Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ایک کیس میں نیب پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: نیب کی جانب سے ملزم کے بینک اکاونٹس منجمند کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا …

    دوران سماعت چیف جسٹس کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 48 ہزار 674 روپے کے بینک اکاونٹ کے فریزنگ آرڈر درکار ہیں۔

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا مذاق ہے، نیب اس وقت اختیار کا غلط استعمال کر رہا ہے، نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے، نیب صرف 48 ہزار روہے کے پیچھے پڑا ہوا ہے، 48 کروڑ ہوتے تو بات بھی تھی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب فیٸر نہیں ہے، نیب کو ایسی درخواست داٸر نہیں کرنی چاہیے تھی عدالت کے برہمی ظاہر کرنے پر نیب نے درخواست واپس لے لی، اور سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا۔

  • ہمیں سزا سنانے والے 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں،نواز شریف

    ہمیں سزا سنانے والے 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں،نواز شریف

    لندن: سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے ریمارکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سزا سنانے والے 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : اپنی ٹوئٹ میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ بیٹے سے چند ہزار درہم تنخواہ نہ لینے پر مجھے نا اہل کروا کر جیل پھینک دیا گیا اور دوسری طرف ایک ثابت شدہ کرپٹ کو صادق اور امین بنا کر اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی توہین کی گئی۔
    ہمیں سزا سنانے والے، 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں کون کرے گا ایسے عدل کا احترام ؟-


    واضح رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کےبعد سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس نے عمران خان کو دیکھ کر کہا تھا ’ویلکم خان صاحب! گُڈٹو سی یو۔‘

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور وفاقی کابینہ نےبھی مذمت کی تھی بعدازاں چیف جسٹس نے وضاحت بھی دی تاہم انہیں ملکی سیاسی قیادت کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

  • نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    اسلام آباد: عدالت نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    باغی ٹی وی : نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجازالاحسن تین رکنی خصوصی بینچ کا حصہ تھے،وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آج آپ اتنی دور سے پیش ہوئے، جس پر وکیل نے کہاکہ گزشتہ روز کے حالات کے پیش نظر مجھے لگا کہ عدالت پہنچنا مشکل ہوگا آج کل تو سوشل میڈیا بھی نہیں کہ معلومات مل سکیں،چیف جسٹس نےکہاکہ دھیان سے بات کریں،عدالت میں جو بات کہیں گے وہ سوشل میڈیا پر گُڈ ٹو سی یو کی طرح سیاق و سباق کے بغیر پیش کی جائے گی-

    چیف جسٹس نے کہا کہ 46ویں سماعت ہے خواجہ حارث نے 26 اور مخدوم علی خان نے 19 سماعتوں پر دلائل دیئے اور بینچ چاہتا ہے اس کیس کو سمیٹا جائے،تحریری مواد دیکھنے کے بعد ضرورت ہوئی تو مزید سماعت کریں گے،اگر فراہم کردہ مواد پر عدالت کسی نتیجہ پر پہنچی تو فریقین کو آگاہ کر دیں گےمقدمہ کو مزید نہیں لٹکانا چاہتے، عدالتی چھٹیوں میں شاید بینچ بیک وقت یہاں دستیاب نہ ہو،نیب قانون میں بہت سی چیزیں درست ہیں، کچھ غلطیاں ہیں جن پر فیصلہ دیں گے۔

    اگر پی ٹی آئی کو پی ٹی وی حملہ کیس میں سزا مل جاتی تو …

    چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سے کہاکہ نیب ترامیم دیکھ کر بتائیں ان میں غلطی کیا ہے، نیب ترامیم میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کہاں ہوئی؟ خود سے یہ طے نہیں کر سکتے کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بنیادی حقوق متاثر ہو گئے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اپنے جواب میں مخدوم علی خان کے اعتراضات کا جواب بھی شامل کیجیے گا،خواجہ حارث نے کہا کہ حکومت نے نیب قانون میں تیسری ترمیم کی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت بھی تو ہمارا امتحان لیتی جا رہی ہے-

    وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیب قانون میں ریفرنسز واپس ہو کر متعلقہ فورم سے رجوع کرنے پر ترمیم کی چیف جسٹس نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کریں گے،عدالت نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    اب واٹس صارفین ا نتہائی نوعیت کی ذاتی چیٹس محفوظ کر سکیں گے

  • چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی گُڈ ٹو سی یو جملے پر وضاحت پر ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پو مرم نواز نے کہا کہ ربوں کے ڈاکے ڈالنے والے کتنے مجرموں کو آپ گڈ ٹو سی یو کہتے ہیں؟ ہر ایک کو ریجسٹرار سے فون کروا کر مرسیڈیز بھی منگوا کر رخصت کرتے ہیں؟ ہر ایک کو جیل سے ریسٹ ہاؤس بھی شفٹ کرتے ہیں؟ –

    میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس


    انہوں نے مزید کہا کہ سب پر اسی طرح ریمانڈ میں ضمانتوں کی برسات کرتے ہیں؟ سب کو کہتے ہیں دس فیملی میمبرز کو بلائیں، گپیں لگائیں اور سو جائیں؟-

    قبل ازیں مریم نواز نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمر عطا بندیال صاحب! سپریم کورٹ کی اس سفید سنگ مر مر کی عمارت کو آپ نے اپنی ایمانداری سے نہیں بلکہ عمرانداری سے داغدار کرنے کی کوشش کی ہے ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ عمرعطا بندیال کا لاڈلہ عمران خان تھا.تنصیات پر حملوں کے ہیچھے چھ ماہ کی پلاننگ ہے-

    پی ٹی آئی کا کورکمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے پر ردعمل

    انہوں نے کہا کہ آج جب پاکستان کی افواج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے تو جوڈیشل مارشل لاء بھی یہاں سے لگا ہے.چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں اب تو یہ کمبخت مارشل لاء بھی نہیں لگاتے،پنجاب اسمبلی تڑوانے کا پوشیدہ کردار عمر عطا بندیال تھا-

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سول مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے وکیل اصغر سبزواری سے مکالمہ کیا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، کافی وقت بعد آپ میری عدالت آئے، مجھے ’گڈ ٹو سی یو‘ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، میں ہر ایک کو احترام دیتا ہوں، ادب و اخلاق تو سب کے لیے ضروری ہے،ادب و اخلاق کے بغیر مزہ نہیں۔

    9 مئی کے یوم سیاہ اور15 مئی کے عوامی احتجاج میں فرق پوری دنیا نے …

  • میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس

    میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ’گڈ ٹو سی یو‘ میں ہر کسی کو کہتا ہوں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں سول مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے وکیل اصغر سبزواری سے مکالمہ کیا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، کافی وقت بعد آپ میری عدالت آئے۔

    فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ’گڈ ٹو سی یو‘ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، میں ہر ایک کو احترام دیتا ہوں، ادب و اخلاق تو سب کے لیے ضروری ہے،ادب و اخلاق کے بغیر مزہ نہیں۔

    واضح رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کےبعد سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس نے عمران خان کو دیکھ کر کہا تھا ’ویلکم خان صاحب! ’گڈ ٹو سی یو‘-

    عمران خان کی دو مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا،وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارات کابینہ اجلاس میں چیف جسٹس کے ان ریمارکس سمیت دیگر کلمات کی شدید مذمت کی گئی تھی عدل کی اعلیٰ ترین کرسی پر بیٹھے شخص کا یہ کہنا عدل کے ماتھے پر شرمناک دھبہ ہے اسلام، مہذب دنیا اور عدالتی فورمز کی تاریخ گواہ ہے یہ طرز عمل منصف کا نہیں ہو سکتا۔

    علی زیدی کی رہائش گاہ سب جیل قرار

  • مشکلات میں ردعمل نہیں صبر کیا جاتا ہے، چیف جسٹس

    مشکلات میں ردعمل نہیں صبر کیا جاتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے حکم کے 4 اپریل کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوگیا

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں3 رکنی خصوصی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر 3 رکنی بینچ کا حصہ ہیں ،الیکشن کمیشن نے 14مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینےکا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں ،سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیتے ہیں اس کیس میں صوبوں کو نوٹس جاری کریں گے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ایڈوو کیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، آپ دلائل میں کتنا وقت لیں گے؟ وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مجھے دو سے 3 دن درکار ہوں گے ، پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے ان کا کہنا تھا کہ آئین کا قتل کردیا گیا ہے ملکی آبادی کا 10 کروڑ حصہ نمائندگی سے محروم ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں انتخابات کا وقت ابھی ہے پریشان کن ہے کہ جس طرح سیاسی طاقت استعمال ہو رہی ہے باہر دیکھیں کیا ماحول ہے، دو اہم چیزیں فنڈزاورسکیورٹی کی تھیں آج آپ نے درخواست میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیارکا پنڈورا باکس کھولا ہے یہ آپ کے مرکزی کیس میں موقف نہیں تھا سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی اور کو بات کرنا چاہیے ، وفاقی حکومت کو ان معاملات پرعدالت آنا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں آئے، نظرثانی کا آپشن آپ کے پاس تھا جو آپ نے استعمال کیا، ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، باہر دیکھیں انسٹالیشنز کو آگ لگائی جا رہی ہے، اللہ تعالی مشکل وقت میں صبر کی تلقین کرتا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات میں ردعمل نہیں صبر کیا جاتا ہے، اس وقت صورتحال بہت تناؤ کا شکار ہے،میں نے لوگوں کی گولیوں سے زخمی تصاویر دیکھی ہیں،وفاقی حکومت بے بس نظر آتی ہے، لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ ضروری ہے،انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں،ایگزیکٹو اور اپوزیشن اخلاقیات کا اعلیٰ معیار برقرار رکھیں،پریشان ہین کہ جس طرح سیاسی طاقت استعمال ہو رہی ہے ملکی اثاثوں املاک کو جلایا جا رہا ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے تلخی بڑھائی جا رہی ہے، اخلاقی برتری کے لئے کہتا ہوں کہ دونوں بہتر اقدار تلاش کریں،جس طرح کے واقعات سن رہا ہوں، تشویشناک ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوے دن کا مطلب نوے دن ہیں، 14 مئی کو الیکشن ہونے چاہئے تھے، 14 مئی کا حکم تھا تو 14 مئی کو ہی اس پر عمل ہونا تھا،عدالت نے کیس کی سماعت اگلے منگل تک کے لئے ملتوی کر دی،

    سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات شفاف، غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق کرائے جائیں، وفاقی حکومت 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپےکا فنڈ جاری کرے، الیکشن کمیشن 11 اپریل کو سپریم کورٹ میں فنڈ مہیا کرنےکی رپورٹ جمع کرائے الیکشن کمیشن فنڈ کی رپورٹ بینچ ممبران کو چیمبر میں جمع کرائے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    وزیراعظم شہباز شریف کور کمانڈر ہاؤس لاہور پہنچ گئے

  • عمران خان اپنے پسندیدہ چیف جسٹس کی چھتری کے نیچے چھپ نہیں سکیں گے،احسن اقبال

    عمران خان اپنے پسندیدہ چیف جسٹس کی چھتری کے نیچے چھپ نہیں سکیں گے،احسن اقبال

    اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے پسندیدہ چیف جسٹس کی چھتری کے نیچے چھپ نہیں سکیں گے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران نیازی دوسروں سے رسیدیں مانگتے تھے، اپنی رسیدیں دینے کی باری آئی تو آپ رونےلگ گئے، ان کے درجنوں اکاؤنٹ پکڑے جا چکے ہیں عمران خان بیرون ممالک سے چندہ اکٹھا کرکے سیاست چلاتے تھے-

    باجوڑ میں بھی پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی کا انعقاد

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ منی لانڈرنگ کے تحت ضبط ہوا، منی لانڈرنگ کے ذریعے آنے والی رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی گئی، آپ نے فنانشنل ٹائمز کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ کیوں نہیں کیا، آپ اگر قانونی چارہ جوئی کرتے تو آپ کی چوری برطانیہ میں بھی پکڑی جاتی اب آپ عدالتوں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، آپ اپنےپسندیدہ چیف جسٹس کی چھتری کے نیچے چھپ نہیں سکیں گے۔

    بیفیم چیمپئن شپ 2023 لاہور میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پاکستان کے اتحاد اور یکجہتی کو پارہ پارہ کیا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے بعد پی ٹی آئی دوسری جماعت ہے جس نے اسکولوں کوجلایا، عمران خان کے ذریعے معیشت اور سی پیک کو تباہ کیا گیا کہتے ہیں میں گرفتارہوگیانہیں پتا پیچھے کیا ہوا، جب کہ آپ کی گرفتاری کے بعد مراد سعید نے کہا تمام کارکن اپنا ٹاسک پورا کریں، ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا یہ ٹارگٹ آپ نے دیا تھا عمران خان کو گھناؤنا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملوث 4 خواتین سمیت14 شر پسندوں کی شناخت ہو گئی

  • شرجیل میمن نے چیف جسٹس کوکھلا چیلنج کردیا

    شرجیل میمن نے چیف جسٹس کوکھلا چیلنج کردیا

    سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ملک میں دو قانون چل رہے ہیں، آئين بنانے والے کو پھانسی اور جھوٹے شخص کو اتنی رعایتيں-

    باغی ٹی وی: کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ ملک میں دو قانون چل رہے ہیں، آئين بنانے والے کو پھانسی اور جھوٹے شخص کو اتنی رعایتيں، سوال تو اٹھیں گےگذشتہ دو دن آئینی و قانونی لحاظ سے سیاہ ترین دن تھے لوگ پریشان ہیں کہ کس پر اعتبار کریں، سب کے لیے یکساں حقوق کی بات دفن ہوگئی ہے، ہماری لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیاعدالتوں کی طرف سے جس پراب پیپلز پار ٹی کے ورکرز میں شدید غم و غصہ موجود ہے۔

    کراچی سے تحریک انصاف کو خدا حافظ کہہ دیا ،ملک سے جلد ان سیاسی …

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نہیں،اگر بندیال بلائيں گے تو نہیں جاؤں گا، کرلو جو کرنا ہےاس پریس کانفرنس پر بھی اگر توہین عدالت کا نوٹس ہوگا تو نہیں جاؤں گا کیوں کہ آپ اپنی اخلاقی و قانونی اتھارٹی کھوچکے ہيں، قوم کااعتماد اٹھ چکاہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ عمران خان نے دھمکی دی کہ انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو ٹرینیں بسیں جلیں گی، تعلیمی نظام متاثرہوگا کاروبار بند ہوگاعمران خان اسرائیل اور بھارت سے مل کر سوشل میڈیا پر حاوی ہوا اگر غیرت ہے تو بتائے اس قادر ٹرسٹ کی تاریخ کیا ہےشوکت خانم اور توشہ خانہ کی حقیقت بتائے۔

    نادرا نے جنسی مجرموں کی قومی رجسٹری کا اجرا کر دیا

    دوسری جانب کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں کامران ٹیسوری نے کہا کہ ہمارا اس وقت ملک میں فتنے سے مقابلہ ہے، فتنے سے جان چھڑانے پر بھی غور و فکر کیا جائے گاعمران خان نے افواج پاکستان کو نشانہ بنایا کیونکہ ایجنٹ کا کام ہی یہ ہے، پی ٹی آئی چیئرمین پاکستان کےلیے سیکورٹی رسک بن چکا ہے۔

    گورنر سندھ نے مزید کہا کہ عمران خان سی پیک کو مکمل ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے، اُن کے دور میں منصوبے پر کام رکا ہوا تھا عمران نے کل عدالت میں بیٹھ کر بھی آرمی چیف کےخلاف بات کی، اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو عمران خان پر پابندی لگنی چاہیے جو کچھ عمران خان کے کارکنوں نے کیا، اس طرح کراچی میں ہوتا تو سب پھانسی چڑھتے۔

    نیب حراست میں بھی عمران خان ان سے رابطے میں تھے،بابر اعوان

    انہوں نے کہا کہ کل رات 9 بجے استحکام پاکستان کےلیے دعا کا انعقاد کیا گیا ہے، 21 مئی کو افواج پاکستان اور قائداعظم سے اظہاریکجہتی کےلیے اجتماع ہوگامردم شماری ہماری ریڈلائن ہے، کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ دکھائی گئی تو میں مستعفی ہوجاؤں گا روزمرہ کی بنیاد پر مردم شماری کو دیکھ رہا ہوں، میں خالد مقبول سے بھی مسلسل رابطے میں ہوں چھوٹےصوبوں میں احساس کمتری جنم لے رہا ہے۔

  • سرکاری عمارتیں جلانےکی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں،عمران خان

    سرکاری عمارتیں جلانےکی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں،عمران خان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اپنی سربراہی میں سرکاری عمارتیں جلانے کی عدالتی تحقیقات کروائیں۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں اپنے کارکنان اور قوم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میرا فلسفہ نہیں ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ نواز شریف نے عدلیہ پر ڈنڈوں سےحملہ کیاہم نے 27 سال کی سیاسی تاریخ میں کوئی انتشار کی بات کی اور نہ ہی کبھی اس پر عمل کیا اور میں نے ہمیشہ انتشار سے بچنے کی تاکید کی اللہ کا شکر ہے کہ عدلیہ نے مجھے انصاف دیا، جمہوریت کے خلاف واردات کرنے والوں کو بھی عدلیہ نے ہی روک رکھا ہے-

    پی ڈی ایم کا دھرنا کا فیصلہ،سپریم کورٹ بار کا سپریم کورٹ سے بھرپور یکجہتی …

    انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ قوم سے کہنا چاہتا ہوں اپنی عدلیہ اور آئین کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوجائیں، یہ مافیا اپنے ذاتی مفاد کے لیے یہ سب کچھ کررہا ہے، عدلیہ نے انہیں روک کر رکھا ہوا ہے اور اب یہ اسی عدلیہ پر واردات کر رہے ہیں آہستہ آہستہ چیزیں سامنے آرہی ہیں، مجھے ایسے گرفتار کیا گیا جیسے کوئی دہشت گرد ہوں، اسلام آباد جانے سے پہلے ہی مجھے گرفتاری کا علم ہوگیا تھا، میری گرفتاری کے بعد پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، بچوں اور خواتین کو مارا، ظل شاہ کو انہوں نے تشدد کر کے قتل کیا۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کے ساتھ بدسلوکی کو دنیا نے دیکھا، القادر ٹرسٹ سے میری ذات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،نیب اس کیس میں میرا مفاد بتا نہیں پارہی سرکاری عمارتیں جلانےکی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں، چیف جسٹس اپنی سربراہی میں تحقیقات کرائیں کیونکہ لبرٹی میں نامعلوم افراد لوگوں کو اشتعال دلا رہے تھے۔

    پاک افواج تنصیبات کے تقدس کی خلاف ورزی کی مزیدکسی کوشش کوبرداشت نہیں کریں گی،آرمی …

    عمران خان نے کہا کہ مجھے جو گولیاں لگیں اس کے اندر جو ’فنکار جو اداکار اس کے اندر تھے مجھے سب کے نام پتا ہیں، اوپر سے لے کر نیچے تک، جتنے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ایک کا نام جو میں لیتا ہوں اس سے بھی اوپر کا مجھے پتا ہے، گو اہیڈ، گرین لائٹ کس نے دی تھی، کون اوپر دولوگ تھے جنہوں نے اس آدمی کو گرین لائٹ دی تھی، اور پھر ان کے ساتھ وہ جو سولین ملے ہوئے تھے وہ رانا ثناء اللہ اور وہ شہباز شریف‘۔

    عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے جب دو تہائی اکثریت لے لی تو اس نے دیکھا کہ اس کے راستےمیں ایک ایماندار دیانتدار چیف جسٹس تھا، تو اس نے اس کو گوارہ نہیں کیا اس نے حملہ کیا سپریم کورٹ پر دنیا میں کبھی ایسے مناظر رونما نہیں ہوئے کہ ڈنڈے مار کر اس چیف جسٹس کو بھگایا گیا۔ پھر پیسے چلائے، بریف کیس چلائے، جو مافیا کرتا ہے، پیسے خرچ کرتا ہے یا ختم کرتا ہے اس نے آزاد عدلیہ کو تباہ کیا اور جب آزاد عدلیہ جاتی ہے تو اس ملک میں آپ کی آزادی چلی جاتی ہے۔

    ہم کراچی کا مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دیں گے ،حافظ نعیم الرحمان

    عمران خان نے کہا کہ میں سب چیزوں کے اوپر انکوائری چاہتا ہوں لیکن ان سے نہیں چاہتا،میں چاہتا ہوں کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آپ اپنے نیچے کوئی پینل بنائیں انڈیپنڈنٹ‘۔ کیونکہ مجھے پتا تھا کہ جنہوں نے مجھے گولیاں ماری ہیں وہ تحقیقات نہیں ہونےدیں گے، یہ آج بھی نہیں ہونے دیں گے، اس لئے ازاد تحقیقات کریں۔ کیونکہ اس میں مجھے جو بڑی بڑی چیزیں پتا چلی ہیں وہ قوم کو بھی پتا چلیں۔

    سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں نے توڑ پھوڑ کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کی تو ان سے لڑائی کی، شاہ فرمان نے روکا تو اس سے لڑائی کی، شوکت یوسفزئی نے روکنے کی کوشش کی تو اس کے کپڑے پھاڑ دئیے عمران ریاض خان کو اٹھا کر غائب کردیا گیا، مجھے خدشہ ہے اس کے اوپر بھی یہ تشدد کریں گے، وہ ملک چھوڑ کر جارہا تھا اسے خطرہ تھا کہ اس کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو ارشد شریف کے ساتھ ہوا۔

    ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    اپنے خطاب کے آخر میں عمران خان نے ایک بار پھر چیف جسٹس اور عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے عوام کو اتوار کو گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئین ، عدلیہ اور اپنے بچوں کی آزادی کیلئے کل باہر نکلیں اس بدھ سے میں دوبارہ مریدکے سے اپنے جلسوں کی مہم شروع کروں گا۔

  • عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے،ایک سال سے ان لوگوں کی ٹریننگ کررہا تھا،راناثناءاللہ

    عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے،ایک سال سے ان لوگوں کی ٹریننگ کررہا تھا،راناثناءاللہ

    اسلام آباد: وزیر داخلہ راناثناء اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے، اس فتنے نے ملک کو نقصان پہنچایا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اس فتنے نے ایک کلٹ تیار کیا ہے، اس نے اپنی جماعت میں نفرت و عناد، جلاؤ گھیراؤ، اوئے توئے کا کلچر، کسی کو نہیں چھوڑوں گا کا کلچر متعارف کرایا۔

    کاش عمران خان جیسا ریلیف ہمیں بھی ملتا،خواجہ آصف

    وزیردخلہ نے کہا کہ یہ احتجاج کسی سیاسی کارکنوں کانہیں تھا،سیاسی مخالفین کے گھروں پر حملے کرنا پاکستانی کلچر نہیں ہےپیپلزپارٹی اور ن لیگ نے کبھی ایک دوسرے کے گھروں پرحملے نہیں کیےمخالفین کے گھروں پر حملے کا کلچر تحریک انصاف نے شروع کیا،تحریک انصاف کے لوگوں نے پہلے لوٹ مار شروع کی پھر آگ لگائی

    انہوں نے کہا کہ شہداء کی یادگاروں کو آگ لگانے میں کون سی سیاست ہے، دفاعی تنصیبات کا آگ لگانا ہمارا کلچر نہیں، کون سا سیاسی ورکر ایمبولینس اور اسکولوں کو آگ لگا سکتا ہے پشاور میں مویشی منڈی کو لوٹا گیا اور جانوروں کو آگ لگا دی، ایسا کون کرتا ہے؟، ہم کہتے رہے یہ سیاسی لیڈر نہیں فتنہ ہے عمران خان کا کام ملک میں افراتفری پھیلاناہےعمران خان ایک فتنہ ہےتین دن ملک میں فتنہ فساد، حساس تنصیبات کے اوپر حملے کیے گئے-

    رانا ثناءاللہ نے کچھ اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار پوری ذمہ داری سے دے رہا ہوں مئی کو آئی سی ٹی (اسلام آباد) میں 12 جگہوں پر مظاہرے ہوئے، ان مظاہروں میں 700 تک افراد شریک تھے،پنجاب میں 9 مئی کو 221 جگہوں پر مظاہرے ہوئے، پورے پنجاب میں 18 ہزار تک لوگ ان مظاہروں میں شریک ہوئے، کے پی کے میں 126 مقامات پر مظاہرے ہوئے، ان میں 22 ہزار تک مظہرین شریک تھے-

    عمران خان رہا، پارٹی رہنما جیلوں میں، خواتین رہنماؤں کو رہا کرنیکا حکم

    انہوں نے کہا کہ 11 مئی کو آئی سی ٹی میں 4 جگہ، پنجاب میں 12 اور کے پی میں 39 جگہ پر احتجاج ہوا، ان مظاہروں میں 7 سے 8 ہزار کے قریب افراد تھے 9 مئی کو پورے پاکستان میں 45 ہزار لوگ باہر نکلے، 10 مئی کوان کی تعداد میں کمی ہوئی، 23 کروڑلوگوں میں سے 40 سے 45 ہزار لوگ احتجاج کے لیے باہر آئے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان ایک سال سے ان لوگوں کی ٹریننگ کررہا تھا، ان کو پیٹرول بم بنانے کے طریقے سمجھائے جارہے تھے، ہر جگہ پر ایک ہی طرز کی غلیلیں ہیں، مخصوص غلیلوں میں بنٹے ڈال کرپھینکیں توشدید زخم آتا ہےجن لوگوں نے حملے کیے ان کے گھر یہاں نہیں ہیں ؟-

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قوم کے 60ارب روپے لوٹے جس کے دستاویزاتی ثبوت موجود ہیں ، وہ کہہ بھی نہیں سکتا کہ میں نے نہیں لوٹے خزانے میں پیسے جمع کرانے کے بجائے ایک ٹائیکون کو دے دیئے، اس کے بدلے 6 سے 7 ارب کی پراپرٹی لی، دو ارب ان کا فرنٹ مین شہزاد اکبر لے اڑا، اب وہ موج میلہ کررہا ہے۔عمران خان سے پوچھنا ہے یہ کونسی سیاست ہے یہ باقاعدہ کہتا رہا اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو اس طرح ردعمل کرنا ہے ۔

    سلمان خان کو دھمکی آمیزای میل کرنے والا کون ہے پولیس نے پتہ لگا لیا

    انہوں نے مزید کہا کہ دکانوں، منڈیوں، اسلحہ کی دکان کو لوٹا گیا، کئی مقامات پربینکوں کر لوٹنے کی کوشش کی گئی،جناح ہاؤس لاہور سے کپڑے تک لوٹے گئے، جو ہاتھ لگا لوٹ لیا گیا، لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی گئی۔

    وزیرِ داخلہ نے کہا کہ جب ملزم سامنے آتا ہے تو چیف جسٹس کہتے ہیں ویلکم ،اتنا ریلیف تو پاکستان کی آئینی تاریخ میں کسی کو نہیں ملا، سرکاری رہائش گاہ پر مہمان بنانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں، اس کی مرضی کے مہمان بلانے کا بھی انتظام کیا جاتا ہے، جب چیف جسٹس خوش آمدید کرے اور جاتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کرے، اس کے بعد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس کی کیا مجال ہوتیَ-

    وزیرداخلہ نے کہا کہ انہوں نے وہاں (عدالت میں) جو مانگا انہیں دیا گیا، شکر ہے کہ انہوں نے اپنی ضمانت پر ہی اکتفا کیا ہے، کہا گیا کہ جن مقدمات کا معلوم بھی نہیں ان میں بھی ضمانت دے دیں قوم کو اس فتنے کو ووٹ کی طاقت سے نکالنا ہوگا۔

    حریم شاہ کی رانا ثنا اللہ کو دھمکی،انٹر نیٹ بحال،عوام ٹک ٹاکر کی مشکور

    ان کا کہنا تھا کہ ویلکم کیا تو ہمیں اندازہ ہوگیا تھاکہ کیا ہوگا، بلینکٹ ریلیف کے بعد بھی ہم نے کہا کہ آپ کی سیکیورٹی ہمارے ذمہ ہے توہین عدالت لگتی ہے تو دیکھ لیں گے۔ بلاول نے کہا کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی پالیسی کوہم اچھا نہیں سمجھتے، لیکن اگر ان کا رویہ اور طریقہ یہی رہا تو میں افسوس سے کہتا ہوں کہ پھر ہمیں اس پر مجبور ہونا پڑے گا شرپسندوں کامحاسبہ کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔