Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،سپریم کورٹ

    خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،سپریم کورٹ

    حق مہر کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،چھ سال تک حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر پر شوہر کو ایک لاکھ جرمانہ اور قانونی چارہ جوئی کی ادائیگی کا حکم دیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ حق مہر شرعی تقاضا ہے جس کا تحفظ ملکی قوانین میں بھی موجود ہے،حق مہر کی ادائیگی کا وقت نکاح نامہ میں مقرر نہ ہو تو بیوی کسی بھی وقت تقاضا کر سکتی ہے، موجودہ کیس میں بیوی کو حق مہر کے حصول کیلئے مقدمہ دائر کرنا پڑا جو چھ سال بعد سپریم کورٹ پہنچا، عدالتوں نے غیرضروری اپیلیں دائر کرنے پر شوہر کو جرمانہ عائد نہیں کیا،غیرضروری اپیلوں پر جرمانہ کیا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، غیرضروری اپیلیں دائر کرنے سے عدالتی نظام مفلوج ہوتا جا رہا ہے،بلاوجہ کی مقدمہ بازی ختم کرنے کیلئے عدالتوں کو جرمانہ کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہیے،تین صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا ،سپریم کورٹ نے خالد پرویز کی اہلیہ ثمینہ کو حق مہر کی ادائیگی کے حکم کیخلاف اپیل خارج کر دی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

  • چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    عمران خان کے چیف جسٹس پاکستان کے نام خط پر سپریم کورٹ کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا ادراک ہے،چیف جسٹس فائز کسی کو نہ دباو میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے۔ چیف جسٹس فائزعیسی اللہ کے فضل سے اور اپنے حلف کے مطابق فرائض کی انجام دہی کرتے رہیں گے۔یکم دسمبر کو 84 صفحات کی درخواست موصول ہوئی جو زرد رنگ کی پیپر بک میں ہے۔دستاویز تیار کرنے والے وکیل کا نام اور رابطہ کی تفصیلات نہیں دی گئی۔لفافے کے مطابق دستاویز انتظار حسین پنجھوتہ نے کورئیئر کی تھی۔دستاویز بظاہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔اس جماعت کی اچھی نمائندگی وکلاء کرتے رہے ہیں۔پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں اس جماعت کے وکلاء فوجی عدالتوں اور انتخابات کیس کو تکمیل تک لے گئے۔یہ امر حیران کن ہے کہ سربمہر لفافہ موصول ہونے سے پہلے ہی دستاویز کس نے میڈیا کو جاری کیا.

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام خط لکھا گیا تھا،خط میں پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کےخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی،خط میں چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں روکی جائیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں،پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے، سینئیر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن دائر کی،اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے،

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

  • چیف جسٹس کو دی گئی گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس کو دی گئی گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    چیف جسٹس کو دی گئی شاہانہ گاڑیاں نیلام کی جائیں گی،چیف جسٹس کے لئے 2020 میں خریدی گئی 61 ملین کی مرسڈیز بینز نیلام کی جائے گی،پنجاب حکومت کی فراہم کی گئی بلٹ پروف لینڈ کروزر بھی نیلام کی جائے گی،گاڑیوں کی نیلامی کیلئے سیکرٹری کابینہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو خط ارسال کر دیا گیا، خط میں کہا گیا کہ آئینی عہدوں کیلئے لگژری گاڑیاں درآمد کرما مناسب نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے دونوں گاڑیاں استعمال نہیں کیں،گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل رقم پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کی جائے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • پی ٹی آئی کا سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر  چیف جسٹس سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کا سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر چیف جسٹس سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام خط لکھا گیا ہے

    خط میں پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کےخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی،خط میں چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں روکی جائیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں،پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے، سینئیر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن دائر کی،اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے،

  • پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف مرحوم کی سنگین غداری کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،توفیق آصف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر پیش ہوئے اور کہا کہ آخری سماعت کے دوران میں اپنے دلائل مکمل کرہا تھا،میں عدالت میں تحریری دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تحریری دلائل کمرہ عدالت میں پڑھیں گے یا ہم خود پڑھ لیں ؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں میں نے تحریری معروضات جمع کروا دیں ہیں، توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کرلئے

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر کیا؟ کیا کہیں ذکر ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،ایسا نہیں تو پھر خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آن فیلڈ ہی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے جب فیصلہ دیا تو کیا خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے جب خصوصی عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہا تو اکیڈمک مشق کی کیا ضرورت تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پاکستان بار کونسل کے نمائندے کی تیاری نہ ہونے پر ناگواری کا اظہار کیا، مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاونت نہیں مل رہی،لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ نے جب فل کورٹ تشکیل تجویز کی تو اگلی تاریخ کیسے دی؟فل کورٹ تشکیل دینا نہ دینا تو پھر چیف جسٹس کا اختیار تھا،عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تو ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست غیر موثر ہو چکی ہے،فیصلے کے بعد ہائیکورٹ میں درخواست ترمیم کے بعد کی چل رہی تھی،ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے عدالت کی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے سکتی ،خصوصی عدالت ایک ریگولیٹر عدالت تھی ہی نہیں،وہ تو ایک فیصلے کیلئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مشرف بھی سمجھتے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے بعد بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار ہے،پرویز مشرف نے اسی لیے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان صفدر سے سوال کیا کہ آپ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو جانتے ہیں یا نہیں؟خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے, ہائیکورٹ کے حکم میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو ختم کرنے کا نہیں کہا گیا,

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کرنے کی تو استدعا ہی نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا فیصلہ آچکا تھا،سارے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر نہیں،وکیل نے کہا کہ اسی وجہ سے پرویز مشرف نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ایک روز کا نوٹس دیا ،کیا ہائیکورٹ میں ایک روز کا نوٹس دیا جاتا ہے، فل کورٹ کی تشکیل کیلئے معاملہ بھجواتے ہوئے تاریخ کیسے دی جا سکتی ہے،ممکن ہے چیف جسٹس فل کورٹ سے متفق ہو یا نہ ہو، خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم ہونی چاہیے تھی، خصوصی عدالت صرف اسی کیس کیلئے بنائی گئی تھی جو فیصلہ سناتے ہی ختم ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متفق تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرا موقف ہے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ فیصلے کو تسلیم کرتے تو پھر یہ اپیل نہ کرتے، پرویز مشرف کے وکیل آج بھی اپیل پر کھڑے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت نے اعتراض کیا تھا یا سیم پیج پر تھی،خصوصی عدالت کے فیصلے بارے ہائیکورٹ کو بتانا تو تھا، اگر آئین غصب ہو جائے تو پھر عدالت 1956 تک بھی جا سکتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نےویڈیو لنک پر دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ پاکستان بار کے دلائل اپنانا چاہتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گے،کہ کیا کیا ہوا،رشید رضوی نے کہا کہ مجھے جسٹس اطہر من اللہ کا احترام ہے مگر بالکل جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں، بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،پرویزمشرف کےمارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، کاروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کاروائی ہو گی تو فئیر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہدایات کی بات نہ کریں آپ خود ایک قانونی ماہر کی حیثیت سے بتائیں،کیا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیصلہ مانتے ہیں؟ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، فیصلہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھینک یو،آپ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا جو راستہ چنا تھا ہم اس سے متفق ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ بھی لاہور ہائیکورٹ میں سیم پیج پر تھے،کیا وفاق نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو نہیں بتایا کہ اب خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی،کیا آپ نے لاہور ہائیکورٹ سے کہا نہیں کہ آپ آگے نہیں چل سکتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سوال کا واضح جواب نہ دے سکے.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید اے رضوی صاحب ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر کسی فیصلے کوختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے،جس نے مارشل لاء کو راستہ دیا،ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ماضی میں ہو چکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا،کیا ساوتھ افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی؟ قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے، سزا اور جزا اوپر بھی جائے گی،کئی بار قتل کے مجرمان بھی بچ نکلتے ہیں،وکیل آکر بتائیں نہ آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں،جج ہی یہاں بیٹھ کر کیوں پوائنٹ آوٹ کریں،میڈیا بھی ذمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے،بتائیں نہ کتنے صحافی مارشل لاء کے حامی کتنے خلاف تھے؟ ہمیں تاریح سے سیکھنا چاہیے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تاریخ پھر یہ ہے کہ جب کوئی مضبوط ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی نہیں بولتا،جب طاقتور کمزور پڑھ جاتا ہے اس کے بعد عاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب آپ مزید جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں سلمان صفدر آپ آج مزید کچھ کہنا چاھیں گے یا پھر اپیل تک محدود رہیں گے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس کیس میں مزید دلائل دینا چاہتا ہوں،جس قانونی نکتے پر عدالتی معاونت کرنا چاہتا ہوں اس پر آئندہ سماعت پر دلائل دونگا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو مزید مہلت دے دیتےہیں آپ تیاری کرکے آئیں اس دن آپ کو مزید مہلت نہیں ملے گی۔اس عدالت میں اگر کوئی نہیں آنا چاہتا تو زور زبردستی نہیں کرسکتے۔سلمان صفدر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عدالت پرویزمشرف کے اہل خانہ کو سوچنے کی مزید مہلت دے۔ وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میں ججوں کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی عدالت کے نوٹس میں لے آیا ہوں،پرویز مشرف کے اقدام کو جواز فراہم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہوگئے

    لاہور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف توفیق آصف کی اپیل پر وکیل حامد خان نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدالتی معاون نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی کی حمایت کی؟وفاق نے بھی کارروائی پر اعتراض نہیں کیا،اس وقت حکومت کس کی تھی؟ وکلا نے جواب دیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب اب ہم آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے،حامد خان صاحب آپ اپنے گھر سے ہوئی غلط بات کو غلط کہنے کھڑے ہیں،حامد خان صاحب اسی لیے آپ کا قد بڑا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سب ایک ہی پیج پر تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیج کیا تھا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگرہم اتنی دیر تک مہلت دیتےہیں تو اس کیس کی محرکات، اثرات پر جتنی بھی قانونی معاونت ہے اس پر تیاری کرکے آئیے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس میں تشریح کا معاملہ بھی ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ اس میں مئوکلان سے ہدایات لے کر عدالت کی معاونت کروں،

    عدالت نے کہا کہ سماعت کے دوران حامد خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ، سندھ بار کونسل کے وکیل رشید رضوی اور دیگر وکلا نے دلائل دیئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جب کارروائی شروع ہوئی اسوقت کی حکومت بھی کارروائی نہیں چاہتی تھی،اس وقت کی حکومت کو بھی اس عدالت نے کارروائی کی طرف مائل کیا،سنگین غداری کیس جب شروع ہوا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے 12 اکتوبر کو کارروائی کا حصہ نہیں بنایا؟چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایک شخص ہی حکومت چلارہا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سب سول حکومتیں ایک ہی پیج پر تھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو برملا الفاظ میں پرویز مشرف کو جواز دینے والے فیصلے کی مزمت کیوں نہیں کرنی چاہیے،حامد خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے ،کہامیں صرف سزا کے خلاف اپیل پر فوکس کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو آئندہ سماعت پر سنیں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل چلا کر سزا سنائی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا پرویز مشرف کے ورثا سے رابطہ ہوا،سلمان صفدر نے کہا کہ میں نے کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی،میری استدعا ہے پرویز مشرف کی فیملی کو وقت دیا جائے انہوں نے 4 سال یہ اپیل مقرر ہونے کا انتظار کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سزا برقرار رہتی ہے تو پرویز مشرف کی پینشن اور مراعات پر بھی اثر پڑے گا،اس سوال پر بھی آئندہ سماعت پر معاونت کریں،ہم سزا بھی برقرار رکھیں اور سب کو پینشن اور مراعات بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے وفاق کا موقف تو سنا نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کنفیوز لگ رہے ہیں انہیں شاید وہ سیم پیج مل نہیں رہا،تاریخ میں نہیں جانا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کب تک کہیں گے تاریخ میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اب ان باتوں پر جانا ہے کہ کس نے کیا کیا،
    آج ہم ملک کی 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں میں آپ کو سننا چاہتا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اسمبلیوں کو معطل کیا، ان ججز کو کیا کہیں گے جنہوں نے اس سارے عمل کو قانون جواز بنایا،بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،کارروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کارروائی ہوگی تو فیئر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، اس عدالت کے ججز نے اپنے کاز کیلئے فیصلے دیئے، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے تھا، تین نومبر پر کاروائی ہوئی لیکن 12 اکتوبر پر نہیں، ہمیں سچ بولنا چاہیے جو حقیقت ہے،جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افریقہ اور جرمنی نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، جزا سزا تو اللہ دے گا، کم از کم تسلیم تو کریں کیا صحیح تھا کیا غلط، اسکولوں میں بھی آئین پڑھایا جانا چاہیے،انگلینڈ میں اب موومنٹ آ رہی ہے کہ غلطیوں کو مانیں، جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا اصول درست نہیں ہو سکتا،جنہوں نے بھی ڈکٹیٹر کے فیصلوں کو تسلیم کیا ان کا بتائیں،قانون کے توڑنے کو درست نہیں کہا جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائی لارڈ نے درست کہا قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے لوگ تھے جو مضبوط رہے، آپ کو آئندہ تاریخ کب کی چاہیے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سردی کی چھٹیوں کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ انہیں مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کی تھی،وکیل کے مطابق پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کی ہدایت نہیں کی،پرویزمشرف کے وکیل نے چھٹیوں کے بعد تاریخ مانگی،پرویزمشرف کے وکیل اس دوران مرحوم جنرل کی فیملی سے رابطے کی کوشش کریں گیے،پرویز مشرف کے وکیل سے عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟کیا سزا برقرار رہنے پر مشرف کی فیملی کو مراعات دینی چاہیں یا نہیں؟

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں جس میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کا جائزہ لیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں پہنچ گئے ،سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے اعتراضات پر غور کر رہی ہے۔ جسٹس نقوی بھی ایس جے سی اجلاس میں موجود ہیں۔ خواجہ حارث نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کی نمائندگی کی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی روکنے کی استدعا کر دی، وکیل خواجہ حارث نے جسٹس مظاہر نقوی کا خط سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھ دیا. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی آج مکمل نہ ہو سکی. سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کل تین بجے تک ملتوی کر دی گئی

    قبل ازیں سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس طارق مسعود کے خلاف شکایت کو خارج کر دیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندہ آمنہ ملک کو بھی نوٹس جاری کیا تھا، اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف جوڈیشل کمیشن میں دائر ہونیوالی شکایت متفقہ طور پر خارج کی گئی جس کے بعد اجلاس میں وقفہ کر دیا گیا

    جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کنندہ میاں‌داؤد ایڈوکیٹ کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا وہ سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں، اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اپنا بیان دیں گے،میاں داؤد ایڈوکیٹ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ثبوت لے کر پہنچے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس سردار طار ق مسعود کیخلاف ریفرنس صدر سول سوسائٹی نیٹ ورک آمنہ ملک کی طرف سے دائر کیا گیا تھا ،ریفرنس میں جسٹس سردار طارق کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کفر والا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن وہ نہیں جہاں ناانصافی ہو،سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے لیے اپنے مالیاتی،ٹیکس معاملات کو قوم اور ریونیو ڈویژن سے چھپانا غیر مناسب بلکہ حیران کن ہے،معلومات کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں دو کروڑ 46 لاکھ روپے کا دعویٰ کیا، انکم ٹیکس کے قواعد کے تحت کسی دستاویزی ثبوت کے ساتھ اس رقم کی تائید نہیں ہوتی،معزز جج قانونی طور پر رقم سے متعلق دستاویزی ثبوت ظاہر کرنے اور فراہم کرنے کا پابند ہے،رقم کس سے اور کیسے حاصل کی گئی یہ بتانا ضروری ہے،رقم کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے بینکنگ چینل، دستاویزات سے ثابت کرنا ضروری ہے، اتنی بڑی رقم کے ثبوت فراہم نہ کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے

    ریفرنس میں جسٹس اخلاق حسین کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے عہدے پر بیٹھے ایک شخص کا سے یہ عمل حیران کن ہے، کوئی بھی ملک کے قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے،سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی رائے قائم کرنے کے لیے مزید مواد/ڈیٹا/ثبوت حاصل کر سکتی ہے،پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی نمائندگی کرنے والا شخص جان بوجھ کر مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام کا انتخاب کر رہا ہے،ریفرنس میں ججز کے حلف کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ آئین پاکستان ججز سمیت سب کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیتا ہے،جج کی طرف رقم اکے ذرائع چھپانا عملی طور پر آرٹیکل 4 اور 5(2) کی صریح خلاف ورزی ہے جسٹس سردار طارق مسعود سنگین مس کنڈڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طور پر بیٹھے جسٹس سردار طارق مسعود نے مالی مجرمانہ ذہنیت دکھائی،اثاثے اور ذرائع چھپانے پر سردار طارق مسعود کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، جسٹس سردار طارق مسعود کو عہدے سے ہٹایا جائے،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • 6 سال تک بیوی کو حق مہر نہ دینے پر سپریم کورٹ کا حکم

    6 سال تک بیوی کو حق مہر نہ دینے پر سپریم کورٹ کا حکم

    سپریم کورٹ میں بیوی کو حق مہر کی رقم دینے کے حوالہ سے درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی کتنی بیویاں ہیں جس پر وکیل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزارکی 2 بیویاں ہیں،نکاح نامہ میں لکھا گیا پانچ لاکھ حق مہر چھ برس تک نہ ادا کرنے پر عدالت نے وکیل درخواستگزارکی سرزنش کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حق مہر بیوی کا حق ہے اسے کیوں نہیں دیا آپ کو اب ایک لاکھ ادا کرنے کا حکم جاری کررہے ہیں تاکہ آئندہ ایسے کیسز عدالت میں نہ لائیں،وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ میں اپنا کیس واپس لیتا ہوں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں ہو گا جب مرضی آپ کیس واپس لے لیں، 6 سال آپ نے بیوی کو حق نہیں دیا اور اب سپریم کورٹ آ گئے قانون پسند نہیں تو کم از کم اسلام کا ہی احترام کر لیں، اب انصاف ملے گا تو دونوں طرف ملنا چاہیے،عدالت نے بیوی کو حق مہر نہ دینے پر درخواست گزار شوہر کو ایک لاکھ جرمانہ عائد کردیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں حق مہر ادا کر کے فیملی کورٹ کو آگاہ کریں اور دستاویزات جمع کروائیں اگر 30 روز میں حق مہر ادا نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے.

    فیسکو ملازم کے سپریم کورٹ میں پنجابی میں دلائل،درخواست مسترد
    دوسری جانب سپریم کورٹ میں فیسکو ملازم کی معطلی کے دوران تنخواہ فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔ درخواست گزار عبدالرشید نے عدالت میں خود کیس لڑنے کی استدعا کی۔عدالت نے درخواست گزار کو دلائل دینے کی اجازت دی،فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ملازم کے پنجابی زبان میں دلائل دیئے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ پنجاب میں دلائل دینے ہیں؟الیکٹرک سپلائی کمپنی میں عہدہ کیا ہے؟درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ میں بل ڈسٹری بیوٹر ہوں، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے نوکری دی،کس کی سفارش پر نوکری ملی تھی؟ درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ 1990میں انٹرویو دیااور بھرتی ہو گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا انٹرویو بھی پنجابی میں ہوا تھا؟ جس پر درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ جی پنجابی میں انٹرویو ہوا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بل ڈسٹری بیوٹر کو اردو اور انگریزی پڑھنا سمجھنا تو آنا چاہئے آپ کام کیسے کرتے ہیں؟بل پنجابی میں ہوتا ہے کیا؟آپ کو محکمے نے بحال تو کردیا، اب آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟آپ تو اس نوکری کیلئے موزوں ہی نہیں لیکن پھر بھی محکمے نے آپ کو بحال کردیا،جسٹس اطہر من اللہ نےاستفسار کیاکہ کیا آپ انگریزی یا اردو لکھ سکتے ہیں؟ درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ کچھ لکھ سکتا ہوں،سپریم کورٹ نے بعد میں حکمنامہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا،عدالت نے درخواست گزار کی استدعا مسترد کرتے ہوئے خارج کردی.

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

  • جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی چیلنج کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی چیلنج کر دی

    سپریم کورٹ: جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی نے کارروائی کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا کر دی، دائر درخواست میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے آئندہ کارروائی کیلئے موصول نوٹس بھی غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کر دی

    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آج ہوگا ،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اجلاس کی صدارت کرینگے .جسٹس سردارطارق مسعود اورجسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف درخواستوں کاجائزہ لیا جائے گا.اجلاس میں جسٹس مظاہرنقوی کے اعتراضات پربھی غورکیا جائےگا،سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کوشوکازنوٹس جاری کررکھا ہے۔کونسل نے جسٹس سردارطارق کیخلاف شکایت کنندگان کوشواہد کے ہمراہ طلب کیا ہے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن ریفرنس کا معاملہ ،جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات پر شکایت کنندہ میاں دائود ایڈووکیٹ کا ردعمل سامنے آیا ہے,میاں داؤد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے تسلیم کر لیا کہ انکے پاس کرپشن الزامات کا کوئی جواب نہیں،جسٹس مظاہر نقوی صاف صاف بتائیں کہ کینٹ اور گلبرگ کی جائیدادوں کیلئے ناجائز پیسہ کہاں سے آیا، اگر جسٹس نقوی نے چوری نہیں کی تو رسیدیں دکھانے میں کیا حرج ہے؟ پراپرٹی ڈیلر نے جسٹس نقوی کی صاحبزادی کے بینک اکائونٹ میں 10 ہزار پائونڈ کیوں بھجوائے، جسٹس نقوی کی ناجائز دولت میں زیادہ اضافہ جنرل مشرف کی سزائے موت ختم کرنے کے بعد ہوا، جنرل مشرف کی سزا ختم کرنے کے عوض جسٹس نقوی اور انکے خاندان کو نوازا گیا، جسٹس مظاہر نقوی اخلاقی ہمت دکھائیں اور اپنے خلاف کارروائی کی کھلی عدالت میں سماعت کی استدعا کریں، جسٹس نقوی ریفرنس کی کھلی عدالت میں سماعت ہوگی تو عوام کو سچے اور جھوٹے کا پتہ چل جائیگا،

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی
    ترجمان نگران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے سویلین کی ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیئے کوئی اپیل دائر نہیں کی،یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ سندھ حکومت نے ملٹری کورٹس میں سویلین کی ٹرائل کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل فائل کی ہے

    دو دن قبل سندھ حکومت کی جانب سے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف ایک اپیل سپریم کورٹ میں لائی گئی تھی،تاہم عدالتی وقت ختم ہو گیا تھا اور اپیل دائر نہ سکی تھی، مروجہ طریقہ کار کے مطابق اس درخواست کو اگلے روز خود ہی دائر ہو جانا تھا،جب خبریں سامنے آئیں تو سندھ حکومت خاموش رہی تا ہم آج دو دن بعد سندھ حکومت نے تردید کر دی اور کہا کہ کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی،

    دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی حکومت اور وزارت دفاع نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں جس میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبرکو فوجی عدالتوں میں سویلینزکا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا، فوجی عدالتوں کے خلاف تحریک انصاف نے بھی سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے، علاوہ ازیں سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی تھی،9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • ارشد شریف قتل کیس،جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست

    ارشد شریف قتل کیس،جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست

    صحافی ارشد شریف قتل کیس ،ارشد شریف کی والدہ نے کیس کی جلد سماعت کیلئے متفرق درخواست دائر کر دی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 27 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں کیس سماعت کیلئے مقرر کیاجائے،سپریم کورٹ میں کیس زیر التوا ہونے کے باعث معاملے کی تحقیقات رک چکی ہیں، کیس کی آخری سماعت 13 جون کو ہوئی تھی،جس طرح معاملات چل رہے ہیں فیملی میں مایوسی پائی جاتی ہے سپریم کورٹ میں کیس آخری بار 13 جون کو سنا گیا تھا 27نومبر سے شروع ہفتے میں کیس کو مقرر کیا جائے

    ارشد شریف کو  کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،