Baaghi TV

Tag: چین

  • امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا  سخت ردعمل

    امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا سخت ردعمل

    امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون 2020 میں خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا، جو لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کے چند دن بعد کیا گیا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار آرمز کنٹرول تھامس ڈی نانو نے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں پر مشتمل تجربات کیے، جن میں سینکڑوں ٹن طاقت کے تجربات کی تیاری بھی شامل تھی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایٹمی تجربات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ایٹمی تجربات پر پابندی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی ہے اس مقصد کے لیے ’ڈیکپلنگ‘ نامی طریقہ استعمال کیا تاکہ دھماکوں کی لہروں کو محسوس نہ کیا جا سکےچین نے ایسا ہی ایک جوہری تجربہ 22 جون 2020 کو بھی کیا تھا۔

    امریکی عہدیدار نے کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے کے خاتمے کے بعد موجودہ جوہری کنٹرول نظام اب مؤثر نہیں رہا ان کے مطابق 2026 میں ایک جوہری طاقت اپنی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طاقت ایسے جوہری نظام تیار کر رہی ہے جو کسی معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

    واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جو فروری 2026 کے اوائل میں ختم ہو گیا اس معاہدے کے خاتمے کو عالمی جوہری اسلحہ کنٹرول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اس سے قبل روس 2023 میں جامع جوہری تجرباتی پابندی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی واپس لے چکا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق چین کے سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے امریکی الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ جوہری امور میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کیا ہے امریکا نام نہاد ’چینی جوہری خطرے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکا خود ہے۔

    شین جیان نے کہا کہ چین اس مرحلے پر امریکا اور روس کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا چین کا مؤقف ہے کہ اس کے جوہری وارہیڈز کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں کہیں کم ہے چین کے پاس تقریباً 600 جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس تقریباً چار، چار ہزار جوہری وارہیڈز موجود ہیں امریکا کو سرد جنگ کی سوچ ترک کر کے مشترکہ اور تعاون پر مبنی سلامتی کے تصور کو اپنانا چاہیے۔

  • تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر  کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا نے ممکنہ طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ تائیوان کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں اہم دفاعی نظام شامل ہیں۔

    چین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فروخت بیجنگ،واشنگٹن تعلقات میں سنجیدہ رکاوٹ بن سکتی ہے، خاص طور پر صدر ٹرمپ کے اپریل میں بیجنگ جانے والے دورے کے تناظر میں،تائیوان کے حوالے سے امریکا کو “احتیاط سے کام لینے” کی ضرورت ہے ورنہ دوطرفہ تعلقات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔

    صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو فون پر خبردار کیا ہے کہ اسلحے کی فروخت جیسے اقدامات تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں،چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی اسلحے کی فروخت کو اس کی خودمختاری پر برا اثر اور امن کیلئے خطرہ تصور کرتا ہے۔

  • مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی  اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    دفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ گرما گرم بحث نے 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چین کے ساتھ پیش آنے والے فوجی تصادم کے دوران نئی دہلی کی اسٹریٹجک ناکامیوں اور دفاعی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہےدفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کو واضح تزویراتی برتری حاصل ہوئی۔

    یہ معاملہ اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب سابق بھارتی آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواَنے کی غیر شائع شدہ کتاب “Four Stars of Destiny” کے اقتباسات ایک بھارتی جریدے میں رپورٹ ہوئے،کتاب کے مسودے کے مطابق چین نے تبت میں جاری فوجی مشقوں سے دستے اچانک ایل اے سی کے اگلے مورچوں پر منتقل کیے، جس نے بھارتی افواج کو ششدر کر دیا۔

    مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

    جنرل نرواَنے، جو دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے سربراہ رہے، اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت چین کی فوجی نقل و حرکت کی رفتار اور پیمانے کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا، اگرچہ بعد ازاں بھارتی فوج نے پوزیشنز مستحکم کر لیں، تاہم ابتدائی انٹیلی جنس خلا بھاری ثابت ہوایہ کشیدگی اپریل اور مئی 2020 میں جھڑپوں کی صورت میں بڑھی اور 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں خونریز ہاتھا پائی پر منتج ہوئی، جس میں 45 برس بعد پہلی مرتبہ بھارت چین سرحد پر ہلاکتیں ہوئیں۔

    منگل کے روز پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کی جانب سے کتاب کے حوالے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاحال شائع نہیں ہوئی تاہم قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے مسودے پر مبنی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بحران سے متعلق حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے بالآخر ایل اے سی کے ساتھ 40 سے 50 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں بھارت کو ہنگامی بنیادوں پر اضافی فوج، توپ خانہ، میزائل اور راکٹ سسٹمز تعینات کرنا پڑے۔

  • ایران، روس اور چین کا مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

    ایران، روس اور چین کا مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

    تہران: ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے یہ مشقیں رواں ماہ منعقد کی جائیں گی جن میں تینوں ممالک کی بحری افواج حصہ لیں گی۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ان بحری مشقوں کو ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘ کا نام دیا گیا ہےمشقوں میں ایرانی بحریہ، پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹس، چین اور روس کی بحری افواج شریک ہوں گی، ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا، کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرنا اور تینوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے، ان مشترکہ بحری مشقوں کا باقاعدہ آغاز 2019 میں ایران کی بحریہ نے کیا تھا، جبکہ اب تک یہ مشقیں سات مرتبہ منعقد کی جا چکی ہیں۔

    یہ مشقیں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا بحری بیڑہ بھی تعینات کر رکھا ہے۔

  • کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر بم حملہ:صدر مملکت کی شدید الفاظ میں مذمت

    کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر بم حملہ:صدر مملکت کی شدید الفاظ میں مذمت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    انہوں نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی،انہوں نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے باوجود ترقیاتی کاموں میں مصروف چینی شہریوں کے حوصلے اور جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا کہا کہ چینی شہری شدید خطرات کے باوجود افغانستان کی ترقی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

    آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہی ہے، خصوصاً اس عزم پر کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی برآمد کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی پاکستان متعدد بار اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی دہشتگرد تنظیم کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔

  • چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہو چکی ہے –

    وزیراعظم نےپیر کے روز پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے برسوں کے بجائے مہینوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گا مزن ہو چکی ہے اور حکومت سی پیک 2.0 کو عملی حقیقت اور کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی، بہتر آبی نظم و نسق، جدید کاشتکاری کے طریقوں، ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ناگزیر ہے حکومت نے اس سمت میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے اور 2024 اور 2025 کے دوران بی ٹو بی اور جی ٹو جی سطح پر متعدد مفاہمتی یادد اشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جنہیں اب عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو میرٹ کی بنیاد پر چین کی زرعی جامعات اور تحقیقاتی مراکز میں تربیت کے لیے بھیجا گیا، جو وطن واپس آ کر کسانوں کی رہنمائی کریں گے اور زرعی معیشت کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم نے چین کی زرعی ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ترقی کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ، دیرپا اور فولاد سے مضبوط ہے رواں سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو اس گہر ے تعلق کی عکاسی ہے۔

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    انہوں نے افراط زر میں کمی، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافے اور دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب پائیدار ترقی کے راستے پر ہے نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زرا عت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں بروئے کار لایا جائے تو معیشت میں تیز رفتار تبدیلی ممکن ہے۔

    قبل ازیں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح 3.71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مہنگائی 4 فیصد پر برقرار ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر ہو چکا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں چین زرعی شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے انہوں نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    ہائی اسپیڈ ٹرین کا ٹکراؤ، 39 ہلاک , 100 سے زائد زخمی

    تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تجارتی، سفارتی اور ترقیاتی تعاون کو اجاگر کیا گیا تقریب میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال، اویس لغاری، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستانی و چینی کمپنیوں کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری حکام موجود تھے-

  • چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی

    چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی

    چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی-

    چینی حکام نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنا پر ملکی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی تقریباً بارہ سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کے سافٹ ویئر کا استعمال بند کر دیں،یہ سافٹ ویئر حساس اور خفیہ معلومات جمع کرکے بیرون ملک منتقل کر سکتے ہیں، اس لیے وہ مغربی ٹیکنالوجی کے بجائے اپنے مقامی متبادل کو ترجیح دے رہا ہے۔

    پابندی کا اطلاق امریکی کمپنیوں جیسے براڈکام کی ملکیت وی ایم ویئر (VMware)، پالو آلٹو نیٹ ورکس اور فورٹینیٹ کے سافٹ ویئر پر کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی کمپنی چیک پوائنٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز بھی اس فہرست میں شامل ہےاس فیصلے کے بعد امریکی کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی، جہاں براڈکام اور پالو آلٹو نیٹ ورکس کے حصص میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی، اور فورٹینیٹ کے شیئرز تقریباً تین فیصد گر گئے۔

    وزیراعظم نے پاکستان آسان خدمت مرکز کا باضابطہ افتتاح کر دیا

    چینی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ مغربی ٹیکنالوجی کو غیر ملکی طاقتیں ہیک کر سکتی ہیں، اسی لیے چین سائبر سیکیورٹی، کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب گامزن ہےچین کی بڑی مقامی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں میں 360 سیکیورٹی ٹیکنالوجی اور نیوسافٹ شامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ نے کچھ شرائط کے تحت اینویڈیا (Nvidia) کو چین میں جدید مصنوعی ذہانت (AI) چپس کی فروخت کی اجازت دی ہےامریکی محکمہ تجارت کے مطابق اینویڈیا مخصوص حالات میں اپنا H200 چپ چین کو فروخت کر سکے گی، تاہم جدید ترین پروسیسرز پر پابندی برقرار رہے گی چینی حکومت مقامی سطح پر تیار کردہ AI چپس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جس کے باعث اینویڈیا کی چپس کی طلب کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم نے پاکستان آسان خدمت مرکز کا باضابطہ افتتاح کر دیا

  • چین نے  شکسگام ویلی پر بھارت کے دعوے کو مسترد کردیا

    چین نے شکسگام ویلی پر بھارت کے دعوے کو مسترد کردیا

    بیجنگ: چین نے کشمیر میں واقع شکسگام ویلی پر بھارت کے دعوے کو مسترد کردیا-

    چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شکسگام ویلی چین کی سرزمین ہے، اس لیے وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر بالکل جائز ہے چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں بطور خودمختار ممالک سرحدی معاہدہ کیا تھا، جو دونوں ممالک کا حق ہےسی پیک ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی ترقی اور عوام کی فلاح ہے، اور اس سے چین کے کشمیر سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

    ان کا یہ بیان بھارتی میڈیا کی جانب سے چین کے ترقیاتی منصوبوں پر تنقید کے جواب میں سامنے آیابھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ شکسگام ویلی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہےبھارت 1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سرحدی معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔

    بھارت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہیں، اور اس حوالے سے چین اور پاکستان کو کئی بار آگاہ کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات ایک عرصے سے جاری ہیں، اگرچہ 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس کے باوجود شکسگام ویلی اور اروناچل پردیش جیسے علاقوں پر اختلافات برقرار ہیں۔

  • امریکا کی ایران پر حملے کی دھمکی پر چین کا ردعمل

    امریکا کی ایران پر حملے کی دھمکی پر چین کا ردعمل

    ایران میں جاری مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں پر امریکا کی فوجی کارروائی کی دھمکی پر چین نے کہا ہے کہ کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ناگزیر سمجھتا ہےچین کو امید ہے کہ ایران کی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پالیں گے اور ملک میں استحکام اور نظم و ضبط برقرار رہے گا کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرا ت اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ایران پر مذاکرات سے پہلے ہی کارروائی کرنا پڑے اگرچہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاہم امریکا کے پاس انتہائی طاقتور آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔

    
غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے فوری اقدام کیا جائے، اقوام متحدہ سے اپیل

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکا گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی فوج یہ معاملہ قریب سے مانیٹر کر رہی ہے اور ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے رابطہ کریں گے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مدد فراہم کی جا سکے وہ اس سلسلے میں ایلون مسک سے بھی بات کریں گے تاکہ ایرانی عوام تک معلومات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

    صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے ایران دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

    لاہور سے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ساہیوال سے بازیاب،ملزمہ گرفتار

  • پاکستان اور چین کا سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق

    پاکستان اور چین کا سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق

    بیجنگ:نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے دورہ بیجنگ کے دوران دونوں ممالک نے پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک) سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت چینے پر اتفاق کرلیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کے دوران چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ سے ملاقات کی اور اس موقع پر انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے پلینری اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی۔

    دونوں فریقین نے پاک-چین دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور مستقبل کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی ٹو پارٹی روابط، علاقائی صورت حال اور سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا اور اس کے علاوہ سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کو بامقصد اور شایان شان انداز میں منانے پر اتفاق کیا گیا۔

    پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا،حافظ نعیم الرحمان

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے چین کے ایگزیکٹو نائب وزیراعظم ڈِنگ شوئے شیانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں پاک-چین ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    چین کے نائب وزیر اعظم ڈنگ نے چین کے بنیادی مفادات پر پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا اور پاکستان کی قیادت و عوام کے لیے نئے سال کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا،دونوں رہنماؤں نے سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد بن حاجی حسن، بنگلہ دیش کے خارجہ مشیر توحید حسین اور مصر کے وزیر خارجہ بدر احمد محمد عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    ٹی20 ورلڈ کپ:بنگلا دیش کا کرکٹ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان

    نائب وزیراعظم نے ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ علاقائی صورت حال اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور تمام فریقین نے مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    واضح رہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ ساتویں پاک-چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔