Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کا بل پیش

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت‘ کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی:وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں عدالتی اصلاحات ترمیمی بل ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا مسودہ منظور کیا گیا۔

    وفاقی حکومت کا عدالتی اصلاحات کیلئے فوری قانون سازی کا فیصلہ

    سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا بل وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیش کیا ان کا کہنا تھا کہ ایوان عدالیہ کی مداخلت کو سیاسی عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہےیہ ایوان چار ججزکے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے توقع کرتا ہے اعلیٰ عدلیہ سیاسی و انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے اس کے آئینی اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے’یہ ایوان سمجھتا ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت ہونے چاہییں وہ دستوری معاملات جن میں اجتماعی دانش درکار ہو اور اس کا مطالبہ بھی ہو، اس کی سماعت عدالت عظمیٰ کا فُل کورٹ کرے۔

    پہلی ششماہی میں 10.21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں. سٹیٹ بنک

    دوسری جانب حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کیلئے عدالتی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں تجویز پیش کی گئی کہ چیف جسٹس کےہمراہ 2 سینئر ترین ججز پر مشتمل کمیٹی از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کرے بل میں ایک اور تجویز پیش کی گئی کہ 3ججز پر مشتمل کمیٹی بینچزکی تشکیل اور کیسز تفویض کرنے کا فیصلہ بھی کرے گی جن میں چیف جسٹس بھی شامل ہوں گے-

    وفاقی وزیر قانون سینیٹراعظم نذیر تارڑ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات پر ایک دن میں 4 ازخود نوٹس لیے، سپریم کورٹ کے قواعد سے متعلق بہت تنقید ہوتی رہی ہے، ماضی میں بعض ازخود نوٹس ادارے کی تکریم میں اضافے کا باعث نہیں بنے، کئی نوٹس کے تحت ایسے فیصلے ہوئے جس سے نقصان ہوا، ادارے کا تقدس متاثر ہوا۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے3 سینئر ترین جج از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کریں گے، از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 روزمیں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے ، اپیل دائر ہونے کے14 روز کے اندر سماعت کیلئے مقرر کرنا ہوگی ازخود نوٹس کے استعمال سے سپریم کورٹ کے وقار کو نقصان پہنچا، گزشتہ روز 2جج صاحبان کا موقف سامنے آنے سے تشویش پیدا ہوگئی تھی ۔

    ڈیجیٹل مردم شماری،خواجہ سراؤں کی حقیقی تعداد کا تعین مشکل

    انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد ارکان اسمبلی نے بل کو اجلت میں منظور کرنےکی مخالفت کی اور تجویز پیش کی گئی کہ تمام آئینی اداروں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے ، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف ارکان اسمبلی کی تجویز پر عدالتی اصلاحات کا بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا ہے-

    اس کے بعد ایوان میں بل پر بحث کی گئی، بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشزف نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا اور کہا کہ آرڈر آف دی ڈے یہ تھا کہ سپریم کورٹ سے متعلق بل آج ہی پاس کیے جائیں، ایوان کی رائے کے مطابق دونوں بل لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کو بھیجے جارہے ہیں انہوں نے رولنگ دی کہ سپریم کورٹ سے متعلق دونوں ترمیمی بل کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں اور کمیٹی سے درخواست ہے کہ رپورٹ جلد ایوان میں پیش کرے۔

    مریم نواز بھائی کی مقروض،کیپٹن ر صفدر دوستوں کے مقروض

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس کل صبح ہوگا جس کی صدارت چیئرمین محمود بشیر ورک کریں گے قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کل ہی بل منظور کرکے ایوان میں رپورٹ دے گی، قومی اسمبلی کل عدالتی اصلاحات ترمیمی بل کی حتمی منظوری دے گی اور پھر مجوزہ بل جمعرات کو سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔

  • سپریم کورٹ آئینی ادارہ جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ آئینی ادارہ جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کیخلاف اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سپریم کورٹ کی باتوں کو غلط سمجھا جاتا ہے،ہم نے ایک کیس میں کہا کہ 1988 میں ایک ایماندار وزیراعظم تھا ،ہماری ا یماندار وزیراعظم سے متعلق بات کو پارلیمنٹ نےغلط سمجھا ، ہم نے یہ نہیں کہا کہ آج تک صرف ایک ہی ایماندار وزیراعظم آیا ،ہم نے آئینی اداروں کو اپنے فیصلوں میں تحفظ دیا ہے، عدلیہ پر بھی حملے ہو رہے ہیں ، جس کا بھی تحفظ کرینگے سروسز ٹربیونل کے ایک بینچ نے غلام محمود ڈوگر کو بحال کیا ،سروس ٹربیونل کے دوسرے بینچ نے بحالی کافیصلہ معطل کردیا ،بیوروکریسی میں تبادلوں ں کی منظوری کے بعد آپکا معاملہ ویسے بھی غیر موثر ہو چکا ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے جسے ہم تحفظ فراہم کریں گے، الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں، اگر شفاف انتخابات میں بدنیتی ہوگی تو ہم مداخلت کریں گے،سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے ہم صبر اور درگزر سے کام لے کر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ڈیموکرٹیک پراسس فیئر ہونا چاہیے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو بحال کیا تھا ، سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی بحالی کا تحریری حکم نامہ سپریم کورٹ نے جاری کیا تھا، سپریم کورٹ نے 17 فروری کو سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی بحالی حکم سنایا تھا ،عدالت نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ حقائق کا جائزہ لینے کے بعد واضح ہے کہ غلام محمود ڈوگر ٹرانسفر کی منظوری زبانی کی گئی زبانی منظوری کی بعد میں تحریری طور پر الیکشن کمیشن سے اجازت حاصل کی گئی بادی النظر میں غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر سپریم کورٹ 2 دسمبر کے حکم کی خلاف ورزی ہے ،غلام محمود ڈوگر کا معاملہ پہلے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، ایسے میں غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کیلئے دیا گیا 23 جنوری کا حکم برقرار نہیں رکھا جاسکتا غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا 23 جنوری کا حکم معطل کیا جاتا ہے

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

     ڈاکٹر یاسمین راشد اور سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی آڈیو لیک

  • چیف جسٹس آف پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اعتزاز احسن

    چیف جسٹس آف پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اعتزاز احسن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا الیکشن کی تاریخ نہ دے کر توہین عدالت کر رہے ہیں،

    میڈٍیا رپورٹس کے مطابق اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق 111 دن بعد نگران حکومت ختم ہوجائے گی ،یہ بات واضح کردوں کہ الیکشن کے معاملہ 5 رکنی بینچ تھا،ن لیگی متوالوں کی نگاہ میں نوز شریف اور مریم نواز درست ہیں،پی ٹی آئی والے کہتے ہیں عمران خان ہماری ریڈ لاین ہیں،اب چیف جسٹس کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں چیف جسٹس ہماری ریڈ لائن ہیں الیکشن کے لیے جو محکمہ سروسز نہیں دے گا وہ توہین عدالت کرے گا ،جن ججز نے فیصلہ کیا ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے شہباز شریف نے کہا کہ 2قسم کے ججز ہیں ایک نواز شریف کے ساتھ دوسرا ان کے خلاف ،ایک سیاسی رہنما کہتی ہیں کہ میرے پاس سیاست دانوں کی ویڈیوز موجود ہیں مریم نواز نے جیل کا بہادری سے سامنے کیا، بھائی بھگوڑے ہو گئے،مریم نواز کے جلسوں میں اب جان نہیں رہی ،مریم نواز چاہتی ہیں ایک سیاست دان کو باہر کردیا جائے ،

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے،پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے لیکن پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانےکا اختیار نہیں ہےٹھوس وجوہات کا جائزہ لےکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ معاشی مشکلات کا ذکر1988 کے صدارتی ریفرنس میں بھی تھا آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے، مگر لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو، قدرتی آفات یا جنگ ہو تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن بروقت نہ ہوئےتواستحکام نہیں آئےگا،حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہےآج صرف تاریخ طے کرنے کا معاملہ دیکھنا ہے، اگر نوے روز سے تاخیر والی تاریخ آئی تو کوئی چیلنج کردےگا لیکن پہلی بارایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ۔

    عدالت نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ کربھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت سے ہدایت لینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔

    فاروق ایچ ناٸیک نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کرنی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں ،عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

    عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

  • سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس،سپریم کورٹ کا نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا،
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نئے بینچ میں شامل ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ کا حصہ ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں اختلافی نوٹ لکھنے والے 4 میں سے 2 ججز بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ میں شامل نہیں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں

    اسلام آباد: پنجاب اور کے پی میں انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا-

    باغی ٹی وی: پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ نے 23 فروری کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے لیے پہلے ساڑھے11، پھر 12 بجےکا وقت دیا گیا تھا۔تاہم اب انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا .جسٹس اعجا الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے انتخابات ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی۔

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ چاروں ججز نے اختلافی نوٹ لکھا ہے،انتخابات سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کل ساڑھے 9 بجے کریں گے ،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ گورنر کون مقرر کرتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ گورنر کا تقرر صدر مملکت کی منظوری سے ہوتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت کے بعد ازخود تحلیل ہو جانے میں فرق ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کل ساڑھے 9 بجےکر کے مکمل کریں گے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ گورنر پنجاب نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے دونوں فریقین سے نام مانگے،ناموں پر اتفاق رائے نہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلی ٰکا انتخاب کیا،الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھ کر پولنگ کی تاریخ دینے کا کہا،گورنر نے جواب دیا انہوں نے اسمبلی تحلیل نہیں کی تو تاریخ کیسے دیں؟ آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں،کوئی آئینی عہدیدار بھی انتخابات میں90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، 90دن کی آئینی مدت کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ لاہورہائیکورٹ میں جو سماعت ہوئی کب تک ملتوی ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ میں آ ج سماعت مقرر تھی وہ ملتوی کردی گئی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک غیر یقینی کی صورتحال ہے،علی ظفر ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن آئین پر عمل نہیں کررہا ،گورنر کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہے، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ معاملے میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کیس میں کیا احکامات ہائیکورٹس نے جاری کیے ہیں؟وکیل شیخ رشید نے کہا کہ ان درخواستوں پر مارچ میں سماعت ہوگی،وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہائیکورٹ نے قرار دیا انتخابی عمل الیکشن سے پہلے شروع اور بعد میں ختم ہوتا ہےعدالتی حکم پر الیکشن کمیشن اور گورنر کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوئی، صدر مملکت نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے خود تاریخ مقرر کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس سپریم کورٹ نے 23 فروری کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا نئے بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا، چار ججز نے نئے بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس عمر عطابندیال کو بھجوایا سپریم کورٹ کے چار وں ججز کے نوٹس آرڈر شیٹ میں شامل ہیں،جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے نوٹ لکھا،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کو نوٹ بھی شامل ہیں،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ لکھا کہ الیکشن کا معاملہ پشاوراور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، ازخود کیس میں سپریم کورٹ کی رائے لاہور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پراثرانداز ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ
    بینچ کے 4 ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے،عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی،آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنے کی کوشش کریں گے،جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے،جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا،مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو،علی ظفر آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے،

    زرائع کے مطابق گیارہ بجے سے غیر رسمی فل کورٹ میٹنگ جاری ہے جو اس وقت تک جاری ہے جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ججز صاحبان کے درمیان تلخ اور شدید جملوں کا بھی تبادلہ ہوا-

    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات تو دور کی بات ہے اطلاعات کے مطابق ضمنی انتخابات بھی نہیں ہوں گے ۔

    واضح رہے کہ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں۔

    حکمران اتحاد 9 رکنی بینچ میں سے جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کو الگ کر کے فل کورٹ بنانے کی اپیل دائر کرچکا ہے۔

    پچھلی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا پیر کو ججز کے معاملے پر معترضین کو سنیں گے،چیف جسٹس نے پہلی سماعت میں ریمارکس دیئے تھے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں ، آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔

    عدالت نے آج اٹارنی جنرل ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرل اور پی ڈی ایم سمیت سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگر کیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر از خود نوٹس لیا تھا۔

  • جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور جو رپورٹ ہوا وہ ناصرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانبدارانہ بھی تھا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی –

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں سے متعلق سوال کیا تھا، قومی اسمبلی کے ایک ممبر کی مجموعی تنخواہ ایک لاکھ 88 ہزار روپے ہے، پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی نے اپریل سے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی، پی ٹی آئی کے ممبران نے سفری اخراجات اور لاجز سمیت دیگر مراعات لیں، قومی اسمبلی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عدالتی ریمارکس کے متعلق ایک خط لکھا ہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی غلط رپورٹنگ پر بات کرنا چاہتا ہوں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے آپ کا خط پڑھا ہے اور آپ کی کاوش کو سراہتے ہیں۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے کہ تنقید کا اگلا ہدف بن سکتے ہیں جو مناسب لگا وہ کیا جب کہ مسئلہ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کا نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر کوئی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سمجھ داری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، عدالتی کارروائی سے کچھ غلط معلومات منسوب کی گئیں، جو رپورٹ ہوا وہ نہ صرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانب دارانہ بھی تھا، جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہا ہوں میڈیا کے دوستوں کو عدالتی ردعمل نہ آنے کو احترام سے دیکھنا چاہیے، سپریم کورٹ کا 2019ء کا فیصلہ میڈیا کنٹرول کی بات کرتا ہے، میں میڈیا کنٹرول پر نہیں، باہمی احترام پر یقین رکھتا ہوں۔

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    بعدازاں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گئےچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مخدوم صاحب یاددہانی کے لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ کے دلائل میں 11 سماعتیں گزر گئیں۔ اس پر مخدوم علی خان بولے کہ دوسرے جانب کے دلائل میں 6 ماہ لگے تھے اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسری طرف کا ریکارڈ مت توڑیے گا۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی معاملات میں برطانیہ سمیت ملکوں میں عدالتی کارروائی لائیو کیمروں میں ریکارڈ ہوتی ہے، لائیو اسٹریمنگ سے آفیشل ریکارڈ رہتا ہے اور ابہام کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات کا معاملہ ہمارے پاس زیر التوا ہے، جلد ہی فل کورٹ میں عدالتی کارروائی براہ راست دیکھانے کا معاملہ رکھیں گے۔

    وکیل وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر 51 فیصد لوگ ووٹ ہی نہ ڈالیں تو بھی اسمبلی میں عوامی نمائندگی ہوگی، جمہوریت ہے ہی نمبرز گیم۔

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے کب دیے تھے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز نے 11 اپریل کو استعفے دیے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کے استعفے قسطوں میں منظور کیے گئے، استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے عدالتی فیصلے موجود ہیں –

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ استعفے منظور ہوچکے تو منظوری کے خلاف پی ٹی آئی عدالت چلی گئی، لاہور ہائی کورٹ نے 44 استعفوں کی منظوری پر حکم امتناع دیا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے استعفوں کی منظوری کا اسپیکر کا حکم معطل نہیں کیا، ہائی کورٹ کے مطابق اسپیکر کا فیصلہ درخواست کے ساتھ لگایا ہی نہیں گیا تھا۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے 20 ارکان نے استعفے نہیں دیے تھے وہ اسمبلی کا حصہ ہیں، امریکی تاریخ دان نے کہا تھا کہ سیاسی سوال کبھی قانونی سوال نہیں بن سکتا، امریکا تاریخ دان کی بات پاکستان کے حوالے سے درست نہیں لگتی، امریکی سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ عدالت سیاسی سوالات میں نہیں پڑے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی حقوق اور آئینی سوالات پر فیصلے ہوتے رہے، سیاسی سوال قانونی تب بنتا ہے جب سیاسی ادارے کمزور ہوجائیں۔

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود ہی آرڈیننس لاکر نیب ترامیم ڈیزائن کی تھیں، اپنی ہی ڈیزائن کردہ ترامیم چیلنج کرنا بدنیتی ہے، سپریم کورٹ وطن پارٹی اور طاہرالقادری کیس نیت اچھی نہ ہونے پر خارج کر چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تفصیل دیں آئینی خلاف ورزیوں پر نیب قانون کی شقوں کو سپریم کورٹ نے کب کب کالعدم قرار دیا؟ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی۔

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

  • چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے اعتراضات ،اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کووضاحتی خط

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے اعتراضات ،اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کووضاحتی خط

    سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے دییے گئے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے شدید اعتراض پر اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو خط لکھ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے محمد خان جونیجو سے متعلق ریمارکس پر وضاحت دی، وزیرقانون کو خط میں اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ نیب ترمیمی کیس کے دوران چیف جسٹس نے یہ نہیں کہا کہ واحد محمد خان جونیجو ایماندار وزیراعظم تھے-

    کراچی : ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری دن

    اٹارنی جنرل نے اپنے خط میں کہا کہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس سے متعلق غلط رپورٹنگ کی گئی ہے جس کے ردعمل میں سینیٹرز نے تنقید کی۔

    وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کوخط میں اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ نےلکھا ہےکہ چیف جسٹس نےنوازشریف کےحوالے سے کوئی ریمارکس نہیں دیئےچیف جسٹس نےیہ نہیں کہا تھا کہ صرف محمد خان جونیجو ہی ایمانداروزیراعظم تھےوزیراعظم کی دیانتداری سےمتعلق ریمارکس کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹرز نے تنقید کی۔

    اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے مزید لکھا کہ نیب ترامیم کیس کی سماعت میں، میں خود موجود تھا اور اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ دوران سماعت ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس 1988 میں سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کی بحالی کا حکم نہ دینے کے تناظر میں دیے تھے اور سابق چیف جسٹس نسیم حسن کے مؤقف کو دہرایا تھا جنہوں نے نواز شریف کیس میں اسمبلی بحال نہ کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا تھا۔

    اٹارنی جنرل نے لکھا کہ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ محمد خان جونیجو ایک اچھے اور آزاد وزیر اعظم تھے جن کی حکومت 58 (2) بی کے تحت ہٹائی گئی۔

    انہوں نے اعظم نذیر تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس نسیم حسن نے نواز شریف کیس میں اسمبلی بحال نہ کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا، یہ خط اس توقع کے ساتھ آپ کو لکھا جارہا ہے کہ آپ اس حوالے سے ریکارڈ درست کرنے کے لیے بطور وزیرقانون اپنے ساتھی اراکین پارلیمنٹ کے سامنے حقائق پیش کریں گے۔

  • ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین کی ترمیم اور آرٹیکل کی خلاف ورزی کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق ایم کیو ایم کے وکیل طارق منصور ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے،مجوزہ خط اور دستاویزات الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد کو 9 جنوری کو ارسال کیا تھا جبکہ 11 جنوری کو یاد داشت کے طور پر صوبائی الیکشن کمشنر کو جمع کروایا تھا۔ جمع کروانے والے ایم کیو ایم کے رہنماؤں میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال و دیگر شامل تھے۔

    بلدیاتی انتخابات: پی ٹی آئی رہنما کی پولنگ کا عمل متاثر کرنے کی کوشش، بیلٹ باکس کی…

    الیکشن کمیشن کو آئینی خط اس لیے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ متنازعہ ڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول کو آئین سےمتصادم ہونے کی بنیاد پر کالعدم قرار دے۔ الیکشن کمیشن نے 28 دسمبر 2021 کو ڈی لیمیٹیشن جبکہ 29 اپریل 2022 کے الیکشن شیڈیول کے نوٹیفیکیشن جاری کیے تھے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کی 22 ویں ترمیم 2016 اور آرٹیکل 218(2)، 219 کی بادالنظر خلاف ورزی کی ہےچیف جسٹس آف پاکستان سے اس ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کیجانب سےکیے جانے والے غیر آئینی اقدامات پر آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت مفاد عامہ اور بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر ازخود نوٹس لینے کی اپیل گئی ہے۔

    کراچی:بلدیاتی انتخابات میں چند گھنٹےباقی:کئی پریذائیڈنگ افسرلاپتہ

    طارق منصور ایڈوکیٹ کے مطابق خط کا مقصد یہ تھا کہ ای سی پی 15 جنوری سےپہلےنئےڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول جاری کرے تاہم الیکشن کمیشن نے 6 دن گزر جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔ سپریم کورٹ کو خط جمعے کے روز ارسال کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر حصوں میں پولنگ رکوانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو بنیاد بناکر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر الیکشن ملتوی کرنے کا کہا تھا تاہم ای سی پی نے کراچی اور حیدرآباد میں مقرری وقت 15 جنوری کو ہی الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا۔

    تمام تر تحفظات کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گے:ایم کیو ایم

  • قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان
    چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بنچ نے کی، جس میں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم کے وقت ارکان اسمبلی کی اکثریت نے منظوری دی۔ اس وقت 159 ارکان اسمبلی موجود تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسی کوئی پہلے مثال موجود ہے کہ رکن پارلیمنٹ نے قانون سازی کو چیلنج کیا ہو؟۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میرے سامنے ایسا کوئی کیس نہیں جس میں رکن پارلیمنٹ نے قانون چیلنج کیا ہو۔ درخواست گزار نہ صرف رکن پارلیمنٹ ہے بلکہ ملک کا وزیر اعظم بھی رہا ہے۔میں اپنے دلائل میں درخواست گزار کی بدنیتی اور ذاتی مفاد کی بھی وضاحت کروں گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں نیب قانون کی بہتری دیکھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ قانون کو کالعدم ہی قرار دیا جائے۔ قانون کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ بھی عدالت کے پاس آپشن موجود ہیں۔ قانون کو آئین کے مطابق ہونے پر ہی آگے بڑھنا چاہیئے۔

    جٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر نیب ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہوئیں تو ہی عدالت آپشنز پر غور کرے گی۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ کوئی بھی ایسا قانون قائم نہیں رہ سکتا تو بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتیں سیاسی فیصلے کرنے کی جگہ نہیں ہیں۔ کیا عدالت متنازع معاملات پر فیصلے کرنے لگے تو کیا مزید تنازعات پیدا ہوتے ہیں؟۔اس کیس میں سیاسی تنازع بھی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل میں کہا پاکستان بننے کے وقت سے کرپشن بیماری کی صورت میں موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے۔ عوامی مفاد اور انفرادی فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ عدالت نے آئین کا دفاع اور تحفظ کیسے کرنا ہے۔

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کا مطلب پاکستان کے عوام ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدالت کہاں اور کس حد تک جا سکتی ہے۔ پبلک آفس ہولڈرز قابل احتساب ہیں۔ اگر حالیہ نیب ترامیم سے احتساب کا معیار گرا ہوا ہے تو عدالت ان کو برقرار کیسے رکھ سکتی ہے؟۔ جب سے پاکستان بنا انسداد کرپشن قوانین بنے ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انسداد کرپشن قوانین کی وجہ ہی سے عوامی عہدیدار قابل احتساب ہیں۔ ہم نے سماجی یا سیاسی مسائل کو نہیں دیکھنا۔ اعتماد ہی تمام معاملات کا مرکز ہے۔ پبلک آفس کے لیے ڈاکٹرائن آف ٹرسٹ ضروری ہے۔ ججز بھی عوامی اعتماد کے ضامن ہیں۔ ججز بھی قابل احتساب ہیں۔ ججز پیسے کے قریب بھی نہیں جا سکتے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایک معاملے میں فنڈز ملے وہ اسٹیٹ بینک میں جمع کرا دیے۔ آج بھی انتظار کر رہے ہیں کہ فنڈز استعمال ہوں۔ اگر سپریم کورٹ فنڈز کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر نہ ڈالتی تو آج بھی تنقید ہو رہی ہوتی۔ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اعتماد بہت اہم ہوتا ہے۔ عدلیہ بھی پارلیمنٹ اور سیاستدانوں پر اعتماد کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے مگر عوام کا اعتماد عدلیہ پر ہے۔ کچھ بنیادی لوازمات ہیں جس پر عدالت نے بھی عمل کرنا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 12 جنوری سہ پہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

  • چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے35 ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کےتبادلےکردیے

    چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے35 ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کےتبادلےکردیے

    کراچی :سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پینتس ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کے تبادلے کردیے۔تفصیلات کے مطابق رجسٹرارسندھ ہائی کورٹ نے 35 ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کے تبادلوں سے متعلق نوٹفیکشن جاری کردیا۔رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری نوٹفکیشن میں بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی ون حلیم احمد کا تبادلہ ملیر کردیا گیا۔

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی اجلاس میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے کا فیصلہ

    نوٹفیکشن کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر شاہد احمد اعوان کا تبادلہ شہید بے نظیر آباد کردیا گیا۔ ذوالفقار علی شیخ کا تبادلہ جیکب آباد سے دادود کررہا گیارجسٹر سندھ ہائی کورٹ نے نوٹفکیشن میں بتایا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن خالد شیخ کو سندھ ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی۔

    پی ٹی آئی نے الیکشن شیڈول کے بعد سیاسی بنیادوں پرایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کردیا۔پی ٹی آئی کراچی کے صدراور ایم پی اے بلال غفار نے شہاب امام ایڈووکیٹ کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔

    اس مرتبہ مردم شماری سب کیلئے قابل قبول ہو گی،سعید غنی

    کراچی پولیس میں اصلاحات اور جدت پر تیزی سے کام جاری ہے، پولیس نے اسمارٹ کار تیار کر لی۔تفصیلات کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ کار تیار کر لی گئی ہے جو جلد سڑکوں پر دکھائی دے گی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ کار کی چھت پر ہائی ریزولوشن ریوالونگ کیمرہ نصب ہے۔ اسمارٹ کار پر لگا کیمرہ پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے منسلک ہوگا۔

    عورت مارچ، اجازت کے لئے انتظامیہ کو درخواست دے دی گئی

    کار میں وائر لیس سسٹم کے علاوہ تلاش اور تصدیقی ڈیوائس بھی موجود ہوگی۔ اسمارٹ کار میں دو افسر تعینات ہوں گے جن میں سے ایک افسر خود گاڑی ڈرائیو کرے گا جبکہ ایک افسر کی باڈی پر بھی کیمرہ نصب ہوگا۔ اسمارٹ کار پر تعینات افسران تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق ہوں گے۔