Baaghi TV

Tag: چاند

  • چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    فلوریڈا: امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’فرنٹیئرز اِن میرین سائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ماہرین نے لکھا کہ چڑھتی تاریخوں میں جب آسمان پر چاند زیادہ روشن اور بڑا ہوتا ہے، دنیا بھر میں شارک کے حملے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بارے میں وہ بھی اب تک کچھ نہیں جان سکے ہیں۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    لیوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مشترکہ تحقیق کےلیے ’انٹرنیشنل شارک اٹیک فائلز‘ (ISAF) نامی عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار استعمال کیے جو 1958 سے باقاعدہ طور پر مرتب کیے جارہے ہیں ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 1958 سے 2016 کے دوران شارک مچھلیوں نے دنیا بھر میں 2,785 مرتبہ بغیر کسی وجہ کے انسانوں پر حملے کیے ہیں۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    ماہرین نے ان حملوں کے مقامات، مقامی وقت اور آسمان میں چاند کی کیفیت جیسی تفصیلات جمع کرنے کے بعد ان کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے ’بے وجہ‘ حملے واضح طور پر زیادہ تھے اس کے برعکس گھٹتے چاند کی تاریخوں میں ان حملوں کی تعداد بہت دیکھی گئی یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شارک مچھلیاں رات کے وقت چاند کی روشنی سے متاثر ہو کر لوگوں پر بلا وجہ حملے کرتی ہیں۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    البتہ جس بات نے سائنسدانوں کو چکرا دیا، وہ یہ تھی کہ چاند کی بڑھتی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے زیادہ حملے دن کی روشنی میں ہوئے تھے کہ جب آسمان پر چاند ضرور موجود تھا لیکن سورج کے مقابلے میں اس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

    کیا شارک مچھلیوں پر چاند کی کششِ ثقل اثر انداز ہوتی ہے جو انہیں لوگوں پر حملے کرنے کےلیے مجبور کرتی ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق، اس بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا فی الحال ان کے پاس اتنے زیادہ اعداد و شمار نہیں کہ وہ شارک کے زیادہ حملوں کو چڑھتے چاند کا نتیجہ قرار دے سکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

  • چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    بیجنگ: گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    غالباً بہت زیادہ فاصلے اور کیمرے میں دھندلاہٹ کی وجہ سے ابتدائی تصویروں میں یہ پتھر ایک جھونپڑی جیسا دکھائی دے رہا تھا حالانکہ حقیقت اس سے بالکل ہی مختلف ہےغرض چاند پر چرخہ کاتنے والی بڑھیا کی طرح ’پراسرار جھونپڑی‘ کا معاملہ بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

  • پاکستان میں جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا

    پاکستان میں جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا

    پاکستان میں جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا لہذا یکم جمادی الثانی 1443 ہجری 5 جنوری بروز بدھ کو ہو گی.

    باغی ٹی وی : مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سمیت زونل کمیٹی اسلام آباد کے ارکان نے شرکت کی –

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

    اس موقع پر مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان بھر میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس انکے ہیڈ کوارٹرز پرمنعقد ہوئے۔

    مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان بھر میں مطلع ابر آ لود رہا اور کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی،لہذا کمیٹی ارکان نے متفقہ اعلان کیا کہ آج چاند نظر نہیں آیا، یکم جمادی الثانی 1443 ہجری 5 جنوری بروز بدھ کو ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ شہریوں سے اپیل ہے وہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔

    سندھ ہائیکورٹ میں بلدیاتی ایکٹ کیخلاف درخواست دائر

    جمادی الثانی اسلامی تقویم کا چھٹا مہینہ ہے اس مہینے کی 21 تاریخ کو 13 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق نے وفات پائی ابو بکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ تیمی قریشی رضی اللہ عنہ ٕ پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، پیغمبر اسلام کے وزیر، صحابی و خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے ان کی کنیت "ابو بکر” کے ساتھ صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب لگایا جاتا جسے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام نے دیا تھا۔

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عام الفیل کے دو برس اور چھ ماہ بعد سنہ 573ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ دور جاہلیت میں ان کا شمار قریش کے متمول افراد میں ہوتا تھا۔ جب پیغمبر اسلام ﷺنے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے اسلام قبول کر لیا اور یوں وہ آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے۔ قبول اسلام کے بعد تیرہ برس مکہ میں گزارے جو سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کا دور تھا۔

    پی ایس ایل میرے لیے ایک امید ہے،سرفراز احمد

    بعد ازاں پیغمبر اسلام ﷺ کی رفاقت میں مکہ سے یثرب ہجرت کی، نیز غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں پیغمبر اسلام ﷺکے ہم رکاب رہےمنصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی قلمرو میں والیوں، عاملوں اور قاضیوں کو مقرر کیا، جا بجا لشکر روانہ کیے، اسلام اور اس کے بعض فرائض سے انکار کرنے والے عرب قبائل سے جنگ کی یہاں تک کہ تمام جزیرہ عرب اسلامی حکومت کا مطیع ہو گیا۔

    ان کے عہد خلافت میں عراق کا بیشتر حصہ اور شام کا بڑا علاقہ فتح ہو چکا تھا پیر 22 جمادی الاخری سنہ 13ھ کو تریسٹھ برس کی عمر میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے جانشین ہوئے۔

    ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت اس کیس کو آگے بڑھائے…

  • ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر ناسا کی جانب سے بھیجے جانےبوالے جونو خلائی جہازنے مشتری اور نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند جینی میڈ کی آواز ریکارڈ کی ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق جو نو کی جانب سے بھیجی جانے والی یہ آوازیں عجیب و غریب ہیں مشتری ہویا اس کے عجیب و غریب چاند ہوں، انہیں ہمارے نظامِ شمسی کے حیرت انگیز اجسام میں شمار کیا جاتا ہےیہی وجہ ہے کہ ناسا نے 5 اگست 2011 کو جونو خلائی مشین زمین سے روانہ کیا اور وہ مشتری کی قطبی مدار میں جولائی 2016 تک پہنچ گیا تھا۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اگرچہ اسے بطورِ خاص مشتری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اس سال 7 جون کو یہ جینی میڈ کے بہت قریب پہنچا اور چاند کی مقناطیسی، برقی اور فضائی (میگنیٹواسفیئر) خصوصیات نوٹ کیں تاہم ایک مقام پر اس کا حساس مائیک کھولا گیا اور اس نے جینی میڈ کی بہت عجیب و غریب آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 7 جون کو 50 سیکنڈ پر مشتمل پراسرار صوتی ڈیٹا اس وقت ملا کہ جب خلائی جہاز(جونو) سیارہ ‘مشتری’ کے سب سے بڑے چاند(گانیمید) کے قریب پرواز کررہا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خلائی جہاز مشتری کی کھوج کے لیے ناسا کی جانب سے بھیجا گیا 34 واں مشن ہے جس نے گانیمید کی سطح سے 645 میل (1038 کلومیٹر ) دوری پر 41 ہزار 600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے پراسرار آوازیں ریکارڈ کی ہیں یہ پُر اسرار آواز ‘بیپس’ گاڑی کے ہارن جیسی آواز لگیں۔

    اسی طرح ‘بلوپس’ آواز کسی برقی آلے سے خارج ہونے والی لو پچ ساؤنڈ کی طرح تھی یہ تمام آوازیں مختلف فریکوئنسی پر مشتمل ہیں۔ گانیمید ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا اور واحد چاند ہے جس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    خلائی جہاز جونو کے پرنسپل انویسٹیگیٹر اسکاٹ بولٹن کا کہنا ہے کہ اگر اس آواز کو دھیان سے سنا جائے تو ریکارڈنگ کے وسط میں آپ کو اچانک بلند فریکوئنسی سنائی دے گی جو کہ گانیمید کے مقناطیسی کرہ میں کسی مختلف ریجن کے داخل ہونے کو ظاہر کرتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ ریکارڈنگ سن کر آپ خود کو جونو کے ساتھ سفر کرتا محسوس کریں گے آواز میں اچانک بلند اور کم فریکوئنسی کی آوازیں خارج ہوتی ہے یہ تبدیلی مقناطیسی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہی ہے جو صاف سنی جاسکتی ہے-

    تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے ہم نے یہ ڈیٹا محض تفریح کے لیے جاری کیا ہے کیونکہ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ دیگر سیاروں کے چاند اور خود نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند کی اندرونی آواز کیسی سنائی دیتی ہیں۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت