Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ تمام بینچز پر برتری لے گیا

    سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ تمام بینچز پر برتری لے گیا

    سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ سپریم کورٹ میں تمام بینچز پر برتری لے گیا

    جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ 2 نے 18 ستمبر سے 20 اکتوبر تک 600 مقدمات کا فیصلہ کیا، بینچ 2 کے مقابلہ میں سپریم کورٹ کے چار بینچز نے 819 کیسز کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ کے تمام بینچز نے 18 ستمبر سے 20 اکتوبر تک 1419 مقدمات کا فیصلہ کیا،جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ 2 نے 18 ستمبر کے ہفتہ میں 88 کیسز کا فیصلہ کیا، بینچ 2 نے 25 ستمبر کے ہفتہ میں 126 مقدمات کا فیصلہ کیا، بینچ 2 نے دو اکتوبر کے ہفتہ میں 105 کیسز نمٹائے، 9 اکتوبر کو بینچ 2 نے 81 مقدمات کو نمٹایا،19 اکتوبر کو بینچ 2 نے 200 مقدمات کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ ہفتے میں کتنے کیسز سنتی ہے اس ضمن میں ہر ہفتے آگاہ کیا جائے گا،

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدرمملکت سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے
    الیکشن کمیشن وفد کی صدر مملکت سے عام انتخابات پر مشاورت جاری ہے،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد آج ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا ،

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نےایوان صدر سے رابطہ کیا ہے،ایوان صدر نے ملاقات کا حتمی وقت آج شام پانچ بجے سے دیا ،الیکشن کمیشن نے تین رکنی وفد کے نام ایوان صدر کو دے دیئے ، صدر مملکت عارف علوی سے الیکشن کمیشن کا تین رکنی وفد ملاقات کرے گا

    قبل ازیں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات ہوئی ہے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ صدرِ مملکت کے حوالے کیا ،اٹارنی جنرل نے صدر پاکستان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی درخواست کی ،صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام کو ایوان صدر بلانے کی اجازت دے دی

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا،اجلاس کی صدرات چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی،اجلاس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غور کیا گیا،اجلاس میں صدر مملکت سے ملاقات سے متعلق بھی مشاورت کی گئی.، انتخابی تاریخ سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا،

    قبل ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی سپریم کورٹ آمد ہوئی، اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے صدر سے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کا فیصلہ کرلیا؟سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے صدر سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا ہے، بہت جلد الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے گا، اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،چیف جسٹس

    ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،چیف جسٹس

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی
    اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلاء روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ دیکھ لیں، کیا ابصار عالم یہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ راستے میں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،اب بھی آپ نظرثانی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابصار عالم کے الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ آپ سے متعلق ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب قائم ہوئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی 19 اکتوبر کو قائم کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو ایک جماعت نے یرغمال بنائے رکھا، حکومت میں تحقیقات کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے،آپ سمیت سب کہہ رہے ہیں فیض آباد دھرنا فیصلہ ٹھیک ہے، حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کہا کہ وفاقی حکومت فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل اسی سلسلے کی کڑی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہآپ نے ٹی او آرز اتنے وسیع کر دئے کہ ہر کوئی بری ہو جائے گا،اربوں روپے کا نقصان ہوا مگر سرکار کو کوئی پرواہ نہیں ،ٹی او آرز میں کہاں لکھا ہے کہ کون سے مخصوص واقعہ کی انکوائری کرنی ہے،ہمارا کام حکم کرنا ہے آپ کا کام اس پر عمل کرانا ہے.جب قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی تب لوگ سبق لیں گے،حکومت سیدھا سیدھا کہہ دے کہ ہم کام نہیں کریں گے،اربوں روپے کا نقصان ہوا لیکن سرکار کو کوئی پرواہ نہیں ،6 فروری 2019 سے آج تک فیض آباد کیس کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا، اس طرح تو یہاں ہر کوئی کہے گا کہ میں جو بھی کروں مجھے کوئی پوچھ نہیں سکتا، جس طرح نظرثانی درخواستیں واپس لی جارہی ہیں لگتا ہے کوئی ادارہ آزاد نہیں،کیا کینیڈا سے آنے والے نے ٹکٹ خود خریدی تھی؟ پاکستان کا اتنا ہی درد ہے تو یہاں آ کر کیوں نہیں رہتے؟ کیا ہماری حکومت نےکینیڈا کی حکومت سے رابطہ کیا ہے؟ کیا ہم کینیڈا میں جا کر انکے پورے ملک کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں؟

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی فیصلے کے بعد ملک آئین پر چل رہا ہے؟کیا آپ گارنٹی دے سکتے ہیں کہ آج ملک آئین کے مطابق چل رہا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے پر آج تک عمل کیوں نہیں کیا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے،

    عدالت نے پیمرا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کے سابق چیئرمین کا بیان حلفی پڑھا ہے؟ پیمرا وکیل نے کہا کہ ابصار عالم کا بیان حلفی مجھے ابھی ملا ہے، عدالت نے سینئر وکیل حافظ ایس اے رحمان پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو بیان حلفی گھر جا کر دیتے؟ عدالت نے ڈی جی آپریشنز پیمرا کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کالا کوٹ کیوں پہنا ہوا ہے؟ کیا آپ وکیل ہیں؟ ڈی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ کالا رنگ روٹین میں پہنا ہے،

    سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کو فوری طلب کر لیا ، چیرمین پیمرا کو ابصار عالم کے بیان حلفی کے حوالے سے طلب کیا گیا کیس کی مزید سماعت ساڑھے گیارہ بجے ہوگی.

    فیض آباد دھرنا کیس کی وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی،چئیرمن پیمرا سلیم بیگ روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیئرمین ابصار عالم نے ایک بیان حلفی دیا ہے،ہمیں تعجب ہوا،آپ کے وکیل نے کہا کہ وہ بیان حلفی پڑھا ہی نہیں ،چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے عدالت میں کہا کہ ابصار عالم نے جو کہا وہ انہی کے ساتھ ہوا ہو گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کے ساتھ یہ کبھی نہیں ہوا، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے کہا کہ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا،ابصار عالم نے جو کچھ کہا مجھے ان حقائق کا علم نہیں، ریکارڈ چیک ہوسکتا ہے مگر جو ابصار عالم کے ساتھ ذاتی طور پر ہوا اس کا علم نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے میں کسی کو مارنا، تنگ کرنا نہیں آتا، کوئی ٹی وی چینل لوگوں کو فساد کیلئے اکسائے تو یہ آزادی اظہار نہیں، ایسا نہ ہو کہ ٹی وی چینل کا گلا گھونٹ دیں مگر قانون پر عمل ہونا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سے سوال کیا کہ آپ کو اس فیصلے میں کچھ ہدایات دی گئی تھیں، کیا اُن پر عمل کیا یا آپ انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اوپر سے احکامات آئیں گے تو عمل کرینگے،عدالت نے چیئرمین پیمرا سے تنخواہ کا استفسار کیا جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ میری تنخواہ ساڑھے 4 لاکھ روپے ہے جو حکومت دیتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو تنخواہ حکومت نہیں،عوام دیتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ سلیم بیگ آپ کا نام فیض آباد دھرنا کیس میں شامل ہے،آپ نے غلط بیانی کیوں کی کہ آپ کی تعیناتی بعد میں ہوئی،کیا آپ کو فیصلہ پسند نہیں تھا،آپ فیصلے پر عمل نہیں کرتے تو توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے،چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت کتنی ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ 4 سال کی مدت ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ پھر آپ کیسے اب تک بیٹھے ہیں،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ دوبارہ تعیناتی کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اِس وقت آپ کی عمر کیا ہے ؟،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اِس وقت میری عمر 63 سال ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ اِس وقت کیا ہوتا ہے؟،ہم آج تک کی عمر پوچھ رہے ہیں، کل کتنی عمر ہوگی وہ نہیں پوچھ رہے، ہر چیز کو مذاق بنایا ہوا ہے،سکول میں کوئی ایسا جواب دے تو استاد کونے میں کھڑا کر دے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سلیم بیگ سے سوال کیا کہ ابصار عالم نے تو نام لے لئے،آپ میں تو اتنی ہمت نہیں کہ نام لیں،چیئرمین جواب نہ دے سکے۔

    چیف جسٹس کی برہمی پر وکیل پیمرا نے وکلالت نامہ واپس لے لیا،وکیل پیمرا ایس اے رحمان روسٹرم سے ہٹ گئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو درمیان میں زیادہ بولنا ہے تو اپنا کنڈکٹ دیکھ لیں،آپ کا کام ہے اپنے موکل کو بتانا کہ فیصلے پر عمل کریں،آپ نے یہ نہیں کرنا تو الگ ہو جائیں،جسٹس اطہر من اللہ نے ایس اے رحمان کو دوبارہ مخاطب کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل جانے دیں انہیں ،یہ ان کا کنڈکٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زرا سا ہم نے آپ کو دبایا آپ نے کہا ہم عملدرآمد کرینگے،سب نے دائر کی تو آپ نے سوچا ہم بھی کر دیتے ہیں،ہم آپ کو مضبوط کر رہے ہیں،ہم کہہ رہے ہیں بتائیں آپ کے امور میں کون مداخلت کر رہا ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ہماری غلطی تھی نظرثانی درخواست دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نظرثانی درخواست پر دستخط صرف چیئرمین پیمرا کے ہیں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظرثانی دائر کرنے کا فیصلہ چیئرمین کا اپنا تھا، چیئرمین صاحب آپ سے تین حکومتیں بہت خوش تھیں، کس سے ڈرتے ہیں؟ میری اور آپ کی عمر میں کچھ معلوم نہیں موت کب آ جائے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ابصار عالم نے پریس کانفرنس کی اور وزیراعظم کو خط لکھ کر بھی حقائق بتائے، حیرت ہے اس وقت کے وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف نے کچھ نہیں کیا، ابصار عالم نے خط وزیراعظم نوازشریف کو لکھا تھا، کرسی سے اترنے کے بعد ہر وزیراعظم کہتا ہے میں مجبور تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلیم بیگ اللہ آپ کو لمبی زندگی دے،مگر جانا ہم نے وہیں ہے،آپ ہمت پکڑیں بتادیں نظرثانی میں جانے کا کس نے کہا تھا،پیمرا میں منظوری ہوئی تو وہ کہاں ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ منظوری تحریری نہیں زبانی تھی،چیف جسٹس نے کہا کہ زبانی فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس نے ڈائریکٹر لا پیمرا کو بلا لیا اور کہا کہ یہ تو سچ نہیں بول رہے آپ ہی بتا دیں ،نظرثانی کا کس نے کہا تھا، ڈائریکٹر لا پیمرا نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون پڑھیں کیا پیمرا میں زبانی فیصلہ ہو سکتا،ہم آپ کو آج آپ کا قانون پڑھائیں گے،پہلے آپ پر کوئی دبائو نہیں تھا لیکن اب قانون کا دبائو ہوگا، آرڈر لکھوانے سے پہلے پھر پوچھ رہے ہیں کس نے حکم دیا تھا،عدالتیں اس لئے نہیں ہوتیں کہ ان کیساتھ کھیل کھیلا جائے،

    ابصار عالم نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب چیئرمین پیمرا تھا مجھے اُس وقت سٹاف کے ذریعے دھمکی آمیز کال کرائی گئی،کال ریکاڈ بھی ہوئی، وہ کال میں نے نواز شریف اور جنرل باجوہ کو بھی بھیجی،جو کال مجھے کی گئی اُس کا کوئی نمبر نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے وزیراعظم کو 8 مئی 2017 کو خط لکھا کہ میڈیا سے کچھ عناصر دھمکیاں دے رہے ہیں،میڈیا کے اندر کے عناصر کا وزیراعظم کیا کریں؟ ایسا ہی خط چیف جسٹس اور آرمی چیف کو بھی لکھا گیا تھا، ابصار عالم نے کہا کہ خط میں درخواست کی تھی کہ حساس اداروں سے تفتیش کرائیں تاکہ ایسے عناصر اور سپورٹرز کیخلاف کارروائی ہو، کیبل آپریٹرز کے پاس حساس اداروں کے لوگ جاتے تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ خط میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم نے آپ کو خط کو جواب دیا؟ابصار عالم نے کہا کہ وزیراعظم نے کوئی جواب نہیں دیا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ میں اتنی ہمت تھی کہ عہدے پر رہتے ہوئے آواز اٹھائی کہ سسٹم کیسے چلتا ہے، ابصار عالم نے کہا کہ سابق میجر جنرل فیض حمید اور انکے عملے نے نجم سیٹھی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،نجم سیٹھی نے جیو پر پروگرام کیا تھا، میں نے پروگرام بند کرنے سے انکار کر دیا،جنرل فیض نے حسین حقانی کے میڈیا بلیک آئوٹ کا بھی کہا جو میں نہیں مانا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ہٹانے کی یہی وجہ تھی؟ ابصار عالم نے کہا کہ میں ان کی جیب میں نہیں تھا اس لئے مجھے ہٹایا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کے بعد والے چیئرمین پیمرا کہتے ہیں ان پر کوئی دبائو نہیں تھا،ابصار عالم نے کہا کہ میرے بعد آنے والے چیئرمین پیمر ا خوش قسمت ہیں، میرے دور میں 2 چینلز جن کو نمبروں سے ہٹایا گیا ، عدالتی حکم پر بحال کیا، میرے بعد کیا ہو ااس کے بارے میں علم نہیں،جو ریکارڈڈ کال آرمی چیف اور وزیر اعظم کو بھیجی ، بندے کی نشاندہی نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیخلاف جو مقدمات ہوئے انکی تفصیل ہمیں دے دیں،آپ صفائی نہ دیں ہم نے پیمرا کو کہا تھا کہ عدالت کے حکم پر عمل کیا جائے، ابصار عالم نے کہا کہ جنرل فیض اور انکے عملے نے تین بار کال کرکے کہا 92 نیوز کو کھولو یا سب کو بند کر دو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کسی کی پیٹھ پیچھے بیان نہیں ہوتا، اگر حکومت کمیشن بنائے تو آپ وہاں پیش ہونگے؟ ابصار عالم نے کہا کہ کلمہ پڑھ کر کہ رہا ہوں پیش ہوکر بیان دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن پر الزام ہے ان کا بھی موقف لیا جائے گا اور شاید جرح بھی ہو،ابصار عالم نے کہا کہ جرح اور بیان دینے کیلئے تیار ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے چیئرمین پیمرا کے خطوط کا جواب نہیں دیا جو سنگین معاملہ ہے، ابصار عالم نے کہا کہ میرے خلاف تین درخواستیں دائر ہوئیں اور ایک منظور ہوگئی،فیض آباد دھرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے میری تعیناتی غیرقانونی قرار دی گئی،سپریم کورٹ سے میری اپیل وکیل کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے خارج ہوئی، اُس وقت مجھے انصاف کی امید نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ امید ختم نہ کریں، آخری وقت تک لڑتے رہیں، اپیل بحالی کی درخواست دی جا سکتی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابصار عالم کے الزامات ہی کافی تھے کہ انکوائری کرائی جاتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا درخواستوں پر جو فیصلے آئے ہیں وہ جواب کا حصہ ہیں؟ ابصار عالم نے کہا کہ نہیں وہ فیصلے اس جواب کا حصہ نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کیا کارروائی ہوئی؟ان فیصلوں پر بات نہ کریں، جب تک دستاویز نہیں لگاتے، ابصار عالم نے کہا کہ عدالتی حکم پر سچ سامنے لایا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت پر کچھ نہ ڈالیں آپ آرام سےگھر بیٹھیں ،جو باتیں آپ کہہ رہے ہیں اس کا ریکارڈ بھی دیں،آپ کہہ رہے اگر بلایا ہوتا تو پیش ہوتا اس سے تو عدالت بری بن رہی ہے،ہم نے آپکو نہیں بلایا آپ خود آئے ہیں،آپ جو دستاویز فائل کرینگے تو اس کو دیکھ کر کارروائی کریں گے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کے الزامات بہت سنجیدہ ہیں،جب آپ چیئرمین پیمرا تھے تب بھی یہ سب باتیں کرنی چاہیے تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کیخلاف درخواست گزار کون تھا؟ ابصار عالم نے کہا کہ منیر احمد نامی شخص کے حوالے سے سنا کہ وہ ایجنسیوں کا بندہ ہے، اس کے بعد مزید کسی تحقیق کی گنجائش نہیں تھی، چینل 92 نیوز بند کرنے پر جنرل فیض نے مجھے فون کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ وہ کیوں چاہتے تھے کہ 92 نیوز بند نہ ہو؟ ابصار عالم نے کہا کہ چینل 92 نیوز پرتشدد اور نفرت انگیز مواد نشر کر رہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں فوج کا افسر چاہتا تھا کہ پرتشدد کارروائی ہو؟ ابصار عالم نے کہا کہ روتے ہوئے دل کیساتھ کہ رہا ہوں بظاہر ایسا ہی لگتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پیمرا نے دبائو میں آ کر نظرثانی دائر کی ہے؟ کیا اوپر سے حکم آیا یا ٹاس کرنے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا؟ ابصار عالم نے کہا کہ مارچ 2019 میں نظرثانی دائر ہوئی، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید تھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ گزشتہ 70 سال سے یہی ہو رہا تھا آج بھی جاری ہے،ابصار عالم نے کہا کہ تجربے کی بنیاد پر کہ رہا ہوں پیمرا کو وزارت اطلاعات یا ایجنسیوں نے نظرثانی کا کہا ہوگا،مجھے علم نہیں کہ زبانی حکم اگر کسی نے دیا تھا تو کون ہوسکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ انسان کو آزاد کر دیتا ہے،ہمارے سامنے تو آپ سچ بول نہیں رہے کمیشن شاید آپ سے اگلوا لے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے کسی کا خون بھی ہوجائے تو ہم نہیں دیکھیں گے، یہ کام پولیس کا ہے وہ تفتیش کرے، یہاں ہمارے حکم میں پیمر اکو اختیارات استعمال کرنے کا کہا گیا،پیمرا حکام اختیارات استعمال کرنے سے کترا رہے اور کہتے ہیں فیصلے پر نظر ثانی کریں،کیا اپ کو لگتا ہے کہ ہمارا فیصلہ غلط تھا اس پر نظر ثانی کی جائے، کیاآپ بتا سکتے ہیں کہ بطور سینئر صحافی کیا نظر ثانی درست دائر کی گئی اور کیوں دائر کی گئی؟ ابصار عالم نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق یا وزارت اطلاعات ہوگی یا پھر کوئی ایجنسیاں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ نے اس وقت تقریبا سب کچھ بتا دیا تھا کہ کیا ہورہا ہے، لیکن آپ نے ایک ہمت کی اور چیزیں ریکارڈ پر لے آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیئرمین پیمرا صاحب آپ بتائیں کہ کیا ابصار عالم صحیح کہہ رہے ہیں؟آپ ہماری مدد نہیں کررہے ہیں، کیا اپ کمیشن میں سچ بولیں گے،سلیم بیگ آپ پرانے بیوروکریٹ ہیں کیا اپ کے خلاف درخواست دائر ہوئی ہے؟ چیف جسٹس نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جب تعینات ہوئے اس وقت کتنے امیدوار تھے؟ابصار عالم نے کہا کہ اُس وقت 100 امیدوار تھے اور مجھے ایک کمیٹی نے تعینات کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ،ایک وقت میں سب سے بڑا فاشزم والا ملک جرمنی تھا لیکن اب وہ سب سے مہذب ملک ہے، ہمارے یہاں عجیب بات ہے کہ سچ کوئی نہیں بولے گا، بیگ صاحب کیا آپ کے ضمیر کا دروازہ کھٹکا یا نہیں، آپ یہ بتائیں نظرثانی درخواست دائر کرنا کس کا فیصلہ تھا،ابصا ر عالم نے کہا کہ پیمرا کو وزارت یا کسی ایجنسی نے نظرثانی دائر کرنے کا کہا ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلیم بیگ صاحب بتائیں کس نے کہا تھا نظرثانی دائر کریں،آپ بھی کمیشن کے سامنے جواب دیجئے گا،سچ ہمیشہ سامنے آکر ہی رہتا ہے،چیئرمین پیمرا ہماری مدد نہیں کر رہے نا کچھ بتا نہیں رہے،دھرنے والوں نے تو نہیں کہا تھا کہ نظرثانی دائر کریں ،یا آپ نے بس چلتے پھرتے نظرثانی دائر کر دی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نظام کو ایکسپوز کرنا بہت بڑی بہادری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ترقی یافتہ ملک ماضی سے سیکھتے ہیں،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پیمرا حکام کیساتھ ہم نے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ابصار عالم نے کسی کا لحاظ نہیں کیا سسٹم کو ایکسپوز کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابصار عالم صاحب آپ نے سپریم کورٹ سے اپنی اپیل واپس لے لی تھی،ابصار عالم نے کہا کہ وہ اپیل میرے وکیل کی پیش نہ ہونے کی وجہ سے خارج ہوئی،اس وقت مجھے انصاف کی امید نہیں تھی،میں اللہ کے سو اکسی اور شخص کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ امید ختم نہ کریں،آخری وقت تک لڑتے رہیں،اپیل بحالی کی درخواست دی جاسکتی ہے،، آج بھی ہم نے اپیلیں بحال کی ہیں،

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست واپس لینے کے معاملے پر شیخ رشید کو نوٹس جاری کر دیا ،اعجاز الحق نے عدالتی فیصلے میں حساس ادارے کی رپورٹ کی تردید کر دی،فیض آباد دھرنا کیس سماعت کے دوران اہم مکالمہ سامنے آیا ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعجاز الحق کے والد سابق آرمی چیف تھے، وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ اعجاز الحق کے والد صدر پاکستان بھی تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضیاء الحق کو سابق صدر نہیں مانتا ، عدالت میں ایسی غلط بیانی دوبارہ نہیں کرنا، وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ ضیاء الحق کا نام آئین میں لکھا ہوا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ضیاء الحق کا نام آئین سے نکال دیا گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر پانچ سال کیلئے ہی ہوسکتا ہے، بندوق کی زور پر کوئی صدر نہیں بن سکتا، سابق آرمی چیف کے بیٹے کا نام آئی ایس آئی نے غلط طور پر رپورٹ میں شامل کیا؟ وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ اپنی پوزیشن واضح کر رہے ہیں،

    تحریک لبیک کو بھی فارن فنڈنگ ہوئی، وکیل الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں اعتراف
    الیکشن کمیشن کے وکیل کو عدالت نے روسڑم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو ایک آزاد ادارہ ہیں ،کیا الیکشن کمیشن نے ایک فضول نظرثانی دائر کی جو اب واپس لینی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس وقت الیکشن کمیشن کا سربراہ کون تھا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سردار رضا اس وقت چیف الیکشن کمشنر تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جسٹس سردار محمد رضا؟ الیکشن کمیشن نے اب عملدرآمد رپورٹ دی ہے اس میں کیا ہے؟ دکھائیں کیا عملدرآمد کیا گیا؟ آج کل وکالت کم لفاظی زیادہ ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن کو تحریک لبیک کے ذمہ داروں کے ساتھ حافظ کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارے میں انھیں حافظ کیوں کہہ رہے ہیں،آپ لوگوں سے مساوی سلوک نہیں کرتے،آپ نے عملدرآمد رپورٹ میں جو کچھ لکھا وہ فیصلے سے پہلے کا ہے، ہمارے فیصلے کے بعد کیا اقدامات لئے وہ بتائیں،کیا آپ نے ٹی ایل پی رجسٹر کرانے والے شخص کو بلایا؟ ٹی ایل پی رجسٹریشن کرانے والا شخص تو دوبئی میں رہتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کو بلایا تھا رجسٹر کرانے والے کو نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اس طرح کام کرتا ہے؟ راتوں رات سیاسی جماعتیں کیسے رجسٹر ہوجاتی ہیں؟کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اوپر سے حکم آتا ہے کچھ کہتے ہیں پہیے لگ جاتے ہیں،ایک دن درخواست آتی ہے اگلے دن الیکشن کمیشن نئی جماعت رجسٹر کر لیتا ہے،جیسے ایک شخص کہتے ہیں کیا یہاں کام پہیے لگا کر ہوتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا بیرون ملک رہنے والا سیاسی جماعت رجسٹر کروا سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والوں کے پارٹی رجسٹر کرانے والوں پر پابندی نہیں، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے دو ہزار شناختی کارڈ قانونی طور پر لازمی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ٹی ایل پی والوں کے دو ہزار شناختی کارڈ کہاں ہیں؟ٹی ایل پی کی رجسٹریشن کا ریکارڈ کہاں ہے؟الیکشن ایکٹ 2017 پر عملدرآمد کا ریکارڈ کہاں ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کی فارن فنڈنگ کی تحقیقات کی ہیں، تحریک لبیک کو 15 لاکھ کی معمولی فارن فنڈنگ ہوئی جسے فارن فنڈنگ قرار نہیں دیا جا سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود مان رہا کہ 15 لاکھ کی فارن فنڈنگ ہوئی،15 لاکھ الیکشن کمیشن کیلئے معمولی رقم ہوگی میرے لیے تو کافی رقم ہے،الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس طرح آنکھوں میں دھول نہ جھونکے،جیسے ہمارے قانون کا بناوٹی کہا جاتا تھا الیکشن کمیشن ویسے کام کر رہا ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے فارن فنڈنگ تو ہے لیکن بہت معمولی سی؟ پندرہ لاکھ روپے پینٹس ہیں تو مینگو کیا ہے؟پینٹس PeanutS لفظ سب سے پہلے کس نے استعمال کیا تھا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے امریکی صدر کو 1979 میں کم امداد دینے پر کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کا مونگ پھلی کا فارم تھا جس وجہ سے جملہ بولا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ملک کیساتھ مخلص ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ملک کیساتھ مخلص ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ باقاعدہ سسٹم کے تحت ادارے تباہ کئے جائیں تو کس کی ملک سے کیا مخلصی ہوگی،جن کی تحقیقات ہونی تھیں انکی وکالت الیکشن کمیشن کے وکیل کر رہے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان کا شہری نہ ہونے والا کیا جماعت رجسٹرڈ کروا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ الیکشن ایکٹ 2017 کے تابع ہیں تو بتائیں اس پر عمل کیا،چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کی عملدرآمد رپورٹ مسترد کر دی اور کہا کہ یہ فائل آپ واپس لے جائیں اور بتائیں کیا آپ نے قانون پر عمل کیا،ہمارے فیصلے کو بھول جائیں اپنا قانون دیکھ کر بتائیں،کیا قانون صرف الماریوں میں رکھنے کیلئے ہے کیا اس پر عمل نہیں کرنا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی سچ بتانے کو تیار نہیں، سب کہتے ہیں اتفاقیہ تھا، کتنا حسین اتفاق ہے کہ وزارت دفاع، الیکشن کمیشن سمیت سب نے نظرثانی دائر کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چار سال بعد نظرثانی درخواست مقرر ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بھی حسن اتفاق ہے، حسن اتفاق پر کوئی شعر ہی سنا دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بات نکلے گی تو بہت دور تک جائے گی، اس وقت یہی شعر اچھا ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کی نہیں کسی اور کی نمائندگی کر رہے ہیں،عدالت کو بالکل کوئی معاونت فراہم نہیں کی جارہیالیکشن کمیشن کے وکیل کوئی قانونی حوالہ نہیں دے رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چندہ دیا ہے،کیا آپ نے کبھی 680 روپے یا 1000 روپے دیئے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی بالکل میں نے چندہ دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کو کیا پتا جو پیسے دیئے جارہے وہ کہاں سے آئے ہیں، الیکشن کمیشن نے پوچھا ہی نہیں تحریک لبیک کو چندہ دینے والے شیخ ریاض کون ہیں

    سماعت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ سابق چیئر مین پیمرا ابصار عالم نے بیان حلفی جمع کرایا ،بیان حلفی میں ایک انفرادی شخص اور انکے نامعلوم ماتحت اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کئے،ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی ،ایک منظم طریقے سے ملک کے ادارے تباہ کئے گئے،اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل بارے بتایا،اٹارنی جنرل کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا،کمیٹی نے تحقیقات کیسے کرنی ہیں اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ حکومت انکوائری کمیشن تشکیل دے گی،اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل سے متعلق مہلت طلب کی،اٹارنی جنرل کے مطابق کمیشن تشکیل دیکر عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہوگا،حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لیا،آئی بی،وزارت دفاع اور پیمرا نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن نے بھی نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،تحریک لبیک نے کوئی نظرثانی درخواست دائر نہیں کی،تحریک لبیک کو فیض آباد دھرنا فیصلہ درست لگا ہوگا،انفرادی درخواست گزاروں کو ہم نہیں سنیں گے،تمام متعلقہ درخواست گزاروں کو ہم نے سن لیا ہے،ابصار عالم نے کچھ شخصیات پر الزامات عائد کیے،اگر حکومت کمیشن قائم کرتی ہے تو تمام الزامات کمیشن کے سامنے رکھے جائیں،ابصار عالم نے کہا وہ انکوائری کمیشن کے سامنے سارا بیان کھل کر دیں گے،سپریم کورٹ نے وزارت دفاع اور انٹیلی جنس بیورو کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں عدالت نے شیخ رشید کو نوٹسز جاری کردیئے،عدالت نے کہا کہ شیخ رشید کی درخواست خارج نہیں کی جاتی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں ، وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور پیمرا نے عدالتی حکم پر عملدرآمد جواب جمع کروا دیا وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے زمہ دار کے تعین کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے ، الیکشن کمیشن نے جواب میں فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا بتا دیا پیمرا نے بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام احکامات پر من و عن عمل کر چکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • سپریم کورٹ،ملتان کیلئے اراضی کی قیمت کے تعین کیخلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ،ملتان کیلئے اراضی کی قیمت کے تعین کیخلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ،ڈسٹرکٹ اسپتال ملتان کیلئے اراضی کی قیمت کے تعین کیخلاف اپیل خارج کر دی گئیں

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ریفری جج نے ریکارڈ کا جائزہ لیکر قیمت 30 ہزار فی مرلہ مقرر کی، ریفری جج کے فیصلے میں غلطی کیا ہے؟بظاہر تو قیمت کے تعین میں کوئی غلطی نہیں، سپریم کورٹ نے خاتون کے حق میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر نے زمین کیلئے10 ہزار فی مرلہ قیمت کا تعین کیا،ریفری جج نے قیمت کو بڑھا کر تیس ہزار فی مرلہ کردیا،لاہور ہائیکورٹ نے بھی تیس ہزار فی مرلہ قیمت کو برقرار رکھا،اس نوعیت کا ایک اور مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے،یہ مقدمہ اس کیس کیساتھ لگا کر سن لیں،سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل استدعا کیساتھ مسترد کردی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

  • سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

    سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیرصدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں ججز کیخلاف زیرالتوا شکایات کا جائزہ لیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجازالاحسن شریک ہوئے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان بھی شریک ہوئے،رجسٹرار سپریم کورٹ اور اٹارنی جنرل بھی اجلاس میں شریک ہوئے،

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایات موصول ہوئی تھیں اور یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اٹھایا گیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.جوڈیشل کونسل اجلاس میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کیخلاف مس کنڈکٹ کی شکایات کا جائزہ بھی لیا گیا

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    یاد رہے کہ گزشہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس بھجوایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی تھی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں ان فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہےسپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ، گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ، سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ اور گوجرانوالہ الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنا کیس کے ذمہ داران اور ہینڈلرز کا تعین کرے گی

    فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنا کیس کے ذمہ داران اور ہینڈلرز کا تعین کرے گی

    سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس ،اٹارنی جنرل نے عملدرآمد رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے تعین کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھرنا کیس کے 6 فروری 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری دفاع، ڈائریکٹر آئی ایس آئی شامل ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع رپورٹ میں کہا گیا ہک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی طے شدہ ٹی او آرز کے تحت انکوائری کرے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنے سے متعلقہ شواہد اکھٹے کرے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تمام حاصل کردہ شواہد، دستاویزات اور ریکارڈ کا جائزہ لے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی گواہان کے بیانات ریکارڈ کرے گی، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی معاملے پر قانون اور ضابطے کے مطابق کاروائی کرے گی، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنا کیس کے ذمہ داران اور ہینڈلرز کا تعین کرے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تعین کرے گی کہ فیض آباد دھرنا کیس میں کس نے احکامات دیے اور مینیج کیا تھا،کمیٹی پہلی میٹنگ 26 اکتوبر کو کرچکی ہے۔کمیٹی یکم دسمبر کو رپورٹ جمع کرائے گی۔

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس، شیخ رشید نے بھی درخواست واپسی کی استدعا کر دی
    دوسری جانب سپریم کورٹ،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس،چیئرمین عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، شیخ رشید نے جواب میں کہا کہ میرا تحریکِ لبیک یا ان کے شرکاء سے کوئی تعلق نہیں ہےمیرا تحریک لبیک کیساتھ کوئی رابطہ نہیں،سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، میں اپنی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ یکم نومبر کو سماعت کرے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے گزشتہ سماعت پر تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، الیکشن کمیشن، آئی بی سمیت دیگر نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات
    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل علی ظفر کی درخواست سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بیان بازی پر توجہ دینے کے بجائے، درست طور پر نشاندہی کی کہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کے تصور کو عملی تجاویزکودیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں۔ بنچ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل معزز ججوں کی طرف سے کچھ بہت اہم سوالات اٹھائے گئے تھے،
    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آئین میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری اگر ہو چکی ہے تو انتخابات کب ہونے چاہئیں؟
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے نئی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ہ کیا یہ آئینی شق ہے کہ انتخابات 2017 سے 2021 تک مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں؟ اس سوال پر عابد زبیری نے کہا کہ حالات سے قطع نظر 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ہے۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد الیکشن کرانے کے لیے آئین میں کیا مقررہ مدت درکار ہے۔
    علی ظفرسے بھی سوال کیا گیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بروقت مردم شماری کرائی، "مردم شماری کی منظوری میں چار سال کیوں لگے؟ لگتا ہے آپ تاخیر کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،بتائیں کہ مردم شماری میں تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر 2017 میں مردم شماری کی منظوری دی گئی تھی تو جلد کیوں نہیں کرائی گئی؟ آدھا سچ کیوں پیش کرتے ہیں؟ پچھلی حکومت نے مردم شماری نہیں کروائی اور جب نئی حکومت نے کرائی تو آپ اسے غلط کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت مردم شماری کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟” [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر آئینی طور پر مردم شماری کی ضرورت ہے تو اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کیں وہ اب تاخیر، حلقہ بندیوں، اور متعلقہ مسائل پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

    نوے دن میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران یہ اٹھائے گئے چند اہم سوالات ہیں۔ ایک چیز جو ظاہر تھی وہ یہ تھی کہ عدالت کی طرف سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی خواہش تھی ،بیان بازی پر پابندی لگانے کے بجائے "قابل عمل” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

    اندرون خانہ مسائل کو حل کرنے کے بعد حتمی تاریخ دینے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ تاہم، نہ صرف ابھی کے لیے بلکہ مستقبل کی نظیر کے طور پر بھی، قانون کے سوالات کو طے کرنا ہے بلکہ طے کیا جائے گا۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ
    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں عسکری فور کراچی میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روکنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی درخواست ناقابل سماعت ہونے پر مسترد کر دی،سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے درخواست دائر کیے جانے پر سوالات اٹھا دیے ، سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کے قانونی وجود کے بارے آئین، رول آف بزنس 1983 یا کسی قانون میں ذکر ہے؟ کیا وفاقی حکومت کے ادارے اپنے کیسز میں پرائیویٹ وکیل ہائر کر سکتے ہیں؟قانونی وجود نا رکھنے والے کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دینے پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تعجب ہوا،

    سپریم کورٹ نے کہاکہ قانونی وجود نا رکھنے پر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ درخواست دائر نہیں کر سکتی،اگر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ متاثرہ فریق ہو تو وفاقی حکومت کے ذریعے درخواست دائر کرسکتی ہے،موجودہ کیس میں آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے تو وفاقی حکومت، صدر مملکت سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، کیا یہ وفاقی حکومت کا وفاقی حکومت کے ہی خلاف کیس ہے؟آرمی جنرل ہیڈ کوارٹرز ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا حق دعوی ہو ہی نہیں سکتا،آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نا کوئی فلاحی ادارہ ہے نا کارپوریشن، جب ایک ادارہ آئین و قانون میں وجود رکھتا ہی نہیں تو درخواست کیسے دائر کر سکتا ہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ صدارتی آرڈر 1982 سے وجود میں آیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی آرڈر میں آئین و قانون کا حوالہ کہاں ہے؟ ،جسٹس اطہرمن اللہ نے عابد زبیری کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 245 پڑھیں کیا کہتا ہے، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے مطابق وفاقی حکومت کے احکامات پر افواج ملک کا بیرونی خطرات سے دفاع کرتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ افواج کا آرٹیکل 245 سے باہر کوئی کام نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی سینئر وکیل ہیں اور ایک قانونی وجود نا رکھنے والے ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ قانونی وجود نا رکھنے والے درخواست گزار کا کیس نہیں سن سکتے، شکایت کنندگان کے وکیل موئز جعفری اسی لیے کنارہ کش ہو گئے کہ انہیں پتا تھا ان سے سنبھلے گا نہیں،

    عدالت نے شکایت کننگان کے وکیل موئز جعفری کی عدم پیشی پر خصوصی نمائندگی کی درخواست خارج کر دی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سندھ ہائیکورٹ نے عسکری فور میں پارکنگ ایریا میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روک دی تھی،ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ ، ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ نے عام انتخابات ایک تاریخ کو کرانے کی درخواست خارج کردی،سپریم کورٹ نے واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کی،درخواست گزار کی جانب سے شاہ خاور پیش ہوئے اور کہا کہ اب اس درخواست کی ضرورت نہ رہی،کل عدالت پہلے ہی یہ معاملہ اٹھا چکی ہے ،یہ اس وقت ہم نے ایک کوشش کی تھی، اس وقت عدالت نے 14 مئی کو انتخابات کا آرڈر دیا تھا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو درخواست دینی چاہئے تھی کہ 90 دن میں الیکشن نہیں کرارہے ان کے خلاف کاروائی کریں، آپ الیکشن التوا میں ڈالنے والوں کی معاونت کیوں کرتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں جو آپ درخواست میں مانگ رہے ہیں ،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 4 سال بعد انتخابات کا حکم دیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ قانون کے برخلاف تو کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، شاہ خاور نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپکا کا موقف یہی تھا کہ ایک ساتھ انتخابات ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل کو دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر؟ شاہ خاور نے کہا کہ ہم پھر ایک درخواست دائر کردیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر اس معاملے پر ایک ہی بار فیصلہ نہ کردیں ؟ اگر آڈر آف دا کورٹ کی خلاف ورزی ہو تو توہین عدالت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں،آپ اکثریت کا فیصلہ چیلنج کریں، آڈر آف دا کورٹ کی اہمیت ہوتی ہے، ایک آڈر آف دا کورٹ نہ ہو تو ہر جج کہے گا یہ آڈر آف دا کورٹ ہیں،انتخابات کے معاملے پر 4 آڈر آف دا کورٹ تھے یا پانچ؟ فارق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں مذاکراتی کمیٹی بات چیت کیلئے بنی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ، آڈر آف دا کورٹ سے اکثریت واضح ہوجاتی ہے، آڈر آف دا کورٹ سے فیصلے کا نتیجہ مل جاتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت آئین کے دیباچے کے خلاف ہیں ، 6 ماہ کیلئے نگران سیٹ اپ کیسے ہوسکتا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ نگران حکومت کا مقصد کیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت کا مقصد صاف اور شفاف انتخابات ہیں،آج تک صاف شفاف انتخابات نگران حکومت نہیں کرواسکی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کروانا تو الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کا پھر کیا کام ہے،چلیں خیر یہ دیکھنا پارلیمنٹ کا کام ہے،ہم صرف تشریح ہی کر سکتے ہیں ،وکیل شاہ خاور کی جانب سے درخواست واپس لینے پر عدالت نے خارج کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے عین پہلے اسمبلی تحلیل کرنے کا کیا مقصد ہے؟ میں سوالات اٹھا رہا ہوں کہ شاید پارلیمنٹ ان پر غور کرے ،الیکشن سے بہت پہلےکے اصولی مؤقف پراسمبلی تحلیل کرناتوالگ بات ہے ،الیکشن سےعین پہلے ایساکرنے سے کیا ہوگا؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • صدر کے پاس اختیار تھا تو  انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    صدر کے پاس اختیار تھا تو انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں 90دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری روسٹرم پر آ گئے، درخواست گزار عبادالرحمان لودھی بھی ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفر ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری بھی ایک اپیل سماعت کے لئے مقرر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست پر رجسٹرار افس نے اعتراضات عائد کیے تھے،اعتراضات کے خلاف تو جج چیمبر اپیل سنتا ہے،چلیں ہم اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے دلائل شروع ہو گئے، عابد زبیری نے کہا کہ ہم نے 16 اگست کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،درخواست پر نمبر لگ گیا،جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست کے باوجود کیس نہیں سنا گیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی آفس کی طرف سے ایک نوٹ بھیجا گیا ہے،اس میں تو لکھا ہےاپ نے کبھی کیس کی جلد سماعت کی درخواست ہی دائر نہیں کی،آپ صدر سپریم کورٹ بار ہو کر عدالت سے غلط بیانی کر رہے ہیں،عام انتخابات سے متعلق درخواست تو انتہائی اہمیت کا حامل مقدمہ ہے،عام انتخابات کیس تو بہت اہم مقدمہ ہے فوری سماعت ہونی چاہیئے تھی،اب تک تو اس کیس کا فیصلہ ہو چکا ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 19اے سے متعلق فیصلہ سنا چکی ہے، اب آپ ایک چٹھی لکھتے آپ کو مشترکہ مفادات کونسل کا ریکارڈ مل جاتا،آپ کے مطابق مردم شماری کا آغاز 18 ماہ پہلے ہوا تھا، عابد زبیری نے کہا کہ پانچ اگست کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری جاری کرنے کی منظوری دی، سات اگست کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مردم شماری کب ہوگی کیا اس کا کوئی طے شدہ ضابطہ ہے؟ کیا مردم شماری کا تعلق الیکشن کے انعقاد سے ہوتا ہے؟ مردم شماری کا آئینی تقاضہ کیا ہے اور کب ہوتی ہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اس کی پالیسی سازی کے لیے لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ سوال اب بھی یہی ہے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آخری مردم شماری کب ہوئی؟ عابد زبیری نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تو لکھا تھا وہ عبوری مردم شماری ہوگی، چکیا اس کے بعد کوئی حتمی مردم شماری بھی ہوئی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ آئینی ضرورت ہے کہ ہر الیکشن سے قبل مردم شماری لازمی ہوگی؟عابد زبیری نے کہا کہ نہیں یہ لازم نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر موجودہ مردم شماری کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوں گے؟ 2017 کی مردم شماری تو عبوری تھی اور صرف 2018 کے الیکشن کے لیے تھی،ہمیں صرف اس سوال کا جواب دے دیں نئی مردم شماری کالعدم قراردیں تو انتخابات کس مردم شماری کے تحت ہونگے،عابد زبیری نے کہا کہ میں ایک عدالتی فیصلہ بطور نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے عدالتی فیصلوں پر ہی انحصار کرنا ہے تو آپکو کیوں سن رہے ہیں،پھر ہم عدالتی فیصلہ دیکھ کر خود ہی حکم جاری کردیتے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں کے پی اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا غیر آئینی تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نگران وزرائے اعلیٰ شریک نہیں ہوسکتے، آپ جذباتی نہیں آئین کے مطابق دلائل دیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوے دنوں میں انتخابات کے انعقاد کے آئینی شق کی خلاف ورزی تو ہوچکی،کیا آپ اپنی درخواست پر اب بھی چاہتے ہیں کہ کاروائی ہو، عابد زبیری نے کہا کہ نوے دن گزر جانے کے باوجود دو نگران صوبائی حکومتیں ابھی بھی کام کرہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے لئے الگ سے کوئی درخواست دائر کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر ہم مردم شماری کے معاملے میں پڑے تو انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال ایک ہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ انتخابات 2017 کی مردم شماری ہے مطابق ہوں،ہم مختصر وقفے کے بعد آرہے ہیں، آپ اس معاملے پر تیاری کرلیں،عابد زبیری نے کہا کہ بارہ اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس میں مردم شماری کا فیصلہ ہوا ،اس اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلی نے کونسل کے فیصلے سے اختلاف کیا، مردم شماری کا سلسلہ 2021 میں شروع ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب مردم شماری کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟ وکیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی،مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا، لیکن تاخیر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 کے فیصلے پر عمل 2021 میں ہوا، میں اس بارے میں اس لئے جانتا ہوں کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمات کی سماعت کی،جس نے تاخیر کی اس شخصیت کا نام لیں نا وکیل صاحب، جب مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا اس وقت آپ نے بطور وکیل کیوں نہیں درخواست دائر کی، وکیل صاحب اگر اپ سیاسی دلائل دینا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے یہ عدالت موزوں فورم نہیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مردم شماری کی پر فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تھا ،ایک وزیر اعظم اور چار وزرا اعلی بیٹھتے ہیں ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوتا ہے،ملک میں اس وقت صرف ایک صوبے میں بلدیاتی حکومتیں موجود تھیں وہ صرف بلوچستان تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی تو ہم کیا کریں؟کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت کو استثنی حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کیخلاف ہم کیا کرسکتے ہیں ؟اپنی رٹ بحال کرنے کیلئے حکم جاری کرسکتے ہیں،اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے تو آرٹیکل 6 لگے گا،تاریخ دینے کے حوالے سے قانون میں ترمیم ہوگئی تھی، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 48 سے متصادم ہے؟الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں؟انتخابات تو ہونے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کو ایک وکیل نے خط لکھا ، اسکا کیا جواب ملا؟ درخواست گزار منیر احمد نے کہا کہ صدر مملکت نے کوئی جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو تاخیر کا زمہ دار صدر مملکت کو ٹھہرا رہے ہیں،کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟ چاس مقدمے میں درخواست گزار ایسے ہیں جو سنجیدہ نہیں، ایک درخواست گزار ہیں جنہوں نے سماعت کے بعد وکیل تبدیل کیا، اگر ہم مقدمات مقرر نہ کریں تو پھر کہا جاتا ہے کہ مقدمات مقرر نہیں کئے جاتے،میڈیا پر جاکر باتیں کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ رولز پروسیجر کیس میں جلدی فیصلہ ہوسکتا تھا لیکن اس کیس کو لمبا کیا گیا، ہم پر دل کھول کرتنقید کریں، لیکن یہاں آکر کیس میں دلائل دیں،لوکل گورنمنٹ انتخابات کیس میں سپریم کورٹ کے کہنے پر مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا،ہم تاریخ کو فراموش نہیں کر سکتے،گزشتہ حکومت نے مردم شماری کرانے کے فیصلے کیلئے چار سال لگا دیئے،عابد زبیری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کا حکم بھی اسی عدالت نے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمدرآمد نہیں ہوا لیکن کیا دو صوبوں میں انتخابات کا کیس زیر سماعت ہے؟آپ وکیل ہیں لے آئیں ناں کوئی توہیں عدالت کی درخواست، کس نے روکا ہے؟ جب میں بلوچستان کا چیف جسٹس تھا صرف بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار منیر احمد نے بھی جلد سماعت کی درخواست نہیں دی، میڈیا پر انتخابات کیس پر لمبی لمبی بحث ہوتی ہے، ہم کیس لگائیں تو الزام، کیس نہ لگائیں تو بھی ہم پر الزام ، یہ ایسا مقدمہ ہے جو ہر صورت لگنا چاہیے تھا،آج وکلاء کے پاس مقدمے کی فائل ہی نہیں ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے اہم مقدمات لگانا شروع کر دیئے ، میڈیا پر لمبی لمبی تقریریں اور کمرہ عدالت میں وکیل کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اگر ہم نے تاخیر کرنا ہوتی تو فوجی عدالتوں کا نیا بینچ بنا دیتے،میڈیا ہم پر انگلی اٹھائے اگر ہم غلطی پر ہیں، کیس عدالت میں چلانا ہے یا ٹی وی پر چلانا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپنا مقدمہ صرف 90 دن میں انتخابات پر رکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 90 دنوں والی بات ممکن نہیں ، وہ بات بتائیں جو ممکن ہو، آپکا سارا مقدمہ ہی صدر مملکت کے اختیارات کا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے تو پھر تاخیر کا زمہ دار کون ہے؟ آئینی کام میں تاخیر کے نتائج ہونگے،وکیل انور منصور نے کہا کہ صدر مملکت کے خط کے بعد تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت نے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی؟آپ ایک وقت میں دو مختلف دلائل نہیں دے سکتے، آرٹیکل 48 پر انحصار کریں یا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 پر؟ صدر کے جس ٹوئیٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے اس میں صدر مملکت خود رائے مانگ رہے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ ٹوئیٹ بھی صدر کا ہے یا نہیں ،کیا سپریم کورٹ ایک ٹویٹ پر فیصلے دے؟ ٹویٹس میں صدر مملکت نے اپنے آئینی اختیارات کی بات نہیں کی، صدر حکم دے دیتے،انور منصور صاحب آپ ایسے صدر کے اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں ،بہت اخلاق والے صدر ہیں آپ فون بھی کرتے توآپکو بتا دیتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وضاحت کریں تاخیر پر نتائج کا سامنا کسے کرنا چاہیے ؟صدر مملکت نے کونسی اور کب تاریخ دی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر بار کے مطابق 3 نومبر کو انتخابات ہونے چاہئےتھے ، صدر مملکت نے 6 ستمبر کی تاریخ دے دی تو خود خلاف ورزی کردی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل آرٹیکل 224 تک محدود رکھیں ،وہ الگ بات ہے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے،انور منصور نے کہا کہ ہم ذمہ داروں کے تعین کی بات نہیں کرہے، ہم تو انتخابات چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 23 اگست کو صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی صرف خط لکھا اور کہا کہ آئیں بات کرتے ہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لگتا ہے انور منصور صاحب آپ نے اپنی درخواست خود نہیں لکھی،آپ انتخابات کے معاملے کو کنفیوژ کرہے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انور منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی خدمات پروفیشنلی حاصل کی گئی ہیں؟ایک سوال یہ ہے کہ انتخابات کون اعلان کرسکتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کیا اس وقت نوے دنوں میں الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ؟

    عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ تاریخ دے، کچھ اختیارات آئین سے مشروط ہیں،90 دنوں میں انتخابات کروانا آئینی مینڈیٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دونوں میں انتخابات کی تاخیر کس نے کی، اس پر آپ انگلی نہیں اٹھاتے؟ آپ کہتے ہیں صدر مملکت نے تاریخ دینی تھی،آپ کہہ رہے ہیں کہ تاریخ دینے کا اختیار صدر مملکت کا ہے،اسکا مطلب ہے آپ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 کو چیلنج نہیں کررہے،
    اگر صرف انتخابات کی بات کریں تو ہم فیصلہ کرسکتے ہیں،اگر آپ آئینی تشریح کی بات کریں گے تو ہمیں پانچ رکنی بینچ بنانا پڑے گا، دنیا کے سارے مسائل اس درخواست میں نہ لائیں ،صرف انتخابات کی بات ہے تو ہم ابھی نوٹس کردیتے ہیں

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عدالت میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کو پھر ثابت نہ کیا جاسکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہی ہوتا ہے جب کوئی آئینی ادارہ کام نہ کرے اور دوسرے پر ڈال دے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ اتنا بتا دیں کہ انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہے،عابد زبیری نے کہا کہ ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے،آئین کے مطابق صدر مملکت نے تاریخ دینا ہوتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر بات کو گھما رہے ہیں صدر کے پاس اختیار تھا تو تاریخ کیوں نہیں دی؟کوئی تو ذمہ دار ہے کیا آپ صدر مملکت کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں؟وکیل علی ظفر صاحب آپ کا کیس الیکشن 60 دنوں میں کرانے کا ہے یا 90 دنوں کا ہے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میرا کیس 90 دنوں میں الیکشن کرانے کا ہے، نوے دنوں میں الیکشن کرانے کے عمل کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا،آئین کا ارٹیکل 48 کہتا ہے کہ اگر صدر مملکت اسمبلی توڑتا ہے تو وہ انتخابات کی تاریخ دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے دلائل میں صدر کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں، اگر صدر نے تاریخ دینی تھی اور نہیں دی توپھرکیوں ان کا نام نہیں لیتے؟آپ کا کیس یہ ہے کہ صدر تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ بتائیں علی ظفر صدر نے اپنے اختیارات کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ صدر نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کے لئے بلایا تھا تاریخ نہیں دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کے کیس میں درخواست گزارکون ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہاکہ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش ہورہا ہوں، میرا موکل پارٹی کا جنرل سیکریٹری عمر ایوب ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس کے پوتے ہیں آپ کو علم ہے ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ان کے دادا پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہیں گے کہ درخواست گزارکے دادا نے ملک میں آئین کے استعمال کو روکا،کیا آپ کو اس ملک کی تاریخ کا علم نہیں ؟ علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل یہ ملک کی ایک تاریخ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ دادا کے کاموں کا ذمہ دارپوتا ہوتا ہے، اب ان کا پوتا جمہوریت پسند ہے،پہلے انتخابات کی تاریخ اعلان کرنے کا اختیار صدر کے پاس تھا،ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے،پی ٹی ائی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے،

    درخواست گزار عبادالرحمان نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ میں پاکستان کا شہری ہوں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہا،صدر کے پاس اختیار ہے انتخابات کرانے کا، اس آئین کی ذمہ داری صدر نے پوری نہیں کی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ اگر کسی نے آئین پر عمل نہیں کیا تو پھر اس کو نتائج بھگتنا چاہئیں،بظاہر لگ رہا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ اب نوے دنوں میں الیکشن نہیں ہوسکتے لیکن انہوں نے حل دیا آرٹیکل 224 کا،اب اس کیس میں عدالت کس کو بلائے ، صدر کو پھر الیکشن کمیشن کو؟ علی ظفر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ وقت دوبارہ نہیں آسکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ دلائل مکمل کریں ہم اس پر نوٹس کرتے ہیں.

    نوے دنوں میں عام انتخابات کیس، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے حکم میں کہا کہ درخواستوں میں مختلف نوعیت کی استدعائیں کی گئیں، درخواستوں میں صدر اور دیگر کو فریق بنایا گیا،آئین میں صدر کے خلاف حکم کی استثنی حاصل ہے،ہم نے درخواست گزاروں کے وکلا کو تفصیل سے سنا،وکلا نے عدالت کو بتایا کہ عام انتخابات ملک میں نہیں ہوسکے جس کی وجہ ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ 15 جنوری کو سی سی آئی نے مردم شماری کرنے کا فیصلہ کیا،سی سی آئی کے فیصلے پر ادارہ شماریات نے مردم شماری کی اور پانچ اگست کو اس کے نتائج کو سی سی آئی نے منظور کیا،الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیاں کرنے کا نوٹیفیکیشن آرڈر کا حصہ بنادیا گیا،دلائل کے دوران اس بات پر سارے متفق تھے کہ اسمبلی توڑنے سےلے کر آج تک نوے دنوں میں انتخابات ممکن نہیں،علی ظفر نے آرٹیکل 244 کا حوالہ دیا ۔ آرٹیکل 244 کو ارڈر کا حصہ بنا دیا گیا

    90روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی،عدالت نے سماعت دو نومبر تک ملتوی کردی،تاہم عدالت نے کہا کہ تمام وکلا عدالت میں پیش ہوں ویڈیو لنک کی سہولت نہیں ہوگی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟