Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز خط پر کوڈ اف کنڈکٹ 209(8) پر غور کیا گیا،جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججز کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے،کوڈ اف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،آئیندہ اجلاس میں کوڈ اف کنڈکٹ ترمیم پر غور کیا جائے گا،

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوپہر 1 بجے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عامر فاروق، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کونسل نے مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بحث کی۔ اس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز بنانے اور اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کا معاملہ بھی شامل تھا۔ کونسل نے رجسٹرار کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کونسل کے رولز بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس کا مسودہ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ چیئرمین کو 3 ماہ کے لیے کونسل کے سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک قابل فرد کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ یہ فرد کونسل کے اجلاسوں کی نگرانی کرے گا اور اصول سازی کے عمل کو مضبوط کرے گا۔

    سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209(8) کے تحت ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر بھی غور کیا اور اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جائزہ لیا۔ کونسل نے اس معاملے پر مشاورت کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مختلف اداروں کے سربراہان پر اس ضابطہ اخلاق کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔اس کے علاوہ، کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف دائر کردہ دس شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ کونسل نے شکایت کنندگان سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ ہونے پر ان شکایات کو مسترد کر دیا۔کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ مقدمات کا بروقت فیصلہ کیا جا سکے اور بیک لاگ کو ختم کیا جا سکے۔ غیر سنجیدہ شکایات کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ کیلئے جج کی نامزدگی پر اتفاق نہ ہوسکا
    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ کی تشکیل کے سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر غور کیا گیاسندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی کی پیش کردہ تجویز کی توثیق کی گئی،سندھ ہائیکورٹ کے تمام موجودہ معزز جج صاحبان آئینی بنچوں کے ججوں کے لیے نامزد کیا گیا،سندھ ہائیکورٹ کے تمام ججز آئینی بنچوں کیلئے 24 نومبر تک کام جاری رکھ سکیں گے،جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 25 نومبر کو ہو گا،

    دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ پر تجاویز آئی ہیں، فیصلہ ہوا آئندہ اجلاس تک سندھ ہائی کورٹ ججز آئینی مقدمات سن سکتے ہیں، ہائی کورٹ میں ابھی 12 ججوں کی آسامیاں بھی خالی ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے تھوڑی دیر کے لیے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی، پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین اہلیہ کی بیماری کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 25 نومبر تک موخر کیا گیا ہے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    اسلام آباد،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں بی این پی سربراہ اختر مینگل فہمیدہ مرزا، محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا ہے،دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے لیے جس طرح ووٹ مینج کیے گئے اس کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا جائے، آئینی ترمیم کی شق 7، 14، 17 اور 21 کو غیر آئینی قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، جوڈیشل کمیشن، خصوصی پارلیمانی کمیٹی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور الیکشن کمیشن کے افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کرنے کے موقع پر محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے بات چیت بھی کی،محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو پورے ملک نے دیکھا کس طرح پاس کیا گیا، 26 ویں آئینی ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے،فہمیدہ مرزا اور اختر مینگل بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں، پارلیمنٹ میں عوامی رائے کا مذاق اڑایا گیا، نہ اس پر کوئی بحث ہوئی اورنہ کوئی طریقہ کار فالو کیا گیا، کے پی کی سینیٹ میں نمائندگی نہیں تھی، مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ میں اور محسن داوڑ 26 ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آج دوسری اور مجموعی طور پر آٹھویں درخواست دائر کی گئی ہے،چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کا چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں اجلاس ہوا،جس کا سپریم کورٹ نے اعلامیہ جاری کر دیا ،اجلاس میں انصاف کی جلد فراہمی کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ،اجلاس میں عدالتی نظام کے موجودہ وسائل اور مواقع کا جائزہ لیا گیا،مجوزہ عدالتی اصلاحات کے تحت کمزور طبقوں کے مقدمات کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا،

    انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی ججوں کا ایک اہم اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس کی صدارت عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ان مقدمات میں انصاف کی تیز فراہمی کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے مانیٹرنگ ججز، جسٹس جمال خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی، اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، اے ٹی سی عدالتوں کے مانیٹرنگ ججز اور صوبوں و آئی سی ٹی کے پراسیکیوٹر جنرلز بھی موجود تھے۔ اجلاس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے بھی اہم شرکت کی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس کے مقصد کی وضاحت کی، جس کا مقصد اے ٹی سی کیسز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ انہوں نے تمام ججز پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر جانبداری سے فیصلے کریں۔

    اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 2,273 اے ٹی سی مقدمات زیر التواء ہیں، جن میں سے 1,372 مقدمات صرف سندھ میں زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان مقدمات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور انصاف کی فوری فراہمی کے لیے اضافی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔انسداد دہشت گردی عدالتوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیل سے بات کی گئی جن میں گواہوں کے تحفظ کے لیے مناسب سیکیورٹی فراہم کرنا، گواہوں کی آن لائن پیشی کو ممکن بنانا، اور فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز (FSL) کا قیام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اضافی اے ٹی سی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سندھ اور بلوچستان میں فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز ے قیام اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اے ٹی سی ججوں کی تربیت کے لیے غیر ملکی مواقع فراہم کرنے کی تجویز بھی دی۔ چیف جسٹس یحییٰٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر متعلقہ حکام کو اس معاملے پر فوری طور پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اے ٹی سی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ مقدمات کی بروقت اور منصفانہ سماعت ممکن ہو سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حکومتیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ عدالتی اصلاحات کو حتمی شکل دینے سے قبل عوامی مباحثہ کرایا جائے گا،

    یہ ایک بہت اہم قدم ہے جس سے پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ صرف عوام کا اعتماد کم کرتی ہے بلکہ معیشت اور سماج پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عدالتیں اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں۔ اس طرح کے منصوبے عوامی سطح پر تبادلہ خیال کے ذریعے انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، لیکن اس میں تمام اداروں اور افراد کی مشاورت اور تعاون ضروری ہوگا۔

  • آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ آئینی بینچ کے ججز سپریم کورٹ کے ججز ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عدلیہ کی باپ کی طرح ہے،آئینی بینچ کے سربراہ سپریم کورٹ کے جج ہیں،سپریم کورٹ کے تمام ججز کی پاور ایک جیسی ہوتی ہے،چیف جسٹس کے پاس ایڈمنسٹریٹو پاور زیادہ ہوتی ہے ہم سب کو چیف جسٹس کی عزت کرنی چاہیے ۔ججز کی پاور برابر ہوتی ہے، چیف جسٹس کی سب کو عزت کرنی چاہئے،آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس پاکستان کی حیثیت میں کمی نہیں آئی

    واضح رہے کہ جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا گیا ہے، سات رکنی آئینی بینچ کی تشکیل دو روز قبل کی گئی تھی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی،

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالے 26 ملزمان کو کیا جائے گا برطانیہ بدر

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالے 26 ملزمان کو کیا جائے گا برطانیہ بدر

    لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو گالم گلوچ اور ان کی ڈپلومیٹک کار پر حملہ کرنے والے ملزمان کی شناخت ہو گئی ہے، 26 ملزمان کو جلد پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا،

    یہ انکشاف سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران کیا،مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ‏قاضی فائز عیسی پر حملہ کرنے والے بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ ہونگے۔ لندن پولیس نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے۔ انہوں نے نادرا کو فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فوٹیجز کے ذریعے ان کی شناخت کی جائے اور ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث افراد کی پاکستانی شہریت بھی منسوخ کرنے کی کاروائی شروع کی جائے گی اور اس حوالے سے معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین  خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    اسلام آباد،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا
    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر شبلی فراز، شیخ آفتاب ، عمر ایوب ، روشن خورشید بروچہ اور پاکستان بار کونسل کا نامزد ممبر اختر حسین بھی اجلاس میں شریک تھے

    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں آئینی بینچ کا فیصلہ 7 اور 5 کے تناسب سے آیا، جسٹس یحییٰ آفریدی، منصور علی شاہ، منیب اختر، عمر ایوب اور شبلی فراز نے مخالفت کی،آئینی بینچ کا قیام، جسٹس امین الدین خان سربراہ ہوں گے، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان ممبر ہوں گے۔آئینی بینچ میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے دو دو، خیبر پختون خوا سے ایک جج شامل کیا گیا ہے

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بڑے اچھے ماحول میں ہوا۔جوڈیشل میں یہ تجویز بھی آئی کہ تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچز کیلئے نامزد کیا جائے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں قائم
    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی بنچز کمیٹی میں جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچ) ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچز) شامل ہیں،

    سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری
    جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ ہونگے۔سپریم کورٹ،جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا
    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جسسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس محمد علی مظہر آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس عائشہ ملک ،جسٹس حسن رضوی آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں،چاروں صوبوں کی نمائیندگی سے بینچ کے ججز کی دو ماہ کیلئے منظوری دی گئی ،آئینی بینچ کے ججز کی منظوری سات ،پانچ کے تناسب سے کی گئی ،،چیف جسٹس یحیی آفریدی نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو اجلاس میں خیر مقدم کیا۔چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو نامزدگیوں پر مبارکباد پیش کی۔کمیشن کے رکن عمر ایوب نے اجلاس کورم کم ہونے کی نشاندہی کی۔جوڈیشل کمیشن ارکان نے ووٹنگ سے عمر ایوب کے کورم کے اعتراض کو مسترد کیا ،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیشن ارکان نے چیئرمین کمیشن کو سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق فیصلہ کے اختیارات دیئے۔

  • چیف جسٹس کے بغیر  جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    چیف جسٹس کے بغیر جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر کی پریکٹس پروسیجر کمیٹی میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آگئے

    دستاویز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بغیر ججز میٹنگ جسٹس منیب اختر چمبر میں ہوئی، چیف جسٹس آفریدی نے مطلع کرنے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا،معاملہ فوری نوعیت کا ہونے کیوجہ سے جسٹس منیب اختر چمبر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،ججز کمیٹی اجلاس میں 26 آئینی کیخلاف درخواستیں 4 نومبر کو لگانے کا فیصلہ ہوا، 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کریگا، کمیٹی نے درخواستوں پر اکثریت سے سماعت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا،سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

  • میرے جاننے والوں کو بھی بھتے کی پرچیاں موصول ہوئیں،چیف جسٹس عامر فاروق

    میرے جاننے والوں کو بھی بھتے کی پرچیاں موصول ہوئیں،چیف جسٹس عامر فاروق

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے انتظار پنجوتھا بازیابی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بھی اب کراچی والی صورتحال ہو گئی ہے، میرے اپنے جاننے والوں کو بھی بھتے کی پرچیاں موصول ہوئی ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی وکیل انتظار پنجوتھہ کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،وکیل علی بخاری نے کہا کہ انتظار پنجوتھہ بازیاب ہو گئے لیکن ابھی انکی حالات اچھی نہیں ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ انتظار پنجوتھہ کو کچھ وقت دیں اور اسکے بعد اُنکا تھانے میں بیان قلمبند کیا جائے،انتظار پنجوتھہ کا بیان ریکارڈ کر کے قانون کے مطابق کارروائی کریں، میں نے انتظار پنجوتھہ سے متعلق ٹی وی پر دیکھا اور بہت برا لگا،یہ ادارے اور تمام لوگوں کیلئے شرمندگی کا باعث ہے، کراچی میں جو کام ہوتا تھا یہاں بھی وہی ہونا شروع ہو گیا ہے،مسنگ پرسنز اور سٹریٹ کرائمز بہت بڑھ گئے ہیں،

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وکیل انتظار پنجوتھا 8 اکتوبر سے لاپتہ تھے، ان کی بازیابی کیلئے کیس بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھایکم نومبر کو اٹارنی جنرل کی اسلام آباد ہائیکورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عمران خان کے فوکل پرسن انتظار پنجوتھا 24گھنٹے میں بازیاب ہو جائیں گے، اگلے روز حسن ابدال میں مبینہ پولیس مقابلے کے بعد اغوا کار انتظار پنجوتھا کو گاڑی میں چھور کر فرار ہو گئے،

  • ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ گنجائش سے زیادہ قیدی پنجاب میں ہیں۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم اور جسٹس شمس محمود ،ہوم اینڈ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹریز، انسپکٹرز جنرل آف پولیس اور جیل خانہ جات، رجسٹرار سپریم کورٹ، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن، سینٹرل جیل لاہور کی سپرنٹنڈنٹ صائمہ امین خواجہ نےبھی ا جلاس میں شرکت کی، اجلاس میں حکومتی رکن سینیٹر احد چیمہ نے بھی شرکت کی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے، جیلوں میں گنجائش 66 ہزار 625 جبکہ قیدیوں کی تعداد 1 لاکھ 8 ہزار 643 ہے پنجاب کی جیلوں میں گنجائش 36 ہزار 365 جبکہ قیدیوں کی تعداد 67 ہزار 837 ہے، قیدیوں میں 36 ہزار 128 ملزمان ٹرائل شروع ہونے کے انتظار میں ہیں، پنجاب میں ان مسائل پر ہنگامی بنیادوں پر زور دینا ہوگا، جیل اصلاحات پر پہلا اجلاس لاہور میں ہورہا ہے گنجائش سے زیادہ قیدی پنجاب میں ہیں-

    پنجاب پولیس میں اربوں روپے کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف

    اجلاس میں فوجداری انصاف میں اصلاحات کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر جیل اصلاحات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ فیوجی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

  • چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ واپس بلا لیا ہے

    ان ریسرچرز میں سینئر سول جج ظفر اقبال، سول جج حسن ریاض، اور سول جج وقاص علی مظہر شامل ہیں۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کی ڈیپوٹیشن کے اختتام پر انہیں لاہور ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔ان ریسرچرز میں سے ایک ریسرچر جسٹس منصور علی شاہ کی ٹیم کا حصہ تھے۔اب دوبارہ انہیں سپریم کورٹ میں واپس بلایا گیا ہے،

    چند روز قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نئے سیکریٹری اور ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد یاسین گریڈ 21 میں چیف جسٹس کے سیکریٹری تعینات ہوئے ہیں، جبکہ سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد عارف گریڈ 20 میں چیف جسٹس کے ایگزیکٹو آفیسر بنے ہیں۔

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا