Baaghi TV

Tag: چین

  • ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    چین کے دورے سے قبل جاری بیان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں-

    ایک ویڈیو پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین سیاست، معیشت، دفاع اور انسانی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات، خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام پر مبنی ہیں،ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی کسی کے خلاف نہیں۔

    روسی صدر نے بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں، 25 برس قبل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ’معاہدۂ ہمسائیگی اور دوستا نہ تعاون‘ کے بعد روس اور چین نے ایک جامع تزویراتی شراکت داری قائم کی ہے،دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور زیادہ تر لین دین اب روبل اور یوآن میں کیا جا رہا ہے۔

    اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    روسی صدر نے روس اور چین کے درمیان ویزا فری نظام کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا،ماسکو چین کی تاریخ اور ثقافت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور انسانی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

  • دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد سوشل میڈیا پر امریکی وفد سے متعلق مختلف دعوے زیرِ گردش ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا-

    ریاستیں ایک دوسرے کیساتھ تعلقات بھی رکھتی ہیں اپنا مفاد بھی رکھتی ہیں اور اپنی اناء بھی رکھتی ہیں بظاہر چین اور امریکہ میں بہت سرد مہری پائی جاتی ہے لیکن دونوں ممالک کی آپس میں تجارت بھی ہے دونوں ممالک کئی معاملات میں ایک دوسرے سے متفق بھی ہیں اور کئی معاملات کیں ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے سربراہان اپنے اپنے ملک کی سفارتی، عسکری، تجارتی اور ریاستی خودمختاری کو بھی سامنے رکھتی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ چین کے دورے پر گئے اور اپنے ساتھ امریکہ کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون سے لے کر ٹیکنالوجی کمپنی تک کے سربراہان تک کو ساتھ لیکر گئے لیکن جب واپس اپنے ملک جانے لگے تو ائیرپورٹ پر پہنچ کر موبائل سے لے کر سوئی اور چین کی طرف سے دئیے گئے تمام تحائف ائیرپورٹ کے باہر ایک باسکٹ میں ڈالتے گئے جبکہ امریکی وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا جبکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے چینی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا-

    رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق امریکی وفد نے دورے کے دوران تمام خوراک اور پانی امریکا سے منگوایا جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے تحائف بھی اپنے ساتھ واپس نہیں لے جائے گئے، بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے تحائف کو سیکیورٹی خدشات کے باعث قبول کرنے سے گریز کیا۔

    تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی وائٹ ہاؤس یا امریکی حکام کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا ہو کہ وفد نے چینی کھانا استعمال نہیں کیا یا پانی امریکا سے ایئر لفٹ کیا گیا تاہم امریکی وفد نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر چین میں استعمال ہونے والی بعض عارضی ڈیوائسز، بیجز اور دیگر سامان واپس روانگی سے قبل تلف ضرور کیے تھے مبصرین کے مطابق یہ اقدام سائبر سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ ہوسکتا ہے۔

    وجہ صرف اتنی تھی کہ چین کے دورے سے واپسی پر ہمارے پاس ایسا کچھ نہ ہو جو ہماری سیکیورٹی کو رسک میں ڈال دے اور جواب میں چین نے بھی اپنی ریاستی انا برقرار رکھی اور جیسے ہی آخری امریکی جہاز کیں بیٹھا چین نے ریڈ کارپٹ سے لیکر واپسی استقبالیہ ٹھہرے بچوں سمیت اپنی پروٹوکول فورس تک کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں لپیٹ کر چل دئیے جبکہ امریکی جہاز ابھی بھی ائیرپورٹ پر موجود تھا۔

    ریاستیں اپنی سیکیورٹی کو اس حد تک محفوظ کرتی ہیں کہ امریکی وفد نے چین سے واپسی پر سوائے اپنے کپڑوں کے باقی سب وہیں چین میں ہی چھوڑ دیا اور خود دار ریاستیں اپنی عزت اور اناء کا اس حد تک خیال کرتی ہیں کہ ابھی امریکی جہاز ائیرپورٹ پر موجود ہے جبکہ چین نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ائیرپورٹ کو خالی کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر ان خبروں کو امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  • ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کے دورے کا اعلان کردیا، یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے فوراً بعد ہورہا ہے۔

    کریملن نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 19 مئی کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے پیوٹن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے دونوں رہنما اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر بھی گفتگو کریں گے جبکہ مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جائیں گے۔

    دورے کے دوران روسی صدر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات شیڈول ہے، جس میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے مختلف پہلو زیر بحث آئیں گے پیوٹن کے دورے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو اپنا دورۂ چین مکمل کرکے واپس روانہ ہوئے ہیں۔ قریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا۔

    اگرچہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان یوکرین روس تنازع اور ایران کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، تاہم امریکی صدر کسی بڑی پیشرفت کے بغیر واپس لوٹے۔

  • چین اور امریکا  کےتعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے،چینی صدر

    چین اور امریکا کےتعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے،چینی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد اب صدر ٹرمپ کے اعزاز میں سرکاری تقریب سے قبل گفتگو کرتے ہوئے شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف پیپل‘ میں ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کے دورۂ چین کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرٹرمپ کےساتھ تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، چین اور امریکا مل کر ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں۔

    شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کی ’ری جوینیشن آف چائنہ‘ اور ’میگ امریکا گریٹ اگین‘ پالیسی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں، چین اور امریکا کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی کےلیے مدد کرنی چاہیئے،دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے اور ان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں کے درمیان انتہائی مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہےامریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، انہوں نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کو 24 ستمبر کو امریکا آنے کی دعوت بھی دی-

    رائٹرز کے مطابق اس موقع پر گفتگو کے دوران ٹرمپ کا رویہ بالکل الگ تھا، ان کی تقریر نسبتاً روایتی، محتاط اور اسکرپٹڈ انداز میں تھی، جو ان کے عمومی غیر رسمی اور براہِ راست طرزِ خطاب کے برعکس تھی۔

  • بیجنگ :فاکس نیوز کی ٹیم پر  جرمانہ

    بیجنگ :فاکس نیوز کی ٹیم پر جرمانہ

    چین کے دورے پر موجود امریکی نیوز چینل ’فاکس نیوز‘ کی ٹیم کو بیجنگ میں محض دو منٹ کے لیے غلط جگہ گاڑی کھڑی کرنے پر جرمانے کا ٹکٹ تھما دیا گیا۔

    فاکس نیوز کے میزبان بریٹ بائر نے بدھ کو بتایا کہ ان کے ڈرائیور نے صرف دو منٹ کے لیے غیر قانونی پارکنگ کی تھی جس پر اسے فوری طور پر موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا کہ اسے کیمرے کی مدد سے دیکھ لیا گیا ہے اور اس پر چالیس امریکی ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔

    بریٹ بائر ان دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کی کوریج کے لیے بیجنگ میں موجود ہیں جہاں سے وہ اپنے پروگرام کی نشریات کر رہے ہیں بریٹ بائر نے چین میں شہریوں کی کڑی نگرانی اور ہر جگہ نصب کیمروں کے نظام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ میں ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی آپ کو ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔

    انہوں نے ایک ریلوے اسٹیشن کے باہر کا منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف اس ایک کونے پر کھڑے ہو کر کم از کم بیس کیمرے گن سکتا ہوں صر ف اس سال بیجنگ میں پندرہ سو نئے کیمروں کا اضافہ کیا گیا ہے جو ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی بھی شخص سڑک پار کرنے کے لیے ٹر یفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ایسا کرنے پر فوراً جرمانہ ہو جائے گا۔

    بریٹ بائر نے چین کی نگرانی کے ان اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت کا کہنا ہے یہ سب کچھ لوگوں کی حفاظت کے لیے ہے لیکن شہریوں کی اس طرح نگرانی اور ان کی درجہ بندی کرنے کے حوالے سے کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں یہ کیمرے ہر جگہ موجود ہیں اور ہر منٹ آپ کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق پورے چین میں اس وقت تقریباً ساٹھ کروڑ کیمرے نصب ہیں جو مصنوعی ذہانت اور چہروں کی شناخت جیسی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں،یہ نظام نہ صرف لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے بلکہ بعض علاقوں میں ڈرونز اور جدید کیمروں کے ذریعے خودکار طریقے سے قانون نافذ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

  • چینی صدر کی تائیوان معاملے میں ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

    چینی صدر کی تائیوان معاملے میں ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

    بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی ،جس میں چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے یہ وہ تاریخی مقام ہے جو 1420 میں منگ خاندان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے شاہی قربانیوں اور اچھی فصل کی دعا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق جب امریکی صدر ٹیمپل آف ہیون پہنچے تو ان سے سوال کیا گیا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی رہی؟جس پر صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا،لیکن ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔

    تاہم، چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دورا ن چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے، اگر اس مسئلے کو صحیح طریقے سے حل کیا گیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات مستحکم رہیں گے، لیکن اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو دونوں ممالک کے در میان ٹکراؤ اور بڑے تنازعات جنم لے سکتے ہیں جس سے پورے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔

    ماؤ ننگ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن دو ایسی چیزیں ہیں جو آگ اور پانی کی طرح ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں اس خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ہی چین اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ نکتہ ہونا چاہیے۔

  • دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر، امریکی حکام، مشیروں اور حفاظتی عملے کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپ واشنگٹن میں چھوڑ آئے،چینی سیکیورٹی اور سائبر جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر امریکی حکام نے اس دورے کے لیے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی اپنائی ہے۔

    چینی حکام کی جانب سے نگرانی، ہیکنگ یا ڈیٹا چوری کے خدشات کے پیش نظر امریکی وفد "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کے تحت چین گیا اہلکار اپنے ذاتی فونز کی جگہ "صاف” (clean) یا عارضی فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں، جن میں حساس معلومات نہیں ہوتیں۔

    امریکی سیکیورٹی حکام کا ماننا ہے کہ چین میں موجود الیکٹرانک ڈیوائسز، نیٹ ورکس اور ہوٹل کے کمروں کی نگرانی کی جا سکتی ہے، اور فون چارج کرنا بھی ڈیٹا چوری (جوس جیکنگ) کا خطرہ بن سکتا ہے یہ احتیاطی تدابیر صرف سرکاری اہلکاروں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جانے والے ایپل ، بوئنگ اور کوالکوم جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز پر بھی لاگو تھیں۔

    یہ ایک طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی ہے جس کے تحت چین (یا دیگر حساس ممالک) کے دورے پر جانے والے اہلکاروں کو اپنی معمول کی ڈیجیٹل ڈیوائسز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی

  • امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

    جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا،اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

    استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

    ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے،یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

    اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

    چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقا ت پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ،ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے وہ اس دور ے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

    دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

    صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعےچین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں،یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

    بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

    صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کارو باری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے در میا ن تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے،امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

    دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

  • چین کا پاکستان پر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں مزید تیز  کرنےپر زور

    چین کا پاکستان پر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں مزید تیز کرنےپر زور

    چین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں مزید تیز کرے-

    رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور ایران امریکا تنازع پر تبادلہ خیال کیا۔

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وانگ ای نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری گزرگاہ کھلوانے کے لیے بھی تعمیری کردار ادا کرے، بیجنگ پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اس عمل میں اپنا کردار بھی ادا کرے گا۔

    امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم ثالثی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے اسلام آباد کی کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس میں بعد ازاں توسیع بھی کی گئی اسی سلسلے میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات کا ایک دور بھی منعقد ہوا تھا، تاہم دوسرا دور تاحال نہیں ہو سکا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے، تاہم پاکستان کے ذریعے رابطے اور پسِ پردہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

  • چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین سے قبل امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں، جن میں تائیوان کا مسئلہ، سمندری حدود (جنوبی چین کا سمندر)، انسانی حقوق اور چین کی سیاسی نظام کو چیلنج نہ کرنا شامل ہیں-

    رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ملاقات میں ایران سے متعلق جنگ پر بھی بات کریں گے، جس پر امریکا اور اسرائیل چین پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    چینی سفارت خانے نے امریکا میں اپنے بیان میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے 4 ’ریڈ لائنز‘ کا ذکر کیا ہے، جن میں تائیوان، جمہوریت اور انسانی حقوق، سیاسی نظام اور ترقی کے راستے، اور چین کے ترقیاتی حقوق شامل ہیں، چین اپنی سمندر ی حدود میں امریکی فوجی موجودگی اور نیویگیشن آپریشنز کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا کو تائیوان میں علیحدگی پسند حکومت کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،چین کے ترقیاتی اہداف کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی یا دیگر تجارتی پابندیوں کا نفاذ، جسے چین اپنی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے-

    صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کی دوسری مدتِ صدارت میں چین کا پہلا دورہ ہے، جس میں وہ ایران کے معاملے، عالمی تجارت، اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کریں گے یہ دورہ ایران جنگ اور تجارتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد چین اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں امریکا کی جانب سے ایک چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے جواب میں چین نے اپنی نجی ریفائنریوں کو امریکی پابندیوں کی پابندی سے روک دیا ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مفادِ مشترکہ کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔