Baaghi TV

Tag: چین

  • چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    بیجنگ :اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 50 واں اجلاس 13 جون سے 8 جولائی تک سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوا۔ چین کی متعدد سماجی تنظیموں نے تحریری صورت میں کانفرنس میں شرکت کی، جس میں چین کی انسانی حقوق کی ترقی اور کامیابیوں کو متعدد زاویوں سے دکھایا گیا اور عالمی انسانی حقوق کے نظم و نسق میں اصلاحات اور بہتری کے لیے فعال کردار ادا کیا گیا۔

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چائنا ایتھنک مینارٹیز ایسوسی ایشن فار ایکسٹرنل ایکسچینجز نے کہا کہ چین ہمیشہ انسانی حقوق کے “عوام پر مبنی” تصور پر عمل پیرا رہا ہے، اور سنکیانگ کی تیز رفتار اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ اور چند مغربی ممالک سنکیانگ کے بارے میں اکثر جھوٹ گھڑتے ہیں، جس کا مقصد چین کی ساکھ کو داغدار کرنا اور چین کی ترقی کو روکنا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا چاہیے اور غلط معلومات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

    چین کی تبتی ثقافتی تحفظ اور ترقیاتی ایسوسی ایشن نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں 70 سال سے زائد ترقی کے بعد تبت میں اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    غیر سرکاری تنظیموں کے عالمی تبادلے کے فروغ کے لیے بیجنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، چینی سماجی تنظیموں نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے تصور کو برقرار رکھا ہے، اور عالمی انسداد وبا تعاون،افرادی روابط کو فروغ دینے ، ثقافتی تبادلوں کو گہرا کرنے اور عالمی ماحولیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے فعال کوششیں کی ہیں۔

    شام میں صورتحال کی بہتری کے لیے سلامتی کونسل کردار ادا کرے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چانگ جون نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ شام میں کراس بارڈر ڈیلیوری کو ختم کرنے کے لیے جلد از جلد ایک واضح ٹائم ٹیبل پیش کیا جائے۔ کراس بارڈر امداد کا طریقہ کار شام کی مخصوص صورتحال پر مبنی ایک عارضی انتظام ہے۔ سلامتی کونسل کو زمینی حقائق کے مطابق اقدامات آگے بڑھانے چاہیے اور کراس بارڈر ریلیف کو کراس لائن اپروچ سے بدلنا چاہیے۔

     

     

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چانگ جون نے کہا کہ شام میں انسانی صورتحال کو بدستور چیلنجز کا سامنا ہے اور چین ہمیشہ انسانیت، غیر جانبداری کے اصولوں کے مطابق شامی عوام کو انسان دوست امداد پہنچانے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی حمایت کرتا ہے۔ چین بھی موئثر ذرائع سے شام کو مختلف قسم کی امداد فراہم کر رہا ہے، مقامی انسانی صورت حال کی بہتری اور اقتصادی اور لوگوں کے معاش میں درپیش مشکلات پر قابو پانے میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

     

    چانگ جون نے کہا کہ یکطرفہ پابندیوں نے شامی حکومت کے وسائل اور تعمیر نو کی صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے اور یہ شام میں انسانی صورت حال کو بہتر بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ چین نے ایک بار پھر متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف یکطرفہ پابندیاں فوری طور پر ہٹائیں تاکہ شام میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

     

     

    سلامتی کونسل کی قرارداد 2585 کا مینڈیٹ اتوار کو ختم ہو رہا ہے۔ چانگ جون نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ہمت نہ ہاریں، مشاورت جاری رکھیں، اور باہمی اعتماد میں اضافہ کریں، زیادہ لچک کا مظاہرہ کریں، اور مینڈیٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد انتظامات کے لیے عملی حل تلاش کریں۔

  • چینی خاتون ایک دہائی تک روس سے متعلق جعلی اور فرضی تاریخ لکھتی رہی

    چینی خاتون ایک دہائی تک روس سے متعلق جعلی اور فرضی تاریخ لکھتی رہی

    چینی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایک چینی خاتون نے 10 سال تک وکیپیڈیا پر روس کی تاریخ سے متعلق سیکڑوں جعلی اور فرضی معلومات درج کیں۔

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی خاتون نے 10 سال تک وکیپیڈیا پر روس کی تاریخ سے متعلق سیکڑوں جعلی اور فرضی معلومات درج کیں وکیپیڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ جعلی معلومات کا اندراج خاتون نے اکیلے ہی کیا خاتون کی شناخت زیماؤ کے نام سے ہوئی-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون نے وکیپیڈیا پر اپنے تعارف میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ روس میں تعینات ایک سفارتکار کی بیٹی ہیں اور ان کے پاس روسی تاریخ کی ڈگری ہے لیکن جب ان کا یہ جھوٹ آشکار ہوا تو انہوں نےاعتراف کیا کہ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں، ان کے پاس صرف کالج کی ڈگری ہے لیکن ان کا تخیل بہت وسیع ہے۔

    رپورٹس کےمطابق خاتون نے 10 سال تک روس کی تاریخ پر 200 جھوٹےآرٹیکلز لکھےجن میں جعلی مقامات، واقعات اور کرداروں کے نام تھےیہ حقیقت اس وقت سامنےآئی جب ایک چینی ناول نگار یفان نےاپنی نئی کتاب لکھنے کے لیے چین کے وکیپیڈیا کو استعمال کرنا شروع کیا-

    یفان کو کاشین کے نام سے چاندی کی کان سے متعلق معلومات بہت دلچسپ لگیں اور وہ اس کے بارے میں پڑھتے رہے بعد ازاں انہوں نے روس کے ذرائع سے چاندی کی کان کے بارے میں جاننا چاہا تو انہیں پتا چلا کہ اس نام کی کوئی کان کبھی تھی ہی نہیں یوں یفان نے مزید ریسرچ کی اور انہیں پتا چلا کہ چینی وکیپیڈیا پر درج تمام معلومات ایک ہی خاتون نے کی ہیں جو جعلی ہیں۔

    یفاؤ کا بنایا گیا روس کا فرضی نقشہ جو اب وکی پیڈیا سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے

    ناول نگار یفان کے انکشاف کے بعد وکیپیڈیا نے اس معاملےکی تحقیقات کیں تو پتا چلا کہ 10 سال سےزائد عرصے تک ایک ہی خاتون مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی روسی تاریخ لکھ رہی تھیں اورانہوں نے سیکڑوں آرٹیکلز لکھے ان آرٹیکلز میں فرضی کہانیاں تھیں، فرضی جنگیں اور فرضی کردار تھے جنہیں جوڑ کر جعلی تاریخ لکھی گئی۔

  • روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی

    روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی

    ماسکو:روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق روسی کمپنیوں نے چین اور بھارت کو انتہائی ضروری اشیا جیسے خام مال کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ چارٹرڈ جہازوں کا اہتمام کیا۔ذرائع کے مطابق مغربی پابندیوں کی وجہ سے مسلسل رکاوٹوں کی وجہ سے روس نے یہ اقدام اٹھایا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی مال بردار جہاز انٹیکو اور چین میں مقیم سوئفٹ ٹرانسپورٹ گروپ نے روس کے مشرق بعید میں ووسٹوچنی اور چین کے بندرگاہی شہروں کے درمیان کنٹینر شپنگ خدمات پیش کرنے کے لیے لائنر آپریٹنگ ذیلی کمپنیاں مشترکہ طور پر بنائی ہیں۔

    بیجنگ اور نئی دہلی نے ماسکو پر مغربی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ معمول کے مطابق اقتصادی اور تجارتی تعاون جاری رکھیں گے۔اس سال تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا، دونوں ممالک نے رعایتی روسی توانائی کی درآمدات میں اضافہ کیا۔

    کسٹمز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے مئی کے آخر تک تین مہینوں میں روسی تیل، گیس اور کوئلے پر تقریباً 19 بلین ڈالر خرچ کیے، جو ایک سال پہلے کی رقم سے تقریباً دوگنا ہے۔ ہندوستان نے اسی مدت میں 5.1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو کہ ایک سال پہلے کی قیمت سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

  • چین اور روس نے معمول کے تبادلوں کو برقرار رکھا ہے، چینی وزیر خا رجہ

    چین اور روس نے معمول کے تبادلوں کو برقرار رکھا ہے، چینی وزیر خا رجہ

    بیجنگ:چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، چین اور روس نے دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں معمول کے تبادلوں کو برقرار رکھا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو منظم انداز میں فروغ دیا ہے، جس سے دو طرفہ تعلقات کے مضبوط لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ چین برکس سمٹ میں روس کی فعال شرکت اور عالمی ترقی کو فروغ دینے میں اس کی خدمات کو سراہتا ہے۔ ہم سمٹ کے اہم نتائج کو نافذ کرنے، پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے فروغ کو تیز کرنے، ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی انصاف کے تحفظ کے لیے روس سمیت تمام فریقوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ان خیا لا ت کا اظہار چینی وزیر خا رجہ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات میں کیا۔

    لاوروف نے چین کو برکس سمٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ روس دونوں ممالک کے عوام کو بہتر طور پر فائدہ پہنچانے کے لیے دوطرفہ تعاون کے شعبوں اور پیمانے کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ روس گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو سمیت اہم تصورات کی حمایت کرتا ہے اور چین کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط بنائے گا۔

    چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ چین سب سے پہلے سرد جنگ کے تصور کو بھڑکانے، کیمپ کے تصادم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے، اور “نئی سرد جنگ” پیدا کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ان خیا لات کا اظہار چینی وزیر خا رجہ نےبھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے ساتھ گفتگو میں کیا ۔ اس مو قع پر وانگ ای نے یوکرین کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تین نکات نظر پر روشنی ڈالی ۔

    انہوں نے کہا کہ چین دوہرے معیارات کی مخالفت کرتا ہے جو چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چین یوکرینی بحران کا تائیوان کے مسئلے سے موازنہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے اور اپنے بنیادی مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔

    چین دوسرے ممالک کے جائز ترقیاتی حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچانے کی مخالفت کرتا ہے۔ کچھ ممالک نے یوکرین کے بحران کے بہانے کے طور پر چین اور دیگر ممالک پر اندھا دھند یکطرفہ پابندیاں عائد کیں۔ جو غیر قانونی ہیں، جس سے ملکوں کے درمیان معمول کے تبادلے کو نقصان پہنچایا گیا، بین الاقوامی تجارت کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، اور یوکرین کے بحران کو پیچیدہ بنایا گیا۔

    چین کے بارے میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے نامناسب بیان کے جواب میں، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ متعلقہ امریکی سیاست دانوں نے ہمیشہ "چین کے خطرے” کو ہوا دی ہے اور چین کو بدنام کیا ہے ۔ درحقیقت، اپنی بالادستی اور مفادات کے تحفظ کے لیے، امریکہ نے بارہا اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی، مختلف ممالک میں جنگیں شروع کیں، اور غیر معقول طور پر دیگر ممالک کی کمپنیوں کو دبایا، یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ عالمی امن اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ہم اس امریکی اہلکار کو کہتے ہیں کہ وہ چین کی ترقی کو دیکھیں، جھوٹ اور افواہیں پھیلانا اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا بند کریں۔

    جمعہ کے روز چینی میڈیا کےمطا بق ”برطانوی اہلکار کے بیان کے حوالے سے چاؤ لی جیان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ برطانوی انٹیلی جنس سروسز خاص طور پر "جاسوسی کرنے” میں اچھی ہیں۔ برطانیہ نے خطرناک رپورٹیں شائع کیں جن کا مقصد "چین کے خطرے کے نظریہ” کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور تصادم کو ہوا دینا ہے۔ چین نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ چین کی ترقی کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا یا کسی کی جگہ لینا نہیں، بلکہ چینی عوام کو خوشحال اور خوبصورت زندگی دینا ہے۔

    دوسری طرف چین نے خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان کی علیحدگی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا یا جا ئے گا: چین کی فوجی مشق کا مقصد تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے،کسی دوسرے ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں

    چائنیز پیپلز لبریشن آرمی کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ نے تائیوان جزیرے کے ارد گرد فضائی اور سمندری علاقوں میں کثیر خدماتی مشترکہ جنگی تیاری کے گشت اور حقیقی جنگی مشقیں کیں ۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چیاؤ لی جیان نے کہا کہ آبنائے تائیوان کی مرکزی لائن پر چین کا موقف واضح اور مستقل ہے اور اس حوالے سے تائیوان حکام کی طرف سے سیاسی جوڑ توڑ کامیاب نہیں ہو گا۔

    چیاؤ لی جیان نے کہا کہ چین کی فوجی مشق کا مقصد بیرونی مداخلت اور تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔چین مضبوطی کے ساتھ ملک کے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کرے گا اور "تائیوان کی علیحدگی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائے گا۔

  • امریکہ نےایران پرمزید پابندیاں عائد کیں توچین نےمذمت کردی

    امریکہ نےایران پرمزید پابندیاں عائد کیں توچین نےمذمت کردی

    واشنگٹن:امریکہ نے بدھ کے روز ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔دوسری طرف چین نے بھی اس امریکی رویے کی شدید مذمت کی ہے پارس ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کی شدید مخالفت کی ہے۔

     

     

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژائو لیجیان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین ہمیشہ ہی امریکہ کے یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کا مخالف رہا ہے اور واشنگٹن سے ہم نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اپنی غلط روش اور پالیسی کو ترک کر کے ایران کے جوہری معاہدے پر عمل در آمد کیلئے مثبت کردار ادا کرے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین کے دائرے میں بیجنگ کے تہران کے ساتھ تعلقات ہیں اور ہمارے یہ تعلقات مثبت اور قانونی ہیں اور اس سے کسی بھی فریق کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے بدھ کے روز ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے 2 ایرانی شخصیات ،13 ایرانی اداروں اور 2 تیز رفتار بحری جہاز(ships) کو اپنی غیر قانونی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔

    امریکہ کے اس اقدام کو 2015 کے ایران جوہری معاہدے کی بحالی پر بات چیت کے دوران تہران پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات کو آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

     

     

    بائیڈن انتظامیہ نے یہ پابندیاں ایسے میں عائد کی ہیں جب کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسیوں کی ناکامی کا بار بار اعتراف کر چکے ہیں۔ لیکن امریکی سیاستدان، ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں، پابندیوں کے اتنے عادی ہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ دباؤ اور پابندیوں کا سہارا لیتے رہنے پر مجبور ہیں۔

     

     

    امریکی محکمۂ خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے افراد اور اداروں کے ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کا پتہ لگایا ہے جس نے کروڑوں ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فرنٹ کمپنیوں کے ویب کا استعمال کیا ہے۔

  • کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے واپس آنے والے پاکستانیوں‌ کو آن لائن رجسٹریشن کا پیغام

    کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے واپس آنے والے پاکستانیوں‌ کو آن لائن رجسٹریشن کا پیغام

    اسلام آباد:کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے واپس آنے والے پاکستانیوں‌ کو آن لائن رجسٹریشن کا پیغام،اطلاعات کے مطابق ہائیرایجوکیشن کمیشن نے اعلان کیاہے کہ جوپاکستانی طالب علم چین میں زیرتعلیم تھے اورکووڈ کے دنوں میں وہ پاکستان واپس آگئے تھے وہ دوبارہ سے چینی تعلیمی اداروں سے منسلک ہونے کےلیے آن لائن رجسٹرین کرلیں ،

    پاکستانی طلباکے لیے مشکلات کیوں ؟ زلفی بخاری نے چینی حکام کے ساتھ معاملہ اٹھا دیا

    ہائیرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جاری پیغام میں کہا گیا ہےکہ وہ پاکستانی طالب علم چینی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کی پہلی کھیپ، جو COVID-19 کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے تھے، 20 جون 2022 کو کامیابی کے ساتھ واپس چین پہنچ گئے ہیں‌، اور لازمی قرنطینہ مدت مکمل کرنے کے بعد اپنے اداروں میں شامل ہوئے۔

    مگر وہ طالب علم جوکہ ابھی تک پاکستان میں‌ ہیں‌ وہ باقی طلباء جو اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنے کے لیے چین واپس جانا چاہتے ہیں انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی انفارمیشن اوربائیوڈیٹا درج کریں:

    چینی تعلیمی اداروں کے پاکستانی طلبا کی مشکلات، شیخ رشید میدان میں آ گئے

    ہائیرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے مزیدکہا گیا ہے کہ مزید برآں، طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 21 جولائی 2022 تک درست، قابل اعتماد اور درست معلومات پُر کریں۔ جمع کرائی گئی معلومات کی مزید طریقہ کار اور تصدیق کے لیے معلومات چینی حکام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

     

    وزیرخارجہ کا بیجنگ میں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے پورٹل…

    یاد رہے کہ چین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی پاکستان واپسی اورپھرپاکستان سے واپس چینی یونیورسٹیوں میں تعلیم کا معاملہ باغی ٹی وی نے حکام کے سامنے کئی بار پیش کیا ہے اوراس سارے معاملے کوحل کرنے کے لیے مسلسل اداروں سے رابطے میں رہے‌ہیں ، اس موقع پرباغی ٹی وی اپنے ان پاکستانی طلبا کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے جوواپس چین پہنچ چکے ہیں اورجو ابھی پاکستان میں موجود ہیں ان کی واپسی کے لیے کوششوں کے ساتھ دُعا گو بھی ہے

    وہان میں‌پھنسے پاکستانی طلبا کی جان میں جان آگئی ، کپتان کی بات بھی یاد آگئی

  • چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    بیجنگ :امریکی خلائی ادارے ناسا کے چیف آف اسٹاف بل نیلسن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین کے خلائی منصوبے فوجی آپریشن کے تحت جاری ہیں جب کہ امریکہ پرامن،غیر فوجی خلائی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس بیان کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بل نیلسن کا بیان حقائق کے منافی ہے۔خلا میں فوجی مشق امریکہ کرتا ہے جب کہ چین خلا کا پرامن استعمال کر رہا ہے اور اس میں عالمی تعاون کو بھی مثبت انداز میں فروغ دے رہا ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں چاؤ لی جیان نے کہا کہ تین مشترکہ اعلامیے، چین -امریکہ تعلقات کا ” حفاظتی حصار” ہیں اور ان کی پاسداری کی جانی چاہیئے۔

    اس سے پہلے چائنا سینٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ویں عالمی تھنک ٹینک سمٹ میں کئی سیمینار منعقد ہوئے۔ “عالمی معیشت کی متوازن بحالی” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں شریک ملکی اور غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کا خیال تھا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد کمزور ہے اور ترقیاتی عدم توازن بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو عالمی معیشت کی متوازن بحالی کو فروغ دینے کے لیے اتفاق رائے کو بڑھانا چاہیے، تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کےمطا بق کوریا انسٹی ٹیوٹ فار فارن اکنامک پالیسی کے ڈائریکٹر کم ہیونگ جونگ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی جدت طرازی کی قیادت میں پیداوری قوت میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر کے دور میں، تخلیقی ٹیکنالوجیز کی زیادہ ضرورت ہے، اور بین الاقوامی تعاون اس طرح کی تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک سمپوزیم بعنوان ’’عالمی تجارت کے لیے نئے قوانین بنانے کے لیے گفت و شنید کریں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرین کا خیال تھا کہ بین الاقوامی تجارت میں نئے حالات کے پیشِ نظر، موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ترقی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قوانین میں بہتری کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔

    چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لونگ گو چھیانگ نے کہا کہ چین کاربن میں کمی اور کم کاربن کی تبدیلی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے گا، جو عالمی سبز اور کم کاربن کی تبدیلی کے لیے ایک اہم محرک ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ سبز ترقی کا تصور بین الاقوامی تجارت پر زیادہ اثرات ڈالے گا۔
    آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے دورہ سنکیانگ میں ای لی قازق خوداختیار پریفیکچر کا دورہ کیا جو قدیم شاہراہ ریشم کے شمالی حصے کا اہم گڑھ تھا۔ای لی اپنے خوبصورت مناظر اور مختلف قومیتوں کی رنگا رنگ ثقافت کی بدولت سیاحوں کے لیے بے حد کشش رکھتا ہے۔

    جمعرات کےروزچینی میڈ یا کےمطابق آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 صحافی سنکیانگ میں اقتصادی ترقی، قومی اتحاد،سماجی ہم آہنگی ، ماحولیاتی تحفظ،دیہی احیاء اور ثقافتی ترقی کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کی شاندار کہانیاں جاننے کے لیےتین جولائی سے سنکیانگ کے مشترکہ دورے پر ہیں ۔ 1992 میں شروع ہونے والی یہ سرگرمی اب آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان صحافیوں کے تبادلوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

    85سال پہلے آج کے دن چینیوں کے جزبہ کوسلام پیش کرتے ہیں :چین حکومت کا پیغام ،اطلاعات کے مطابق چینی میڈ یا کے مطا بق 7 جولائی کے سانحے کی 85 ویں برسی جمعرات کے روز منا ئی گئی ۔ اسی روز 7 جولائی 1937 کو جاپانی عسکریت پسندوں نے چین کے خلاف جارحیت کی ہمہ جہت جنگ کا آغاز کیا تھا۔جاپان مخالف آٹھ سالہ سخت اور کٹھن جنگ کے دوران، چینی فوج اور عوام نے خونریز لڑائیاں لڑیں، عظیم قومی قربانی کے ساتھ فسطائیت مخالف جنگ میں حتمی فتح حاصل کی، اور اپنے خون سے چینی تہذیب اور عالمی امن کا دفاع کیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 7 جولائی کو چینی عوام اس دن کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں، کیونکہ صرف تاریخ کو ذہن میں رکھ کر اور ایک مضبوط ملک بنا کر ہی تاریخی سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم اپنی قومی تذلیل کو نہیں بھولیں گے، اس لئے ہم امن کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ چینی عوام کی امن سے محبت اور دفاع کے عزم کا اظہار ہے .

     

    تاہم، چین کے پرامن ابھرنے کے پیشِ نظر، مغربی ممالک میں کچھ لوگ ہمیشہ چین کو سمجھنے کے لیے مغربی طرز فکر اور منطق کا استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ چین کے پرامن ابھرنے کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور چین کو ایک مغربی طرز کا تسلط پسند ملک سمجھتے ہیں جو موجودہ ورلڈ آرڈر پر حملہ کرنے والا ہے۔ نام نہاد “تھوسیڈائڈز ٹریپ”تھیوری سے لے کر مختلف “چین کے خطرے کے نظریات” تک، ان غلط فہمیوں نے چین کے ترقی کے رجحان اور مشرق اور مغرب کے درمیان معقول تبادلے اور تعلقات کے بارے میں لوگوں کی عقلی سمجھ کو شدید متاثر کیا ہے۔

     

     

     

    اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے 2015 میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک تقریر میں نشاندہی کی تھی کہ دنیا میں کوئی “تھوسیڈائڈز ٹریپ” نہیں ہے، لیکن بڑی طاقتوں کے درمیان بار بار ہونے والی تزویراتی غلط فہمیاں اپنے لیے “تھوسیڈائڈز ٹریپ” پیدا کر سکتی ہیں۔ ” بعد میں ایک انٹرویو میں، صدر شی نے دوبارہ زور دیا “ہم سب کو “تھوسیڈائڈز ٹریپ” میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نظریہ کہ ایک طاقتور ملک ضرور تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرےگا، چین پر لاگو نہیں ہوتا، اور چین کے پاس اس طرح کے اقدامات کرنے کے لئے جینز نہیں ہیں۔ ”

    غیر ملکیوں کے جارحیت کے تاریخی سانحے اور قومی مصائب کی دردناک یاد کے پیشِ نظر ،چینی عوام امن کی قدر کو اور بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ 5000 سال سے زائد عرصے سے تہذیب کے عمل میں چینی قوم نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کے تصور کی پیروی کی ہے ۔ چین کبھی تسلط کی کوشش نہیں کرے گا، چین کبھی توسیع میں مشغول نہیں ہو گا ، اور ہم کبھی بھی دوسرے لوگوں پر اس المناک تجربے کو مسلط نہیں کریں گے جس کا تجربہ ہم نے خود کیا ہے۔دوسری طرف ، بلاشبہ بالادست طاقتوں کی غنڈہ گردی کے سامنے چینی عوام کبھی سر نہیں جھکائیں گے، ہم قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدیدیت پر انحصار کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ، ہم دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔

     

     

    یہ لکھتے ہوئے مجھے ایک “موت کا جھنڈا” یاد آ رہا ہے جو میں نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوامی جنگ کے

  • چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    بیجنگ:چینی سفیر نے افغانستان کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کردیا جو طالبان کی حکومت میں کاروبار کرنے کے لیے عالمی سطح پر کسی ملک کی جانب سے توثیق ہے ۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی سفارت کار وینگ یو نے اسی لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم 22 جون کے زلزلے کے ریلیف کی مد میں دی جائے گی۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے لیے ہنگامی امداد کے علاوہ گزشتہ سال سیاسی تبدیلی اور زلزلے کے بعد ہمارے پاس اقتصادی تعمیرِ نو کے طویل المدتی منصوبے ہیں، جس میں تجارت کو ترجیح دی جائے گی۔ بعدازاں، سرمایہ کاری اور زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

    طالبان حکومت کو تا حال کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

    اس حوالے سے مغربی ممالک کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پابندیاں اسی صورت میں ہٹائی جا سکتی ہیں جب یہ گروپ ہماری شرائط پورا کرے جن میں خواتین اور لڑکیوں کو حقوق دینا شامل ہے۔

    Advertisement

    مغربی ممالک کی جانب سے افغانستان پر عائد پابندیوں میں غیرملکی اربوں ڈالر کے ذخائر منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

    مغربی بینکوں میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وینگ یو کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ سمجھتا ہے کہ یہ پیسہ افغانستان کے عوام کا ہے، چین ہمیشہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ منجمد فنڈز جاری کیے جائیں

    پریس کانفرنس کے موقع پر چینی سفیر وینگ یو کا کہنا تھا کہ کان کنی کے دو بڑے منصوبوں پر مذاکرات جاری ہیں، جس میں جنوبی افغانستان میں تانبے کی ایک کان ‘میس عینک’ بھی شامل ہے، اس کے حقوق چین کی سرکاری کمپنی کے پاس ہیں، جس کا معاہدہ گزشتہ افغان حکومت کے ساتھ ہوا تھا۔افغانستان معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، جس میں لوہے اور تانبے کے بڑے ذخائر بھی شامل ہیں۔

    یاد رہے، چین کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، وہ اپنے بڑے منصوبے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ پر سرمایہ کاری کے حوالے سے ہمسایہ ممالک میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ کی پریس کانفرنس میں چین کے نیشنل انٹرنیٹ انفارمیشن آفس کے انچارج نے کہا کہ 2017سے 2021 تک ، چین کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم 27 ٹریلین سے 45 ٹریلین تک پہنچ گیا، جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈیجیٹل اکانومی کے کل جی ڈی پی کا تناسب انتالیس اعشاریہ آٹھ فیصد تک ہو گیا ہے۔

    “جدت نئی تبدیلیاں لاتی ہے، اور ڈیجیٹل نئے انداز کا رہنما ہے” کے موضوع پر پانچویں ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ 23 سے 24 جولائی تک صوبہ فوجیان کے شہر فو زو میں منعقد ہو گی ۔

    “چینی وزارتِ خارجہ اطلاعات کے مطابق پانچ جولائی کوحکومت سندھ اور پاکستان کےمحکمہِ انسداد دہشت گردی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے اہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ “بلوچ لبریشن فرنٹ” اور “بلوچ لبریشن آرمی” جیسے کئی دہشت گرد گروپ اپنے رابطے مضبوط کر رہے ہیں، اور ان کے پیچھے غیر ملکی قوتیں ہو سکتی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چیاؤ لی جیان نے چھ جولائی کو منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین ، کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت پر بھرپور توجہ دیتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ فی الحال اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور امید ہے کہ پاکستان سچائی کا پتہ لگائے گا اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی ۔

    عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔

  • گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    بیجنگ:“عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔