Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • صدر مملکت کا عمران خان کا خط وزیراعظم و چیف جسٹس کو بھجوانے کا اعلان

    صدر مملکت کا عمران خان کا خط وزیراعظم و چیف جسٹس کو بھجوانے کا اعلان

    صدر مملکت نے عمران خان کا خط وزیراعظم و چیف جسٹس کو بھجوانے کا اعلان کر دیا
    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےسابق وزیر اعظم عمران خان کے خط کا جواب دے دیا،

    صدر مملکت نے خط میں حکومت میں تبدیلی لانے کیلئے مبینہ سازش کی تحقیقات پر زور دیا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ حکومت میں تبدیلی کی مبینہ سازش کی مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے،پاکستانی عوام کو وضاحت دینے، معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے حالات پر مبنی شواہد ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کی طرف سے بھیجی گئی سائفر کی کاپی پڑھی، سائفر میں ڈونلڈ لو کے ساتھ پاکستانی سفارت خانے میں ہونے والی ملاقات کی باضابطہ سمری موجود تھی، سائفر کی رپورٹ میں مسٹر لو کے بیانات شامل ہیں جن میں خاص طور پر وزیر اعظم کے خلاف ‘عدم اعتماد کی تحریک’ کا ذکر کیا گیا، سائفر میں تحریک کی کامیابی کی صورت میں ‘معافی’، ناکامی کی صورت میں سنگین نتائج کا بھی ذکر ہے،قومی سلامتی کمیٹی کے دو اجلاسوں میں توثیق کی گئی کہ بیانات پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول اور صریح مداخلت کے مترادف ہیں،پاکستان نے بجا طور پر ڈی مارش جاری کیا،دھمکیاں خفیہ اور ظاہراً دونوں ہو سکتی ہیں،اس خاص معاملے میں غیر سفارتی زبان میں واضح طور دھمکی دی گئی،

    صدر مملکت نے جوابی خط میں مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم نے اپنے خط میں دھمکی پر ممکنہ ردعمل اور اثرات کا ذکر کیا،ایک خودمختار، غیور اور آزاد قوم کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی، معاملے کی تفصیلی جانچ اور تحقیقات کی ضرورت ہے، پاکستان کی تاریخ میں بہت سی سازشوں کی تحقیقات بے نتیجہ رہی، عالمی سطح پر بھی سازشوں کی تصدیق عشروں بعد خفیہ دستاویزات جاری کرنے کے بعد ہوتی ہے،لمبے عرصے بعد خفیہ دستاویزات جاری کرنے تک ملکوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے، حالات و واقعات پر مبنی شواہد حاصل کرنے سے بھی معاملے کو انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے،عمران خان کا خط وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس کو بھیج رہا ہوں،چیف جسٹس معاملے کی تحقیقات اور سماعت کیلئے بااختیار عدالتی کمیشن قائم کریں،

    کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

    این اے 33 ہنگو،ضمنی انتخابات، پولنگ جاری،سیکورٹی سخت

    پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج

    چودھری پرویز الہیٰ کو پولیس نے بلا لیا

    پرویز الہیٰ کی جانب سے حملے کے الزام کے بعد رانا مشہود بھی خاموش نہ رہ سکے

    عمران خان کو”پریس فریڈم پریڈیٹر”کا شرمناک خطاب دیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف،بلاول کا بھی خصوصی پیغام

  • از خود نوٹس کسی کی مرضی سے نہیں لیتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال

    از خود نوٹس کسی کی مرضی سے نہیں لیتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال

    از خود نوٹس کسی کی مرضی سے نہیں لیتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ از خود نوٹس کسی کی مرضی سے نہیں لیتے، سپریم کورٹ سوچ بچار کے بعد از خود نوٹس لیتی ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر 12 ججز کی مشاورت سے ازخود نوٹس لیا گیا،12ججزنے کہا آئینی معاملہ ہے ازخود نوٹس لیا جائے،ریفرنس اور آئینی درخواستیں عدالت کے سامنے ہیں، مخدوم علی خان کی التواء کی درخواست بھی آئی ہے،

    معاون وکیل نے عدالت میں کہا کہ مخدوم علی خان 15 مئی کی شام ملک واپس پہنچیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنا انتظار کرنا ممکن نہیں ہوگا، مخدوم علی خان سے جلد واپس آنے کی درخواست کریں،بابر اعوان کے بعد اظہر صدیق کا موقف بھی سنیں گے، قانونی سوال پر عدالت اپنی رائے دینا چاہتی ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال صرف آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ہے،تشریح وفاق پر لاگو ہو یا صوبوں پر یہ ہمارا مسئلہ نہیں،عدالت کی جو بھی رائے آئے گی تمام فریق اسکے پابند ہوں گے، اظہر صدیق نے کہا کہ سینیٹ الیکشن پر عدالتی رائے کا احترام نہیں کیا،

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ

  • سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی عمران خان سے ملاقات

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی عمران خان سے ملاقات

    لاہور:ثاقب نثار کی عمران خان سے ملاقات، اہم قانونی معاملات پر مشاورت،اطلاعات کے مطابق سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی زمان پارک لاہور میں ملاقات ہوئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے ثاقب نثار کو قانونی مشاورت کے لیے بلایا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ثاقب نثار عمران خان کی خواہش پر ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

    ذرائع کے مطابق ثاقب نثار سے وزیراعلیٰ کےحلف پر ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی بات ہوئی۔یاد رہےکہ لاہور ہائی کورٹ نے کل تک گورنر کو حلف لینے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) نے حمزہ شہباز کی حلف برادری سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیل تیار کرلی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی،ق لیگ نے لاہور ہائیکورٹ کافیصلہ چیلنج کرنےکا اعلان کردیا ہے اور حمزہ شہباز کی حلف برادری کی درخواست پر فیصلےکیخلاف اپیل تیار کرلی ہے۔

    معروف وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اپیل آج ہی دائر کی جائے گی، کیونکہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کیخلاف ہے، حلف کی معیاد مقرر کرنا صدر اور گورنر کی عہدے کی توہین ہے۔

    ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ آرٹیکل 248 صدر اور گورنر کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، لاہور ہائیکورٹ کےپاس گورنر اور صدر کیخلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز حلف برداری کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا تھا کہ گورنر پنجاب کل تک حلف برداری لازمی کرائیں۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین فوری طور پر وفاقی یا صوبائی حکومت بنانے کی تجویز دیتا ہے، موجودہ صورتحال کے مطابق صدر یا گورنر فوری حلف لینے کے آئینی طور پر پابند ہیں، گورنر یا صدر وزیر اعلیٰ یا وزیراعظم سے حلف لینے میں تاخیرکرنے کے مجاز نہیں اور آئین میں ایسی تاخیر پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں دی گئی۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پنجاب گزشتہ پچیس روز سے بغیر حکومت کے چل رہا ہے لہذا عدالت گورنر پنجاب کو نئے وزیر سے حلف لینے کا پراسس مکمل کرنے کی تجویز دیتی ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اس وقت عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمےداری نبھارہے ہیں، گورنر پنجاب پابند ہیں کہ وہ قانون کے مطابق حمزہ شہباز کا بطور وزیر اعلیٰ حلف لیں۔

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے،

     کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

  • کوئی سیاسی کیس کا فیصلہ دیں تو وہ ہیڈ لائن بنتی ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    کوئی سیاسی کیس کا فیصلہ دیں تو وہ ہیڈ لائن بنتی ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    کوئی سیاسی کیس کا فیصلہ دیں تو وہ ہیڈ لائن بنتی ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    اسلام آباد ہائیکورٹ، کچی آبادیوں کے مسائل سے متعلق کیس کی سماعت آئندہ ما ہ تک ملتوی کر دی گئی

    کچی آبادیوں اور کمزور طبقات کے مسائل کیسے حل ہوں؟ عدالتی معاونین سے رپورٹ طلب کر لی گئی،عدالت نے عدالتی معاونین ایڈووکیٹ عدنان رندھاوا اور عمر گیلانی کو ریسرچ کر کے حل تجویز کرنے کی ہدایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچی آبادیوں میں وہ لوگ رہ رہے ہیں جن کی نمائندگی ہمارے جھنڈے کا سفید رنگ کرتا ہے، کچی آبادی میں رہنے والے ان لوگوں کے ساتھ ریاست غیر انسانی سلوک نہیں کر سکتی،ان لوگوں کے پراپرٹی رائٹس کو نالوں پر بنی بستیوں میں تسلیم کر لیا گیا ہے، ایسی جگہ پر ان کا رہنا نہ صرف ان کیلئے توہین آمیز ہے دیگر شہریوں کیلئے بھی خطرناک ہے،آپ نالے بند کریں گے تو سیلاب آئے گا، ای الیون میں بھی ایسا ہو چکا ہے، کوئی سیاسی کیس کا فیصلہ دیں تو وہ ہیڈ لائن بنتی ہے،پسے ہوئے طبقوں سے متعلق فیصلوں پر کہیں بات نہیں ہوتی،پچھلے سال کے ہمارے 3 بڑے فیصلے پسے ہوئے طبقوں سے متعلق تھے کہیں ان پر بات نہ ہوئی،صرف ایلیٹ کے مسائل پر بات کرنے کی روش بدلی تو سب ٹھیک ہو جائے گا

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

  • پی ٹی آئی کو ایف نائن پارک میں اجتماع کی اجازت نہ ملنے کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    پی ٹی آئی کو ایف نائن پارک میں اجتماع کی اجازت نہ ملنے کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    پی ٹی آئی کو ایف نائن پارک میں اجتماع کی اجازت نہ ملنے کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو ایف نائن پارک میں اجتماع کی اجازت دینے کا حکم دے دیا

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کی درخواست انتظامیہ کو ہدایت کے ساتھ نمٹا دی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے حکم دیا کہ صحت مندانہ سرگرمی ہے انکو نہ روکا جائے عدالت توقع کرتی ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے گا،

    قبل ازیں اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہ دینے پر پی ٹی آئی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی ,پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر علی نواز اعوان نے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور جلسے کی اسلام آباد میں بڑی سکرین لگانے کی اجازت دی جائے، پاسلام آباد انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر سکرین اور پارک بند کردیا،عدالت پرامن جلسہ کرنے کی اجازت دے درخواست میں ڈی سی اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آج ہی درخواست پر سماعت کرکے اسلام آباد میں ویڈیو جلسے کی اجازت دیں،

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    عمران خان منتخب وزیراعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں،عدالت

  • تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس

    تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی رضا ربانی نے بطور پارلمیٹرینز ان پرسن دلائل کا آغاز کر دیا ،رضا ربانی نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے بعد آئینی عہدیداروں نے آئین کی خلاف ورزی کی،جمہوری اداروں پر بدنیتی تنقید کے دو طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں، بدنیتی پر مبنی تنقید سے یا ملک فاشزم کی طرف جاتا ہے یا سویت یونین بنتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کیلئے کیلئے کھڑی ہے، رضا ربانی نے کہا کہ آئین کیلئے کھڑے ہونے پر ہی اداروں کے خلاف مہم چلی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو ماننے والے جب تک ہیں تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں، عدالت کا کام سب کے ساتھ انصاف کرنا ہے،تاریخ بتاتی ہے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دیں ہیں،قربانیاں دے کر بھی پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اداروں کا ساتھ دیا ہے، کوئی ہمارے بارے میں کچھ بھی سوچے ملکےکی. خدمت کرتے رہیں گے،قربانیاں دینے والوں کا بہت احترام کرتے ہیں،

    رضا ربانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کے دیے گیے ڈیکلریشن کا جائزہ لے سکتا ہے،کمیشن بااختیار ہے کہ ڈیکلریشن کے شواہد شکوک و شبہات سے پاک ہوں،لازمی نہیں کہ پارٹی سے وفا نہ کرنے والا بے ایمان ہو، کاغذات نامزدگی میں دیا گیا حلف پارٹی سے وابستگی کا ہوتا ہے،اصل حلف وہ ہے جو بطور رکن قومی اسمبلی اٹھایا جاتا ہے، آرٹیکل تریسٹھ اے ارکان کو پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہ دینے کا خوف دلاتا ہے،ارکان کو علم ہوتا ہے کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دیا تو نتائج ہوں گے، اٹارنی جنرل مغربی جمہوریتوں کی مثالیں دیتے رہے جو غیر متعلقہ ہیں،پاکستان میں سیاسی جماعتیں دوسرے ممالک کی طرح ادارے نہیں بن سکیں،ریاست ارکان کو ایک سے دوسری جگہ بھیج کر حکومتیں گراتی رہی،

    رضا ربانی نے کہا کہ مغرب میں ریلوے کے حادثہ پر وزیر فوری استعفی دے دیتا ہے، ایسے حادثات پر وزیر کا استعفی آنا چاہیے،پاکستان میں استعفی دینے کا کلچر نہیں، پاکستان میں چند دن پہلے وزیر اعظم آئین کی خلاف ورزی کے لیے تیار تھا، وزیر اعظم سنگین خلاف ورزی کے لیے تیار تھا لیکن استعفی نہیں دیا،پارٹی سے انحراف پر آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا اطلاق نہیں ہوتا،آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت منحرف رکن ڈی سیٹ ہونا ہے نااہل نہیں،انحراف کی سزا رکنیت کا خاتمہ ہے مزید کچھ نہیں،منحرف رکن کو نااہل کرنا مقصد ہوتا تو مدت کا تعین بھی آئین میں کیا ہوتا، سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہی منحرف رکن کی شرمندگی کے لیے کافی ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیکر آپ رو پڑے تھے،اپ نے تقریر میں کہا تھا کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہے، اگر مستعفی ہوجائے تو کیا خیانت ہوتی؟ رضا ربانی نے کہا کہ استعفی دینے کے بعد حالات کا سامنا کر سکتا تھا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپ نے کسی خوف کا اظہار نئیں کیا تھا، رضا ربانی نے کہا کہ استعفی دینے کے لیے اخلاقی جرات نہیں تھی ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ سینیٹر تھے عوام کے منتحب کردہ نمائندے نہیں،رضا ربانی نے کہا کہ میرا حلقہ پورا سندھ ہے سینیٹرز بھی خود کو منتحب کہلانا پسند کرتے ہیں، پارٹی کے خلاف ووٹ دینے سے پہلے استعفی دینا ہمارے حالات میں آپشن نہیں ہے،استعفی دینے کا مطلب سیاسی کیرئیر کا خاتمہ ہے، سینیٹر رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجر بینچ کا حصہ ہیں

    عدم اعتماد کا معاملہ،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے درخواست پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر کی ،سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی

    بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ کی اجازت سے میں گزشتہ روز پیش ہوا تھا آج میں پی ٹی آئی کی طرف سے پیش ہورہا ہوں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کو بعد میں سن لیں گے ،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ میں دوباتیں کرنا چاہتا ہوں اسکی اجازت چاہیے، صدارتی ریفرنس میں 31مارچ کا جو حکم جاری ہوا وہ اہم ہے،عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا،جو کچھ بھی ہوا سب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں ،الیکشن کیلئے تیار ہیں، سارا مسئلہ جلدی الیکشن کا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی بیان ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے سیاسی باتیں نہ کریں ،ہم آج کوئی مناسب حکم جاری کریں گے،ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ساری جماعتوں کے وکلا یہاں موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں سب کو سنیں گے، آپ ہمیں کیس سمجھائیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو بتائیں،اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے،قومی اسمبلی میں جو کل ہوا ہے اُسکا آئینی جائزہ لینا ہوگا۔عدالت نے پیپلز پارٹی کے وکیل کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے 10 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے،عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 95 وزیراعظم پر کسی چارج یا الزام کی بات نہیں کرتا عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ،اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر بھی وزیراعظم والا طریقہ کار لاگو ہوتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دی جب ریکوزیشن قوائد کے مطابق جمع ہو تو 14دن میں اجلاس بلانے کا پابند ہے اسپیکر نے تیرہویں دن اجلاس بلایا ،20 تاریخ تک بلانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ریکوزیشن کے بعد ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ اجلاس 14 دنوں میں بلایا جانا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، 28 مارچ کو ایم این اے کی فوتگی کی وجہ سے دعا کے بعد اجلاس ملتوی کیا گیا،جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کیس ہم نہیں سن رہے،آپ کا کیس وہ نہیں جو آپ بول رہے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں، وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں،کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو ؟کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے؟ کیا 10 مارچ آرڈر آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں؟کیا 10 مارچ آرڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے،50 ارکان کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہوتو کیا تحریک پیش ہوگی؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی نے قرارداد کی اجازت دے کر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چھوڑیں یہ سب، اور مقدمے کے حقائق کی طرف آئیں،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی ضابطہ کارروائی میں یہ درج ہے کہ سپیکر کوئی بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے اب آپ یہ بتائیں کہ اسپیکر نے صحیح کیا یا غلط؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی ،تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے. فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا بحث کی تاریخ مختص نہ کرنے پر اعتراض کیا؟ فاروق نائیک نے کہا کہ ہم تو صرف بٹن دبا سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟

    پیپلزپارٹی وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کر دی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سوال کیا فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت اسپیکر دیتا ہے کہ ایوان ؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے؟ اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا، 27مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بیرونی لوگوں کی سازش کا حصہ ہے،31مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا،اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کر کے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں

    وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے بیرون ملک سے موصول ہونے والے خط پر تقریر کی 31مارچ کو رولنگ میں بھی تحریک پر بحث کا نہیں کہا گیا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی کوشش بھی کی عمران خان نے 27 مارچ کو عوامی جلسے میں ایک کی سازش سے آگاہ کیا تین اپریل کو اجلاس اس لئے بلایا گیا کہ اس دن بحث ہوگی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ رولز میں وہ کونسی پرویژن ہے جس کے تحت اسپیکر بحث کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رول 28 میں ہے کہ اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوجاتا ہے تو اس پر بحث ایوان میں کرانی لازم تھی جو رولنگ دی گئی تھی وہ غیر قانونی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ایسی کوئی رولنگ جو اسپیکر کا اختیار ہے وہ اس پر رولنگ دے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ دینے وقت اسپیکر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رولنگ غیر قانونی ہے،ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے؟ رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات کی منتقلی ایسے ہی ہے جیسے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات ہوں،جس رولنگ کو آپ چیلنج کررہے ہیں آپ کے مطابق وہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات میں نہیں رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، جسٹس مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جب 198 ووٹرز موجود تھے تو پھر کیا ووٹنگ ہونا چاہیے تھی،ایوان میں فیصلہ تو ووٹنگ کے تحت ہونا ہے، فاروق ایچ نائک نے کہا کہ ممبر کیریکٹر پر ایوان میں بات نہیں ہوتی صرف ووٹنگ ہوتی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،قائمقام سپیکر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے،جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 3اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھا،دوسرا کوئی ایجنڈا کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ 198ارکان میں کیا پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے؟ فاروق نائک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے ووٹ تو نہیں ڈالا،اپوزیشن کے 175 ارکان موجود تھے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے، کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد 3 منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نکتے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں؟ اسپیکر کیطرف سے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ اگر ہم سمجھیں کہ دی گئی رولنگ غیر قانونی ہے تو وہ کیوں ؟ اس بارے میں بتائیں .آپ کہتے ہیں کہ ایک بار موشن ایوان میں پیش ہوجائے تو اسکا فیصلہ جو بھی ہو، ایوان میں پیش ہونے کے بعد موشن کے قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا نہیں جاسکتا، آپ کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا یہ موقف یہی ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اسکی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پروسیجرل غلطی آرٹیکل 69 میں کور نہیں ہوگی،پارلیمان کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ وہ کون سی اسٹیج ہے جہاں اسپیکر قرارداد کی ویلیڈیٹی کو دیکھ سکتا ہے ؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ صرف آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی پر۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یعنی آپکے مطابق اسپیکر کے پاس کوئی گراؤنڈ موجود نہیں تھا کہ وہ قرارداد کو ختم کرتے اور انکا یہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے میں درخواست گزاروں سے زیادہ جلدی میں ہے ہم اس فیصلے میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی اور کالعدم بھی، اپوزیشن کو آج ہی فیصلے کا انتظار مگر ان کی وکیل نے عدالتی سوالات پر جواب کیلئے کل تک کی مہلت مانگ لی ،فاروق نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج ہو سکتی ہے، عدالت نے کہا کہ اپنے اس نکتے پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیں،فاروق نائک نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تو مطمئن کر سکتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ وقت مانگ رہے ہیں ہم تو آپ سے زیادہ کام کر رہے ہیں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کا ہے،کوئی عدالتی فیصلہ بتائیں جس میں عدالت نے آرٹیکل 69 کی تشریح کی ہو، آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے،غیر قانونی غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگررولنگ کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو یہ مستقبل میں ہمارے لیے مسائل پیدا کریگا رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا،تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا،محب وطن ہونے اور مذہب کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کو کل تک ملتوی کر دیتے ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس کو عدالت آج مکمل کرے اس پر ملکی اور غیرملکی آنکھیں لگی ہوئی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ رضا ربانی آپ اور مخدوم علی خان کتنا وقت دلائل کے لیے لینگے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ممکن ہوسکے تو کل تک سماعت ملتوی کریں آج ہی سماعت مکمل کرکے آج فیصلہ دیں ایسا ممکن نہیں یہ بڑا حساس معاملہ ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت کل 12بجے تک ملتوی کر دی گئی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات مستقبل پر پڑیں گے،فاروق نائک نے کہا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کو توڑ چکے ہیں اور عمران خان کو وزیر اعظم رکھا گیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اگر اپنے دلائل تحریری کے طور پر دیتے تو 2 گھنٹے میں سارے وکلا کو سن لیتے،ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،

    قبل ازیں اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ عدالت کے سامنے رکھیں گے، جو بھی عدالتی فیصلہ ہوگا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف سپریم کورٹ پہنچ گئے ،ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب بھی شہباز شریف کے ہمراہ تھیں، پی ٹی آئی اور متحدہ اپوزیشن کے رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے

    سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی ڈپٹی اسپیکر رولنگ پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا ہے، عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وکلاء کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا تھا صدر مملکت، سیکریٹری دفاع و داخلہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل سے ازخود نوٹس میں معاونت طلب کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر گذشتہ روز کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا ججز کو تنخواہ دار ملازم کہنا انتہائی نامناسب ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا فل بینچ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جس کو کوئی مسئلہ ہے میرے پاس آئے میرے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں،بینچ تشکیل دینا اور کیس لگانا یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے،عدلیہ اور ججز پر انگلیاں اٹھانا بند کریں، ججز پر الزامات لگانا بند کر دیں،جس بندے پر اعتراض ہے اس کا نام لیں بینچ تشکیل دینا اور کیس لگانا چیف جسٹس کا اختیار ہے،عام طور پر سخت الفاظ استعمال نہیں کرتا،ججز رولز کمیٹی میں میرے برابر جج نے طریقہ کار پر اتفاق رائے کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کی تعیناتی بہترین افسران میں سے کی گئی ہے رجسٹرار کو قانون کا بھی علم ہے اور وہ انتظامی کام بھی کرنا جانتے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں انتظامی کام بھی میں کروں؟ کونسا مقدمہ مقرر ہونا ہے اور جس بنچ میں مقرر کرنا ہے یہ فیصلہ میں کرتا ہوں کسی جج کو بغیر ثبوت کے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا بنچ تشکیل دینے کا اختیار ہمیشہ سے چیف جسٹس کا رہا ہے احسن بھون کس روایت کی بات کر رہے ہیں؟ بیس سال سے بینچز چیف جسٹس ہی بناتے ہیں بلاوجہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں ؟ رجسٹرار کی تعیناتی چیف جسٹس کرتے ہیں ججز تقرری کیلئے سب سے اہم ان کی دیانتداری، اہلیت، اور قابلیت ہے،جج کا تحمل اور اس کی ہر قسم کے اندرونی یا بیرونی دباو سے آزادی اہم ہے، اگر آکر مجھ سے بات نہیں کر سکتے تو آپ محض اخباروں کی زینت بننا چاہتے ہیں،احسن بھون کو کون سی عدالتی پریکٹس پر اعتراض ہے؟میرے دروازے احسن بھون کےلیے رات 9 بجے بھی کھلے ہیں ہماری تقرری غیرجانبدار ہوتی ہے،ہم بنا کسی دباؤ کام کرنے والے لوگ ہیں،میرے رجسٹرار کو گالیاں دینا بند کریں،میرے رجسٹرار کا 20 سالہ تعلیمی تجربہ ہے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں فیصلوں پر تنقید کریں ججز کی ذات پر نہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہم لوگ تو برادری کی بات باہر نہیں کرتے گھر کی بات گھر تک رہنی چاہیے، بینچز کی تشکیل پر اعتراض کرنے والے بتائیں کہ 15 سے 20 سال کیسے بینچ تشکیل دیئے گئے؟ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ملک بھر کے وکلا کا نمائندہ ہوتا ہے، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عہدے اور منصب کا خیال رکھیں، رجسٹرار سپریم کورٹ جانتا ہے کہ ذمہ داری کیسے ادا کرنی ہے، چند روز بعد چلا جاؤں گا،حق اور سچ کے مطابق ذمہ داری ادا کرنے کا موقع دیا جائے

    جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں خاتون جج عائشہ اے ملک کی تقرری تاریخی اقدام ہے،7دہائی یہ سمجھنے میں لگ گئیں کہ صنف اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کیلئے رکاوٹ نہیں میری اہلیہ اور پورے خاندان نے ہر اچھے برے وقت میں ساتھ نبھایا،ججز،اٹارنی جنرل اور بار نمائندگان کا اچھے الفاظ میں یاد کرنے پرمشکور ہوں

    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خط سے تاثر ملتا ہے کہ اعلی عدلیہ میں تقسیم کا عنصر موجود ہے امید ہے چیف جسٹس پاکستان عدلیہ کی تقسیم کا عنصر ختم کریں گے احسن بھون نے حضرت علیؓ کا ایک قول پڑھا "چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر تم کڑہتے ہو یہی گھر بسانے کی باتیں ہوتی ہیں” کمرہ عدالت میں بیٹھے اکثر لوگوں کی طرح چیف جسٹس بھی مسکرا دیے !

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

  • اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم ،سٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منیب اختر سماعت کر رہا ہے خیبرپختونخوا اور سندھ کے ایڈووکیٹ جنرلزعدالت میں موجود ہیں سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آئےانہوں نے کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے بیٹھ جائیں-

    عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کو نوٹسز کیے تھے وہ آج موجود ہیں؟ صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹسز جاری کریں؟-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہے تو صوبوں کو نوٹس جاری کرسکتی ہے صوبوں میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کا حصہ ہیں جس پر عدالت نے صوبائی حکومتوں کو بھی صدارتی ریفرنس پر نوٹسز جاری کردیئے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی جے یو آئی نے کشمیر ہائی وے پر دھرنے کی درخواست کی ہےکشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے،کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں قانون کسی کو ووٹنگ سے 48 گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل کریں گے-

    سماعت کے دوران جے یو آئی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے جے یو آئی وکیل سے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں چیف جسٹس عمر عطابندیال کی آبزرویشن پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا، جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نےستفسار کیا کہ جے یو آئی کا جلسہ تو عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہے؟

    عدالت نے سندھ ہاوس کے معاملے پر آرڈر لکھوانا شروع کردیا-

    ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی پیش رفت پر مطمئن ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بار کی درخواست کو یہ عدالت اب صرف سندھ ہاوس پر حملے تک محدود رکھے گی،سندھ حکومت کو اگر کوئی مسئلہ ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتی ہے-

    جسٹس مظہر عالم نے سندھ ہاؤس پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے حکم دیا کہ تمام جماعتیں جمہوری اقدار کی پاسداری کریں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا کہا سا تھ ہی اٹارنی جنرل کی جانب سے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ضمیر تنگ کررہا ہے تو مستعفی ہو جائیں جس پر چیف جسٹس عمرعطابندیال 1992کے بعد سے بہت کچھ ہو چکا ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہت کچھ ہوا لیکن اس انداز میں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئی، آرٹیکل 63 اےکے تحت اراکین پارٹی ہدایات کے پابند ہیں وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد پر ارکان پارٹی پالیسی پر ہی چل سکتے ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہے؟ جواب میں اٹاعنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے، نااہلی کے لیے آئین میں طریقہ کار واضح ہے آرٹیکل 63،62 اے کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا عدالت پارلیمانی نظام کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دے چکی عام شہری اور رکن اسمبلی کےووٹ میں فرق بتانا چا رہے ہیں

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ریفرنس میں بھی یہ معاملہ سامنے آیا تھا، جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ عام شہری اور اراکین اسمبلی کے ووٹ کیلئے قوانین الگ الگ ہیں سیاسی جماعتیں پارٹی نظام کی بنیاد ہیں عدالت نے ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی آبزرویشن دی عدالت نے کہا مسلم لیگ بطور جماعت کام نہ کرتی تو پاکستان نہ بنتا عدالت نے کہا مسلم لیگ کے ارکان آزادانہ الیکشن لڑتے تو پاکستان نہ بن پاتا-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں، ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہو جائے گی-

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں دی گی آبزرویشن بہت اہمیت کی حامل ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ ایوان میں اجتماعی حثیت میں سامنے آتا ہے سیاسی جماعتیں عوام کے لیے ایوان میں قانون سازی کرتی ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ووٹ کا حق اراکین اسمبلی کو ہے نہ کہ پارٹی اراکین کو جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ چار مواقع پر اراکین اسمبلی کے لیے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کے لیے ارٹیکل 63اے لایا گیا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کسی رکن کو پارٹی کے خلاف فیصلے کے اظہار کا حق ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی میں بات نہ سنی جا رہی ہو تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ٹکٹ لیتے وقت امیدواروں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کب آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہے؟زیادہ تر جمہوری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں کیا دوسری کشتی میں جاتے جاتے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہے؟ اب پنڈورا باکس کھل گیا تو میوزیکل چیئر ہی چلتی رہے گی-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی انفرادی شخصیات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف 63 اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے،ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال پر نہیں جاوں گا، یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑنا چاہیے-

    جسٹس جمال مندو خیل نے سوال کیا کہ کیا فلور کراسنگ کی اجازت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے؟ کیا آپ پارٹی لیڈر کو بادشاہ سلامت بنانا چاہتے ہیں؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین نے پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے،پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے سیاسی نظام کے استحکام کے لیے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کے لیے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار ہو سکتا ہے؟ اٹھارہویں ترمیم میں ووٹ شمار نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں-

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا- اٹارنی جنرل نے کہا یہ ضمیر کی آواز نہیں کہ اپوزیشن کیساتھ مل جائیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا بلوچستان میں دونوں گروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیئں عدالت نے آرٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ اور کتنا وقت لینگے؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ میں مزید 3 گھنٹے دلائل دوں گا-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کل ہمارے ایک جج ریٹائر ہو رہے ہیں کیا پیر تک سماعت ملتوی کریں؟سب مشورہ دیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا؟

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آرٹیکل 63(4) کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے آرٹیکل 63(4) بہت واضح ہے –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہی آرٹیکل 63(4) واضح نہ ہونے کا ہے خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل 62ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے مغرب کےبعض ممالک میں فلورکراسنگ کی اجازت ہے-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہرمعاشرے کے اپنے ناسورہوتے ہیں انہوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا سیاسی جماعتوں کےاندربحث ہوتی ہے؟-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ بحث کیاہوگی کہ سندھ ہاؤس میں بیٹھ کرپارٹی پرتنقید ہورہی ہے کیا پارٹی سے انحراف کرنے پر انعام ملنا چاہیے؟ کیاخیانت کرنے والے امین ہو سکتے ہیں؟-

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے ووٹ اگرڈل سکتا ہے تو شمار بھی ہو سکتا ہے،اگر حکومت کے پاس جواب ہے تو عدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ اگر اس نقطہ سے متفق ہیں تو اس سوال کو واپس لے لیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کے خلاف ڈالے بغیر آرٹیکل 63 اے قابل عمل نہیں ہو گا –

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کی ڈکلیئریشن پر کیا انکوائری کرے گا؟ کیا الیکشن کمیشن تعین کرے گا کہ پارٹی سے انحراف درست ہے کہ نہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف یہ دیکھنا ہوگا کی طریقہ کار پر عمل ہوایا نہیں؟ –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف درست نہیں ہو سکتا-

    عدالت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت کل ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی-

  • صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط
    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کا معاملہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کردیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، اتنے اہم کیس کیلئے بینچ کی تشکیل سے پہلے کسی سینئر جج سے مشاورت نہیں کی گئی،لارجر بینچ میں سینئر ججوں کو شامل نہیں کیا گیابینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالو نہیں کیا گیا، بینچ میں سینیارٹی پرچوتھے،8ویں اور 13ویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا،جہاں اہم قانونی اور آئینی سوالات ہوں وہاں سینئر ججوں کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سول سرونٹ کی بطور رجسٹرار تقرری پر بھی اعتراض کیا، اور کہا کہ میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری خلاف آئین ہے،یہ خط لکھنے سے پہلے 2بار سوچا ،سپریم کورٹ نے بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ نہیں سنا جا سکتا،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ جس پر پوری قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، جج کا حلف کہتا ہے وہ اپنے فرائض منصبی میں ذاتی مفاد کو ملحوظ نہیں رکھے گا، کہاوت ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا نظربھی آئے، کہاوت کا ذکر ججز کے ضابطہ اخلاق میں پانچویں نمبر میں بھی درج ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق بینچ کی تشکیل کا اختیار شفاف مبنی بر انصاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ جناب چیف جسٹس کئی مرتبہ آپ کو تحریری طور پر مطلع کر چکا ہوں، ایک بیوروکریٹ کو وزیراعظم ہاؤس سے درآمد کرکے رجسٹرار تعینات کیا گیا عام تاثرہے کہ وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہو میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری عدلیہ کے انتظامیہ سے الگ ہونے کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ، سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا ،سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سماعت اہم ہے اور وقت کی بھی تنگی ہے،تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرائیں،تحریری دلائل جمع ہونے سے زبانی دلائل جلد مکمل ہو سکیں گے،عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے،اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کو ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی تجویز دی ہے، انتظامیہ سے ملکر جلسوں کی مناسب جگہ کے تعین کی تجویز خوش آئند ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل کو سیاسی جماعتوں کے وکلاکی ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملاقات کرانے کی ہدایت کی

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں مزید کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ ہاوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا،عدالت کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ریڈ زون کی سخت سیکیورٹی سے آگاہ کیا گیا،صدارتی ریفرنس پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے،حکومت کی اتحادی جماعتیں فریق بننا چاہیں تو بن سکتی ہیں،بہتر ہوگا پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل کیے جائیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گاریڈ زون سے باہر جلسے کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں،کیس جلد نمٹانے کیلئے تمام فریقین تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں،سپریم کورٹ بار کی جلسے روکنے سے متعلق درخواست اور صدارتی ریفرنس کی سماعت 24 مارچ کو ہوگی

    صدارتی ریفرنس پر سماعت کے لئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس منیب اختر،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہییں،24 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر سماعت ہو گی

     

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ