Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان بینچ کا حصہ ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ، یوٹیوب پر براہ راست نشر کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا،سوچ کر جواب دیں کہ کیا آپ کے الزمات درست ہیں، کیا وہ جنرل جن کو آپ فریق بنانا چاہتے ہیں وہ خود 2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آنا چاہتے تھے؟اگر شوکت عزیز صدیقی کے الزامات درست ہیں تو وہ جنرلز کسی کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے،جس کی یہ جنرل سہولت کاری کر رہے تھے وہ کون تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے لگائے گئے الزامات درست ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں،یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے،

    شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کون تھا؟ جس کیلئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے سہولت کاری کی،آپ سہولت کاروں کو فریق بنا رہے ہیں، اصل بنیفشری تو کوئی اور ہے،آپ نے درخواست میں اصل بنیفشری کا ذکر ہی نہیں کیا، آپ نے لوگوں کی پیٹھ پیچھےالزامات لگائے،جن پر الزامات لگائے گٸے وہ کسی اور کیلئے سہولت کاری کر رہے تھے، سہولت کاری کرکے کسی کو تو فائدہ پہنچایا گیا،آئین پاکستان کی پاسداری نہ کرکے وہ اس جال میں خود پھنس رہے ہیں،سہولت کاروں کو فریق بنا لیا ہے تو فائدہ اٹھانے والے کو کیوں نہیں بنایا؟ وکیل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فائدہ کس نے لیا ایسی کوئی بات تقریر میں نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کی درخواست میں عدالت کا اختیار شروع ہوچکا ہے،فوجی افسر کسی کو فائدہ دے رہے تو وہ بھی اس جال میں پھنسے گا، وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج شاید مرضی کے نتائج لینا چاہتی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک امیدوار کو سائیڈ پر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ من پسند امیدوار جیتے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج نے اپنے امیداواروں کو جیپ کا نشان دلوایا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کبھی تو ملک میں سچ کی جان جانا ہی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ستر سال سے ملک میں یہی ہو رہا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ستر سال سے جو ہورہا ہے اس کا ازالہ نہ کریں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فوج ایک آزاد ادارہ ہے یا کسی کے ماتحت ہے؟ فوج کو چلاتا کون ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج حکومت کے ماتحت ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت فرد نہیں ہے، جو شخص فوج کو چلاتا ہے اس کا بتائیں،جب آپ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم آئین کے مطابق چلیں گے، یہ آسان راستہ نہیں ہے،شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،سپریم کورٹ کو کسی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے کندھے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی ایک سائیڈ کی طرف داری نہیں کریں گے،وکیل بار کونسل صلاح الدین نے کہا کہ سابق جج نے اپنے تحریری جواب میں جن لوگوں کا نام لیا ہم انکو فریق بنا رہے،شوکت عزیز صدیقی نے بانی پی ٹی آئی سمیت کسی اور کو فائدہ دینے کی بات نہیں کی،مفروضے پر ہم کسی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی کا نام نہیں لے سکتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بھی مفروضے ہیں،

    نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بار ایسوسی ایشن کے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کا بھی نام لکھ دیں تو اسے نوٹس کر دیں،کیا شوکت صدیقی بیرسٹر صلاح الدین کا نام لکھ دیں تو آپ کو بھی نوٹس کر دیں؟ کیا ہمارے کندھے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟ وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ جوڈیشل سسٹم پر دباو ڈال کر نواز شریف کو نکالا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس سے فائدہ کس کا ہوا؟ کیا سندھ بار یا اسلام آباد بار کو فائدہ دینے کے لیے یہ ہوا؟ بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ ہم نے انکوائری کی درخواست کی تا کہ حقائق سامنے آئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ اگر سندھ بار شوکت صدیقی کی ہمدردی میں آئی کہ ان کو پنشن مل سکے تو یہ 184 تھری کا دائرہ کار نہیں بنتا، ہمیں نا بتائیں کہ انکوائری کریں یا یہ کریں، آپ معاونت کریں جو کرنا ہے ہم کریں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ مسئلہ یہ کہ عدالتی نظام کو استعمال کرنے کا الزام ہے، ہمارے بندے کو استعمال کر کے کیوں کہا گیا کہ نواز شریف انتخابات سے پہلے باہر نا آئے؟ وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ یہ الزام فیض حمید پر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بار کونسلز کیوں اس کیس میں آئیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم تحقیق چاہتے ہیں کہ کیا واقعی شوکت صدیقی کی برطرفی عمران خان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم طریقے سے چلیں گے، شوکت صدیقی کو پنشن تو سرکار ویسے بھی دے دے گی، شوکت صدیقی 62 سال سے اوپر ہو چکے واپس بحال تو نہیں ہو سکتے،سسٹم میں شفافیت لا رہے ہیں 10 سال پرانے کیسز مقرر کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر مسئلہ صرف پنشن کا ہے تو سرکار سے پوچھ لیتے ہیں آپ کو دے دیں گے، اگر پاکستان کی تاریخ درست کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں ہم آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہاں لوگ آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، آلے کے طور پر استعمال کون کرتا ہے؟ ماضی میں جو ہوتا رہا وہ سب ٹھیک کرنا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لینے سے روکا جب کہ اس ملک کی حقیقت یہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہمارے منہ میں الفاظ نا ڈالیں، یہ آئینی عدالت ہے یہاں آئینی زبان استعمال کریں،ہمارا موقف واضح ہے کہ کہاں سیاسی دائرہ اختیار ختم اور عدالتی دائرہ شروع ہوتا ہے،آپ کا کیس کب سے مقرر نہیں ہوا یہ الزام ہمارے سامنے کھڑے ہو کر لگائیں ہم معذرت کریں گے، الیکشن کی تاریخ سے متعلق سیاسی جماعت آئی تو 12 روز میں ہم نے فیصلہ کیا،ملک میں کب اتنی جلدی کیس کا فیصلہ ہوا ہے؟ ہم نے آئینی اداروں کو حکم دیا کہ انتخابات کرانے کی زمہ داری پوری کریں، مسئلہ یہ ہے کوئی ادارہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر میں فیض آباد دھرنے کو سپانسرڈ قرار دیا گیا ہے،فیض آباد دھرنا سپانسر کس نے کیا تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے خود دھرنا کیس کا فیصلہ دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو چھوڑیں جو شوکت صدیقی نے لکھا وہ بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی سے کس قسم کا حکم چاہتے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ بریگیڈیئر فیصل مروت نے بول ٹی وی کو آئی ایس آئی پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے شعیب شیخ کی بریت کا کہا، بریگیڈئیر عرفان رامے نے بھی بول کے حوالے سے بات کی تھی، ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن کو پچاس لاکھ رشوت دیکر شعیب شیخ کو بری کروایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ وہ ناراض ہیں، اس سنی سنائی بات پر قمر جاوید باجوہ کو کیوں نوٹس کر دیں ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے زیادہ نام فیض حمید کا لیا ہے،قمر باجوہ سے متعلق گفتگو تو سنی سنائی ہے، قمر باجوہ نے شوکت عزیز صدیقی سے براہ راست کوئی بات نہیں کی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا چیف جسٹس ہائی کورٹ نے وہ بنچ بنایا تھا جو فیض حمید چاہتے تھے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جو فیض حمید چاہتے تھے وہ ہوا، فیض حمید چاہتے تھے الیکشن 2018 سے پہلے نوازشریف کی ضمانت نہ ہو، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ خود معاملہ الیکشن 2018 تک لے آئے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نوازشریف کی اپیل پر کیا فیصلہ ہوا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہوا اور نوازشریف بری ہوگئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنرل باجوہ سے تو کڑی نہیں جڑ رہی،آپ کہتے ہیں کہ فیض حمید جنرل باجوہ کے کہنے پر آئے، جنرل قمر جاوید باجوہ پر تو براہ راست الزام ہی نہیں،آج کل تو لوگ کسی کا نام استعمال کر لیتے ہیں،رامے بھی اس کیس سے غیر متعلقہ ہیں،زیادہ تر فیض باجوہ کی بات کی ہے آپ نے۔ آپ نے جن کے نام دئیے ہیں ان کا کیا کردار تھا یہ ثبوت کے ساتھ دیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں،شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جتنے جذبات تھے پانچ سال میں ٹھنڈے ہوگئے،

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری کر دیا، بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب عارف کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،تین افراد جنہیں شوکت عزیز صدیقی نے فریقین بنایا تھا ان کا براہ راست تعلق نہیں، جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، طاہر وفائی، بریگئیڈیئر فیصل مروت کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا،کیس کی سماعت چھٹیوں کی تعطیلات کے بعد ہوگی،در خواست گزاروں کی ایڈریسز کے ترمیمی درخواستیں ایک ہفتے میں دائر کی جائیں، ترمیمی درخواستیں آنے کے بعد سپریم کورٹ آفس نوٹس جاری کرے گا، کیس کی آئندہ حتمی تاریخ ججز کی دستیابی کے بعد طے کریں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی،درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    عدالتی معاونین کی تقرری کیلئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی درخواست منظورکر لی گئی، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس میں خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد اور زاہد ابراہیم بطور عدالتی معاون مقررکئے گئے ہیں،یاسر قریشی اور ریما عمر کوبھی عدالتی معاون کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاونین کا تقرر آئینی اور قانونی امور میں شرکت کے لیے کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اسد اللہ خان چمکنی کو عدالتی معاون مقررکیا جاتا ہے،دونوں معزز سابق جج صاحبان آئینی و قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں،عدالت دونوں سابق جج صاحبان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے، دونوں سابق جج صاحبان زبانی یا تحریری طور پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک کی مہلت

    جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک کی مہلت

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کی استدعا منظور کرلی

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کمرہ عدالت پہنچ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی زیر صدارت اجلاس کمرہ عدالت نمبر 1 میں ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم دیکھ لیتے کوئی شکایات میں وزن ہے یا نہیں،ہوسکتا ہے ساری شکایات بے بنیاد ہوں مگر آپ جواب دیں گے تو پتا چلے گا،آپ شوکاز کا جواب نہیں دینا چاہتے کہہ دیں نہیں دینا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ صرف بتانا چاہتا ہوں کہ ابھی تک جواب کیوں نہیں دیا،میں نے آپ کو دو خطوط لکھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کو خط آپ کو خط لگا رکھی ہے؟کیا ہر ایک خط پر ایک چیف جسٹس لاہور ایک کوئٹہ سے آئے؟لاہور اور کوئٹہ سے سفر کر کے آنے کا ٹیکس عوام دے رہی ہے،جو درخواست کرنی ہے سپریم جوڈیشل کونسل سے کریں مجھ سے نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں اگر یہ تاثر گیا کہ میں آپ کو انفرادی طور پر کہہ رہا ہوں،

    سپریم جوڈیشل کونسل نےا جسٹس مظاہر نقوی کو جواب دینے کیلئے وقت دینے کا فیصلہ کر لیا،چیئرمین جوڈیشل کونسل نے کہا کہ تفصیلی جواب دینے کیلئے وقت دے دیتے ہیں،اپنے ساتھی جج کیخلاف کاروائی کرنا بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ ساتھی جج کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال و جواب کریں،اپنے ساتھی ممبران سے مشاورت کے بعد واپس آتے ہیں،پاکستان بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مزید وقت دینے کی مخالفت کر دی، کونسل نے حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ مزید وقت دینے سے آپ کی کیا حق تلفی ہوگی؟آپ کے گواہان کون ہیں؟حسن رضا پاشا نے کہا کہ گواہان میں آڈیو لیکس والے افراد ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آڈیو لیکس میں دیکھنا ہوگا کہ آڈیوز درست ہیں یا نہیں،آج کل تو کوئی بھی آڈیوز توڑ مروڑ کر بنا دیتا ہے،

    جسٹس مظاہر علی نقوی کیخلاف ریفرنس،سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی 11 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک مہلت دے دی اور کہا کہ یکم جنوری 2024 کے بعد کوئی مہلت نہیں دی جائے گی،اٹارنی جنرل سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کنڈکٹ کرنے کیلئے پراسیکیوٹر مقرر کر دیئے گئے ،خواجہ حارث نے اٹارنی جنرل پر اعتراض کیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل پاکستان بار کے چیئرمین ہیں جو ہمارے خلاف شکایت گزار ہے، سپریم جوڈیشل کونسل نے خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کردیا

    قبل ازیں جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کرنے کا مطالبہ کر دیا،جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف کارروائی کے حوالہ سے جوڈیشل کونسل کو خط لکھا ہے، جس میں کہا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کھلی سماعت کا حق تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ میری درخواست ہے کہ میرے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی کھلی سماعت کی جائے، پاکستان کا آئین مجھے کھلی سماعت کا حق دیتا ہے، میں نے جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے ہیں، کونسل کے ان کیمرا اجلاس کی وجہ سے میرا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، کونسل کارروائی کی وجہ سے مجھے تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، شفاف ٹرائل کا تقاضہ ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے،

    خط میں استدعا کی گئی ہے کہ جب تک میری درخواستوں پر فیصلہ نہیں آتا تب تک جوڈیشل کونسل کی کارروائی روک دی جائے، میری جوڈیشل کونسل کے سامنے متعدد درخواستیں زیرِ التواء ہیں، 13 نومبر کو میں نے نوٹس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، میری دونوں درخواستیں 15 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں.

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 14 دسمبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا ہے اجلاس جمعرات کو ججز بلاک کانفرنس روم میں ڈھائی بجے ہوگا، سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے پانچوں ممبران کو نوٹس بھیج دیا ہے۔

  • جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست دائر کر دی گئی
    درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،
    سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    قبل ازیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ سے برطرفی کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تبدیلی پر وضاحت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست پر گزشتہ سماعت کب ہوئی تھی؟ حامد خان نے کہا کہ آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج کل ہر کوئی فون اٹھا کر صحافی بنا ہوا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا،پہلے اس بینچ میں کون کون سے ججز تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس سنا،بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس مظہر عالم میاں ، اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہم اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہتے،باقی ججز ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ،میں نے بنچ سے کسی کو نہیں ہٹایا، بینچوں کی تشکیل اتفاق رائے یا جمہوری انداز میں ہو رہی ہے، موبائل ہاتھ میں اٹھا کر ہر کوئی صحافی نہیں بن جاتا،صحافی کا بڑا رتبہ ہے،حامد خان نے کہا کہ آج کل جمہوریت کا زمانہ ہے، اس وقت جمہوریت مشکل حالات میں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکی معاونت درکار رہے گی، جمہوریت چلتی رہے گی, آپ نے اسے آگے لے کر چلنا ہے، آج کل فون پکڑ کر صحافی بن جاتے ہیں اور یوٹیوب چینل جاتا ہے، جبکہ صحافی کا رتبہ بہت اونچا ہوتا ہے،اِس کیس کو نئے سرے سے سننا ہو گا،

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس میں بنچ تبدیل ہو گیا ہے، اس سے پہلے جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجازالاحسن بنچ میں تھے،جسٹس مظہر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی بنچ میں شامل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں بنچ بدل چکا ہے اور اب نئے سرے سے دلائل شروع کرنا ہوں گے،آج کل ہر کوئی موبائل پکڑ کر یوٹیوب پر ویڈیو بنا کر سمجھتا ہے کہ وہ صحافی ہے،اس بنچ کو بنانے کا فیصلہ ججز کمیٹی نے کیا،کوشش یہی ہوتی ہے کہ ججز کمیٹی اتفاق رائے سے فیصلے کرے لیکن فطری طور پر یہ ممکن نہیں،شوکت صدیقی کیس میں نیا بنچ بنانا کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ کو اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض تو نہیں ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آج کل ویسے بھی اعتراض کا زمانہ ہے،

    دوران سماعت ایڈووکیٹ حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کی راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر کا متن پڑھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسوقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کون تھے،حامد خان نے کہا کہ اس وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی تھے، شوکت عزیز صدیقی پر 4 ریفرنسز بنائے گئے، ایک ریفرنس یہ بنایا کہ سرکاری رہائش گاہ پر شوکت عزیز صدیقی نے زائد اخراجات کیے،ہم نے کونسل میں درخواست دی کہ ججز کی سرکاری رہائش گاہوں پر ہونے ولے اخراجات کی مکمل تفصیل دیں، کونسل نے جواب دیا جو مانگ رہے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے، ایک ریفرنس 2017 کے دھرنے کی بنیاد پر بنایا گیا، جس میں شوکت عزیز صدیقی نے بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ ریمارکس دئیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں عدالتی ریمارکس پر ریفرنس بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت صدیقی کے خلاف شکایات کنندگان کون تھے، حامد خان نے کہا کہ رہائش گاہ پر زائد اخراجات کے شکایت کنندہ سی ڈی اے ملازم انور گوپانگ تھے،ایک ریفرنس ایڈووکیٹ کلثوم اور ایک سابق ایم این اے جمشید دستی نے بھیجا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ جمشید دستی کس سیاسی جماعت کا حصہ تھے؟ حامد خان نے کہا کہ مجھے کنفرم نہیں لیکن شاید آزاد حیثیت میں ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کہ رہے ہیں جمشید دستی مکمل آزاد نہیں تھے، حامد خان نے کہا کہ راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر پر جوڈیشیل کونسل نے خود نوٹس لیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جوڈیشیل کونسل کو کیسے ہتا چلا کہ کسی جج نے تقریر کی ہے؟حامد خان نے کہا کہ ایجینسیوں نے شکایت کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر بتائیں وہاں کیا لکھا ہوا ہے،حامد خان نے کہا کہ ریکارڈ میں 22 جولائی 2018 کا رجسٹرار کا ایک نوٹ موجود ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن دو شخصیات پر الزام لگا رہے ہیں ان کو فریق تو بنائیں، ہم مفروضوں پر کیس نہیں سنیں گے، یہاں صحافی بھی بیٹھے ہیں آپ جو بات یہاں کر رہے ہیں اخباروں کی زینت بنے گی، موبائل اٹھا کر صحافی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا فیصلہ آچکا ہے،
    سپریم کورٹ میں اب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت بنچز تشکیل دیئے جاتے ہیں،ادارے نہیں بولتے ادارے میں بیٹھی شخصیات ہی بولتی ہیں، میرا ایک اصول ہے کہ جس پر الزام لگاو اس کو بھی سنو ممکن ہے وہ الزامات تسلیم کر لے،کورٹ میں صحافی بیٹھے ہیں اور کل اس شخص کا نام اخبارات کی زینت بن جائے گا، ہم کسی کو کچھ لکھنے سے تو نہیں روک سکتے، آپ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں اسے فریق بنانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے فریق بنانے پر کوئی اعتراض نہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں کیا اس نے کسی فورم پر آپ کو جواب دیا؟کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شخص کو نوٹس کیا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ شاید میں غلط ہوں لیکن ادارے برے نہیں ہوتے لوگ برے ہوتے ہیں،ہم شخصیات کو برا نہیں کہتے، اداروں کو برا بھلا بولتے ہیں، اداروں کو لوگ چلاتے ہیں،ملک میں تباہی کی وجہ لوگ شخصیات کی بجائے اداروں کوبدنام کرتے ہیں، ملک کی تباہی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں،حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے کا جوڈیشل کونسل نے موقع نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو آپ کے پاس موقع ہے اب کیوں نہیں فریق بنا رہے؟ کسی کی پیٹھ پیچھے الزام نہیں لگانے دینگے، اس اعتبار سے تو سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ درست ہے، حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فریق بنا کر ہم پر احسان نہ کریں، اداروں پر الزام نہیں لگانے دینگے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے الزام ہائی کورٹ چیف جسٹس پر لگایا تھا، جسٹس انور کانسی کو بھی فریق نہیں بنایا گیا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فیض حمید کو کسی اور درخواست گزار نے فریق بنایا ہے؟وکیل بار کونسل نے کہا کہ فیض حمید کو نہیں آئی ایس آئی کو فریق بنایا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ انور کانسی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرایا تھا، حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کروایا تو سماعت کا موقع ہی نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اوپن کورٹ میں ریفرنسز کی سماعت کا حکم دیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے صرف ابتدائی سماعت کی تھی باضابطہ انکوائری ابھی ہونی تھی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر کا متن بیان حلفی پر سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں دیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کچھ ہمیں بھی سن لیں،ہم آپ کو کسی کو فریق بنانے پر مجبور نہیں کریں گے ،ہر شعبے میں اچھی اور بری شخصیات ہوتی ہیں، وکلاء میں بھی اچھے اور برے ہیں،

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ کر لیا،سپریم کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کل 10:30 تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے جن پر الزام لگایا اس کو فریق بنائیں ورنہ دوسرے نکتے پر دلائل دیں،کل ہوسکتا ہے جس کو فریق بنائیں ان کو عدالت نوٹس جاری کرے،اگر فریق بنانے کی درخواست آج دائر کرتے ہیں تو کل نوٹس جاری کر دینگے، حامد خان نے آج ہی فیض حمید اور انور کانسی کو فریق بنانے کی درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرا دی ،حامد خان نے کہا کہ جن پر الزام لگایا ہے انہیں فریق بنانے کی درخواست کل تک دائر کر دینگے،عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کااسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار،چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیئے

    رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں قابل اعتراض اور عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے والی لینگوئج استعمال کی گئی،مقدمات کی منتقلی سے متعلق ایسی درخواست کو انٹرٹین نہیں کیا جا سکتا،بانی پی ٹی آئی نے اپنے کیسز میں چیف جسٹس عامر فاروق کو بینچ سے الگ ہونے کے لیے درخواست دائر کی تھی

    عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقدمات سے الگ ہونے کے لئے درخواست دائر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اسلام آبا ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق عمران خان کے تمام کیسز سے خود کو علیحدہ کریں ان سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے، چیف جسٹس کا آفس سنبھالنے کے بعد جسٹس عامر فاروق نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے معاملے میں ون مین ہائیکورٹ کا تاثر دیا، انٹرا کورٹ اپیلوں کے علاوہ ہر سنگل اور ڈویژن بنچ میں چیف جسٹس عامر فاروق نے خود کو شامل کیا.

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

  • تاحیات نااہلی  کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم

    تاحیات نااہلی کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ، اراکین اسمبلی کی تاحیات نااہلی کا معاملہ،عدالت عظمیٰ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے انتخابی عذرداری سے متعلق کیس میں نوٹس لیتے ہوئے معاملہ تین رکنی کمیٹی کو بھجوایا تھا،عدالت نے کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2008 کے عام انتخابات میں الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن تھی، کچھ امیدواروں نے جعلی ڈگریاں جمع کرائیں جس پر انہیں نااہلی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، درخواست گزار کو تاحیات نااہلی کے ساتھ دو سال کی سزا سنائی گئی،دو سال سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں زیر التوا ہے، درخواست گزار کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی سزا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی ہے، درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 232 (2) کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے، درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم 26 جون 2023 کو کی گئی، جب الیکشن ایکٹ سیکشن 232(2) کو چیلنج کرنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو وکلا کی جانب سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا، تمام وکلا نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے حکم اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232(2) سے غیر ضروری کنفیوژن پیدا ہوگی، فریقین کے وکلا نے کہا کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے،غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے الیکشن ٹربیونلز اور عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھے گا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت آئین کی تشریح کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ ہونا چاہیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وفاقی قانون، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کا معاملہ ہے جو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے،الیکشن کمیشن،اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے انگریزی اور اردو کے بڑے اخبارات میں بھی نوٹس شائع کیے جائیں، عدالت نے آئینی و قانونی نکات پر تحریری جواب طلب کر لیے،ان اپیلوں اور ان میں اٹھائے گئے سوالات کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کو مؤخر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، درخواستوں کو آئندہ سال جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    نواز شریف کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا،عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی،احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردیا

    نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز جبکہ نیب کی لیگل ٹیم روسٹرم پر موجود تھی،نیب کی جانب سے لیگل ٹیم میں نعیم طارق سنگیڑا، محمد رافع مقصود اور اظہر مقبول شاہ عدالت پیش ہوئے،نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز روسڑم پر آگئے ، اور کہا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے زیر کفالت کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ امجد پرویز نے کہا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں،ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، امجد پرویز ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مختلف حصے پڑھ رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ ان شواہد کی بنیاد پرثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ میں حسیں نواز کی دائر کردہ متفرق درخواستوں پر انحصار کیا گیا ہے،اگر ان متفرق درخواستوں کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف اسٹیل مل کے کبھی مالک رہے ہوں ، جن متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے انحصار کیا ہے،ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا ،ٹرائل کورٹ نے تین چیزوں پر انحصار کیا،ٹرائل کورٹ نے پانامہ کیس میں دائر سی ایم اے کو بنیاد بنایا،تینوں سی ایم اے حسن نواز، مریم نواز اور حسین نواز نے جمع کرائیں،نواز شریف کی جانب سے ایک بھی سی ایم اے جمع نہیں کرائی گئی،ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ یہ جمع کرائی گئی سی ایم ایز مجرمانہ مواد ہیں، ایک بھی سی ایم اے ثابت نہیں کرتی کہ نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں، استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوئے تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ، حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں ، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا، امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سی ایم ایز کو ریکارڈ پررکھا ہی نہیں گیا، سی ایم ایز کے ساتھ منسلک دستاویزکو ریکارڈ پر رکھا گیا،ان سی ایم ایز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کی ملکیت تھی،بلکہ یہ لکھا تھا کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،یہ ایک اصول ہے کہ کسی ایک مقدمے کے ثبوت کو کسی دوسرے مقدمے میں نہیں پڑھا جا سکتا،خصوصی طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو،حسین نواز کے کیپیٹل ٹاک کے انٹرویو پر بھی انحصار کیا گیا،حالانکہ اس انٹرویو میں بھی حسین نواز کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،ملزم کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا،یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے،فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے، نہ کہ ملزم پر، پراسیکیوشن نے آمدن اور اثاثوں کی قیمت بتانا تھی،پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ جن کے نام اثاثے ہیں وہ تو زیر کفالت ہیں، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ بے نامی جائیداد بنائی گئی،اگر اس متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تو یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بنتا،

    وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سے بری کرنے کی استدعا کر دی ،وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ، نیب کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا گیا،نیب پراسیکوٹر نعیم طارق سنگیڑا نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کے فیصلے میں ریفرنس تیار کرکے دائر کرنے کی ہدایت کی، نیب نے اپنی تفتیش کی،اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے دو تین طریقے ہی ہوتے ہیں،ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں،،نیب ریفرنسز میں تفتیش کے لیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے بے نامی اثاثوں کی تفتیش کی،اس کیس میں فرد جرم احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے عائد کی تھی،اس میں 161 کے بیانات بھی ہیں،نیب وکیل کی جانب سے ریفرنس کی چارج شیٹ پڑھی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی ؟، یہ بتائیں کہ العزیزیہ سٹیل ملز اور ہل میٹل کب بنی تھیں؟ آپ پراسیکیوٹر تھے، بتائیں آپ کے پاس کیا شواہد تھے؟ آپ بتائیں کہ آپ نے کس بنیاد پر بار ثبوت ملزم پر منتقل کیا؟قانون کو چھوڑیں، قانون ہم نے پڑھے ہوئے ہیں، آپ سیدھا مدعے پر آئیں، کوئی ریکارڈ پر ثبوت ہوگا؟ کوئی گواہ موجود ہوگا؟ ذرا نشاندہی کریں،

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم زرائع لکھے، نواز شریف پرکرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی،ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے، یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں،بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے ، عدالت نےکہا کہ آپ یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ انکا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا ؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ شواہد میں جانے سے پہلے ایک کنفیوژن دور کرنا چاہوں گا،آخری سماعت پر آپ نے کہا تھا کہ فیصلہ دوبارہ تحریر کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ ریمانڈ بیک کیا جائے،ہم نے ابھی تک کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، آپ اس اپیل پر میرٹ پر دلائل دے کر سزا برقرار رکھ سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کو دوبارہ احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا کی تھی، جج سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے اور اُس کے نوکری سے برطرف ہونے کے بعد اِس فیصلے کو درست نہیں کہا جا سکتا،العزیزیہ ریفرنس کا احتساب عدالت کا یہ فیصلہ متعصبانہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا،یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے ،نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں،وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نیب تو آپ پر احسان کر رہا ہے، آپ کیوں لینے سے انکاری ہیں؟،العزیزیہ کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا اور آپ کے موکل مجرم نہیں رہیں گے، نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ احسان بھی تو دیکھیں کیسا ہے،اگر یہ معاملہ واپس ٹرائل کورٹ ہی جانا ہے تو بعد میں بھی ہمیں یہیں آنا پڑے گا، نیب پراسیکوٹر نےایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکوٹر کی ایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا مسترد کر دی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے، آپ کو میرٹ پر دلائل دینے میں کتنا وقت چاہیے؟ نیب وکیل نے کہا کہ دلائل میں شواہد بتائیں گے پھر ان کا تعلق جوڑنے کی کوشش کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چلیں پھر آپ میرٹ پر دلائل دیں، ہم میرٹ پر سن لیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں اپنے دلائل آدھے پونے گھنٹے میں مکمل کر لوں گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ پونے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کریں،اپیل سننے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ جو فیصلہ دیا گیا اس کیلئے شواہد بھی موجود تھے یا نہیں،آپ نے بتانا ہے کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز سے یہ رقم سعودی عرب بھیجی گئی ،نیب کے گواہ واجد ضیا خود مان رہے ہیں کہ کوئی ثبوت نہیں ،اس دستاویز کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف کا العزیزیہ اور ہل میٹل کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے analysis کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ واجد ضیا تو خود مان رہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے analysis کی بنیاد پر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ میں زیادہ تر دستاویزات فوٹو کاپیز ہیں ،عدالت نے کہا کہ فوٹو کاپیز عدالتی ریکارڈ کا حصہ کیسے بن سکتی ہیں ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں آج تک فوٹو کاپی کی بھی مصدقہ نقل نہیں ملی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ وہ مِلیں لگا لیتے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ نواز شریف کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہی بتا رہا ہوں کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع موجود ہی نہیں تھے،عدالت نے کہا کہ مفروضے پر تو بات نہیں ہو سکتی، یہ بتائیں کہ نواز شریف نے کیسے کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز سے پیسہ باہر بھیجا؟ سٹار گواہ واجد ضیاء کہہ چکا کہ اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بات بھی سامنے ہے کہ میاں محمد شریف کا کاروبار تھا،

    نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کیس کو آگے لے کر چلنا ہے، آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستاں کے عوام جانتے ہیں کہ شہید بھٹو کا قاتل کون ہے،تاریخ کو درست کرکے جرم میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنا ہے۔2018 میں درخواست دی تھی کیس کو فوری سن کر فیصلہ دیا جائے، چیف جسٹس کا مشکور ہوں کہ کیس مقرر ہوا ، ججز کے سامنے اپنی رائے رکھیں گے ، آج بھی ایسی قوتیں ہیں جو چاہتی ہیں کہ عوام کو تاریخی نا انصافی نہ ملے ،ہمیں شہید بھٹو ریفرنس پر انصاف چاہئیے،صدر پاکستان نے جو ریفرنس میں سوالات اٹھائے ہیں انکا جواب چاہیئے،وہ فیصلہ ہونا چاہیئے کہ اسطرح کے کاموں کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہونا چاہیئے۔یہ کیس عدلیہ کیلئے امتحان کے ساتھ موقع بھی ہے،قوم کو بتایا جائے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو بے قصور تھے،ججز کے سامنے اپنی رائے رکھیں گے،ہمیں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے لیے انصاف چاہیے،شہید بھٹو نے مسلم امہ کو اکٹھا کیا،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا،ہمیں قائد عوام ،بینظیر بھٹو ، مرتضیٰ بھٹو اورشاہنواز واپس نہیں مل سکتے ،ہم امید رکھتے ہیں کہ چیف جسٹس ہمیں انصاف دیں گے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر آپ کے سامنے نہیں پر مجھے انصاف چاہیے،ذوالفقار علی بھٹو نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا،ذوالفقار علی بھٹو کا قاتل کون ہے قائد عوام جانتے ہیں،قائد عوام نے فلسطین کے معاملے پر مسلم امہ کی کانفرنس بلائی،جو لوگ جرم میں ملوث تھے انہیں بے نقاب کرنا ہے،سب جانتے ہیں راو انوار کس کا کھلونا ہے،چیف جسٹس نے واضح کہہ دیا کہ فروری8کو الیکشن ہوں گے،پرانے سیاستدانوں نےپرانی سیاست ہی کرتے رہنا ہے،

    شکر کریں یہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہو گیا،آصف زرداری
    دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ شکر کریں ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر ہو گیا ہے،صحافی نے آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ کیا انصاف کی توقع ہے؟ جس کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مجھے انصاف کی توقع ہے، کیوں نہیں ہے، مجھے عدالت سے انصاف کی امید ہے،آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ کیس اتنی دیر سے کیوں لگایا گیا؟ جس پر آصف زرداری نے جواب میں کہا کہ اس سے سوال نکالتے رہیں کیوں جلدی آئے دیر سے کیوں آئے، شکر کریں یہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہو گیا

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    ‏سپریم کورٹ آف پاکستان،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا

    13 سال بعد سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے ذوالفقار بھٹو قتل ریفرنس پر سماعت ہوگی،ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت لارجر بنچ کرے گا،ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں ہوگی،

    ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہو چکی ہیں،صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو ہوئی تھی،ذوالفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی،صدارتی ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں،صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی.

    سابق صدر آصف علی زرداری نے 2011 میں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا تھا جس میں کہاگیا تھا کہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں جو پھانسی دی گئی کیا وہ آئین اور ملکی اور اسلامی قوانین کے مطابق تھی؟کیا وعدہ معاف گواہ کے بیان پر کسی کو پھانسی دی جاسکتی ہے اور کیا بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کسی عدالت میں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، جب ریکارڈ میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کا رویہ جانب دارانہ ہو تو کیا ان حالات میں عدالتی کارروائی کو منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

    2018 میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس میں فریق بننے کی درخواست دائرکی تھی، بلاول کی درخواست میں استدعا کی گئی کہ اپنے نانا کے عدالتی قتل میں انصاف کے بول بالا کیلئے مجھے فریق بننے کی اجازت دی جائے، بھٹو کا نواسہ ہونے کے ناطے میں اس صدارتی ریفرنس میں براہ راست فریق بن سکتا ہوں،عدالت مجھے بھٹو شہید کے عدالتی قتل کے ریفرنس میں شریک بننے کی اجازت دے،

  • ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ چیف جسٹس

    ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 کے سیکشن 3 اے کو 2011 میں درست قرار دیا،2013 میں سندھ ہائیکورٹ نے اسی نوٹیفکیشن کو غیر آئینی کیسے قرار دیا،ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے،؟ سندھ ہائیکورٹ نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نظر انداز کر دیا،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈووکیٹ خالد جاوید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار ایڈووکیٹ فروغ نسیم کی بات کیوں کرہے ہیں،ایڈووکیٹ فروغ نسیم کی جانب سے التوا کی درخواست دائر کی گئی،فروغ نسیم اپنی التوا کی درخواست میں کہتے ہیں بیمار ہوں ڈیڑھ ماہ بعد سماعت کی جائے،یہ انتہائی نامعقول درخواست ہے،یہ ایک سینئر وکیل کا رویہ ہے،کیس کی سماعت میں ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کر دیا گیا