Baaghi TV

Tag: چین

  • ہیٹ ویو: چین کے جنگلات کوآگ کا سامنا،مختلف حصوں میں ریڈ الرٹ برقرار

    ہیٹ ویو: چین کے جنگلات کوآگ کا سامنا،مختلف حصوں میں ریڈ الرٹ برقرار

    ہیٹ ویو کے باعث چین کے ریجن چونگ کنگ اور سیچوان کے جنگلات کو تاحال آگ کا سامنا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین موسمیات کے مطابق متاثرہ ریجن میں ہیٹ ویو کی لہر اگلے ہفتے متوقع بارشوں کے بعد ختم ہونے کا امکان ہے چین کے جنوب مشرق کی جانب بڑھنے والے طوفان کے پیش نظر درجہ حرارت میں کمی آنے کا امکان ہے جبکہ چین کے مختلف حصوں میں گرم موسم کے باعث ریڈ الرٹ برقرار ہیں۔

    چین: خشک سالی کے شکار دریا سے 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد

    ماہرین موسمیات کے مطابق وسطی چین میں کل، چونگ کنگ اورسیچوان میں 29 اگست سے درجہ حرارت میں کمی آنے کا امکان ہے۔

    خیال رہے کہ چونگ کنگ اور سیچوان میں 14 اگست سے 19 مقامات پرجنگلات میں آگ لگی ہوئی ہیں چین کے ریجن سیچوان سے شنگھائی تک کے علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور ملک میں پہلا خشک سالی یلو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے-

    چین کے صوبے جیناگ شی میں پویانگ جھیل شدید گرمی سے سکڑ گئی ہے جبکہ مغربی چین کی 34 کاؤنٹیز میں 66 دریا سوکھ گئے ہیں چنگ چِنگ میں اس سال معمول سے 60 فیصد کم بارشیں ریکارڈ ہوئی ہیں اور صوبے کے متعدد اضلاع کی زمین میں نمی کم ہو گئی ہے۔

    الجیریا کے جنگلات میں آتشزدگی، 26 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی

    چینی وزارت برائے ہنگامی امور کا کہنا تھا کہ جولائی میں شدید گرمی کے باعث تقریباً 5.5 ملین افراد متاثر ہوئے جبکہ معیشت کو 400 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔

    قبل ازیں چین میں خشک سالی کے باعث دریائے یانگزی میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث 6 سو سال پرانے تین مجمسے برآمد ہوئے ن تین مجسموں میں مرکزمیں گوتم بدھ کا مجسمہ جبکہ دونوں اطراف میں موجود مجسمے بدھ بھکشو خیال کیے جاتے ہیں-

    یہ تینوں مجسمے فوئیلیانگ نامی جزیرے کی چٹان کے سب سے اونچے حصے پر پائے گئےماہرین کا خیال ہے کہ یانگزی سے دریافت ہونے والے یہ مجسمے 600 سال قبل منگ اور چنگ خاندانوں کے دور حکمرانی کے دوران بنائے گئے ہوں گے۔

    خیال رہے کہ رواں برس یورپ میں بھی خشک سالی، سخت گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث یورپ کے دریاؤں میں بھی سطح آب میں کمی آنے کے بعد کافی نایاب اور قدیم چیزیں ظاہر ہوئی ہیں-

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

  • چین: خشک سالی کے شکار دریا سے 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد

    چین: خشک سالی کے شکار دریا سے 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد

    چین میں خشک سالی کے باعث دریائے یانگزی میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین میں جنوب مغربی شہر چونگ چنگ کے قریب خشک سالی کے شکار دریائے یانگزی میں ظاہر ہونے والے ایک جزیرے پر موجود ایک بڑے پتھرپر بنےتین مجسمے برآمد ہوئے ہیں-

    سخت گرمی: جاپانی عوام پالتو جانوروں کو پنکھوں والے لباس پہنانے لگے

    رپورٹ کے مطابق ان تین مجسموں میں مرکزمیں گوتم بدھ کا مجسمہ جبکہ دونوں اطراف میں موجود مجسمے بدھ بھکشو خیال کیے جاتے ہیں۔

    یہ تینوں مجسمے فوئیلیانگ نامی جزیرے کی چٹان کے سب سے اونچے حصے پر پائے گئےماہرین کا خیال ہے کہ یانگزی سے دریافت ہونے والے یہ مجسمے 600 سال قبل منگ اور چنگ خاندانوں کے دور حکمرانی کے دوران بنائے گئے ہوں گے۔

    سرکاری پیشین گوئیوں کے مطابق، یانگزیطاس میں جولائی سے اب تک معمول سے تقریباً 45 فیصد کم بارش ہوئی ہے، اور زیادہ درجہ حرارت کم از کم ایک اور ہفتے تک برقرار رہنے کا امکان ہے چونگ کنگ میں 34 کاؤنٹیوں کے 66 دریا سوکھ گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ رواں برس یورپ میں بھی خشک سالی، سخت گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث یورپ کے دریاؤں میں بھی سطح آب میں کمی آنے کے بعد کافی نایاب اور قدیم چیزیں ظاہر ہوئی ہیں۔

    اسپین میں ماہرین آثارقدیمہ نے ایک قبل ازتاریخ دورکا پھترسے بنا ہوا سرکل دریافت کیا تھا جسے "Spanish Stonehenge” کا نام دیا گیا جبکہ یورپ کےدریائےڈینیوب میں خشک سالی کےبعد مختلف مقامات سے دوسری جنگ عظیم کے دوران تباہ ہونے والے جرمنی کے 20 بحری جنگی جہاز بھی دریافت ہوئے ہیں۔

    اٹلی : خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد

    جبکہ حال ہی میں اٹلی میں قحط سالی سے خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد ہوا تھا بی بی سی کے مطابق 450 کلوگرام (1,000lb) کا یہ بم 26 جولائی کو اٹلی کے شمال میں ایک گاؤں بورگو ورگیلو کے قریب ماہی گیروں کو دریائے پو کے کنارے سے ملا تھا اٹلی کی 70 سال کی بدترین خشک سالی میں 650 کلومیٹر (400 میل) دریا کے بڑے حصے سوکھ گئے ہیں۔

    فوج کے اہلکار کرنل مارکو ناسی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ یہ بم ماہی گیروں کو پو دریا کے کنارے سے ملا تھا کیا کیونکہ قحط سالی کے باعث دریا میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے فوجی ماہرین نے اس بم کو وہاں سے منتقل کرکے ایک جگہ کنٹرول دھماکا کیا –

    اس بم کو ڈی فیوز کرکے کنٹرول دھماکا کرنا آسان کام نہیں تھا بم کو دوسری جگہ پہنچانے سے قبل وہاں اردگرد کی آبادیوں سے 3 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، فضائی حدود کو بند کردیا گیا جبکہ ریلوے لائن اور شاہراؤں کو بھی بند کیا گیا۔

  • چین نے نقل وحمل میں انقلابی کامیابیاں حاصل کرلیں

    چین نے نقل وحمل میں انقلابی کامیابیاں حاصل کرلیں

    بیجنگ:ایک دہائی پہلے، جشن بہار سے قبل جنوبی چین کےگوانگ شی علاقے میں لاکھوں تارکین وطن کارکنوں نےنئے سال کا جشن منانےکی خاطر ہزاروں میل کا سفر طےکرنےکےلیےایک "موٹرسائیکل آرمی” تشکیل دی۔ آج”موٹرسائیکل آرمی” ماضی کی بات بن چکی ہے۔ اب لوگ گھروں کو جانے کے لیے تیز رفتار ٹرین کا سہارا لیتے ہیں، جو کہ آرام دہ اور سہل ہے اور "جب چاہیں واپس” جا سکتے ہیں۔ یہ پچھلے دس سالوں میں چین کی نقل و حمل کی ترقی کی ایک حقیقی عکاسی ہے۔

     

    چین کی ہوا میں معلق "اسکائی ٹرین”جو بجلی کےبغیربھی سفرکرسکتی ہے

    جون 2022 میں، 2,712 کلومیٹر لمبائی کی حامل دنیا کی پہلی صحرائی ریلوے چین کے سنکیانگ کے صحرائی علاقے میں فعال ہو چکی ہے، جس سے کئی مقامی کاؤنٹیوں کو تاریخی اعتبار سے پہلی مرتبہ ٹرین کی سہولت میسر آئی ہے اور اُن کی یہ محرومی دور ہو چکی ہے۔

    صوبہ گوئی جو میں، جو پہاڑی علاقوں کا حامل علاقہ ہے، مختلف قسم کے تقریباً 20,000 پل تعمیر کئے گئے ہیں۔

     

     

    جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    پچھلے دس سالوں میں، چین میں 50,000 سے زیادہ دیہات بسوں سے منسلک ہو چکے ہیں، اور مغربی علاقے میں ریلوے کی مائلیج 60,000 کلومیٹر سے تجاوز کر گئی ہے، جو ملک کی کل مائلیج کا 40فیصد ہے۔

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    تبت-لالن ریلوے فعال ہونے کا منظر دیکھ کر ایک مقامی 11 سالہ لڑکے جا یانگ لوزو نے کہا کہ میں نے پہلی مرتبہ ٹرین دیکھی ہے۔میں اور میرے ساتھی ٹرین کے ساتھ دوڑتے رہے ، اور مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی۔ بعد میں، میں اس ٹرین پر بیٹھ کر لہاسا جا سکتا ہوں۔

    پچھلے دس سالوں میں، چینیوں نے پہاڑوں اور دریاؤں کے درمیان، دور دراز دیہاتوں اور صحرائے گوبی میں یکے بعد دیگرے نقل و حمل کے معجزے پیدا کیے ہیں۔ ماضی کے دورفتادہ اور الگ تھلگ علاقے آج نقل و حمل کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔

  • افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت خارجہ

    افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت خارجہ

    بیجنگ:افغانستان امریکی بالادستی اور طاقت کی پالیسی کے بدترین نتائج کا گواہ ہے،اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حال ہی میں عالمی میڈیا نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی پہلی برسی پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا کہ افغانستان پر امریکی حملے کے منفی اثرات کا تسلسل بدستور جاری ہے۔ اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے 19 تاریخ کو ایک یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان ،امریکی فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی کے بدترین نتائج کا گواہ ہے۔

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    ترجمان نے نشاندہی کی کہ "امریکہ نے 20 سال تک افغانستان پر جنگ مسلط کی، ایک ملک کو ریزہ ریزہ کر دیا، ایک نسل کا مستقبل تباہ کر دیا، 174,000 لوگوں کو ہلاک کیا، جن میں 30,000 سے زیادہ عام شہری بھی شامل ہیں، اور 10 ملین سے زیادہ لوگوں کو پناہ گزینوں میں تبدیل کر دیا۔ افغانستان میں امریکی جارحیت کے منفی اثرات بدستور جاری ہیں۔ لاکھوں افغان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، تقریباً 30 لاکھ افغان بچے غربت کی وجہ سے اسکولوں سے باہر ہیں، اور 18.9 ملین افغانوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    چین کی ’اسکائی ٹرین‘ جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    وانگ وین بین نے مزید کہا کہ دوسری جانب افغانستان امریکی "جمہوری تبدیلی کے منصوبے” کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ امریکی ناکامی نے اُس کی جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام میں منافقت اور اس کے جبر و بالادستی کے حقیقی رنگوں کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ افغانستان میں ناکام ہوا ہے لیکن اس نے پھر بھی دنیا میں ہر جگہ مداخلت کی پالیسی ترک نہیں کی، وہ اب بھی جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اور دنیا بھر میں تقسیم اور محاذ آرائی کو ہوا دے رہا ہے۔ عالمی برادری کو چوکس رہنا چاہیے اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں دنیا میں افراتفری پھیلانے کے امریکی خطرناک اقدام کی مشترکہ مزاحمت کرنی چاہیے، تاکہ افغان سانحے کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے۔

  • چین کی ’اسکائی ٹرین‘  جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    چین کی ’اسکائی ٹرین‘ جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    بیجنگ: اب چین نے اپنی پہلی معلق میگلیو لائن کی رُنمائی کی ہے جس کو مستقل مقناطیسوں سے بنایا گیا ہے۔ اس کے متعلق انجینئروں کا دعویٰ ہے کہ یہ توانائی کی ترسیل کے بغیر بھی ایک ’اسکائی ٹرین‘ کو ہوا میں معلق رکھ سکتی ہے۔

     

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    ریڈ ریل نامی 2600 فٹ طویل تجرباتی ٹریک جنوبی چین کے جیانگ شی صوبے کی شِنگ گو کاؤنٹی میں بنایا گیا ہے۔
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ٹریک میں طاقتور مقناطیس استعمال کیے گئے ہیں جو مستقل مدافع قوت پیدا کرتے رہتے ہیں اور یہ قوت اتنی ہوتی ہے کہ 88 مسافروں کے ساتھ ایک ٹرین کو ہوا میں اٹھا سکے۔

    موجودہ میگلیو لائنز کے برعکس یہ معلق ریل زمین سے 33 فٹ اوپر کام کرتی ہے۔ یہ ٹرین ریل کو چھوتی بھی نہیں اور اس کے نیچے 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خاموشی کے ساتھ چلتی ہے۔

    جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    الیکٹرو میگنٹس کے بجائے مستقل مقناطیس کے استعمال کے ساتھ مزاحمت میں کمی کا مطلب ہے کہ اس کے لیے تھوڑی مقدار میں بجلی چاہیے ہوگی جو انجن کو آگے دھکیلے گی۔جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کے مطابق اس کی تعمیری لاگت بھی کم ہے۔ یہ ٹرین سب وے کی لاگت کے دسویں حصے میں بنائی جاسکتی ہے۔

    چین کی ہوا میں معلق "اسکائی ٹرین”جو بجلی کےبغیربھی سفرکرسکتی ہے

  • جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    واشنگٹن:جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےکیا باہمی تجارتی مذاکرات کااعلان،اطلاعات کے مطابق چین امریکہ معاملات میں کشیدگی کےچلتے تائیوان اورامریکہ نے باہمی تجارتی تعلقات کےفروغ کےلئےمذاکرات کا اعلان کردیا۔

    جنوبی چین کےسمندری علاقے میں کشیدگی کے باوجود تائیوان اورامریکہ نےدوطرفہ تعلقات بڑھانےکااعلان کیا ہے۔

    یہ تجارتی مذاکرات اس سال موسم سرما کے آغاز میں ہوں گے جن میں زراعت، ڈیجیٹل تجارتی امور، مارکیٹ ریگولیشن اور تجارتی راہ میں حائل موانع کو دور کرنے جیسے امور پر مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات کا اعلان امریکی تجارتی نمائندے کیتھرین تائی نے کیا ہے۔

    اگرچہ یہ مذاکرات جون میں ہونے تھے لیکن اب باضابطہ طور پر موسم سرما کے آغاز میں ان مذاکرات کے منعقد ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    یہ خبر نینسی پلوسی کے ااُس دورۂ تائیوان کے دو ہفتے بعد آئی ہے جو گزشتہ پچیس سالوں میں کسی اعلی امریکی عہدیدار کا پہلا دورۂ تائیوان سمجھا جاتا ہے۔ چین نے اس دورے کو کشیدگی کو ہوا دینے کا معاملہ قرار دیا تھا اور تائیوان کے نزدیک ایک بڑی فوجی مشق سے تائیوان اور امریکہ کو اپنی ناراضگی کا پیغام دیا تھا۔

    دوسری طرف چین نے بھی خطے میں امریکی بالادستی کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر حکمت عملی شروع کردی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد چین جنوبی چین کے سمندروں میں بہت بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کردے گا اور امریکہ کو باز رہنے کا ایک واضح پیغام دے گا

  • چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    چین اور روس کے صدور انڈونیشیا میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق انڈونشیا 20 بڑی معیشتوں کے گروپ کی سربراہی کر رہا ہے اور نومبر میں اس کا اعلٰی سطح اجلاس جزیرہ بالی پر ہو گا چین اور روس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے اس کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ امغربی ممالک نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین پر حملے کی وجہ سے روسی صدر پیوٹن کا دعوت نامہ منسوخ کیا جائے جس کو روس ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیتا ہے۔

    آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    بلوم برگ کے مطابق انڈونیشیا کےصدرکےمطابق جی 20 اجلاس نومبر میں منعقد ہوگا چین کے صدر شی جن پنگ آئیں گے اور پیوتن نے مجھے خود بتایا ہےکہ وہ بھی آئیں گےجب چین کی وزارت خارجہ سےاس اطلاع کےحوالےسےموقف جاننےکی کوشش کی گئی تووہاں سے فوری طورپرکوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    انڈونیشئین صدر نے متحارب ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اس کے لیے یوکرین اور روس دونوں کے دورے بھی کیے اور صدور سے ملاقاتیں بھی کیں ان ملاقاتوں کے بعد جوکووی نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے انڈونیشیا کو امن کے پُل کے طور پر قبول کیا ہےبڑے ممالک کے رہنما نومبر میں ملاقات کریں گے جن میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن بھی شامل ہیں جبکہ انڈونیشیا کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی دعوت دی گئی ہے۔

    یاد رہے روس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تب سے خراب ہیں جب سے اس نے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا ہے، امریکہ اور مغربی ممالک کھل کر یوکرین کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ روس اور امریکہ کی قیادت کے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی جاری ہے۔

    اسی طرح رواں امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکرنینسی پلوسی کےتائیوان کےدورے پرامریکہ اور چین کےتعلقات میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی اور چین نے جنگی مشقیں بھی شروع کیں بعد ازاں امریکی کانگریس کا ایک اوروفد تائیوان جا پہنچاجس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی خراب ہیں۔ چین پڑوسی ملک تائیوان پر اپنی ملکیت کا دعوٰی رکھتا ہے جبکہ تائیوان خود کو آزاد ملک قرار دیتا ہے-

    ملکہ برطانیہ کو قتل کرنا چاہتا تھا، ونڈسر محل کے باہر سے تیر کمان سمیت گرفتارملزم…

  • چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    بیجنگ :چین کے شمال مغربی علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے، جہاں انتہائی موسمی حالات کے باعث فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور بجلی بھی منقطع ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین میں سیلاب درجہ حرارت میں اضافے اور موسلا دھار بارشوں کے دوران آتا ہے، متعدد شہروں میں سیلاب کی وجہ سے کروڑوں ڈالر مالیت کا نقصان رہورٹ ہوا ہے۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ رواں ہفتے صوبہ کنگھائی کے ایک پہاڑی علاقے میں سیلاب آیا، جس سے 6 دیہات کے 6 ہزار 200 سے زیادہ شہری متاثر ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے باعث سڑکیں کیچڑ سے ڈھکی ہوئی ہیں، کئی جگہوں پر درخت اکھڑے گئے ہیں اور مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔سی سی ٹی وی نے بتایا کہ ’18 تاریخ کو دوپہر تک، 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم امدادی کام جاری ہے’۔

    سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 18 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 20 کو بچا لیا گیا ہے، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ‘فرنٹ لائن ہیڈکوارٹرز’ قائم کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بچاؤ کا کام منظم طریقے سے جاری ہے’، بدھ کی رات اچانک ہونے والی شدید بارش نے صورت حال میں مزید شدت آگئی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید موسم دیکھنے میں آرہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔

    جنوبی چین میں جون میں آنے والے شدید سیلاب نے نصف ملین سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق 25 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔چینی حکام نے خبردار کیا کہ ملک کے شمالی علاقوں بشمول دارالحکومت بیجنگ اور ہمسایہ ممالک تیانجن اور ہیبی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ میں حکام سے ‘سیلاب پر قابو پانے میں لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے’ کی ہدایت کی ہے۔

    دریں اثنا چین کے جنوب مغربی علاقے میں لاکھوں لوگوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے کیونکہ شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام میں تعطل آگیا ہے۔

  • انسانی حقوق کے نام پرعالمی ادارےتعمیری کام کریں:شرارتوں اورسازشوں سے بازرہنا چاہیے:چین

    انسانی حقوق کے نام پرعالمی ادارےتعمیری کام کریں:شرارتوں اورسازشوں سے بازرہنا چاہیے:چین

    بیجنگ:انسانی حقوق کے نام پرعالمی ادارےتعمیری کام کریں:شرارتوں اورسازشوں سے بازرہنا چاہیے:اطلاعات کے مطابق چین نے کہا کہ کثیرالجہتی انسانی حقوق کے اداروں کو تمام فریقوں کے درمیان تعمیری تبادلے اور تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا چاہیے، چین مغربی ممالک پر الزام لگاتے ہوئے کہ وہ اپنی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسروں پر فیصلہ سناتے ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیے

    اس سلسلے میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جنیوا میں مقیم ترقی پذیر ایشیائی اور افریقی ممالک کے سفیروں کے ایک وفد کو بتایا کہ ان کا یہ دعویٰ کہ "انسانی حقوق خودمختاری سے بلند ہیں” درحقیقت جو کچھ آجکل عالمی ادارے کررہے ہیں‌وہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش ہے۔

     

    ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

    وانگ نے سفیروں کو بتایا کہ "نام نہاد ‘ویلیو ڈپلومیسی’ کا نفاذ دراصل ممالک کو انسانی حقوق کی آڑ میں فریقین کا انتخاب کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جسے نام نہاد ‘جمہوری اصلاحات’ کہا جاتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بدامنی، تنازعات اور انسانی تباہی ہے”دوسری طرف چین کی وزارت خارجہ نے وانگ کے دورے پر آئے ہوئے سفیروں کو بتاتے ہوئے کہا کہ "تاریخ کے سبق کو احتیاط سے سیکھنا چاہیے، اور ان کارروائیوں کی مل کر مزاحمت کی جانی چاہیے۔”

     

    چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    کسی کا نام لیے بغیر، وانگ نے "کچھ مغربی ممالک” پر الزام لگایا کہ وہ انسانی حقوق پر دوسروں کو "جائز” کر رہے ہیں۔”وہ صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے ٹارچ کا استعمال کرتے ہیں لیکن خود کو نہیں۔ وہ ترقی پذیر ممالک کے انسانی حقوق کی صورتحال پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور اپنے ہی ممالک اور اپنے اتحادیوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کرتے ہیں۔ منتخب اندھے پن کی مشق میں مشغول ہوں، یا۔

    چینی اعلیٰ سفارت کار نے "باہمی احترام” اور "دوسروں پر مسلط ہونے” کی مخالفت پر بھی زور دیا۔”مختلف ممالک کے مختلف قومی حالات اور مختلف تاریخیں اور ثقافتیں ہیں۔ ہمیں ملک کی اصل صورت حال سے آگے بڑھنا چاہیے اور انسانی حقوق کی ترقی کا ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جو لوگوں کی ضروریات کو پورا کرے۔

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا مفہوم جامع ہے۔ شہری اور سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، جس میں انفرادی حقوق اور اجتماعی حقوق دونوں شامل ہیں،” انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے، روزگار اور ترقی کا حق لوگوں کی سب سے اہم ضرورت ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ "انسانی حقوق کے کثیرالجہتی اداروں کو تمام ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے معقول مطالبات پر توجہ دینی چاہیے، اور اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق اور ترقی کے حق میں اپنی توجہ اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔”

  • جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام، اس حوالے سے چین نے منگل کو جزیرہ نما کوریائی ملکوں کے متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کو ہوا دینا بند کریں۔

    پہلے امریکی دفاعی ادارے پینٹا گان پھرچینی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے گزشتہ ہفتے ہوائی کے ساحل پر ایک مشترکہ بیلسٹک میزائل دفاعی مشق کا انعقاد کیا، 2017 کے بعد پہلی بار تینوں ممالک نے اس طرح کی مشقیں کی ہیں۔

     

    شمالی کوریا کا مزید 2 کروز میزائلوں کا تجربہ

    یہ بھی معلوم ہے کہ اس موقع پر یہ پوچھے جانے پر کہ باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران فوجی مشقوں میں کس کو نشانہ بنایا گیا، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب امریکہ کو دینا چاہیے۔وانگ نے کہا، لیکن جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر مشترکہ فوجی مشقوں کے منفی اثرات توجہ کے مستحق ہیں۔

    روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    انہوں نے کہا، "متعلقہ فریقین کو ہوشیاری سے کام لینا چاہیے، اور ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے جو کشیدگی اور تصادم کو بڑھاتے ہیں اور فریقین کے درمیان باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔”

    دوسری طرف شمالی کوریا نے طویل عرصے سے جنوبی کوریا ، جاپان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مشقوں کی مذمت کی ہے اور جزیرہ نما کوریا سے امریکی فوجیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    صدرجوبائیڈن کےدورے کےموقع پر شمالی کوریا جوہری تجربہ کرسکتا ہے:جنوبی کوریا