Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • چیف جسٹس کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس

    چیف جسٹس کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس

    سپریم کورٹ،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا

    اجلاس میں قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عرفان سعادت خان کی سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دی گئی،جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عرفان سعادت خان کے بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی کی منظوری اتفاق رائے سے ہوئی۔اجلاس میں ہائیکورٹ کے ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کے طریقہ کار کی تجاویز پر بھی غور ہوا۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عرفان سعادت کی بطور سپریم کورٹ کے جج سفارش کر دی،جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عرفان سعادت کا نام حتمی منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو بھجوا دیا

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

  • چیف جسٹس کا انتخابات اور فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا کیس مقرر کرنے کا عندیہ

    چیف جسٹس کا انتخابات اور فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا کیس مقرر کرنے کا عندیہ

    سپریم کورٹ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے انتخابات اور فوجی عدالتوں کا کیس مقرر کرنے کا عندیہ دیا ہے

    سپریم کورٹ میں پاک عرب ریفائنری ملازمین کیس میں التوا دینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس حوالہ سے ریمارکس دیئے، وکیل ملازمین نے استدعا کی کہ پاک عرب ریفائنری ملازمین کا کیس 15 دن کے بعد مقرر کر دیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں عام انتخابات اور سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس مقرر ہونے والے ہیں،سپریم کورٹ میں مشکل مقدمات آنے والے ہیں جس دوران دیگر کیسز سننا مشکل ہو گا، اس کیس کو دو ماہ بعد مقرر کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے پاک عرب ریفائنری کے کیس کو دو ماہ کے لیے ملتوی کر دیا ،سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے تک آرٹیکل 184 تین کے مقدمات مقرر نہیں ہو رہے تھے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

  • بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اقساط جمع کرانے میں ایک سال کی رعایت دینے کی درخواست 2021 میں دائر کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اڑھائی سال سے درخواست مقرر کیوں نہیں ہوئی؟ کیا بحریہ ٹائون کی مقدمہ میں دلچسپی ختم ہوگئی تھی؟ کیا کوئی جلد سماعت کی درخواست دائر کی تھی؟ وکیل بحریہ ٹاؤن سلمان بٹ نے کہا کہ جلد سماعت کی کوئی درخواست دائر نہیں کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ تاخیر سے درخواست مقرر ہونے پر کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟ آپ متعلقہ آفس پر الزام لگائیں ہم تحقیقات کرینگے،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مقدمات عدالت خود مقرر کرتی ہے وکیل کا کوئی کردار نہیں ہوتا، مقدمات مقرر کرنا عدالت کا اندرونی معاملہ ہے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے آپ کارروائی ہی نہیں چاہتے، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ کسی پر الزام نہیں لگا سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ہم اپنے طور پر کارروائی کرینگے،

    وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ قانونی طور پر بحریہ ٹائون کو 16896 ایکڑ زمین الاٹ ہونی تھی لیکن صرف 11 ہزار ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلے پر عملدرآمد مانگیں یا توہین عدالت کا موقف لیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ فیصلے پر یکطرفہ عملدرآمد نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری بات سن ہی نہیں رہے ،ہم توکوئی دروازہ کھول لیں توہین کا کھولیں یا نظرثانی کا کھولیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ تھا اس میں سے دروازہ کھلے گا،ومخالف فریق نے اپنے حصہ کا معاہدے کے تحت کام نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر ہم توہین عدالت کا دروازہ کھول دیتے ہیں،ہم آپ کو آپشن دے رہے ہیں اور آپ کوئی نہیں لے رہے،آپ ہمارے سامنے بےیارو مددگار کھڑے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مجھے کوئی ایک آپشن لینے کیلئے وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ڈھائی سال کے بعد اور بھی وقت چاہیے،اب ایسا نہیں چلے گا،معاملہ اب ہمارے پاس آگیا ہے بتائیں بحریہ ٹاؤن نے ادائیگی کر دی یا نہیں،کیا آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کر لیا،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ جب تک دوسرا فریق عمل نہیں کرتا ہم نہیں کر سکتے،65 ارب روپے ادا کر چکے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ٹوٹل اقساط میں سے کتنی ادا کی گئیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ میں آپ کو چارٹ پیش کردوں گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آخری قسط کب ادا کی گئی،وکیل نے کہا کہ آخری قسط 2022 میں ادا کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کو کسی ریونیو آفیسر نے خط لکھا کہ ان کے پاس زمین نہیں،آپ اس خط کو ٹوکری میں پھینک دیں ،آپ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست لے آئیں،جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو بحریہ ٹاؤن کی نمائندگی کون کر رہا تھا،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس وقت وکیل علی ظفر تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اور نام بھی لکھا ہوا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اعتزاز احسن بھی وکیل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا ملک کے دو بڑے وکیلوں کو فیصلہ سمجھ نہیں آیا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلہ پورا نہیں پڑھ رہے ،وکیل نے کہا کہ فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر فیصلے پر عمل نہ ہوا تو نیب ریفرنسز دائر کرے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس راستہ یہ ہی ہے کہ نیب ریفرنس دائر کرے،ہم اب سپریم کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کیسے کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹائون اس وقت ایک بات پر متفق ہوئے اب کہتے ہیں عمل نہیں کرنا،وہ خط کہاں ہے جس میں حکومت نے آپ سے کہا کہ وہ زمین نہیں لے سکتے،

    سماعت میں آدھا گھنٹہ کا وقفہ کر دیا گیا،بحریہ ٹاون ادائیگیوں پر عمل درآمد کیس کی سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں پھر بتا دیتا ہوں کہ اصل اسٹیک ہولڈرز سندھ کی عوام ہے،کیا ہم سندھ کی عوام کو ہار جانے دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نقشہ سے دکھائیں کون سی زمین اب دستیاب نہیں، اپ ہر چیز زبانی بتا رہے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فیصلہ کے بعد ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے 16 ہزار ایکٹر کا پلان منظور کرنا تھا، اپ ہمیں وہ لے آوٹ پلان دیکھائیں جو منظور کروایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے قانون کے مطابق منظوری لینا نہیں یہ بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا کہ میں ہر بات پر میں بتا دونگا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہاکہملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی زمین نہیں دے رہی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو پھر آپ کام کیسے کر رہیں ہیں،اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ بتا دونگا تو پھر آپ کی درخواستیں خارج ہو جائیں گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے سوال کیا کہ آپ کے کلائنٹ کدھر ہیں ان سے پوچھیں،اتنے اہم کیس پر آپ کے کلائنٹ کیوں نہیں آئے؟

    سپریم کورٹ نے برطانیہ سے ریکور رقم ادائیگیوں میں ایڈجسٹ کرنے پر سوال اٹھا دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاون نے جو رقوم جمع کرائیں وہ آئیں کہاں سے؟ کیا یہ درست ہے بیرون ملک ضبط رقم بھی سپریم کورٹ جمع کرائی گئی؟ وکیل نے کہا کہ وہ سب ایک معاہدے سے ہوا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ معاہدہ پیش کر دیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اس معاملے پر نوٹس نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر ہم نوٹس کر دیتے ہیں ، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ادائیگیاں شئیر ہولڈرز نے کی تھیں، اجازت دیں پہلے میں ہدایات لوں پھر اس پر آگاہ کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیاآپ بحریہ ٹاون کے مالک کے بھی وکیل ہیں، ہم فریقین کو نوٹس کر دیتے ہیں اس معاملے پر بھی،ہو سکتا ہے آپ کا بھلا ہو جائے آپ کو وہ اس معاملے پر بھی وکیل کر لیں،وکیل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منظوری دی یانہیں اسکا مجھے علم نہیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ منظوری کا سوال پہلی بار سامنے آیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تھانہ اور پٹواری کلچر کو ختم کرنا ہے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک یہ الارمنگ صورت حال ہے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے نہ اس فیصلے پر عمل ہوا نہ قانون پر عمل ہوا، ابھی تک سندھ حکومت کو معلوم ہی نہیں کوئی ایکشن لیا گیا یا نہیں،کیا حکومت سندھ،سندھ کی عوام کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے،کراچی نسلہ ٹاور کے علاوہ کئی جھونپڑیاں گرائیں گئی ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہہ آئندہ سماعت پر مکمل تفصیلات فراہم کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ نائیک صاحب یہ تصدیق کر لیجیے گا کہ ملیر ڈویلپمنٹ نے زمین سے انکار کیا ،پہلے زمین دینے کا کہا اب انکار کیسے کر سکتے ہیں ،بنیادی سوال ہمارے وہیں کھڑے ہیں سوال ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے بھی کریں گے ،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ رقم حکومت سندھ کو ملنی چاہیے تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رقم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ملنی چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ قانون کے مطابق یہ زمین ایم ڈی اے نے خود ڈویلپ کرنا تھی یا کسی اورکو بھی دے بھی سکتی تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ خود بھی کر سکتی تھی کسی کو دے بھی سکتی ہے،ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت بحریہ ٹائون کی رقم حاصل کرنے کیلئے آمنے سامنے آگئیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے سندھ حکومت سے زمین لی، سندھ حکومت کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کی گئی تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سندھ حکومت سے زمین خریدی تھی یا لیز پر لی؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایم ڈی اے نے زمین لیز پر لی تھی لیکن مدت مقرر نہیں کی گئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لیز پر لی گئی زمین ایم ڈی اے کسی دوسرے کو کیسے دے سکتی ہے؟ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے زمین کے عوض رقم نہیں لی،زمین سندھ حکومت کی تھی اس لئے پیسہ بھی سندھ حکومت کو ملنا چائیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بحریہ ٹائون سے پیسہ لیکر کرے گی کیا؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ فیصلے کے مطابق رقم کمیشن کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگی،کمیشن کا چیئرمین چیف جسٹس نامزد کرینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اگر نامزدگی نہ کرنا چاہے تو کیا ہوگا؟ عدالت نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ زبانی گفتگو کے بجائے سندھ حکومت کو ادائیگی کی تفصیلات فراہم کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ہونے والا ہے منتخب لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں پیسے کا کیا کرنا ہے، آئین اور قانون کے مطابق ترقیاتی کاموں کیلئے بجٹ سپریم کورٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟

    بحریہ ٹائون کراچی کے الاٹیز کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،بحریہ ٹائون کے وکیل کی جانب سے الاٹیز کے وکیل کے پیش ہونے کی مخالفت کی گئی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ انفرادی کیسز کا 184/3 میں نہ سنا جائے،ماضی میں بھی بحریہ ٹائون کو بہت بلیک میل کیا جا چکا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کا فائدہ الاٹیز کو ہی ہونا ہے، الاٹیز کے حوالے سے عدالتی حکم میں ذکر موجود ہے،

    سپریم کورٹ، بحریہ ٹاون کی ادائیگیوں کے معاملے پر بحریہ ٹاون کے بجائے رقم جمع کرانے والے دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کہا کہ یہ نوٹ کیا گیا کچھ رقوم بحریہ ٹاون نے خود ادا نہیں کیں،بحریہ ٹاون کے وکیل ہدایات اور معلومات لیکر اس پر جواب دیں، کیس کی آئندہ سماعت 8 نومبر کو ہو گی،سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس کا بالواسطہ نوٹس لے لیا، بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین کے عوض رقم ادا کرنے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ چیف جسٹس

    کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں افغان نژاد ڈنمارک کے شہری کو پی او سی کارڈ جاری کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل نادرا نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار نے پی او سی کی توثیق کیلئے درخواست دی تھی، افنان کریم کنڈی نے کہا کہ آئی ایس آئی کی مخالفت پر پی او سی کارڈ کی توثیق نہیں کی گئی، پی او سی کارڈ ان غیرملکیوں کو جاری ہوتا ہے جن کی شادی پاکستان میں ہوئی ہو، بھارت یا کسی بھی دشمن ملک سے تعلق رکھنے والے کو کارڈ جاری نہیں ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیاکہ کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ پی او سی کارڈ کی توثیق کی مخالفت کس بنیاد پر کی گئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار افغان شہری ہے، اہلخانہ کے صرف نام دیے گئے پتہ نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کیخلاف کوئی شواہد ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار کے بہن بھائی کابل اور لوگر میں رہتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی خود طورخم اور چمن بارڈر جائیں اور دیکھیں کیا ہو رہا ہے، جس کو دل کرتا ہے پاکستان آنے دیا جاتا ہے جسے دل چاہے روک دیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسوں کا دھندا یہاں کھڑے ہوکر نہ کریں،

    جسٹس اطہرمن اللہ سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلاوجہ کسی پر شک کرنا انسانی حقوق کیخلاف ہے، درخواست گزار کے بیوی بچے پاکستانی اور ملک میں موجود ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت مانگ لی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ سماعت تک درخواست گزار کو ملک سے نہیں نکالا جائے گا

    عدالت نے حکم دیا کہ مسئلہ حل نہ ہوا تو آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہوں، دوران سماعت مداخلت پر عدالت نے درخواست گزار حیات اللہ وفادارکو جھاڑ پلا دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کادرخواست گزار کی اہلیہ سے دلچسپ مکالمہ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا حیات اللہ گھر میں آپ کی بات سنتا ہے؟ ہماری تو نہیں سن رہا،خاتون نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ گھر میں میری بات سنتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ وفادار صاحب آپ کیساتھ وفادار ہیں ملک میں رہ سکتے ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • سپریم کورٹ ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی اپیل منظور

    سپریم کورٹ ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی اپیل منظور

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی اپیل منظور کر لی

    سپریم کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ! عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ پر معلومات تک رسائی کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا تاہم مفاد عامہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے رجسٹرار آفس سات روز کے اندر درخواست گزار مختار احمد کو متعلقہ معلومات فراہم کرے !رائٹ ٹو ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کا سپریم کورٹ عملہ پر لاگو ہو گا

    جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں اضافی نوٹ بھی تحریر کیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معلومات کے حصول کا تقاضہ کرنے والے پر وجوہات بتانا لازم ہے درخواست گزار کو انٹراکورٹ اپیل اور سپریم کورٹ میں اپیل کیلئے جمع کرائی گئی فیس واپس کی جائے فیصلےکو اردو میں بھی جاری کیا جائے معلومات فراہم کرنے والا وجوہات کے جائزے کا پابند ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ،چیف جسٹس سمیت جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے 27ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ میں ملازمین کی تفصیلات سے متعلق شہری نے درخواست دائر کی تھی ۔عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین کو دو ہفتوں میں تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

  • ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ، 70 تولہ سونا کمیٹی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نےغیر معیاری تفتیش پر برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے پولیس اب کرائے کی پولیس بن گئی ہے،پولیس کی اب اپنی عزت نہیں رہی،ادارے کی عزت ہونی چاہیے،پولیس اور پٹواری کا شاہی سسٹم ختم ہونا چاہیے،ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ دس گرام سونے کی کمیٹی نکلنے پر ادا نہیں کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ گرفتار سنار نے کتنا سونا کمیٹی کے ذریعے دینا تھا ؟ مدعی نے کہا کہ کمیٹی سے نکلنے والا 70 تولہ سونا نہیں دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ مالیت سونے کا کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا گیایہ سونا کہاں سے آتاہے؟ اسکی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے، اس کیس میں اصل ملزم تو پولیس کو بنانا چاہیے،پولیس والا سونے کا صرف اپنے مطلب کے لئے ہی پوچھے گا،کمیٹی گرفتار ملزم نے بنائی ، تفتیش اہلخانہ سے ہوئی، سپریم کورٹ نے سونے کی کمیٹی میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور کرلی،عدالت نے ضمانت کے لئے دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیس: تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں،سپریم کورٹ

    بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیس: تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف ایک ہزار 90 درخواستوں کی سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کرلیے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل نے عدالت سے مہلت مانگی جسے چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو آدھے گھنٹے میں تیاری کرنے کی تنبیہ کی اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس نہیں، وہ خوددلائل دیناچاہتے ہیں، عدالت کچھ مہلت دے دے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اگرآپ خود لکھ کرکہہ دیں کہ عامر رحمان نا اہل ہے، دلائل نہیں دے سکتے تو ٹھیک ہے، ہم تو عامر رحمان کو نااہل کہنے کی گستاخی نہیں کرسکتے، میں تو سمجھتا ہوں عامر رحمان قابل وکیل ہیں اورکیس میں خود دلائل دے سکتے ہیں، اتنے سارے وکلا موجود ہیں-

    پولیس کو ایک ہفتے میں شیخ رشید کو پیش کرنے کا حکم

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں پر کیسز کا ڈھیر ہے، 16 اکتوبر کو دلائل سن کر فیصلہ کریں گے اور اس روز ویڈیو لنک کی سہولت نہیں دی جائے گی، تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہےکہ لاہور ہائیکورٹ نے رواں سال فروری میں بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور فیصلے کے خلاف بجلی کی ترسیل کی کمپنیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت

  • چیف جسٹس کا وکیل پر جرمانہ عائد،رقم خیرتی ادارے میں جمع کرا کے رسید پیش کرنے کا حکم

    چیف جسٹس کا وکیل پر جرمانہ عائد،رقم خیرتی ادارے میں جمع کرا کے رسید پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت کا وقت ضائع کرنے پر وکیل کو 5 ہزار روپے جرمانہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس نے پراپرٹی کیس میں عدالت کا وقت ضائع کرنے پروکیل کوجرمانہ کیا، رقم فلاحی ادارے میں جمع کروائی جائے گی، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ وکیل نےعدالت کو مس لیڈ کرنے کی کوشش کی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کےاس عمل سے عدالت کوآپ پراعتبارنہیں رہا، جرمانے کی رقم اپنی مرضی کے خیراتی ادارے میں جمع کراکےرسید پیش کریں۔

    قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران دو زبانوں میں دلائل دینے پر وکیل پر برہم ہوگئے تھےسپریم کورٹ میں زمین تنازع سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، تو چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور وکیل کے مابین دلچسپ مکالمہ ہوا دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ پٹھان توسب سے اچھے ہوتے ہیں،جتنا اخلاق آپ کووہاں ملے گا ایسا کہیں اورنہیں، لیکن پٹھانوں کا بس یہ ہے کہ وہ دشمنی بڑی لمبی چلاتے ہیں۔

    یا تواردومیں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    وکیل نے جواب میں کہا کہ لگتا ہےمیں نے غلط جگہ پر ایسی بات کردی وکیل کے جملے پر عدالت میں قہقہے بکھر گئے وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے بھی مزاحیہ انداز میں کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بینچ میں اس معاملے پر اتفاق رائے ہوگا چیف جسٹس پر ایک بار پھر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے شوقیہ مقدمہ بازی کوبند کرنا ہے چیف جسٹس وکیل کے اردو اور انگریزی دونوں میں دلائل دینے پر شدید برہم ہوگئے اور کہا کہ آپ نے 2 زبانوں کا قتل کیا ہے، یا تو اردو میں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں۔

    سندھ پولیس کی چینی، گندم سمیت دیگر چیزوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے حکمت …

  • یا تواردومیں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    یا تواردومیں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران دو زبانوں میں دلائل دینے پر وکیل پر برہم ہوگئے-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں زمین تنازع سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، تو چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور وکیل کے مابین دلچسپ مکالمہ ہوا دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ پٹھان توسب سے اچھے ہوتے ہیں،جتنا اخلاق آپ کووہاں ملے گا ایسا کہیں اورنہیں، لیکن پٹھانوں کا بس یہ ہے کہ وہ دشمنی بڑی لمبی چلاتے ہیں۔

    وکیل نے جواب میں کہا کہ لگتا ہےمیں نے غلط جگہ پر ایسی بات کردی وکیل کے جملے پر عدالت میں قہقہے بکھر گئے وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے بھی مزاحیہ انداز میں کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بینچ میں اس معاملے پر اتفاق رائے ہوگا چیف جسٹس پر ایک بار پھر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

    الیکشن کمیشن نے ووٹرز کا ڈیٹا جاری کردیا

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے شوقیہ مقدمہ بازی کوبند کرنا ہے چیف جسٹس وکیل کے اردو اور انگریزی دونوں میں دلائل دینے پر شدید برہم ہوگئے اور کہا کہ آپ نے 2 زبانوں کا قتل کیا ہے، یا تو اردو میں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں۔

    دوسری جانب بھارت کے بعد پاکستان عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے والا دوسرا ایشیائی ملک بن گیا، کینیڈا اور برطانیہ میں بھی عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا نظام رائج ہے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی براہ راست سماعت سے ملک کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار کسی کیس کی لائیو اسٹریمنگ کی گئی عام طور پر کمرہ عدالت کے اندر کیمرے لانے اور تصویر کھینچنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    ریلویز پولیس نےمہنگا ترین موبائل فون برآمد کرکے مسافر کے حوالے کردیا

    عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے والا پاکستان پہلا ملک نہیں بلکہ دنیا میں اس کی مثالیں پہلے ہی موجود ہیں کینیڈا، برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالتوں میں بھی عدالتی مقدمات کی لائیو اسٹریمنگ کا طریقہ اپنایا جاتا ہے ایشیائی ممالک کی بات کی جائے تو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ستمبر 2022 میں پہلی مرتبہ آئینی معاملات کی لائیو اسٹریمنگ شروع کی تھی بھارت میں اس نظام کا آغاز ایک طویل بحث کے بعد شروع ہوا۔

    معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے 3 کیسز نمٹا دیئے

  • معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے  3 کیسز نمٹا دیئے

    معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے 3 کیسز نمٹا دیئے

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 3 کیسز نمٹا دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے آج سے معمول کے کیس سننا شروع کردئیے ہیں، اور ان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے5میں سے3 کیسز نمٹا دئیے ہیں،سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں پاکستان پوسٹ کی درخواست خارج کردی ہےقتل کے کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی، اور سی ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے کیس میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی، جب کہ ملازمت بحالی کیلئے دائراپیل میں وکیل کی استدعا پر 2 ہفتوں کا وقت دے دیا۔

    کراچی سمیت ملک بھر میں کل تک مزید بارشوں کا امکان

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اتوار کو چیف جسٹس کا حلف لیا تھا اورگزشتہ روز ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر فُل کورٹ نے سماعت کی تھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے اور بلٹ پروف گاڑی بھی لینے سے انکار کردیا تھا چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کا بہت سا تعاون چاہیے، آج میری میٹنگز اور فل کورٹ ہے، آپ لوگوں سے تفصیل سے ملوں گا لوگ سپریم کورٹ خوشی سے نہیں آتے، اپنے مسائل ختم کرنے کے لئے آتے ہیں، لہٰذا آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں یقیناً کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے، انصاف کے دروازے کھلے اور ہموار رکھیں اور آنے والے لوگوں کی مدد کریں-

    حکومت کا ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ