Baaghi TV

Tag: چین

  • افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت خارجہ

    افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت خارجہ

    بیجنگ:افغانستان امریکی بالادستی اور طاقت کی پالیسی کے بدترین نتائج کا گواہ ہے،اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حال ہی میں عالمی میڈیا نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی پہلی برسی پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا کہ افغانستان پر امریکی حملے کے منفی اثرات کا تسلسل بدستور جاری ہے۔ اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے 19 تاریخ کو ایک یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان ،امریکی فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی کے بدترین نتائج کا گواہ ہے۔

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    ترجمان نے نشاندہی کی کہ "امریکہ نے 20 سال تک افغانستان پر جنگ مسلط کی، ایک ملک کو ریزہ ریزہ کر دیا، ایک نسل کا مستقبل تباہ کر دیا، 174,000 لوگوں کو ہلاک کیا، جن میں 30,000 سے زیادہ عام شہری بھی شامل ہیں، اور 10 ملین سے زیادہ لوگوں کو پناہ گزینوں میں تبدیل کر دیا۔ افغانستان میں امریکی جارحیت کے منفی اثرات بدستور جاری ہیں۔ لاکھوں افغان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، تقریباً 30 لاکھ افغان بچے غربت کی وجہ سے اسکولوں سے باہر ہیں، اور 18.9 ملین افغانوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    چین کی ’اسکائی ٹرین‘ جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    وانگ وین بین نے مزید کہا کہ دوسری جانب افغانستان امریکی "جمہوری تبدیلی کے منصوبے” کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ امریکی ناکامی نے اُس کی جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام میں منافقت اور اس کے جبر و بالادستی کے حقیقی رنگوں کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ افغانستان میں ناکام ہوا ہے لیکن اس نے پھر بھی دنیا میں ہر جگہ مداخلت کی پالیسی ترک نہیں کی، وہ اب بھی جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اور دنیا بھر میں تقسیم اور محاذ آرائی کو ہوا دے رہا ہے۔ عالمی برادری کو چوکس رہنا چاہیے اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں دنیا میں افراتفری پھیلانے کے امریکی خطرناک اقدام کی مشترکہ مزاحمت کرنی چاہیے، تاکہ افغان سانحے کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے۔

  • چین کی ’اسکائی ٹرین‘  جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    چین کی ’اسکائی ٹرین‘ جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    بیجنگ: اب چین نے اپنی پہلی معلق میگلیو لائن کی رُنمائی کی ہے جس کو مستقل مقناطیسوں سے بنایا گیا ہے۔ اس کے متعلق انجینئروں کا دعویٰ ہے کہ یہ توانائی کی ترسیل کے بغیر بھی ایک ’اسکائی ٹرین‘ کو ہوا میں معلق رکھ سکتی ہے۔

     

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    ریڈ ریل نامی 2600 فٹ طویل تجرباتی ٹریک جنوبی چین کے جیانگ شی صوبے کی شِنگ گو کاؤنٹی میں بنایا گیا ہے۔
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ٹریک میں طاقتور مقناطیس استعمال کیے گئے ہیں جو مستقل مدافع قوت پیدا کرتے رہتے ہیں اور یہ قوت اتنی ہوتی ہے کہ 88 مسافروں کے ساتھ ایک ٹرین کو ہوا میں اٹھا سکے۔

    موجودہ میگلیو لائنز کے برعکس یہ معلق ریل زمین سے 33 فٹ اوپر کام کرتی ہے۔ یہ ٹرین ریل کو چھوتی بھی نہیں اور اس کے نیچے 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خاموشی کے ساتھ چلتی ہے۔

    جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    الیکٹرو میگنٹس کے بجائے مستقل مقناطیس کے استعمال کے ساتھ مزاحمت میں کمی کا مطلب ہے کہ اس کے لیے تھوڑی مقدار میں بجلی چاہیے ہوگی جو انجن کو آگے دھکیلے گی۔جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کے مطابق اس کی تعمیری لاگت بھی کم ہے۔ یہ ٹرین سب وے کی لاگت کے دسویں حصے میں بنائی جاسکتی ہے۔

    چین کی ہوا میں معلق "اسکائی ٹرین”جو بجلی کےبغیربھی سفرکرسکتی ہے

  • جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    واشنگٹن:جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےکیا باہمی تجارتی مذاکرات کااعلان،اطلاعات کے مطابق چین امریکہ معاملات میں کشیدگی کےچلتے تائیوان اورامریکہ نے باہمی تجارتی تعلقات کےفروغ کےلئےمذاکرات کا اعلان کردیا۔

    جنوبی چین کےسمندری علاقے میں کشیدگی کے باوجود تائیوان اورامریکہ نےدوطرفہ تعلقات بڑھانےکااعلان کیا ہے۔

    یہ تجارتی مذاکرات اس سال موسم سرما کے آغاز میں ہوں گے جن میں زراعت، ڈیجیٹل تجارتی امور، مارکیٹ ریگولیشن اور تجارتی راہ میں حائل موانع کو دور کرنے جیسے امور پر مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات کا اعلان امریکی تجارتی نمائندے کیتھرین تائی نے کیا ہے۔

    اگرچہ یہ مذاکرات جون میں ہونے تھے لیکن اب باضابطہ طور پر موسم سرما کے آغاز میں ان مذاکرات کے منعقد ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    یہ خبر نینسی پلوسی کے ااُس دورۂ تائیوان کے دو ہفتے بعد آئی ہے جو گزشتہ پچیس سالوں میں کسی اعلی امریکی عہدیدار کا پہلا دورۂ تائیوان سمجھا جاتا ہے۔ چین نے اس دورے کو کشیدگی کو ہوا دینے کا معاملہ قرار دیا تھا اور تائیوان کے نزدیک ایک بڑی فوجی مشق سے تائیوان اور امریکہ کو اپنی ناراضگی کا پیغام دیا تھا۔

    دوسری طرف چین نے بھی خطے میں امریکی بالادستی کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر حکمت عملی شروع کردی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد چین جنوبی چین کے سمندروں میں بہت بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کردے گا اور امریکہ کو باز رہنے کا ایک واضح پیغام دے گا

  • چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    چین اور روس کے صدور انڈونیشیا میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق انڈونشیا 20 بڑی معیشتوں کے گروپ کی سربراہی کر رہا ہے اور نومبر میں اس کا اعلٰی سطح اجلاس جزیرہ بالی پر ہو گا چین اور روس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے اس کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ امغربی ممالک نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین پر حملے کی وجہ سے روسی صدر پیوٹن کا دعوت نامہ منسوخ کیا جائے جس کو روس ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیتا ہے۔

    آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    بلوم برگ کے مطابق انڈونیشیا کےصدرکےمطابق جی 20 اجلاس نومبر میں منعقد ہوگا چین کے صدر شی جن پنگ آئیں گے اور پیوتن نے مجھے خود بتایا ہےکہ وہ بھی آئیں گےجب چین کی وزارت خارجہ سےاس اطلاع کےحوالےسےموقف جاننےکی کوشش کی گئی تووہاں سے فوری طورپرکوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    انڈونیشئین صدر نے متحارب ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اس کے لیے یوکرین اور روس دونوں کے دورے بھی کیے اور صدور سے ملاقاتیں بھی کیں ان ملاقاتوں کے بعد جوکووی نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے انڈونیشیا کو امن کے پُل کے طور پر قبول کیا ہےبڑے ممالک کے رہنما نومبر میں ملاقات کریں گے جن میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن بھی شامل ہیں جبکہ انڈونیشیا کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی دعوت دی گئی ہے۔

    یاد رہے روس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تب سے خراب ہیں جب سے اس نے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا ہے، امریکہ اور مغربی ممالک کھل کر یوکرین کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ روس اور امریکہ کی قیادت کے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی جاری ہے۔

    اسی طرح رواں امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکرنینسی پلوسی کےتائیوان کےدورے پرامریکہ اور چین کےتعلقات میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی اور چین نے جنگی مشقیں بھی شروع کیں بعد ازاں امریکی کانگریس کا ایک اوروفد تائیوان جا پہنچاجس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی خراب ہیں۔ چین پڑوسی ملک تائیوان پر اپنی ملکیت کا دعوٰی رکھتا ہے جبکہ تائیوان خود کو آزاد ملک قرار دیتا ہے-

    ملکہ برطانیہ کو قتل کرنا چاہتا تھا، ونڈسر محل کے باہر سے تیر کمان سمیت گرفتارملزم…

  • چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    بیجنگ :چین کے شمال مغربی علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے، جہاں انتہائی موسمی حالات کے باعث فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور بجلی بھی منقطع ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین میں سیلاب درجہ حرارت میں اضافے اور موسلا دھار بارشوں کے دوران آتا ہے، متعدد شہروں میں سیلاب کی وجہ سے کروڑوں ڈالر مالیت کا نقصان رہورٹ ہوا ہے۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ رواں ہفتے صوبہ کنگھائی کے ایک پہاڑی علاقے میں سیلاب آیا، جس سے 6 دیہات کے 6 ہزار 200 سے زیادہ شہری متاثر ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے باعث سڑکیں کیچڑ سے ڈھکی ہوئی ہیں، کئی جگہوں پر درخت اکھڑے گئے ہیں اور مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔سی سی ٹی وی نے بتایا کہ ’18 تاریخ کو دوپہر تک، 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم امدادی کام جاری ہے’۔

    سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 18 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 20 کو بچا لیا گیا ہے، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ‘فرنٹ لائن ہیڈکوارٹرز’ قائم کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بچاؤ کا کام منظم طریقے سے جاری ہے’، بدھ کی رات اچانک ہونے والی شدید بارش نے صورت حال میں مزید شدت آگئی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید موسم دیکھنے میں آرہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔

    جنوبی چین میں جون میں آنے والے شدید سیلاب نے نصف ملین سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق 25 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔چینی حکام نے خبردار کیا کہ ملک کے شمالی علاقوں بشمول دارالحکومت بیجنگ اور ہمسایہ ممالک تیانجن اور ہیبی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ میں حکام سے ‘سیلاب پر قابو پانے میں لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے’ کی ہدایت کی ہے۔

    دریں اثنا چین کے جنوب مغربی علاقے میں لاکھوں لوگوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے کیونکہ شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام میں تعطل آگیا ہے۔

  • انسانی حقوق کے نام پرعالمی ادارےتعمیری کام کریں:شرارتوں اورسازشوں سے بازرہنا چاہیے:چین

    انسانی حقوق کے نام پرعالمی ادارےتعمیری کام کریں:شرارتوں اورسازشوں سے بازرہنا چاہیے:چین

    بیجنگ:انسانی حقوق کے نام پرعالمی ادارےتعمیری کام کریں:شرارتوں اورسازشوں سے بازرہنا چاہیے:اطلاعات کے مطابق چین نے کہا کہ کثیرالجہتی انسانی حقوق کے اداروں کو تمام فریقوں کے درمیان تعمیری تبادلے اور تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا چاہیے، چین مغربی ممالک پر الزام لگاتے ہوئے کہ وہ اپنی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسروں پر فیصلہ سناتے ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیے

    اس سلسلے میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جنیوا میں مقیم ترقی پذیر ایشیائی اور افریقی ممالک کے سفیروں کے ایک وفد کو بتایا کہ ان کا یہ دعویٰ کہ "انسانی حقوق خودمختاری سے بلند ہیں” درحقیقت جو کچھ آجکل عالمی ادارے کررہے ہیں‌وہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش ہے۔

     

    ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

    وانگ نے سفیروں کو بتایا کہ "نام نہاد ‘ویلیو ڈپلومیسی’ کا نفاذ دراصل ممالک کو انسانی حقوق کی آڑ میں فریقین کا انتخاب کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جسے نام نہاد ‘جمہوری اصلاحات’ کہا جاتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بدامنی، تنازعات اور انسانی تباہی ہے”دوسری طرف چین کی وزارت خارجہ نے وانگ کے دورے پر آئے ہوئے سفیروں کو بتاتے ہوئے کہا کہ "تاریخ کے سبق کو احتیاط سے سیکھنا چاہیے، اور ان کارروائیوں کی مل کر مزاحمت کی جانی چاہیے۔”

     

    چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    کسی کا نام لیے بغیر، وانگ نے "کچھ مغربی ممالک” پر الزام لگایا کہ وہ انسانی حقوق پر دوسروں کو "جائز” کر رہے ہیں۔”وہ صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے ٹارچ کا استعمال کرتے ہیں لیکن خود کو نہیں۔ وہ ترقی پذیر ممالک کے انسانی حقوق کی صورتحال پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور اپنے ہی ممالک اور اپنے اتحادیوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کرتے ہیں۔ منتخب اندھے پن کی مشق میں مشغول ہوں، یا۔

    چینی اعلیٰ سفارت کار نے "باہمی احترام” اور "دوسروں پر مسلط ہونے” کی مخالفت پر بھی زور دیا۔”مختلف ممالک کے مختلف قومی حالات اور مختلف تاریخیں اور ثقافتیں ہیں۔ ہمیں ملک کی اصل صورت حال سے آگے بڑھنا چاہیے اور انسانی حقوق کی ترقی کا ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جو لوگوں کی ضروریات کو پورا کرے۔

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا مفہوم جامع ہے۔ شہری اور سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، جس میں انفرادی حقوق اور اجتماعی حقوق دونوں شامل ہیں،” انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے، روزگار اور ترقی کا حق لوگوں کی سب سے اہم ضرورت ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ "انسانی حقوق کے کثیرالجہتی اداروں کو تمام ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے معقول مطالبات پر توجہ دینی چاہیے، اور اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق اور ترقی کے حق میں اپنی توجہ اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔”

  • جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام، اس حوالے سے چین نے منگل کو جزیرہ نما کوریائی ملکوں کے متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کو ہوا دینا بند کریں۔

    پہلے امریکی دفاعی ادارے پینٹا گان پھرچینی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے گزشتہ ہفتے ہوائی کے ساحل پر ایک مشترکہ بیلسٹک میزائل دفاعی مشق کا انعقاد کیا، 2017 کے بعد پہلی بار تینوں ممالک نے اس طرح کی مشقیں کی ہیں۔

     

    شمالی کوریا کا مزید 2 کروز میزائلوں کا تجربہ

    یہ بھی معلوم ہے کہ اس موقع پر یہ پوچھے جانے پر کہ باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران فوجی مشقوں میں کس کو نشانہ بنایا گیا، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب امریکہ کو دینا چاہیے۔وانگ نے کہا، لیکن جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر مشترکہ فوجی مشقوں کے منفی اثرات توجہ کے مستحق ہیں۔

    روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    انہوں نے کہا، "متعلقہ فریقین کو ہوشیاری سے کام لینا چاہیے، اور ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے جو کشیدگی اور تصادم کو بڑھاتے ہیں اور فریقین کے درمیان باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔”

    دوسری طرف شمالی کوریا نے طویل عرصے سے جنوبی کوریا ، جاپان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مشقوں کی مذمت کی ہے اور جزیرہ نما کوریا سے امریکی فوجیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    صدرجوبائیڈن کےدورے کےموقع پر شمالی کوریا جوہری تجربہ کرسکتا ہے:جنوبی کوریا

  • شہباز شریف نے امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی

    شہباز شریف نے امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی

    تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے اگر دونوں فریق چاہیں تو پاکستان دنیا میں امن و استحکام کیلئے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو ختم کرانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر چین اور امریکہ چاہیں تو پاکستان ان کے اختلافات کو ختم کرانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر خوش ہو گا، جیسا کہ ہم نے ماضی میں بھی کیا تھا،نصف صدی قبل دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اسلام آباد کا اہم کردار رہا ہے ۔

    متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی،وزیراعظم

    نیوز ویک کے سینئر فارن پالیسی رائٹر ٹام او کونرنے ای میل کے ذریعے وزیر اعظم شہباز شریف کا انٹرویو لیا، وزیر اعظم نے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ پاکستان دنیا کو بحرانوں اور دیگر مسائل سے نکالنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نہ صرف امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی شدید خرابی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ یوکرین اورروس کے درمیان جاری جنگ کے بارے میں اپنے موقف کااظہار کیا۔ ، پڑوسی ملک افغانستان میں افراتفری، تنازعہ کشمیر کے حل نہ ہونے اور پاکستان کی سرحدوں کے اندر عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپریل میں عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا ۔

     

    وفاقی کابینہ اجلاس، 10 نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری

     

    اقتصادی اصلاحات اور استحکام کے متفقہ قومی ایجنڈے پر ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے اکٹھے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت واقعی قومی نوعیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے روایتی طور پر چین اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان محاذ آرائی سے گریز کی ضرورت کو اجاگر کرتا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ گروہی سیاست اور سرد جنگ کی طرف بڑھنے سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا اور درحقیقت ترقی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ بین الریاستی تعلقات کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے باہمی احترام اور تنازعات کے پرامن حل پر ہونی چاہیے۔

     

    اوورسیزپاکستانی ہمارا بہترین قومی اثاثہ ہیں:رانا ثنااللہ

     

    وزیر اعظم نے کہا کہ COVID-19 وبائی امراض اور یوکرین کے بحران کےعالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی اپنی سماجی و اقتصادی بہبود کے لیے بیرونی خطروں سے دوچار ہیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان دشمنی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ان چیلنجوں میں اضافہ نہیں چاہتے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور باہمی فائدے کی بنیاد پر وسیع البنیاد اور پائیدار شراکت داری کا خواہاں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم بڑی امریکی کمپنیوں کی پاکستان کی منافع بخش مارکیٹ،خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر، میں سرمایہ کاری کرنے اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

     

    ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

     

    انہوں نے یوکرین کے تنازع کا کثیرالجہتی معاہدوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعات کے مطابق سفارتی حل پر زور دیا۔بھارت کے ساتھ کشیدگی پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن نئی دہلی کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیاں علاقائی تعمیر و ترقی میں اسلام آباد کی کوششوں کو ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام اور خودمختار برابری کی بنیاد پر خطے میں امن کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہے، جس کے حل سے خطے میں نئی ​​راہیں کھلیں گی۔

    افغانستان میں بگڑتی ہوئی معاشی اور انسانی صورت حال پر وزیراعظم نے کہا عالمی برادری کے لیے ہمارا پیغام ہوگا کہ اہم سماجی اور اقتصادی شعبوں میں عبوری حکومت کی مدد جاری رکھیں اور افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کو غیر منجمد کیا جائے تاکہ افغانستان کی تعمیر میں مدد ملے۔ہم عبوری افغان حکومت کو اس کے وعدوں پر قابل عمل اقدامات کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہیں گے جن میں شمولیت سے متعلق، تمام افغانوں کے انسانی حقوق کا احترام، بشمول لڑکیوں کی تعلیم، اور مؤثر انسداد دہشت گردی کارروائی شامل ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔یہ بھی کوئی راز نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے جس کی منصوبہ بندی، معاونت اور مالی معاونت دشمن خفیہ ایجنسیاں کرتی رہی ہیں۔ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور ہماری معاشی ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔

  • ترقی پذیر ممالک کے ساتھ  کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

    ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

    چین نے کہا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ یکجہتی اور ہم آہنگی سے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ممالک کے سفیروں کے ساتھ بذریعہ وڈیو لنک ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ کثیر الجہتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور کردار کو فروغ دینا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتا رہے گا، انہوں نے کہا کہ چین برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ انسانی حقوق کے تبادلے اور تعاون کے فروغ کے لیے تیار ہے ۔انہوں نے تائیوان سے متعلق تاریخی حقائق اور چین کے پختہ مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چین کو امریکا کی جانب سے ہر اشتعال انگیزی کا ضروری اور جائز جواب دینا چاہیے۔

    انہوں نے نشاندہی کی کہ خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں باہمی تبادلوں کے دوران عدم مداخلت کے اصول کا احترام کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر موجود سفیروں نےکہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کے ذریعے قائم کردہ ون چائنا اصول بین الاقوامی برادری کا اتفاق رائے ہے اور تمام ممالک اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی سیاسی بنیاد ہے۔

    تائیوان اور سنکیانگ دونوں چین کے اٹوٹ انگ ہیں اور چین کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے مسائل پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے اور عالمی برادری کو چین کی جانب سے اپنے جائز حقوق کے دفاع کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔

  • چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    بیجنگ:چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق چین اور تائیوان کے درمیان باہمی معاملات امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی کے دورے کے بعد سے مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ رویٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقامی چینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ چین نے سات تائیوانی شہریوں پر علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    بھارت متحدہ چین کی حمایت کرتاہے:ترجمان وزارت خارجہ اریندم باگچی

    یہ پابندیاں نینسی پلوسی کے دورۂ تائیوان کے بعد لگائی گئی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے تائیوان میں علیحدگی پسندوں کو غلط پیغام دیا گیا ہے جب کہ تائیوان کا کہنا ہے کہ وہ اس جزیرے پر چین کی حاکمیت کو قبول نہیں کرتا۔

     

    چین کے سیاحتی مرکز میں کورونا وباء کا حملہ، ہزاروں سیاح مشکل سے دوچار

    چینی خبررساں ایجنسی سینوہا کے مطابق جن افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان میں واشنگٹن میں تائیوانی سفیر ہمسایو بی کیم اور قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ولینگٹن کو بھی شامل ہیں۔

    ڈونکی کنگ کے بعد لیجنڈ آف مارخور چین میں ریلیز ہونے والی دوسری پاکستانی فلم

    رپورٹ کے مطابق تائیوان کی برسر اقتدار جماعت بھی ان پابندیوں کی زد میں آئی ہے۔ تائیوانی معاملات کو دیکھنے والے چینی ادارے کے نمائندے نے کہا کہ جن افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ چین، ہانگ کانگ اور ماکاؤ کا سفر نہیں کرسکتے اور نہ ہی مذکورہ شخصیات اور ان سے وابستہ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو چین میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت ہوگی۔