Baaghi TV

Tag: چین

  • طوفان ‘باوی’ نے چین میں  تباہی مچا دی، لاکھوں افراد متاثر

    طوفان ‘باوی’ نے چین میں تباہی مچا دی، لاکھوں افراد متاثر

    رواں سال چین سے ٹکرانے والے طاقتور ترین طوفان ’باوی‘ نے تائیوان کے بعد چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں بھی تباہی مچا دی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوفان باوی ہفتہ کی رات چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے ساحلی شہر یوہوان سے ٹکرایا، جس کے بعد اس نے وینژو کے علاقے یوئیکنگ میں دوسری بار لینڈ فال کیاموسمیاتی ماہرین کے مطابق اگرچہ طوفان کی شدت کم ہو کر ٹراپیکل اسٹورم کی سطح پر آ گئی ہے، تاہم آئندہ چند روز کے دوران مشرقی اور شمالی چین میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے، جس سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں،چینی حکام نے طوفان کی آمد سے قبل صوبہ ژی جیانگ سمیت مختلف علاقوں سے تقریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صرف یوئیکنگ شہر میں 1,300 سے زائد درخت گر گئے، جن میں سے 700 سے زیادہ جڑوں سمیت اکھڑ گئے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بڑے بڑے پتھر شاہراہوں پر آ گرے، ریسکیو ٹیموں نے بھا ری مشینری اور چین سا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں سے گرے ہوئے درخت ہٹانے اور نکاسی آب کا کام شروع کر دیا ہے۔

    یوہوان کے ساحلی قصبے کانمین کے رہائشیوں نے بتایا کہ طوفان کے باعث گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور پوری رات جاگ کر صورتحال کا مقابلہ کرنا پڑا، مقامی دکانداروں کے مطابق کئی عمارتوں، دکانوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل طوفان باوی تائیوان سے بھی ٹکرایا تھا، جہاں تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے باعث متعدد علاقے متاثر ہوئے، تائیوان کے محکمہ فائر سروس کے مطابق 134 افراد زخمی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی طوفان کے باعث تائیوان میں 137 بین الاقوامی اور 62 اندرون ملک پروازیں منسو خ کی گئیں، جبکہ چین کے صوبہ ژی جیانگ میں 327 پروازیں اور متعدد ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں،شنگھائی میں بھی 1,620 ٹرینیں اور 684 پرواز یں منسوخ کر دی گئیں، جس سے لاکھوں مسافر متاثر ہوئے۔

    ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ طوفان کمزور پڑ رہا ہے، لیکن اس کا وسیع نظام کئی سو کلومیٹر اندرونِ ملک تک شدید بارشیں برسا سکتا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات برقرار رہیں گے رواں سال ایل نینو موسمی رجحان کے باعث چین کو مزید شدید موسمی حالات اور طاقتور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ہنگامی امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

  • طوفان ’باوی‘ : چین میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری

    طوفان ’باوی‘ : چین میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری

    چین نے سمندری طوفان ’باوی‘ کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے سے قبل شدید بارشوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں بارشوں کا اعلیٰ ترین ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین کے قومی موسمیاتی مرکز نے ہفتے کے روز شدید بارشوں کے لیے 4 درجوں پر مشتمل انتباہی نظام کا اعلیٰ ترین ریڈ الرٹ جاری کر دیا محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان ’باوی‘ کے اتوار کی علی الصبح مشرقی چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا امکان ہے ، جس کے باعث متعدد علاقوں میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں اتوار دوپہر 2 بجے تک کے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسلاد ھار اور بعض مقامات پر انتہا ئی شدید بارشیں ہوں گی، جس سے شہری علاقوں میں سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ژی جیانگ، شمالی فوجیان، شمال مشرقی جیانگ شی، جنوبی آن ہوئی، بیجنگ کے بعض علاقوں اور صوبہ ہیبئی میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے،حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی اور جنوبی ژی جیانگ کے بعض علاقوں اور شمالی فوجیان میں مجموعی بارش 250 سے 500 ملی میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ تائیوان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں 250 سے 800 ملی میٹر تک بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو سیلابی صورتحال پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔

    چینی حکام نے مقامی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے، ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رکھنے اور عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے،ماہرین کے مطابق طوفان ’باوی‘ کے ساتھ آنے والی تیز ہوائیں اور شدید بارشیں مشرقی چین کے ساحلی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ زرعی اراضی، ٹرانسپورٹ کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

  • چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین کامیابی سے سیارچے کے قریب پہنچ گیا

    چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین کامیابی سے سیارچے کے قریب پہنچ گیا

    چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین-2 تقریباً 400 روزہ اور ایک ارب کلومیٹر طویل سفر مکمل کرنے کے بعد کامیابی سے سیارچے 2016HO3 سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا ہے۔

    چین کی قومی خلائی انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس پیشرفت کے ساتھ ہی مشن نے سائنسی تحقیق کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے،چین نے 29 مئی 2025 کو اپنے پہلے سیارچہ سیمپل ریٹرن مشن تیان وین 2 کا آغاز کیا تھا تقریباً 10 برس پر محیط اس مشن کا مقصد زمین کے قریب موجود سیارچے 2016HO3 سے نمونے حاصل کرنا اور بعد ازاں مریخ سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع مرکزی سیارچہ پٹی کے دمدار ستارے 311P کا سائنسی جائزہ لینا ہے۔

    قومی خلائی انتظامیہ کے مطابق سیارچے کے قریب پہنچنے کے مرحلے کے دوران خلائی جہاز نے اس کی تصاویر حاصل کیں،مشن ٹیم نے قریبی فاصلے سے حاصل ہونے والے آپٹیکل نیویگیشن ڈیٹا کی مدد سے سیارچے کے مدار سے متعلق معلومات کو مزید درست بنایا۔

    جس کے نتیجے میں پہلے زمینی مشاہدات کی بنیاد پر سینکڑوں کلومیٹر پر محیط محلِ وقوع کی غیر یقینی کیفیت کم ہو کر صرف چند کلومیٹر تک محدود ہو گئی،سیارچے کی جانب سفر کے دوران تیان وین 2 نے گہرے خلا میں متعدد پروازی تبدیلیاں اور مدار کی درستی کے آپریشن بھی انجام دیے6 جون 2026 کو خلائی جہاز ، نے پہلی مرتبہ سیارچے کا سراغ لگایا، 7 جون کو 30 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر اس کے ساتھ ہم سطح مدار میں داخل ہوا، جبکہ 19جون کو یہ سیارچے سے صرف 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا۔

    قومی خلائی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں تیان وین 2 سیارچے کی ساخت، مادی ترکیب اور اندرونی ڈھانچے کے بارے میں مزید تفصیلی سائنسی مشاہدات کرے گا، تاکہ مستقبل میں وہاں سے نمونے جمع کرنے کے عمل کی تیاری مکمل کی جا سکے۔

  • محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں چینی وزیر مملکت داخلہ سے ملاقات

    محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں چینی وزیر مملکت داخلہ سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں چین کے وزیر مملکت داخلہ و سربراہ اسپشل سروس بیورو لنگ ژیفینگ اور سری لنکن ہم منصب آنند وجے پالا سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں انسداد دہشت گردی تعاون اور اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    پاک چین وزراء نے داخلی سلامتی کے امور پر اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا ، بارڈر مینجمنٹ ، غیر قانونی امیگریشن اور انسداد منشیات کے حوالے سے باہمی معاونت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کو ہر سطح پر روکنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور فنڈنگ میں ملوث ممالک کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے سپشل پروٹیکشن پولیس فورس قائم کی ہے۔​دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان عوامی روابط بہت اہم ہیں۔اس ضمن میں ویزا رجیم میں آسانی ضروری ہے۔

    چینی وزیر مملکت داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انسداد دہشت گردی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا چاہئے​ویزہ اور امیگریشن کے حوالے سے ایشوز کا جائزہ لیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے سری لنکن ہم منصب آنند وجے پالا کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور سری لنکا نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے مؤثر روابط اور پولیس ٹریننگ کیلئے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا –

    اس موقع پر غیرقانونی امیگریشن اور جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کی روک تھام کیلئے اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق کیا گیادونوں وزراء نے جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورکس اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے ایم او یو پر تبادلہ خیال کیا ملاقات کے دوران پاکستان اور سری لنکا کی وزارت داخلہ کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں ویزہ سے متعلق ایشوز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر نے پر بھی اتفاق کیا گیا-

  • چین کے نئے سیٹلائٹس خلا میں روانہ

    چین کے نئے سیٹلائٹس خلا میں روانہ

    چین نے اپنے لانگ مارچ-8 اے راکٹ کے ذریعے نئے سیٹلائٹس کے ایک گروپ کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا۔

    چین نے اتوار کو جنوبی صوبہ ہینان کے وین چانگ کمرشل اسپیس کرافٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-8 اے راکٹ کے ذریعے نئے سیٹلائٹس کے ایک گروپ کو کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا، سیٹلائٹس کو جنوبی صوبہ ہینان کے وین چانگ کمرشل اسپیس کرافٹ لانچ سینٹر سے روانہ کیا گیا، جہاں سے وہ کامیا بی کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں پہنچ گئے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق راکٹ مقامی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 43 منٹ پر لانچ کیا گیا۔ پرواز کامیابی سے مکمل ہوئی اور تمام سیٹلائٹس اپنے پہلے سے مقررہ مدار میں پہنچ گئے۔

    چینی حکام نے لانچ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشن تمام تکنیکی مراحل طے کرتے ہوئے منصوبے کے مطابق مکمل ہوا تاہم جاری کردہ بیان میں سیٹلائٹس کی تعداد یا ان کے مخصوص مقاصد کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں،یہ لانچ چین کے تجارتی خلائی پروگرام کے تحت ہینان میں قائم کمرشل لا نچ سائٹ سے کیا گیا، جو ملک کی خلائی صلاحیتوں اور تجارتی خلائی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    لانگ مارچ-8 اے راکٹ چین کے جدید لانچ وہیکلز میں شمار ہوتا ہے، جسے مختلف اقسام کے سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، حالیہ کامیاب لانچ کو چین کے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعظم  کا چین میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    وزیراعظم کا چین میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے گوانگشی ژوانگ خودمختار علاقے، ہوبے اور گانسو صوبوں میں حالیہ تباہ کن طوفانوں، بگولوں، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنےبیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس مشکل گھڑی میں چینی صدر شی جن پنگ، چین کی حکومت اور عوام، خصوصاً سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں پاکستان اپنے چینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی، جبکہ امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔

    واضح رہے کہ چینی حکام کے مطابق مختلف صوبوں میں اب تک کم از کم 17 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،گوانگشی میں موسلادھار بارشوں کے باعث درجنوں دریا خطرے کی سطح سے بلند ہو گئے، ایک آبی ذخیرے کا بند بھی ٹوٹ گیا، جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

  • چین میں رشوت لینے والے سرکاری افسر کو سزائے موت سنا دی گئی

    چین میں رشوت لینے والے سرکاری افسر کو سزائے موت سنا دی گئی

    چین کی ایک عدالت نے 2.21 ارب یوان (قریباً 325 ملین امریکی ڈالر) سے زائد رشوت وصول کرنے کے جرم میں سابق سرکاری افسر یانگ یولن کو سزائے موت سنا دی۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق 69 سالہ یانگ یولن، مشرقی شہر نانجنگ کے ایک اقتصادی زون کے سابق نائب ڈائریکٹر تھے عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے 2013 سے 2023 کے درمیان بھاری رشوت وصول کی، لوگوں کو انجینئرنگ کے ٹھیکے، زمین کی منتقلی اور مالی سہولتیں دلوانے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی تحائف وصول کیے۔

    جیانگ سو صوبے کی چانگ ژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے یانگ یولن کو رشوت ستانی کے علاوہ سرکاری فنڈز میں خرد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں بھی مجرم قرار دیا عدالت کے مطابق ملزم کے جرائم غیر معمولی سنگین نوعیت کے تھے، جن کے باعث ریاست کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

    رپورٹ کے مطابق یانگ یولن کے خلاف تحقیقات صدر شی جن پنگ کی بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے دوران کی گئیں، جو سرکاری اور فوجی ادارو ں میں کرپشن کے خاتمے کے لیےکئی برسوں سے جاری ہےچین میں مالی بدعنوانی کےمقدمات میں سزائے موت نسبتاً کم سنائی جاتی ہے،تاہم بہت بڑے مالیاتی جرائم میں عدالتیں یہ سزا دے سکتی ہیں، خاص طور پر جب رشوت یا خرد برد کی رقم ایک ارب یوان سے زیادہ ہو حالیہ برسوں میں بڑے مالیا تی جرائم میں ملوث بعض اعلیٰ عہدیداروں کو بھی سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔

    اس سے قبل سابق مالیاتی ادارے کے سربراہ لائی شیاؤ من کو 2021 میں تقریباً 1.8 ارب یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت دے کر پھانسی دی گئی تھی اسی طرح اندرونی منگولیا کے سابق سرکاری افسر لی جیان پنگ کو 2024 میں تین ارب یوان سے زائد کی خرد برد اور رشوت کے جرم میں سزا ئے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔

    چین میں ایسے کئی مقدمات میں عدالتیں عمر قید یا معطل سزائے موت بھی سناتی ہیں، جو مقررہ مدت کے بعد عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے بعض مقدما ت میں اگر ملزم دوسرے مجرموں کے بارے میں معلومات فراہم کرے تو سزا میں کمی بھی کی جاتی ہے۔

    عدالت کے مطابق یانگ یولن نے بھی تفتیش کے دوران حکام سے تعاون کیا، لیکن ان کے جرائم اتنے سنگین تھے کہ یہ تعاون سزا میں نرمی کے لیے کافی نہیں سمجھا گیا چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یانگ یولن نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اپنے آخری بیان میں ندامت کا اظہار بھی کیا۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 105ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے ایک بار پھر بدعنوانی کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی ان تمام جراثیم کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہے جو پارٹی اور ریاستی اداروں کو کمزور کرتے ہیں، اور کرپشن کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

  • چین کا آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل چلانے کا کامیاب تجربہ

    چین کا آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل چلانے کا کامیاب تجربہ

    بیجنگ: چین نے آبدوز سے اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل داغنے کا کامیاب تجربہ کیا ہےچینی حکام کے مطابق یہ تجربہ معمول کے فوجی تربیتی پروگرام کا حصہ تھا اور اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دیا گیا-

    چینی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق تجربے میں ایک ڈمی وارہیڈ سے لیس اسٹریٹجک میزائل استعمال کیا گیا، جو بحرالکاہل میں پہلے سے مقررہ ہدف پر کامیابی سے جا گرا،میزائل تجربے کا مقصد فوجی صلاحیتوں اور دفاعی نظام کا جائزہ لینا تھا جبکہ اس کا ہدف کسی مخصوص ملک یا خطے کو نشانہ بنانا نہیں تھا، اس تجربے سے قبل متعلقہ ممالک کو پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا غیر ضروری کشیدگی پیدا نہ ہو۔

    دوسری جانب جاپان نے تصدیق کی ہے کہ اسے میزائل تجربے کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا تاہم ٹوکیو نے بیجنگ سے ایسے تجربات پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ بھی کیا،جبکہ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بھی کہا کہ چین نے میزائل ٹیسٹ سے متعلق پیشگی اطلاع فراہم کی تھی، لیکن ان کے مطابق بیلسٹک میزائلوں کے ایسے تجربات خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ چین کی بحری دفاعی صلاحیتوں میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات خطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹجک توازن کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

  • پاکستان اور چین کی دوستی ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، اسحاق ڈار

    پاکستان اور چین کی دوستی ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔

    اسلام آباد میں چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے قیام کی 105ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی قیادت، حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے چین کو غیر معمولی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا، کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا اور دنیا کے لیے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی نئی مثال قائم کی۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، جو باہمی اعتماد، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بنیادی مفادات کے احترام پر قائم ہےد و نوں ممالک کے درمیان سیاسی جماعتوں کی سطح پر مسلسل رابطوں نے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا اور عوامی روابط کو فروغ دیا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے درمیان بھی دیرینہ تعلقات موجود ہیں، جبکہ چین پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط برقرار رکھتا ہے رواں برس مئی میں بیجنگ میں پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کی تقریب میں مختلف پاکستانی سیاسی جماعتوں نے بھی شرکت کی، جو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا ثبوت ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ 2015 میں شروع ہونے والا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگ میل ثابت ہوا، سی پیک نے پاکستان میں توانائی کے بحران کے خاتمے، سڑکوں کے جال کی توسیع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، اب سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت، زرا عت، معدنیات، آئی ٹی اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے، جو حکومت کے “پانچ ایز” ترقیاتی وژن سے ہم آہنگ ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے بھی قریبی تعاون کیا دونوں ممالک نے رواں برس مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جس میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات، سمندری راستوں کے تحفظ اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد پر زور دیا گیا، جسے عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہوئی پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 18 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ممکن ہوئے، جبکہ ان امن کوششوں کو چینی صدر شی جن پنگ کی مذاکرات پر مبنی امن تجویز سے بھی تقویت ملی،پاکستان چین کے ساتھ اپنی آہنی دوستی کو مزید مضبوط بنانے، سی پیک کے دوسرے مرحلے کو کامیاب بنانے اور خطے سمیت دنیا میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

  • چین نے 10 امریکی فوجی کمپنیوں کی برآمدات پر پابندی لگا دی

    چین نے 10 امریکی فوجی کمپنیوں کی برآمدات پر پابندی لگا دی

    چین نے امریکی عائد پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے 10 امریکی فوجی کمپنیوں کی برآمدات پر پابندی لگا دی،یہاں تک کہ کسی تیسرے ملک کی کمپنیوں یا افراد کو بھی چین سے دوہر ے استعمال کی اشیاء ان پابندیوں کا شکار امریکی فرموں کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،تاہم، چینی کمپنیاں انتہائی ناگزیر اشیاء کے لیے خصوصی برآمدی منظوری کی درخوا ست دے سکیں گی۔

    چینی وزارتِ تجارت کے مطابق ان 10 امریکی کمپنیوں کو چین سے ‘دوہرے استعمال کی اشیاء برآمد کرنے پر مکمل پابندی ہو گی ان اشیاء سے مراد وہ سامان ہے جو فوجی اور غیر فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے جن کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں فوجی ڈرون بنانے والے اور نایاب معدنیات کی مائننگ میں ملوث امریکی ادارے شامل ہیں یہ اقدام چین کی قومی سلامتی کے تحفظ اور امریکی حکومت کی جانب سے چینی فوجی کمپنیوں کی خود ساختہ فہرست کی غلط توسیع کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب چین کی وزارتِ مالیات نے بھی ایک علیحدہ بیان میں سرکاری اداروں کو 46 امریکی کمپنیوں سے مصنوعات خریدنے سے روک دیا ہے، جن میں لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور جنرل ڈائنامکس کی متعدد ذیلی کمپنیاں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں امریکی محکمہ دفاع نے علی بابا اور بائیڈو جیسی معروف چینی ٹیک کمپنیوں کو مبینہ طور پر چینی فوج سے روابط کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا تھا، جس کے بعد وہ امریکی فوجی معاہدے حاصل کرنے کے اہل نہیں رہی تھیں بائیڈو نے اس امریکی الزام کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا تھا اس وقت چینی وزارتِ تجارت نے کہا تھا کہ امریکی پابندیاں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مئی میں ہونے والی ملاقات کے دوران طے پانے والے اتفاقِ رائے کے منافی ہیں۔