امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون 2020 میں خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا، جو لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کے چند دن بعد کیا گیا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا ہے۔
امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار آرمز کنٹرول تھامس ڈی نانو نے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں پر مشتمل تجربات کیے، جن میں سینکڑوں ٹن طاقت کے تجربات کی تیاری بھی شامل تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایٹمی تجربات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ایٹمی تجربات پر پابندی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی ہے اس مقصد کے لیے ’ڈیکپلنگ‘ نامی طریقہ استعمال کیا تاکہ دھماکوں کی لہروں کو محسوس نہ کیا جا سکےچین نے ایسا ہی ایک جوہری تجربہ 22 جون 2020 کو بھی کیا تھا۔
امریکی عہدیدار نے کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے کے خاتمے کے بعد موجودہ جوہری کنٹرول نظام اب مؤثر نہیں رہا ان کے مطابق 2026 میں ایک جوہری طاقت اپنی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طاقت ایسے جوہری نظام تیار کر رہی ہے جو کسی معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔
واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جو فروری 2026 کے اوائل میں ختم ہو گیا اس معاہدے کے خاتمے کو عالمی جوہری اسلحہ کنٹرول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اس سے قبل روس 2023 میں جامع جوہری تجرباتی پابندی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی واپس لے چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق چین کے سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے امریکی الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ جوہری امور میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کیا ہے امریکا نام نہاد ’چینی جوہری خطرے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکا خود ہے۔
شین جیان نے کہا کہ چین اس مرحلے پر امریکا اور روس کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا چین کا مؤقف ہے کہ اس کے جوہری وارہیڈز کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں کہیں کم ہے چین کے پاس تقریباً 600 جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس تقریباً چار، چار ہزار جوہری وارہیڈز موجود ہیں امریکا کو سرد جنگ کی سوچ ترک کر کے مشترکہ اور تعاون پر مبنی سلامتی کے تصور کو اپنانا چاہیے۔







