Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط ،اطلاعات کے مطابق اس خط میں انہوں نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کو فوری طور پر میڈیا میں جاری کیا جائے۔قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز تقرری کیلئے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کردہ ناموں پر تفصیلی غور ہوا

    مجھ سمیت 5 ممبران نے سندھ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام مسترد کیےجسٹس طارق مسعود، اعظم نذیر تارڑ، اشتر اوصاف اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بھی نام مسترد کیے

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پانچوں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں جونیئر ہیں، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا نام ان چیف جسٹسز کے بعد پیش کیا جائے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ اجلاس میں طے ہوا کہ آئین کسی اسامی پر پیشگی تقرری کی اجازت نہیں دیتا،

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس آف پاکستان بطور چیئرمین، کمیشن پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان اچانک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے،جسٹس اعجاز الاحسن بھی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری چھٹیوں پر ہیں، قائم مقام سیکرٹری اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میٹنگ منٹس بنائیں، قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر مرکوز ہیں، اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا یہ جاننا عوام کا آئینی حق ہے، جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بارے میں میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججوں کے نام مسترد اور ایک نام پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

  • اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،حمزہ شہبازکے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے

    عرفان قادر نے کہا کہ میرے موکل نے ہدایات کی ہیں کہ اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونگے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرے موکل کی جانب سے بھی یہی ہدایات ہیں کہ پیش نہ ہوں۔ہم نظر ثانی درخواست دائر کرینگے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ابھی تک ہم نے فریق نہیں بنایا، عدالت نے بیرسٹرعلی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس کیس کو جلدی سے مکمل کریں ، ہم فل کورٹ ستمبرکے دوسرے ہفتے تک نہیں بنا سکتے، عدالت اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنے گی،پیپلزپارٹی تو کیس کی فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا،عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کے حوالے سے دلائل دیئے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے،اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں،اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں،

    عرفان قادر نے کہا کہ فل کورٹ کے مسترد کیے جانیکے فیصلے پر نظر ثانی فائل کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ تاخیری حربے جیسا ہے 1988میں صدر نے کابینہ کو ہٹایا،63 والے کیس میں آج جو سوال ہے وہ اس وقت نہیں تھا، 21 ویں ترمیم کے فصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہدایات دے سکتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے ،کیا 17 میں س8ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا،دلائل کے دوران21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا ، 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا، 18 ویں اور 21 ویں ترمیم والے کیس میں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں آیا،63 اے والے کیس میں بھی ایسا کوئی ایشو سامنے نہیں آیا، علی ظفر آپ درخواست کے میرٹس پر دلائل دے کر عدالت کی معاونت کریں،جو دلائل میں باتیں کی گئیں اس کے مطابق فل کورٹ تشکیل نہیں دی جاسکتی تھی، اس عدالت کا موقف تھا کہ وزیر اعظم جو چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اس کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ،علی ظفر نے کہا کہ اس وقت 63 اے سے متعلق سوال تھا کہ کیا یہ شق درست ہے یا نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس عظمت نے اپنے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی بات کی،عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والے اعلیٰ وقار کا مظاہرہ کریں، بائیکاٹ کردیا ہے عدالتی کارروائی کو سنیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں، علی ظفر نے فیصلے سے حوالہ دیا اور کہا کہ آرٹیکل63 اے آئین کی ایس شق ہے جو پارٹیوں میں نظم پیدا کرتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹی لائن پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم سے متعلق درخواستیں 13/4 کی نسبت سے خارج ہوئی تھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی نکات پر معاونت کریں یا پھر ہم بینچ سے الگ ہوجائیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ کچھ وکلا عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے موجود ہیں،علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم والے کیس میں کچھ ججز نے اپنے الگ سے وجوہات لکھیں تھیں،

    سپریم کورٹ میں علی ظفر نے مختلف عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر کے دلائل پر استفسارکیا کہ اٹھارویں ترمیم نے 63 شق کو موڈیفائی کیا ، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں،پارلیمانی پارٹی اور پارٹی ہیڈ کیا الگ لگ ہوتے ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتا ہے ؟پارٹی ہیڈ منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس بھیجتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اکیلے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ، کوئی اصول ہوگا،میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی پروسیس ہوگا ، علی ظفر نے کہا کہ دنیا بھی میں آخری فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے پارٹی ہیڈ کا آئینی اختیار فیصلے پر عمل کرانا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ پارٹی فیصلہ کرتی ہے اور اس پر کوئی رکن خلاف جاتا ہے تو سربراہ ایکشن لیتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ہیڈ کچھ بھی شروع نہیں کر سکتا ،علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ پارٹی ہیڈ نہیں لکھا جسٹس جواد خواجہ نے اکیسویں ترمیم والے کیس مل یں 63کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا،جسٹس جواد خواجہ نے اپنے فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کی تھیں،میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا،آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایت پارلیمانی پارٹی کرتی ہے ،آرٹیکل 63 میں پہلے 1998 میں پارلیمانی پارٹی لکھا تھا جو 2002 میں تبدیل ہو کر پارلیمانی ہیڈ لکھا گیا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف ایکشن لینا یا اس کی شروعات کرنے کا اختیار آئین کے مطابق پارٹی ہیڈ کے پاس ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق جج میاں ثاقب نثار نے وہ درخواستیں خارج کرکے ایک الگ سے نوٹ لکھا تھا، ثاقب نثار نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 ایک دہائی سے فلور کراسنگ کا سبب رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی،جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے، علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن آئین کے خلاف ہے، اکیسویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے ایشو نہیں تھا،جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن کی سپریم کورٹ پابند نہیں ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، علی ظفر کا کہنا تھا کہ
    آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹری پارٹی دیتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پارلیمنٹری پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی،سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش کہا میں بھی عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 میں پارٹی ہیڈ کا معاملہ پہلے الگ سے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سالڈ ریزن ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لئے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہوگئی ہے؟ عامر رحمان نے کہا کہ میں صرف آرٹیکل 27کے تحت عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کی ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تواستعمال نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ دوسرا فریق یہاں موجود ہے لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہا،اقوام متحدہ میں جو ملک ممبر نہیں ہوتا وہ آبزرور ہوتا ہے ،

    کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    قبل ازیں چوہدری مونس الٰہی 9 ایم پی ایز کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،بائیکاٹ کے باوجود ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔چوہدری شجاعت کے وکیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں گزشتہ روز پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر آج ان کے وکلاء سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچ گئے.پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک اور پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس

    سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس

    سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس
    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے معاملے کا جائزہ لیا ، صلاح الدین اور فاروق نائیک کو بھی سنیں گے ،وکلا میرٹس پر دلائل دینا شروع کردیں ،عرفان قادر نے کہا کہ اس طرح تو نہیں ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ابھی ہم سب کو سنیں گے، اس کے بعد دیکھیں گے، ہمارے سامنے کچھ سوالات ہیں اس پر ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں ،عرفان قادر نے کہا کہ میری ہدایات فل کورٹ کی تھیں کیا میں مزید بات کرسکتا ہوں یا نہیں اس پر ہدایات لینے کا وقت دیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 24گھنٹے یہاں بیٹھے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ہدایات لے لیں، عثمان اعوان نے کہا کہ میرٹس پر بات کرنی ہے تو ہمیں ہدایات لینا ہیں، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ن لیگ اور وزیراعلی پنجاب نے فل کورٹ کی استدعا کی ہے،

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہم نے سب کے دلائل سنے ہیں جو فل کورٹ کے حوالے سے ہیں،اس پر ہم مزید سنیں گے،آپ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے کہنے پر فل کورٹ بنا دیں یا پھرمیرٹس پر سننے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ فل کورٹ بنے یا نہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حمزہ شہباز کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ فل کورٹ بنے، ہم یہ نہیں کررہے کہ فلاں چیز چاہیے کہ یا نہیں ہم بولیں گے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر نظرثانی کی درخواست سماعت کے لئے رکھتے ہیں تو آپ کامیاب ہوجاتے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا یہ فورم شاپنگ ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آئینی ترمیم کا ہوسکتا ہےہم اس لئے اٹھ کر گئے کہ سوچیں ، ہم نے پیچیدہ آئینی معاملات کو دیکھنا ہے، یہ سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی کا بھی ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ جو بات کررہے ہیں وہ آپ کی استدعا ہی نہیں ہے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بڑے صوبے کے وزیر اعلی چاہے کوئی بھی ہو اس کو گھر بھیجنا نہیں چاہیئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا ہے ، وہ پانچ رکنی بینچ تھا، آپ نے تو اس معاملے پر مٹھائیاں پانٹی تھیں،آج تک جن معاملات پر فل کورٹ بنا ہے وہ انتہائی سنجیدہ معاملہ تھا ،اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ نے غلط بات کی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہو ں سر، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آپ نے کہا کہ میرٹس پر بات کرینگے، چلیں اب میں دلائل دیتا ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کا شکریہ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وزیر قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا هر لفظ ریکارڈ کیا جارہا ہے آپ کو احتیاط سے کام لینا چاہے۔ عدالت کو متنازعہ نہ بنائیں، ہم ضمیر اور آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے، ہمیں ڈکٹیشن مت دیں، روسٹرم چھوڑ دیں اور بیٹھ جائیے، اگر اپ دلائل نہیں دینا چاہتے تو ہم لکھ دیتے ہیں،بطور حکومتی وزیر آپ کی بات مناسب نہیں ،عرفان قادر نے کہا کہ اگر آپ لارجر بینچ پر دلائل سننا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں،ہم فل کورٹ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ جو قانونی سوالات ہیں ان کا جواب آنا چاہیئے،عفل کورٹ کے لئے درخواست گزار کی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی، جسٹس قاضی فائز عیسی والا کیس 14 رکنی بینچ نے سنا تھا،ہر بار وہ ہی جج صاحبان اسی بینچ میں آتے ہیں تو پھر میں کیا کہوں ؟میرے بولنے پر آپ کو کچھ ناراضگی ہوئی ہےجو نہیں ہونی چاہیئے تھی ،عدالت نے ساڑھے گیارہ بجے لاہور میں مختصر حکم نامہ دیا اور میرے موکل نے ساڑھے بارہ بجے رابطہ کیا،لیکن بنچ نے لکھا کہ میں تیار نہیں تھا میں تیار ہو ہی نہیں سکتا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے یہ سماعت اس لئے رکھی ہے کہ آپ تیاری کرسکیں، فل کورٹ کی استدعا کی گئی،ہم نے سوچا ہے کہ فل کورٹ اس وقت بنایا جاتا ہے جب معاملات پیچیدہ ہوں ،منصور اعوان نے ہمارے سامنے کچھ عدالتی نظیریں رکھی جس پر ہمیں لگا کہ فل کورٹ انتہائی سنجیدہ معاملات پر تشکیل دیا جاتا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ کیا یہ پیچیدہ معاملہ نہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں یہی پیچیدہ معاملہ نہیں ہے ، ہمارا س معاملے پر فیصلہ آچکا ہے، اگر اپ تیار ہیں تو آپ کو سنتے ہیں نہیں تو منصور اعوان صاحب کو سن لیتے ہیں ،یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں جس کو بڑھایا جائے اسکو چھوٹا کیا جاسکتا ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا،اس میں ہماری نظر میں ڈپٹی اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی، عرفان قادر نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ عدالت کا وقت بچائوں،مخالف فریق کے وکیل نے جو فیصلوں کے نظائر دیئے ہیں اس ک جائزہ لینا چاہتے ہیںاگر نظرثانی کی درخواست میں منحرف ارکان کے ووٹ گنے جاسکتے ہیں تو پھر scnarioتبدیل ہوسکتا ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم آپ کی یہ بات لکھ لیتے ہیں،عرفان قادر نے کہا کہ ہر معاملے پر ایک ہی بینچ بننے کے بارے میں سوشل میڈیا پر بات ہورہی ہے اگر یہ بینچ کیس سنتا ہے تو تمام فریقین کو۔عزت ملنی چاہیئے،بنچ کی غیرجانبدار ہونے پر بھی کوئی ابہام نہیں لیکن اگر ابہام ہو تو اس کو فل کورٹ بناکر ختم کیا جاسکتا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں دن اور شام کو سماعت کرکے چار دن میں فیضلہ سنایا، عدالت نے اس کیس میں کوئی از خود نوٹس نہیں لیا،ایک ایسی پارٹی جو اپنے امیدوار کو ڈاکو کہتی تھی وہ اب اس کے ساتھ ہے فل کورٹ معاملے پر عدالت فیصلہ دے نظرثانی دائر کروں گا،جلد بازی میں مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہونا چاہے، نظرثانی دائر کرنا آئینی حق ہے جو استعمال کرینگے،عدالت کے گزشتہ حکم نامہ میں تضاد ہے، چوہدری شجاعت ملک کے بہترین سیاستدان ہیں وہ اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں اس میں خدارا جلدی نہ کریں، آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاستدان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوسکتے ،آپ بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں تو بہتر ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ کے معاملے پر ہم نے سوموٹو لیا اس کیس میں ہم نے سوموٹو نہیں لیا،عرفان قادر نے کہا کہ یہ بات کہ ایک سیاسی پارٹی کو جلدی ریلیف ملے گا ، ان کے سربراہ نے جھوٹ بولا، ان کے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی،عرفان قادر نے دلائل مکمل کرلئے ،،واپس سیٹ پر بیٹھ گئے

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک کے دلائل شروع ہو گئے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ معاملہ چند دنوں میں حل ہوسکتا ہے۔ہمیں کیس کی تیاری کے لیے کچھ وقت درکار ہے میں چاہتا ہون کچھ وقت دیا جائے تاکہ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہو ،میں رات ہی کراچی سے ایا ہوں تیاری کے لئے وقت دیں ،اس کیس کو روٹین کے مطابق رکھ لیں،اپ جمعرات کو صبح سے شام تک اس معاملے کو سن لیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عرفان قادر اور منصور عثمان نے دلائل میں کہا کہ پارٹی ہیڈ کا کردار سپرنٹنڈنٹ کا ہوتاہے،آپ 63 والے کیس میں پیش ہوئے، میرا خیال ہے کہ اس کا فیصلہ پڑھ لیا تھا۔ہمیں آپ کی گائیڈنس کی ضرورت ہے فاروق نائیک اپ پارلیمینٹری کمیٹی کے سربراہ، وزیر قانون رہے ہیں، ہمارے پاس 54 ہزار کیس التوا کا شکار تھے، اب وہ کم ہوکر 47 ہزار پر پہنچے ہیں،ہمارے ججز محنت کررہے ہیں، چھٹیوں میں بھی کام کررہے ہیں سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے، ہم آپ لوگوں کو سنیں گے، حکومتوں کو آئین کے مطابق بننا چاہیئے لیکن سوال ہے کہ ووٹ کیسے گنے جائیں ،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالت دباو میں ہے، یہ نا سمجھیے گا کہ میں سپریم کورٹ کی بے توقیری کر رہا ہوں،میرے لیے بھی یہ عدالت اتنی ہی محترم ہے جتنی آپ کیلئے،ہم نے آنا ہے اور چلے جانا ہے لیکن ادارے برقرار رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس عدالت میں فاروق نائیک صاحب آپ کے کولیگز نے پارٹی میں آمرانہ سوچ کی بات کی تھی،آپ اٹھارویں ترمیم کرنے والوں میں شامل تھے آپ نے اختیارات پارلیمانی پارٹی کو دیئے،ہم نے پارلیمان اورجمہوریت کو مضبوط کرنا ہے،

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے مسائل پارلیمان میں حل ہونے چاہئیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لیکن اگر آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو معاملہ عدالت میں آئیگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ کے پاس سینیٹ الیکشن کی درخواست زیر التوا ہے،ہاوس کی اندرونی کارروائی کا معاملہ ہے، اس پر آپ کو فیصلوں کی مثال دونگا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کی تشریح کا گولڈن اصول یہ ہے کہ جو معاملہ عدالت میں ہے اس کی تشریح کی جائے، سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کو صحیح استعمال کیا یا غلط؟ اگر غلط استعمال کیا تو ہم اس کو درست کرینگے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں پارلیمانی پارٹی کی کوئی ہدایات نہیں، ہم نے دیکھنا ہے کی پارلیمانی پارٹی کے اختیار پر پارٹی سربراہ نے تجاوز کیا،اس کیس میں پارلیمانی پارٹی کو کوئی ہدایات نہیں،فاروق نائیک نے کہا کہ میری فریق بننے کی درخواست کونمبر نہیں لگا، عدالت نے کہا کہ آپ کو کہہ دیا ہے کہ آپ کوسنیں گے، ،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے میں اس کیس میں نئی دستاویز فائل کرونگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ جو ہمارے فیصلے پر انحصار کرتی یے اس کو دیکھنا ہے،وکیل چودھری شجاعت نے کہا کہ عدالت عظمی کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں پارٹی سربراہ کو ہدایت کا اختیار ہے،ایم پی ایز اور ڈپٹی اسپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کرائوں گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہوتی ہے ،صلاح الدین نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے سترہ ممبر ایک سینیٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ اکیلا سینیٹر ہوتا ہے تو کیا وہ اپنی مرضی چلائے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم اس کیس کو مکمل کرنا چاہتے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہئے،پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں ہے،اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو،ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان بھی فیصلوں میں الگ رائے ہوتی ہے،چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک پہلو جو اہم ہے وہ پولرائز سیاسی ماحول بن جانا ہے،ایسے ایشوز کو حل ہونا چاہیئے تا کہ حکومتیں اپنا کام کرتی رہیں، اگر اپوزیشن بائیکاٹ کرتی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ نظام چلنا چاہیئے، جمہوریت میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے ملک کی معاشی صورتحال پر ہر شہری پریشان ہے۔ملکی کرنسی ہر روز گررہی ہےکیا وہ ہماری مداخلت کی وجہ سے ہے؟ کیا یہ سب کچھ سیاسی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ؟

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ 8 ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو 9 ججز بھی سماعت کرسکتے ہیں، آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا؟بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ مجھے سو فیصد آپ سمیت سب ججوں پر اعتماد ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود سے پوچھیں کہ آئین کے مطابق کون ہدایات دے سکتا ہے، دو ججز کے علاوہ تمام ججز یہاں موجود ہیں، ہم ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جو سائل کے فائدے کا ہو،ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں اختلافات کی فضا برقرار رہے، فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گا کیا اس وقت تک سب کام روک کے رکھیں؟ ہر شہری کی طرح معیشت کی صورتحال سے ہم بھی پریشان ہیں، کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے؟آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور 179 لینے والا وزیراعلی ہے،حمزہ شہباز کو وزیراعلی برقرار رکھنے کیلئے ٹھوس بنیاد درکار ہےریاست کے کام چلتے رہنے چاہیں،عدالت کے فیصلے پر انتخابات ہوئے اور پر امن طریقے سے ہوئے، ہمیں یہ ڈھونڈ کر دے دیں کہ کہاں لکھا ہے کہ پارٹی ہیڈ غیر منتخب بھی ہو تو اس کی بات ماننا ہوتی ہے،

    وکیل چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ عدالت مختلف مقدمات میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلے دے چکی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جن مقدمات کی آپ بات کررہے ہیں ان میں مدعا کچھ اور تھا، آپ کے دلائل بظاہر غیر جمہوری ہیں آپ اپنے اراکین کو ڈمی سمجھتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یکم جولائی کو فیصلہ دیتے ہوے بھی موجود وزیراعلی کو کام سے نہیں روکا تھا،الیکشن کے نتائج کا احترام ہونا چاہیے، آپ کہہ رہے ہیں پارٹی ہیڈ کا کنٹرول ہوتا ہے ،وکیل چودھری شجاعت نے کہا کہ ہم کیس کو بالکل طویل نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاوہ صرف دو ججز ہی یہاں دستیاب ہیں کوشش کر رہے ہیں جہاں عدالت انے والوں کو سہولیات دیں ، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ امریکہ میں ججز سیاسی جماعتیں اور حکومت تعینات کرتی ہیں، شکر ہے پاکستان میں ایسا نظام نہیں ہے، فاضل بنچ رات کے 7 بجے بھی موجود ہے تو باقی ججز بھی خوشی سے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ ججز دستیاب نہیں ہیں، وکیل چوہدری شجاعت نے کہا کہ جو ججز دستیاب ہیں وہ بھی بیٹھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ ہم تین ججز کے علاوہ صرف دو مزید ججز شہر میں ہیں، وکیل صلاح الدین نے کہا کہ وڈیو لنک کے ذریعے بھی ججز شریک ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وڈیو لنک شکایت کنندگان کی سہولت کے لیے ہے، وزیراعلٰی کے انتخاب کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہیے،

    سماعت میں پندرہ منٹ کا وقفہ کر دیا گیا

  • سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری: جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجےپرنہ پہنچ سکا

    سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری: جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجےپرنہ پہنچ سکا

    اسلام آباد: سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی زیرصدارت جاری جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا ہے، اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں 7 ججز کی تعیناتی پر غور کیا گیا۔

    پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، جس کے باعث ججز کی تعیناتی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ویڈیولنک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےاجلاس میں ویڈیو لنک سے شرکت کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسپین اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے لاہور سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن رولز میں ترامیم پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ بار کونسل نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کو خط لکھ کر سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں پر تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    اسلام آباد میں ججز کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ہائی کورٹس کے لیے 5 ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اقبال احمد کاسی، شوکت علی رخشانی، گل حسن ترین، عامر نواز رانا اور سردار احمد حلیمی کی بطور جج تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

    اس موقع پر ججوں کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی نے ہائی کورٹس کےلیے 5 ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ فہمیدہ مرزا سمیت تمام اراکین نے اتفاق رائے سے تمام ججوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

    ادھر اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے پانچ گھنٹے طویل اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے فیصلے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی زیر صدارت سپریم کورٹ میں ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا، جس میں سندھ ہائیکورٹ میں 7 ججز کی تعیناتی پر غور کیا گیا البتہ جوڈیشل کمیشن اس معاملے پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا جس پر تعیناتی کے معاملے کو فی الحال مؤخر کردیا گیا۔

    اجلاس میں ویڈیو لنک ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جوڈیشل کمیشن کے رکن قاضی فائز عیسیٰ نے اسپین سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔علاوہ ازیں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی لاہور سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شامل ہوئے۔ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن رولز میں ترامیم بارے بھی مشاورت بھی کی گئی۔

  • ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

    ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

     

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں یہ کیس جلد ختم ہو،14 سماعتیں ہوچکی ہیں حامد خان جلد دلائل مکمل کریں،بینچ میں شامل دو ججز جولائی اور اگست میں ریٹائر ہورہے ہیں،ججز کی ریٹائرمنٹ سے قبل کیس ختم کرنا چاہتے ہیں،زیر التوا مقدمات کے بوجھ کے باعث لارجر بینچ مشکل سے بنتا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس دوپہر 12 بجے شروع ہو تو دلائل کیلئے زیادہ وقت مل جائے گا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں تو سپریم کورٹ میں کیس سننے کیلئے تیار ہیں،عدالت نے حامد خان کو، آج دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کل اٹارنی جنرل کو سن لیں گے،

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو خط لکھ دیا

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا چیف جسٹس کو خط

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

  • چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    اسلام آباد : چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس اطہرمن اللہ سے مشاورت کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے نیب چیئرمین کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس پاکستان سے مشاورت کے لیے شہری محمد فہد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

    گستاخانہ بیانات: آل پاکستان انجمن تاجران نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر…

    درخواست میں میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب کا تقرر ہوتا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا کہ 2001 میں بھی سپریم کورٹ نے سیکشن 6 میں ترمیم کرکے چیف جسٹس کی مشاورت کا کہا، 20 سال گزرنے کے باوجود نیب آرڈیننس میں چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق شق میں ترمیم نہ کی جا سکی-

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ وزارت قانون کو چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں ترمیم کی ہدایت کی جائے اور چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت کے بغیر نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی سے روکا جائے۔

    درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئےکہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور یہ عدالت پارلیمنٹ کوہدایات نہیں دے سکتی اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی صرف آبزرویشن تھی، سپریم کورٹ کے جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا اس کے بعد کافی فیصلے آچکے۔

  • ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھے گئے خط میں کہا کہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے سیکریٹری جوڈیشل کمیشن ہونے پر اعتراض کیا اور کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سرکاری ملازم ہے جس کا وزیر اعظم ہاوس سے تقرر ہوا،آرٹیکل 175/3 عدلیہ اور ایگزیکٹو کو الگ رکھنے سے متعلق ہے، رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کو سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کے عہدے سے ہٹایا جائے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کے مطابق وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں رجسٹرار سپریم کورٹ کا رویہ متکبرانہ اور بددیانتی والا ہے عوام کے پیسے لینے والا سرکاری ملازم جوڈیشل کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہے سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات رجسٹرار سپریم کورٹ فوری سماعت کیلئے مقرر کر دیتا تھا وام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں عوام اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”499452″ /]

  • ملزمان اغوا کر کے کیا چاہتے تھے؟ِ طالبہ نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    ملزمان اغوا کر کے کیا چاہتے تھے؟ِ طالبہ نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    ملزمان اغوا کر کے کیا چاہتے تھے؟ِ طالبہ نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے اغوا ہرنے والی طالبہ کا بیان سامنے آیا ہے

    طالبہ کا کہنا ہے کہ ملزم عابد یا اسکے کسی بھی ساتھی نے کوئی غلط کام میرے ساتھ نہیں کیا،عابد مجھے پاکپتن لے کر گیا اور مجھ سے زبردستی نکاح کی کوشش کی، نکاح سے انکار کیا تو مجھے مارا گیا، ملزمان مجھے اغوا کیا تھا اور پھر قصور لے گئے تھے، ملزمان راستے میں کسی وکیل سے مسلسل رابطے میں تھے ،ملزمان پولیس کے آنے سے پہلے مجھے پاکپتن لے گئے تھے

    دسویں جماعت کا طالبہ کو پولیس نے گزشتہ شب بازیاب کروایا، طالبہ کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان جب مجھے قصور سے لے کر پاکپتن کے لئے نکلے تو انہوں نے موبائل فون بند کر دیئے تھے، ملزمان نے مجھے عارف والا کے بس اڈے پر خود ہی چھوڑ دیا تھا جہان پولیس پہنچ گئی تھی،

    طالبہ کو ہفتے کے روز لاہور کے علاقے شادباغ سے اغوا کیا گیا تھا ،طالبہ گزشتہ روز امتحان دے کر بھائی کے ساتھ گھر آ رہی تھی کہ اس دوران گاڑی پر سوار اغوا کار ملزمان طالبہ کو گن پوائنٹ پر اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے، لاہور ہائیکورٹ نے رات کو سماعت کی اور آئی جی پنجاب کو طالبہ کو بازیاب نہ کروانے کی صورت میں ہٹانے کا کہا تھا جس کے بعد پولیس نے فوری کاروائی کی اور طالبہ کو بازیاب کروا لیا گیا،

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی کی جانب سے رات 8 بجے عدالت لگائی گئی تھی جس میں آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا تھا کہ بچی کی ساہیوال میں تلاش جاری ہے جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ بچی آپکے ہاتھوں سے لیکر ساہیوال چلے گئے اور آپ کچھ نہ کر سکے عدالت اس وقت اس لیے نہیں بیٹھی کہ آپ کو مہلت دے میں ابھی وزیراعظم کو کہتا ہوں آئی جی اور سی سی پی او کو ہٹایا جائے رات دس بجے تک بچی بازیاب نہ ہوئی تو آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کو ہٹا دیا جائے عدالت وزیراعظم کو لکھے گی کہ نااہل افسران کو عہدے سے ہٹائیں۔

    لاہور ہائیکورٹ میں طالبہ اغوا سے متعلق دوبارہ سماعت ہوئی، آئی جی پنجاب نے عدالت میں جواب جمع کروایا کہ طالبہ کو بازیاب کروالیا گیا ہے، طالبہ کو ساہیوال ڈویژن کی تحصیل عارفوالا سے بازیاب کروایا گیا لڑکی کے باپ اور چچا کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب نے عدالت کو بتایا کہ طالبہ کی ویڈیو کال پر بات کروائی گئی

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے طالبہ کے والد کو روسٹرم پر بلا لیا اور استفسار کیا کہ آپکی بیٹی بازیاب ہوگئی ہے، جس پر بچی کے والد کا کہنا تھا کہ جی میری بیٹی بازیاب ہوگئی ہے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے اقدامات قابل ستائش ہیں یہ ایک بچی نے بلکہ پورے خاندان کا معاملہ ہے ہم سب نے ملکر بچی کو بازیاب کروانے میں مدد کی میں بتا نہیں سکتا کہ طالبہ کی بازیابی پر کتنا خوش ہوں

    بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی ماڈل سدرہ قتل کیس میں اہم پیشرفت

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    سابق شوہر نے شراب کی بوتل کے ساتھ جنسی زیادتی کی،ہالی ووڈ اداکارہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں

    بیوی نے بیٹی اورساتھیوں سے ملکر اپنے شوہر کو بیدردی سے قتل کردیا

    شاگرد سے زیادتی کرنے والا معلم گرفتار

  • شیرانی جنگلات میں آگ کا واقعہ:جسٹس جمال خان مندوخیل کی چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کی درخواست

    شیرانی جنگلات میں آگ کا واقعہ:جسٹس جمال خان مندوخیل کی چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کی درخواست

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سے شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ پر از خود نوٹس لینے کی درخواست کردی۔

    باغی ٹی وی : جسٹس جمال خان نے چیف جسٹس کو یہ درخواست کوئٹہ رجسٹری میں ضلع شیرانی کے وکلاء کی جانب سے آگ کے حوالے سے دائر کیس کی سماعت کے دوران دی۔

    بلوچستان میں امدادی کاروائیوں کیلئےمولانا عبد الواسع وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی نامزد

    جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے لیے اقدامات اور وسائل نا کافی ہیں، چیف جسٹس ازخود نوٹس لے کر حکومت کو آگ سے پیدا سنگین چیلنج سے مؤثر طور پر نمٹنے کی ہدایت دیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے ازخود نوٹس کی تحریری درخواست چیف جسٹس کو کوئٹہ سے اسلام آباد ارسال کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب شیرانی کےجنگلات میں لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکامحکمہ جنگلات کے حکام کا کہنا ہےکہ جنگلات میں لگی آگ کو بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث آگ شیرانی کے علاقوں شرغلئی، سورلوکی اور چمازئی کے جنگلات میں لگی آگ مزید پھیلنے کاخدشہ ہے۔

    محکمہ جنگلات کے مطابق شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ سے چلغوزے اور زیتون کے درخت شدید متاثر ہوئے لہٰذا جنگلات میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فضائی آپریشن تیز کرنے کی ضرورت ہے جنگلات میں لگی آگ کے باعث فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور جنگلی حیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ضلع شیرانی بلوچستان کے جنگلات میں آتشزدگی،پاک آرمی اور ایف سی کی امداد جاری ہے وفاقی حکومت کی طرف سے آگ پر قابو پانے کے لیے بلوچستان حکومت کی بھرپور امداد جاری ہیں-

    آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن سےملاقات’موجودہ سیاسی صورتحال پرغور

    ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان رینجرز ونگ نے بلوچستان حکومت کے ماتحت امدادی کارروائیوں میں شرکت کی شیرانی بلوچستان کے جنگلات میں لگی آگ پرہیلی کاپٹر کے ذریعے قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں این ڈی ایم اے کی طرف سے بلوچستان حکومت کو آگ بجھانے کے لیے ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت ،این ڈی ایم اے کی جانب سے بلوچستان کو ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے-

    ڈیرہ بگٹی:کلورینیشن کےبعد فعال تالابوں سے پانی کی پمپنگ شروع، 63 واٹر باؤزرفعال،آئی ایس پی آر

    واضح رہے کہ جمعرات کی صبح کوہ سلیمان میں شرغلئی کے علاقے میں چلغوے کے جنگلات میں نئی اگ لگ گئی تھی جسے بجھانے کی کوششوں کے درمیان آگ کی زد میں آکر تین افراد جھلس کرجاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے تھے-

    ڈپٹی کمشنر شیرانی کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقہ اور دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھانے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے-

    بنی گالہ کے اطراف پولیس کا سرچ آپریشن،پی ٹی آئی رہنما عالمگیر کے گھر چھاپہ

  • ہم نے الیکشن کمیشن کو کاروائی سے نہیں روکا،قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،عدالت

    ہم نے الیکشن کمیشن کو کاروائی سے نہیں روکا،قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،عدالت

    ہم نے الیکشن کمیشن کو کاروائی سے نہیں روکا،قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،عدالت

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ کے خلاف پٹیشن کو بھی یکجا کر کے سماعت کی گئی پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن، اور دیگر سیاسی جماعتوں کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر سمجھتا ہے کسی اکاؤنٹ میں کچھ مسئلہ ہے تو پارٹی کو شوکاز کرے گا، اسکروٹنی کمیٹی دو کیسز میں بنی ہے، ایک پی ٹی آئی کے خلاف دوسری ہماری دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے,

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے ا سکروٹنی کمیٹی مخصوص کیسز میں ہی بنتی ہے،وکیل نے کہا کہ عامر کیانی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے فریقین کو نوٹسز جاری کر رکھے ہیں،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بڑے اختیارات ہیں،وکیل نے کہا کہ ہماری طرف سے الیکشن کمیشن میں تاخیر نہیں ہے آج بھی وکیل انور منصور پیش ہوئے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف درخواست 2014 میں دائر ہوئی،دیگر جماعتوں کے خلاف درخواست 2020 میں آئی،پی ٹی آئی چاہتی ہے دونوں کو ایک ساتھ چلائیں،یہ چاہتے ہیں 2014 اور 2020 والے کیسز کا فیصلہ ایک ساتھ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کسی ایک کے خلاف پہلے فیصلہ کریگا تو اس کے سیاسی اثرات ہونگے، یہ آئینی عدالت ہے ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کہیں گے، الیکشن کمیشن کا تو کام ہے ہر سال ا سکروٹنی کرنا، کیا ایسا نہیں ہو رہا؟الیکشن کمیشن کے اس اقدام سے سیاسی جماعتوں کیلئے مشکلات ہونگی، وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا لیکن انہوں نے چیزیں فراہم نہیں کیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ اس عدالت کی معاونت کر دیں، وکیل نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں جو کیس حتمی مرحلے میں ہے اس کا فیصلہ کر دیتے ہیں دیگر کی کارروائی تیز کر دیتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتیں اس درخواست میں اپنا جواب جمع کرائیں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس دوران الیکشن کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ،جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے تو نہیں روکا،شاہ خاور ایڈوکیٹ نے کہا کہ وہ تو ہم بھی نہیں کہہ رہے کہ کارروائی روک دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی بات مناسب ہے کہ سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی جانی چاہیے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن تو اس بات کو یقینی بناتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنا ہے،ایک بات تو واضح ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، اب جا کر اگر اس قانون پر عملدرآمد ہو رہا ہے تو اس پر بھی اعتراضات ہیں سیاسی جماعتوں کا اس ملک میں بڑا اہم کردار ہے، اس ملک نے سیاسی جماعتوں کو بہت خراب کیا ہے،کسی سیاسی جماعت کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ انہیں سنگل آؤٹ کیا جا رہا ہے

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر