Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    سپریم کورٹ ،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل تھے،درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف چمبر اپیل دائر کی ہے۔تمام متفرق درخواستوں کو نمبرز لگے ہیں میری اپیل پر نمبر نہیں لگا اپیل کو اوپن کورٹ میں لگا کر سماعت کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے درخواست پر اعتراض کیا لگا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے توہین عدالت کی درخواست کے درخواست گزار کی سرزنش کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے آپ نے توہین عدالت کی درخواست کس کیخلاف دائر کی ہے آپ نے ججز پر توہین عدالت کا الزام لگایا ہے عمومی طور پر ججز کو توہین عدالت کی درخواستوں میں فریق نہیں بنایا جاتا مناسب ہے پہلے توہین عدالت کی درخواست پر لگے اعتراضات کو دور کریں توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور متعلقہ شخص کے مابین ہوتا ہے ،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق آج ججز کیخلاف دائر اعتراضات پر دلائل ہونے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراضات پر دلائل شروع کریں

    اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ کس نقطے پر بات کرنا چاہیں گے؟ آپ ایک چیز مس کر ریے ہیں،چیف جسٹس پاکستان ایک آئینی عہدہ ہے، مفروضہ کی بنیاد پر چیف جسٹس کا چارج کوئی اور نہیں استعمال کر سکتا، اس کیس میں چیف جسٹس دستیاب تھے جنہیں کمیشن کے قیام سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا، چیف جسٹس کے علم میں نہیں تھا اور کمیشن بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ان نکات پر آپ دلائل دیں، اٹارنی جنرل نے بنچ پر اعتراض کی درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ عدالت نے حکم نامہ میں جن فیصلوں پر انحصار کیا وہ ججز کی جانبداری سے متعلق ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنسز ان فیصلوں کے دیے گئے ہیں جہاں متبادل نہ ہو تو فیصلہ مجاز فورم ہی کرتا ہے، ایسی صورتحال میں جانبداری کا الزام واحد دستیاب فورم پر نہیں لگ سکتا، چیف جسٹس کا عہدہ آئینی ہے جس کے انتظامی اختیارات بھی ہوتے ہیں، چیف جسٹس دستیاب نہ ہوں تو آئین کے تحت قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر ہوتا ہے،چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے اختیارات کسی اور کو تقویض نہیں کیے جا سکتے، موجودہ کیس میں کیا الزامات ہیں معلوم نہیں، چیف جسٹس نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کمیشن کیلئے ججز دستیاب ہیں یا نہیں، مفادات کا ٹکرائو ہو بھی تو چیف جسٹس آفس ہی فیصلہ کرے گا کیونکہ یہ آئینی عہدہ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک اعتراض بنچ کی تشکیل دوسرا کمیشن کے ٹی او آرز کی بنیاد پر ہے، چیف جسٹس کی جانب سے کمیشن کیلئے نامزدگی دوسرا اعتراض ہے، ججز ضابطہ اخلاق کے تحت موجودہ بنچ کے کچھ ممبران کیس نہیں سن سکتے، مفادات کا ٹکرائو ہو تو ججز کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ اختیارات کی آئینی تقسیم اور قانونی نکات پر بات کریں،عدلیہ کی آزادی کے نکتے اور ماضی کے عدالتی فیصلوں سے متفق ہیں یا نہیں پہلے یہ بتائیں،آپ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے بنچ کی تشکیل پر دلائل دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس نقطے پر جا رہے ہیں کہ ہم میں سے تین ججز متنازعہ ہیں؟ اگر اس پر جاتے ہیں تو آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر فرض کر لیا کہ ہم میں سے تین کا کنفلکٹ ہے،میں چاہوں گا آپ دوسروں سے زیادہ اہم ایشو پر فوکس کریں،دوسرا اور اہم ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر کا آڈیو لیکس سے تعلق ہے آپ تینوں ججز کیس نہ سنیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی موجودگی میں پوچھے بغیر ججز پر مشتمل کمیشن تشکیل دے دیا گیا، یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس پر دلائل دیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا قانونی طور پر درست ہے جسے آڈیوز کی حقیقت کا نہیں پتہ وہ بنچ پر اعتراض اٹھائے؟ میں آپ کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا پوچھ رہا ہوں وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کیوں کی، کیا ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بیان کے بعد تو اس وزیر کو ہٹا دیا جاتا یا وہ مستعفی ہوجاتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا ایک وزیر کا بیان پوری حکومت کا بیان لیا جا سکتا ہے؟میرے علم میں نہیں اگر پریس کانفرنس کسی نے کی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اتنے اہم ایشو پر کابینہ کی اجتماعی زمہ داری سامنے آنی چاہیے تھی، وزیر اگر چائے پینے کا کہے تو الگ بات، یہاں بیان اہم ایشو پر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے کہ وزیر داخلہ کا بیان نو مئی سے پہلے کا ہے یا بعد کا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واہ کیا خوبصورت طریقہ ہے اورعدلیہ کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے، پہلے ان آڈیوز پر ججز کی تضحیک کی پھر کہا اب ان آڈیوز کے سچے ہونے کی تحقیق کروا لیتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑا آسان ہوجائے گا کسی بھی جج کو کیس سے ہٹانا ہے تو اس کا نام لے کر آڈیو بنا دو،کیس سے الگ ہونے کے پیچھے قانونی جواز ہوتے ہیں، یہ آپشن اسلیے نہیں ہوتا کوئی بھی آکر کہہ دے جج صاحب فلاں فلاں کیس نہ سنیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اسی لیے اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آڈیوز کس نے پلانٹ کی ہیں، کیا حکومت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کون کر رہا ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت کمیشن کے زریعے اس معاملے کو بھی دیکھے گی،کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں کمیشن کے زریعے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا،ابھی تو یہ معاملہ انتہائی ابتدا کی سطح پر ہے، وفاقی حکومت کے مطابق یہ آڈیوز مبینہ آڈیوز ہیں، وفاقی حکومت کا یہی بیان دیکھا جانا چاہیے،کابینہ کے علاوہ کسی وزیر کا ذاتی بیان حکومت کا بیان نہیں،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ اگر وزیر خزانہ کچھ بیان دے تو کیا وہ بھی حکومت کا نہ سمجھا جائے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی معاملہ اگر سپریم کورٹ کے تمام ججز سے متعلق نکل آئے پھر یہ نظریہ ضرورت پر عمل ہوسکتا ہے،اگر تمام ججز پر سوال ہو پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی نے تو سننا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نے اپنے وسائل استعمال کر کے پتہ کیا کہ آڈیوز ریکارڈ کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہیں؟ کون یہ سب کر رہا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ نے آڈیوز کو مبینہ قرار دیتے ہوئے کمیشن تشکیل دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بدنام کرکے معاملہ حقائق جاننے کیلئے بھیج دیا گیا،واہ کیا خوبصورتی سے یہ کام کیا گیا، ججز کی تضحیک کی آخر کیا وجہ تھی؟ کابینہ نے خود کو ایسے بیانات سے الگ کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم میڈیا اور پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر آپ کو شرمندہ کریں؟ حقائق جانے بغیر ججز کی تضحیک کی گئی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سائل نے جج تبدیل کرانا ہو تو ایک آڈیو بنا کر لیک کروا دے گا، اکثر سائلین خود پیش ہوتے ہیں کیس نہ بنتا ہو تو جج پر الزام لگا دیتے ہیں،کیا ایسے موقع پر جج نظام انصاف کو دیکھے یا اٹھ کر چلا جائے اور کیس نہ سنے؟ کل کوئی جج کا نام لے کر ویڈیو بھی ٹوئٹر پر ڈال سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیوز کو پلانٹ کیا گیا حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ تعین کر سکے کس نے پلانٹ کیا، کمیشن بھی حکومت سے ہی معاونت لے گا، کیا حکومت نے آڈیوز کے حوالے سے کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے آڈیوز کیلئے کمیشن تشکیل دیا ہے کمیشن جس بھی ادارے کو کہے گا وہ معاونت کرینگے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کیس سننے والے سات میں سے چار ججز کی فون ٹیپنگ کی گئی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں صدر کے اختیارات کا سوال تھا،بینظیر کیس میں بینچ پر اعتراض نہیں ہوا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا اس کیس میں ججز نے ٹھیک فیصلہ نہیں کیا جن کی کالز ٹیپ ہوئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کیس تعصب کا نہیں مفادات کے ٹکراو کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ اعتراض صرف جوڈیشل کاروائی پر بنتا ہے یا انتظامی امور کی انجام دہی پر بھی ہے؟ ایک ٹویٹر ہینڈل بار بار ایسا مواد جاری کر رہا ہے، یہ سوال ہے ایسی آڈیوز لیک کون کرتا ہے، جس ٹویٹر اکاؤنٹ نے یہ آڈیوز جاری کی اسکے خلاف کیا قانونی کاروائی کی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری اس سارے معاملے پر کوئی بدنیتی نہیں ہے، بنچ تبدیل ہونے سے کمیشن کے خلاف عدالت آئے درخواست گزاروں کا حق متاثر نہیں ہوگا،استدعا ہے کہ بنچ تبدیلی کی درخواست کو زیر غور لائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دو اور ججز پر بھی ہے، ہماری درخواست کا متن آپ کے سامنے ہے اس کا جائزہ لے لیں، کمیشن آڈیو سے متعلق تمام عوامل کا جائزہ لے گا۔وفاقی حکومت کا موقف ہے یہ آڈیوز مبینہ ہیں۔کسی نے پریس کانفرنس کی ہے تو اسکا انفرادی فعل ہے انفرادی فعل پر کابینہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر وزراء کے بیانات کو حکومت کی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تحریری اعتراض جج پر اٹھایا جائے تو صورتحال مختلف ہوجاتی ہے ،وفاقی حکومت کا کسی جج کیخلاف تعصب کا نہیں ،وفاقی حکومت کا کیس ججز کے مفادات کے ٹکراو کا ہے ،ججز پر اعتراض کسی منفی مقصد کے تحت نہیں اٹھایا گیا

    اٹارنی جنرل نے دوران سماعت ارسلان افتخار کیس کا حوالہ دیا،اور کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں بنچ سربراہ جسٹس افتخار چوہدری تھے،ایک فریق کی استدعا پر جسٹس افتخار چوہدری نے خود کو بنچ سے الگ کر لیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دیگر دو ججز پر بھی ہے، کیا آپ دیگر دو ججز پر اعتراض واپس لینگے یا باری باری ہر جج پر دلائل دینگے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست اور اعتراضات کا متن عدالت کے سامنے ہے،بنچ کی تشکیل پر اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کر لئے

    وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تمام آڈیوز 16 فروری کے بعد کی ہیں، عدالت نے انتخابات کا مقدمہ سننا شروع کیا تو آڈیوز آنا شروع ہوگئیں، ایک ہیکر کے اکائونٹ سے تمام آڈیوز لیک کی جاتی ہیںحکومت انتخابات کیس میں فریق ہے وہی کمیشن بھی بنا رہی ہے، پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آڈیوز ریکارڈ اور لیک کون کر رہا ہے، کمیشن کے ٹی او آرز میں آڈیوز ریکارڈ کرنے والے کا ذکر ہوتا پھر تو بات تھی، یہاں عدالت کے سامنے ایک آئینی نوعیت کا معاملہ ہے، یہاں سوال ایگزیکٹو کی عدلیہ میں مداخلت کا ہے، اس بنچ نے کسی کے حق میں یا خلاف فیصلہ نہیں دینا ایک تشریح کرنی ہے،جس بنیاد پر بنچ تبدیلی کی درخواست ہے وہ دیکھی، کیا ہم آڈیوز کو پہلے ہی تسلیم کر لیں؟یہ تو بلیک میلنگ کا بہت آسان طریقہ ہوجائے گا، کسی بھی فیک آدمی کے زریعہ جعلی آڈیوز بنوا دی جایا کریں گی،اس عدالت نے صرف الیکشن کرانے کا کہا تھا،اس پر آڈیوز آنے لگی اور ٹاک شوز میں کیا نہیں کہا گیا پیمرا اس دوران کہاں ہے دیکھ لیں پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر دیکھ لیں،عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی،عدلیہ کی آزادی بہت اہم ہے، لوگ عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں،لوگوں کے سیاسی نظریات پر ان کے بیاسی سال کے والد کو اٹھا لیا جاتا ہے،کیا عدلیہ میں ایگزیکٹو ایسے مداخلت کرے گی،

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار رکھا گیا ہے، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • نجکاری کو 18 سال ہو چکے،درخواست کو اپڈیٹ اوراپ گریڈ کرلیں، چیف جسٹس

    نجکاری کو 18 سال ہو چکے،درخواست کو اپڈیٹ اوراپ گریڈ کرلیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کے ای ایس سی کی نجکاری کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد سے بذریعہ ویڈیولنک کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ یہ پالیسی میٹر ہے اسکا دائرہ اختیار یہ کورٹ تو نہیں؟ میرا خیال ہے پہلے مناسب فورم پر جانا چاہیے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تو ادارے کی نجکاری ہوچکی ہے اور ادارہ طویل عرصے سے کام کر رہا ہے ،وکیل جماعت اسلامی رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کئی معاملات حل طلب ہیں مجھے سنا جائےگا تو بتاؤں گا کہ سماعت کیوں ضروری ہے اس حوالے سے میں اہم نکات پر عدالت کی رہنمائی کرنا چاہتا ہوں

    دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نجکاری کو 18 سال ہو چکے ہیں کئی ڈویلپمنٹس ہوچکی ہیں آپ درخواست کو اپڈیٹ اوراپ گریڈ کرلیں تو اچھا ہے آپ پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیں پھر سپریم کورٹ آ جائیں سپریم کورٹ معاشی معاملات میں مداخلت نہیں کریگی معاشی معاملات میں سپریم کورٹ کو کوئی مہارت حاصل نہیں ویسے بھی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 184 کی شق 3 سے متعلق 2 قوانین بنائے ہیں پرانے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر رہے ہیں تا کہ دیکھ سکیں کہ لائیو ایشو کیا ہے

    ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا کیا کر رہا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    موجودہ دور کے ڈرامے صرف خواتین کیلئے بنائے گئے جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں،قائمہ کمیٹی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    ایڈووکیٹ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ لیبریونین کےخلاف درخواست بھی آئی ہے جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ کیس اس وقت ہمارے سامنے نہیں ہے وکیل درخواست گزار نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کی جائے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں ججز پرنسپل سیٹ پر دستیاب نہیں ہوں گے آئندہ ہفتے ججز متعلقہ رجسٹریوں میں ہوں گے آپ ہدایات لے لیں کل کیس سنیں گے ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • ہم مل کر چلیں گے ،تنویر الیاس کی جہانگیر ترین سے ملاقات کے بعد گفتگو

    ہم مل کر چلیں گے ،تنویر الیاس کی جہانگیر ترین سے ملاقات کے بعد گفتگو

    سردار تنویر الیاس جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پہنچ گئے ،جہانگیر ترین ، عون چوہدری نے سردار تنویر الیاس کا استقبال کیا ۔
    دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی ،نئی سیاسی جماعت کے قیام سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی ، دونوں رہنماؤں کے مابین مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

    ملاقات کے بعد سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور نعمان لنگڑیال نے میڈیا سے گفتگو کی ،سردار تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر ہمارے ملک کی اکانومی کے برے حالات ہیں ہم مل کر چلیں گے ،ملک اور قوم کے مفاد کیلئے کام کریں گے ،جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی ،سب سے بات چیت چل رہی ہے، ملکی مفاد میں جو چیزیں ہونگی ان کو آگے لے کر چلیں گے ،کوئی علیحدہ گروپ نہیں ہوگا سب ساتھ مل کر چلیں گے ،آگے آنے والے دنوں میں اچھی خبریں ملیں گی ،میں نے کبھی نہیں کہا کہ آزاد کشمیر کا اسٹیک ہولڈر ہوں

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    قبل ازیں گزشتہ روز سردار تنویر الیاس کی امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات ہوئی ملاقات کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی سیاسی و معاشی استحکام کیلئے چیف جسٹس ،آرمی چیف اور وزیر اعظم،آصف زرداری ، مولانا فضل ٓالرحمان سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز اپنا کردار ادا کریں ،پارلیمان سپریم ،اگر قومی حکومت ناگزیر ہے تو پارلیمان میں قانون سازی میں کوئی حرج نہیں ،جلد وزیراعظم شہبازشریف، چیف جسٹس ،آرمی چیف سے ملاقاتیں کریں گے چوہدری شجاعت، جہانگیر ترین سمیت دیگر سیاسی رہنماوں سے بھی ملاقات ہوگی

  • ایم پی او کا نوٹیفیکیشن معطل ،شہری کو رہا نہ کرنے پرچیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ برہم

    ایم پی او کا نوٹیفیکیشن معطل ،شہری کو رہا نہ کرنے پرچیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ برہم

    سندھ ہائیکورٹ: ایم پی او کا نوٹیفیکیشن معطل ہونے کے باوجود شہری کو رہا نا کرنے پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ برہم ہو گئے

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی جرم کے کسی کو جیل میں کیسے رکھ سکتے ہیں ،اگر شہری ندیم اور سجاد کسی جرم میں مطلوب نہیں تو کیسے جیل میں بند رکھا گیا ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دونوں شہریوں کا ایم پی او کے تحت جاری کیا گیا نوٹفیکشن معطل ہوچکا ہے ،شہری ندیم شاہ لطیف تھانے میں درج مقدمے میں بھی ضمانت پر رہا ہے ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ دونوں شہری پولیس کو مقدمے میں مطلوب ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جرم میں مطلوب ہیں تو ایف آئی آر نمبر بتایا جائے ،پولیس اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ ایف آئی آر نمبر بتانے میں ناکام ہو گئے

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کا یہی رویہ رہا تو آئی جی سندھ کو ابھی طلب کریں گے ،پانچ منٹ میں ایف آئی آر نمبر بتائیں ورنہ جیل سپرنٹینڈنٹ میرپور خاص کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے

    دوسری جانب پشاور میں تھری ایم پی او میں نامزد ملزمان کی پشاور ہائی کورٹ میں ضمانت کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس عبدالشکور اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دورکنی بینچ نے کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ یک ساتھ تمام افراد کو کیوں پیش نہیں کیا جاتا ۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جو جو ضمانت کےلئے رجوع کرتا انکو عدالت کے روبرو پیش کرتے ہیں ۔:عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے کیس کل تک کےلئے ملتوی کردی ۔

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان کے گھر پولیس چھاپے کا معاملہ ، عمر ایوب خان کی اہلیہ کی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ،عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو منگل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،وکیل عبد اللہ بابر اعوان نے استدعا کی کہ پولیس کو حراساں کرنے سے روکا جائے، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہراساں نہیں کریں گے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر عبداللّٰہ بابر اعوان ، آمنہ علی ایڈوکیٹ پیش ہوئیں ،،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پولیس نے سرچ وارنٹ کے بغیر گھر پر چھاپہ مارا ،غیرقانونی چھاپے کے دوران 16 سالہ بیٹے کو بھی دھمکیاں دی گئیں،پولیس کو گاڑی واپس کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں ،درخواست میں اسلام آباد پولیس کو فریق بنایا گیا ہے

  • دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور شاہد وحید بنچ میں شامل ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں،جسٹس محمد علی مظہر بھی آٹھ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں، اٹارنی جنرل بھی روسٹرم پر آگئے ،وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر نظرثانی کا فیصلہ کر لیا ہے، اٹارنی جنرل نے دوران سماعت سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حوالے سے دو قوانین بنائے گئے، حالیہ قانون نظرثانی درخواستوں سے متعلق تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل اور نظرثانی قانون دونوں میں کچھ شقیں ایک جیسی ہیں، دونوں قوانین کا باہمی تضاد سے بچانے کیلئے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، سپریم کورٹ کی مشاورت سے اب قانون میں ترمیم ہوگی،سپریم کورٹ کے انتظامی معاملے پر قانون سازی عدلیہ کے مشورے سے نہیں ہوئی، دونوں قوانین کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی مشاورت ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے پارلیمنٹ اور حکومت مماثلت والے قوانین میں ترمیم کر رہی ہے، حکومت کوعدلیہ کی قانون سازی سے متعلق سپریم کورٹ سے مشاورت کرنی چاہئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے دو قوانین ہیں، ایک سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ ہےدوسرا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ہے، دونوں قوانین میں ریویواوروکیل کرنےکی شقوں کی آپس میں مماثلت ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ زیادہ وسیع ہے،ایکٹ میں سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات سے متعلق شقیں ہیں، دونوں قوانین میں سے کس پرانحصارکرنا ہے اس کیلئے ایک حل پر پہنچنا ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کودیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،آپ کی اس تجویزکاخیرمقدم کرتے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کردی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت آج کی کارروائی کا مناسب حکم جاری کرے گی، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ حکومت سے ہدایات لے لیں تب تک کسی اور کو سن لیتے ہیں، وکیل درخواست دہندہ نے کہا کہ عدالت نے پارلیمنٹ کی کاروائی طلب کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اخبارات کے مطابق پارلیمنٹ نے کاروائی عدالت کو فراہم کرنے سے انکار کیا،پارلیمنٹ کو شاید معلوم نہیں تھا کہ تمام کاروائی ویب سائٹ پر موجود ہے، اگلے ہفتے اس کیس کو سنیں گے، تمام وکلاء جو کراچی سے لمبا سفر کر کے آئے ان سے معذرت کرتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں موسم خوشگوار ہے امید ہے سب انجوائے کریں گے،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے بیان کو خوش آئند قرار دیدیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون پر نظرثانی اور مشاورت کرنا چاہتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، عدلیہ کی مشاورت سے پارلیمان قانون سازی کرے تو تنازعات نہیں ہونگے، ممکنہ طور پر سپریم کورٹ سے مشاورت کی جائے گی پارلیمنٹ کو قانون سازی کے حوالے سے ہدایات نہیں دے سکتے،عدلیہ کے حوالے سے یکطرفہ قانون سازی نہیں ہونی چاہیے، ایک طریقہ یہ ہے کہ حکومت غلطیاں درست کرے اور کیس چلتا رہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قانون بنتے رہیں ہم سماعت کرے رہیں دیکھتے ہیں کون تیز ہے،

    قبل ا زیں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پرویسجر قانون کیس معاملہ ،مسلم لیگ ق نے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کردی مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروادیا جس میں کہا گیا کہ قانون سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں اضافہ ہوگا،ملک میں چلنے والی وکلا تحریک کے بعد ریفارمز کے موقع کو گنوا دیا گیا،قانون کاسیکشن 4 سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو وسیع کرتا ہے، سیکشن 3 چیف جسٹس کےاز خود نوٹس کے اختیار کے بے ترتیب استعمال کو سینئر ججز کے ساتھ مل کر استعمال کا کہتا ہے قانون کے تحت کمیٹی کے جانب سے مقدمات کو مقرر کرنے اور از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے عوام کا اعتماد بڑھے گا،سابق چیف جسٹس صاحبان افتخار چودھری ،گلزار احمد ، ثاقب نثار کی جانب سے اختیارات کا زیادہ استعمال کیا گیا، چیف جسٹس کے اختیارات کے استعمال کے نتائج سٹیل مل ،پی کے ایل ائی اور نسلہ ٹاور کی صورت میں سامنے آئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی سے ایسے نتائج سے بچا جا سکتا تھا، آزاد عدلیہ کا مطلب ہر جج کے بغیر پابندی،دباواور مداخلت کے فرائض کی انجام دہی ہے،

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • سپریم جوڈیشنل کونسل کا جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کیخلاف کاروائی کا آغاز

    سپریم جوڈیشنل کونسل کا جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کیخلاف کاروائی کا آغاز

    سپریم کورٹ کے جج کیخلاف شکایت کا معاملہ،سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ جج کے خلاف شکایات پر کارروائی کا آغاز کر دیا،

    چیف جسٹس نے مظاہر نقوی کیخلاف شکایات سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل ممبر کو بھجوا دیں ،شکایات کی جانچ کے بعد ممبرز اپنی رائے سے کونسل کو آگاہ کرینگے

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس بھجوایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی تھی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں ان فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہےسپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ، گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ، سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ اور گوجرانوالہ الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • آڈیو لیکس کمیشن کیس :ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا،انکوائری کمیشن

    آڈیو لیکس کمیشن کیس :ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا،انکوائری کمیشن

    آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں کےکیس میں انکوائری کمیشن کے سیکرٹری نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں جمع کرائےگئے انکوائری کمیشن کے جواب میں کہا گیا ہےکہ آئینی درخواستیں قابل سماعت نہیں، انکوائری کمیشن نے 5 رکنی بینچ کی تشکیل کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کرتے ہوئےکہا ہےکہ بینچ کی تشکیل کا معاملہ ججز کمیٹی کے سامنے نہیں رکھا گیا، بہتر ہوگا ججزکمیٹی کی جانب سے بینچ کی تشکیل تک 5 رکنی بینچ سماعت مؤخر کردے صدرسپریم کورٹ بار نے آڈیو لیک کمیشن کےخلاف درخواست دائر کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ یہ کیس نہ سنے، ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا۔

    عدالت نے آڈیولیک تحقیقاتی کمیٹی کو ثاقب نثارکے بیٹےکیخلاف کارروائی سے روک دیا

    انکوائری کمیشن کا کہنا ہےکہ کمیشن کو آڈیو لیکس کی انکوائری میں کوئی ذاتی دلچسپی نہیں،کمیشن کو یہ ذمہ داری قانون کے تحت دی گئی ہے، کمیشن آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرےگا،صحافی قیوم صدیقی اور خواجہ طارق رحیم کمیشن میں پیش ہونےکے لیے تیارہیں، ججز کا حلف ہےکہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فرائض ادا کریں گے۔

    کمیشن کے مطابق وہ عوام کا پیسا بچانے کے لیے اپنا وکیل نہیں کر رہا، درخواست ہے کہ سیکرٹری کے ذریعے کھلی عدالت میں یہ جواب پڑھ کر سنایا جائے، کمیشن عدالت کو یقین دلاتا ہےکہ کارروائی میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

    آج بھی پنجاب سمیت ملک بھر میں بارش کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں، تاہم چیف جسٹس پاکستان عمرعطابندیال نے آڈیولیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجربینچ تشکیل دیتے ہوئے کمیشن کو کارروائی سے روک دیا ہے۔

  • مریم نواز کا  چیف جسٹس پر عہدے کے بے دریغ استعمال کا الزام

    مریم نواز کا چیف جسٹس پر عہدے کے بے دریغ استعمال کا الزام

    سپریم کورٹ کے آڈیو لیکس کمیشن کو کام سے روکنے کے حکم کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدرمریم نواز نے چیف جسٹس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے عہدے کے بے دریغ استعمال کا الزام لگادیا۔

    باغی ٹی وی: مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر براجمان شخص اپنے عہدے کو احتساب سے بچنے کے لیے بے دریغ استعمال کر رہا ہے اگر آپ اور آپ کی ساس کا دامن صاف ہےتو کیا آپ کو قانون کا سامنا نہیں کرنا چاہیے؟یاچیف جسٹس ہونے کے ناطے قانون آپ پر لاگو نہیں ہوتا؟عمر عطا بندیال اپنے خاندان کو بچانے کے لیے قانون کا مذاق اور عدلیہ کا تماشہ بنانے کے جرم میں سزا کے حقدار ہیں۔

    امریکی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    قبل ازیں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد پاکستان کی فوج کو کمزور کرنا اور پر تشدد لہر کو جنم دینا تھا، پاکستان کیخلاف مسلح بغاوت تھی جس کا سرغنہ عمران خان ہے، عمران خان کو شرم آنی چاہیے، ڈوب کر مر جانا چاہیے۔حملوں میں عمران خان اکیلا نہیں، 2014 سے اب تک کے سہولت کار بھی شامل تھے، کوئی پہلا حملہ نہیں تھا، یہ سوچی سمجھی سازش تھی۔

    ریت کی طرح جماعت بکھر جانے کے بعد مذاکرات یاد آ گئے؟،مریم اورنگزیب

    مریم نواز نے استفسار کیا جب لاہور سے جتھے نکلتے ہیں تو سیدھا جناح ہاوس کیوں جاتے ہیں؟ جب میانوالی سے جھتے نکلتے ہیں تو یہ طیارے پر حملہ کیوں کرتے ہیں؟ یہ اس جہاز پر حملہ کیوں نہیں کرتے جسے عمران خان نے رکشے کی طرح استعمال کیا، جب کوئی جتھہ نکلتا ہے تو یہ لال حویلی جانے کی بجائے جی ایچ کیو کیوں جاتا ہے؟ انہوں نے کہا یہ حملہ پاکستان کی فوج پر حملہ تھا، ہم نے بھی جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے خلاف اسٹینڈ لیا تھا، نواز شریف نے کہا جنرل فیض اور جنرل باجوہ قوم آپ سے جواب مانگتی ہے۔

    پرویز الہٰی کی عبوری ضمانت مسترد،اینٹی کرپشن عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

  • سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت نے پانچ رکنی لارجر بنچ پر اعتراض اٹھا دیا ،حکومت کی جانب سے اعتراض اٹارنی جنرل نے کیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس کو اس بنچ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا چیف جسٹس کا استحقاق ہے، مناسب یہی ہے کہ چیف جسٹس اس مقدمے کو نہ سنیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراض کا آپ کو پورا موقع دیا جائے گا، 9 مئی کے سانحے کے بعد عدلیہ کے خلاف بیان بازی بند ہو گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں،عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے،حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی،
    حکومت کسی جج کو اپنی مرضی کے مطابق بینچ میں نہیں بٹھا سکتیاگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے،9 مئی کے واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی،حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے ،آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں نامزدگی کیلئے مشاورت بھی نہیں کی گئی عدلیہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر کوشش نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، ہر بات کھل کر قانون میں نہیں دی گئی ہوتی، آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عدلیہ اصلاحات بل کس کے مشورے سے لایا گیا؟ حکومت نے فیملی سمیت ہر مقدمہ ہی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل کیس میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کیخلاف ہے، عدلیہ اصلاحات قانون خود کہتا ہے 184/3 کے مقدمات پانچ رکنی بنچ سنے گا، اگر لارجر بنچ نے اپیل سننی ہو تو ججز کئی دستیاب نہیں ہونگے،ہمارے انتظامی امور میں مداخلت کرینگے تو کیسے ریلیف ملے گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل پر اعتراض دور کر دینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراض دور کریں کس نے روکا ہے؟ اعتراضات دور ہوگئے تو شاید ریلیف بھی مل جائے، آٹھ رکنی بنچ بنانے کی یہی وجہ ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اختیارات سے متعلق قانون میں حکومت نے پانچ ججز کے بینچ بنانے کا کہہ دیا، نئے قانون میں اپیل کیلئے پانچ سے بھی بڑا بینچ بنانے کا کہہ دیا،ہمارے پاس ججز کی تعداد کی کمی ہے، حکومت بتائے اس نے سپریم کورٹ کے بارے میں قانون سازی کرتے وقت کس سے مشورہ کیا، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا،ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے، یہ سب انا کی باتیں نہیں آئین کی باتیں ہیں،آئین اختیارات کی تقسیم کی بات کرتا ہے،

    دوران سماعت 9 مئی کے واقعات کا بھی تذکرہ ہوا،. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں آپکا اور حکومت کا احترام کرتے ہیں،اب شدت سے سب کو احساس ہو رہا ہے کہ اداروں کا احترام ضروری ہے، 9 مئی کے واقعات کا فائدہ عدلیہ کو ہوا،عدلیہ کو فائدہ ایسے ہوا کہ ہمارے خلاف ہونے والی بیان بازی رک گئی، بدقسمتی سے عدلیہ کیخلاف بیان بازی رکنے کیلئے اتنے بڑے سانحہ کی ضرورت پڑی،ہر آئینی و قانونی ادارے کا تحفظ اور احترام ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اگر جھگڑا کرنا ہے تو تیاری کرکے آئیں،سپریم کورٹ کے انتظامی اختیارات میں مداخلت بند کی جائے،عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ، ہم انا کی بات نہیں آئین کی بات کر رہے ہیں ،

    صدر سپریم کورٹ بار کے وکیل شعیب شاہین نے درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آڈیو لیک کمیشن کی تشکیل میں مشاورت کا حصہ نہیں تھا۔ معاملہ آپ سے متعلقہ تھا اس لئے سینئر جج کو کمیشن کا سربراہ بنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 2017 کے قانون کے مطابق چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں ،کمیشن کی تشکیل کا 2017 کا قانون کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو آئینی روایات کی پاسداری کرنی چاہیے کمیشن کی تشکیل کیلئے مشاورت کا 1956 کے قانون میں بھی نہیں لکھا تھا۔ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ساری آڈیو ایک ہی ٹوئیٹر اکاونٹ سے جاری ہوتی ہے۔آڈیو لیک ہونے کے بعد وفاقی وزراء اس پر پریس کانفرنسز کرتے ہیں۔ ٹوئیٹر پر ہیکر کے نام سے گمنام اکاونٹ ہے،ہیکر کے نام سے اکاونٹ سے آڈیو ویڈیو ریلیز ہوتی ہیں۔یہ اکاونٹ ستمبر 2022 میں بنایا گیا۔ فروری 2023 سے گمنام اکاؤنٹ سے آڈیو ویڈیوز لیک ہوئی۔ ہماری درخواست کمیشن کی تشکیل کیخلاف ہیں۔ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کیے، حکومت تاثر دے رہی ہے فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے،حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اصول طے کیے ہیں، کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اس کا تعین کون کرے گا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ حکومت پہلے تسلیم کرے کہ آڈیوز اس کے اداروں نے ریکارڈ کرکے لیک کی ہیں، اگر آڈیوز کی ریکارڈنگ قانون کے مطابق ہے تو اعتراض نہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ ریکارڈنگ قانون کے مطابق کی گئی،سپریم کورٹ کا بینظیر بھٹو کیس میں 1998 کا فیصلہ کچھ اور کہتا ہے، فیصلے کے مطابق کالز کی ریکارڈنگ عدالت کی اجازت سے ہی ہوسکتی ہیں، ججز کی آڈیوز کو بطور شواہد تسلیم کرکے مس کنڈکٹ کا تعین کیا جا رہا ہے، کیا اب کمیشن سفارش کرے گا کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے؟فیئر ٹرائل ایکٹ بھی ریکارڈنگ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ریکارڈنگ پیکا ایکٹ 2016 اور ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی بھی خلاف ورزی ہے، بینظیر بھٹو کیس بھی 1996 کے قانون کی خلاف ورزی پر بنا تھا، فیئرٹرائل ایکٹ کے مطابق مشکوک افراد کی ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے، ریکارڈنگ کیلئے متعلقہ پولیس یا حساس ادارے کا مجاز افسر درخواست دے سکتا ہے،مشکوک افراد کا متعلقہ کیس سے تعلق ہونا بھی ضروری ہے،قانون کے مطابق جاسوسی کے اجازت نامہ پر دستخط ہائی کورٹ کا جج کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کیس میں بھی قرار دیا گیا کہ ججز کی جاسوسی قانون کیخلاف ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے، کالز ریکارڈنگ آئین کے آرٹیکل 14 کی بھی خلاف ورزی ہے،

    وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ ایک نجی چینل نے ایک ادارے کے سربراہ کی ویڈیو چلائی تو اس پر دس لاکھ کا جرمانہ ہوا، نجی چینل نے کہا ہمیں انفارمیشن ملی اور ہم نے چلایا،ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جب تک تصدیق نہ ہو آڈیو ویڈیو نہیں چلائی جاسکتی ہے، اگر ایسی آڈیو ویڈیو کسی دشمن تک پہنچ جائے تو ملک کی کیا عزت رہے گی،اس وقت عدلیہ کو سب سے زیادہ کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس وقت تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز عدلیہ ہے، عوام کا ہجوم اب خود انصاف کرنے لگا ہے، کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے،کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ کمیشن کا قیام آرٹیکل 209کی بھی خلاف ورزی ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ افتحار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدراتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کے مس کنڈیکٹ کیا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جس ملک کا عدالتی نظام مضبوط ہوتا ہے وہاں حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، اگر ہم تماشائی بن کر بیٹھے رہے گے تو ریاستی ادارے تباہ ہو جائیں گے، کمیشن اپنے ٹی او آرز سے باہر نہیں جا سکتا ہے، یہ بھی دیکھنا ہو گا یہ آڈیوز ریکارڈ کس نے کی ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی میں کیا ہے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اپنی مرضی سے کیسے کیمشن کا حصہ بن سکتے ہیں،میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی تو کیا حکومت یا پیمرا نے اسے روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی بازپرس نہیں کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، عدلیہ کی آزادی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، آج ہی عبوری ریلیف اور سماعت پر حکمنامہ جاری کرینگے،سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے حکومت نے کمیشن جلد بازی میں بنایا،جلد بازی میں کیے گئے کام اکثر غلط ہو جاتے ہیں،آرٹیکل 209 کا معاملہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن کے آرڈر میں ذکر نہیں آڈیو کیسے ریکارڈ کی گئی کمیشن اپنے ٹی او آرز کا پابند ہے کمیشن نے پہلے اجلاس پر پورے پاکستان کو بزریعہ اشتہار نوٹس جاری کردیا، آڈیوز کو کس نے بنایا وہ کسی کو معلوم نہیں۔ معاملہ کے جائزہ کیلئےکمیشن کی کاروائی کو معطل کر دیا جائے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر کرنا ایگزیکٹیو کا اختیار ہے۔ جج سے متعلق معاملہ تو پہلے ہی جوڈیشل کونسل میں زیر التواء ہے۔ بظاہر یہ معاملہ اختیارت کی تقسیم کے آئینی اصول سے منافی ہے۔ جج کیخلاف انکوائری صرف جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • میرے قتل کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے،روپوش مراد سعید کا چیف جسٹس کو خط

    میرے قتل کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے،روپوش مراد سعید کا چیف جسٹس کو خط

    تحریک انصاف کے روپوش رہنما مراد سعید نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھاہے

    تحریک انصاف کے رہنماوں کی گرفتاریوں و نظر بندیوں کا سلسلہ جاری ہے،مراد سعید کو گرفتار کرنے پولیس کئی بار انکے گھر گئی تا ہم وہ گرفتار نہ ہو سکے، اب مراد سعید نے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا ہے جس میں مراد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت شہریوں کے بنیادی حقوق نہایت سنگین صورتحال اختیار کیے ہوئے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں،شہید ارشد شریف کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کینیا میں بے دردی سے قتل کیا گیا،چیف جسٹس اور دیگر اداروں کو اپنے خدشات سے برملا آگاہ کرنے کے باوجود ارشد شریف کی آواز نہیں سنی گئی،نتیجتاً پاکستان ایک محب وطن شہری اور صف اول کے تحقیقاتی صحافی سے محروم ہو گیا، میں اس خط کے توسط سے چند سنگین نوعیت کے خدشات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

    کیسوں کی تفصیلات آنے تک مراد سعید کی گرفتاری سے روکنے کا حکم

    گلگت میں چھپا ہوں، رانا ثنا سے ڈر لگتا ہے،مراد سعید

     مراد سعید نے بھی لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    مراد سعید کا خط میں کہنا تھا کہ مسجد نبوی واقعہ پر میرے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ میں اس وقت پاکستان میں موجود تھا،اس کے بعد سے جعلی اور بے بنیاد ایف آئی آرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا،ان مقدمات میں مجھ پر دہشت گردی سے لے کر بغاوت پر اکسانے جیسے الزامات لگائے گئے،یہ کیسز صرف اسلیے بنائے گئے کہ میں نے ملک میں آئین کی بالادستی ، امن کے قیام کیلئے آواز بلند کی سوات میں امن عامہ کی بگڑتی صورتحال پر ارباب اختیار کو متنبہ کرنے کی کوشش کی،امن کی بات کرنے پر مجھے اور میرے خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی گئیں،میرے گھر پر سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد نے حملہ کرنے کی کوشش کی جو میرے پہنچنے پر ریڈزون چلے گئے، اس معاملے پر بارہا کوششوں اور عدالتی احکامات کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کی، پشاور پولیس لائنز دھماکے کے بعد امن ریلی کے انعقاد پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں،ضمانت کے باوجود میری غیر موجودگی میں میرے گھر پر چھاپہ مار کر خواتین کو ہراساں کیا گیا عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونے اور ارشد شریف کے قاتلوں کی نشاندہی پر مجھ پر دہشت گردی اور بغاوت کے مقدمے بنائے گئے، اب میرے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، حال ہی میں متعدد صحافیوں نے اپنے ٹویٹس میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے قتل کی پیش گوئی کی،اس سے واضح ہے کہ میرے قتل کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس کی ذمہ داری پارٹی قیادت پر ڈالی جائے گی،اس صورتحال میں کسی عدالتی فورم پر کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتا،ریاست کے ماورائے آئین اقدامات سے میرا انصاف تک رسائی کا بنیادی حق معطل کر دیا گیا ہے،گزارش ہے کہ ان خدشات کے پیش نظر ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں،امید ہے کہ یہ خط نظر انداز کیے گئے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا