ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ فنی خرابی کی وجہ سے خلائی مشن روانہ نہیں کیا جاسکا۔

    چاند پر خلائی مشن بھیجنے میں ناکامی کے حوالے سے جو تفصیلات آئی ہیں ان کے مطابق غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا ہے کہ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔

     

     

     

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

     

     

     

    اس خلائی مشن میں کسی خلا باز کو راکٹ کے ذریعے نہیں بھیجا جارہا ہے تاہم راکٹ میں کچھ ایسی سنسرز( حساس آلات ) نصب ہیں جو ریڈیشن لیول، حرارت اور دیگر تبدیلیوں کو ریکارڈ کریں گے۔

    آرٹیمز ون کے مشن منیجر مائیک سرافن نے بتایا کہ موجودہ ہفتے میں 2 ستمبر کو جمعہ کے روز خلائی مشن کو روانہ کرنے کی دوبارہ کوشش کی جائے گی۔”یہ مشن بہت سارے لوگوں کی بہت سی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہے۔ اور اب ہم آرٹیمس نسل ہیں،”

     

    آرٹیمیس 1 نامی چھ ہفتے کی آزمائشی پرواز کا مقصد ایس ایل ایس اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے جو راکٹ کے اوپر بیٹھا ہے۔ یہ کیپسول چاند کے گرد چکر لگائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ جہاز مستقبل قریب میں لوگوں کے لیے محفوظ ہے۔

     

    اگراس بار بھی کسی وجہ سے خلائی مشن کو بھیجنا ممکن نہ ہوا تو 5 ستمبر بروز پیر کو خلائی مشن کو بھیجاجائےگا۔

     

    پیرکو خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔

     

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔

  • ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن  روانہ کیلئے تیار

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :"اسپیس ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مشن کی پہلی آزامائشی پرواز 29 اگست کو لانچ ہو گی آر ٹیمس-1 چاند کی تسخیر کےاس نئے خلائی مشن کی پہلی پرواز ہو گی، ناسا چاند پر مکمل تحقیق کے بعد اس پر بسیرا کا خواہش مند ہے۔

    ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے مطابق دیوہیکل خلائی لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کے لیے ممکنہ لانچ کی تاریخوں کی پہلی ونڈو 29 اگست، 2 ستمبر اور 5 ستمبرہے۔

    آرٹیمس-1 چار سے چھے ہفتوں تک جاری رہنے والے مشن میں چاند پر سفر کرنے کوتیارہے۔ یہ خلابازوں کے لیے کسی بھی جہاز سے زیادہ طویل سفرہوگا اوربغیررکے کیا جائے گا۔یہ مشن خلا میں تجربات کے لیے کیوب سیٹس نامی متعدد چھوٹے سیارچے بھی نصب کرے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مقصد قمری خلائی صورت حال میں اورین کی حرارتی ڈھال کی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنا ہے۔

    اس مشن کا دوسرامقصد راکٹ اورعملہ کے کیپسول کی پروازکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے، آرٹیمس-2 عملہ کے ساتھ پہلا تجربہ ہوگا، یہ مشن چاند کے گرد پرواز کرے گا لیکن اس پر اترے گا نہیں جبکہ آرٹیمس-3 مشن میں پہلی خاتون اور پہلا رنگ دار شخص چاند کے جنوبی قطب کو چھوئیں گے۔

    ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری نے عبوری لانچ کی تاریخوں کے بارے میں کہا کہ "یہ ایجنسی کا عہد نہیں ہے۔” NASA لانچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مزید پختہ عزم کا اعلان کرے گا، انہوں نے کہا، جب ایجنسی آرٹیمیس 1 اسٹیک، بشمول SLS اور راکٹ کے اوپر سوار اورین کیپسول کی اپنی معیاری پرواز کی تیاری کا جائزہ مکمل کر لے گی۔

    تاہم، اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں عبوری تاریخیں وہی ہیں جو "ٹیم کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے ایک منصوبہ ہے،” فری نے مزید کہا۔ "لیکن ہمارے پاس بہت سارے کام باقی ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے، اور شاید اس سے سیکھیں گے-

  • جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    چاند پرجانے کی خواہش تو تقریبا ہرانسان میں پائی جاتی ہے۔ اسی خواہش کو دیکھتے ہوئے دنیا کے ارب پتی افراد جیف بیزوز نے بلیو اوریجن تو اور ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے ذریعے تجارتی بنیادوں پر خلائی سیاحت کے پروگرام کے فروغ پر کام کیا۔

    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان تمام ترٹیکنالوجی کے باجوود عام آدمی کوکبھی اس بات کا اہل بنا سکے گا کہ وہ کسی خلائی جہازیا راکٹ کے بغیرٹرین سے چاند تک کا سفرایسے کرسکے جیسے ایک شہرسے دوسرے شہرتک کیا جاتا ہے۔

    جاپانی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چاند سے زمین تک کے سفرکوبہ ذریعہ ٹرین ممکن بنانے کے انوکھے منصوبے پرکام کا آغازکردیا ہے۔

    کیوٹویونیورسٹی کے ریسرچرزنے ایک پریس کانفرنس میں اس مستقبل بین منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعمیراتی کمپنی کاجیما کنسٹرکشنزکے ساتھ مصنوعی خلائی رہائش گاہوں، زمین، چاند اورمریخ کوایک دوسرے سے مربوط کرنے کا حامل بین الاسیارتی ٹرین کا نظام بنا نے پرکام کررہے ہیں۔

    کیوٹویونیورسٹی کے مرکزبرائے ایس آئی سی ہیومن اسپیسولوجی کے ڈائریکٹریوسوکی یامیشیکا کا اس بابت کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ پے جس پرتاحال کوئی ملک کام نہیں کررہا۔

    ’ دی گلاس کڈ‘ کے نام سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ 2050 تک مکمل ہوگا۔ تاہم، اسے مکمل طورپرفعال پونے میں مزید 70 سال لگیں گے۔

     

     

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا یہ منصوبہ ان تمام اہم ٹیکنالوجیزکی نمائندگی کرتا ہے جومستقبل میں بنی نوع انسان کی خلا میں منتقلی کو یقینی بناتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جاپانی محققین اس کے لیے شیشے کی بنی ایسی قابل رہائش جگہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، جہاں زندگی کا اسٹرکچرزمین کی کشش ثقل، خطے اور ایٹموسفیئرکی طرح انسانی ڈھانچے کے نظام کوزیرواورکم کشش ثقل کے ماحول میں کم زور ہونے سے تحفظ فراہم کرسکے۔

    اس مقصد کے محققین سینٹری فیوجل فورس (مرکزگریزقُوت، کسی گھومنے یا چکرکھانے والے نظام میں مرکز سے دور ہٹانے والی قُوت) کو استعمال کرتے ہوئے گردشی حرکت کو ترتیب دیتے ہوئے زمین کی کشش ثقل کو دوبارہ تخلیق کریں گے۔ جوکہ چاند کی کشش ثقل سے 6 گنا زائد ہے۔

    ریسرچرزکا مقصد مصنوعی کشش ثقل کے ساتھ شیشے کا ایسا مخروطی فعال ڈھانچہ تیار کرنا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹیشن، سرسبزعلاقے اورہمارے سیارے پرموجود آبی اجسام پر مشتمل ہو۔ اوراس کا چاند پرموجود حصہ ’ لیونا گلاس‘ اورمریخ پرموجود حصہ ’ مارس گلاس‘ کہلائے گا۔

    دوسری جانب جاپان کا یہ منفرد منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھرکے بیش تر ممالک چاند پرمستقل رہائش اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کا انسانوں کو چاند کی سطح سے واپس لانا 2025 سے قبل ممکن نہیں۔ جب کہ ایسے ہی ٹائم فریم پرانٹرنیشنل لیونرریسرچ اسٹیشن بھی کام کررہا ہے جو کہ چین اورروس کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے جرمن اخبار”بلڈ: کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چین کےمون مشن کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بیجنگ چاندپرقبضہ کرکے دنیا پراپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے،

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے دلیل دی کہ چینی خلائی تحقیق ہر ایک کی فکر ہونی چاہیے کیونکہ ایک دن بیجنگ مبینہ طور پر چاند پر اترے گا اور کہے گا کہ "اب یہ ہمارا ہے اور تم دور رہو”۔

    ناسا کے سربراہ اور سابق امریکی سیاست دان نے دعویٰ کیا کہ چینی مون مشن "فوجی” ہوں گے، اور یہ کہ بیجنگ اپنے چاند کے اڈے کو دوسرے ممالک کے مصنوعی سیاروں کو مار گرانے کے لیے استعمال کرے گا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    جہاں نیلسن نے چاند پر متعدد آلات بھیجنے کے بعد خلائی تحقیق میں چین کی مجموعی پیشرفت کی تعریف کی، اس نے فوری طور پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیشرفت کو کم کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیکنالوجی بیجنگ نے مبینہ طور پر دوسرے ممالک سے "چوری” کی ہے۔

    ناسا کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ذہن میں کن ممالک کی ٹیکنالوجی چوری کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی دعوے کی پشت پناہی کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ وہ 2025 تک نہ صرف خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس سلسلے میں روس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 2035 تک وہاں قدم جمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کے بھی اسی طرح کے منصوبے ہیں، جن میں قمری اڈے اور زمین کے سیٹلائٹ کے گرد چکر لگانے والا خلائی اسٹیشن دونوں کا قیام شامل ہے۔ مؤخر الذکر کو ایندھن بھرنے اور خلائی جہاز کو مریخ کی طرف بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ناسا کے کراس ہیئرز میں ایک اور منزل ہے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ظاہری طور پر نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین نے فوجی مقاصد کے لیے قمری سٹیشن کے استعمال کی بات کی ہے، حالانکہ بعض امریکی فوجی منصوبے یہ بتاتے ہیں کہ خلا میں جنگی کوششیں بین الاقوامی معاہدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔