Baaghi TV

Tag: چین

  • شہباز شریف نے امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی

    شہباز شریف نے امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی

    تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے اگر دونوں فریق چاہیں تو پاکستان دنیا میں امن و استحکام کیلئے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو ختم کرانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر چین اور امریکہ چاہیں تو پاکستان ان کے اختلافات کو ختم کرانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر خوش ہو گا، جیسا کہ ہم نے ماضی میں بھی کیا تھا،نصف صدی قبل دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اسلام آباد کا اہم کردار رہا ہے ۔

    متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی،وزیراعظم

    نیوز ویک کے سینئر فارن پالیسی رائٹر ٹام او کونرنے ای میل کے ذریعے وزیر اعظم شہباز شریف کا انٹرویو لیا، وزیر اعظم نے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ پاکستان دنیا کو بحرانوں اور دیگر مسائل سے نکالنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نہ صرف امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی شدید خرابی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ یوکرین اورروس کے درمیان جاری جنگ کے بارے میں اپنے موقف کااظہار کیا۔ ، پڑوسی ملک افغانستان میں افراتفری، تنازعہ کشمیر کے حل نہ ہونے اور پاکستان کی سرحدوں کے اندر عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپریل میں عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا ۔

     

    وفاقی کابینہ اجلاس، 10 نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری

     

    اقتصادی اصلاحات اور استحکام کے متفقہ قومی ایجنڈے پر ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے اکٹھے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت واقعی قومی نوعیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے روایتی طور پر چین اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان محاذ آرائی سے گریز کی ضرورت کو اجاگر کرتا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ گروہی سیاست اور سرد جنگ کی طرف بڑھنے سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا اور درحقیقت ترقی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ بین الریاستی تعلقات کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے باہمی احترام اور تنازعات کے پرامن حل پر ہونی چاہیے۔

     

    اوورسیزپاکستانی ہمارا بہترین قومی اثاثہ ہیں:رانا ثنااللہ

     

    وزیر اعظم نے کہا کہ COVID-19 وبائی امراض اور یوکرین کے بحران کےعالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی اپنی سماجی و اقتصادی بہبود کے لیے بیرونی خطروں سے دوچار ہیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان دشمنی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ان چیلنجوں میں اضافہ نہیں چاہتے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور باہمی فائدے کی بنیاد پر وسیع البنیاد اور پائیدار شراکت داری کا خواہاں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم بڑی امریکی کمپنیوں کی پاکستان کی منافع بخش مارکیٹ،خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر، میں سرمایہ کاری کرنے اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

     

    ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

     

    انہوں نے یوکرین کے تنازع کا کثیرالجہتی معاہدوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعات کے مطابق سفارتی حل پر زور دیا۔بھارت کے ساتھ کشیدگی پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن نئی دہلی کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیاں علاقائی تعمیر و ترقی میں اسلام آباد کی کوششوں کو ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام اور خودمختار برابری کی بنیاد پر خطے میں امن کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہے، جس کے حل سے خطے میں نئی ​​راہیں کھلیں گی۔

    افغانستان میں بگڑتی ہوئی معاشی اور انسانی صورت حال پر وزیراعظم نے کہا عالمی برادری کے لیے ہمارا پیغام ہوگا کہ اہم سماجی اور اقتصادی شعبوں میں عبوری حکومت کی مدد جاری رکھیں اور افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کو غیر منجمد کیا جائے تاکہ افغانستان کی تعمیر میں مدد ملے۔ہم عبوری افغان حکومت کو اس کے وعدوں پر قابل عمل اقدامات کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہیں گے جن میں شمولیت سے متعلق، تمام افغانوں کے انسانی حقوق کا احترام، بشمول لڑکیوں کی تعلیم، اور مؤثر انسداد دہشت گردی کارروائی شامل ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔یہ بھی کوئی راز نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے جس کی منصوبہ بندی، معاونت اور مالی معاونت دشمن خفیہ ایجنسیاں کرتی رہی ہیں۔ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور ہماری معاشی ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔

  • ترقی پذیر ممالک کے ساتھ  کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

    ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں،چین

    چین نے کہا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ یکجہتی اور ہم آہنگی سے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ممالک کے سفیروں کے ساتھ بذریعہ وڈیو لنک ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ کثیر الجہتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور کردار کو فروغ دینا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتا رہے گا، انہوں نے کہا کہ چین برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ انسانی حقوق کے تبادلے اور تعاون کے فروغ کے لیے تیار ہے ۔انہوں نے تائیوان سے متعلق تاریخی حقائق اور چین کے پختہ مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چین کو امریکا کی جانب سے ہر اشتعال انگیزی کا ضروری اور جائز جواب دینا چاہیے۔

    انہوں نے نشاندہی کی کہ خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں باہمی تبادلوں کے دوران عدم مداخلت کے اصول کا احترام کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر موجود سفیروں نےکہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کے ذریعے قائم کردہ ون چائنا اصول بین الاقوامی برادری کا اتفاق رائے ہے اور تمام ممالک اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی سیاسی بنیاد ہے۔

    تائیوان اور سنکیانگ دونوں چین کے اٹوٹ انگ ہیں اور چین کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے مسائل پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے اور عالمی برادری کو چین کی جانب سے اپنے جائز حقوق کے دفاع کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔

  • چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    بیجنگ:چین تائیوان معاملہ ہوا مزید خراب، چین نے سات تائیوانیوں پر پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق چین اور تائیوان کے درمیان باہمی معاملات امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی کے دورے کے بعد سے مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ رویٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقامی چینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ چین نے سات تائیوانی شہریوں پر علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    بھارت متحدہ چین کی حمایت کرتاہے:ترجمان وزارت خارجہ اریندم باگچی

    یہ پابندیاں نینسی پلوسی کے دورۂ تائیوان کے بعد لگائی گئی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے تائیوان میں علیحدگی پسندوں کو غلط پیغام دیا گیا ہے جب کہ تائیوان کا کہنا ہے کہ وہ اس جزیرے پر چین کی حاکمیت کو قبول نہیں کرتا۔

     

    چین کے سیاحتی مرکز میں کورونا وباء کا حملہ، ہزاروں سیاح مشکل سے دوچار

    چینی خبررساں ایجنسی سینوہا کے مطابق جن افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان میں واشنگٹن میں تائیوانی سفیر ہمسایو بی کیم اور قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ولینگٹن کو بھی شامل ہیں۔

    ڈونکی کنگ کے بعد لیجنڈ آف مارخور چین میں ریلیز ہونے والی دوسری پاکستانی فلم

    رپورٹ کے مطابق تائیوان کی برسر اقتدار جماعت بھی ان پابندیوں کی زد میں آئی ہے۔ تائیوانی معاملات کو دیکھنے والے چینی ادارے کے نمائندے نے کہا کہ جن افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ چین، ہانگ کانگ اور ماکاؤ کا سفر نہیں کرسکتے اور نہ ہی مذکورہ شخصیات اور ان سے وابستہ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو چین میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت ہوگی۔

  • بھارت متحدہ چین کی حمایت کرتاہے:ترجمان وزارت خارجہ اریندم باگچی

    بھارت متحدہ چین کی حمایت کرتاہے:ترجمان وزارت خارجہ اریندم باگچی

    نئی دہلی:متحدہ چین کے اصول کی حمایت کرنے والے اولین ملک کی حثیت سے ہندوستان نے ایک بار پھر اس پالیسی پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

     

    بھارت چین کے سامنے بھی اکڑ گیا ، چین مداخلت سے باز رہے

    ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے کہا ہے کہ متحدہ چین کے بارے میں ہماری پالیسی پوری طرح واضح ہے اور اسے بار بار دھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان فریقین سے صبر و تحمل سے کام لینے اور علاقےکی صورتحال میں کسی بھی یک طرفہ تبدیلی سے گزیر کی اپیل کرتی ہے تاکہ کشیدگی کو ختم کی جاسکے۔

    بھارت چین کشیدگی: چین سے کیسے نمٹا جائے : واشنگٹن اور نئی دہلی نے سرجوڑ لیئے

    اس سے پہلے دھلی میں قائم چین کے سفارت خانے نے کہا تھا کہ ہمیں امید ہے ک متحدہ چین کے اصول کی حمایت کرنے والے اولین ملک کی حثیت سے ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    ہندوستانی وزار ت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں علاقائی امن و استحکام کو باقی رکھنے کی کوششوں اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ کے متنازعہ دورہ تائیوان کے بعد تائیپے اور واشنگٹن سے بیجنگ کی کشیدگی کے نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

    بھارت چین کے سرحدی تنازع پرایک دوسرے پرالزامات، اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے، چین

    چین جزیرہ تائیوان کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور اس علاقے کی خودمختاری کے بارے میں کئی بار خبردار کرچکا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک چین پر دباؤ ڈالنے کے لیے جزیرہ تائیوان کو علیحدگی پر اکسا رہے ہیں۔

  • چین کے سیاحتی مرکز میں کورونا وباء کا حملہ، ہزاروں سیاح مشکل سے دوچار

    چین کے سیاحتی مرکز میں کورونا وباء کا حملہ، ہزاروں سیاح مشکل سے دوچار

    بیجنگ: چین میں کورونا وائرس کے وار دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے سیاح مشکل سے دوچار ہوئے ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق چین کے سیاحتی مقام سانیا جنوبی جزیرے ہینان میں 10 لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ جہاں ایک ہی دن میں 483 کورونا کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ جس کے فوری بعد حکومت حرکت میں آئی اور شہر سے باہر جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئیں۔ اس کے علاوہ ٹرین کی ٹکٹوں کی فروخت بھی بند ہے۔

    اس حوالے سے محکمہ صحت نے بتایا کہ سیاح اگر جانا چاہئیں تو انہیں سخت پابندیوں پر عمل کرنا ہوگا۔ جس میں ایک ہفتہ کے دوران 5 پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دکھا نا ہوگی۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کی جانب سے مقامی ہوٹل مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفری پابندیوں میں نرمی تک سیاحوں کو 50 فیصد رعایت کی پیشکش کریں۔

    ادھرچین میں نئے’ہینیپا’وائرس سے درجنوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق جانوروں سے پھیلنے والے نئے’ہینیپا’وائرس سے درجنوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    اب تک شان ڈانگ اورہینان صوبے سے متاثرہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ مریضوں کے حلق سے نمونے حاصل کئے گئے۔

     

     

     

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ وائرس کے اثرات ایک ہفتے میں سامنے آتے ہیں اور اس کی علامات میں تیزبخار، تھکاوٹ، کھانسی، بھوک میں کمی اور پلیٹلیٹس کا گرنا شامل ہیں۔

    اب تک نئے’ہینیپا’وائرس کی کوئی دوا یا ویکسین سامنے نہیں آئی اور اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ احتیاط ہے۔چین کی طبی ماہروانگ لنفا نے بتایا ہے کہ نئے’ہینیپا’وائرس کے مریضوں کی حالت تسلی بخش ہے اور فی الحال گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • امریکہ کی تائیوان میں مداخلت:متعدد ایشیائی ممالک چین کے ساتھ کھڑے ہوگئے

    امریکہ کی تائیوان میں مداخلت:متعدد ایشیائی ممالک چین کے ساتھ کھڑے ہوگئے

    بیجنگ:امریکہ کی تائیوان میں مداخلت:متعدد ایشیائی ممالک چین کے ساتھ کھڑے ہوگئے،اطلاعات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے چین کی سخت مخالفت اور احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے تائیوان کا دورہ کیا۔ پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس سلسلے میں دنیا کے متعدد ممالک کی سیاسی جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ون چائنا اصول پر مضبوطی سے عمل پیرا ہیں اور قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے چین کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کریں گی۔

    چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    فرانسیسی سیاسی جماعت ” اندومٹبل فرانس ” کے رہنما جین لوک میلینچن نے کہا کہ فرانس کا موقف ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے، اور تائیوان چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔زمبابوے کی حکمران جماعت افریقن نیشنل یونین پیٹریاٹک فرنٹ، یونان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت سریزا، بنگلہ دیش ورکرز پارٹی، سائپرس ورکنگ پیپلز پروگریسو پارٹی، لاؤ پیپلز ریوولیوشنری پارٹی اور ایکواڈور کی کمیونسٹ پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے ، تائیوان چین کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ وہ ون چائنا اصول کی حمایت کرتے ہیں اور کسی بھی ملک کی جانب سے ون چائنا پالیسی کو کسی بھی شکل میں تبدیل کرنے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں ۔

    چینی فوج نے پینٹاگان کی ٹیلی فونز کالز سُننے سے انکارکردیا

    سینیگال کی انڈیپنڈنٹ لیبر پارٹی کے جنرل سیکرٹری سامبا ویسٹ نے کہا کہ وہ ون چائنا اصول کو پامال کرنے اور آبنائے تائیوان میں عوامی جمہوریہ چین کو نشانہ بنانے والی مخالفانہ سرگرمیوں کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو کہ عالمی امن اور ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں۔کوموروس کی حکمران جماعت نے ایک پریس ریلیز میں اس بات کا اعادہ کیا کہ تائیوان چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تقسیم حصہ ہے، پارٹی چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کی مخالفت کرتی ہے اور ایک چین کے موقف اور چین کی وحدت کی بھرپور حمایت کرتی ہے ۔

    تائیوان کا دورہ، چین نے نینسی پلوسی پر پابندیاں عائد کردیں

  • چین بنگلہ دیش کا ہمیشہ سےایک قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنررہا ہے:چینی وزیر خا رجہ

    چین بنگلہ دیش کا ہمیشہ سےایک قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنررہا ہے:چینی وزیر خا رجہ

    بیجنگ:بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ڈھاکہ میں چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔

     

     

    چینی میڈ یا کے مطا بقاس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ چین بنگلہ دیش کا ہمیشہ سے ایک قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر رہا ہےاور قومی خود مختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے بنگلہ دیش کی مضبوطی سے حمایت جاری رکھے گا،اور اپنے قومی حالات کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن رہنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے میں بنگلہ دیش کی حمایت کرتا رہیگا۔

    چینی فوج نے پینٹاگان کی ٹیلی فونز کالز سُننے سے انکارکردیا

    وانگ ای نے اس بات کو سراہا کہ بنگلہ دیش اور دیگر ترقی پذیر ممالک نے ون چائنا پالیسی اور چین کے جائز موقف کی حمایت کی ہے۔ وانگ ای نے زور دے کر کہا کہ امریکی فریق کے اقدامات نے چین کے اقتدار اعلیٰ کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، چین کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت کی ہے اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔چین کے جوابی اقدامات کا مقصد ملک کے اقتداراعلیٰ اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے، اور ان کا مقصد دنیا، آبنائے تائیوان اور ایشیا میں حقیقی معنوں میں امن کو برقرار رکھنا ہے۔

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث —

    دوسری طرف چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ عبدل مومن سے بات چیت کی۔پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطا بقمومن نے کہا کہ بنگلہ دیش اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے بنگلہ دیش چین تعلقات میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش میں انسداد وبا کے لیے مدد فراہم کرنے، بنیادی تنصیبات کی تعمیر کو تیز کرنے اور ملک کی صورتحال کو بہتر بنانے میں بنگلہ دیش کی مدد کرنے پر ہم چین کے مشکور ہیں۔ چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکاہے، اور بنگلہ دیش “گولڈن بنگلہ دیش” کے خواب اور “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون کی مشترکہ تعمیر کو مضبوط بنانے کا منتظر ہے، تاکہ بنگلہ دیش کے وژن اور اہداف کی تکمیل کو تیز کیا جا سکے۔

    چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    وانگ ای نے کہا کہ چین اور بنگلہ دیش کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی ہموار پیش رفت سے دونوں اطراف کے عوام کو فائدہ پہنچا ہے۔ بنگلہ دیش کے “گولڈن بنگلہ دیش” کے خواب کی تعبیر کے عمل میں، چین ہمیشہ سے بنگلہ دیش کا سب سے قابل اعتماد طویل مدتی اسٹریٹجک پارٹنر رہا ہے۔ امید ہے کہ فریقین چین-بنگلہ دیش آزاد تجارتی معاہدے کی مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کو تیز کریں گے، اور ترقی اور مارکیٹ کے مواقع، جدید تجربہ اور ٹیکنالوجی کا اشتراک جلد از جلد کیا جا سکےگا ۔وانگ ای نے امور تائیوان کے حوالے سے چین کے جائز موقف پر بنگلہ دیش کی فوری حمایت کو سراہا۔ مومن نے کہا کہ بنگلہ دیش ایک چین کے اصول پر سختی سے کاربند ہے، تائیوان چین کی سرزمین کا حصہ ہے، اور ہم چین کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات کے تحفظ میں اس کی حمایت کرتے ہیں۔

  • چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    واشنگٹن: چین کو اشتعال دلانے کی کوشش، واشنگٹن کا بھارت کے ساتھ چینی سرحد پر جنگی مشقوں کا اعلان,اطلاعات کے مطابق چین کو مزید اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہوئے واشنگٹن نے بھارت کے ساتھ متنازع چینی سرحد پر جنگی مشقوں کا اعلان کر دیا۔

    روس یوکرین تنازعہ:توانائی بحران:یورپ کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوگئے

    تفصیلات کے مطابق نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے بعد امریکا کی جانب سے چین کو اشتعال دلانے کی ایک اور کوشش سامنے آ گئی۔ واشنگٹن نے بھارت کے ساتھ چینی سرحد کے قریب جنگی مشقوں کا اعلان کر دیا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان فوجی مشقیں اکتوبر میں ہوں گی، مشقوں میں اعلیٰ سطح کی فوجی تربیت پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    دوسری جانب چین اور تائیوان کا تنازعہ خطرناک رخ اختیار کرنے لگا ہے، تائیوان نے بھی جنگی طیاروں کی پروازیں اور بحری گشت بڑھا دیا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق تائیوان نے ممکنہ چینی حملے کے خلاف ساحل پر نصب میزائل بھی الرٹ کر دیے ہیں۔تائیوان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کی فوجی مشقیں حملے کی تیاری ہیں، چین کی افواج ہماری فضائی اور بحری حدود میں داخل ہو چکی ہیں۔

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع

    پلوسی کے دورے کے موقع پر چین نے رد عمل میں تائیوان کے اطراف سمندر میں کئی میزائل داغ دیے تھے، چین نے تائیوان کے اردگرد بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں بھی شروع کر دی تھیں۔

  • انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دنیا کے دو ارب انسان روزانہ صبح کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن وہ چائے کی متعلق نہیں جانتے۔

    چائے کی تاریخ

    2737 قبل مسیح میں چین کا بادشاہ

    شین ننگ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، کہ اس کاملازم اس کے لئے پینے کا پانی {گرم کرکے} کرلایا، اچانک اس درخت سے کچھ پتّیاں اس کھولے ہوئے پانی میں گریں اور پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا، بادشاہ بہت حیران ہوا، اس نے وہ پانی پیا تو اسے فرحت اور تازگی محسوس ہوئی۔

    اور اسکے منہ سے "چھا” نکلا غالباً وہ حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیا ہے؟؟

    اور اس نے اس درخت کا نام ہی "چھا” رکھ دیا جو بگڑ کر چاء ہوگیا اور اب چائے کہلاتا ہے۔

    وہ ماہرِ نباتات بھی تھالہٰذا اس نے وقتاً فوقتاً کھولے ہوئے پانی میں چائے کا پتّا ملا کر پینا شروع کردیا۔

    چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ چائے کے پودے کی پتیوں کو چند منٹ گرم پانی میں ابالنے سے تیار ہوتی ہے۔

    پھر اس میں ضرورت اور مرضی کے مطابق چینی اور دودھ ملاتے ہیں چائے میں کیفین کی موجودگی پینے والے کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

    چائے اور اس کی انگریزی "ٹی” T گیا دونوں چینی زبان کے الفاظ ہیں۔ چائے کے پودے کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین ہے۔

    فارچیون ایسٹ انڈیا کا جاسوس تھا جو چین کے ممنوعہ علاقے میں گیا، وہاں جاسوس کی حیثیت سے کام کیا اور چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز چرا کر لایا اور بھارت کے علاقہ آسام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارچیون کی نگرانی میں پودے اگانا شروع کردئیے۔

    لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

    اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

    اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

    اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔

    یہ مقامی پودا چائے سے ملتا جلتا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔

    لیکن زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

    فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

    آسام میں چائے کی پیداوار

    چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

    اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

    دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کیلئے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا گیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

    برآمد میں کمی ہونے کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔