Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • گڈ لک ود یور 60 بلین روپیز، نواز شریف کا چیف جسٹس پر طنز

    گڈ لک ود یور 60 بلین روپیز، نواز شریف کا چیف جسٹس پر طنز

    سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کے سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق ریمارکس پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ویلکم خان صاحب! آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔‘

    کابینہ اجلاس میں آج چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے عمران خان کیلئے ’آپ کو دیکھ کرخوشی ہوئی‘ سمیت دیگرکلمات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ لہذا اب نواز شریف نے بھی چیف جسٹس عمر عطابندیال کے سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق ریمارکس پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    نجی ٹی وی کے مطابق لندن میں میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھاکہ چیف جسٹس نے عمران خان کو یہ تو کہا کہ آپ کودیکھ کرخوشی ہوئی، یہ بھی کہہ دیتےکہ آپ 60 ارب روپے لوٹ کرآئے ہیں،آپ سے مل کربڑی خوشی ہوئی۔ صحافی کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’گڈ لک ود یور 60 بلین روپیز‘۔

  • چیف جسٹس ایک دہشت گرد کے سہولت کار بننے کے بعد اپنا وقار کھو بیٹھے. مریم نواز شریف

    چیف جسٹس ایک دہشت گرد کے سہولت کار بننے کے بعد اپنا وقار کھو بیٹھے. مریم نواز شریف

    مسلم لیگ نواز کی سینئر نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمران خان کی سیاست کے لئے اپنی کرسی استعمال کررہے ہیں، اب آپ سیاسی ردعمل کے لئے تیار رہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں مسلم لیگ ن کی چیف آگنائزر مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس ہونے کا مطلب ریاست کو اس شخص کی غلامی میں دینا نہیں جس نے اپنے پالتو غنڈوں کے ذریعے قومی وقار اور ملکی دفاع کی ہر علامت کو جلا کر راکھ کردیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایسے شخص کو کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکنا ، اسے شاہی مہمان بنا کر رکھنا ، اس کے نخرے اٹھانا ہر پاکستانی کے علاوہ ان شہیدوں اور غازیوں کی توہین ہے جن کی ہر نشانی پر حملہ کیا گیا۔

    لیگی رہنما نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ آپ اب عدلیہ ہی نہیں آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، ملکی تقدیر سے کھیلنے والے ایک دہشتگرد کے سہولت کار بننے کے بعد آپ اپنا وقار کھو چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    مریم نواز نے مزید کہا کہ چیف جسٹس اپنی کرسی کو عمران کی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اب سیاسی رد عمل کے لیے تیار رہیں۔ جبکہ نواز لیگ کی سینئر نائب صدر کا کہنا تھا کہ فتنہ گرفتاری کے ڈر سے عدالت میں چھپا بیٹھا ہے، اگر عدالت سے گرفتار کرنا غلط ہے تو کیا ایک مجرم کو عدالت کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے؟ اس دہرے معیار پر شرم آتی ہے۔

  • دوبارہ گرفتاری کا ڈر، عمران خان نے لیگل ٹیم سے کیا رابطہ

    دوبارہ گرفتاری کا ڈر، عمران خان نے لیگل ٹیم سے کیا رابطہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا ہے

    عمران خان عدالت میں موجود ہیں،عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو پھر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑیں گے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے دوبارہ گرفتاری کے حوالہ سے اپنی لیگل ٹیم سے رابطہ کیا ہے، عمران خان نے حامد خان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور کہا ہے کہ پنجاب پولیس مجھے گرفتار کرنے کیلئے باہر کھڑی ہے میں آپ کو تمام صورتحال سے آگاہ کررہا ہوں مجھے ڈر ہے اگر ایسا ہوا تو پھر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑیں گے ،

    عمران خان سے صحافیوں نے بھی سوال کئے، کئی سوالات پر عمران خان خاموش رہے، صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ‏ملک میں آئین اورقانون کی بالادستی چاہتا ہوں جن لوگوں کی جانیں گئیں وہ ہمارے لوگ ہیں ‏چیف جسٹس سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے، پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہوں مجھے اغواء کیا گیا۔ ‏مجھے اِیسے پکڑا گیا تھا جیسے میں دہشتگرد ہوں،مجھے گرفتاری کے وقت سر پر ڈنڈا مارا گیا جو کچھ ہوا میں کیسے روک سکتا تھا؟ میں نے پہلے بتایا تھا ری ایکشن آئے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ‏اگر وارنٹ گرفتاری ہے تو دکھائیں گرفتاری دے دوں گا، نیب کا حراست کے بعد میرے ساتھ رویہ اچھا تھا۔ ‏جب مجھے اندر ڈال دیا گیا تو میں کیسے ذمہ دار ہو سکتا ہوں؟ میں نے سپریم کورٹ کے سامنے کہا جو ہوا ٹھیک نہیں ہوا یہ ملک میرا ہے یہ عوام میری ہے۔اسلام آباد ‏ہائیکورٹ میں مجھے مارا گیا، یہ میرا ملک، میری فوج اور میری عوام ہے، کسی صورت پاکستان سے باہر نہیں جاؤں گا۔

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کی ماورائے قانون و عدالت گرفتاری کی تیاریوں کی مصدقہ اطلاعات ہیں، جس پر پاکستان تحریک انصاف نے ملک گیر پرامن احتجاج کی کال دے دی ریجنل، ضلعی اور مقامی ذمہ داران کو ہدایات جاری کر دی گئیں، کہا گیا کہ داخلی امن برباد کرنے اور قانون کی بجائے دھونس اور طاقت سے معاملات چلانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد کارکنان ملک گیر پرامن احتجاج کیلئے نکلیں،لاقانونیت اور پولیس گردی کے ذریعے انصاف کا بہیمانہ قتل کسی صورت گوارا نہیں کیا جاسکتا،قاتلانہ حملے اور موت کے پھندے میں پھانسنے کے بعد چیئرمین عمران خان کی زندگی سے مسلسل کھیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں عمران خان کی جانب سے ان کے قتل کی سازش میں ملوث تینوں کردار متحرک اور ریاستی مشینری کو استعمال کررہے ہیں،مکمل طور پر پرامن رہیں گے مگر عمران خان کو بدترین ریاستی انتقام کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے،مرکزی قائدین کی بلاجواز گرفتاریوں کے ساتھ ملک بھر میں بدترین کریک ڈاؤن ناقابلِ قبول، نہایت قابلِ مذمت ہے،کارکنان عوام کو متحرک کریں اور ملک بھر میں ضلعی اور مقامی ہیڈکوارٹرز پر بھرپور پرامن احتجاج کریں، قانون کی حکمرانی کی طرف لوٹنے اور بدمعاشی ترک کرنے کے علاوہ حکومت کیلئے کوئی رستہ نہیں چھوڑیں گے

  • پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست میں کی گئی استدعا اچھے الفاظ میں نہیں لیکن عدالت کو سمجھ آ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ کا حصہ تھے۔

    جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    سپریم کورٹ نےگزشتہ سماعت میں تمام فریقین کو تحریری جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، عدالت نے اٹارنی جنرل سے پارلیمنٹ کی کارروائی اور قائمہ کمیٹیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر رکھا تھا۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کیلئے متفرق درخواست دائر کی ہے ن لیگ نے بھی فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالت کو درخواست دے دی۔ جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ن لیگی وکیل صلاح الدین احمد سے کہا کہ آپ کی درخواست پر تو ابھی نمبر بھی نہیں لگا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ نے پارلیمانی کارروائی کی دستاویزات جمع کروا دی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ امید ہے کل تک پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ مل جائے گا۔ اسپیکر آفس سے باضابطہ اور غیر رسمی طور پر بھی رابطہ کیا ہے۔

    اوچ شریف :کھیتوں سے ایک شخص کی لاش برآمد

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قراردے چکی ہےکہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہےقانون میں بینچوں کی تشکیل اور اپیلوں کا معاملہ طے کیا گیا ہے۔ عدالتی اصلاحات بل میں وکیل کی تبدیلی کا بھی حق دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے رولز فل کورٹ نے تشکیل دیے تھےسپریم کورٹ رولز میں ترمیم بھی فل کورٹ ہی کرسکتی ہےعدلیہ کی آزادی اور رولز سے فیصلہ و مقدمہ بھی فل کورٹ کو سننا چاہیے۔ قانون براہ راست ان ججز پر بھی لاگو ہو گا جو مقدمہ نہیں سن رہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال قانون سازی کے اختیارات کا ہے رولز میں ترمیم کا نہیں۔ قانون سازی کے اختیار کے مقدمات مختلف بینچز معمول میں سنتے رہتے ہیں –

    جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی ہوئی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1992 تک رولز بنانے کیلئے صدر کی اجازت درکار تھی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ آرٹیکل 91 کے ہوتے ہوئے ایسی قانون سازی کیسے ہو سکتی ہے؟-

    اٹارنی جنرل نےکہا کہ صدر کی اجازت کا اختیار واپس لے لیا گیا تھا 1973 تک رولز بنانے کے لیے صدرکی اجازت درکار تھی۔رولز آئین و قانون کے مطابق بنانے کی شق برقرار رکھی گئی ماضی میں کبھی ایسا مقدمہ نہیں آیا اس لیے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    مذاکرات تحریک انصاف نے سبوتاژ کئے ہیں. قمرزمان کائرہ

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 191 کے ہوتے ہوئے ایسی قانون سازی کیسے ہوسکتی ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اس لیے فل کورٹ سنے،اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ماضی میں کبھی ایسا مقدمہ نہیں آیا اس لیے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ ہم ہر وقت معمول کے مطابق اپنی نوعیت کے پہلے کیسز سنتے رہتے ہیں سپریم کورٹ کا کوئی بھی بینچ کوئی بھی مقدمہ سن سکتا ہےکیا حکومت فل کورٹ کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے؟ کیا حکومت چاہتی ہے کہ عدالت کی اندرونی بحث باہر آئے؟ ہر مقدمہ اہم ہوتا ہے یہ یقین کیسے ہوگا کہ کونسا کیس فل کورٹ سنے؟ عدلیہ کی آزادی کا ہر مقدمہ فل کورٹ نے سنا تھا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ افتخار چودھری کیس سمیت کئی مقدمات فل کورٹ نے سنے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 1996 سے عدلیہ کی آزادی کے مقدمات سنے جارہے ہیں، بظاہر یہ آپ کا مقدمہ نہیں لگتا کہ فل کورٹ بنائی جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے تمام مقدمات فل کورٹ نے نہیں سنے۔

    سیالکوٹ :مراد پور پولیس کی کاروائی،شمعون گینگ کے چار ڈکیت گرفتار

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ آپ کی منطق سمجھ سے باہر ہے فل کورٹ کا فیصلہ اچھا اور تین رکنی بینچ کا برا ہو گا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فل کورٹ کا جواب خود پارلیمنٹ نے اپنے بنائے گئے قانون میں دے دیا ہے۔ عدالتی اصلاحات بل کے مطابق پانچ رکنی بینچ آئین کی تشریح کا مقدمہ سنے گا۔ یا تو آپ کہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون غلط بنایا ہے جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ کیا آپ کا مدعا یہ ہےکہ رولز فل کورٹ نے بنائے تو تشریح بھی وہی کرے؟

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کا جواب خود پارلیمنٹ نے اپنے بنائےگئے قانون میں دے دیا ہے، عدالتی اصلاحات بل کے سیکشن4 کے مطابق کمیٹی کا بنایا گیا 5 رکنی بینچ آئین کی تشریح کا مقدمہ سنےگا، جب پارلیمنٹ خود اپنے ایکٹ میں5 رکنی بینچ کہہ رہی ہے تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون غلط بنایا ہے؟

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت نے قانون پر عمل درآمد سے روک رکھا ہے۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر حکم امتناع نہ ہوتا تو فل کورٹ کی استدعا کہا جاتی؟پارلیمنٹ کہتی ہے کہ پانچ رکنی بینچ ہو اٹارنی جنرل کہتے ہے فل کورٹ ہو۔ لگتا ہے حکومت کی گنتی کمزور پڑگئی ہے کہ یہاں کتنے ججز بیٹھے ہیں۔

    پرویز الٰہی جھوٹ بولنے سے پرہیز کریں تو بہتر ہوگا. نگران وزیر اطلاعات پنجاب

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کی استدعا کیس کی مناسبت سے کی جاسکتی ہے، قانون میں کم سےکم 5 ججزکا لکھا ہے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ 5 ججز سے مطمئن ہے تو اٹارنی جنرل یا کابینہ کیوں نہیں؟

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین کےخلاف درخواستیں عدالت معمول میں سنتی ہے، ہائی کورٹس بھی قوانین کے خلاف درخواستیں سنتی ہیں، کیا ہائی کورٹ میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی گئی؟

    جسٹس مظاہرعلی کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ نہیں ہے، 2012 میں بھی اس نوعیت کا مقدمہ سنا جاچکا ہے، فل کورٹ کی درخواست میں لکھا ہےکہ بینچ حکم امتناع میں اپنا موقف دے چکا ہے جسٹس منیب اختر نےکہا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں فل کورٹ میں60 اور سندھ ہائی کورٹ میں 40 ججز سماعت کریں گے؟ اس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ عدالتی اصلاحات بل ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں اس پربات نہیں کروں گا۔

    جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ درخواست میں وفاق نے چیف جسٹس کو حکم دینے کی استدعا کر رکھی ہے، اس طرح کی استدعا پر عدالت کس قسم کا حکم دے سکتی ہے؟چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاق کی استدعا اچھے الفاظ میں نہیں لیکن سمجھ چکے ہیں۔

    عمران خان نے اداروں کوبدنام کرنے کی ہر حد پار کردی ہے. آصف علی زرداری …

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پھانسی کے مقدمے میں بینچ پر اعتراض کیا تھا۔ جج پر اعتراض ہوا اور 9 رکنی فل کورٹ نے مقدمہ سنا۔ اس وقت کے چیف جسٹس انورالحق نے اعتراض مسترد کیا۔ نو رکنی فل کورٹ میں چیف جسٹس خود بھی شامل تھے۔ موجودہ درخواست میں کسی جج یا چیف جسٹس پر اعتراض نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اعتراض ہو تو فیصلہ جج نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ مقدمہ سنے یا نہیں۔ تعین کرنا ہے کہ بینچ کن حالات میں فل کورٹ تشکیل دینے کا کہہ سکتا ہے۔عدالت کو اس حوالے سے مزید معاونت چاہیے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف آئین کی تشریح یا عدالت کی آزادی کا نہیں ہے، آئینی ترامیم کیس میں عدالت نے فوجی عدالتیں درست قرار دی تھیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے۔ معاملہ سنگین نوعیت کا ہونے پر ہی فل کورٹ بنا تھا اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ مستقبل کے لیے ہوتا ہے، 20 سال بعد شاید زمینی حقائق اور آئین مختلف ہو، استدعا ہے کہ عدالت فل کورٹ بنائے۔

    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماء پیپلز پارٹی میں شامل

    مسلم لیگ ن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ پر دلائل دیتے ہوئےکہا کہ حکم امتناع کے ذریعے پہلی بار قانون پر عمل درآمد روکا گیا ہے، فل کورٹ کے لیے درخواستیں معمول میں دی جاتی ہیں، جسٹس فائز عیسٰی کیس میں بھی فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسٰی کیس کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا، چیف جسٹس خود جسٹس فائزعیسٰی کیس نہیں سن رہے تھےبیرسٹرصلاح الدین کا کہنا تھا کہ سات رکنی بینچ نے فل کورٹ تشکیل دینےکی ہدایت کی تھی، بعض اوقات بینچ خود بھی فل کورٹ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کوبھجواتا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری اور جسٹس فائز عیسٰی کیسز صدارتی ریفرنس پر تھے، ججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے، معاملہ سنگین نوعیت کا ہونے پر ہی فل کورٹ بنا تھا، دونوں ججز کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیے، کسی اور مقدمے میں فل کورٹ کی مثال ہے تو دیں۔بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ آئی جی جیل خانہ جات کیس میں بھی فل کورٹ تشکیل دی گئی تھی۔

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری کیس میں جج کو معزول کردیا گیا تھا، وہ ماسٹر آف روسٹرکا اختیار استعمال نہیں کرسکتے تھے، معزولی کے بعد قائم مقام چیف جسٹس اس اختیار کو استعمال کر رہے تھے، مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے، جو قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے اس میں 5 رکنی بینچ کی بات کی گئی ہے، مسلم لیگ ن فل کورٹ کی استدعا کیسے کرسکتی ہے؟

    کراچی؛ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے درخواست میں موجودہ بینچ پر اعتراض اٹھایا ہے،کیا مسلم لیگ ن کو موجودہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے نوٹس کیا ہو تو میں اس معاملے کو خاموشی سے سن رہا ہوں، کیس کو خاموشی سے اس لیے سن رہا ہوں کہ یہ چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ہے، چیف جسٹس کو ہی بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ سےمتعلق کوئی جوڈیشل آرڈر دینا نہیں چاہتے جو مستقبل میں عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو، موجودہ نکتے پر ابھی دلائل باقی ہیں اور دوسرے فریقین کو بھی سننا ہے۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ کل تک جمع کرانےکا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیخلاف درخواستوں پر سماعت 3 ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔

    شہباز شریف سے اسکاٹ لینڈ فرسٹ منسٹر کی ملاقات؛ سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں …

  • جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    پشاور: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس مسرت ہلالی کی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ میں بطور قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں صدر مملکت نے چیف جسٹس کی تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 175 اے 13 کے تحت دی۔

    جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی سینئر ترین جج ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون ہیں۔

    مسرت ہلالی نے پشاور یونیورسٹی کے خیبر لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد 1983 میں ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکالت شروع کی اس کے بعد وہ 1988 میں ہائی کورٹ اور 2006 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کی بھی اہل قراردے دی گئی تھیں۔

    مسرت ہلالی کا جوڈیشل کریئر بھی شاندار رہا ہے۔ انھیں سنہ 2013 میں ایڈیشنل جج کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور پھر سال 2014 میں انھیں پشاور ہائی کورٹ کا مستقل جج تعینات کیا گیا جسٹس ہلالی بطور جج تعینات ہونے سے قبل مختلف ادوار میں پشاور ہائیکورٹ بارکی پہلی سیکرٹری اور نائب صدر کے عہدے پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔

    انھوں نے بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، چیئرپرسن خیبر پختونخوا انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹربیونل کے علاوہ خواتین کے کام کے مقامات پر ہراسانی کے خلاف محتسب کے عہدے پر بھی کام کیا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے اُس وقت ایک جج کے حیثیت سے حلف اٹھایا جب صوبے میں شدت پسندی عروج پر تھی اور ان دنوں میں جبری گمشدہ افراد کے کیسز بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے تھے جبکہ انھی دنوں میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن جیسے قوانین بھی سامنے آئے تھے۔

  • لاہورانتظامیہ نےپی ٹی آئی کولاہورمیں ریلی کا مشروط اجازت نامہ جاری کر دیا

    لاہورانتظامیہ نےپی ٹی آئی کولاہورمیں ریلی کا مشروط اجازت نامہ جاری کر دیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو لاہور میں ریلی کی مشروط اجازت مل گئی۔

    باغی ٹی وی : انتظامیہ نے پی ٹی آئی کی زمان پارک سےلکشمی چوک تک ریلی کا مشروط اجازت نامہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق عدلیہ اور اداروں کے خلاف تقاریرکی اجازت نہیں ہوگی جب کہ پبلک پراپرٹی کونقصان پہنچا توپی ٹی آئی انتظامیہ ذمہ دارہوگی جبکہ ریلی کے دوران کارروباری مراکزبند کرنےکی بھی اجازت نہیں ہوگی،کارکن ڈنڈے اور اسلحہ ساتھ نہیں لائیں گے۔

    پرویز الٰہی کے گھر چھاپہ: ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر افسران کی غیر مشروط …


    دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اس لیے بغیر اجازت ریلیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نےکہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح ہدایات کےباوجود کےریلی نکالنا آئینی حق ہے، انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ پر امن ریلی آئین اور سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے نکالی جا رہی ہے۔ یعنی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے عدالتوں کو صاف پیغام کے ہم آپ کا حکم نہیں مانتے-

    توشہ خانہ کیس میں نیب میں طلبی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کی درخواستوں …

    واضح رہے کہ آج پی ٹی آئی آئین اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھرپوراظہارِیکجہتی کے لئے ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے اس حوالے سے اپنے پیغام میں چئرمین پی ٹی آئی نے عوام سے اپیل ہے کہ اپنے آئین اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھرپوراظہارِیکجہتی کیلئے آج شام ساڑھے پانچ سے ساڑھے چھ کے درمیان گھروں سے باہر نکلیں!

    کانگو میں بارشوں کے باعث سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے …

  • تحریک انصاف کی احتجاجی مہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط

    تحریک انصاف کی احتجاجی مہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط

    الیکشن نہ ہونے کی صورت میں تحریک انصاف کی احتجاجی مہم کا معاملہ ،تحریک انصاف نے اپنی احتجاجی تحریک سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کردی

    فی الوقت تحریک انصاف نے کسی بھی لانگ مارچ کا فیصلہ نہیں کیا، چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیوں کے انعقاد سے حکومت پر پریشر بنانے کی کوشش کی جائے گی انتخابات کے انعقاد کے لیئے حکومت مخالف لانگ مارچ آخری آپشن ہوگا،سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابات کرانے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو احتجاجی تحریک کا آغاز ہو گا،احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں جلسے اور ریلیاں نکالی جائیں گی ،

    دوسری جانب حماداظہر نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے ریلی کا روٹ شیڈول جاری کر دیا، کل بروز ہفتہ، دوپہر تین بجے ، زمان پارک سے لکشمی چوک تک ریلی نکالی جائے گی، ریلی کی قیادت چیرمین عمران خان کریں گے ، حماد اظہر کے مطابق ریلی کا مقصد ملک میں آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کا تحفظ ہے،ریلی کا روٹ زمان پارک، اقبال روڈ (گڑھی شاہو)، ریلوے سٹیشن، نشتر روڈ، میکلوڈ روڈ، لکشمی چوک ہوگا،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 3 مئی کو سماعت کرے گا ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک تین رکنی بنچ میں شامل ہونگے آئی جی بلوچستان،سیکرٹری داخلہ اور نیکٹا حکام سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کیسوں کی سماعت کے لیے بینچوں کی تشکیل کر دی گئی، اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر آیندہ ہفتے چھ بینچ کیسوں کی سماعت کریں گے۔بینچ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہے۔ بینچ نمبر دو میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں ،جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس شاہدہ وحید ینچ تین میں کیسوں کی سماعت کریں گے ۔ چوتھا بینچ جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل ہے۔بینچ نمبر پانچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی شامل ہیں۔چھٹا بینچ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہے۔

    بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری

    عمران خان سے شادی کا خواہشمند نوجوان سامنے آ گیا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کل کیسوں کی سماعت کریں گے

    سپریم کورٹ کی جانب سے نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل گیارہ بجے تک روٹین کیسوں کی سماعت کرے گا ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ کل اہم کیس کی سماعت کرے گا ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی، آج چیف جسٹس کی عمرعطا بندیال کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ سماعت نہیں کر سکے تھے،

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا بینچ چیف جسٹس کے عدم دستیابی کے باعث ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس خرابی صحت کے باعث آج سپر یم کورٹ نہیں آئے۔۔ باخبرزرائع کے مطابق ڈاکٹر نے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر انکا طبی معائنہ کیا اور انہیں آرام کرنے کی ہدایت کی، جس کی وجہ سے آج کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بخار ہے اور اپنی رہائشگاہ پر ہیں

  • ‏کیا ساس ہے! داماد کے پوسٹرز پر جوتے برسانے والےکی ترجمان بن گئیں،مریم اورنگزیب

    ‏کیا ساس ہے! داماد کے پوسٹرز پر جوتے برسانے والےکی ترجمان بن گئیں،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عمران خان کے بارے میں کہا ہے کہ آئین سے کھلواڑ کرنے والوں کو نہ قوم بخشے گی اور نہ ہم چھوڑیں گے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک بیان میں کہا کہ پہلا سربراہ ہے جس کے بیان کی تردید اُس کی اپنی جماعت کا آفیشل اکاؤنٹ کر رہا ہے کہ “جو عمران نے کہا وہ عمران نے نہیں کہا عوام کےذہنوں کے ساتھ اور نہ کھیلو قوم کے منہ پرجھوٹ نہ بولواسی لئے فراڈیے کو کالا کنستر منہ پہ چڑھانا پڑتا ہے. مجرم ہو مجرم ہی رہو گے۔

    پی ٹی آئی نے جنرل (ر) باجوہ سے متعلق عمران خان کے بیان کوجھوٹ قراردیدیا

    ان کا کہناتھاکہ بےشرم تم نے باجوہ کےکہنے پہ اسمبلیاں کیوں توڑیں؟ اقتدارکی خاطرپنجاب اورخیبر پختونخواہ کےعوام کی تو ہین، نمائندوں کی تضحیک کی، ان کی منتخب اسمبلیاں تحلیل کردیں، تم عدلیہ کو گالی دو، چیف جسٹس کی تصویر پہ جوتے مارو، دھمکی سے ضمانت کا ریلیف پیکج لو۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے زوردیا کہ چیف جسٹس نے اگر آئین کی دستک نہیں بلکہ ساس کےخوف بچوں اوربیگمات کےمشورے سے تمہارے حق میں فیصلہ دیا تو یہ اب ہم ہونے نہیں دیں گے، آئین سے کھلواڑ کرنے والوں کو نہ قوم بخشے گی اور نہ ہم چھوڑیں گے۔

    شاہ محمود قریشی، فواد چودھری اور حماد اظہر کو پنجاب کے ٹکٹ کیوں نہیں دیئے،عمران …

    مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ ‏کیا ساس ہے! داماد کے پوسٹرز پر جوتے برسانے والے(عمران خان) کی ترجمان بن گئیں آئین اور عدل جب فارن ایجنٹ، داماد ،بیگمات، بچوں، ساس کےمشورےکی نذرہوجائے تو ملک کوعمران جیسےفتنے،چور،جھوٹے،مہنگائی اوربے روزگا ر ی بھگتنا پڑتی ہے، اب الیکشن باجوہ اور ساس کے کہنے پر نہیں اپنے وقت پر ہوگا۔

    پاکستان کو2022 میں کتنا فنڈ دیا گیا؟ایشیائی ترقیاتی بینک نے سالانہ رپورٹ جاری کر دی