Baaghi TV

Tag: چین

  • چین کے J-10C   فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے دفاعی حلقوں میں تشویش

    چین کے J-10C فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے دفاعی حلقوں میں تشویش

    چین کی جانب سے اپنے جے-10سی (J-10C) "4+ جنریشن” لڑاکا طیاروں کو دنیا کے طویل ترین فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، PL-17 سے لیس کرنے کی اطلاعات نے انڈو پیسیفک (بحرالکاہل) خطے میں دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مئی 2026 کے اوائل میں سامنے آنے والی رپورٹس اور تصاویر کے مطابق، ان طیاروں پر نئے بیرونی ہتھیاروں کے پائلن (DF-4/3) نصب کیے گئے ہیں، جو ان ‘ایئر وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم’ (AWACS) کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کے استعمال کی تصدیق کرتے ہیں۔

    PL-17 میزائل 400 کلومیٹر تک کی رینج کے ساتھ، انڈو پیسیفک میں امریکی اور اتحادی فضائیہ کے اہم سہولیاتی طیاروں (جیسے AWACS اور ٹینکرز) کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے J-10C کی پذیری کو بڑھا کر، چین اب ان ہلکے لڑاکا طیاروں کے ذریعے بھی طویل فاصلے تک آپریشنز کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، جو پہلے صرف بھاری جے-16 (J-16) طیاروں تک محدود تھی۔

    یہ پیشرفت تائیوان کے ارد گرد اور جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے، جس سے امریکی اور اتحادی پلانرز کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے،پاکستان ایئر فورس (PAF) بھی J-10C استعمال کرتی ہے اور ان کے بیڑے کو بھی PL-15 اور مستقبل میں PL-17 میزائلو ں سے لیس کرنے کی اطلاعات ہیں، جس سے علاقائی فضائی لڑائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

    مئی 2026 سے ابھرتی ہوئی رپورٹیں جنگی کامیابی کی تجویز کرتی ہیں، ان دعووں کے ساتھ کہ پاکستان کے J-10C جیٹ طیاروں نے ہندوستانی رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرایا، J-10C، اپنی ظاہر کردہ صلاحیتوں اور سستی قیمت کے ٹیگ کے ساتھ دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا ان میں سے 42 جیٹ طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    یہ پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ PL-17 اب J-16 جیسے بڑے، جڑواں انجن والے پلیٹ فارم تک محدود نہیں ہے، جو PLAAF (پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس) کے بیڑے میں اپنی رسائی کو بڑھا رہا ہے۔

  • معرکہ حق:چین کی پاکستان  کوفضائی مدد فراہم کرنے کی تصدیق

    معرکہ حق:چین کی پاکستان کوفضائی مدد فراہم کرنے کی تصدیق

    چین نے بھارت کے ساتھ تنازع (معرکہ حق) کے دوران پاک فضائیہ کو اہم آپریشنل اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔ چینی انجینئرز کے مطابق، اس تعاون میں شامل چینی ساختہ طیارے اور ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا۔

    ،چینی انجینئر کا انٹرویو میں کہنا تھا آپریشنل اور تکنیکی مدد فراہم کی گئی، چینی ساختہ طیارے کے ذریعے بھارتی رافیل مار گرایا گیا ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق چین نے پہلی بار باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اس نے پاکستان کی فضائیہ کو تکنیکی معاونت فراہم کی تھی،بھارت کے ساتھ اس جنگی صورتحال کے دوران ایک چینی ساختہ فائٹر جیٹ نے بھارت کے کم از کم ایک فرانسیسی ساختہ رافیل جنگی طیارے کو تباہ کیا تھا۔

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے CCTV نے ژانگ ہینگ کا ایک انٹرویو نشر کیا، جو ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (AVIC) کے چینگڈو ایئرکرافٹ ڈیزائن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے انجینئر ہیں یہ ادارہ چین کے جدید لڑاکا طیاروں اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (ڈرونز) کے ڈیزائن میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ژانگ نے گزشتہ مئی کے دوران ہونے والی چار روزہ جنگ میں پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔

    پاکستان کی فضائیہ چینی ساختہ J-10CE طیاروں کا بیڑا چلاتی ہے، جنہیں AVIC کا ایک ذیلی ادارہ تیار کرتا ہے،بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران ان طیاروں میں سے ایک نے کم از کم ایک فرانسیسی ساختہ رافیل (Rafale) جنگی طیارہ مار گرایا،یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی چینی ماڈل (طیارے) کے بارے میں دشمن کے طیارے کو گرانے کی اطلاع ملی، اور یہ پہلا موقع تھا کہ جب ایک رافیل طیارے کو مار گرایا گیا تھا۔

  • وائٹ ہاؤس نے  ایلون مسک  کو  دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی

    وائٹ ہاؤس نے ایلون مسک کو دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی

    وائٹ ہاؤس نے ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اور ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے ہونے والے دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی۔

    بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایک وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا ہے کہ گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن، بلیک اسٹون کے اسٹیفن شوارزمین، بلیک راک کے لیری فنک، سٹی گروپ کی جین فریزر اور میٹا پلیٹ فارمز کی ڈینا پاول میک کارمک بھی ٹرمپ کے وفد میں شامل ہونے والے اہم کاروباری رہنماؤں میں شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایک درجن سے زائد اعلیٰ کاروباری شخصیات پر مشتمل یہ وفد صدر ٹرمپ کے ساتھ چین جا رہا ہے، جہاں امریکی صدر کو امید ہے کہ بیجنگ کے ساتھ مختلف کاروباری معاہدے اور خریداری کے سمجھوتے طے پائیں گے متعلقہ کمپنیوں نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ 13 سے 15 مئی کے دوران چین کا دورہ کریں گے، جسے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے باوجود سفارتی روابط کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے،جبکہ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکی فضائیہ کے C-17 گلوب ماسٹر III طیارے بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بڑے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے ٹرمپ کے دورے کے لیے درکار گاڑیاں، سکیورٹی آلات اور دیگر لاجسٹک سامان لے کر آئےہیں یہ طیارے امریکی صدور کے دوروں کے لیے سکیورٹی اور آپریشنل تیاریوں کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔

  • امریکی صدر  چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    امریکی صدر چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے وہ تاریخی سنگ میل عبور کیے ہیں جن کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کے لیے پاکستان میں قیام کریں۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اللہ کے فضل سے دشمن کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ جیتی ہے جس کا اعتراف پوری دنیا بشمول امریکی صدر نے کیا ہے، جنہوں نے متعدد بار بھارت کو اس کے ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان اور تباہ شدہ طیاروں کی یاد دہانی کرائی، یہ فتح اتنی واضح تھی کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی اور اس سے بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کا قد کاٹھ نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی تشخص اب مکمل طور پر تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ ماضی میں جس ملک پر روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے تھے، آج وہی پاکستان خطے میں امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے اور جنگوں کو ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان اس وقت امریکہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک ثالث اور دفاعی پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی ہے،اس پائیدار امن کے ثمرات سعودی عرب، خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں، شام اور مصر سمیت پوری مسلم امہ تک پہنچیں گے اور خطے کے عوام سکھ کا سانس لیں گے۔

    خواجہ آصف نے ان کامیابیوں اور امن کی کوششوں کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کے باہمی تعاون سے پاکستان ایک نئی سمت میں گامزن ہے انہوں نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن کی بدولت ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا۔

    وفاقی وزیر نے مزید انکشاف کیا کہ ایسی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک مزید دشمنی یا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور تیل کی فراہمی کے بحران نے معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    خواجہ آصف نےکہا کہ اب یورپ کے رویے میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ دشمنی کے بجائے مفاہمت اور امن کی بات کر رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے ،پاکستان اب ایک محفوظ متبادل تجارتی اور سفارتی گیٹ وے کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے اور ان شاء اللہ دشمنیوں کے اس خاتمے سے ملک و قوم کے لیے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔

  • سپر ہٹ فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’رواں ماہ چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی

    سپر ہٹ فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’رواں ماہ چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی

    پاکستانی ہدایت کار بلال لاشاری نے اعلان کیا ہے کہ سپر ہٹ فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ 21 مئی کو چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔

    فلم کے ڈائریکٹر بلال لاشاری نے سوشل میڈیا پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستانی سنیما کے لیے بہت بڑا سنگِ میل قرار دیاانہوں نے بتایا کہ یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو چین کے انتہائی محدود اور سخت کنٹرول والے غیر ملکی فلم امپورٹ کوٹے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے چینی زبان (مینڈارن) میں ڈب کیا گیا پوسٹر اور ٹریلر بھی جاری کیا، جس نے شائقین کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔

    بلال لاشاری کے مطابق یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سینما اب عالمی سطح پر اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے دی لیجنڈ آف مولا جٹ نے عالمی سطح پر ریکارڈ بزنس کرتے ہوئے 13 ملین ڈالر سے زائد کمائی کی اور پاکستان میں بھی ایک ارب روپے سے زیادہ کا بزنس کر کے تاریخ رقم کی۔

    فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی، ہمایمہ ملک، گوہر راشد، فخر شفیع اور علی عظمت سمیت نامور اداکار شامل ہیں،یہ فلم 1979 کی کلاسک پنجابی فلم مولا جٹ کا جدید ری-امیجنیشن ہے، جس میں مولا جٹ اور اس کے روایتی دشمن نوری نٹ کے درمیان شدید تصادم کی کہانی پیش کی گئی ہے۔

  • چین اور بنگلہ دیش کا متعدد شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

    چین اور بنگلہ دیش کا متعدد شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی قیادت نے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ‘مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری’ کے تصور کو سراہتے ہوئے چین کے عالمی اقدامات کا خیرمقدم کیاہے-

    بنگلہ دیش اور چین نے بیجنگ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے اور جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو آگے بڑھائیں گے بنگلہ دیش نے چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے کے کامیاب آغاز پر مبارکباد پیش کی، جبکہ چین نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں حمایت کا اظہار کیا۔

    دونوں ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت اعلیٰ معیار کے تعاون کو فروغ دینے اور تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، ڈیجیٹل معیشت، آبی وسائل، صحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا بنگلہ دیش نے اپنی ترقی کے لیے چین کی دیرینہ حمایت کو سراہا اور تیستا دریا کے جامع انتظام و بحالی منصوبے میں بیجنگ کے تعاون کی خواہش ظاہر کی۔

    بنگلہ دیشی قیادت نے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ‘مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری’ کے تصور کو سراہتے ہوئے چین کے عالمی اقدامات کا خیرمقدم کیا بین الاقوامی امور پر دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں سے وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایک منصفانہ اور منظم کثیر القطبی عالمی نظام اور سب کے لیے مفید اقتصادی عالمگیریت کے فروغ پر بھی اتفاق کیا۔

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے بنگلہ دیش نے شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ چار نکاتی تجویز کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور جامع جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی، غیر فوجی اہداف کے تحفظ اور سفارتی کوششوں کی حمایت پر زور دیا، روہنگیا بحران کے حوالے سے چین نے بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان قابلِ قبول حل تلاش کرنے میں تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا اور واپسی کے عمل میں اپنی استطاعت کے مطابق مدد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

    وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے دورے کے دوران میزبانی پر وانگ یی اور چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مناسب وقت پر بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت بھی دی۔

  • چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین کے صوبہ ہونان کے شہر لیویانگ میں ایک آتش بازی فیکٹری میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 61 زخمی ہو گئے۔

    چینی میڈیاکے مطابق ہواشینگ فائر ورکس پلانٹ میں یہ دھماکا پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 40 منٹ پر ہوا، جس کے بعد امدادی ٹیمو ں نے فیکٹری کے گرد 3 کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرا لیا، قریباً 500 اہلکاروں کو ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا جبکہ عمارت کے ملبے تلے دبے افرا د کو تلاش کرنے کے لیے روبوٹس کی بھی مدد لی گئی، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فیکٹری کے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں موجود بارود کے 2 گودام امدادی سرگرمیوں کے دوران شدید خطرہ بنے ہوئے تھے، جس کے باعث مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، جن میں علاقے کو نم رکھنا بھی شامل تھا تاکہ کسی دوسرے حادثے سے بچا جا سکے،دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی رہائشی عمار توں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کھڑکیوں کے فریم اور دروازے بھی شدید متاثر ہوئے، زخمی ہونے والوں کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں سے بعض افراد ملبے کے ٹکڑوں سے ٹکرا کر ہڈیوں کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لیویانگ شہر دنیا میں آتش بازی کی مصنوعات کی سب سے بڑی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ فیکٹریوں میں حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، گزشتہ فروری میں بھی صوبہ ہوبے میں ایک آتش بازی کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  • امریکی پابندیاں مسترد،چین کا ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان

    امریکی پابندیاں مسترد،چین کا ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان

    چین نے ایران سے تیل خریدنے والی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا-

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق وزارتِ تجارت نے ہفتے کے روز قانونی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت چین کی پانچ آئل ریفائنریز پر عائد امریکی پابندیوں کو منسوخ کر دیا ہےا مریکی اقدامات میں ان چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ایران سے تیل خریدتی ہیں، تاہم چین نے واضح کیا کہ یہ تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی، واشنگٹن کی پابندیاں قانونی حیثیت نہیں رکھتیں اور چین ان پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔

    چینی وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے یہ اقدامات نہ صرف چینی کمپنیوں کو تیسرے ممالک کے ساتھ معمول کی تجارت سے روکنے کی کوشش ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں چین اقوام متحدہ کی منظوری اور عالمی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف تمام یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہےچین نے اسی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کو نہ تسلیم کیا جائے گا، نہ ان پر عمل کیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں نافذ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں میں ایران کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے ان ریفائنریز اور متعلقہ کمپنیوں پر دباؤ اور پابندیاں بڑھا دی ہیں چین ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، جہاں زیادہ تر خام تیل ’ٹی پاٹ ریفائنریز‘ کہلائی جانے والی نجی ریفائنریوں کے ذریعے درآمد کیا جاتا ہے یہ کمپنیاں رعایتی قیمتوں پر ایرانی تیل پر انحصار کرتی ہیں۔

  • ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا  راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے-

    امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے، یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑےصدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا-

    تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے،توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے، ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

  • سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون  وسیع

    سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون وسیع

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود ترکیہ اور چین کا دورہ کریں گے-

    ترکیہ اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک عدالتی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے نظامِ انصاف کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی عدالت ترکیہ اور Supreme People’s Court of China کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت، ٹیکنالوجی انضمام اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ان اقدامات کے تحت ضلعی عدلیہ کے میرٹ پر منتخب ججز کو عالمی سطح پر تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں جیسے گوادر، لکی مروت، گھوٹکی، بنوں، کوئٹہ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والےججز کو بھی بین الاقوامی فورمز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔ خواتین ججز کی عالمی سطح پر مؤثر اور بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستانی عدالتی وفود ترکیہ اور چین میں کانفرنسز اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔

    مزید برآں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود بھی ان ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ جدید عدالتی ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی جائزہ لیا جا سکے سپریم کورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف فعال بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں، اور اس عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔