Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف سماعت آج 18 ستمبرکو ہوگی چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کرے گا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت کے لئے فل کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا، چیف جسٹس فائزعیسی کا پہلا بنچ ہی تاخیرکا شکارہوگیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے درخواستوں پر سماعت ساڑھے 9 بجے مقرر کی گئی تھی تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود 10 بجے بھی بنچ نہ پہنچ سکا چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس جاری ہے اور تاخیرکی وجہ براہ راست نشریات کیلئے ہونے والی فل کورٹ میٹنگ ہے۔

    سائفر کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں فُل کورٹ کے دیگرارکان میں جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس سید منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظہرعلی اکبر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس سید حسن اظہررضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹارنی جنرل، و فاقی سیکریٹری قانون سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل …

    سپریم کورٹ کا فل کورٹ ایجنڈا جاری کردیا گیا جس میں عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ اور کیسز کی سماعتوں کو موثر بنانے کے لیے گائیڈ لائنز بھی ایجنڈے میں شامل ہےفُل کورٹ ایجنڈے کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے گا سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں8 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ بارایوسی ایشن کی درخواست حکم امتناع جاری کیا تھا۔

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    اس قانون میں چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات سمیت مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دینے کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی بنانے کا کہا گیا تھا یہ کیس 15 ستمبر بروز جمعہ کو رجسٹرار آفس کی جانب سے سپریم کورٹ میں 18 ستمبر کو سماعت کے لئے مقرر کیا گیا تھا، اور رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔

    بالی ووڈ اداکارہ زرین خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہےکہ عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھایاچیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ پہلےروز بغیر پروٹوکول سپریم کورٹ پہنچے اور وہ اپنی ذاتی گاڑی میں عدالت آئے جہاں عملے نے ان کا استقبال کیا۔

    اس موقع پر عملے سے گفتگو میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج میری بہت ساری میٹنگز اور فل کورٹ ہے، آپ لوگوں سے تفصیلی ملوں گا، آپ سب کا تعاون چاہیےلوگ سپریم کورٹ خوشی سے نہیں آتے، اپنے مسائل ختم کرنے کیلئے عدالت آتے ہیں لہٰذا آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں یقیناً کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے، انصاف کے دروازے کھلے اور ہموار رکھیں، آنے والے لوگوں کی مدد کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو اپنی ذمہ داری دل جمی سے ادا کرنے کی ہدایت کردی،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانا تھا، پولیس نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی گارڈ آف آنر دیا تھا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج ہو گی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کریں گے، سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کرے گاسپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا-

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

  • میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال آبدیدہ ہو گئے

    میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال آبدیدہ ہو گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ افسران و اسٹاف کیساتھ الوداعی خطاب کیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دوران خطاب آبدیدہ ہوگئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےخود کو ڈوبتے سورج سے تشبیہ دی اور کہا کہ آپ کیساتھ بطور سپریم کورٹ جج نو سال بڑے اچھے گزرے۔ میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ہے۔ آپ لوگوں کا ابھی وقت پڑا ہے۔ آپ سب اپنی بھر پور لگن سے کام کریں۔ ملک کو معاشی و دیگر چیلیجز کا سامنا ہے۔ جب سب اکھٹے ہونگے تو یہ بحران نہیں رہے گا،میں جانتا ہوں آنے والا دور آپ کیلئے مشکل ہو گا،آپ سب نے صبر و تحمل سے اپنا کام کرنا ہے، آپ سب کے تعاون کا بہت بہت شکریہ۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال اپنی 65 سالہ آئینی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ہفتہ کے روزاپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے، جسٹس عمر عطا بندیال نے دو فروری 2022 کو سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 3فروری 2022 کو پاکستان کے 28 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا تھا،عمر عطا بندیال نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقریباً 19 ماہ اور14 روز تک خدمات انجام دیں ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • پیس شاپ اونر ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کا احتجاج

    پیس شاپ اونر ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کا احتجاج

    پیس شاپنگ مال کی بحالی کے لئے پیس شاپ اونر ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے احتجاج کیا ہے

    پیس شاپنگ مال اونر ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے احتجاج کے دوران بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے، مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کر رہے تھے،مظاہرین نے پیش منیجمنٹ مردہ باد، ساڈہ حق ،ایتھے رکھ، نعرے لگائے،مظاہرین نے جو کتبے اٹھا رکھے تھے ان پر خودکشی کو تیار، معاشی بدحالی کا شکار،پیس منیجمنٹ زمہ دار،جیسی تحریریں درج تھیں

    پیس شاپنگ مال اونر ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پیش شاپنگ مال کی بحالی کے لئے کردار ادا کریں،16 سو خاندانوں کی بے روزگاری کی زمہ دار پیس منیجمنٹ ہے،ہمارا روزگار بحال کیا جائے،دکاندار بھوکے مر رہے ہیں، ہمیں دوکانیں دی جائیں تا کہ ہم کام شروع کر سکیں، ہمارا سرمایہ ضائع ہو گیا، مہنگائی کے اس دور میں ہم کس کا در کھٹکھٹائیں،چیف جسٹس ہمارے کاروبار کی بحالی کے لئے کردار ادا کریں، نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی بھی کردار ادا کریں

    واضح رہے کہ گزشتہ برس لاہور کے علاقے گلبرگ میں پیس شاپنگ مال کی بالائی منزل پر آگ لگی تھی جس سے دکانیں جل کر راکھ ہو گئی تھیں پلازہ میں 400 کے قریب دکانیں تھیں جن میں زیادہ تر دکانیں موبائل فونز ، الیکٹرانکس اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی تھیں ،دکانداروں کا الزام تھا کہ مالکان پلازہ خالی کروانا چاہتے تھے آگ لگائی گئی ہے، شارٹ سرکٹ نہیں ہوا آگ کے باعث شاپنگ پلازہ میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا ہے

    صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

    تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

    کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    کرونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، چیف جسٹس

    کرونا از خود نوٹس کیس، سماعت کل تک ملتوی، تحریری حکمنامہ جاری

    سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

  • چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آج آٹھ مقدمات کی سماعت کی

    چیف جسٹس کے ساتھ بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل تھیں ،مقدمات میں پیش ہونے والے وکلا نے چیف جسٹس کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا شکریہ، میں بھی آپ کیلئے دعا گو ہوں ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ جس نے مجھے موقع دیا،میڈیا نے مجھے متحرک رکھا، میڈیا کی تنقید کو بھی ویلکم کرتا ہوں،عدالتی فیصلوں پر تنقید ضرور کریں، جج پر تنقید کریں تو یقینی بنائیں وہ سچے حقائق پر مبنی ہو، بارز کی جانب ملنے والے تعاون پر شکر گزار ہوں ،اللہ کی خوشنودی کو ذہن میں رکھ کر کام کیا، کالے کوٹ کا ہمیشہ بار سے تعلق رہتا ہے، وکلا سے اب ان شا اللہ بار روم میں ملاقات ہو گی،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کل 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے،نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • گن اینڈ کنٹری کلب کیس،اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا،چیف جسٹس

    گن اینڈ کنٹری کلب کیس،اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا،چیف جسٹس

    سپر یم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب ازخود نوٹس پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دلچسپ ریمارکس دیئے، فریقین کے وکیل کی استدعا پر کیس کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ہی ملتوی کر دی گئی، عدالت نے فریقین کی استدعا منظور کر لی،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا باقی وکلا کو اطلاع نہیں ہوئی تھی ہم آپ کو گڈ تو سی یو کہتے ہیں یہ کیس بہت دلچسپ تھا اب یہ کیس نیا بینچ سنے گا ضروری نہیں کہ انسان جو چاہے اس کی وہ خواہش پوری ہو امید ہے اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2022 میں گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کے فوری آڈٹ کا حکم دیا تھا ،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کے آڈٹ کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے،2دسمبر 2019 سے 20 جون 2022 تک کا آڈٹ کیا جائے، گن اینڈ کنٹری کلب اور سی ڈی اے میں زمین لیز کے معاملے پر مجاز اتھارٹی کو فیصلے کی ہدایت بھی کی گئی،عدالت نے کہا کہ سیکریٹری آئی پی سی جو چیئرمین کمیٹی بھی ہیں انکی میٹنگ میں چائے کا خرچہ 4لاکھ 16 ہزار روپے تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اجلاسوں میں ہم کھانے پینے کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    لاپتہ افراد کے وکیل کی گمشدگی، سپریم کورٹ نے حکومت کو بڑا حکم دے دیا

    رائل پام کنٹری گالف کلب لاہوراراضی عملدرآمد کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    واضح رہے کہ عدالت نے دی گن اینڈ کنٹری کلب کے قیام کے حوالے سے پرویزمشرف دور کی قرارداد غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سروے آف پاکستان کو تین ہفتوں میں 145 ایکڑ زمین کی حد بندی کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ 1975 میں لیز کے تحت 175 ایکڑ زمین دی گئی جس میں 2008 میں مزید 33 سال کی توسیع کر دی گئی، دی گن اینڈ کنٹری کلب کو دی گئی زمین کی سی ڈی اے سے منظوری نہیں لی گئی۔

  • ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، نئے عدالتی سال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوا،سپریم کورٹ میں جاری فل کورٹ ریفرنس میں 15 ججز نے شرکت کی، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک ہوئے، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوا تمام ججز شریک ہیں ،جسٹس یحییٰ آفریدی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے ،فل کورٹ ریفرنس کی تقریب میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کے نمائندہ اور وکلاء کی بڑی تعداد فل کورٹ تقریب میں شریک تھے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،کیسز کم کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں تاہم ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،عام سائلین کے مقدمات کے بلاتاخیر فیصلے ہونے چاہیں،اٹارنی سپریم کورٹ کو اپنی توانائیاں عام سائلین کے کیسز کو سننے میں صرف کرنی چاہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست مقدمات غیر معمولی اور عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے معاملات میں ہونے چاہیں،بنچز کی تشکیل اور ججز تعیناتیوں کی بازگشت پارلیمان میں بھی سنی گئی،سپریم کورٹ نے متعدد مواقع پر صوابدیدی اختیارات میں شفافیت پر زور دیا ہے،کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ اس اصول کا خود پر اطلاق نہ کرے،نئے عدالتی سال کے ساتھ ساتھ ہم جوڈیشل لیڈر شپ کی تبدیلی کے مرحلے سے بھی گزر رہے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالنے کے قریب ہیں، مجھے یقین ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے ،ججز کی تعیناتیاں ،بنچز کی تشکیل چیف جسٹس کرتے ہیں،یہ اختیار چیف جسٹس کو متنازعہ معاملات کے فیصلوں میں غیر متناسب کنٹرول دیتا ہے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے،آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،

    عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو زائل کریں، ہارون الرشید
    پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین ہارون الرشید نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت عظمی میں لگ بھگ 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں بار ہا التجاء اور یاد دہانی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا .زیر التوا مقدمات کو سماعت کیلئے کوئی شفاف نظام وضح نہ کیا جاسکا ،کچھ عرصہ سے سپریم کورٹ میں مقدمات میں مختصر فیصلہ کرنے کی ایک نئیروش چل پڑی ہے اکثر مقدمات میں بروقت تفصیلی فیصلے جاری نہیں ہوتے یہاں تک کہ کچھ ججز ریٹائرڈ بھی ہوجاتے ہیں کچھ کیسسز میں لارجر بینچ ببنے کا حکم ہوا لیکن آج تک وہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دئے جاسکے نامزد چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ نئے اور اریجنٹ کیسسز جب فائل ہوں تو اسی ہفتہ میں فکس کئے جائیں کافی تعداد میں ایسے کیسسز صرف پہلی سماعت کے منتظر ہیں ایک عام تاثر ہے کہ چند خاص لوگوں کے مقدمات دائر ہوتے ہیں فورا لگ جاتے ہیں عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو ذائل کریں ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ مقدمات کی فکسیشن بلا تفریق ہو،عام لوگوں کو محرومی کا احساس نہ ہو اور اس ادارہ پہ اعتماد قائم رہے بہت سے مقدمات کا فیصلہ ہوجانے کے باوجود ان کی مسل ہائے مختلف ججز کے چیمبرز میں پڑی ہیں ،ان مقدمات کے تحریری حکمنامے بھی ابھی تک نہیں آسکے ،اگر یہ اطلاع درست ہے تو میرے اس ریفرنس کو درخواست تصور کیا جائے ،وکلاء کی سپریم باڈی کو اس کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں ،امید ہے میری اس درخواست کو رجسڑار سپریم کورٹ کے ذریعہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ،وکلاء کے اعلی ترین ادراہ کو معلومات کی رسائی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا

    ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئی عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور چیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتئ سال کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں گزشتہ سال عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی کوشش تھی کہ زیرالتواء مقدمات 50 ہزار سے کم ہوسکیں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں دو ہزار کی کمی ہی کر سکے،فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے ،آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ،سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی ،جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتئ کارکردگی متاثر ہوئی ،تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاو بہت اچھا رہا، جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے، میرے دائیں قاضی فائز عیسی ہیں جو بہت اچھے انسان ہیں، میری اور ان کی اپروچ الگ ہے ، صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں،صحافیوں سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے، جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنور کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا ، ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ، اگست میں بھی فنڈز میں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پر اعتماد ہے ، ڈیمز فنڈ کے اس وقت 18.6 ارب روپے نیشنل بنک کے ذریعے سٹیٹ بنک میں انویسٹ کیے گئے ہیں، ڈیمز فنڈ کی نگرانی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے،میرے حوالے سے میڈیا میں غلط رپورٹنگ بھی کی گئی،گڈ ٹو سی یو والے میرے جملے کو غلط رنگ دیا گیا،شارٹ اینڈ سویٹ ججمنٹ بارے آبرزویشن دی جس پر غلط رپورٹنگ ہوئی، جو ہوا میں اس کو درگزر کرتا ہوں

    سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،عابد زبیری
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رکھا تعطیلات کے باوجود مسلسل مقدمات کی شنواۃ کا سلسلہ جاری رکھنا لائق تحسین عمل ہے دوران تعطیلات کئ سیاسی نوعیت کے مقدمات بھی سماعت کیلئے مقرر ہوئے جس کی وجہ سے عام عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل سست روری کا شکار ہوا ،جب سیاسی اور پارلیمانی نظام ناکام ہوجائے تو اس کا بوجھ بھی عدلیہ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے،مقدامات کی جلد سماعت کیلئے دائر درخواستوں کا زیر التوا رکھے جانے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ،عدالت کی توجہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے آئنی معملہ پر مبزول کروانا چاہتا ہوں ،الیشکن کمیشن انتخاب آئنی مدت میں کروانے سے گریزاں ہے الیکشن کمیشن کا یہ رویہ رائے دہی کے آئین کے حق کے منافی ہے آئین سے روگردانی پہ آرٹیکل 6 کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،اتنخابات کے حوالہ سے ہماری درخواست کی ابھی تک شنوائی نہیں ہوسکی انتخاب کے حوالے سے ہماری درخواست کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،صدر مملکت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد انتخابات کا اعلان کرے ،آفشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کی آڑ میں بنیادی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ،قوم کی بیٹیاں اور بہنیں من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پر قید ہیں عدالت ان جبری قید کا نوٹس لے،فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں کو فوری مقرر کیا جائے عدلیہ اور ججز کی تضحیک وکلاء برادری کبھی تسلیم نہیں کرے گی،امید کرتے ہیں کہ نئے عدالتی سال میں سپریم کورٹ میں تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کیلئے ٹوس اقدامات اٹھائے جائیں گےنامز چیف جسٹس سے امیدہے کہ وہ آئین اور قانون کی عمل درامد پر یقینی بنائیں گے.

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیلئے فل کورٹ ریفرنس نہ ہونے کا امکان ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافی سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اور فیصلہ نہیں کیا ،صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جا رہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے جواب دیا کہ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں جیسے پتہ چلے گا بتا دیں گے،جسٹس قاضی فائز عسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے انہوں نے آج تقریر میں تو کہا ہے کہ شاید یہ میرا آخری خطاب ہے.

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • آئینی مسائل میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا،چیف جسٹس

    آئینی مسائل میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ آئینی مسائل میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا عدالتی کارکردگی متاثرہوئی۔

    باغی ٹی وی: نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بطور چیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کررہاہوں گزشتہ سال اس تقریب میں عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی۔

    فل کورٹ ریفرنس میں بیرون ملک موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام ججز نے شرکت کی نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی موجود تھے ریفرنس میں اٹارنی جنرل سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

    پرویز الہی توہین عدالت کیس: پولیس افسران نے توہین عدالت شوکاز نوٹس کے جوابات …

    جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے، اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی، کوشش تھی کہ زیر التوا مقدمات 50 ہزار سے کم ہو سکیں، زیر التوا مقدمات کی تعداد میں 2 ہزار کی کمی ہی کر سکے۔

    انہوں نے کہا کہ فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے آئینی مسائل میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ہے عدالت خود کئی مرتبہ سخت امتحان اورماحول کا شکار بنی،جوواقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن عدالتی کارکردگی لیکن اس سے عدالتی کارکردگی متاثر ہوئی، تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں۔

    لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

  • نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے کی دعوت دے دی

    جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے عشائیے کی دعوت 17 ستمبر کیلئے دی گئی ہے،جسٹس فائز عیسی اور انکی اہلیہ کی جانب سے باضابطہ دعوت نامے ججز کو موصول ہوگئے،موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی عشائیے میں مدعو کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہونگے اور جسٹس قاضی فائز عیسی 17 ستمبر کو حلف اٹھائیں گے

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    مبینہ آڈیوز لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت ، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ کر دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس نے آڈیو لیکس بینچ پر اعتراضات کا حقیقی منظر نامہ بھی بیان کردیا،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا تعلق 14 اور 18 جنوری کو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے ہے،آرٹیکل 224 کے تحت پنجاب میں 14 اپریل اور خیبرپختونخوا میں 18 اپریل کو انتخابات ہونا تھے، متعلقہ حکام نے ڈیڈ لائن کے بوجود انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، نتیجتاً پشاور اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر ہوئیں ،درخواستوں میں عام انتخابات کی تاریخ دینے کی استدعا کی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کی مجاز اتھارٹی قرار دے دیا ،گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں،90 دن کی آئینی ڈیڈلائن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری کو چیف جسٹس کو از خود نوٹس کیلئے نوٹ لکھا، 18 فروری کو پنجاب اور کے پی کے اسپیکرز نے سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست دائر کی، مشترکہ درخواست میں عدالت سے پنجاب میں خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ مانگی گئی، اطلاعات کے مطابق اس دوران ہائیکورٹس میں معاملہ التوا کا شکار تھاچیف جسٹس نے 22 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر ازخود لیا، چیف جسٹس نے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے کر 23 فروری کو سماعت کیلئے مقرر کردیا،

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسی دوران 16 فروری کو ٹوئیٹر پر انڈیبل نامی اکاؤنٹ سے تین مبینہ آڈیوز جاری ہوئیں ، ایک مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور ارشد جھوجا کے مابین گفتگو پر مشتمل تھی،ایک مبینہ آڈیو صدر سپریم کورٹ بار اور چوہدری پرویز الٰہی کے مابین تھی،تیسری مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے درمیان تھی،دو ماہ کے دوران نامور شخصیات کی ٹیلی فونک گفتگو کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ جاری ہوئیں 23 اپریل کو مبینہ طور پر چیف جسٹس کی خوش دامن کی بھی آڈیو جاری کی گئی، وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیوز کی تصدیق کئیے بغیر ججز کی تضحیک کیلئے آڈیوز کی توثیق کر دی،وفاقی حکومت نے عدلیہ کی آزادی کو بالائے طاق رکھ دیا،وفاقی وزراء نے مبینہ آڈیو ریکارڈنگز کو ججز کی حکومت کے خلاف تعصب کے ثبوت کے طور پر پیش کیا،منتخب حکومت کے نمائندوں کی جانب سے اعلی عدلیہ کے ججز کی تضحیک کا عمل نا صرف میڈیا بلکہ پارلیمان میں بھی جاری رہا،وفاقی حکومت نے بالآخر 19 مئی کو مبینہ آڈیوز پر ایکشن لیا ، وفاقی حکومت کی جانب سے مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا،کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کی خواہش پہلے آڈیوز کی سچائی جاننا تھی ،انکوائری کمیشن کا مقصد آڈیوز کی درستگی ثابت ہونے پر تادیبی کارروائی کا تعین کرنا تھا،اگر کمیشن اس نتیجے پر پہنچتا کہ آڈیوز جعلی ہیں تو انہیں بنانے والوں کیخلاف کاروائی ہونا تھی،

    وفاقی حکومت نے اعلی عدلیہ کے تین ججز کو انکوائری کمیشن کے لئے چنا، ریکارڈ پر موجود ہے کمیشن کی تشکیل سے پہلے وفاقی حکومت نے چیف جسٹس کو نہ مطلع کیا ، نہ مشورہ کیا اور نہ ہی انکی رضا مندی حاصل کی،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے 22 مئی کو پہلا اجلاس بلایا،کمیشن کے اجلاس کے فوری بعد سپریم کورٹ میں کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں ، 26 مئی کو موجود 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی،اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو بینچ سے الگ ہونے کی درخواست کی،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا جواز چیف جسٹس کی خوش دامن کی مبینہ آڈیو بتایا گیا، عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست کو مسترد کردیا،عدالت نے آڈیوز آئیندہ سماعت تک آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کو کام سے روک دیا،31 مئی کو اٹارنی جنرل نے ججز کی بینچ سے علیحدگی کیلئے درخواست دائر کی، اٹارنی جنرل نے کہا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ سے علیحدگی کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے،لہذا ہمارا فیصلہ صرف چیف جسٹس کی بینچ سے علیحدگی کی درخواست تک محدود ہے ،دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ، مختلف حربوں سے عدالتی فیصلوں میں تاخیر، عدالت کی بے توقیری کی گئی،بے توقیری کا سلسلہ یکم مارچ 2023 سے شروع ہوا، حکومت 4 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے نظر ثانی اپیل کے پیچھے چھپ گئی، وفاقی حکومت کا مقصد اپنی بے عملی کو جواز دینا تھا، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کو سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکی ہے، وفاقی حکومت نے متعدد آئینی مقدمات سے ججز کو الگ کرنے کیلئے درخواستیں دائر کیں، آڈیو لیکس میں بھی مفادات کا ٹکراؤ بے سروپا بنیادوں پر درخواست دائر کی،آڈیو لیکس کیس کیخلاف اعتراض کا مقصد چیف جسٹس پاکستان کو بنچ سے الگ کرنا تھا،وفاقی وزرا نے انتخابات کیس میں عوامی فورمز پر اشتعال انگیز بیانات دیے،وزیروں کا اشتعال انگیز بیانات کا مقصد حکومتی ایجنڈے کو تقویت دینا تھا، سپریم کورٹ نے حکومت کے ان مقدمات کو انتہائی تحمل اور صبر سے برداشت کیا، ججز پر اعتراضات والی حکومتی درخواست عدلیہ پر حملہ ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ججز بینچ پر حکومتی اعتراض مسترد کردیا ،عدالت نے ججز پر اعتراض کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا ،عدالت نے بینچ سے علیحدگی کی درخواست کو مسترد کردیا ،آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا

    حکومت نے چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر اعتراضات کیے تھے ،حکومت نے مفادات کے ٹکرائو پر تینوں ججز کی بنچ سے علیحدگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی ،سابقہ اتحادی حکومت نے پرویز الہی، چیف جسٹس کی خوش دامن سمیت 9 مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا تھا سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میں قائم آڈیو لیکس کمیشن کو پہلے ہی کام سے روک رکھا ہے ،پی ڈی ایم حکومت نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا