Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • میراجینامرناپاکستان،پاکستان کےبغیرنہیں رہ سکتا،سابق     صدرجنرل پرویزمشرف کی چیف جسٹس سےدرخواست

    میراجینامرناپاکستان،پاکستان کےبغیرنہیں رہ سکتا،سابق صدرجنرل پرویزمشرف کی چیف جسٹس سےدرخواست

    لاہور:سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف نے پاکستان واپس آنے کی خواہش کا ا‌ظہارکردیا،سابق جنرل پرویز مشرف نے کہا ہےکہ پاکستان ان کا جینا مرنا ہے،اس حوالے سے سابق جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پاکستان واپس آنے کی استدعا کردی ،

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیاہےجس میں‌ وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ وہ پاکستان واپس آنا چاہتےہیں، زندگی کے آخری ایام وہ پاکستان میں گزارنا چاہتےہیں، پرویز مشرف نےکہاکہ ان کے اباواجداد،رشتہ دار دوست احباب سب پاکستان میں ہیں لیکن وہ بیماری کی وجہ سے ملک سے باہرتھے اب وہ پاکستان واپس آنا چاہتےہیں،

     

    پرویز مشرف نے اپنے ویڈیو پیغام میں‌ کہاہے کہ وہ نسلاَ اوراصلاَ پاکستانی ہیں وہ دیار غیر میں رہ کرانگریزوں یادیگرقوموں کےساتھ نہیں کرنا چاہتے، ان کی خواہش یہ ہےکہ اب وہ زندگی کے آخری ایام پاکستان میں گزاریں اورجب موت آئے توپاک وطن میں‌ ہی دفن کیا جائے،

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ان کو کوئی علم نہیں‌ کہ انکے خلاف کیا کیسزہیں اور ان کیسز میں چارجز کیا ہیں،انکا کہنا تھا کہ انہوں نے وطن پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کےلیے اپنی زندگی وقف کررکھی تھی،پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اب وہ بہت بیمار ہیں اور ان حالات میں‌ خواہش یہی ہے کہ واپس اپنےوطن چلا جاوں اور اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کےساتھ زندگی کے آخری ایام گزار سکوں‌

    پرویز مشرف نے مزید کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے توجہ دیں اور میری پاکستان واپسی کےلیے اقدامات کریں ،پرویز مشرف کا کہنا تھاکہ وہ کسی مقدمے کے ڈر سے ملک سےباہر نہیں بلکہ طبعیت کےپیش نظراچھے علاج معالجے کےلیے باہر جانا پڑا اب وہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر قسم کی قانونی جنگ لڑنےکےلیے تیار ہیں لیکن اس سے پہلے پاکستان واپس آنے کےانتظامات کیے جائین

  • اعلانات پر نہیں جانا، بلا کر فنڈ جاری کروائیں،عدالت کی ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    اعلانات پر نہیں جانا، بلا کر فنڈ جاری کروائیں،عدالت کی ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    اعلانات پر نہیں جانا، بلا کر فنڈ جاری کروائیں،عدالت کی ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکلا کمپلیکس کی جلد تعمیر اور فنڈز کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے آئندہ سماعت پر وزارت قانون و انصاف کے جوائنٹ سیکریٹری کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا،چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وزارت قانون بتائے کہ وکلاءکمپلیکس کی تعمیر کے لیے فنڈز کیوں نہیں جاری ہوئے؟ عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ سی ڈی اے بھی رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں جمع کروائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ اعلانات پر نہیں جانا، بلا کر فنڈ جاری کروائیں، عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون قاعدہ پورا کرنا ہے، یہ سمجھیں جوڈیشری کا کام ہے، ادھر ادھر نہیں کرنا یہ ہمارا اپنا کام ہے، صاف شفاف کام ہونا چاہیے،

    وکیل سی ڈی اے نے عدالت میں کہا کہ لا منسٹری کو سمری بھیجی وہاں سے کابینہ کو پہنچ گئی ہے، ٹینڈر آؤٹ کردیئے تھے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل سی ڈی اے ہدایات لے کر آئیں کہ فنڈ کہاں ہیں کب جاری ہونگے؟ سی ڈی اے افسر نے کہا کہ ٹینڈر اوپن ہوگیا ہے، کم قیمت پر بڈز منگوائی ہیں،شعیب شاہین نے کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق ایک ملین کا فنڈ جاری ہو چکا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت قانون نے فنڈ جاری کرنے ہیں ،فی الحال وزارت خزانہ کے افسر کو نہیں بلا رہے پہلے وزارت قانون والے آجائیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی

    ستر سال سے کچھ نہیں ہوا،موجودہ حکومت نے کچہری کے لیے بہت کچھ کیا،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    وکلاء احتجاج،ڈی سی آفس بند،جسٹس محسن اختر کیانی کی وکلاء کو مذاکرات کی دعوت

    اسلام آباد ہائیکورٹ اور کچہری کی تمام عدالتیں تاحکم ثانی بند،وکلاء نے مذاکرات میں کیے بڑے مطالبات

    گملوں کا کیا قصور تھا ،100وکلا نے حملہ کیا لیکن بدنامی سب کی ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ

  • سابق چیف جسٹس نورمسکانزئی قاتلانہ حملےمیں شہید :قومی رہنماوں کا اظہارافسوس،قتل کی شدید مذمت

    سابق چیف جسٹس نورمسکانزئی قاتلانہ حملےمیں شہید :قومی رہنماوں کا اظہارافسوس،قتل کی شدید مذمت

    کراچی:سابق چیف جسٹس بلوچستان نورمسکانزئی قاتلانہ حملےمیں شہید:قومی رہنماوں کا اظہارافسوس،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے سابقہ چیف جسٹس نورمسکانزئی قاتلانہ حملے میں شہید ہوچکے ہیں‌ اور ان کے قتل پراظہارافسوس کرتے ہوئےکہا ہے کہ یہ سراسرظالمانہ حرکت ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ محمد نور مسکان زئی کی شہادت پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے ایک تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے سابق چیف جسٹس کی شہادت کو بڑا سانحہ قرار دیا ہے اور دعا کی کہ اللہ تعالئ شہید کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو صدمہ صبر و ہمت سے برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرے۔

    قائم مقام گورنر بلوچستان میر جان محمد خان جمالی نے خاران میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ محمد نور مسکان زئی کے جاں بحق ہونے پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

     

     

    امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے بھی سابق چیف جسٹس کے قتل پراظہارافسوس کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت کےسابق چیف جسٹس نورمحمد مسکانزئی کی نماز کےدوران قاتلانہ حملے میں شہادت سفاکی کی انتہا ہے۔ مرکزی و صوبائی حکومتیں عوام الناس کےجان و مال کےتحفظ میں بری طرح ناکام ہیں۔ اسلام آباد میں اقتدار کی کشمکش نےملک بھر میں امن و امان کی خراب صوتحال کو اور تشویشناک بنادیا ہے

    سراج الحق نے مزید کہا کہ جسٹس نور محمد مسکانزئی سود کے خلاف تاریخی فیصلہ دینے اور ٹرانس جینڈر ایکٹ خلاف کیس کی مسلسل سماعت کرنے پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے

  • سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کی خالی نشستوں پرججز کی تقرری کے لیےجسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی :جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود کی جانب سے لکھے گئے خط میں جوڈیشل کمیشن کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ مزید افواہوں اور قیاس آرائیوں سے بچنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا جائے 9 ماہ گزر جانے کے باوجود پانچ خالی نشستیں پُر نہیں کی جاسکیں رولز کے مطابق جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد30 دن کے اندر نیا جج لگانا لازمی ہے ۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ہماری رائے میں نئے ججز کیلئے ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کے ناموں پر غور کیا جائے ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ہر ہائیکورٹ کے دو سینیئر ججز کے ناموں پر غور کیا جائے۔

    جج صاحبان نے خط میں مزید کہا ہے کہ سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی اٹھائیس ستمبر کو اجلاس بلانے کیلئے خط لکھ چکے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ نہیں ہے بلکہ ایک آزاد آئینی باڈی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار سمیت جوڈیشل کمیشن اراکین نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔ ججز تقرری میں سنیارٹی، میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے لیکن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا۔

    چیف سیکرٹری پنجاب نے مزید ایک ماہ کی چھٹی لے لی

    انہوں نے کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ کہہ کر جونیئر جج لگائے کہ سینئر ججز خود نہیں آنا چاہتے مگر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے ثاقب نثار کی باتوں کی تردید کی تھی۔ سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا-

    انہوں نے کہا تھا کہ جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کے لیے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی۔ جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے اور ججز تقرری کے لیے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ مرحوم جسٹس نسیم حسن شاہ کا غلط فیصلے کا اعتراف ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی واپس نہیں لاسکتا۔ اعلی ٰعدلیہ پر عوام کا اعتماد لازمی ہے اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے قابل اور دیانتدار ججز تعینات ہونے چاہئیں۔ امید ہے چیف جسٹس ججز تقرری سے متعلق تحفظات دور کریں گے۔ خط کی کاپی جوڈیشل کمیشن اراکین اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھی ارسال کی گئی تھی-

    حکومت معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے پرعزم ہے:وزیر خزانہ

  • سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی:2 جج صاحبان کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی:2 جج صاحبان کا چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد:چیف جسٹس کو مشترکہ خط جسٹس سردار طارق اور جسٹس منصورعلی شاہ نےتحریرکیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں فاضل جج صاحبان کی 5 خالی اسامیوں پر تعیناتی کےلیےجوڈیشل کمیشن کے رکن 2 جج صاحبان کا چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں ججز کی 5 خالی اسامیوں پر تعیناتی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں فاضل جج صاحبان کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کے رکن 2 جج صاحبان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط مشترکہ طور پر خط لکھا ہے۔

    چیف جسٹس کو مشترکہ خط جسٹس سردار طارق اور جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔ جس میں خالی اسامیوں پر فوری تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خط میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی اسامیاں فروری سے خالی ہونا شروع ہوئیں،سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ خالی اسامی پر تعیناتی 30 دن میں ہو، متعدد ملاقاتوں میں بھی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا لیکن کچھ نہیں ہوا۔

    سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی اجلاس بلانے کیلئے 28 ستمبر کو خط لکھا تھا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس اور 16 ججز ہوتے ہیں، اس وقت سپریم کورٹ میں 5 ججوں کی اسامیاں خالی ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ 30 فیصد کم استطاعت پر کیوں چل رہی ہے؟ خدشہ ہے کہ کہیں سپریم کورٹ غیر فعال ہی نہ ہو جائے۔

    جولائی کے اواخر میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا تھا تاہم اس میں ججز کے حوالے سے چیف جسٹسن کی تجاویز کو رد کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔

    اجلاس کو ملتوی کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے تجویز دی تھی کہ جن کے نام سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لیے پیش کیے گئے تھے ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اجلاس کو مؤخر کر دیا جائے۔

  • چیف جسٹس نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف کو ڈریکونین قانون قرار دے دیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف کو ڈریکونین قانون قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈاکی تاحیات نااہلی کےخلاف درخواست پر سماعت کی۔

    ہیکرز کا فرح گوگی کی عمران خان بارے آڈیو ریلیز کرنے کا اعلان

    سماعت کے موقع پر مدعی کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے 2018 میں انتخاب لڑا اور 2 سال بعد نا اہلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر ہوئی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو غلط بیان حلفی پر تحقیقات کا اختیار حاصل ہے، الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کیس میں حقائق کا درست جائزہ لیا، اگر الیکشن کمیشن کا تاحیات نااہلی حکم کو کالعدم قرار دے دیں تب بھی حقائق تو وہی رہیں گے،اس کیس میں سوال بس یہ ہے کہ الیکشن کمیشن تاحیات نا اہلی کا حکم دے سکتا ہے یا نہیں۔

    وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں واضح کہا کہ فیصل واوڈا نے دہری شہریت تسلیم کی ہے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف ڈریکونین قانون ہے، ہم موجودہ کیس کومحتاط ہوکر سنیں گے، کیس کو تفصیل سے سنیں گے بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    یورپی ایوی ایشن سیفٹی کا پی آئی اے پروازیں بحال کرنے سے انکار

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا کو رواں سال 9 فروری کو دہری شہریت کیس میں تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری مختصر فیصلے میں کہا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے اپنےکاغذات نامزدگی میں غلط بیانی سےکام لیا اور کاغذات نامزدگی کےوقت جعلی حلف نامہ جمع کرایا۔

    بعد ازاں فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیار پر تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کرائے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کوآرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں۔

    پولیس کی بے حسی یا بوڑھی ماں کا نصیب

  • نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،وکیل نے ایک اور درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،وکیل نے ایک اور درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،وکیل نے ایک اور درخواست دائر کر دی

    سپریم کورٹ .نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست کا معاملہ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اضافی دستاویزات جمع کرانے کیلئے درخواست دائر کر دی

    دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست منظور کرتے ہوئے اضافی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے،نیب ترامیم کے باعث سینکڑوں ریفرنس واپس کر دیئے گئے ہیں حالیہ نیب ترامیم سے کرپشن کے متعدد مقدمات نیب عدالتوں نے ختم کر دیئے ہیں،حکومت نے نیب ترامیم کرپشن چھپانے کیلئے کی ہیں،نیب عدالتوں سے واپس کیے گئے تمام ریفرنسز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کل کیس کی سماعت کرے گا

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
    عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) گلزار احمد کے ڈرائیور پر تیزاب  حملہ

    سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) گلزار احمد کے ڈرائیور پر تیزاب حملہ

    کراچی :سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) گلزار احمد کا ڈرائیور کراچی کے علاقے صدر میں تیزاب کے حملے میں شدید جھلس گیا۔ تیزاب گردی کے واقعے میں دو بچوں سمیت تین افراد معمولی زخمی ہوئے۔پریڈی پولیس کے مطابق واقعہ ایم اے جناح روڈ سے صدر ایمپریس مارکیٹ کی طرف آتے ہوئے پیش آیا۔

    پولیس کے مطابق 40 سالہ خرم احمد صدر میں ایم اے جناح روڈ سے ایمپریس مارکیٹ کی طرف آ رہا تھا کہ رینبو سینٹر کے قریب اچانک اس پر کسی نے تیزاب پھینک دیا۔واقعے کے بعد ٹریفک پولیس اہلکار نے اسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا۔

    پولیس اہلکار بلاول کے مطابق وہ ایمپریس مارکیٹ کے قریب ڈیوٹی پر موجود تھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار شخص اپنے بچوں کے ساتھ اس کے پاس رکا اور بتایا کہ اسے ہاتھ پاؤں پر جلن محسوس ہو رہی ہے، جبکہ مذکورہ افراد کے کپڑے بھی معمولی جلے ہوئے تھے۔

     

    اس کا کہنا تھا کہ اس دوران اس نے عقب میں دیکھا کہ ایک اور شخص بھی جھلسا ہوا تھا اور اس کے قریب کافی لوگ جمع تھے۔

    پریڈی تھانے کے ایس ایچ او سجاد خان کے مطابق خرم احمد آصف کالونی منگھوپیر روڈ کا رہائشی ہے جو سندھ سیکریٹریٹ کے پروٹوکول ڈپارٹمنٹ میں 14 سال سے ملازم ہے اور سابق چیف جسٹس گلزار احمد کے ڈیفنس میں بنگلہ پر بحیثیت ڈرائیور نوکری کرتا ہے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ خرم احمد کے گھر سے ڈیوٹی پر جاتے ہوئے رینبو سینٹر کے قریب دوپہر 12 بجے چلتی موٹرسائیکل پر پیش آیا۔

    سجاد احمد کے مطابق صدر میں رینبو سینٹر کے آس پاس کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پریڈی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • جمہوریت کا استحکام آئین وقانون کی بالادستی سے وابستہ ہے، چیف جسٹس

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے 9ویں بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوئے،بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں، کانفرنس شرکا کا تقاریر کو صبروتحمل سے سننا قابل ستائش ہے، کانفرنس میں شریک تمام مندوبین کا خیر مقدم کرتا ہوں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان میں بہت تباہی آئی ہے، کانفرنس سے عدالتی نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی،سیلاب زدگان کی مدد کیلئے ہم نے ایک کوشش کی ہے، آئین پاکستان عوام کے امنگوں کاترجمان ہے، آئین پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے یوسف رضا گیلانی کیس میں آئین کی پاسداری کی گئی، نعمت اللہ کیس میں آئین کی شق9 پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا،عدلیہ نے بلا تعصب قانون کی بالادستی کویقینی بنایا،عدلیہ نے معاشرے کے محروم طبقے کے حقوق کے تحفظ کیلئے یادگار فیصلے کیے، آئین کی شق 9کے تحت عوامی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے،جمہوریت کا استحکام آئین وقانون کی بالادستی سے وابستہ ہے، حالیہ سیلاب قانون سازوں کیلئے ویک اپ کال ہے،انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ نے سوموٹونوٹسز لیے،گڈگورننس بھی قانون کی بالادستی کا ایک اہم جزو ہے، سستا اور فوری انصاف ہماری ترجیح ہے عدم اعتماد کی تحریک میں قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا،سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا غیر آئینی قرار دیا،ڈپٹی اسپیکر پنجاب نے آئین سے متصادم رولنگ دی،عدالت نے ڈپٹی اسپیکر پنخاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیکر آئین کا نفاذ کیا گڈگورننس بھی قانون کی بالادستی کا ایک اہم جزو ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے،سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام میں عدلیہ کے کردار بہتر کرنے کیلئے ججز سے مشاورت کی،بطورادارہ ہائیکورٹ میں بھی کمی وکوتاہی ہوگی،ایک سول جج صبح 8بجے سے لیکر شام تک کام کرتا ہے،ایگزیکٹواپناکام بہترکرے توعدالت کوسیاسی معاملات میں مداخلت کی ضرورت نہیں پڑیگی،نظام انصاف میں بہتری لانے کیلئےتمام اسٹیک ہولڈرز کیساتھ ملکرکام کرنے کیلئے تیارہیں آئین پر حلف اٹھا کر مارشل لاء کے نفاذ کو جائز قرار دینے کے فیصلے دیئے گئے،عدالتوں کو اس انداز سے فرائض انجام دینے چاہئیں جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے،

  • عدالت اداروں کے تحفظ  کیلئے ذرا ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگی، چیف جسٹس

    عدالت اداروں کے تحفظ کیلئے ذرا ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگی، چیف جسٹس

    خوشی ہے زیرالتوامقدمات کی تعداد 50 ہزار 265 تک نیچے آ گئی، چیف جسٹس
    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چارج سنبھالا تو فوری فراہمی انصاف، زیر التوا مقدمات کے چیلنجز درپیش تھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ از خود نوٹس کے اختیارات کا استعمال بھی ایک چیلنج تھا،خوشی ہے کہ زیر التوامقدمات کی تعداد50 ہزار 265 تک نیچے آ گئی ہے،صرف جون سے ستمبر تک 6 ہزار 458 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا،زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی نے گزشتہ 10 سالہ اضافے کے رحجان کو ختم کیا،ججز نے اپنی چھٹیوں کو قربان کیا،آئندہ 6 ماہ میں مقدمات کی تعداد 45 ہزار تک لے آئیں گے ،فراہمی انصاف کے متبادل نظام سے زیر التوا مقدمات میں 45 فیصد تک کمی آئے گی،ججز تقرریوں کے سلسلے میں بار کی معاونت درکار ہے،آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کو جلد سنا جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئین کا ہر تناظر میں تحفظ کرنے کیلئے پرعزم ہے،سپریم کورٹ عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کاآئینی تحفظ کرنے کیلئے پرعزم ہے،پارلیمان وفاقی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کاتحفظ یقینی بنایا جائے گا، ماتحت، اعلیٰ عدلیہ، آڈیٹر جنرل اور سروسز آف پاکستان کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے گا،آئینی اداروں کونیچا دکھایا گیا تویہ عدالت اداروں کے تحفظ کیلئے ذرا ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگی، سپریم کورٹ ملک میں جاری حالیہ سیاسی چیلینجز اور معاشی حالات کی سنگینی سے بھی آگاہ ہے، ملک میں اس وقت بدترین سیلابی صورتحال کے سبب تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے متاثر ہے، سپریم کورٹ کے ججز نے رضاکارانہ طور پر سیلاب زدگان کے لئے تین دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے، سپریم کورٹ سٹاف نے بھی دو دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کی ہے،سیلابی صورتحال کے تناظر میں تمام سیاسی جماعتیں، ان کے قائدین، فیصلہ ساز، مراعات یافتہ طبقہ اپنے اختلافات ایک طرف کرکے متحد ہو،وقت آ گیا ہے کہ ذاتی ایجنڈوں کو بالائے طاق رکھ کر قوم کی بہتری کے لیے کام کیا جائے،سپریم کورٹ آئین اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی، اسی حوالے سے پاکستان کے قیام کے پچھتر سال پورے ہونے پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا،کانفرنس میں عدلیہ کے کردار کی ادائیگی پر بحث کی جائے گی، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، پر امید ہوں کہ اللّٰہ ہماری مخلصانہ کوششوں کو فائدہ مند بنائے گا،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    قبل ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی توجہ ایک بار پھر ایک اہم آئینی و عدالتی معاملے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو کہ اعلی عدلیہ میں تعیناتیوں سے متعلق ہے ۔ ماضی قریب میں عدالت عظمی کے معزز جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کے سبب اس وقت عدالت عظمی میں معزز جج صاحبان کی تعداد محض 12 تک محدود ہو چکی ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلاء تنظیموں کی جانب سے عدالت عظمی میں ہونے والی تقرریوں کی بابت قراردادیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ہم آج ایک بار پھر اپنے ماضی کے مطالبات کی روشنی میں گزارش کرتے ہیں کہ جناب چیف جسٹس آف پاکستان اور جوڈیشل کمیشن کے ممبران ، معزز جج صاحبان اور وکلا تنظیموں کے مقرر کردہ نمائندوں کی مشاورت سے تعیناتی کے میعار کو Notify کیا جائے تاکہ اس اہم مسئلہ کا احاطہ ایسی بنیاد پر کیا جائے جس سے کسی بھی مکتبہ فکر کو عدلیہ کے ادارے پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے اور تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لئے درست سمت موڑا جا سکے۔اس ضمن میں بہتر ہو گا کہ افہام و تفہیم کے کارگر اصول پر عمل کرتے ہوئے تمام معاملات کا موزوں حل تلاش کیا جائے تاکہ ادارے کے وقار اور تکریم کو برقرار رکھا جا سکے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان اور تمام وکلا برادری، اعلی عدلیہ اور لوئر جوڈیشری کے ججز اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف ہونے والے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈہ اور سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے ان کی کردار کشی کی مذموم کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اس ملک کے نظا ِم انصاف سے جڑے تمام ججز ہمارے لئے نہ صرف انتہائی محترم و مکرم ہیں بلکہ ملکی سالمیت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔ جن کے خلاف کسی قسم کی بھی توہین آمیز گفتگو ناقابل برداشت ہے۔