Baaghi TV

Tag: چاند

  • ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن  روانہ کیلئے تیار

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :"اسپیس ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مشن کی پہلی آزامائشی پرواز 29 اگست کو لانچ ہو گی آر ٹیمس-1 چاند کی تسخیر کےاس نئے خلائی مشن کی پہلی پرواز ہو گی، ناسا چاند پر مکمل تحقیق کے بعد اس پر بسیرا کا خواہش مند ہے۔

    ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے مطابق دیوہیکل خلائی لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کے لیے ممکنہ لانچ کی تاریخوں کی پہلی ونڈو 29 اگست، 2 ستمبر اور 5 ستمبرہے۔

    آرٹیمس-1 چار سے چھے ہفتوں تک جاری رہنے والے مشن میں چاند پر سفر کرنے کوتیارہے۔ یہ خلابازوں کے لیے کسی بھی جہاز سے زیادہ طویل سفرہوگا اوربغیررکے کیا جائے گا۔یہ مشن خلا میں تجربات کے لیے کیوب سیٹس نامی متعدد چھوٹے سیارچے بھی نصب کرے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مقصد قمری خلائی صورت حال میں اورین کی حرارتی ڈھال کی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنا ہے۔

    اس مشن کا دوسرامقصد راکٹ اورعملہ کے کیپسول کی پروازکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے، آرٹیمس-2 عملہ کے ساتھ پہلا تجربہ ہوگا، یہ مشن چاند کے گرد پرواز کرے گا لیکن اس پر اترے گا نہیں جبکہ آرٹیمس-3 مشن میں پہلی خاتون اور پہلا رنگ دار شخص چاند کے جنوبی قطب کو چھوئیں گے۔

    ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری نے عبوری لانچ کی تاریخوں کے بارے میں کہا کہ "یہ ایجنسی کا عہد نہیں ہے۔” NASA لانچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مزید پختہ عزم کا اعلان کرے گا، انہوں نے کہا، جب ایجنسی آرٹیمیس 1 اسٹیک، بشمول SLS اور راکٹ کے اوپر سوار اورین کیپسول کی اپنی معیاری پرواز کی تیاری کا جائزہ مکمل کر لے گی۔

    تاہم، اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں عبوری تاریخیں وہی ہیں جو "ٹیم کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے ایک منصوبہ ہے،” فری نے مزید کہا۔ "لیکن ہمارے پاس بہت سارے کام باقی ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے، اور شاید اس سے سیکھیں گے-

  • جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    چاند پرجانے کی خواہش تو تقریبا ہرانسان میں پائی جاتی ہے۔ اسی خواہش کو دیکھتے ہوئے دنیا کے ارب پتی افراد جیف بیزوز نے بلیو اوریجن تو اور ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے ذریعے تجارتی بنیادوں پر خلائی سیاحت کے پروگرام کے فروغ پر کام کیا۔

    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان تمام ترٹیکنالوجی کے باجوود عام آدمی کوکبھی اس بات کا اہل بنا سکے گا کہ وہ کسی خلائی جہازیا راکٹ کے بغیرٹرین سے چاند تک کا سفرایسے کرسکے جیسے ایک شہرسے دوسرے شہرتک کیا جاتا ہے۔

    جاپانی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چاند سے زمین تک کے سفرکوبہ ذریعہ ٹرین ممکن بنانے کے انوکھے منصوبے پرکام کا آغازکردیا ہے۔

    کیوٹویونیورسٹی کے ریسرچرزنے ایک پریس کانفرنس میں اس مستقبل بین منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعمیراتی کمپنی کاجیما کنسٹرکشنزکے ساتھ مصنوعی خلائی رہائش گاہوں، زمین، چاند اورمریخ کوایک دوسرے سے مربوط کرنے کا حامل بین الاسیارتی ٹرین کا نظام بنا نے پرکام کررہے ہیں۔

    کیوٹویونیورسٹی کے مرکزبرائے ایس آئی سی ہیومن اسپیسولوجی کے ڈائریکٹریوسوکی یامیشیکا کا اس بابت کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ پے جس پرتاحال کوئی ملک کام نہیں کررہا۔

    ’ دی گلاس کڈ‘ کے نام سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ 2050 تک مکمل ہوگا۔ تاہم، اسے مکمل طورپرفعال پونے میں مزید 70 سال لگیں گے۔

     

     

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا یہ منصوبہ ان تمام اہم ٹیکنالوجیزکی نمائندگی کرتا ہے جومستقبل میں بنی نوع انسان کی خلا میں منتقلی کو یقینی بناتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جاپانی محققین اس کے لیے شیشے کی بنی ایسی قابل رہائش جگہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، جہاں زندگی کا اسٹرکچرزمین کی کشش ثقل، خطے اور ایٹموسفیئرکی طرح انسانی ڈھانچے کے نظام کوزیرواورکم کشش ثقل کے ماحول میں کم زور ہونے سے تحفظ فراہم کرسکے۔

    اس مقصد کے محققین سینٹری فیوجل فورس (مرکزگریزقُوت، کسی گھومنے یا چکرکھانے والے نظام میں مرکز سے دور ہٹانے والی قُوت) کو استعمال کرتے ہوئے گردشی حرکت کو ترتیب دیتے ہوئے زمین کی کشش ثقل کو دوبارہ تخلیق کریں گے۔ جوکہ چاند کی کشش ثقل سے 6 گنا زائد ہے۔

    ریسرچرزکا مقصد مصنوعی کشش ثقل کے ساتھ شیشے کا ایسا مخروطی فعال ڈھانچہ تیار کرنا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹیشن، سرسبزعلاقے اورہمارے سیارے پرموجود آبی اجسام پر مشتمل ہو۔ اوراس کا چاند پرموجود حصہ ’ لیونا گلاس‘ اورمریخ پرموجود حصہ ’ مارس گلاس‘ کہلائے گا۔

    دوسری جانب جاپان کا یہ منفرد منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھرکے بیش تر ممالک چاند پرمستقل رہائش اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کا انسانوں کو چاند کی سطح سے واپس لانا 2025 سے قبل ممکن نہیں۔ جب کہ ایسے ہی ٹائم فریم پرانٹرنیشنل لیونرریسرچ اسٹیشن بھی کام کررہا ہے جو کہ چین اورروس کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے جرمن اخبار”بلڈ: کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چین کےمون مشن کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بیجنگ چاندپرقبضہ کرکے دنیا پراپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے،

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے دلیل دی کہ چینی خلائی تحقیق ہر ایک کی فکر ہونی چاہیے کیونکہ ایک دن بیجنگ مبینہ طور پر چاند پر اترے گا اور کہے گا کہ "اب یہ ہمارا ہے اور تم دور رہو”۔

    ناسا کے سربراہ اور سابق امریکی سیاست دان نے دعویٰ کیا کہ چینی مون مشن "فوجی” ہوں گے، اور یہ کہ بیجنگ اپنے چاند کے اڈے کو دوسرے ممالک کے مصنوعی سیاروں کو مار گرانے کے لیے استعمال کرے گا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    جہاں نیلسن نے چاند پر متعدد آلات بھیجنے کے بعد خلائی تحقیق میں چین کی مجموعی پیشرفت کی تعریف کی، اس نے فوری طور پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیشرفت کو کم کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیکنالوجی بیجنگ نے مبینہ طور پر دوسرے ممالک سے "چوری” کی ہے۔

    ناسا کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ذہن میں کن ممالک کی ٹیکنالوجی چوری کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی دعوے کی پشت پناہی کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ وہ 2025 تک نہ صرف خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس سلسلے میں روس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 2035 تک وہاں قدم جمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کے بھی اسی طرح کے منصوبے ہیں، جن میں قمری اڈے اور زمین کے سیٹلائٹ کے گرد چکر لگانے والا خلائی اسٹیشن دونوں کا قیام شامل ہے۔ مؤخر الذکر کو ایندھن بھرنے اور خلائی جہاز کو مریخ کی طرف بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ناسا کے کراس ہیئرز میں ایک اور منزل ہے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ظاہری طور پر نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین نے فوجی مقاصد کے لیے قمری سٹیشن کے استعمال کی بات کی ہے، حالانکہ بعض امریکی فوجی منصوبے یہ بتاتے ہیں کہ خلا میں جنگی کوششیں بین الاقوامی معاہدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

  • سعودیہ عرب میں آج عیدالاضحیٰ کا چاند دیکھا جائے گا۔

    سعودیہ عرب میں آج عیدالاضحیٰ کا چاند دیکھا جائے گا۔

    سعودیہ عرب میں آج عیدالاضحیٰ کا چاند آج دیکھا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: ذوالحج کا چاند سعودی عرب میں آج دیکھا جائے گا۔

    تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ذوالحج کا چاند سعودی عرب میں آج دیکھا جائے گا۔جیسے ہی چاند کو دیکھ لیا جائے گا۔ تو اس کے بعد فوری طور پر سعودی عرب میں عیدالاضحیٰ کی تاریخ کا اعلان باقاعدہ طور پر کیا جائے گا۔اس حوالے سے سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے اپنے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ آج اپنی چھتوں پر چڑھ کر ذوالحج کا چاند دیکھیں۔ اور جس کو بھی چاند پہلے نظر آ جائے وہ چاند دیکھنے کے بعد فوری طور پر اپنے قریبی کورٹ میں جاکر گواہی ریکارڈ کروا دے۔

    مزید برآں یہ کہ جیسے ہی چاند نظر آ جائے تو اس کے بعد فوری طور پر ملک بھر میں عیدالاضحیٰ کی تاریخوں کا باقاعدہ طور پر اعلان کر دیا جاتا ہے۔
    عیدالاضحیٰ 10 ذلحج کو منائی جاتی ہے۔ اس خاص دن مسلمان حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی سنت کو پورا کرتے ہیں۔ ان کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مسلمان اللّه پاک کی راہ میں قربانی کرتے ہیں۔

  • ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا-

    باغی ٹی وی : اجلاس چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی سربراہی میں کراچی میں ہوگا،اجلاس میں وزارت مذہبی امور اورا سپارکو حکام شر کت کریں گے-

    علاوہ ازیں محکمہ موسمیات اوروزارت سائنس وٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے نمائندگان بھی شریک ہوں گے، پورے ملک میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس ان کے متعلقہ ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد،لاہور،کوئٹہ،پشاور میں منعقد کئے جائیں گے۔

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی شوال کا شاند دیکھنے کیلئے شہادتیں موصول کرے گی ملک بھر سے موصول شہادتوں پر چاند سے متعلق اعلان کیا جائے گا-

  • پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

    پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

      پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

      باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذوالحج کے چاند کے حوالے سے رویت ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس کل بدھ کے روز 29 جون کو کراچی میں مولانا سید محمد عبدالخبیر کی زیر صدارت ہو گا۔

      مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں بہت سے نمائندگان شرکت کریں گے۔
      دراصل اس اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان اور زونل رویت ہلال کمیٹی کراچی کے ممبران، وزارت مذہبی امور، محکمہ موسمیات ،محکمہ سپارکو اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے نمائندگان شرکت کریں گے۔
      اس حوالے سے ملک بھر میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس ان کے متعلقہ ہیڈ کوارٹرز میں کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور یہ ہیڈ کوارٹرز لاہور،اسلام آباد،پشاور ،اور کوئٹہ میں منعقد کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • پاکستان میں ذی القعدہ کا چاند نظر آ گیا

    پاکستان میں ذی القعدہ کا چاند نظر آ گیا

    پاکستان میں ذی القعدہ کا چاند نظر آ گیا۔

    باغی ٹی وی : وزارت مذہبی امورکے مطابق اسلام آباد میں چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ذی القعدہ کا چاند نظر آنےکا اعلان کیا گیا۔


    وزارت مذہبی امور نے ذی القعدہ کا چاند نظر آنےکا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق یکم ذی القعدہ 1443ہجری بدھ یکم جون کو ہوگی۔

  • چاند کی مٹی ایندھن اور آکسیجن پیدا کر سکتی ہے’:سائنسدانوں کا دعویٰ

    چاند کی مٹی ایندھن اور آکسیجن پیدا کر سکتی ہے’:سائنسدانوں کا دعویٰ

    بیجنگ : چاند کی مٹی ایندھن اور آکسیجن پیدا کر سکتی ہے’:سائنسدانوں کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چاند کی مٹی کو آکسیجن اور ایندھن میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔مطالعاتی جرنل ‘جول’ میں شائع تحقیق کے مطابق چاند کی مٹی میں فعال مرکبات ہوتے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن اور ایندھن میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

    نانجنگ یونیورسٹی کے مادی سائنس دان ینگ فانگ یاؤ اور زیگینگ زو ایک ایسا نظام وضع کرنے کی امید رکھتے ہیں جو چاند پر موجود دو سب سے زیادہ وسائل چاند کی مٹی اور شمسی تابکاری سے فائدہ اٹھائے۔

    چین کے Chang’e 5 خلائی جہاز کے ذریعے واپس لائی گئی چاند کی مٹی کا تجزیہ کرنے کے بعد ان کی ٹیم نے پایا کہ نمونے میں خاص مرکبات بشمول آئرن اور ٹائٹینیم سے بھرپور مادے موجود ہیں، جو سورج کی روشنی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کرتے ہوئے آکسیجن جیسی مطلوبہ مصنوعات بنانے کے لیے ایک عمل انگیز کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔مشاہدے کی بنیاد پر ٹیم نے “ایکسٹراٹریسٹریل فوٹو سنتھیسس” کی حکمت عملی تجویز کی۔

    چاند پر موجود خلا نوردوں کی طرف سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی چاند کی مٹی کے ذریعے عمل انگیز ہائیڈروجنیشن کے عمل کے دوران پانی کے الیکٹرولیسس سے جمع کیا جاتا ہے اور ہائیڈروجن کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔اس عمل سے میتھین جیسے ہائیڈرو کاربن حاصل ہوتے ہیں، جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ یہ حکمت عملی بیرونی توانائی نہیں بلکہ سورج کی روشنی کا استعمال کرتی ہے تاکہ مختلف قسم کی مطلوبہ مصنوعات جیسے پانی، آکسیجن اور ایندھن تیار کیا جا سکے جو چاند کی بنیاد پر زندگی کو سہارا دے سکتے ہیں۔ٹیم ممکنہ طور پر چین کے مستقبل کے قمری مشن کے ساتھ خلا میں نظام کی جانچ کرنے کا موقع تلاش کر رہی ہے۔

    یاؤ کا کہنا ہے کہ “ہم راکٹ کے پے لوڈ کو کم کرنے کے لیے ماحول کے اندر موجود وسائل کا استعمال کرتے ہیں، اور ہماری حکمت عملی ایک پائیدار اور قابل استطاعت ماورائے ارضی زندگی کے ماحول کا منظرنامہ فراہم کرتی ہے۔”

    اگرچہ چاند کی مٹی کی عمل انگیز کارکردگی زمین پر دستیاب عمل انگیز اشیا سے کم ہے، لیکن یاؤ کا کہنا ہے کہ ٹیم ڈیزائن کو بہتر بنانے کے لیے مختلف طریقوں کی جانچ کر رہی ہے، جیسے کہ قمری مٹی کو نانو ساختہ ہائی اینٹروپی مواد میں پگھلانا، جو ایک بہتر عمل انگیز ہے۔

    اس سے قبل، سائنس دانوں نے ماورائے زمین کی بقا کے لیے بہت سی حکمت عملیاں تجویز کی ہیں۔ لیکن زیادہ تر ڈیزائنوں کے لیے زمین سے توانائی کے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے۔

    مثال کے طور پر، ناسا کا پریزروینس مارس روور کے لیے ایک ایسا آلہ تیار کیا گیا جو کرہ ارض کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، لیکن یہ جہاز پر جوہری بیٹری سے چلتا ہے۔

    یاؤ کا مزید کہنا تھا کہ “مستقبل قریب میں، ہم خلائی پرواز کی صنعت کو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ جیسے 1600 کی دہائی میں ‘Age of Sail’ کی طرح جب سینکڑوں بحری جہازوں نے سمندر کا رخ کیا، اسی طرح ہم ‘Age of Space ‘ میں داخل ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ہم ماورائے ارضی دنیا کی بڑے پیمانے پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں پے لوڈ کو کم کرنے کے طریقے سوچنے کی ضرورت ہوگی، یعنی زمین سے ممکنہ حد تک کم سپلائی پر انحصار کرنا اور اس کے بجائے ماورائے زمین وسائل کا استعمال کرنا۔”

  • سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    فلوریڈا:سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے،اطلاعات کے مطابق سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔

    چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے جہاں ناسا کی جانب سے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی بار ایک خاتون اور ایک سیاہ فام مرد کو رواں دہائی کے آخر تک بھیجنے پر غور کیا جارہا ہے۔

    مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    تحقیق میں شامل روب فیرل کا کہنا تھا کہ مستقبل میں طویل خلائی مشنز میں ہم ممکنہ طور پر چاند کو ایک ہب یا لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کریں گے، تو تصور کریں کہ اگر ہم چاند کی مٹی میں پودے اگاتے ہیں جو پودوں کے ارتقائی تجربے سے بالکل مختلف ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟

    اس تحقیق کے لیے سائنسدان کئی برسوں سے کام کررہے ہیں، 15 سال قبل انہوں نے چاند کے نمونے فراہم کرنے کی درخواست کی تھی اور اس کی منظوری 18 ماہ قبل دی گئی۔

    ناسا کے اپولو 17 مشن میں جمع کی گئی چاند کی 4 گرام مٹی سب سے پہلے محققین کو دی گئی ، بعد ازاں مختلف اپولو مشنز کے نمونوں سے بھی مٹی فراہم کی گئی، جس کی مجموعی مقدار 12 گرام تھی۔

    سائنسدانوں نے انگوٹھے کے حجم کی ایسی پلاسٹک ٹرے کو گملے کے طور پر استعمال کیا گیا جن کو عموماً خلیات کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بعد ہر گملے کو چاند کی ایک گرام مٹی سے بھرا گیا ، پھر مختلف اجزا اور پانی کا اضافہ کرکے ان میں میتھی کے بیج بوئے ۔

    ان بیجوں کوآتش فشاں کی راکھ اور دیگر شدید ماحول کے نمونوں میں بھی کاشت کیا گیا اور محققین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے چاند کی مٹی میں بوئے گئے لگ بھگ تمام بیج اگنے لگے۔

    مگر اس مٹی میں پودوں کو نشوونما کے لیے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے پتے بڑھنے میں عام معمول سے کافی زیادہ وقت لگا جبکہ ان کی رنگت میں سرخی مائل سیاہ ہوگئی۔اس تحقیق کے نتائج جرنل کمیونیکشنز بائیولوجی میں شائع ہوئے۔