Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • بیوی آپکی، بچہ آپکا ، پیسے آپ نہیں دینگے اور بوجھ جج پر،چیف جسٹس برہم

    بیوی آپکی، بچہ آپکا ، پیسے آپ نہیں دینگے اور بوجھ جج پر،چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ میں نکاح نامہ میں درج رقم نہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے معاملہ سپریم کورٹ لانے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ ایسے کیسز کیوں سپریم کورٹ دائر کرتے ہیں؟عدالت آپکو بھاری جرمانہ کرے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے درخواست گزار کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسا کیا تو پاکستان بار کونسل کو آپکا کیس بھیجیں گے،نکاح نامہ اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں، عدالت میں ڈرامہ نا کریں ، یہ کیسا مذاق ہے؟بیوی آپکی، بچہ آپکا ، پیسے آپ نہیں دینگے اور بوجھ جج پر،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نکاح نامے میں درج ہے کہ شوہر نے گھر بنانے کیلئے بیوی کو 15لاکھ دینے ہیں،پانچ مرلہ گھر تیار کر کے بیوی کو دیدے، کیا آپ بیوی کے مرنے کے بعد اسے گھربنا کر دینگے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شادی سے پہلے عدالت آکر پوچھ لیا کریں یا پھر شادی نا کیا کریں،

    عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،مظفر گڑھ کے رہاٸشی سجاد حسین نے اہلیہ کے دعوے کیخلاف سپریم کورٹ رجوع کیا تھا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    حق مہر کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

     اگر 30 روز میں حق مہر ادا نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے.

  • کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کا معاملہ ،نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان شامل ہیں،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہراورجسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عزیر بھنڈاری کہاں ہیں؟ عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تین عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،ریما عمر نے اپنا تحریری جواب بھیجوایا ہے، گزشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر ،عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا،سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا روسٹرم پر آ گئے، گزشتہ سماعت پر خرم رضا نے تاحیات نااہلی کے حق میں اپنی رائے دی تھی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ یہ اپیلیں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں،کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی گئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں،آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لا کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل درست ، کیا 62ون ایف ٹریبونل کو بھی تاحیات نااہلی کا اختیار دیتا ہے؟ یا تاحیات نااہلی کا یہ اختیار سیدھا سپریم کورٹ کے پاس ہے؟

    اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلئیریشن دینے کا اختیار الیکشن ٹریبونل کا ہے،آرٹیکل 62 ون ایف میں کورٹ آف لاء درج ہے، سپریم کورٹ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہتر ہو گا ہمیں الیکشن ٹریبونل کے اختیارات کی طرف نہ لے کر جائیں، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،
    سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آئینی عدالت اور سول کورٹ میں فرق کو نظر انداز نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ آئینی عدالتیں ہیں جہاں آئینی درخواستیں دائر ہوتی ہیں، الیکشن کمیشن قانون کے تحت اختیارات استعمال کرتا ہے، اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا،

    کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے عوامی نمائندگی ایکٹ کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی ہی معروضات کی نفی کرنے والی بات کر رہے ہیں، جب62ون ایف کے تحت کوئی ٹریبونل نہیں کرتا تو سپریم کورٹ کیسے کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟اضافی اختیار تاحیات نااہلی والا یہ کہاں لکھا ہے؟وکیل خرم رضا نے کہا کہ سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، جن کیسز میں شواہد ریکارڈ ہوئے ہوں وہاں سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو آپ سمیع اللہ بلوچ کیس کی حمایت نہیں کر رہے، وکیل خرم رضا نے کہا کہ میں ایک حد تک حمایت کر رہا ،

    ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شروع میں تو مسلمان صرف دو چار ہی تھے، اسلام میں توبہ کا تصور موجود ہے، اسلامی احکامات کے خلاف تو کوئی استدعا یا دلیل نہیں سنیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے آئین میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی، الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے صرف قانون کو واضح کیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتی ڈیکلیریشن کسی نہ کسی قانون کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، وہ قانون اب کہتا ہے یہ مدت پانچ سال ہو گی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ پارلیمانی بحث میں تسلیم کیا گیا 62 ون ایف مدت پر خاموش ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی کی یہ شقیں ایک ڈکٹیٹر نے شامل کیں درست یا غلط؟ یا تو ہم پھر ڈکٹیٹر شپ کو ٹھیک مان لیں،ایک ڈکٹیٹر آیا، دوسرا آیا، تیسرا آیا سب کو اٹھا کر پھینک دیا، منافق کافر سے بھی زیادہ برا ہوتا ہے،کافر کو پتہ نہیں ہوتا، منافق سب جان کر کررہا ہوتاہے،پارلیمنٹ نے ایک قانون کتاب بنا کر ہمیں دی، ایک شخص ٹہلتا ہوا آتا ہے کہتاہے نہیں یہ سب ختم ،آمروں نے صادق و امین والی شرط اپنے لئے کیوں نہ ڈالی،

    منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے آئینی ترامیم کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رہنے دیں، ترامیم بھی گن پوائنٹ پر آئیں، کچھ لوگوں نے کہا چلو آدھی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے،آئین کا تقدس تب ہو گا جب اسے ہم مانیں گے، یا تو ہم کہہ لیتے ہیں کہ بندوق کا تقدس مانیں گے،یہاں بیٹھے پانچ ججز کی دانش ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں سے زیادہ کیسے ہو سکتی ہے؟ جب تک کوئی جھوٹا ثابت نہیں ہوتا ہم کیوں فرض کریں وہ جھوٹا ہے،آپ اراکین اسمبلی کو جتنی بھی حقارت سے دیکھیں وہ ہمارے نمائندے ہیں، آپ ڈکٹیٹرز کی دانش اراکین اسمبلی کی دانش پر فوقیت نہیں دے سکتے،جنرل ایوب نے آکرسب کو باہر پھینک دیا اور اپنے قوانین لائے، منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، واضح کیا تھا کہ انتخابات قریب ہیں ریٹرننگ افسران کا کام متاثر ہوگا، کوئی ریٹرننگ افسر عدالتی فیصلہ مانے گا اور کوئی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم، ریٹرننگ افسران وکیل نہیں بیوروکریٹ ہیں، کوشش ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ ریٹرننگ افسران کنفیوز نہ ہوں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا جعلی ڈگری پر نااہلی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہوگی؟ وکیل محمد کاشف نے کہا کہ جعلی ڈگری پر فوجداری کارروائی ہونی چاہیے نااہلی نہیں،

    آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وکیل خرم رضا سمیت جو تاحیات نااہلی کی حمایت کر رہے وہ اپنے نکات بتا دیں، تین وکلا نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی تھی،عثمان کریم صاحب اور اصغر سبزواری صاحب کیا آپ خرم رضا کے دلائل اپنا رہے،وکیل اصغر سبزواری نے کہا کہ تاحیات نااہلی اگر ڈکٹیٹر نے شامل کی تو اس کے بعد منتخب حکومتیں بھی آئیں، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی "جج میڈ لاء” ہے ،جہانگیز ترین جیسے کیسز کی انکوائری ہونا چاہئے جہاں ٹرائل کے بغیر تاحیات نااہل کر دیا گیا،وکیل عثمان کریم روسٹرم پر آ گئے ،اور کہا کہ کوالیفیکیشن ہو یا ڈسکوالیفیکش، مقصد آرٹیکل 62 اور 63 کا ایک ہی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ صادق اور امین کی کیا تعریف ہوگی، کوئی قتل کرکے آجائے، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ نان مسلم بھی صادق اور امین لگایا گیا ہے، یہاں امین کا مطلب اسلام والا نہیں لیا جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،جنرل ضیاء یا انکے وزیر کو امین کا مطلب نہیں معلوم تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسکا مطلب امین کا مطلب اسلامک ہی ہوگا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ اگر اسلامک مطلب دیکھیں گے تو پھر یہ نان مسلم پر نہیں لگے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کون تعین کرے گا کس کا کردار اچھا کس کا نہیں،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ حتمی طور پر تعین اللہ ہی کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ تحریر کرنے والے جج نے فیصل واڈا کیس کا فیصلہ بھی دیا،کیا دونوں فیصلوں کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے؟ سمیع اللہ بلوچ فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات کی تشریح کرنے والے جج نے فیصل واوڈا کیس میں تشریح کیسے بدل دی،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف صرف کاغذات نامزدگی کی حد تک ہے،

    آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب قانون آچکا ہے اورنااہلی پانچ سال کی ہوچکی توتاحیات والی بات کیسے قائم رہے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست دان عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں،آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،سیاست دانوں کوایسے برا نہ بولیں وہ عوامی رائے سےمنتخب ہوتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 الگ الگ لانے کی ضرورت کیا تھی؟ ایک آرٹیکل کہتا ہے کون کون اہل ہے دوسرا کہتا ہے کون نااہل،دونوں باتوں میں فرق کیا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی دوسری شہریت لیتا ہے تو وہ 62 میں نہیں 63 میں پھنسے گا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2013 کے اللہ دینو بھائیو کیس کے فیصلے میں 62 ون ایف کی نااہلی دی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی متعارف کرائی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 2020 میں اللہ دینو بھائیو نظر ثانی کیس میں نااہلی کالعدم قرار دے دی،جسٹس بندیال نے 2020 کے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے فیصل واوڈا کیس کا فیصلہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی آپ کے مطابق جسٹس بندیال نے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر اپنے ہی موقف کی نفی کی؟ وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 62 ون ایف کا سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ اس لیے چلے گا کیونکہ پانچ رکنی بنچ کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اچھی تیاری کر کے آئے ہیں، اور بھی معاونت کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل عثمان کریم کی تعریف کی اور کہا کہ الیکشن سر پر ہیں ہم نے یہ مسئلہ حل کرنا ہے،

    فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس
    تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہو گئی،عدالتی معاون عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ریٹرنگ آفیسر کے سامنے دو مختلف فیصلے ہونگے،ایک فیصلہ تاحیات نااہلی کا دوسرا الیکشن ایکٹ کے تحت پانچ سال نااہلی کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت پانچ سال کر دی ہے،کچھ وکلا کہہ چکے ہیں کہ نااہلی پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوگی،کچھ وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ تاحیات رہے گا،ہم اس نکتے کو دیکھ رہے ہیں کہ تاحیات نااہلی کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ واپس لیا جائے یا نہیں،عزیز بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کرنے بیٹھی تو 62ون ایف کو نہیں چھیڑا تھا،پارلیمنٹ کو علم بھی تھا کہ 62 ون ایف کی ایک تشریح آچکی ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس کے کچھ پہلو ضرور دوبارہ جائزے کے متقاضی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنا پوائنٹ بتائیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس نااہلی کے مکینزم کی بات نہیں کر رہا،18ویں ترمیم کے بعد بھی کئی آئینی ترامیم ہوئیں،کسی بھی آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62ون ایف کی بات نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فارم میں تبدیلی پر پورا پاکستان بند کر دیا گیا تھا، شاید اس لئے اس معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہو،ریاست نے سوچا ہو گا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہ غالب جیسی بات ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا، کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر کے پاس جاتے ہیں جو نااہلی کا ڈیکلریشن نہیں دے سکتا،الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر نااہلی کا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، ڈیکلریشن کون دے سکتا ہے یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں نہیں لکھا ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی عدالت کسی کے سچے اور راست گو ہونے کا ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ایمانداری ، امین اور فضول خرچ نہ ہونے کا تعین عدالتیں کیسے کر سکتی ہیں؟تاحیات نااہلی کیس میں تو سب کچھ سپریم کورٹ نے ہی کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے سپریم کورٹ ایسا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل دس اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، ریٹرننگ افسر ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، ریٹرننگ افسر کورٹ آف لاء نہیں ہے، الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے ہی دلائل کی نفی کر رہے ہیں، ایک جج کہے گا نااہلی ہوتی ہے دوسرا جج کہے گا نااہلی نہیں ہوتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈیکلریشن کہاں سے آئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جعل سازی پر ڈیکلریشن کون دے گا، کچھ الفاظ ایسے ہیں جو محض کاغذ کے ٹکرے کے سوا کچھ نہیں،

    ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میں عدالتی معاون ہوں،کراس سوال نہ کریں، ججز مسکراتے رہے،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں اپنے سوالات واپس لے لیتا ہوں، تسلیم شدہ حقائق پر سپریم کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،سول کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے چیزوں کو آسان بنانا ہے مشکل بنانا نہیں، ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،آپ نے تو ریٹرننگ افسر کو کورٹ آف لا بنا دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک شخص کوالیفائی کر کے رکن بن گیا اور بعد میں وہ خراب ہو گیا تو کیسے نکالیں گے؟ نااہل کرنے والے آرٹیکل 63 میں تو 62 ون ایف کا زکر نہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں تو وارنٹو کی رٹ لائی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بھنڈاری صاحب میں بات نہیں سمجھ پا رہا، عزیز بھنڈاری نے کہا کہ میں پھر معذرت کر لیتا ہوں، ڈیکلیریشن کہاں سے آنا ہے اگر یہ سوال ہے ہی نہیں تو چھوڑ دیتے ہیں،جسٹس یحییٰ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل اپنی ترتیب سے جاری رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں مگر ہم نے کیس ختم بھی کرنا ہے، ہم نے اپنا آرڈر لکھنا بھی ہے،اس مقدمہ کو طول نہیں دے سکتے، انتخابات کا شیڈیل مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ بھی لکھنا ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہائی کورٹ کو اختیار ہے کہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن جاری کرے، بے ایمانی کا فیصلہ تو عدالت کسی بھی کیس میں دے سکتی ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے سول کورٹ سے ڈیکلریشن لینا لازمی ہے،ہر عدالتی فیصلہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن نہیں ہوسکتا،

    جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟اس نکتے کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا،پارلیمنٹ نے یہ ترامیم مرضی سے نہیں کیں، ان پر تھوپی گئی ہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کسی نے تھوپی نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورے پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں،آئین میں یہ سب چیزیں کہاں سے آئیں یہ کوئی نہیں بتا رہا، کوئی وکیل بھی ڈکٹیٹر کیخلاف بات نہیں کرتا، ڈکٹیٹر کہتا ہے یہ ترامیم کرو نہیں تو میں پچیس سال بیٹھا رہوں گا، آمر کو ہٹانے کیلئے پارلیمان اس کی بات مان لیتی ہے،عدالتی معاون عذیر بھنڈاری نے دلائل مکمل کر لیے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت انتخابات کیلئے کسی کے حقوق متاثر نہیں کرنا چاہتی،سماعت میں وقفہ کرینگے تاکہ ہمارے خلاف کوئی ڈیکلریشن نہ آ جائے،

    سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا،عدالتی معاون فیصل صدیقی
    دوسرے وقفہ کے بعد سماعت ہوئی،عدالتی معاون فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سمیت دیگر وکلا سے درخواست ہے دلائل مختصر رکھیں،وقت کی کمی کیوجہ سے مختصر دلائل سنیں گے،فیصل صدیقی نے کہا کہ 50 فیصد دلائل کم کر دیئے مختصر دلائل دونگا،تاحیات نااہلی کے فیصلے کی موجودگی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم بے سود ہے، عدالتی فیصلے کا اثر کسی سادہ قانون سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لئے بغیر پانچ سال نااہلی کا قانون غیرآئینی ہوگا،سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی عدالتی ڈیکلریشن کی بنیاد پر دی تھی،لازمی نہیں کہ عدالتی ڈیکلریشن ہمیشہ کیلئے ہو، ڈیکلریشن ختم ہوتے ہی نااہلی کی معیار بھی ختم ہوسکتی ہے، سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ نااہلی کی مدت کا تعین کر رہا ہے،عدالت نے دیکھنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی نیت سے کی گئی یا نہیں، اگر الیکشن ایکٹ کی ترمیم برقرار رکھنی ہے تو سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم ہونا ہو گا،نااہلی کی مدت، طریقہ کار اور پروسجر کا تعین ہونا ضروری تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے پہلے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا تو عدالت کیوں اپنے فیصلے کو ختم کرے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کی آئینی تشریح ختم نہیں کر سکتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلے چلے گا یا الیکشن ایکٹ،پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت کم سے کم پانچ سال کرتے وقت الیکشن ایکٹ ترمیم کا اطلاق اٹھارویں ترمیم سے کیا، سمیع اللہ بلوچ کا ایسا فیصلہ دیا جس پر آئینی خلا تھا، سمیع اللہ بلوچ فیصلہ اس لیے آیا کہ آئینی خلا پر ہو سکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں خلا کہ صورت میں یہی کیوں سمجھا جاتا ہے کہ اس کو پر کرنے کے لیے عدالتی تشریح ہی ہو گی؟ آئین جن چیزوں پر خاموش ہے اس کا مقصد قانون سازی کا راستہ کھلا رکھنا بھی ہو سکتا ہے نا کہ عدالتی تشریح، آئین میں تو قتل کی سزا بھی درج نہیں اس لیے تعزیرات پاکستان لایا گیا،

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے الیکشن ایکٹ اور عدالتی فیصلے کی موجودگی میں تیسرا راستہ نکالا جائےوہ نظریہ بتائیں جو اس صورتحال سے باہر نکالے،کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑ دے؟پارلیمنٹ خود دیکھے جو ترمیم کرنی ہے کر لیں،ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کو ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ ختم نہ ہونے کی صورت میں آئینی تشریح کے معاملے میں مسائل ہوں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون ساز خلا اس لئے چھوڑتے ہیں کہ بعد میں اس پر قانون بن سکے، اس بنیاد پر الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 ختم نہیں کیا جاسکتا، کیا آئین قتل کی سزا کا تعین بھی کرتا ہے؟اگر قانون سازوں نے کوئی خلا چھوڑا ہے اسے کیسے پر کیا جائے گا؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر قانون ساز خلا پر نہیں کرتے تو عدالت بھی کرسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالت بھی تشریح کردے اور قانون سازی بھی ہو جائے کونسا عمل بالا ہوگا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈکلیریشن کی مدت پانچ سال تک رکھنا الگ بات ہے،قانونی ترمیم سے شاید وہ اس سے تھوڑا آگے چلے گئے،نااہلی کی مدت کو پانچ سال تک کرنا ایک آئینی چیز کو کنٹرول کرنے جیسا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارے معاملے کا حل اسلام میں موجود ہے،قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ انسان کا رتبہ بہت بلند ہے،انسان برا نہیں اس کے اعمال برے ہوتے ہیں،کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،62 ون ایف انسان کو برا کہہ رہا ہے،اگر کوئی شخص گناہ سے توبہ کر لے تو معافی مل سکتی ہے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے آرٹیکل 62 ون ایف کی اہلیت کا معیار ججز کےلئے نہیں، میں تو ڈر گیا ہوں شکر ہے پارلیمان نے یہ معیار ہمارے لئے مقرر نہیں کیا، اگر ججز کےلئے ایسا معیار ہوتا تو کوئی بھی جج نہ بن سکتا،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ کل صبح نو بجے تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کریں گے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کردی،سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نااہلی صرف پانچ سال کی ہو جو الیکشن قانون بن گیا وہ درست ہے،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ ،جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض خان کا کل فون آیا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر تحفظ دے تو میں عدالت میں آ کر سب بتائونگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا کسی کے لیے ریڈ کارپیٹ بیچھائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آپ تحفظ تو دے سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی فوج ہے جو تحفظ دیں،

    شعیب شاہین نے صحافی مطیع اللہ جان کیس کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل تو آپ مطیع اللہ جان کا نام نہیں لے رہے تھے آج ان کے کیس کا حوالہ دے رہے ہیں،اس وقت جس کی حکومت تھی کیا اس نے ذمہ داری لی ؟شعیب شاہین نے کہا کہ اس وقت کی حکومت کی مداخلت سے ہی وہ پہلے دن رہا ہوگئے، عمران ریاض 4 ماہ لاپتہ رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں ایسا بالکل نہیں ہوا تھا یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے آپکی،مطیع اللہ جان واقعے کی ویڈیو ریکارڈ ہوگئی تھی جس وجہ سے رہا کرنا پڑا،مطیع اللہ جان کیس ایک ریکارڈڈ دستاویزی کیس تھا، شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض والے واقعے کی بھی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رک جائیں مجھے اب بات کرنے دیں،اگر اس وقت آپ لوگ سامنا کرتے تو آج والے واقعات نہ ہوتے، اگر مطیع اللہ جان کی رہائی میں آپکی کوئی مداخلت تھی تو ریکارڈ پر لائیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض کی کل مجھے کال آئی ، عمران ریاض کا پیغام ہے کہ اگر عدالت انہیں سیکورٹی دے تو وہ آکر سب بتانے کو تیار ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر اس فورم کا سیاسی استعمال کرہے ہیں، ایک واقعہ ابصار عالم کا ہوا تھا، ہم نے کہا میڈیا پر بات کرنے کی بجائے عدالت آکر بولیں، وہ آئے اور انہوں نے ادھر بات کی۔ جو آپکو فون کرکے کہہ رہا ہے اسکے لیے کیا ریڈ کارپٹ بچھایا جائے اور پھر وہ ادھر آئینگے، آپ اسکو سیاسی اکھاڑا نہ بنائیں،شیخ رشید نے آپکو کیا کہا؟ الیکشن کیس میں شیخ رشید عدالت آ سکتے ہیں تو اس میں کیوں نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جو اپنے لیے بات نہیں کر سکتے تو وہ کسی کیلئے کیا بات کرینگے،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایجنسیوں کے کردار پر فیض آباد دھرنا کیس میں بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس سے لاپتہ افراد کا کیا تعلق ہے؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ لاپتہ افراد کا براہ راست ذکر نہیں لیکن ایجنسیوں کے آئینی کردار کا ذکر موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے میں قانون کے مطابق احتجاج کے حق کی توثیق کی گئی ہے،کچھ دن پہلے مظاہرین کو روکا گیا تھا اس حوالے سے بتائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عدالت نے سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حیرت ہے آپ فیض آباد دھرنا کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، پہلے دن سے ہی فیض آباد دھرنا فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں،

    پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟چیف جسٹس کا آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ
    آمنہ مسعود جنجوعہ عدالت پیش ہوئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتی ہیں، آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ میں سچ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے خاوند کو کس نے غائب کیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ کے شوہر کیا کرتے تھے اور اس وقت حکومت کس کی تھی؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ مشرف کی حکومت میں میرے بزنس مین شوہر کو اٹھایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کارباری شوہر کا حکومت یا ریاست سے کیا تعلق تھا؟ ریاست کس وجہ سے آپ کے شوہر کو اٹھائے گی؟پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے میرے شوہر کو 2013 میں مردہ قرار دیدیا تھا،میرے شوہر دوست سے ملنے پشاور کیلئے نکلے لیکن پہنچے نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار آمنہ جنجوعہ سے پوچھا کہ لوگوں کو اب بھی لاپتہ کیا جارہا ہے؟ آمنہ جنجوعہے ہاں میں جواب دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آبزرویشنز دیں کہ؛ "لوگوں کو 2002 سے لاپتہ کیا جارہا ہے، ماضی میں لاپتہ کئے گئے لوگوں کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر نہیں آتی، ہم پرانا مسئلہ تو حل نہیں کرسکتے، شائد اب رکوا دیں یہ سلسلہ، آج ہی ہم حکم جاری کردیتے ہیں کہ اب سے لوگوں کو نہ اٹھایا جائے، اٹارنی جنرل صاحب آپ وفاقی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آئندہ لوگوں کو لاپتہ نہیں کیا جائے گا؟ اٹارنی جنرل بولے بالکل یہ یقین دہانی کرواتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ اگر آپ کی یقین دہانی کے بعد لوگ لاپتہ ہوئے تو اس کے نتائج ہونگے۔”

    سپریم کورٹ نے آمنہ مسعود جنجوعہ کی درخواست پر وزارت داخلہ اور دفاع سے جواب مانگ لیا ،عدالت نے کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے کیس کو سنجیدگی سے لیا جائے،اٹھارہ سال گزر گئے ہیں سچائی جاننا آمنہ جنجوعہ کا حق ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیرستان میں 6 حجاموں کے قتل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کیا قتل کرنے والے کو خدا کا خوف نہیں ہوتا؟6 نائی قتل کر دیے گئے لوگوں کو خوف ہی نہیں ہے،قتل کرنے والے یہاں سزا سے بچ سکتے آخرت میں تو جواب دینا ہوگا،بلوچستان میں 46 زائرین کو مار دیا جاتا ہے،عدالت کا کام نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلے،

    لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،اعتزاز احسن
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں سپیشل بنچ بنا چکی ہے جو کمیشن کارروائی کو سپروائز کرتا تھا،سپیشل بنچ نے وہ کیسز دیکھنے تھے جن میں پروڈکشن آرڈر پر عمل نہیں کیا گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمیشن کو جب علم ہی نہیں کہ بندا کہاں ہے تو پروڈکشن آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کمیشن ابتدائی انکوائری میں تعین کرتا ہے کہ کیس جبری گمشدگی کا ہے بھی یا نہیں،لاپتہ افراد کمیشن کے احکامات پر حکومت عملدرآمد نہیں کرتی، کمیشن نے 700 پروڈکشن آرڈر جاری کیے عملدرآمد صرف 51 پر ہوا،اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ریٹائر جج سربراہ ہوگا تو شاید وہ عملدرآمد نہ کروا سکے، لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی ایشو ہوتا ہے تو ہم اپنے ہی جج کیخلاف کاروائی یا پوچھ کیسے کریں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر جواب دینا چاہیے، کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تمام پروڈکشن آرڈر بارے تفصیلی رپورٹ دیں،آج جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے پشاور ہائی کورٹ کے ججز کے حوالے سے،آج مزید سماعت کرنا ممکن نہیں ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمیشن نے کیا کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اختر مینگل نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں کسی کے ذاتی مسائل نہیں سنیں گے، عدالت نے منگل تک لاپتہ افراد کمیشن سے تمام مقدمات کی تفصیلات مانگ لیں ،عدالت نے کمیشن کو تمام پروڈکشن آرڈرز اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ اٹارنی جنرل آگاہ کریں پروڈکشن آرڈرز کے حوالے سے حکومت کا کیا موقف ہے،

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو پریس کلب کے سامنے بیٹھے لاپتہ افراد کے لواحقین کو ہراساں کرنے زبردستی اٹھائے جانے اور ان کی کسی بھی پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے روک دیا۔اور کہا ہم امید کرتے ہیں ان کو تنگ نہیں کیا جائے گا کیونکہ احتجاجا کرنا ان کا قانونی اورآئینی حق ہے۔لاپتہ افراد کیس میں ذاتی مسئلے نہیں سنیں گے، لاپتہ افراد کیس کی سماعت 9جنوری تک ملتوی کر دی گئی.

    لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے،چیف جسٹس
    وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کیخلاف دائر اپیلیں واپس لے لیں ، عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہوچکا ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا معاملہ زاتی نہیں بلکہ ایک نیا پیٹرن شروع ہوا ہے، لاپتہ کرنے کا اب نیا طریقہ متعارف کروایا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے، جو گھر واپس آ چکا ہے وہ مجاز قانونی فورم کا استعمال کرے، اعتزاز صاحب اگر متفق نہیں ہیں تو رجسٹرار اعتراضات کالعدم قرار نہیں دینگے، سپریم کورٹ نے پروڈکشن آرڈرز کے اجراء اور ان پر عملدرآمد سے متعلق اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کرلیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا، درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے.

    شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تک 2200 سے زائد لوگ مسنگ پرسن ہیں جن کا کچھ نہیں پتہ

    چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5،5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا گیا

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست  پیر تک ملتوی

    سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست پیر تک ملتوی

    پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ میں الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی سماعت کر رہے ہیں،پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے لطیف کھوسہ کے نام کیساتھ سردار لکھنے پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار،نواب اور پیر جیسے الفاظ اب لکھنا بند کر دیں،1976 کے بعد سے سرداری نظام ختم ہوچکا ہے،یا تو پاکستان کا آئین چلائیں یا پھر سرداری نظام،آئین پاکستان کیساتھ اب مذاق کرنا بند کر دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے شناختی کارڈ پر سردار لکھا اس لیے عدالت میں بھی سردار لکھا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سردار اور نوابوں کو چھوڑ دیں اب غلامی سے نکل آئیں،سردار لکھ کر اپنا رتبہ بڑا کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،سرداری نظام ختم ہو چکا ہے یہ سردار نواب عدالت میں نہیں چلے گا ،آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا آپ کے بیٹے بھی سردار ہو گئے ہیں ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ مجھے پریکٹس کرتے ہوئے 55 سال ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ باتیں نہ کریں ناں،

    لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ،سپریم کورٹ میں کہا کہ لیول پلینگ فلیڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے،جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں،مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا،آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے،الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟ یہ توہین عدالت کا کیس ہے کوئی نئی درخواست نہیں،الیکشن کمیشن نے جو توہین کی آپ کے مطابق وہ بتائیں، آپ کو آرڈر کیا دیا؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے اتنے لوگوں کو اس میں فریق بنایا،آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں،اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا،آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں،آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں،کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں اپیل دائر کرنے کے لیے آراو آرڈرز کی نقل تک نہیں دے رہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، لطیف کھوسہ نے کہا کہ 3 دن تک آرڈر کی کاپی نہیں ملی،اپیل کہاں کریں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے لوگوں کے نام کی جگہ میجر فیملی لکھا ہوا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میجر طاہر صادق کا ذکر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں،آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹرابیونل میں درخواست دیں،ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظور کر لیں،ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں،عدالتیں الیکشن کیلئے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،آپ ٹربیونل میں اپیلیں دائر کریں اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے، ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج آخری دن ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کھوسہ صاحب ٹربیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں اور وہ اس کیس سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر الیکشن گزر جائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا،آپ ہر بات کے جواب میں سیاسی جواب دے رہے ہیں، یہ قانون کی عدالت ہے،آپ اپنی درخواست میں توہین عدالت کے مرتکب ہونے کا الزام آئی جی پر لگا رہے ہیں،انتخابات آئی جی،چیف سیکیریٹریز یا سپریم کورٹ نے کرانے ہیں؟ہر ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونل بن چکے وہاں جائیں، بارہا کہہ چکے کہ عدالتیں جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ مجھے بھی سن لیں میں 55 سال سے وکالت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 22 دسمبر کے حکم پر 26 دسمبر کو مفصل عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ دیکھنے کے لیے کل تک کا وقت دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا روز آپ کے کیس سنتے رہیں گے،عدالت کوئی اور کام نا کرے؟اکھاڑا نہیں یہ عدالت ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ صوبائی الیکشن کمیشن کا خط بھی تو دیکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے خط 24 دسمبر کو لکھا جبکہ الیکشن کمیشن نے عملدرآمد رپورٹ 26 کو جمع کرائی،الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کے بعد کچھ کیا ہو تو بتائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ویڈیو لگانے کی اجازت دیں، پوری دنیا نے میڈیا پر دیکھا جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا کیونکہ میں میڈیا نہیں دیکھتا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا،کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبرا ہو گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ توہین عدالت کے سکوپ تک رہیں،یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامہ پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا،الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرامد رپورٹ ہمیں بھیج دی،

    سردار لطیف کھوسہ نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے،آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھیں ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے دنیا نے سب کچھ دیکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ صرف کاسمیٹک عملدرآمد نہیں آپ بنیادی حقوق کے محافظ ہیں آپ نے شفاف الیکشن یقینی بنانے ہیں،میں ہائیکورٹ یا دیگر عدالتوں میں جا کر وقت ضائع نہیں کر سکتا جب سپریم کورٹ نے پہلے ہی انتخابات سے متعلق حکم دے رکھا ہے،عدالت لیول پلیئنگ فیلڈ کی فراہمی یقینی بنائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی وہ شکایات دکھا دیں جو الیکشن کمیشن میں دائر کیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ ان کو لیول پلئینگ فیلڈ فراہم نہیں کر رہے؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل کر رہے ہیں، ان کی 30 شکایات موصول ہوئیں جن کو الیکشن کمیشن نے حل کیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہزاروں کے حساب سے درخواستیں ہیں اور الیکشن کمیشن 30 شکایات کی بات کر رہا ہے،جو کچھ ہو رہا ہے یہ کبھی ملکی تاریخ میں نہیں ہوا،ملک میں بدترین صورتحال پر کوئی آنکھیں کیسے بند کر سکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے پچھلی بار بھی دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا سپریم کورٹ کا ٹائم ضائع کیا پھر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا،چیف الیکشن کمشنر ہم نے تو نہیں لگایا ہے آپ نے لگایا ہے،

    پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی کو نوٹس جاری
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہمی کیلئے دائر توہین عدالت کی درخواست،پی ٹی آئی وکلاء نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں،پی ٹی آئی کے 668 ٹاپ لیڈرز کے کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کردیا گیا،اضافی دستاویزات میں کہا گیا کہ 2000 کے قریب حمایت یافتہ اور سیکنڈ فیز کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،پی ٹی آئی رہنماوں کے کاغذات نامزدگی چھیننے کے 56 واقعات پیش آئے،پی ٹی آئی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • وائٹ کالر کرائم سے ملک کو بہت نقصان پہنچتا ہے،چیف جسٹس

    وائٹ کالر کرائم سے ملک کو بہت نقصان پہنچتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، ملزم عمار رفیق کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کوئی عام جرم نہیں ہے، وائٹ کالر کرائم سے ملک کو بہت نقصان پہنچتا ہے،جعلی انوائسز پر اتنا بڑا کلیم کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کوئی زبردستی کسی کے اکاؤنٹ میں کیسے پیسے گھسا سکتا ہے؟ یہ عام جرم نہیں، ملزم کو ضمانت کس بنیاد پر دیں؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اربوں کا فراڈ ہے،

    وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے کچھ نہیں کیا سب ٹیکس کنسلٹنٹ کا کام ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کنسلٹنٹ نے بھی ہیر پھیر کر کے فائدہ ملزم کو ہی پہنچایا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں، سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی

    ملزم عمار رفیق نے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے سپریم کورٹ رجوع کیا تھا جو اربوں روپے کے ٹیکس فراڈ کے جرم میں گرفتار ہے

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    قاضی کا کھڑاک،الیکشن 8 فروری کو،عدت میں بدعت،جنرل فیض حاضر ہو

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تاحیات نا اہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں کتنی درخواستیں ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں( جو کہ 5 سال ہے) اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا موقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے،

    میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی،وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ درخواست گزار ثناء اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کر دی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ ایڈوکیٹ جنرلز نے اٹارنی جنرل کی موقف کی تائید کردی،صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 1 ایف میں نااہلی کی معیاد کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا جب تک عدالتی فیصلہ موجود ہے نااہلی تاحیات رہے گی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قتل اور ملک سے غداری جیسے سنگین جرم میں آپ کچھ عرصے بعد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 میں فرق کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ممبران کی اہلیت جبکہ 63 نااہلی سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 62 کی وہ ذیلی شقیں مشکل پیدا کرتی ہیں جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہیں، کسی کے کردار کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟کیا اٹارنی جنرل اچھے کردار کے مالک ہیں؟ اس سوال کا جواب نا دیجیے گا صرف مثال کے لیے پوچھ رہا ہوں، اٹارنی جنرل کے اسپورٹرز کہیں گے آپ اعلی کردار جبکہ مخالفین بدترین کردار کا مالک کہیں گے، اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھرایا نہیں جا سکتا،ہم تو گنہگار ہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں، آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیریشن اپنی جگہ قائم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہو چکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی،جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا آ سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا، عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے،اسلیے نااہلی کم ہے،عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن باسٹھ ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، ایک مسلمان "صادق” اور "امین” کے لفظ آخری نبی کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا،اگر میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے جاوں اور کوئی اعتراض کرے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو مان لوں گا،کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ڈی کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اچھے کردار کا مالک ہو اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی نا کرے تو اہل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا کردار کیا ہوتا ہے؟اگر اچھے کردار والا اصراف نہیں کرسکتا تو پھر وضو کے وقت پانی ضائع کرنے والا بھی نااہل ہے،الیکشن لڑنے کے لئے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے،ہم گنہگار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں،صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا،بڑے بڑے علماء روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتی تو قائداعظم بھی نااہل ہو جاتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر فوجداری مقدمات میں عدالت کسی شخص کو جھوٹا قرار دے کہ اس نے عدالت کو گمراہ کیا ہے، کیا اس پر آرٹیکل 62 1 ایف لگے گا؟کل وہ شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا کہ کوئی اعتراض کردے گا تمہیں عدالت نے جھوٹا قرار دیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت صاحب سول کیسز کے ماہر ہیں ان سے رائے لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ شہزاد شوکت صاحب آپ قانون کی حمایت کرہے ہیں یا مخالفت ، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ میں قانون کی حمایت کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کرہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،وکیل درخواست گزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تاحیات نااہلی کے حق میں ہیں یا مخالفت میں ؟ عثمان کریم نے کہا کہ میں تاحیات نااہلی کے تب تک حق میں ہوں جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،

    مسٹر مخدوم علی خان، آپ روسٹرم پر آ جائیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ میں موجودہ کیس میں جہانگیز خان ترین کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا ، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی جنرل ضیاء الحق نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں ، کیا ضیا الحق کا اپنا کردار اچھا تھا ؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں،جس شخص نے حلف اٹھانے کے بعد آئین توڑا وہ اعلی کردار کا مالک کیسے ہوسکتا؟ایک ڈکٹیٹر نے آرڈیننس کے تحت 1985 میں آئین میں شقیں ڈال دی،ان شقوں کے تحت تو قائد اعظم کو بھی تاحیات نااہل کیا جاسکتا تھا،مخدوم صاحب کیا آپ کسی ایسے فریق کو جانتے ہیں جو تاحیات نا اہلی کا حامی ہو؟شعیب شاہین کہاں گئے شاید ان کے پاس کوئی پوائنٹ ہو،

    عدالت نے ویڈیو لنک پر وکلا کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اس کیس میں سنجیدہ ہیں تو اسلام آباد آئیں،ہم آج اس کیس کو ملتوی کریں گے ،بڑے بڑے علما روز آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں ،وکیل درخواستگزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کررہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،ایک مارشل لا ڈکٹیٹر کیخلاف الفاظ ادا کرنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ایک شخص کو کرپشن کے مقدمے میں جیل ہو گئی اور وہ سزا مکمل کر کے پانچ سال بعد الیکشن کے لیے اہل ہو گیا مگر کسی کو عدالت نے کرپٹ قرار دیا مگر جیل نہ ہوئی تو وہ عمر بھر کے لیے نااہل ہو گیا؟

    تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت پرسوں 4 جنوری تک ملتوی کر دی گئی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے پر معاونین کی خدمات درکار ہوگی یہ تاثر نہ دیا جائے کہ تاحیات نااہلی کے حوالے سے عدالتی کارروائی کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کیلئے ہو رہی،کوئی سیاسی جماعت یا انفرادی شخص کی بات نہیں ہم صرف آئینی و قانونی حیثیت دیکھ رہے ہیں

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں  چیف جسٹس

    مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں کوہاٹ پی کے 91 ریٹرننگ افسران معطل کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں ،جو ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں ،ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا،پشاور ہائی کورٹ نے ٹھک کر کے تقرری کنیسل کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور ہائیکورٹ میں ریٹرنگ افسر تبدیلی کی پٹیشن فائل کرنے والے پٹشنر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں نوٹس کئے بغیر ہی اپوائٹمنٹ کنسیل کر دی،پشاور ہائی کورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ،سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن کو سنے بغیر کیسے عدالتیں فیصلے کر رہی ہیں؟ یہ بڑی عجیب بات ہے، کیا آپ چاہتے ہیں پورا الیکشن ہی رک جائے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا؟ بلاوجہ کی درخواستیں کیوں دائر کی جا رہی ہیں،ابھی آرڈر کر دیتے ہیں ریٹرننگ آفیسرز سکروٹنی جاری رکھے، پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظورکر لی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی تھی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • سپریم کورٹ کے ججز اور اہلخانہ کی تلاشی پرجاری تنازع ،سپریم کورٹ کا بیان سامنے آگیا

    سپریم کورٹ کے ججز اور اہلخانہ کی تلاشی پرجاری تنازع ،سپریم کورٹ کا بیان سامنے آگیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز سمیت اُن کے اہل خانہ کی تلاشی کے حوالے سے جاری تنازع پر سیکریٹری ایوی ایشن اور ڈی جی ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کو خط لکھ دیا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے پبلک ریلیشن آفیسر کی جانب سے لکھے گئے خط میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کے اہل خانہ کی ہوائی اڈوں پر تلاشی سے استشنی دینے سے متعلق سول ایوی ایشن کے 12 اکتوبر کا خط ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان اور اہلیہ کی ترکی روانگی کے فوری بعد یہ خط میڈیا کے سامنے لایا گیا باڈی سرچ سے استشنی کا قانون سپریم کورٹ نے نہیں بنایا، نہ ہی ایسا کوئی استشنی مانگا گیا اور نہ ہی دیا گیا، 66 روز کے بعد دلچسپ ٹائمنگ کے ساتھ یہ خط عوام کے سامنے لایا گیا، چیف جسٹس پاکستان کی اہلیہ نے اے ایس ایف کو تلاشی دی ، اے ایس ایف کی خاتون افسر نے مخصوص کمرے میں سرینا عیسی کی تلاشی لی، تلاشی دینے کی اسلام آباد ایئر پورٹ پر لگے کیمرے اسکی تصدیق کر سکیں گے۔

    لڑکے نے لڑکی کو گولی مار کر خودکشی کرلی

    خط کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے ایئر پورٹ پر وی آئی پی لاؤنج استعمال کرنے کی پیشکش سے انکار کیا جسٹس قاضی فائز عیسی نے وی آئی پیز کے لیے ایئر پورٹ پر لگژری لیموزین کے استعمال سے بھی انکار کیا، سپریم کورٹ نے سیکرٹری ایوی ایشن کو خط لکھ کر نشاندہی کی تھی کہ سابق ججز اور بیگمات کو ائیر پورٹ پر جسمانی تلاشی سے استثنی ہے حاضر سروس ججز کی بیگمات کی تلاشی لی جاتی ہے، رجسٹرار سپریم کورٹ کے خط کی وضاحت کی بجائے ڈی جی اے ایس ایف نے حاضر سروس ججز کی بیگمات کو بھی استثنیٰ دے دیا۔

    پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

  • عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس سردار طارق مسعود اور منصور علی شاہ کا حصہ تھے،الیکشن کمیشن کے وکیل روسٹرم پر موجود تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ کیا جلدی تھی اس وقت سب کو آنا پڑا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کے عمیر نیازی نے آر او کے فیصلے کو چیلنج کیا، الیکشن شیڈول جاری کرنے میں وقت بہت کم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تو 8 فروری کو الیکشن کرانے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوشش ہے کہ الیکشن کروا دیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کوشش کیوں آپ نے کرانے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری فلائیٹ میس ہوئی کیسے مداوا کریں گے،بحرکیف کوئی بات نہیں ہم عدالت میں کیس لگا کر سن رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ عمیر نیازی کی درخواست انفرادی ہے یا پارٹی کی جانب سے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ ہائیکورٹ میں آر اوز اور ڈی آراوز کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا،تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جس پر اسٹے ملا ،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کی فہرست حکومت دیتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست گزار کیا چاہتے ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں، درخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے، درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ شق تو کبھی بھی چیلنج کی جا سکتی تھی اب ہی کیوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کیلئے خط لکھا تھا، عدلیہ نے زیرالتواء مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل افیسر فراہم کرنے کے خط کا جواب ہی نہیں دیا ،ہماری پہلی ترجیح تھی کہ عدالتوں سے سٹاف لیا جائے لیکن ہائی کورٹس نے انکار کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ ہائیکورٹ کے خط کے بعد درخواست گزار کیا انتخابات ملتوی کرانا چاہتے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جواب نہیں دیا، پشاور ہائی کورٹ نے کہا جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی سے رجوع کریں، الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینا ہی تھا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی آخر چاہتے کیا تھے؟ہائیکورٹ اپنی ہی عدالت کی خلاف رٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے انتخابات کا فیصلہ دیا تھا،عمیر نیازی کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ انہوں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا کیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت فئیر الیکشن کرائے جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات فئیر نہیں ہو سکتے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 50 اور 51 چیلنج کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کا افسران اپائنٹ کرنے کا حق کالعدم قرار دیا جائے،پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ سے مشاورت کی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کچھ تھکے ہوئے ہیں، اسٹیپ بائے اسٹیپ بتائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ کس نے دیا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی نے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب لارجر بینچ کو ہیڈ کون کررہا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی مائی لارڈ وہی آنر ایبل جج،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ایک جج جب معاملہ لارجر بنچ کے لئے بھیج رہا ہےپھر ساتھ آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی آر اوز سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی! سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں پک اینڈ چوز تو نہیں ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نو، نو ، یہ پوسٹڈ ہیں، ہم نے پک اینڈ چوز نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ پورے پاکستان کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کردیتا ہے ؟لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کا مقصد بظاہر الیکشن نہ کرانے کےلئے تھا،ہم بہت کلیئر ہیں، ہم نے آپ سے کہا تھا ہم آپ کا کام کرائینگے، میں حیران ہوں عدلیہ سے ایسے آرڈر پاس ہو رہے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ بتائیں آپ نے ٹریننگ کیوں روکی، نوٹیفکیشن معطل ہوا، ٹریننگ تو نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے ریٹرننگ افسران لئے تھے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک بھر میں کتنے ڈی آر اوز اور آر اوز تھے؟ جو ریٹرننگ افسران الیکشن کمیشن کے ہیں وہ تو چیلنج ہی نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمشن افسران اور ڈپٹی کمشنرز بھی انتخابات نہ کرائیں تو کون کرائے گا؟ تمام ڈی آر اوز متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز ہیں،اس سے تو بادی النظر میں انتخابات ملتوی کرانا ہی مقصد نظر آتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومت کے آتے ہی تمام افسران تبدیل کئے گئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر خان نیازی کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کل بلوچستان میں پٹیشن چلی جائے، وہاں پنجاب کے لوگ پٹیشن دیتے ہیں، سندھ والے خیبرپختونخوا میں جا کر پٹیشن دیتے ہیں، یہ بہت حیران کن ہو گا، ایسے تو کوئی کل کو آ کر کہے کہ کہ عدلیہ پر اعتماد نہیں تو پھر کیا کریں گے،عمیر نیازی کی ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دیں؟ عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے، الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج الیکشن شیڈول جاری ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل کا موقف سنا گیا تھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاونت کیلئے نوٹس تھا لیکن ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں اٹارنی جنرل کا ذکر ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سماعت سے قبل مجھ سے ہدایات لی تھیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر پورے ملک میں حکم جاری کردیا، سپریم کورٹ نے انتخابات کا حکم دیا ہائیکورٹ نے کیسے مداخلت کی؟ درخواست گزار نے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار کا مسئلہ یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنرز نے ہمارے خلاف ایم پی اوز کے آرڈر کئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی کو کوئی مسئلہ تھا تو سپریم کورٹ آتے،ہائی کورٹ نے پورے ملک کے ڈی آر اوز کیسے معطل کر دیے؟ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں جوڈیشل افسران نہیں دے سکتے، کیا جج نے اپنے ہی چیف جسٹس کیخلاف رٹ جاری کی ہے؟ کیا توہین عدالت کے مرتکب شخص کو ریلیف دے سکتے ہیں؟کیوں نہ عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟کیا عمیر نیازی وکیل بھی ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمیر نیازی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے ہیں،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اگر آر اوز انتظامیہ سے لینے کا قانون کالعدم ہوجائے تو کبھی الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست دی گئی ہے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست نہیں دی گئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ریٹرننگ افسر جانبدار ہو تو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد افسر اکیلے عمیر نیازی کیخلاف جانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں،الیکشن شیڈول کب جاری کریں گے؟ کہاں ہے شیڈول ؟ کچھ تو بنایا ہوگا؟ ابھی تک جاری کیوں نہیں ہوا؟ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹریننگ کےبعد انتخابات کا شیڈول جاری کریں گے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ پہلے ٹریننگ کرینگے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رات کو ٹریننگ کروا دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں، یا تو بتائیں یا سب کو بلالیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپکو کو ڈی آر اوز اور آراوز کی ضرورت تو آگے جا کر ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ نے پتہ نہیں شیڈول کیوں روک دیا؟ٹریننگ بلاوجہ کیوں روکی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن بھی انتخابات نہیں چاہتا؟ الیکشن کمیشن نے ڈی آر اوز کی معطلی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا؟ عدالتیں نوٹیفکیشن معطل کریں تو متعلقہ ادارہ معطلی کا نوٹیفیکیشن نہیں جاری کرتا، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ افسران کو الیکشن کمیشن نے حکم دینا ہوتا ہے،

    سپریم کورٹ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا 13 دسمبر کا حکمنامہ غیر قانونی قرار دے دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبر کے حکم کی خلاف اپیل دائر کی گئی،سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کرنے والوں کو ہائی کورٹ میں فریق بنایا گیا، درخواست میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 غیرآئینی قرار دینے کی استدعا تھی، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عدالتی ہدایات پر آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی، تمام فریقین آٹھ فروری کی تاریخ پر متفق تھے،وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق عدالت نے پابند کیا تھا کوئی انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا، انتخابات کے انعقاد کیلئے تعینات ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، الیکشن کمیشن کے مطابق ہائی کورٹ آرڈر کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،وکیل کے مطابق ہائی کورٹ حکم کی وجہ سے الیکشن شیڈیول جاری کرنا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق گزشتہ انتخابات سے آج تک کسی نے یہ شقیں چیلنج نہیں کیں،سجیل سواتی کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم میں تضاد پایا جاتا ہے، وکیل کے مطابق کیس لارجر بنچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفیکیشن معطل کیا گیا،

    پی ٹی آئی کی وکیل مشعل یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئیَں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم حکم نامہ لکھو رہے ہیں مداخلت نہ کریں، آپ کون ہیں کیا آپ وکیل ہیں؟جا کر اپنی نشست پر بیٹھیں،آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشعل یوسفزئی سپریم کورٹ وکیل نہیں ان کا بولنا نہیں بنتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دوبارہ مداخلت کی تو توہین عدالت کا نوٹس دینگے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے 1011 ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کو کام سے روکا،ہائی کورٹ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ افسران نے ملک بھر میں خدمات انجام دینی ہیں، ہائی کورٹ نے اپنے علاقائی حدود سے بڑھ کر حکم جاری کیا،عدالت نے استفسار کیا کسی ریٹرننگ افسر کیخلاف درخواست آئی تھی؟ الیکشن کمیشن نے بتایا کسی نے کوئی درخواست نہیں دی،عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،عمیر نیازی کہتے ہیں وہ بیرسٹر ہیں تو انہیں سپریم کورٹ احکامات کا علم ہونا چاہیے تھا،بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی، کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟سپریم کورٹ نے عمیر نیازی کو نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آر اوز ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے روک دیا،اور کہا کہ لاہور ہائی کورٹ مزید کاروائی نہ کرے،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے،

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن کو فوری انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابات کا شڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج باقر نجفی نے مس کنڈکٹ کیا. آئندہ کوئی بھی جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کرے, الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذ مے داریاں جاری رکھے،

    عمیر نیازی کو نوٹس جاری، الیکشن کمیشن آج ہی شیڈول جاری کرے،لاہور ہائیکورٹ درخواست پر کوئی کاروائی نہیں کریگی،سپریم کورٹ

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن تین رکنی بنچ کا حصہ نہیں بنے،جسٹس اعجاز الاحسن کی کچھ اور مصروفیت تھی، جسٹس منصور علی شاہ کو سینئر جج ہونے پر گھر سے بلایا ہے،یہ وقت شفافیت اور احتساب کا ہے،جو بنچ یہ مقدمہ سن رہا ہے اس کی منظوری جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی دی،اب میں اکیلے بنچ تشکیل نہیں دے سکتا،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات ختم ہونے کے بعد،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی،الیکشن کمیشن نے اپیل میں لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی کورٹ روم نمبر ایک میں عملہ پہنچا،سپریم کورٹ کے بند دفاتر بھی کھول دیے گئے تھے، درخواست وصول کرنے والا عملہ بھی پہنچ چکا ہے،،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی، سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،اس موقع پر صحافیوں کے سوال کے جواب میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ 8فروری کو انتخابات سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، درخواست تیار کرلی ہے،کچھ دیر بعد سپریم کورٹ میں دائر کردیں گے،جسٹس منصور علی شاہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے کمرہِ عدالت نمبر ون میں تین کرسیاں لگا دی گئی ہیں،

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئےہیں، صحافی بھی کوریج کے لئے سپریم کورٹ میں موجود ہیں، اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں اور خلائی مخلوق کی بڑی تعداد کس بے چینی کا اظہار کررہی ہے؟”

    گزشتہ روز خبریں سامنے آئی تھیں کہ الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائے گا جسکی الیکشن کمیشن نے فوراً سختی سے تردید کر دی۔اور کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ نہیں کیا ،تا ہم آج الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے سےیوٹرن لیا اور آج سپریم کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی

    الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو عام انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے، الیکشن کمیشن پولنگ ڈے سے 54 روز قبل انتخابی شیڈول جاری کرنے کا پابندہے، اگر آٹھ فروری کو پولنگ ہو گی تو اس حساب سے الیکشن کمیشن کو کل ہر حال میں انتخابی شیڈول جاری کرنا پڑے گا،انتخابی شیڈول کے مطابق 17 دسمبر پہلا دن اور 8 فروری 54واں دن بنتا ہے، اگر کل الیکشن شیڈول جاری نہ ہو سکا تو الیکشن لیٹ ہو سکتے ہیں،

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ ، خواجہ سعد رفیق نے حلقہ بندیوں کے حوالہ سے بھی درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ بندیاں ن لیگ کی درخواست پر کالعدم قرار دی ہیں، آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کوہاٹ کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے ہیں، ایسے میں ان حلقوں میں حلقہ بندیوں کا فیصلہ بھی الیکشن کمیشن کو کرنا ہے، جب تک حلقہ بندیوں کا فیصلہ نہیٰں ہو گا الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں؟

    آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا ،مظہر عباس
    سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے مسئلے چل رہے ہیں ، الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ،لوگ گرفتار ہو رہے ،پی ٹی آئی کو اس وقت الیکشن سوٹ نہیں کرتے ، اب اگر الیکشن وقت پر ہوتے ہیں پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو سوٹ کرتے ہیں، پی ٹی آئی مشکلات کی وجہ سے ابھی الیکشن کی ریس میں نہیں ہے،الیکشن لیٹ ہو گاتو سوال تو ہو گا، آئینی سوال ہو گا، آپکا سینیٹ مارچ میں آدھا خالی ہو رہا ہے، یہ بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے،تحریک انصاف کے لئے امیدوار تلاش کرنا پھر پولنگ ایجنٹ ہر بوتھ کے لئے مسئلہ بن چکا ہے، آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا کیونکہ چیف جسٹس نے واضح کہا تھا کہ کوئی ابہام پیدا نہ کیا جائے، اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ابہام پیدا ہو گیا ہے

    کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد آئینی ادارہ ہے ۔ملک میں الیکشن کروانا صرف الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے ۔کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔ملکی حالات اور آئین کا تقاضا ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں۔ مسلم لیگ (ن) انتخابات مقررہ وقت پر ہونے کی مکمل حمایت کرتی ہے

    الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحال لاہور ہائیکورٹ کے حکمنامے کی نقل ہی مل سکی ہے، الیکشن کمیشن کے رجوع کے باوجود لاہور ہائیکورٹ نے تاحال حکمنامہ کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی،

  • چیف الیکشن کمشنر کی چیف جسٹس سے ملاقات

    چیف الیکشن کمشنر کی چیف جسٹس سے ملاقات

    چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کی چیف جسٹس فائز عیسی سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات سپریم کورٹ میں ہوئی،ملاقات میں جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شریک تھے، چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں اٹارنی جنرل بھی شریک تھے،چیف الیکشن کمشنر نے ججز کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناع سے آگاہ کیا، ملاقات لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر سے پیدا صورتحال پر ہو ئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پہلے سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز سے مشاورت کی، مشاورت کے بعد اٹارنی جنرل اور چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کیلئے بلایا گیا،

    این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس،الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
    دوسری جانب ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا ،عدالت نےکہا کہ آئندہ سماعت تک جواب آنے دیں پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں ، الیکشن شیڈول کا تو فی الحال امکان دکھائی نہیں دے رہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری کرامت کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل تیمور اسلم عدالت میں پیش ہوئے،کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن خود ہی الیکشن قانون کی دھجیاں اڑانے لگا، ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی انتخابی شیڈول سے 60 روز قبل کرنا ضروری ہے۔ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی تاخیر سے کی گئی اور تاخیر کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ اور ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی خلاف قانون کی گئی۔الیکشن ایکٹ کے تحت غیر معمولی حالات میں تعیناتی میں تاخیر کے لئے الیکشن کمیشن وجوبات بتانے کا پاپند ہوگا۔الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 52 آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آر اوز اور ڈی آر او کی تعیناتی الیکشن ایکٹ کےسیکشن 50 اور 51 کے تحت ہوگی،کیا آر اوز اور ڈی ار اوز کی تعیناتی ایکشن ایکٹ کی شق 52 کے خلاف کی ہے یا قانون کے مطابق؟ترجمان خاموش ہے،لاہور ہائیکورٹ نے 13 دسمبر کو بیوروکریسی سے آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی کو معطل کیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 دسمبر کو بیوروکریسی سے آر اوز اور ڈی آر اوز تعینات کیے تھے.
    الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 52 آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی سے متعلق ہے

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر، ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری کا اعلان ہے،مسلم لیگ ن انتخابات کے لیے تیارکا عمل شروع کر چکی ہے، نواز شریف کی صدارت میں پارلیمانی بورڈ کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں،پی ٹی آئی کی جانب سے آر او کی تقریری کو سسپنڈ کروانا ایک سازش ہے،

    الیکشن شیڈول اور انتخابی عمل تاخیر کا شکار ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے تحریک انصاف کی لاہور ہائی کورٹ میں درخواست پر کہا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے الیکشن میں تاخیر کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، فیصلے کے باعث الیکشن کمیشن میں جاری ریٹرننگ افسران اور ڈپٹی ریٹرننگ افسران کی تربیت بھی معطل ہوگئی ہے،تحریک انصاف کے رہنماء خود تسلیم کر رہے کہ ہمارے خلاف الیکشن میں تاخیر متعلق تاثر درست ہے، تحریک انصاف کے دوہرے معیار کی وجہ سے متوقع الیکشن شیڈول اور انتخابی عمل تاخیر کا شکار ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ تحریک انصاف نے ایک بار پھر انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے، یہ ان کی غیر جمہوری اور اور غیر سیاسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے،
    عمران خان چاہتے ہیں میں نہیں تو انتخابات بھی نہیں،واضح طور پر تحریک انصاف نہیں چاہتی کہ ملک میں انتخابات ہوں، پیپلز پارٹی الیکشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، چیرمین بلاول بھٹو زرداری ملک بھر میں الیکشن مہم چلا رہے ہیں، ہمیں امید کے عدلیہ اس معاملے کو جلد از جلد سلجھائے گی اور الیکشن کمیشن مقرر وقت پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے گا،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی

     آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، 

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند