Baaghi TV

Tag: چین

  • امریکہ اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کےانتظامات بند کرے:چینی وزارت خارجہ

    امریکہ اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کےانتظامات بند کرے:چینی وزارت خارجہ

    نیویارک:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ چین امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک چین کے اصول اور چین امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی پاسداری کرے اور امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کا اہتمام نہ کرے۔ امریکہ اور تائیوان کے درمیان سرکاری تبادلے فوری طور پر بند کئے جائیں، اور آبنائے تائیوان میں کشیدگی پیدا کرنا بند کیا جائے۔

    منگل کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ اطلاعات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اس سال اگست میں ایک وفد کے ہمراہ تائیوان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کچھ میڈیا کا کہنا ہے کہ 25 سالوں میں امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کا تائیوان کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔

    ادھر آج اقوام متحدہ کی 76 ویں جنرل اسمبلی نے اعلیٰ سطح کی خصوصی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کا موضوع رہا “مشترکہ اقدامات: عالمی خوراک کے بحران پر مربوط ردعمل”۔اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب چانگ جون نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے” گروپ آف فرینڈز” کی ترجمانی کرتے ہوئے خطاب میں اپنا موقف بیان کیا۔

    منگل کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ چانگ جون کے مطابق خوراک کے بحران کے شکار ایسے ممالک بالخصوص ترقی پزیر ممالک کو ہنگامی حمایت فراہم کی جائے ۔ مختلف شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کے تعاون کی مضبوطی پر زور دیا جائے۔ دنیا بھر میں خوراک اور زراعت سے متعلق سپلائی چین کے موثر آپریشن کو یقینی بنایا جائے۔

    چانگ جون نے مزید کہا کہ فوڈ سیکیورٹی ، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔مذکورہ گروپ خوراک کے عالمی بحران سے مشترکہ نمٹنے کے لیے کثیر فریقی تعاون کو مضوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
    چینی مندوب کے مطابق رواں سال چین نے اقوام متحدہ کے نیویارک صدر دفتر میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کا” گروپ آف فرینڈز” قائم کیا تھا جس میں ساٹھ ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ اُن کی جانب سے خطاب گروپ کا پہلا مشترکہ خطاب ہے، جسے گروپ تعاون کا اہم قدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • چین کی معروف کارسازکمپنی ”گریٹ وال موٹر”نےہندوستان چھوڑنےکا اعلان کردیا

    چین کی معروف کارسازکمپنی ”گریٹ وال موٹر”نےہندوستان چھوڑنےکا اعلان کردیا

    نئی دہلی:چین کی سب سے بڑی آٹو موٹیو کمپنی گریٹ وال موٹر لمیٹڈ اب اپنا تمام کام سمیٹ کربھارت سےواپس جا رہی ہے۔حالانکہ چین نےاس پراجیکٹ پربہت پیسہ لگایا۔مستقبل میں بھی چین بھارت میں آٹوموٹیوسیکٹرمیں کروڑوں روپےکی سرمایہ کاری کرنے والا تھا لیکن ایک بھی کارنہ بنا کراس نےبھارت میں اپنا کام بند کردیا ہے۔گریٹ وال موٹر کمپنی اپنی تمام سرمایہ کاری ہندوستان سے باہر لےجا رہی ہے۔

     

     

    مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان

    گریٹ وال موٹر کمپنی سال 2019 میں ایک بہت بڑی سرمایہ کاری اور مارکیٹ حکمت عملی کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ یہ کمپنی ہندوستان کے ہر شہر میں اپنے شو روم قائم کرنا چاہتی تھی، کچھ بڑے شہروں میں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنا چاہتی تھی اور اسے بڑے پیمانے پر ہندوستانی مارکیٹ میں فروخت کرنا چاہتی تھی اور یہاں سے بنی گاڑیاں بھی برآمد کرنا چاہتی تھی۔ انہیں ایسا کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے، کیونکہ ہر چینی کمپنی وہاں کی حکومت سے وابستہ ہے، اس لیے ان کے پاس کبھی پیسے کی کمی نہیں ہوتی۔ اگر یہ کمپنی ہندوستان میں مینوفیکچرنگ شروع کر دیتی تو ہندوستان میں کام کرنے والی تمام ملکی اور غیر ملکی کار ساز کمپنیاں سر جوڑ کر بیٹھ جاتی، کیونکہ یہ صارفین کو اپنی مارکیٹ بنانے کے لیے منافع بخش پیشکشیں دیتی۔

     

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    کہا جاتا ہے کہ چین کبھی بھی براہ راست تجارت نہیں کرتا۔ چین نے بھارت میں تیزی سے کام شروع کرنے کے لیے امریکی کار کمپنی شیورلیٹ کا مہاراشٹر میں بنایا ہوا پلانٹ ایک ارب ڈالر میں خرید لیا، کیونکہ اگر چین اپنی فیکٹری بناتا اور لوگوں کو ملازمت دیتا تو اس میں بہت وقت لگتا۔ چنانچہ چین نے بھارت میں فلاپ امریکی کار کمپنی شیورلیٹ کی فیکٹری خرید کر اپنا وقت بچا لیا۔

    گریٹ وال موٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ان تمام لوگوں کو نوکری سے نکال دیا ہے جن کی اس نے خدمات حاصل کی ہیں اور چین نے اس فیکٹری میں اب تک جو سرمایہ کاری کی ہے وہ بھارت سے واپس لے لے گا۔ یعنی چین نے بھارت سے اپنا کام واپس لے لیا ہے۔

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    دوسری جانب یہ خبر چین کی معیشت کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں کیونکہ چین کی معیشت کو ان دنوں ترقی کی کمی کا سامنا کرنا پڑھ رہاہے۔اس وبا کے بعد چین میں تقریبا 20 لاکھ بڑی کمپنیاں بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کے پاس ریزرو میں پیسہ نہیں بچا ہے۔ اس کا سب سے برا اثر چین میں جمود کی طلب پر پڑا ہے۔

  • مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

    مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

    سنکیانگ:چین نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ سے پیچھے نچلے نہ بیٹھے رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘مشرق وسطیٰ کسی کے گھر کا پچھواڑا نہیں ہے۔’ چینی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے پس منظر میں یہ بات کہی ہے۔

    وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ‘مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے اور نہ ہی خطے میں ایسا کوئی خلا ہے’ جسے امریکہ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چینی ترجمان نے اپنے ملک کی فروغ امن اور مسائل کے منصفانہ حل کے لیے کوششوں کے حوالے سے کہا چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ امن کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھ سکے۔’

    چینی ترجمان وانگ نے یہ بھی کہا ‘چین پوری طرح پیسفک آئی لینڈ کے ملکوں کی خواہش کو سنے گا اور ان کی خواہش کا احترام کرے گا۔’ واضح رہے چین کی طرف سے یہ بات پیسفک آئی لینڈ فورم کی طرف سے الزامات سامنے آنے کے بعد کہی گئی ہے۔ پی آئی ایف کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو ہر چیز بشمول سکیورٹی اور ماہی گیری ہر چیز پر محیط ہے۔

    چینی ترجمان کے بیان سے محض ایک روز پہلے جمعرات کے دن پی آئی ایف کے سیکرٹری جنرل ہنری پونا نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ چینی وزیر خارجہ وانگ بحرالکاہل ملکوں میں اپنے پہلے سے تیار کردہ دستاویز کے ساتھ آئے تاکہ متعلقہ ملکوں سے مشاورت کر سکیں۔ لیکن یہ ابھی نہیں ہوسکی ہے۔

    اس موقع پر وانگ نے اس پر اصرار کیا تھا کہ چین نے بحرالکاہل کے ملکوں سے بڑی سنجیدہ مشاورت کی ہے۔ ہم اس پراسس کو جاری رکھیں گے۔’

    وانگ نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سری لنکا کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بیجنگ نے سری لنکا کے لیے 75 ملین ڈالر کی امداد کا پہلے ہی وعدہ کر رکھا ہے۔ جبکہ خوراک کی دوسری شپمنٹ بھی بھیج چکا ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے سنکیانگ کا دورہ کیا ہے ۔ سنکیانگ کے سفر کے دوران صدر شی کی طرف سے خصوصی تو جہ اور اہم ہدایات کا خلاصہ چار کلیدی نکات میں کیا جا سکتا ہے۔آج ہفتے کے روز صدر شی جن پنگ نے کہا ، “سنکیانگ کا سب سے طویل المدتی مسئلہ نسلی اتحاد کا مسئلہ ہے،” اور “سنکیانگ میں سب سے بڑا کام نسلی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی ہے۔”انہوں نے کہا کہ اتحاد شناخت سے الگ نہیں ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ ثقافتی شناخت سب سے بنیادی شناخت ہے، قومی اتحاد کی جڑ اور قومی ہم آہنگی کی روح ہے۔

    انہوں نے مز ید کہا کہ سنکیانگ کے مسائل کے حل کے لیے ترقی بنیادی کلید ہے۔ سنکیانگ کے لیے طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز لوگوں کے دلوں میں سکون ہے۔ سنکیانگ کے اس معائنہ کے دوران صدر شی نے زور دیا، “ہمیں ترقی اور استحکام، لوگوں کی روزی، اور ترقی اور لوگوں کے دلوں کے درمیان قریبی تعلق کو گہرائی سے سمجھنا چاہیے، اور لوگوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے اور لوگوں کے دلوں کو متحد کرنے کے لیے ترقیاتی ثمرات کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔

    اس معائنہ کے دوران صدر شی نے واضح طور پر تجویز پیش کی کہ ہمیں سنکیانگ میں بنیادی اور طویل مدتی امور پر توجہ دینی چاہیے جو طویل مدتی استحکام سے متعلق ہیں۔ سنکیانگ کی سماجی صورتحال کے مجموعی اور طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سنکیانگ میں قانون کی حکمرانی کو زیادہ نمایاں اور اہم مقام پر رکھا جائے ۔

  • امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    بیجنگ:امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سےبازآجائے:چین کا انتباہ ،اطلاعات کے مطابق چین نےامریکہ اورمغرب کوخبردارکرتےہوئے کہا ہےکہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت بند کریں اور مُلکوں کوان کے اپنے آئین ، اصول اورمعیار کے مطابق چلنے دیں

    امریکی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وزیرخارجہ وانگ نے کہا کہ چین ترقی کے راستے کی آزادانہ تلاش میں مشرق وسطیٰ کے عوام کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو اتحاد اور خود بہتری کے ذریعے حل کرنے میں ممالک کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی وزیرخارجہ نے شامی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکز ہے اور اسے عالمی برادری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، وانگ نے کہا کہ چین مسئلہ فلسطین کو دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے کے لیے تیار ہے۔

     

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چینی وزیرخارجہ وانگ نےامریکہ اورمغرب پر زوردیتے ہوئےکہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے پاس امن و استحکام کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنےاورمسائل کو حل کرنےکی صلاحیت اوردانشمندی ہے۔پھرامریکہ ان کو ان کی مرضی سےیہ معاملات حل کرنے میں آزاد کیوں نہیں رہنےدے رہا،وانگ نےمزید کہا کہ خطے کےممالک کی خودمختاری کا صحیح معنوں میں احترام کرتےہیں،اورایسےکام کرتے ہیں جو خطےکےعوام کی ضروریات کی بنیاد پر خطے کی پرامن ترقی کے لیے سازگار ہوں۔

    وانگ نے کہا کہ چینی فریق شامی فریق کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے اور چین اور شام کے تعلقات کی پائیدار، مستحکم اور صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے ۔اس موقع پرچینی وزیرخارجہ نے کہا کہ چین شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کی حفاظت کے بیانیے پر قائم ہے ، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں شام کی حمایت کریں، اور شام میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کی خواہش کریں۔

     

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    اس موقع پر شامی وزیرخارجہ مقداد نے کہا کہ چین ہمیشہ ایک عقلی اور منصفانہ موقف پر قائم رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو ایک ساتھ ترقی کرنے میں مدد کی ہے اور عالمی کثیر پولرائزیشن اور انسانی ترقی اور پیشرفت کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔

     

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    مقداد نے کہا کہ شامی فریق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، میکداد نے مزید کہا کہ سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں امریکہ اور مغرب کی طرف سے پھیلائی جائیں گی۔

    مقداد نے یہ بھی کہا کہ شامی فریق مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے تیار ہے جس سے عالمی امن اور ترقیاتی تعاون کے وسیع امکانات کھلیں گے۔

     

     

     

  • چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    بیجنگ:چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ نیوز بریفنگ کے دوران سری لنکا کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوست پڑوسی کے طور پر، چین نے ہمیشہ سری لنکا کو درپیش مشکلات اور چیلنجوں پر توجہ دی ہے اور سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اپنی صلاحیت کے مطابق مدد فراہم کر رہا ہے۔ حال ہی میں چین نے سری لنکا کو 500 ملین یوان کی ہنگامی انسان دوست امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور چودہ تاریخ کو چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہنگامی انسانی امداد کی دوسری کھیپ سری لنکا کے حوالے کر دی گئی۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ وین بین نے واضح کیا کہ چینی مالیاتی ادار ے سری لنکا کے ساتھ مشاورت سے قرضوں کے مناسب انتظام کے خواہاں ہیں تاکہ سر ی لنکا کو موجودہ مشکلات سے نمٹنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

    چین کی ریاستی کونسل کےدفترِاطلاعات کی پریس کانفرنس میں قومی شماریات بیوروکےترجمان اور محکمہِ قومی اقتصادی شماریات کےڈائریکٹر فولینگ ہوئی نے2022 کی پہلی ششماہی میں قومی معیشت کےعمل سے متعارف کروایا ہے۔

    جمعہ کےروزچینی میڈ یا نےبتایاکہ ابتدائی اعدادوشمارکےمطابق، سال کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی 562کھرب 64ارب 20 کروڑ چینی یوآن تھی، مستقل قیمتوں کےمطابق اس میں سال بہ سال 2.5 فیصد اضافہ ہواہے۔ سال کی پہلی ششماہی میں، قومی سی پی آئی میں سال بہ سال 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں صنعتی پروڈیوسرز کی ایکس فیکٹری پرائس میں سال بہ سال 7.7 فیصد اضافہ ہوا۔

    چین کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی تحفظ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے ہی شدید مشکل بین الاقوامی صورتِ حال اور چین میں وبا کے اثرات کے پیش نظر، مختلف علاقوں اور محکموں نےسی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور ریاستی کونسل کے فیصلوں اور انتظامات پر سختی سے عمل درآمد کیا، روزگار کے امور کو مستحکم اور یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جس سے روزگار کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم رہی۔

    اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک، ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں پینسٹھ لاکھ چالیس ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس سے 59فی صد سالانہ اہداف اور کام مکمل ہوئے ، جو طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق ہے ۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ملازمتوں کے زبردست دباؤ کے باوجود، طلب اور رسد کے نقطہ نظر سے، چینی منڈی میں ملازمتوں کی مانگ ہمیشہ ملازمت کی تلاش کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔

    وزارتِ انسانی وسائل وسماجی تحفظ کا کہنا ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسیز اور اقدامات کے پیکج پر تیزی سے عمل درآمد، انسداد وبا اور اقتصادی وسماجی ترقی کے لیے موثر ہم آہنگی نیز تمام فرقوں کی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنے کی بھرپور کوششوں کے باعث ، روزگار کی صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔

  • چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    بیجنگ:چین کے قومی ترقیاتی و اصلاحاتی کمیشن نے کہا ہےکہ ملک کی صنعتی چین اور سپلائی چین مجموعی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اور ہائی ٹیک صنعتیں اور تکنیکی تبدیلی سرمایہ کاری کے لیے ترقی کے نئے نکات بن چکے ہیں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق رواں سال کی پہلی ششماہی میں معاشی صورتحال پر میڈیا بر یفنگ میں کمیشن کے شعبہ ہائی ٹیک کے اہلکار نے کہا کہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی اضافی قدر میں سالانہ بنیادوں پر 9.9 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 2019 کی اسی مدت کی سطح سے تجاوز کر چکا ہے۔ کئی بڑی اختراعی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، اور ہائی ٹیک انڈسٹریز اور تکنیکی تبدیلی سرمایہ کاری کے نئے گروتھ پوائنٹس بن چکے ہیں، جو صنعتی اور سپلائی چینز کی اصلاح اور اپ گریڈنگ کو مضبوط قوت فراہم کریں گے۔چین نیٹ ورک کی سہولیات اور ایپلی کیشنز کے اعتبار سے دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ ڈسپلے انڈسٹری کا پیمانہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ فوٹو وولٹک ماڈیولز کی عالمی پیداوار تین چوتھائی سے زیادہ ہے، اور مجموعی نصب شدہ صلاحیت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ پاور ٹرانسمیشن ، ٹرانسفارمیشن آلات اور ریل ٹرانزٹ آلات کی تکنیکی سطح عالمی معیار پر انتہائی جدید ہے۔

    جاپان کی جانب سے جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج پر بحرالکاہل جزائر ممالک فورم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ چین نے جاپان کی جانب سے جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین کے بھی یہی احساسات ہیں ۔ یہ جاپانی فیصلے پر عالمی برادری کی شدید تشویش کی عکاسی کرتا ہے اور ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ عالمی سمندری ماحول اور متعلقہ ممالک کی صحت عامہ کے لیے تشویش کا باعث ہے، اس مسئلے کا تعلق محض جاپان سے نہیں ہے۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایک سال سے زائد عرصے میں، جاپانی حکومت نے جوہری آلودہ پانی کو صاف کرنے والے آلات کی تاثیر، اور ماحولیاتی اثرات کی غیر یقینی صورتحال جیسے اہم مسائل پر سائنسی اور قابل اعتبار وضاحتیں نہیں پیش کی ہیں ، بلکہ اس منصوبے کو زبردستی فروغ دیا ہے۔ جوہری آلودہ پانی کے اخراج کے حوالے سے تمام فریقوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

     

  • ہندوستان کا ایران اور روس کے ساتھ روپے میں تجارت کا فیصلہ

    ہندوستان کا ایران اور روس کے ساتھ روپے میں تجارت کا فیصلہ

    نئی دہلی :ہندوستان کا ایران اور روس کے ساتھ روپے میں تجارت کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق حکومت ہندوستان نے ایران اور روس کے ساتھ تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے شکار ایران اور روس جیسے ملکوں کے ساتھ تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کی غرض سے روپے میں ادائیگی کا نظام استعمال کیا جائے گا۔

    آر بی آئی کے بیان میں آیا ہے کہ یہ فیصلہ ہندوستانی برآمدات میں اضافے کی پالیسی اور عالمی تجارتی برادری میں روپے میں لین دین کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے برآمداتی اور درآمداتی ادائیگیوں کا نیا نظام تیار کیا جارہا ہے۔

    ہندوستان کی، فروغ برآمدات کونسل کے سربراہ مہیش دیسائی نے مرکزی بینک کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ایران اورروس جیسے ملکوں کے ساتھ تجارت میں آسانیان پیدا ہوں گی جن پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

    ہندوستان کے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے اس فیصلے سے ڈالر اور یورو کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی گرتی قدر کو بھی سہارا ملے گا۔

  • اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ نہیں،سمیر احمد

    اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ نہیں،سمیر احمد

    لانژو:28 واں چائنہ لانژو سرمایہ کاری وتجارتی میلہ گذشتہ دنوں چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے صدر مقام لانژو میں اختتام پذیر ہوگیا۔ پانچ روزہ ایونٹ میں اسپین، پاکستان، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے متعدد غیر ملکی کاروباری اداروں نے شرکت کی۔ پاکستان کے کاروباری شخص سمیر احمد نے اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ مل کر میلے میں مختلف قسم کی شاندار دستکاری مصنوعات پیش کیں جن میں ریشمی قالین، کشمیری سکارف اور جیکٹس شامل تھیں۔

    سمیر احمد پانچ سال سے چین میں مقیم ہیں۔ ان کا زیادہ ترکاروبار بیجنگ میں ہے۔ وہ مختلف نمائشوں میں شرکت اور چین کے مختلف اہم شہروں میں اپنی مصنوعات کی نمائشں کرتے ہیں۔وہ شنگھائی، شین ژین، گوانگژو، کنمنگ اور لانژو کے شہروں میں پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ نمائشوں میں اپنی مصنوعات کی تشہیرکے ساتھ ساتھ، سمیر کا انٹرنیٹ کے ذریعے خصوصی پاکستانی اشیا فروخت کرنے کا بھی منصوبہ ہے ۔سمیر احمد کا کہنا ہے کہ چین میں کاروبار کرنا بہت آسان ہے، اس میں کچھ بھی پیچیدہ نہیں ۔” مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ ہے۔

    "ان کا کہنا ہے کہ چینی باشندوں کا غیرملکیوں کے ساتھ خلوص اور دوستانہ برتاو ہے جس کی وجہ سے انہیں کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں بھی بڑی سہولت ملی ہے۔ اس کے علاوہ وہ چین کے مستحکم عوامی تحفظ کے ماحول میں خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں۔سمیر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں آپ جہاں بھی جاتے ہیں، لوگ سب سے اہم ہوتے ہیں۔ لوگ آپ کو تحفظ کا حساس دلاتے ہیں یا لوگ آپ کو یہ محسوس کرواتے ہیں کہ آپ ان میں سے ایک ہیں۔

    سمیر احمد کہتے ہیں کہ جب لوگوں کا رویہ آپ کے ساتھ دوستانہ ہوتا ہے تو کوئی بھی جگہ خوبصورت بن جاتی ہے۔ جب لوگوں کا برتاو آپ کے ساتھ صحیح نہیں ہوتا پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہیں آپ ہمیشہ پریشان رہیں گے۔پہلی بار 1993 میں منعقد ہونے والا یہ میلہ چین کے شمال مغربی علاقے کو دنیا کے لیے کھولنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم اور بیلٹ اینڈ روڈ اقتصادی وتجارتی تعاون کا ایک اہم ایونٹ بن گیا ہے۔

  • چین میں لاجسٹکس کی بحالی عالمی سپلائی چین کے استحکام میں معاون سڑکوں سے ریلوے تک

    چین میں لاجسٹکس کی بحالی عالمی سپلائی چین کے استحکام میں معاون سڑکوں سے ریلوے تک

    بیجنگ:شنگھائی پوڈونگ بین الاقوامی ہوائی اڈے سےجون کے آخر سے لے کر جولائی کے پہلے عشرےتک یو میہ تقریباً 10,000 ٹن سامان کی نقل و حمل ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ چین کی سول ایوی ایشن کے سب سے بڑے لاجسٹک مرکز سے کارگو کی نقل و حمل تقریباً معمول پر آ گئی ہے۔ اس کےساتھ ، چین کے تمام علاقوں میں، سڑکوں سے ریلوے تک، ہوائی اڈوں سے بندرگاہوں تک مصروفیات جاری ہیں .

    بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق حال ہی میں چائنا فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جون میں چین کی لاجسٹکس انڈسٹری کا ترقیاتی انڈیکس 52.1 فیصد تھا، جو توسیع کی حد میں واپس آ یا ہے۔ لاجسٹکس کی بحالی اقتصادی بحالی کی علامت ہے، جو چینی معیشت کی طاقت اور لچک کو ظاہر کرتی ہے اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام کے لیے بھی مضبوط معاونت فراہم کرتی ہے۔

    شنگھائی شپنگ ایکسچینج کی طرف سے چین کی برآمدی کنٹینر ٹرانسپورٹیشن مارکیٹ پر جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، مئی میں، سمندری و دریائی بندرگاہوں کے کنٹینر تھرو پٹ میں اضافہ ہوا۔ جون سے لے کر اب تک شنگھائی پورٹ کا اوسط تھروپٹ آف کنٹینر 125,800 TEUs یومیہ رہا ہے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 95% سے زیادہ ہو گیا ہے۔ پہلے پانچ مہینوں میں، تھیان جن پورٹ کا کنٹینر تھروپٹ 8.47 ملین TEUs تک پہنچ گیا، جس میں سال بہ سال 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا اور ایک تاریخی ریکارڈ رقم ہوا ہے۔ جون کے آخر تک، کارگو تھرو پٹ کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ نینگ بو چو شان پورٹ میں کنٹینر روٹس کی تعداد نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور یہ 300 تک پہنچ گئی ہے۔

    ریلوے ٹرانسپورٹیشن میں ،چائنا ایکسپریس کی چین-یورپ مال بردار ٹرینز مشرقی، وسطی اور مغربی راہداریوں میں بھرپور انداز میں فعال ہیں، جو چین، یورپ اور “دی بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے لیے نقل و حمل کی مستحکم خدمات فراہم کرتی ہیں۔ چائنا نیشنل ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے متعلقہ انچارج نے کہا کہ سال کی پہلی ششماہی میں محکمہ ریلوے نے آلاشان کھو، اع لیان ہاٹ اور مان چو لی جیسی بندرگاہوں کی توسیع و تزین کی اور ایک نئی ریلوے لائن کھول دی جو بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود سے گزرتے ہوئے یورپ میں داخل ہوتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک چائنا ایکسپریس سے کل 7,473 ٹرینیں کے ذریعے 720,000 TEUs روانہ ہوئے ، جن میں بالترتیب 2% اور 2.6% سالانہ کا اضافہ ہوا ہے۔

    چین کے پاس اقوام متحدہ کی صنعتی درجہ بندی کے زمرے میں شامل تمام اقسام ہیں اور وہ عالمی صنعتی و سپلائی چین میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے صنعتی و سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ نومورا سیکیورٹیز کی طرف سے جاری کی گئی ایک حالیہ پیش گوئی کے مطابق انسداد وبا کے اثرات بتدریج کم ہو رہے ہیں اور حکومت کی اقتصادی حوصلہ افزا پالیسیوں کی بدولت چین کی معیشت بحال ہو رہی ہے ۔ لاجسٹکس کے ہموار بہاؤ کا مطلب ہے کہ اندرونی و بیرونی دوہری گردش مزید ہموار ہو رہا ہے، جو عالمی معیشت کی بحالی کے لیے مزید قوت فراہم کرے گی۔

    چین میں کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن کے ترجمان لی کھوئی وین نے 2022 کی پہلی ششماہی میں درآمدات اور برآمدات کی صورتحال سے میڈیا کو آگاہ کیا ہے۔بد ھ کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ ایک پر یس کا نفر نس میں بتا یا گیا ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت 19.8 ٹریلین یوآن رہی ہے جس میں سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد کا اضافہ ہے۔

    ماہرین کے نزدیک چین کی غیر ملکی تجارت نے مسلسل آٹھ سہ ماہیوں سے سالانہ مثبت نمو برقرار رکھی ہےاورغیرملکی تجارت کے پیمانےمیں مسلسل اضافہ ہواہے۔یہ توقع ظاہرکی گئی ہےکہ سال کےدوسرے نصف میں مسلسل ترقی کی رفتاربرقرار رہےگی۔چین اور“بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے درمیان تجارت کی شرح نمو سال کی پہلی ششماہی میں ملک کی بیرونی تجارت کی مجموعی شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور مذکورہ ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات نسبتاً مستحکم ہیں، اور آئندہ ترقی کی صلاحیت لامحدود ہے۔

    دوسری طرف پا ک چین بحری مشقیں شنگھائی کے قریب سمندر اور فضائی حدود میں تیاریاں شروع ،اطلاعات کے مطابق چین اور پاکستان کی بحری افواج کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کے مطابق، دونوں فریق جولائی کے وسط میں شنگھائی کے قریب سمندر اور فضائی حدود میں “سی گارڈینز-2” کے نام سے مشترکہ بحری فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔ یہ چار روزہ مشقیں 10 سے 13 جولائی تک جاری رہیں گی اور یہ مشقیں ایکشن پلاننگ اسٹیج اور میری ٹائم اسٹیج سمیت دو مرحلوں میں تقسیم ہیں ۔ مشترکہ مشقوں کے پلان کے مطابق مشقیں بحری سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔

    مشقوں کے دوسرے مرحلے میں مشترکہ سمندری حملے، مشترکہ حکمت عملی، مشترکہ اینٹی سب میرین، تباہ شدہ بحری جہازوں کی مشترکہ معاونت اور مشترکہ فضائی اور میزائل شکن مشقوں سمیت 9 اقسام کی مشقیں شامل ہیں۔ ان مشترکہ مشقوں کا مقصد فریقین کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانا، فوجی مہارت اور تجربے کا تبادلہ کرنا، دونوں ممالک اور دونوں فوجوں کے درمیان روایتی دوستی کو مزید گہرا کرنا اور چین پاکستان چار موسموں کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی ترقی کو فروغ دینا ہے.

     

     

     

     

    بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان گہرا تعاون اور کئی سالوں سے جاری مشترکہ فوجی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان اٹوٹ روایتی دوستی کی علامت اور نشان بن چکی ہیں۔ ہم حالیہ برسوں میں دونوں افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کی تاریخ کا جائزہ لے سکتے ہیں: 2003 میں “ڈولفن 0310” مشترکہ بحری تلاش اور بچاؤ کی مشقیں، “چین-پاکستان دوستی-2005” میری ٹائم تلاش اور بچاؤ کی مشقیں، 2011 میں انسدادِ بحری قزاقی کی مشترکہ مشقیں، 2014 کی “ہمالیہ ۔ 1” مشترکہ مشقیں، 2015 کی چین-پاکستان “دوست” مشترکہ میری ٹائم مشقیں، 2017 کی چین-پاکستان بحری مشترکہ مشقیں، پہلی “سی گارڈینز-2020″ مشترکہ میری ٹائم مشقیں… دونوں بحری افواج کے درمیان مشترکہ مشقوں کا یہ سلسلہ پاکستان اور چین کی مستحکم اور طویل المدتی دوستی کا مضبوط ترین نشان بن گیا ہے۔

     

    تکنیکی نقطہ نظر سے، عمومی معنوں میں مشترکہ مشقوں سے مختلف، ” سی گارڈینز-2″ کوئی ایسی مشقیں نہیں ہیں جو صرف سیاسی بیانات پر مرکوز ہوں۔یہ مشقیں نہ صرف دونوں بحری افواج کی بحری جنگی صلاحیتوں اور مشترکہ آپریشنز کو مزید مضبوط کریں گی ، بلکہ ان مشقوں کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کے لیے تیار کردہ” ایلفا فریگیٹ پی این ایس تیمور”، جو ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل فیکٹری سے باہر نکلا ہے،کا تجربہ کیا جائے گا۔ پاکستانی بحریہ نے اس نئے جنگی جہاز کو مشق میں شرکت کے لیے استعمال کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فریق بنیادی طور پر اس جہاز کی ٹیکنالوجی اور آپریشن سے واقف ہو گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اصل جنگی مشقوں کے قریب یہ مشقیں پاکستانی بحریہ کو جہاز کی حقیقی جنگی صلاحیت کی تشکیل کو تیز کرنے میں مدد دیں گی۔
    سیاسی نقطہ نظر سے،

    گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل مشترکہ فوجی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روایتی دوستی، سیاسی باہمی اعتماد اور ہمہ گیر تعاون کا ناگزیر نتیجہ ہیں،اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ بلاشبہ ہم اس بات پر بھی زور دینا چاہتے ہیں کہ یہ مشترکہ مشقیں چینی اور پاکستانی بحری افواج کی جانب سے طے پانے والے سالانہ فوجی تعاون کے منصوبے کے مطابق کی گئی ہیں،

    ان مشقوں کا علاقائی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا ہدف کوئی تیسرا فریق نہیں ہے۔ علاقائی اور عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قوت کے طور پر، چینی اور پاکستانی فوجوں کے درمیان تعاون نے بلاشبہ عالمی برادری کے سامنے عالمی امن اور مستقبل کے لیے دونوں ممالک اور دونوں فوجوں کے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔اور یہ مشترکہ بحری مشقیں یقیناً چین پاکستان دوستی اور تعاون کو مزید تقویت دیں گی۔

     

  • آسٹریلیاکاچین پردباو بڑھانےکےلیےانڈوپیسیفک میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا اعلان

    آسٹریلیاکاچین پردباو بڑھانےکےلیےانڈوپیسیفک میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا اعلان

    واشنگٹن:آسٹریلیاکاچین پردباو بڑھانے کےلیےانڈوپیسیفک میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اعلان کیا کہ آسٹریلیا انڈو پیسیفک میں اپنی قومی سلامتی اوراپنی فوجی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اپنا دفاع مضبوط کرے گا

     

    چین مخالف اتحاد”کواڈ”کے سربراہ کا اکٹھ:چین کوسخت پیغام

     

    آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے واشنگٹن میں سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں اہم تقریر کی جہاں وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کے اپنے پہلے دورے پر پیر کو پہنچے تھے۔

     

     

    وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اس موقع پر کہا کہ "کئی دہائیوں میں پہلی بار ہم اپنے تزویراتی جغرافیہ کی حفاظت، اپنے تجارتی اور سپلائی راستوں کی قابل عملیت، اور سب سے بڑھ کر ایک جامع علاقائی ترتیب کے تحفظ کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جس کی بنیاد سب کے متفقہ اصولوں پر رکھی گئی ہے، مارلس نے کہا کہ آسٹریلیا کی نئی لیبر حکومت نے اس مقصدکے لیے فنڈنگ ​​کو یقینی بنانے کا عہد کیا ہے۔

    چین نمبر1دشمن:ہند بحرالکاہل میں کواڈ کےساتھ مل کرچین کووہ سبق سیکھائیں گےکہ نسلیں…

     

    وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے واضح کیا کہ وزارت دفاع نے 2023 کے اوائل میں ترسیل کے لیے ایک فورس پوزیشن کا جائزہ لیا ہے جو اس بات کا تعین کرے گا کہ دفاعی اثاثوں اور اہلکاروں کو کس طرح بہتر بنایا جائے اور امریکہ کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

     

     

    انہوں نے وعدہ کیا کہ "میں سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آسٹریلیا اپنا حصہ ادا کرے گا۔ یہ حکومت پر عزم ہے کہ آسٹریلیا اپنی سیکورٹی پرکسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گا

     

     

    انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آسٹریلیا کسے اپنے ممکنہ مخالفوں کے طور پر دیکھتا ہے لیکن تقریر میں چین کے حوالے سے کئی بار اشاروں میں بات کی ۔ بیجنگ نے آسٹریلیا کے مشرقی ساحل سے 1,200 میل سے بھی کم فاصلے پر اپریل میں جزائر سلیمان کے ساتھ ایک فوجی معاہدہ کیا تھا۔

     

    چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    وزیر نے کہا کہ آسٹریلیا اپنی مسلح افواج کی رینج اورجارحانہ صلاحیت کو بڑھانے میں سرمایہ کاری کرے گا تاکہ "ممکنہ مخالف قوتوں اور انفراسٹرکچر بہترانداز سے کاونٹرکیا جاسکے”،وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہاکہ اس سلسلے میں‌ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹرائیک ہتھیاروں، سائبر صلاحیتوں اور علاقے سے انکار کے نظام کو تیار کرنا بھی شامل ہے