Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • آپ سے گزارش ہے کہ میرا کوئی کیس آپ نہ سنیں ،عمران خان کی درخواست

    آپ سے گزارش ہے کہ میرا کوئی کیس آپ نہ سنیں ،عمران خان کی درخواست

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کے خلاف عدم انصاف اور عدم اعتماد کی درخواست دائر کر دی گئی

    عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف دائر درخؤاست میں کہا گیا ہے کہ آپ سے مجھے انصاف کی توقع نہیں آپ نے متعدد مواقعوں پر میرے خلاف کسی ذاتی و دیگر وجوہات کی وجہ سے خلاف قانون فیصلے دئیے آئندہ آپ سے گزارش ہے کہ میرا کوئی کیس آپ نہ سنیں ،

    applicat

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ماہ موسم گرما کی تعطیلات ہوں گی، آفس آرڈر جاری کردیا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 10 جولائی سے 10 ستمبر تک موسمِ گرما کی چھٹیاں ہوں گی، موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا شیڈول جاری چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری چھٹیوں میں مستقل دستیاب ہوں گے دیگر چھ ججز مختلف اوقات میں مقدمات کی سماعت کے لیے دستیاب ہوں گے، تعطیلات کے دوران ہنگامی نوعیت کی درخواستیں دائر کی جا سکیں گی، ضمانت قبل اور بعد ازگرفتاری، بازیابی اور حکم امتناعی کی درخواستیں دائر کی جا سکیں گی،پیر سے جمعرات تک عدالتی اوقات صبح ساڑھے نو بجے سے دن ڈیڑھ بجے تک ہوں گے، جمعہ کے روز عدالتی اوقات صبح ساڑھےنو بجے سے دن بارہ بجے تک ہوں گے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لاجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری روسٹروم پر آ گئے اور کہا کہ میں نے بھی اس کیس میں درخواست دائر کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی پے سپریم کورٹ بار بھی اس کیس میں فریق بن رہی ہے ،اچھے دلائل کو ویلکم کریں گے، چآپ آج اس وقت درخواست دائر کر رہے ہیں ؟ عابد زبیری نے کہا کہ ابھی افس میں دائر ہو گئی ہے،

    ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، اٹارنی جنرل
    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت میں کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں،میرے دلائل صرف سویلین کے ملٹری ٹرائلز کے خلاف ہیں ، فوجیوں کے خلاف ٹرائل کے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرائل جاری ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اٹارنی جنرل کے بیان سے متضاد ہے ،میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کی بات پر یقین ہے،

    اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ ملٹری کورٹس بھیجے گئے ملزمان پر سیکشن 2 ڈی ون لگائی گئی ہے یا 2 ڈی 2 ؟ کل کے بعد اسی معاملے کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ ابھی تک سیکشن 2ڈی 2 لگائی گئی ہے، سیکشن 2 ڈی ون کا اطلاق بعد میں ہو سکتا ہے،آج کے دن تک 2 ڈی ٹو کا ہی اطلاق ہوا ہے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بی ایل ای اور ڈسٹرکٹ بار کیس کے فیصلے سویلین کا فورسز کے اندر تعلق سے متعلق کچھ ٹیسٹ آپلائی کرتا ہے، کیسے تعین ہو گا ملزمان کا عام عدالتوں میں ٹرائل ہو گا یا ملٹری کورٹس میں ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی آئینی ترمیم کے بغیر سویلین کے ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتا، اکیسویں ترمیم میں یہ اصول طے کر لیا گیا ہے کہ سویلین کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی تعلق بارے جنگ کے خطرات دفاع پاکستان کو خطرہ جیسے اصول اکیسویں ترمیم کیس کے فیصلے میں طے شدہ ہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال بالکل واضح ہے ، کیا اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے،

    ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے، جسٹس منیب اختر
    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم ماضی میں سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مثالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ماضی کی ایسی مثالوں کے الگ حقائق ،الگ وجوہات تھیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شفاف ٹرائل کی بھی شرائط ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایف بی علی؛ بریگیڈیر فرخ بخت علی کیس کہتا ہے کہ کسی سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے،یہ کیس سویلین کے اندر تعلق کی بات کرتا ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مطابق یہ کون سا تعلق ہو گا،جس پر ٹرائل ہو گا،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئینی ترمیم سے ہی ہو سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہوا میں بات کر رہے ہیں ٹو ڈی ٹو کے تحت کون سے جرائم آتے ہیں اس پر معاونت کرنی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم کا اکثریتی فیصلہ بھی یہ ہی شرط عائد کرتا ہے کہ جنگی حالات ہوں تک ہو گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف جنگ اور جنگی حالات میں کسی شخص کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؛ جب بنیادی حقوق معطل نہ ہوں تو سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا؛ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمارا ائین، ہمارے بنیادی حقوق، ہمارے قوانین سب ارتقائی مراحل سے گزر کر مختلف ہو چکے ہیں اب ہمارے آئین میں آرٹیکل 10-A شامل ہے جس کو دیکھنا ضروری ہے ؛ آئین کا آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل سٹرکچرکی بات کرتا ہے آئین کا آرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں ،یہ تمام آرٹیکل بھلے الگ الگ ہیں مگر آپس میں ان کا تعلق بنتا ہے،بنیادی حقوق کا تقاضا ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثر نہیں چھوڑتا ،کسی نے بھی خوشی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دی فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہو گی ایف آئی آر میں کہیں بھی افیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا،آرمی سپورٹس سمیت مختلف چیزوں میں شامل ہوتی ہے،اگر وہاں کچھ ہو جائے تو کیا آرمی ایکٹ لگ جائے گا،

    اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے سیکشن ٹو ڈی پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ آرمی والے کی بات کرتے ہیں تو اس کی سب اہم چیز مورال ہوتی ہے،اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز ہو جس سے دشمن کو فائدہ پہنچے؛

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آفیشل سیکرٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے؟ ،وکیل درخواست گذار نے کہا کہ جی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے ایف آئی آر میں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کازکر ہی نہیں ہے،ایکٹ میں ترمیم کےذریعے تحفظ پاکستان ایکٹ کو ضم کرکے انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں،2017 میں ترمیم کرکے 2 سال کی انسداد دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شواہد کے بغیر کیسے الزامات کو عائد کیا جاتا ہے؟ یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے، سقم قانون میں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کیا الزام لگایا گیا یہ تفصیل موجود ہی نہیں، ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ شاعر احمد فراز کے مقدمے میں جسٹس افضل ظلہ نے کی چونکہ ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لئے ان کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا؛چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی اتھارٹیز کسی شخص کو چارج کئے بغیر کیسے گرفتار کر سکتی ہیں؛ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت تفتیش کیسے ہو گی اور فرد جرم کیسے لگے گی؟ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ آرمی ایکٹ اس حوالے سے نامکمل ہے؛ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تو ملزمان پر کوئی چارج ہی نہیں ہے؛

    اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایف آئی آر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہوئی مگر ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو رہا ہے ، عزیر بھنڈاری کی جانب سے شاعر احمد فراز اور سیف الدین سیف کیس کے حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ احمد فراز پر الزام لگا تھا مگر ان جو باضابطہ چارج نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ جب کسی کیخلاف ثبوت نہیں تو فوج اسے گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک مجسٹریٹ بھی تب تک ملزم کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کخلاف شواہد نہ ہونے پر کاروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو افراد غائب ہیں ان کے اہلخانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میرے موکل چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق تو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ ہی بد نیتی پر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی پر موقف دینے کی بھی پابندی ہے،میڈیا پر نہیں چلتا،کچھ مستند آوازیں ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہیں ہیں،ہماری استدعا ہے کہ اوپن ٹرائل کیا جائے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہو گئے درخواستگزار زمان وردک نے تحریری دلائل جمع کروا دیے

    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرمی افسران کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری غیر قانونی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کسی شخص پر شواہد کے بغیر الزام لگانا بے کار ہے ، اٹارنی جنرل ہم نے ایسی معلومات منگوائی ہیں جو تمام والدین کے لیے فائدہ مند ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں تو ملزمان پر الزام ہی نہیں تھا ،ان مقدمات میں ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ کے الزامات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ تو سمجھ آتی ہے کہ پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر تحقیقات کرتے ہیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس کیس میں بہت سے حقائق تسلیم شدہ ہیں، تسلیم شدہ حقائق سے بدنیتی اخذ کی جا سکتی ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیا پر مکمل بین یے،اوپن پبلک ٹرائل ہونا چاہیئے صحافیوں کو ٹرائل کی رپورٹنگ کی اجازت ہونی چاہیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی تعریف نہیں کی گئی، سپریم کورٹ نے 1975 کے فیصلے میں طے کیا کہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہو گا ملزم کون ہے ،

    102 ملزمان ملٹری تحویل میں،ہفتے میں ایک ملاقات ہو گی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل کے دلائل شروع ہو گئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنی تحریری معروضات کے ساتھ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کی معلومات فراہم کروں گا،میں ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہ ہونے پر بھی معاونت کروں گا ،ملزمان کی کسٹڈی لیتے وقت الزامات بھی فراہم کردیے تھے ،9 مئی کا واقعہ تھا جس کے بعد 15 دن لیے گئے پھر ملزمان کی حوالگی کا عمل ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت چارج کرنے کا طریقہ رولزمیں ہے،؟۔ کیا آپ آج اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تحریری دلائل وقفہ کے بعد جمع کروا دوں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے معروضات کی تفصیل بھی مانگی تھی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس وقت 102 ملزمان ملٹری تحویل میں ہیں،تحویل میں موجود ملزمان کو گھر والوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے گی،والدین بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت ہو گی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کچھ جیلوں کا دورہ کیا وہاں بھی ملزمان کو فون پر بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان کو جو کھانا دیا جاتا ہے وہ عام حالات سے کافی بہتر ہے،کھانا محفوظ ہے یا نہیں اس کا ٹیسٹ تو نہیں ہوتا مگر وہ کھانا کھانے سے کسی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری بھی شفٹ ہو جائے گی،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102 ملزمان کون سے ہیں ،کیا ہم 102 افراد کی لسٹ کو پبلک کر سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جی نہیں ابھی وہ زیر تفتیش ہیں،

    کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے سوال
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سادہ سوال ہے کیوں حراست میں موجود لوگوں کی فہرست بپلک نہیں کر دیتے،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ پہلے یقینی بنائیں کہ زیر حراست افراد کی اپنے والدین سے بات ہو جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عید پر ہر کسی کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون کون حراست میں ہے،عید پر سب کی اپنے گھر والوں سے بات ہونی چاہیے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فہرست پبلک کرنے کے حوالے سے ایک گھنٹے تک چیمبر میں آگاہ کر دوں گا،صحت کی سہولیات سب زیر حراست ملزمان کو مل رہی ہیں ڈاکٹرز موجود ہیں، صحافیوں اور وکلا کے حوالے سے کچھ واقعات ہوئے ہیں ریاض حنیف راہی سے کل بات بھی کی،ان کی شکایات کا ازالہ ہو گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سزائے موت غیر ملکی رابطوں کی صورت میں ہو سکتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیا کہ ملزمان کی آج ہی اہلخانہ سے بات کروائیں، اب ہم عید کے بعد ملیں گے، جو لوگ گرفتار ہیں ان کا خیال رکھیں، کتنی خوشی کی بات ہوگی کہ عمران ریاض عید پر اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہوں،

    عمران ریاض ہماری حراست میں نہیں ،ریکوری کی پوری کوشش کی جا رہی ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کوئی وکلاء گرفتار نہیں ہیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے ساتھ کوئی بد سلوکی ہوئی تو تحفظ فراہم کریں، صحافیوں کا بتائیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جانتا ہوں ایک صحافی مسنگ ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عمران ریاض کی بات کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وہ ہماری حراست میں نہیں ہے ان کی ریکوری کی پوری کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ اپنی صلاحیتوں سے یقینی بنائیں عمران ریاض کا پتہ لگائیں،

    وکلا نے ملٹری کورٹس کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ابھی کوئی ٹرائل شروع نہیں ہوا اور اس میں وقت بھی لگتا ہے،ملزمان کو پہلے وکلا کی خدمات لینے کا وقت ملے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ ہوا مجھے فوری اگاہ کیا جائے، میں آئندہ ہفتے سے دستیاب ہوں گا، خواتین اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کر دی،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس

    سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لاجربنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس مظاہرنقوی اورجسٹس عائشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں ،چئیرمین تحریک انصاف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ہماری درخواست پر ابھی نمبر نہیں لگا۔ ہماری اس درخواست میں ایک استدعا فوجی عدالتوں کیخلاف ہے۔ میں صرف ایک فوجی عدالتوں کیخلاف استدعا پر زور دونگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔ابھی ہم ایک سیٹ بیک سے باہر نکل رہے ہیں۔ آپ اپنی درخواست میں ترمیم کیوں نہیں کر لیتے۔ آپ نے ایک درخواست میں کئی استدعائیں کی ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے آرڈر لکھوائیں گے،آپ کی درخواست کو بعد میں دیکھیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صبح جو سیٹ بیک ہوا، اس سے ریکور ہو کر آئے ہیں، آئینی بحث کے بجائے دیگر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں،

    فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر ہوں تو اعتراض نہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ
    درخواست گزار جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل شروع ہو گئے، جسٹس عائشہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے پہلے دن کے سوال پر جاوں گی کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا افواج کے افسران کا بھی ملٹری کورٹس میں کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ میں مخصوص حالات میں فوجی افسران کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کیخلاف ہائیکورٹ میں آئینی درخواست کیوں دائر نہیں کی جا سکتی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ فوجی عدالتوں کی حیثیت کا تعین نہیں کر سکتی، میرے موکل کے بیٹے کا معاملہ ملٹری کورٹس میں ہے، ٹرائل صرف آرٹیکل 175 کے تحت تعینات کیا گیا جج کر سکتا ہے،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کسی صورت نہیں ہوسکتا، شہریوں کو کسی صورت شفاف ٹرائل کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ملزمان کو بنیادی حقوق میسر ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر ہوں تو اعتراض نہیں، صرف ملزمان کی حوالگی سے شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ختم نہیں ہوسکتا،

    کل عید سے پہلے آخری دن ہے، سماعت مکمل کرنی ہے وقت کی قلت کا خیال رکھیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کی بات واضح نہیں ہے، کیا ٹرائل شروع ہوچکا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کا آغاز نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا تو مفروضوں پر کیوں جا رہے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وقت کم ہے اس لئے موٹی بات کریں کل عید سے پہلے آخری دن ہے، سماعت مکمل کرنی ہے وقت کی قلت کا خیال رکھیں،

    آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے تو پھر کیا کیس ہے آپکا؟ جسٹس عائشہ ملک کا وکیل سے مکالمہ
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے یا نہیں، یہ نکتہ طے ہو جائے تو آرٹیکل 175(3) والی دلیل کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس کیس کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ریٹائرڈ فوجی افسر کا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی آئین سے تجاوز نہیں کر سکتا، جسٹس عائشہ نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ سویلین پر آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی کا اطلاق ہوتا بھی ہے یا نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک یہ بنیادی انسانی حقوق کا کیس ہے، آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی سویلینز کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ اگر آپ اس بات پر آمادہ ہیں کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے تو پھر کیا کیس ہے آپکا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سویلینز میں ریٹائرڈ آرمی افسران بھی آتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کورٹ مارشل کا لفظ آرمی ایکٹ کے علاوہ کہیں استعمال ہوا؟ ملٹری کورٹس کے بارے میں بہت سے فیصلے ہیں وہ دیکھنا چاہتے ہیں، جو کیس ملٹری افسران کے بارے میں نہیں اس میں انہیں کیوں لا رہے ہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا فوکس صرف سویلینز پر ہے، آرٹیکل 199 آرمی ایکٹ کے تحت سزاوں پر لاگو ہوتا ہے لیکن کورٹ مارشل پر نہیں ،

     

    کیا فوجی عدالتوں کا آرمی ایکٹ کے علاوہ آئین میں کہیں ذکر ہے؟ چیف جسٹس
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا جو افراد آرمی ایکٹ کے تحت ڈسپلنری خلاف ورزی کرتے ہیں ان پر بنیادی حقوق کا اطلاق نہیں ہوتا؟آپ کے دلائل کا مقصد سمجھنا چاہ رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ فوجی افسران کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ آپ کا کیس سویلینز کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک وکیل متبادل عدالتی نظام کی بات کرتے ہوئے کورٹ مارشل کے معاملے پر کیسے جا سکتا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 175 تین کے تحت جوڈیشل اختیارات کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ خود ایک کیس میں طے کر چکی کہ جوڈیشل امور عدلیہ ہی چلا سکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں،کیا آپ ملٹری کورٹس میں فوجیوں کے ٹرائل کی بات پر بھی جانا چاہتے ہیں؟،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کی حد تک ہی بات کر رہا ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو ہمیں یہی بتائیں کہ کیا سویلین کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 175(3) عدلیہ اور ایگزیکٹو کو الگ کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا فوجی عدالتوں کا آرمی ایکٹ کے علاوہ آئین میں کہیں ذکر ہے؟ اگر سویلینز کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا تو بات ختم،آپ قانون کی شقیں چیلنج کرتے ہوئے معاملہ پیچیدہ کر رہے ہیں،

    ہم ملٹری کورٹس کو کیسے کہیں کہ وہ عدالتیں نہیں ہیں؟ جسٹس عائشہ ملک
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کی دو اقسام ہیں، ایک وہ سویلین ہیں جو آرمڈ فورسز کو سروسز فراہم کرتے ہیں، فورسز کو سروسز فراہم کرنے والے سویلین ملٹری ڈسپلن کے پابند ہیں،دوسرے سویلینز وہ ہیں جن کا فورسز سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں،جو مکمل طور پر سویلینز ہیں ان کا ٹرائل آرٹیکل 175/3 کے تحت تعینات جج ہی کرے گا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم ملٹری کورٹس کو کیسے کہیں کہ وہ عدالتیں نہیں ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملٹری کورٹس کے فیصلے چیلنج نہیں ہو سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی چیف کے سامنے یا انکی بنائی کمیٹی کے سامنے ملٹری کورٹس کے فیصلے چیلنج ہو سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کورٹس میں اپیل کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا فیصلہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں آرٹیکل 175(3) کے تحت متوازی عدالتی نظام نہیں چل سکتا،

    جسٹس عائشہ ملک نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ عدالت ہے یا نہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملٹری کورٹ عدالت ہے جو سویلین کی زندگی اور آزادی چھیننے کااختیار رکھتی ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو صرف سویلین کے فوجی عدالت میں ٹرائل پر اعتراض ہے فوجی افسران کے ٹرائل پر نہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ امریکہ میں جب معمول کی عدالتیں اپنا کام جاری نہ رکھ سکیں تب فوجی عدالتیں حرکت میں آتی ہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قانون ان سویلینز کے بارے میں کیا کہتا ہے جو ریاست کیخلاف ڈٹ جائیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ امریکہ میں سویلنز کی غیر ریاستی سرگرمیوں پر بھی ٹرائل سول عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سویلین کا مخصوص حالات میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصل صدیقی سے وہ قانونی حوالہ جات لیں گے جو سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت دیتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا جنوبی ایشیاء میں کسی ملک میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز ہوتے ہیں؟وکیل نے عدالت میں کہا کہ میں نے برطانیہ، آسٹریلیا کینیڈا وغیرہ کا ریکارڈ نکالا لیکن جنوبی ایشیا کا نہیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو بنیادی حقوق معطل ہوں تو کیا سویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ دیکھیں، مسلح افواج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ اس کا مقصد فورس میں ڈسپلن قائم کرنا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم ان سے متعلق تھی جو فوج کیخلاف ہتھیاراٹھائیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی نظام میں ایسی کیا خامی ہے جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو؟ آرمی ایکٹ کے سویلینز پر اطلاق کا جائزہ 1975 کے بعد پہلی مرتبہ لیا جا رہا ہے، انصاف تک رسائی ہر شخص کا بنیادی حق ہے،سماعت سوا دو بجے تک ملتوی کر دی گئی ،وقفے کے بعد سلمان اکرم راجہ دلائل مکمل کرینگے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عذیر بھنڈاری نے اپنے تحریری دلائل عدالت کو پیش کر دیے

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کر دیا وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران کے علاوہ سویلینز کو بھی شامل کیا گیا ہے، سویلینز کو آرمی ایکٹ کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے اس لیے قانون کو چیلنج کیا ہے عدالت پر چھوڑتا ہوں کہ سویلینز کو آرمی ایکٹ کے دائرے میں ہونے پر کیسے دیکھتے ہیں ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئین کے بنیادی ڈھانچے کیخلاف ہے، عدالت سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر مبنی قانونی شقیں کالعدم قرار دے

    سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عزیز بھنڈاری نے کہا کہ ہم تمام درخواست گزاروں کو سپورٹ کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں اوپن ٹرائل ہو، اگر کوئی قصور وار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیئے ، 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں، آپ صرف قانون کی بات کریں، سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع کرتے ہیں سپریم کورٹ میں درخواستوں ہر سماعت مکمل ہونے تک ملٹری کورٹس میں کوئی ٹرائل نہیں چلے گا گرفتار افراد کی مکمل تفصیلات فراہم کریں کہا جا رہا ہے کہ ملزمان کو اہلخانہ سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا ؟ خوراک اور کتابوں کی عدم فراہمی کی بھی کچھ شکایات ہیں 102 زیر حراست افراد کو ایلخانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے گی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو کیوں قیدی بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار جنید رزاق کی فیملی کب سے قید میں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 9 مئی سے ارم رزاق و دیگر کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے دن گزر گئے ابھی تک کچھ پتہ نہیں۔ اٹارنی جنرل سے آپ اس معاملے کو دیکھیں۔ ان کو خاندان سے ملنے کی اجازت دیں۔ یہ شکایت کس کی جانب سے تھی۔خاندانوں کو کیوں اٹھایا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کوئی ملٹری ٹرائل نہیں ہوگا۔ کسی کو کوئی شکایت ہے تو نام بتادیں میں متعلقہ حکام سے بات کرنے کی کوشش کرونگا۔ وکیل لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ وکیلوں تک رسائی بھی نہیں دی جارہی۔نہ خاندان کو ملنے دیا جاریا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے نام بتادیں تو میں اگے بات کرونگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں۔ سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کرتے ہیں۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہویئ

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل اور سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایت ہے کہ جسٹس منصورعلی شاہ بنچ کا حصہ نہ ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی مرضی سے بنچ نہیں بنایا جائے گا،کس بنیاد پر آپ جسٹس منصورعلی شاہ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مفادات کے ٹکراو کی وجہ سے اعتراض اٹھایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا تھا کہ مجھ پر اعتراض تو نہیں،میں نے کہا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا
    وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض اٹھا دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں، اس لیے ان کے کندکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا ،سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا جسٹس منصور علی شاہ کی بنچ سے علیحدگی کے بعد بینچ اٹھ کر چلا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں،ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ میں باربار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے،پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا ،جواد ایس خواجہ صاحب ایک درویش انسان ہیں،آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازعہ بنا رہے ہیں عدالت نے پہلے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، عدالت کے فیصلوں پر عمل اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمارے پاس فیصلوں پر عمل کیلئے کوئی چھڑی نہیں،بہت سے لوگوں کے پاس چھڑی ہے لیکن انکی اخلاقی اتھارٹی کیا ہے، لوگ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ،بینچ میں شامل رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جج صاحب خود کریں گے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرا خیال سے اعتراض کے بعد میں میرا اس بینچ میں شامل رہنا نہیں بنتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جج صاحب پر جانبداری کا کہہ رہے ہیں یا مفادات کے ٹکراو کا؟ اٹارنی جنرل ایک اعلی معیار اور اچھے کردار کے وکیل ہیں ،سپریم کورٹ کے بینچز پر لگاتار اعتراضات اٹھ رہے ہیں ،

    عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں، چیف جسٹس

    قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں، چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتیں حقائق کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہیں،ہم صرف قانونی پہلو کے تحت فیصلے کرتے ہیں ،کئی بارقانون کی تشریح سے متعلق تنازعات جنم لیتے ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کاروبار کیلئے ریگولیٹری سسٹم کی ضرورت ہے،آئین میں وسائل کی تقسیم کیلئے آرٹیکل 25 موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف صنعتیں بجلی اور گیس پر سسبڈی مانگ رہی ہیں، تجارتی سرگرمیاں بڑھنے سے معیشت مضبوط ہوگی،عدالتیں حقائق کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہیں، قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں ماہرین کو قانون کی تشریح کے ذریعے تنازعات کو ختم کرنا چاہیے، قانون سے متعتق اور عوامی اہمیت کا معاملہ دیکھتے ہیں، سپریم کورٹ میں صرف قانون کی عملداری کی بات ہوتی ہے،ججز آسانی سے مارکیٹ میں میسر نہیں، کئی امتحانات دینا پڑتے ہیں،کئی اداروں کے چیئرمین اور ممبرز ہی نہیں ہے اورکسی کو پرشانی بھی نہیں ہم اپنے اختیارات کا استعمال بہت محتاط ہوکر کرتے ہیں، سرمایہ کاروں کو ’’لیول پلیئنگ فیلڈ‘‘ فراہم کرنی چاہیے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کیا ہمارا قانون کاروبار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد گار ہے، کاروبار کے مواقع اور صنعتی ترقی سے ملکی ترقی ممکن ہے، ہر شعبہ سبسڈی مانگ رہا ہے سبسڈی حکومت دیتی ہے ،ٹیکس اورکسٹم ڈیوٹی لگائی جاتی ہے لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ حق کے راستے پر چلتے نظریہ کی خاطر بھٹو اور بی بی شہید نے شہادت قبول کی، بھٹو شہید نے سمجھوتہ نہیں کیا , تاریخ میں بھٹو زندہ ہے ،بی بی شہید نے قوم کیلئے جام۔شہادت نوش کیا، دھمکیوں کے باوجود ملک و ملت کی خاطر پاکستان واپس آئی، بی بی شہادت کے ثمرات سے قوم مستفید ہو رہی ہے ، بی بی شہید کی بے مثال جدوجہد بے نظیر شہادت ہے , سیاسی بصیرت والے ہی ملک چلا سکتے ہیں ،ایسی قیادت کا انتخاب کرنا ہے جو مستقبل بین ہو اورمستقبل محفوظ بنا سکے،مناپلی کے ذریعے کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، ہمیں اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا، ایس ای سی پی کو بھی اقلیتی شیئر ہولڈرز اور اقلیتی سرمایہ کاروں کا خیال رکھنا ہوگا، تمام اداروں اور محکموں کو شفافیت کے ساتھ کام کرنا ہوگا،بزنس فرینڈلی ماحول بنانا ضروری ہے ہم نے ایک کیس دیکھا ایک ریگولیٹری باڈی کا کورم ہی پورا نہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان آئینی ادارہ ہے اور سپریم کورٹ سپورٹ کرتا ہے،آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے اور ہم اسے مضبوط کرتے ہیں، تعداد زیادہ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ تربیت حاصل کرنی چاہیے ،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور تمام درخواستگزاران کے وکلا کو کمیٹی روم بلا لیا،

    سپریم کورٹ میں درخواستوں پر دوبارہ ڈیڑھ بجے بینچ بیٹھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج ہی نیا بینچ تشکیل دیں گے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، منصور علی شاہ شامل جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لطیف کھوسہ سنئیر وکیل ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ روسٹرم پر آئیں کچھ کہنا چاہتا ہوں، عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار آئین کی شق 175 دیتا ہے، صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے،ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت سماعت کرونگا، سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میں یہاں خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ کوئی سیاسی فورم نہیں،حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرونگا، آپ سیاسی بیان باہر جا کر دیں،قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے، اس قانون کے مطابق بنچ کی تشکیل سنئیر ممبران کی ایک میٹنگ سے ہونی ہے کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا، اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا،میرے سامنے آیا کہ حلف کی پاسداری کرکے بینچ میں بیٹھوں یا پہر میں نے حالات کو دیکھ کر چیمبر ورک شروع کیا۔ جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیا تو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا ،اس وجہ سے چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہے ،میرے دوست یقینا مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا،اس چھ ممبر بنچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا،

    سپریم کورٹ کا 9 رکنی بینچ ٹوٹ گیا ، جسٹس قاضی فائز عیسی الگ ہو گئے ،نامزد چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ نہیں ہوتا کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا ، سوال یہ ہے پریکٹس بل پارلیمان اور عدالت کا معاملہ جسٹس صاحب نے پرسنل کیسے بنا لیا ؟ پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق فیصلہ کرے میں بینچ سے اٹھ رہا ہوں ‘ مگر سماعت سے انکار نہیں کررہا ،میں اس وقت تک کسی بنچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، میں معذرت چاہتا ہوں، ججز کو زحمت دی،میں اس بینچ کو بینچ نہیں تصور کرتا،

    جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتا ہوں ‘ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کےخلاف درخواستوں پر فیصلہ کرینگے، اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں، یہ اہم کیس ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں مخلوق خدا کے حق میں فیصلے کے لئے بیٹھے ہیں وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر آپ کیس نہیں سنیں گے تو 25 کروڑ عوام کہاں جائیں گے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کیس سن لیجیئے، میری استدعا ہے قاضی صاحب سے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں ،یہ نہیں ہو سکتا ایک بار میں اپنے حلف کیخلاف ورزی کر دوں ، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس معاملے میں تمام ججز کیس کو سنیں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اس دفعہ بیٹھے رہیں حلف توڑ کے ، مجھے شرمندہ نہ کریں دونوں وکلا میرے لئے قابل قدر ہیں ،اعتزاز احسن نے کہا کہ گھر کے اندر کشمکش ہے ایسی زبان استعمال نہ کریں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت گھر نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے جو آئین کے تحت چلتی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سینئر جج صاحبان نے بنچ پر اعتراض کیا ہے ، گزشتہ دو سماعتوں پر اٹارنی جنرل نے قانون میں بہتری لانے کا وقت لئے ہوا ہے ،تہ دل سے سب کا احترام ہے آئین کے تحت کیا جو بھی فیصلہ کیا ،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی  بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کر دی،

    تعیناتی کا اطلاق 17 ستمبر سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ سے ہو گا.صدر مملکت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے 17 ستمبر 2023 ء کو عہدے کا حلف لیں گے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے 3 کے تحت کی ہے صدرمملکت عارف علوی نے دو ماہ پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننےکی منظوری دے دی،قاضی فائز عیسیٰ ایک سال 38 دن تک چیف جسٹس پاکستان رہیں گے،

    قاضی فائز عیسیٰ کے بطور چیف جسٹس منظوری پر رضوان رضی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ راشہ راشہ
    قاضی راشہ
    قاضی فائز عیسی چیف جسٹس پاکستان نامزد
    سترہ ستمبر کو حلف لیں گے
    صدر نے اجازت دے دی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • سپریم کورٹ، ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرزایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ، ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرزایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ پنجاب انتخابات اور ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ آرٹیکل 188 نظرثانی کی حدود کو محدود نہیں کرتا،آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں نظرثانی کا دائرہ بڑھانا امتیازی سلوک نہیں، سپریم کورٹ میں اپیلیں ہائیکورٹس یا ٹریبونلز کے فیصلوں کیخلاف آتی ہیں، آرٹیکل 184(3) کا مقدمہ براہ راست سپریم کورٹ میں سنا جاتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے نظرثانی کا دائرہ بڑھایا گیا اس پر سوال اٹھا ہے، بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کے کیسز میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، سوال یہ ہے کیا قانون سازی سے نظرثانی کا دائرہ اتنا بڑھایا جا سکتا ہے؟ نظرثانی کا اتنا دائرہ بڑھانے کی وجوہات بھی سمجھ نہیں آتی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں نظرثانی کیلئے الگ دائرہ کار رکھا گیا ہے، نظرثانی میں اپیل کے حق سے کچھ لوگوں کیساتھ استحصال ہونے کا تاثر درست نہیں، اٹارنی جنرل صاحب آہستہ آہستہ دلائل سے ہمیں سمجھائیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کے حق سے پہلے آئین لوگوں کا استحصال کرتا رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایکٹ سے پہلے 184/3 میں نظرثانی کا کوئی طریقہ نہیں تھا، حکومتی قانون سازی سے کسی کیساتھ استحصال نہیں ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون سازی کر سکتی ہے مگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا درست نہیں لگ رہا آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کیلئے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے،نظرثانی اور اپیل کو ایک جیسا کیسے دیکھا جا سکتاہے؟ عدالت کو حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، اگر نظر ثانی کا دائرہ اختیار بڑھا دیا جائے تو کیا یہ تفریق نہیں ہوگی، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی معاملے کیلئے پورے آئین کو کیسے نظر انداز کریں؟

    سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،چیف جسٹس
    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر 184(3) کا سکوپ بڑھ گیا ہے تو اس پر نظرثانی کا دائرہ کار بھی بڑھنا چاہیے، پہلے فیصلہ دینے والے ججز نظرثانی کے لیے قائم لارجر بینچ کا حصہ بن سکتے ہیں، بینچ کی تشکیل کا معاملہ عدالت پر ہی چھوڑا گیا ہے، تلور کے شکار کے کیس میں نظرثانی 5 رکنی بینچ نے سنی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین رکنی بینچ اگر فیصلہ دے تو کیا 4 رکنی بنچ نظرثانی کر سکے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لارجر سے مراد لارجر ہے جتنے بھی جج ہوں،آئین نظرثانی کے دائرہ اختیار کو محدود نہیں کرتا،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ کیا نظرثانی کے اختیار کو سول قوانین سے مماثلت دی جا سکتی ہے؟ سول قوانین صوبائی دائرہ اختیار میں ہیں اور ریویو ایکٹ میں صوبائی قوانین کا ذکر نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،حکومت نے نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل کردیا جس کی ٹھوس وجوہات پیش کرنا لازم ہے، قانون سازی سے قبل محتاط طریقہ کار سے حقائق کو دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے،

    سپریم کورٹ نے ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تمام درخواستگزاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواست گزار اپنے دلائل تحریری طور پر بھی جمع کرادیں ،درخواست گزار تحریری جوابات میں ریفرنسز بھی شامل کریں تا کہ مدد مل سکے ،ہم آپس میں مشاورت کرکے جلد فیصلہ سنائیں گے

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس نفاذ کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی ،عدالت نے غیرمنقولہ پراپرٹی پر عائد 100 فیصد ٹیکس دینے پر حکم امتناع جاری کردیا اور فریقین کو غیرمنقولہ جائیدادوں پر50 فیصد ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا کہ فیصلے کا اطلاق منقولہ جائیداد پر نہیں ہو گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کواس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے زرمبادلہ کی بہتری کیلئے جو پیسے بیرون ملک ہیں وہ ملک میں رکھیں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں تعاون کریں حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں اس نئے ٹیکس سسٹم کی خامیوں کو دیکھنا ہوگا مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے کریٹوٹیکسیشن کرنا ہوگی،عدالت نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ آئین وقانون کے مطابق کرے۔ سپریم کورٹ نے 100 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ایف بی آر کی استدعا مسترد کردی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

  • کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی،حافظ نعیم

    کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی،حافظ نعیم

    کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ شہر قائد میں لوگ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اضافی بلوں سے پریشان ہیں۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی مئیر کے معاملے پر جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ ن لیگ سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارا ساتھ دیں پی ٹی آئی کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی جارہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کی اے ٹیم ہونے کا ثبوت دیا۔

    یہ تاثر نہیں ملنا چاہیےکہ نگراں حکومت طاقت میں رہنا چاہتی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہمارے وکلا نےکےالیکٹرک کےحوالےسےدرخواست میں دلائل دیئے بینچ نے ہماری 2015 کی درخواست سماعت کےلئےمقررکی جس پر ہم شکر گزار ہیں لیکن ہمیں ہائیکورٹ جانے کا کہا گیا، ہم سمجھتے ہیں کہ جیسا ہم نے ذہن بنایا ہوا تھا ویسی سماعت نہیں ہوئی۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان سےیہ اپیل کرتا ہوں کہ ٹھیک ہےآپ نےایک قانونی طریقےسےیہ کہہ دیا کہ ہائیکورٹ جائیں نیپراجائیں سپریم کوٹ میں توکراچی کےحوالےسےجو کیس چلتارہا اس میں اس وقت کےچیف جسٹس کےالیکٹرک سےمتعلق ریمارکس اور عدالتی کارروائی کا مطالعہ کریں تو پتا چلے گا کہ کراچی کےلوگ کتنےپریشان ہیں میں سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس ازخود اسے دیکھیں کہ یہ مفاد عامہ کا مسئلہ ہے۔ جسے کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا تو آخری عدالت سپریم کورٹ ہے-

    جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے سے یاسمین راشد کی بریت چیلنج

    حافظ نعیم نےمزید کہاکہ لوڈ شیڈنگ غلط ہورہی ہےمہنگی بجلی کراچی کو دی جارہی ہےسب سےزیادہ بل یہاں آتےہیں ہماری پٹیشن نجکاری کے حوالے سے تھی لیکن بات اب بہت آگے نکل چکی ہےاگر سپریم کورٹ مزید سماعت کرتی تو اضافی درخواست لگاتے جس میں ہم بتاتے کہ بجلی پیداوار میں اضافہ بھی نہیں ہوا۔