Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس کیس،وفاق نے عدالت میں مہلت مانگ لی

    ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس کیس،وفاق نے عدالت میں مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس متعلق نوٹس کے خلاف درخواست کے بعد وفاق کی جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی متفرق درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 15 ستمبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے وفاق کی متفرق درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے اس سے قبل چار ستمبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت دے رکھی تھی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ اٹارنی جنرل بیرون ملک ہیں جواب جمع کرانے کے لئے کچھ وقت دیا جائے ،آڈیو لیکس سے متعلق مرکزی کیس 18 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے

    واضح رہےکہ گزشتہ دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر ابوزر چدھڑ سے ٹکٹ کے معاملے پر بات کر رہے تھے جب کہ ثاقب نثار نے بھی آڈیو میں بیٹے کی آواز کی تصدیق کی تھی۔ثاقب نثار کا بیٹا نجم ثاقب تحریک انصاف کے نئے ٹکٹ ہولڈر افراد سے گفتگو کررہا ہے،انکو کہہ رہا ہے ابو 11 بجے تک دفتر آجاتے ہیں،ٹکٹ دلوانے پر انکا شکریہ ادا کرنے آجائیں،ساتھ 1 کروڑ 20 لاکھ سے کم نہیں لانے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی تھی نجم الثاقب نےاسپیکر اسمبلی کی بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کر رکھی ہے۔

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

  • سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں، چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ نے حارث دلائل دیئے،خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ ترامیم کے بعد بہت سے زیر التواء مقدمات کو واپس کردیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ان ترامیم میں کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدس مقامات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں ؟ان ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام ختم ہوگیا، خواجہ حارث نے کہا کہ پہلے تحقیقات ہوں گئیں جن کے جائزہ کے بعد مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واپس ہونے والے فورمز کا مستقبل بارے کسی کو معلوم نہیں ،نہیں معلوم کہ یہ مقدمات دوسرے فورمز پر بھی جائیں گے ؟ کیا نیب کے پاس مقدمات دوسرے فورمز کو بھجنے کا کوئی اختیار ہے ؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد ان مقدمات کو ڈیل کرنے کا اختیار نیب کے پاس نہیں، مقدمات دوسرے اداروں کو بھجوانے کا بھی کوئی قانونی اختیار نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے دفتر میں قتل ہوگا تومعاملہ متعلقہ فورم پر جائے گا، مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوانے کیلئے قانون کی ضرورت نہیں، جو مقدمات بن چکے وہ کسی فورم پر تو جائیں گے، دوسرے فورمز کو مقدمات بھجوانے کا اختیار نہیں مل رہا اس بارے ضرور پوچھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مجموعی طور پر 52 ویں سماعت کی، اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے دلائل کیلئے اٹارنی جنرل کی درخواست پر آج کا دن مقرر کیا تھا

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عدالت میں کہا کہ تحریری گزارشات عدالت کو جمع کروا دی ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے؟ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی ہیں،ریفرنس واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس جانب ہے،مئی تک کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکاڑد پر آ چکا ہے، نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی دوسری جون میں آئی، مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں، نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا؟

    سپیشل پراسیکیوٹر ستار اعوان نے عدالت میں کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہے، ان کی جانب سے تحریری دلائل دینگے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو پہلے بتا دیا جاتا توریگولر بنچ لگا لیتے، نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تک نیب مقدمات واپس ہونے سے تمام افراد گھر ہی گئے ہیں یہ بھی کہا گیا کہ نیب ترامیم وہی ہیں جن کی تجویز پی ٹی آئی دور حکومت میں دی گئی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے کنڈ کٹ سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن بنیادی انسانی حقوق سے ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ کہا گیا نیب ترامیم سے میں ذاتی طور پر فائدہ اٹھا چکا ہوں، اگر میں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانا ہوتا تو اسی قانون کیخلاف نہ کھڑا ہوتا، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، ترامیم کے تحت دفاع آسان ہے لیکن نیب کو بتا دیا ہے کہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے،نیب کو جمع کرایا گیا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیرالتواء تحقیقات اور انکوائریاں ترامیم کے بعد سردخانے کی نظر ہوچکی ہیں، تحقیقات منتقلی کا مکینزم بننے تک عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی 62 ون ایف کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے، منتخب نمائندے اپنے اختیارات بطور امین استعمال کرتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی افسران کو نیب قانون سے استثنی دیا گیا ہے، وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فوجی افسران کے حوالے سے ترمیم چیلنج نہیں کی، فوجی افسران کیخلاف آرمی ایکٹ میں کرپشن پر سزائیں موجود ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزائیں تو سول افسران اور عوامی عہدیداروں کیخلاف بھی موجود ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ سول سروس قانون میں صرف محکمانہ کارروائی ہے کرپشن پر فوجداری سزا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کرپٹ آرمی افسر کا عوام سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا؟ آرمی افسر فوج کے علاوہ کسی ادارے کا سربراہ ہو تو نیب قانون کی زد میں آتا ہے، اعلی عدلیہ کے ججز کو نیب قانون میں استثنی نہیں ہے،آرٹیکل 209 کے تحت صرف جج برطرف ہوسکتا ہے ریکوری ممکن نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج برطرف ہو جائے تو نیب کو کارروئی کرنی چاہیے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب رپورٹ کے مطابق کراچی میں 36 اور لاہور میں 21 ریفرنس زیر التوا ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ ان ریفرنسز کے تفصیل یےجو ترمیم سے متاثر نہیں ہوئے جن کا ٹرائل چل رہا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی طارق اعوان ہیں ان کے کیسز 8 سال سے چل رہے ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ غیر قانونی الائمنٹ کے کیسز تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پشاور میں تو کچھ باقی نہیں بچا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے اس وقت ان کیسز کا ہے جو نہیں چل رہے ،جو مقدمات واپس ہوئے وہ ابھی تک نیب کے پاس پڑے ہیں؟ نیب پراسیکوٹرنے کہا کہ جی وہ ہمارے ہاس ہی ہیں سال 2022 میں 386 ریفرنس ہمیں واپس ہوئے

    عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ۔ کر لیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، بینچ کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس منصورعلی شاہ شامل ہیں ،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج نیب ترامیم کیس ختم کرنا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ پیر کو وہ کچھ وقت لیں گے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پیر تک وقت نہیں تحریری طور پر دلائل دے دیں ہم دیکھ لیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اجازت ہو تو وفاقی وکیل مخدوم علی خان سےایک بات پوچھوں کل ہم نے ترمیمی قانون میں ایک اور چیز دیکھی ایم ایل اے کے تحت حاصل شواہد کی حیثیت ختم کردی گئی اب نیب کو خود وہاں سروسز لینا ہوں گی جومہنگی پڑیں گی ایم ایل اے کے علاوہ بھی بیرون ملک سےجائیدادوں کی رپورٹ آئی ہے قانون میں تو اس ذریعے سے حاصل شواہد قابل قبول ہی نہیں نیب نے ترامیم کے بعد ریفرنسز واپس ہونے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آرکا بیرون ملک سے حاصل کردہ ریکارڈ قابل قبول شواہد کے طور پر نہیں پیش کیا جا سکتا کیا آئین پاکستان میں شکایت کنندہ کے حقوق درج ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ آئین میں صرف ملزم کے حقوق اورفیئرٹرائل کے بارے میں درج ہے آئین پاکستان شکایت کنندہ کے حقوق کی بات نہیں کرتا کل یہاں کہا گیا کہ نیب تحقیقات پراربوں روپے لگے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی نیب مقدمات میں سزا کی شرح 50 فیصد سے کم تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم میں بھی سزا کی شرح 70 فیصد سے کم ہے ان میں سے بھی کئی مقدمات اوپرجا کر آپس میں طے ہوجاتے ہیں ہم یہ ڈیٹا دیکھ رہے ہوتےہیں جو تشویش کی بات ہے قتل کے مقدمات میں 30 سے 40 فیصد لوگوں کو انصاف نہیں ملتا جبکہ ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ کئی متاثرین عدالتوں میں ملزمان کوشناخت کرنے سے انکارکردیتے ہیں متاثرین کویقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان کی شناخت کے بعد محفوظ رہیں گے یا نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد بین الاقوامی قانونی تعاون کے ذریعے ملنے والے شواہد قابل قبول نہیں رہے،وکیل نے کہا کہ ایف بی آرکو بیرون ممالک سے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہوجاتی ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو ملنے والی معلومات بطور ثبوت استعمال نہیں ہو سکتیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ملزم سے برآمد ہونے والا مواد بھی نیب نے ہی ثابت کرنا ہوتا ہے بیرون ملک سے لائے گئے شواہد بھی ثابت کرنا نیب کی ہی ذمہ داری ہے، عدالتیں شواہد کو قانونی طورپر دیکھ کرہی فیصلہ کرتی ہیں،سوئس عدالتوں نے آصف زرداری کیخلاف اپنے ملک کے شواہد تسلیم نہیں کیے تھے، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوئس مقدمات تو زائد المعیاد ہونے کی وجہ سے ختم ہوئے تھے عدم شواہد پر نہیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے سوئس حکام سے معاونت کس قانون کے تحت مانگی تھی کوئی نہیں جانتا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب پر دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک سے باہمی قانونی تعاون کے ذریعے شواہد لیے جاتے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بیرون ممالک سے حاصل کردہ شواہد کی کیا قانونی حیثیت ہے؟وکیل نے بتایا کہ بیرون ملک شواہد کے دفترخارجہ کے ذریعے تصدیق کا ایک پورا عمل ہوتا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پاکستان کے قانون میں بیرون ملک سے قانونی معاونت کی گنجائش کتنی ہے؟ خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ پاکستانی قانون میں بیرون ملک سے حاصل قانونی معاونت کی زیادہ اہمیت نہیں رکھی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مئی2023 سے پہلے نیب ریفرنسز کا واپس ہونا سنجیدہ معاملہ ہے ہمارے پاس نیب ریفرنس واپس ہونے سے متعلق تفصیلات پرمبنی فہرست ہے بات یہ ہے کہ ہم نے آج کیس ختم کرنا ہے ہمارے پاس جمعہ کی وجہ سے آج ساڑھے 12 بجے تک کا وقت ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو ساڑھے 12 بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی معافی کی طرح نیب سے معافیاں دی جا رہی ہیں بدنیت لوگوں کے ہاتھ میں اتھارٹی دی جاتی رہی ملک میں کئی لوگوں کے پاس منشیات اور دیگر منفی ذرائع سے حاصل کردہ داغدار پیسہ ہے جس کے تحفظ کی خاطر سسٹم میں مخصوص لوگوں کو بچا لیا جاتا ہے ، ریاست کی ذمہ داری ہے منصفانہ و فیئر معاشرہ قائم کرے ریاست نے یقینی بنانا ہے مجرمان آزاد نہ گھومیں آج صورتحال یہ ہو گئی کہ معاشی مواقع چھیننے پر شہری ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں معیشت کے شعبے کو سیاسی طاقتوروں کیلئے مختص کر دیا گیا بنیادی حقوق کے براہ راست تعلق کا سوال اٹھا رہے ہیں لوگ اپنے نمائندے کسی مقصد سے منتخب کرتے ہیں جو آئین میں درج ہے دنیا بھر میں آمدن سے زائد اثاثوں کے اصولوں کا استعمال کم کیا جاتا ہے ماضی میں نیب قانون کا غلط استعمال کیا جاتا رہا قانون سازی کے ذریعے سرکاری افسران کو نیب سے تحفظ فراہم کیا جاتا رہا آڈیٹر جنرل اہم آئینی ادارہ ہےمضبوط آڈیٹر جنرل آفس صوبوں کے اکاؤنٹس کو دیکھ سکتا ہےنیب ترامیم سے براہ راست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی نیب ترامیم سے بالواسطہ حقوق متاثر ہونے کا پہلو ضرور ہے، برا طرز یا مجرمانہ معاشرہ ہو گا تو لوگ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ نے نیب ترایم کیخلاف چیئرمین پی ٹی ائی کی درخواست کی سماعت ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی،

    دوسری جانب نیب ترامیم سے رواں سال فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہیں، رواں سال30 اگست تک12ریفرنس نیب عدالتوں سے منتقل ہوئے، سابق صدر آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی،خورشید انور جمالی، منظور قادر ،انور مجید،حسین لوائی،مرادعلی شاہ کے کیس نیب کے دائرہ کار سے نکل گئے،رواں سال مجموعی طور پر 22 مقدمات احتساب عدالتوں سے واپس ہوئے،ترامیم کی روشنی میں 25 مقدمات دیگر فورمز کو منتقل کر دیے گئے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات فیصلے پر نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے چار اپریل کے فیصلے پر نظر ثانی دائر کر رکھی ہے سماعت کے اغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے تیاری کیلئے مزید ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کردی۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت ایک ہفتہ کی تیاری کیلئے مہلت دے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف بتائیں آپ کے ساتھ ہم بھی کیس کا جائزہ لیں گے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نے کیس میں اضافی گراونڈز تیار کیے ہیں سب سے اہم سوال الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار کا تھا سیکشن 57,58 میں ترامیم کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب ذہن میں رکھیں یہ نظر ثانی ہے، وکیل نے کہا کہ دوہفتے پہلے سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات سے متعلق تفصیلی فیصلہ ملا،فیصلے کی روشنی میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوفیصلہ آیا وہ کیس ختم ہوچکا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا جواب ابھی عدالت میں ہمارے ساتھ ہی پڑھیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کانظرثانی کیس سے کوئی تعلق نہیں،انتخابات کی تاریخ دینے کا مقدمہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے،نظرثانی کیس میں جونکات اٹھانا چاہتے ہیں وہ بتائیں،

    جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی میں آپ دوبارہ دلائل نہین دے سکتے۔ یہ بتائیں کہ عدالتی فیصلہ میں غلطی کہاں ہے۔ سیکشن 230 کا نقطہ مرکزی کیس میں اٹھایا ہی نہیں گیا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین الیکشن کیشن کو اختیار نہیں ذمہ داری دیتا ہے، کیا صدر کی تاریخ الیکشن کمیشن کوتبدیل کرنے کا اختیار ہے،یہ بڑا اہم قانونی نقطہ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اختیارات کو الیکشن کمیشن نے آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنا ہے،جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا دلائل دے رہے ہیں۔ کبھی ادھر کبھی ادھر جا رہے ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تیسری مرتبہ آپ کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں۔ آپ کا نقطہ نوٹ کرلیا۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری کے روشنی میں اختیارات کا استعمال کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے نوے دن میں انتخابات ہونگے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے تاریخ تبدیل کرنے کا اختیار ہے۔ عدالت الیکشن کمیںشن کی دلیل سے اتفاق نہیں کرتی۔ نظر ثانی میں دوبارہ دلائل کی اجازت نہیں الیکشن کمیشن وکیل ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں الیکشن کمشن وکیل کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تو بتا دیں۔عدالت کے 14 مئی کو انتخابات کرانے کے فیصلہ میں سقم کیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اضافی دستاویزات کا جائزہ ابھی آپ کیساتھ ہی لین گے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات 90 روز نہیں کروا سکتا تو اسکا حل فیصلے میں بتا دے،اللہ نے ہمیں ایک دماغ اور 2 کان دیئے ہیں،آئین کسی کی جاگیر نہیں جو اسکی خلاف ورزی کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ صرف آئین اور قانون سے تبدیل ہوگی ،ہمیں اب آرٹیکل 254 کے چکر میں نہ ڈالیں،

    الیکشن کمیشن کی پنجاب انتخابات تاریخ پر دائرنظر ثانی درخواست خارج
    سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی کسی ادارے کو اختیار نہیں کہ آئین پر اثر انداز ہو،پنجاب انتخابات میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی قراردے دیا گیا،

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

  • اسلام آباد ہائیکورٹ عمران خان کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ کل سنائے گی

    اسلام آباد ہائیکورٹ عمران خان کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ کل سنائے گی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ عمران خان کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ کل سنائے گی، فیصلہ کل 11 بجے سنایا جائے گا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کر رہا ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کی جانب سے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج چیئرمین ہی ٹی آئی کی سزا معطلی پر فیصلہ کردیں گے، 

    امجد پرویز کے سزا معطلی کی درخواست ہر دلائل شروع ہو گئے،وکیل امجد نے کہا کہ عمران خان کی سزا معطلی درخواست میں ریاست کو فریق نہیں بنایا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی عمران خان کے خلاف پرائیویٹ کمپلینٹ ہے،ٹرائل کورٹ میں کہیں ریاست کا ذکر نہیں آیا، یہاں فریق بنانا کیوں ضروری ہے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنے کے حق میں بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے دینا شروع کردیا ،الیکشن کمیشن کے وکیل نے راہول گاندھی کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ راہول گاندھی کو دو سال سزا ہوئی تھی،راہول گاندھی نے سزا معطلی کی درخواست دی تھی،راہول گاندھی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد ہوئی،میں شارٹ سینٹینس کی بنیاد پر سزا معطلی کی اپیل کی مخالفت نہیں کررہا، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ حکومت کو نوٹس کیے بغیر اپیل پر کارروائی نہیں کی جا سکتی،قانون بھی یہی کہتا ہے کہ حکومت کو نوٹس ضروری ہے،ایسے تمام مقدمات میں تین وکلاء کی حاضری لگائی جاتی ہے، وکیل دفاع، وکیل استغاثہ اور حکومتی وکیل،

    امجد پرویز نے مختلف قوانین اور فیصلوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی سزا معطلی درخواست میں ریاست کو فریق نہیں بنایا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی عمران خان کے خلاف پرائیویٹ کمپلینٹ ہے، ٹرائل کورٹ میں کہیں ریاست کا ذکر نہیں آیا، یہاں فریق بنانا کیوں ضروری ہے؟ نیب کے مقدمات میں تو پبلک پراسیکیوٹر موجود نہیں ہوتا، امجد پرویزنے کہا کہ نیب کے اپنے پراسیکیوٹر موجود ہوتے ہیں جنہیں سنا جاتا ہے، نیب قانون میں پبلک پراسیکیوٹر کا ذکر ہی نہیں ہے،پبلک پراسیکیوٹر کی بات سی آر پی سی کرتا ہے،میری یہی درخواست ہے کہ حکومت کو نوٹس جاری کیا جائے،قانون میں کومپلیننٹ کا لفظ ہی نہیں، اسٹیٹ کا لفظ ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کمپلیٹ فائل کرنے میں کوئی کوتاہی ہے بھی تو اسکا اثر ٹرائل پر نہیں پڑے گا؟ امجد پرویز نے کہا کہ جی میرا یہی نقطہ ہے کہ ٹرائل تو عدالت نے ہی کرنا ہے، چاہے مجسٹریٹ کے پاس فائل ہو یا براہ راست، اگر مجسٹریٹ کی سکروٹنی والی بات مان بھی لی جائے تو ٹرائل سیشن عدالت نے ہی کرنا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ نے تعین کرنا ہے کہ سیشن عدالت کا ہی دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں؟۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل ، وکیل الیکشن کمیشن نے کیس میں وقفہ لینے کی استدعا کی اور کہا کہ دوائی کھانے کے لیے 10،15 منٹ کا وقفہ دیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کر دیا .

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 15 منٹ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز روسٹرم پر موجود تھے ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پرآ گئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، کچھ فیصلوں کے حوالے دینا چاہتا ہوں،وکیل امجد نے کہا کہ میں کوئی ایسا سیکشن نہیں پڑھوں گا جو نیا ہو،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بھی دو بار یہاں، اور ایک بار سپریم کورٹ میں دلائل دے چکے ہیں،انہوں نے الیکشن کمیشن اور سیشن جج ہمایوں دلاور کو ویلن بنایا ہوا ہے،ابھی وہاں مت جائیں، سزا معطلی پر ہی دلائل جاری رکھیں،دفاع کی جانب سے کمپلین کی باقاعدہ اجازت کے حوالے سے اعتراض اٹھایا گیا ہے، ان کے مطابق باقاعدہ اجازت کے بغیر کمپلین قابل سماعت نہیں ہے،میں عدالت سے الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ پڑھنے کی اجازت چاہتا ہوں،یہ authorization الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد دی گئی،الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ دفتر جو بھی ضروری ہو کرے، الیکشن کمیشن نے کسی فرد کو تو ہدایت جاری نہیں کی، الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کو تو ہدایت جاری نہیں کی، وہ کیوں کمپلین کرے؟ وکیل امجد پرویزنے کہا کہ سیکرٹری نے authorization میں لکھا کہ یہ کمپلین الیکشن کمیشن کے فیصلے کی نظر میں فائل کی جا رہی ہے، الیکشن کمیشن کے تمام ممبران نے اپنے فیصلے میں متفقہ طور پر اجازت دی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر سیکرٹری کمیشن کو ڈائریکشن دیتا تو وہ بات الگ تھی، یہاں الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کی بجائے آفس کو یہ ہدایت دی ہے، امجد پرویزایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کمپلینٹ کا ڈرافٹ الیکشن کمیشن نے منظور کیا،الیکشن کمیشن کے فل کمیشن نے کمپلینٹ کی منظوری دی،

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے دلائل مکمل کرنے کے لیے کل کا وقت بھی مانگ لیا، عدالت میں کہا کہ میرے دلائل آج مکمل نہ ہو پانے کی ایک یہ وجہ ہےکہ خواجہ حارث کا بیان حلفی براہ راست عدالت میں پیش کیا گیا ،تصدیق شدہ کاپی نہیں مل سکی .جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہی دلائل مکمل کریں،ابھی کیا رہ گیا ہے ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمپلینٹ کا دورانیہ ، حق دفاع ختم ہونے اور دائرہ اختیار طے نا کرنے کے تین نکات رہ گئے ہیں ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ اب مزید کِس نکتے پر دلائل باقی ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ حقِ دفاع اور چار ماہ میں کمپلینٹ دائر کرنے کے نکات پر دلائل دینے ہیں، واویلا کیا جا رہا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے ہائیکورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کی،میں بتاؤں گا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی نہیں کی،ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ ملزم کے وکیل عدالت میں پیش ہو کر دلائل دینگے، میرے دلائل آج مکمل نہ ہو پانے کی ایک وجہ ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں، آج ہی مکمل کرینگے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ خواجہ حارث کا بیان حلفی اس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، مجھے بیان حلفی کی تصدیق شدہ کاپی نہیں مل سکی،میں کسی وکیل کے بیان حلفی کے جواب میں حلفیہ بیان دینے والا آخری شخص ہوں گا، آفس نے مجھے خواجہ حارث کے بیان حلفی کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی،میں آخری شخص ہوں گا جو اس پر کاؤنٹر ایفی ڈیوٹ جمع کرائے، بیان حلفی کا سپریم کورٹ میں بھی تذکرہ ہوا مگر وہ آفس میں سی ایم کے ذریعے دائر نہیں ہوا، وبیان حلفی ادھر ہی دوران سماعت کورٹ کو دیا گیا،

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ امجد صاحب پانچ دس منٹ میں آپ مکمل کر لیں جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نے عدالتی نظیریں آپ کے سامنے رکھ دیں عدالت دیکھ لے ،توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل ہو گی یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے جج ہمایوں دلاور کو مشق ستم بنانے کی بات کی تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے انھیں روک دیا کہ جج پر کوئی بات نہ کی جائے

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں سامنے آ گئے

    ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں سامنے آ گئے

    قانونی ماہرین اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سوشل میڈیا مہم سے متعلق پی ٹی آئی کی مہم پر حمایت میں سامنے آگئے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کیخلاف مہم میں دوہرے معیار کا الزام لگایا، یہ مہم صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے چلائی جا رہی ہےسوشل میڈیا مہم امریکا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت دیگر ملکوں سے چلائی جا رہی ہے جس کے لیے منظم مہم میں قابل اعتراض ہیش ٹیگ کا استعمال کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا مہم میں مختلف پوسٹرز اور ویڈیوز بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

    سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ جتنی مرضی ججز پر کیچڑ اچھالیں، ججز پر ایسی تنقید سے فرق نہیں پڑتا امید ہے کہ ججز تمام تر تنقید کے باوجود حلف کی پاسداری کریں گے وتیرہ بنتا جارہا ہے آپ اونچا بولیں گے تو دوسرے پر حاوی ہوجائیں گے، سب سے اونچی آواز گدھے کی ہوتی ہے مگر اس کے پاس کوئی مواد نہیں ہوتا۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    راجہ خالد ایڈووکیٹ مے کہا کہ ججز پر ایسے حملے انتہائی شرم ناک، افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہیں یہی چیف جسٹس اس وقت بہت بڑے اور اچھے جج تھے، جب انہوں نے پی ٹی آئی کو درجنوں کیسز میں ریلیف دیا جو جج پی ٹی آئی کی ڈکٹیشن اور ان کی مرضی پر نہیں چلتا، یوتھیا نہیں بن جاتا، اس کا مقدر گالم گلوچ ہوجاتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف پوسٹیں شیئر کی گئی اور ساتھ ہی ان پر منافقت کا الزام لگادیا پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جسٹس عامر فاروق کے خلاف کئی پوسٹیں شیئر کی گئیں۔

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

  • سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ پر سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیدیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کل سماعت کریگا سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    جڑانوالہ میں چرچ اور عیسائی برادری کے گھروں پر حملوں کے خلاف متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی سپریم کورٹ گھنائونے واقعے کا ازخود نوٹس لے ،درخواست اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مقدمے میں دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ اقلیتی برادری پر۔حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا جائے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ،درخواست منارٹیز الائنس ایمپلیمنٹشن کی جانب سے دی گئی تھی

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی 

  • سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کی اپیل 23 اگست کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ کا حصہ ہونگے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی،چیرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 اگست کے فیصلوں کو چیلنج کیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ قابل سماعت ہونے کا معاملہ واپس جج ہمایوں دلاور کو بھجوادیا تھا ،سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات

    چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی ملاقات ہوئی ہے

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس مر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ کی ملاقات ہوئی ہے.ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی، ملاقات سپریم کورٹ میں گزشتہ روز ہوئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں پاکستان میں عام انتخابات کے معاملے پر بات چیت کی گئی،

    واضح رہے کہ نگران حکومت آ چکی ہے، نگران کابینہ آج حلف اٹھا لے گی، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بن چکے ہیں اور نگران حکومت نے 90 دن میں الیکشن کروانے ہیں، 90 دن میں الیکشن کروانے کے لئے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی جا چکی ہے،نوے روز میں الیکشن ہوں گے یا نہیں ؟ اس پر ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا، تا ہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات کو اہم ملاقات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی 

    چودھری شجاعت حسین نے انوار الحق کاکڑ کو نگران وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی 

  • پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے تفتیش میں بہتری کیلئے اقدامات نہیں کئے،چیف جسٹس

    پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے تفتیش میں بہتری کیلئے اقدامات نہیں کئے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پولیس آرڈر 2002 منسوخی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا اجلاس میں تمام آئی جیز اور پراسیکیوٹرز پیش ہوئے کرائم سین کا تحفظ نہ ہونے سے شواہد ضائع ہو جاتے ہیں پراسیکیوشن کے عدالتوں میں ناقابل قبول شواہد سے ملزمان بری ہو جاتے ہیں پولیس تفتیش میں کمزوریاں ہیں، جس کا ملزمان کو فائدہ ملتا ہے

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نے علیحدہ سے خصوصی ونگ قائم کیا ،سندھ پولیس کا اقدام قابل ستائش ہے پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے تفتیش میں بہتری کیلئے اقدامات نہیں کئے خیبرپختونخوا میں بھی پولیس نظام کو کچھ بہتر کیا گیا ہے پنجاب اور اسلام آباد پولیس نظام بہتر بنانے میں دیگر صوبوں سے پیچھے ہیں ،دوران سماعت وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ سندھ اسمبلی تحلیل ہو چکی نگران حکومت سے ہدایات کیلئے مہلت دی جائے

    عدالت نے کیس کی سماعت چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج