Baaghi TV

Tag: چین

  • چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    برف کے پودوں کو پہلی بار ایک تجربے میں خلا میں بیجوں سے کاشت کیا گیا ہے تجربے کے مستقبل کے طویل مدتی مشنز پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: چینی خلاء نوردوں جن کو ٹائیکونوٹس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے یہ تجربہ وینٹیئن اسپیس لیبارٹری پر کیا اس لیبارٹری کو 24 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا جو ابھی ٹیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے مرکزی موڈیول سے جُڑی ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    ایسا پہلی بارہوا ہے کہ سائنس دانوں نے چاول کے اگنے کا مکمل عمل، یعنی بیج سے ایک ایسا پودا بننا جو خود بیج پیدا کر سکے، عدم کششِ ثقل کے ماحول میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ٹائیکوناٹس یعنی چینی خلانورد خلا میں عربائیڈوپسِس تھالیانا نامی ایک پودےکا بھی تجربہ کررہےہیں یہ پودا سرسوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اکثرموسمیاتی تغیرات کے مطالعے کے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر پلانٹ سائنسز کے ایک محقق پروفیسر ہوئی قیونگ ژینگ کا کہنا تھا کہ چاولوں کی اچھی نمو ہو رہی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ مالیکیولر سطح پر مائیکرو گریویٹی کس طرح پودے کے پھول دینے کے وقت کو متاثر کر سکتی ہے اور آیامتعلقہ عمل کو قابو کرنے کے لیے مائیکرو گریویٹی ماحول کااستعمال ممکن ہے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سب سے مقبول غذاؤں میں سے ایک غذا چاول ہے اور اپولو مشنز کے بعد سے یہ خلاء بازوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔

    ناسا کے خلاء باز نیل آرمسٹرونگ، مائیکل کولنس اور بز آلڈرِن اپولو 11 مشن کے دوران خشک جمی ہوئی چکن اور چاول کی غذا کھاتے تھے۔

    تب سے، خلابازوں نے زمین پر اگائی اور کاشت کی جانے والی خوراک پر انحصار کیا ہے، تاہم مریخ اور اس سے آگے طویل مشنوں کی امیدیں خلا میں پودوں اور فصلوں کو اگانے کی صلاحیت پر منحصر ہو سکتی ہیں۔

    پروفیسرژینگ نے کہا کہ اگر ہم مریخ پر جانا اور دریافت کرنا چاہتے ہیں، تو زمین سے خوراک لانا خلابازوں کے طویل سفر اور خلا میں مشن کے لیے کافی نہیں ہے ہمیں طویل مدتی خلائی تحقیق کے لیے ایک پائیدار خوراک کا ذریعہ تلاش کرنا ہوگا-

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

  • اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے چین کے صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ایک خبر کے مطابق: اقوام متحدہ کی جانب سے یکم ستمبر کو جاری رپورٹ میں طویل عرصے کے بعد جاری ہونے والی رپورٹ میں چین کے دور دراز مغربی خطے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے ذکر کے ساتھ ساتھ سرگرم گروپوں، مغربی ممالک میں جلاوطن ایغور کمیونٹی کی طرف سے طویل عرصے سے لگائے جانے والے بہت سے الزامات پر اقوام متحدہ کی مہر لگائی گئی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایغور کمیونٹی اور دیگر مسلمان برادریوں کے اراکین کے ساتھ ناروا سلوک اور امتیازی حراست بین الاقوامی جرائم، خاص طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کو جنم دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب دنیا کو سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
    تحریر جاری ہے‎

    اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے فیصلہ کیا کہ سنکیانگ کے ایغور خود مختار خطے میں صورتحال کی مکمل تشخیص کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو تیار ہونے میں ایک سال لگا اور رپورٹ جاری ہونے کی چین نے سخت مخالفت کی ہے۔

    اے ایف پی کو لکھی گئی ای میل میں مشل بیچلیٹ نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ اپنی مدت پوری ہونے سے قبل میں یہ رپورٹ جاری کروں گی اور میں نے کر دکھایا۔‘ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو سیاست کی نظر کرنا مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

    اس رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے کثیرالجہتی عزم کے ساتھ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے ان تمام اصولوں و ضوابط پر یقین رکھتا ہے جن میں سیاسی آزادی، خودمختاری اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا احترام شامل ہے۔

    ڈان کے مطابق: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارا یہ مستقل مؤقف ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی احترام کو فروغ دینے کے لیے سیاست سے بالاتر، عالمگیریت، معروضیت، مکالمہ اور تعمیری بات چیت اہم ترین ذرائع ہونے چاہییں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سنکیانگ میں سماجی و معاشی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ چین نے گزشتہ 35 برسوں کے دوران 70 سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اس طرح سے وہاں کے عوام کے حالات زندگی میں بہتری آرہی ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے ساتھ چین کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق تمام انسانی حقوق کو عالمی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے اپنے مستقل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال اگست میں سبکدوش ہونے والی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل چین کے صوبہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق پہلے سے تیار رپورٹ جاری کی تھی۔

    خیال رہے کہ: چین پر کافی عرصے سے اپنے اس خطے میں ایغور برادری سمیت دیگر 10 لاکھ افراد کو حراست میں رکھنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے جبکہ بیجنگ سختی سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور وضاحت پیش کی ہے کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے پیشہ ورانہ مراکز چلائے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ جبکہ تشخیص میں چین کے نام نہاد پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی مراکز میں قید لوگوں کے علاج پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد یا بدسلوکی کے الزامات، بشمول جبری طبی علاج اور حراست کے منفی حالات، قابل اعتبار ہیں، جیسا کہ جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے انفرادی واقعات کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

    تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ چین کے پیشہ ورانہ تعلیمی و تربیتی مراکز میں کتنے لوگ متاثر ہیں مگر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پورے خطے میں یہ سسٹم وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔
    جنیوا میں چین کے مشن نے اس رپورٹ پر سخت تنقید کی اور اسے جاری کرنے کے خلاف اپنی سخت مخالفت کو برقرار رکھتے ہوئے سنکیانگ کی صوبائی حکومت کی جانب سے خطے میں بیجنگ کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والی 121 صفحات پر مشتمل دستاویز شیئر کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چین مخالف قوتوں کی طرف سے من گھڑت جھوٹ اور غلط معلومات کی بنیاد پر مبنی نام نہاد ‘تشخیص’ چین کے قوانین اور پالیسیوں کو مسخ کرتی ہے، اور چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتی ہے، جبکہ یہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔‘

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’سنکیانگ میں تمام نسلی گروہوں کے لوگ امن اور اطمینان کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، یہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا تحفظ اور انسانی حقوق کا بہترین عمل ہے۔‘ غیر سرکاری تنظیموں اور مہم گروپوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو مزید کارروائی کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

    ایغور کون ہیں؟

    چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ‘ایغور’ آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔ سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔ کئی سال سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے لیکن چین کی حکومت ان خبروں کو مسترد کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

  • چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلہ، 46 افراد ہلاک ،درجنوں زخمی اور 16 لاپتہ

    چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلہ، 46 افراد ہلاک ،درجنوں زخمی اور 16 لاپتہ

    بیجنگ : چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلہ، کم از کم 46 افراد ہلاک درجنوں زخمی اور 16 افراد لاپتہ ہو گئے-

    باغی ٹی وی : چین کے سرکاری میڈیا نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے میں چھیالیس افراد ہلاک ہوئے۔

    چینی میڈیا کے مطابق چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلے سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے ریکٹر سکیل پر 6.8 کی شدت نوٹ کی گئی-

    سعودی عرب : الباحہ میں ہفتے میں دوسری بار زلزلے کے جھٹکے

    چین کے زلزلہ نیٹ ورکس سینٹر نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز لوڈنگ میں تھا، جو چنگڈو سے تقریباً 226 کلومیٹر (110 میل) جنوب مغرب میں پہاڑوں میں واقع ہے۔

    سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، زلزلے کے مرکز کے قریب کچھ سڑکوں اور گھروں کو پیر کو لینڈ سلائیڈنگ سے نقصان پہنچا، جب کہ کم از کم ایک علاقے میں مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مغربی صوبہ سچوان کے دارالحکومت چنگڈو میں زلزلے کے جھٹکوں سے کئی عمارتیں لرز گئیں جہاں لاک ڈاؤن کے باعث پہلے ہی لوگ اپنے گھروں تک محدود تھے جبکہ یان شہر میں 17 جبکہ گانزی میں 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں، 50 افراد زخمی اور 16 افراد لاپتہ ہیں-

    صوبہ سچوان کے ایک شہر میں زلزلے سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک اور شہر میں سڑک بند ہونے سے آمد و رفت تعطل کا شکار رہی اور مواصلاتی لائنیں متاثر ہوئی ہیں زلزلے کے مرکز کے 50 کلومیٹر (31 میل) کے اندر ڈیم اور ہائیڈرو پاور اسٹیشنز محفوظ رہے-

    افغانستان کے شہر جلال آباد میں زلزلہ،11 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    مغربی صوبے کے قریبی علاقوں میں زلزلے کے بعد بھی وقفے وقفے سے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ چینی حکومت نے زلزلہ زدہ علاقوں میں ریسکیو اورریلیف سرگرمیوں میں مدد کے لیےایک ہزار سے زائد فوجی بھجوائے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کے لیے خیمے، کمبل اور دیگر سامان بھی پہنچایا گیا ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ زندگیاں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائےچین کا جنوب مغربی علاقے سیچوان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر اس کےمغربی پہاڑوں میں، جو کہ چنگھائی تبتی سطح مرتفع کی مشرقی حدود کے ساتھ متحرک زلزلہ زون میں واقع فعال علاقہ ہے-

    قبل ازیں سال 2008 میں بھی صوبہ سچوان میں ریکٹر سکیل پر 8 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد ہلاک ہو ئے تھے-

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

  • چین میں کورونا کیسز میں اضافہ، دو کروڑ آبادی کے حامل شہر چینگڈو میں لاک ڈاؤن

    چین میں کورونا کیسز میں اضافہ، دو کروڑ آبادی کے حامل شہر چینگڈو میں لاک ڈاؤن

    بیجنگ:چینی حکام نے کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر صوبہ سیچوان کے دو کروڑ آبادی کے حامل بڑے اقتصادی شہر چینگڈو میں لاک ڈاؤن لگا دیا ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شہر کے سُپر اسٹور میں اشیا کی قلت ہے اور شہر میں ایک بار پھر طویل لاک ڈاؤن کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

    اے ایف پی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ سُپر مارکیٹ کی شیلف خالی ہیں اور لوگ لازمی قرار دی گئی ٹیسٹنگ کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔25 سالہ نوجوان مقامی شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ شنگھائی میں خوراک کی قلت کی وجہ سے ہر کوئی سامان ذخیرہ کررہا ہے۔نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ چین کے مشرقی شہر میں رہتے ہیں اور چینگڈو میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور لاک ڈاؤن کے بارے میں اطلاع ملی تو انہوں نے بھی سامان ذخیرہ کرنا شروع کردیا۔

    سرکاری نوٹس کے مطابق قواعد کے تحت گھر کے صرف ایک فرد کو ضروری سامان خریدنے کے لیے باہر جانے کی اجازت ہوگی، جبکہ باہر جانے کے لیے شہریوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرائے گئے کووڈ کے منفی ٹیسٹ کے نتائج لازمی دکھانے ہوں گے۔سرکاری اعلامیے میں تمام شہریوں کے وائرس کے ٹیسٹ لازمی ٹیسٹ کرانا ہوں گے اور انتہائی ضرورت کے علاوہ وہ شہر نہ چھوڑیں۔

    اس سے قبل ایک شخص نے شہر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے وجہ سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی جسے پولیس نے گرفتار کرلیا جس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر صارفین نے شہری کو ‘پہلے سے خبردار’ کرنے پر ہیرو قرار دیا ہے۔

    شہر میں 150 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 47 افراد کو کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں جس کے بعد حکام نے جمعرات اور اتوار کے درمیان بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹ کروانے کے احکامات جاری کیے۔چین کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہوتی ہے جہاں کورونا کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی بنائی گئی ہے لیکن موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    واشنگٹن: چین اور تائیوان کے تنازعے میں اب امریکہ کے کردار میں نئی صورتحال پیدا کردی ہے _معاملہ امریکہ اور چین کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا پیدا ہو گیا ہے _ امریکہ کا یوں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چین کو سخت ناگوار گزرا ہے اب جبکہ امریکہ نے طالبان کو ہتھیار مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے کہ چین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بڑے صاف لفظوں میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے –

    امریکی وزارت خارجہ نے جمعے کو تائیوان کو ممکنہ طور پر 1.1 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ چین نے اس امریکی اعلان کے بعد جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ ان ہتھیاروں میں 60 بحری جہاز شکن میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے 100 میزائل شامل ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تائیوان کے اردگرد کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی مشقوں کے پیش نظر جمعے کو تائیوان کو اسلحے کی فروخت کے پیکج کا اعلان کیا۔

    اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔ ان کا یہ دورہ حالیہ سالوں میں کسی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ تھا۔ پینٹاگون کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے ) کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو فروخت کیے جانے والے اسلحے میں سائیڈ وائینڈر میزائل بھی شامل ہیں، جو فضا سے فضا اور زمین پر حملے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    ان میزائلوں کی قیمت تقریباً آٹھ کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہے۔ اینٹی شپ ہاروپون میزائل کی قیمت تقریباً 35 کروڑ 50 لاکھ ہے جبکہ تائیوان کے ریڈار نظام میں معاونت کی مالیت 66 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیوپنگیو نے کہا ہے کہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی ممکنہ فروخت کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے تعلقات کو ’سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘ اطلاعات کے مطابق چینی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین صورت حال میں تبدیلی کی روشنی میں سختی کے ساتھ قانونی اور ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔‘

    دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت کا پیکج کچھ عرصے سے زیر غور تھا اور امریکی قانون سازوں کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی سینیئر ڈائریکٹر برائے چین اور تائیوان لورا روزن برگر نے ایک بیان میں کہا: ’جیسا کہ چین تائیوان پر دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے، جس میں تائیوان کے ارد گرد زیادہ فوجی اور بحری موجودگی بھی شامل ہے اور آبنائے تائیوان میں پہلے سے موجود صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم تائیوان کو وہ کچھ فراہم کر رہے ہیں جس کی مدد سے وہ اپنی دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھ سکے۔‘

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • امریکا کا تائیوان کیلئے ایک ارب 10 کروڑ  ڈالر کے ہتھیاروں کا اعلان،چین کا شدید ردعمل

    امریکا کا تائیوان کیلئے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے ہتھیاروں کا اعلان،چین کا شدید ردعمل

    امریکا نے تائیوان کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے ہتھیاروں کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی :امریکا کی جانب سے اعلان کردہ پیکج میں 66 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ما لیت کا ‘ارلی ریڈار وارننگ سسٹم’ بھی شامل ہے دوسری جانب امریکا کے تائیوان کے لیے ان ہتھیاروں کے اعلان کے بعد چین نے شدید ردعمل دیا ہے۔

    یوکرین کے بعد امریکا تائیوان کی مدد کو پہنچ گیا،دوجنگی بحری جہازآبنائے تائیوان…

    چین نے امریکا کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا تائیوان کے لیے ہتھیاروں کا پیکج منسوخ کرے یا جوابی اقدامات کے لیے تیار رہے، اسلحہ پیکج امریکا چین تعلقات کو شدید خطرے میں ڈالے گا۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ کےآخر میں امریکی بحریہ کےدو جنگی جہاز آبنائے تائیوان میں بین الاقوامی پانیوں سے گزرے، امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کے بعد اس طرح کی پہلی کارروائی نے چین کو مشتعل کیا جو اس جزیرے کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔

    امریکی بحریہ نے رائٹرز کی ایک رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ کروزرز Chancellorsville اور Antietam جاری آپریشن کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کو مکمل ہونے میں عام طور پر آٹھ سے 12 گھنٹے لگتے ہیں اور چین کی فوج ان کی کڑی نگرانی کرتی ہے۔

    سعودی فوجی اتحاد نےیمن کےایندھن کےحامل4 بحری جہازوں کوروک لیا

    حالیہ برسوں میں امریکی جنگی بحری جہاز، اور بعض مواقع پر اتحادی ممالک جیسے کہ برطانیہ اور کینیڈا سے، معمول کے مطابق آبنائے سے گزرتے رہے ہیں،جس سے چین کا غصہ آ گیاجو تائیوان پر اپنی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے اعتراضات کے خلاف دعویٰ کرتا ہے۔

    امریکی بحریہ نے کہا تھا کہ "یہ (امریکی) جہاز آبنائے میں ایک راہداری سے گزرے جو کسی بھی ساحلی ریاست کے علاقائی سمندر سے باہر ہے ہ یہ آپریشن ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کے لیے ریاستہائے متحدہ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، اور امریکی فوج جہاں بھی بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے وہاں پرواز، بحری جہاز اور کام کرتی ہے-

    چینی فوج کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ نےکہا تھاکہ وہ بحری جہازوں کا پیچھا کررہی ہے اور انہیں خبردار کر رہی ہے۔اس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ تھیٹر میں فوجی دستے ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی وقت کسی بھی اشتعال انگیزی کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

  • چین کے قونصل جنرل کی طرف سے متاثرین کی بحالی کیلئے 300 ملین روپے کی امداد کا اعلان

    چین کے قونصل جنرل کی طرف سے متاثرین کی بحالی کیلئے 300 ملین روپے کی امداد کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے چین کے قونصل جنرل زاؤ شیرین (Mr.Zhao Shiren) کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو چین کے قونصل جنرل زاؤ شیرین نے چین کی حکومت اور پاکستان میں چین کے سفیر کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام دیا چین کے قونصل جنرل نے پنجاب میں سیلاب سے جانی ومالی نقصان پر اظہار افسوس کیا چین کے قونصل جنرل نے متاثرین کی بحالی کے لئے تعاون کے عزم کااعادہ کیا،

    ملاقات میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری،تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں سی پیک پراجیکٹ کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے ملاقات میں چینی قونصل جنرل نےمتاثرین سیلاب کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا،چینی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ لاہور میں چینی قونصل جنرل آفس کی طرف سے متاثرین کی بحالی کیلئے 300 ملین روپے کی امداد دیں گے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے تعاون پر چینی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ،چینی قونصل جنرل نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، چینی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ مختصر عرصے میں چودھری پرویز الٰہی نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ چین کی طرف سے دوستی کے تقاضے نبھاتے ہوئے سیلاب زدگان کے لئے تعاون پر مشکور ہیں – چین سے سیلاب زدگان کے لئے ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان بھجوانا قابل تحسین ہے- سیلاب زدگان کے لئے چین کی مدد اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں – پنجاب میں بحالی کا کام شروع کردیا ہے، چین کے تعاون کو سراہتے ہیں –

    چینی قونصل جنرل نے پنجاب کے طلبہ کیلئے قونصل جنرل سکالرشپ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی بحالی اور بہتری کیلئے معاونت کریں گے۔ پنجاب پولیس کی استعدادکار میں اضافے کیلئے ایم او یو پر دستخط کئے جائیں گے۔ چینی قونصل جنرل نے انفراسٹرکچر، پاور پلانٹ، تعلیم، صحت اور ڈیم پراجیکٹس کیلئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ دوست وہ جو مشکل میں کام آئے، ہم دوستی نبھائیں گے۔ سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر دلی افسوس ہوا-مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کے دکھ میں شریک ہیں -باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے مزید اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ اکنامک ایجوکیشن کوآپریشن کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے بچوں کی معیاری تعلیم تک رسائی یقینی بنائیں گے

    ملاقات میں ڈپٹی قونصل جنرل ساؤ کی (Cao Ke)، ڈائریکٹر پولیٹیکل اینڈ قونصلرا فیئرز ڈو ژاؤ(Du Yue)، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن زاؤ فشنZhao Fushan))، لیوکن بو(Liu Qinbo) اور کمرشل قونصل ژن ژانگ(Yan Yang) بھی موجود تھے چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل،انسپکٹر جنرل پولیس فیصل شاہکار، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ محمد خان بھٹی، چیئرمین پی اینڈ ڈی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

  • چین:جہاں ایک کروڑکُتےاور40 لاکھ بلّیاں ہرسال چینیوں کا شکاربنتی ہیں

    چین:جہاں ایک کروڑکُتےاور40 لاکھ بلّیاں ہرسال چینیوں کا شکاربنتی ہیں

    بیجنگ:جانوروں کی فلاح و بہبود کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے منگل کے روز کہا کہ مشرقی چین میں پولیس نے ذبح خانوں کے لیے پابند تقریباً 150 بلیوں کو بچا لیا ہے۔

    ہیومن سوسائٹی انٹرنیشنل (ایچ ایس آئی) نے ایک بیان میں کہا کہ جانوروں کو زنگ آلود پنجروں میں بند کیا گیا تھا جب وہ پولیس کو شیڈونگ صوبے کے مشرقی شہر جنان میں ملے تھے۔

    جانوروں کے حقوق کے مقامی گروپ VShine کے ایک کارکن نے بتایا کہ ایک گروہ نے چڑیوں کو پنجروں میں چارہ کے طور پر رکھا اور ہر بلی کے داخل ہوتے ہی پھندوں کو بند کرنے کے لیے ریموٹ کنٹرول کا استعمال کیا۔

    ایک کارکن، جس نے صرف اپنا آخری نام ہوانگ نے HSI کو ایک بیان میں کہا، "وہ جس حالت میں تھے اسے دیکھ کر حیرانی ہوئی، ان میں سے بہت سے لوگ بے چین اور رو رہے تھے۔”

    "ہماری درجنوں زندہ چڑیوں کی دریافت جو کہ بلیوں کو لالچ دینے کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، بھی ایک بڑا صدمہ تھا۔”بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بچائے گئے مرغیوں میں سے زیادہ تر گھریلو پالتو جانور تھے اور انہیں مقامی جانوروں کی پناہ گاہوں میں بھیجا گیا ہے۔

    کارکنوں کو جائے وقوعہ پر 31 چڑیاں – چین میں ایک محفوظ نسل – بھی ملی اور انہیں واپس جنگل میں چھوڑ دیا۔

    چین میں جانوروں پر ظلم کی روک تھام کا کوئی قانون نہیں ہے، لیکن مشتبہ افراد کو پرندوں کے شکار، املاک کی چوری اور جانوروں کی وبا سے بچاؤ کے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چین میں ہر سال تقریباً 10 ملین کتے اور 40 لاکھ بلیاں انسانی استعمال کے لیے ماری جاتی ہیں۔

    چین کے کچھ حصوں میں کتے اور بلی کے گوشت کو ایک لذیذ چیز سمجھا جاتا ہے، اور ان کے گوشت کی تجارت کافی منافع بخش رہتی ہے تاکہ جرائم پیشہ گروہوں کو پالتو جانور چرانے پر اکسایا جا سکے، حالانکہ پالتو جانوروں کی ملکیت میں اضافے کے ساتھ اس عادت میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔

    ہر جون میں، جنوبی چین کے شہر یولن میں کتوں کے گوشت کے میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں زندہ کتے اور بلیوں کو کھانے کے لیے فروخت کیا جاتا ہے۔جنوبی چین کے گوانگ ڈونگ اور گوانگسی صوبوں میں کتے اور بلیوں کو کھانے کی روایت ہزاروں سال پرانی ہے۔

    HSI چائنا پالیسی کے ماہر ڈاکٹر پیٹر لی نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ چین کے دو اہم بلی کا گوشت کھانے والے ہاٹ سپاٹ ہیں۔””بقیہ مین لینڈ چین میں، بلی کا گوشت بالکل بھی کھانے کی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔”

    ایسا لگتا ہے کہ کوویڈ 19 کے پھیلنے سے بلی اور کتے کے گوشت کی بھوک میں مزید کمی واقع ہوئی ہے جب یہ بیماری وسطی شہر ووہان میں کھانے کے لیے زندہ جانور فروخت کرنے والے بازار سے منسلک ہو گئی تھی۔چین نے 2020 میں جنگلی حیات کے استعمال اور تجارت پر پابندی لگا دی تھی۔

  • یوکرین کے بعد امریکا تائیوان کی مدد کو پہنچ گیا،دوجنگی بحری جہازآبنائے تائیوان پہنچ گئے

    یوکرین کے بعد امریکا تائیوان کی مدد کو پہنچ گیا،دوجنگی بحری جہازآبنائے تائیوان پہنچ گئے

    بیجنگ:امریکی بحریہ کے دو جنگی جہاز اتوار کے روز آبنائے تائیوان میں بین الاقوامی پانیوں سے گزرے، امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کے بعد اس طرح کی پہلی کارروائی نے چین کو مشتعل کیا جو اس جزیرے کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔

    سیلاب متاثرین کیلئےمتحدہ عرب امارات سے امدادی سامان آج پاکستان پہنچے گا

    امریکی بحریہ نے رائٹرز کی ایک رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کروزرز Chancellorsville اور Antietam جاری آپریشن کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کو مکمل ہونے میں عام طور پر آٹھ سے 12 گھنٹے لگتے ہیں اور چین کی فوج ان کی کڑی نگرانی کرتی ہے۔

    حالیہ برسوں میں امریکی جنگی بحری جہاز، اور بعض مواقع پر اتحادی ممالک جیسے کہ برطانیہ اور کینیڈا سے، معمول کے مطابق آبنائے سے گزرتے رہے ہیں، جس سے چین کا غصہ آ گیا ہے جو تائیوان پر اپنی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے اعتراضات کے خلاف دعویٰ کرتا ہے۔

    اگست کے اوائل میں پیلوسی کے تائیوان کے دورے نے چین کو غصہ دلایا جس نے اسے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش کے طور پر دیکھا۔ اس کے بعد چین نے جزیرے کے قریب فوجی مشقیں شروع کیں جو اس کے بعد سے جاری ہیں۔

    امریکی بحریہ نے کہا کہ "یہ (امریکی) جہاز آبنائے میں ایک راہداری سے گزرے جو کسی بھی ساحلی ریاست کے علاقائی سمندر سے باہر ہے۔”

    بحریہ نے کہا کہ یہ آپریشن ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کے لیے ریاستہائے متحدہ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، اور امریکی فوج جہاں بھی بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے وہاں پرواز، بحری جہاز اور کام کرتی ہے۔

    چینی فوج کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ نے کہا کہ وہ بحری جہازوں کا پیچھا کر رہی ہے اور انہیں خبردار کر رہی ہے۔اس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ تھیٹر میں فوجی دستے ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی وقت کسی بھی اشتعال انگیزی کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    تائیوان کی وزارت دفاع نے کہا کہ بحری جہاز جنوبی سمت میں سفر کر رہے تھے اور اس کی افواج مشاہدہ کر رہی تھیں لیکن "صورتحال معمول کے مطابق تھی”۔

    تائیوان کی تنگ آبنائے اس وقت سے فوجی کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے جب سے شکست خوردہ جمہوریہ چین کی حکومت 1949 میں کمیونسٹوں کے ساتھ خانہ جنگی ہارنے کے بعد تائیوان بھاگ گئی تھی، جس نے عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں لایا تھا۔

  • تائیوان نے بہت بڑے فوجی بجٹ کا اعلان کرکےچین کومشکلات میں‌ ڈال دیا

    تائیوان نے بہت بڑے فوجی بجٹ کا اعلان کرکےچین کومشکلات میں‌ ڈال دیا

    تاپی :تائیوان نے بہت بڑے فوجی بجٹ کا اعلان کرکےچین کومشکلات میں‌ ڈال دیا،اطلاعات کے مطابق امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی حمایت سے تائیوان نے ریکارڈ فوجی بجٹ کا اعلان کیا ہے، جس سے بیجنگ کے ساتھ تناؤ مزید بڑھے گا۔

    تائی پے نے جمعرات کو 2023 کے لیے 19.41 بلین ڈالر کے فوجی بجٹ کی نقاب کشائی کی جو کہ کل سرکاری اخراجات کا تقریباً 15 فیصد ہے۔

    تائیوان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف بجٹ، اکاؤنٹنگ اور شماریات کے مطابق، کل بجٹ میں بحری اور فضائی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے نئے لڑاکا طیاروں اور دیگر آلات کے لیے فنڈنگ ​​شامل ہے۔

    کابینہ کے ترجمان نے تائیوان کے وزیر اعظم کے حوالے سے بتایا کہ "قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے، اگلے سال کے لیے مجموعی دفاعی بجٹ 586.3 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا جو کہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔”

    تسائی نے کہا کہ جزیرہ چین کے "دباؤ یا دھمکیوں” کے تحت تبدیل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ، بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر، تائیوان واقعات کو ہوا نہیں دے گا اور نہ ہی تنازعات میں اضافہ کرے گا۔

    چین کا کہنا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے تائیوان کے دورے نے آبنائے تائیوان میں امن کو خراب کرنے والے کے طور پر واشنگٹن کا اصل چہرہ پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔تائی پے پر چین کی خودمختاری ہے، اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ "ایک چائنا” پالیسی کے تحت، تقریباً تمام ممالک اس خودمختاری کو تسلیم کرتے ہیں، یعنی وہ اس کی علیحدگی پسند حکومت کے ساتھ سفارتی رابطہ قائم نہیں کریں گے۔

    امریکہ بھی اس اصول کی پاسداری کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اپنی بیان کردہ پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور بیجنگ کو ناراض کرنے کی کوشش میں، واشنگٹن نے تائی پے میں علیحدگی پسند حکومت کوسہارا دیا، اس کے چین مخالف موقف کی حمایت کی، اور اسے بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا۔ .

    یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں، امریکی ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اس وقت تنازعہ کھڑا کر دیا جب انہوں نے تائی پے کا دورہ کیا اور اس کے صدر سے ملاقات کی جس کا مقصد بیجنگ کی توہین کرنا تھا۔ چین نے اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اور چائنیز تائپے کے ارد گرد کئی دنوں تک فوجی مشقیں کر کے ردعمل کا اظہار کیا۔

    اس کے فوراً بعد، کینیڈا کے قانون سازوں کے ایک گروپ نے کہا کہ وہ خود حکمرانی والے جزیرے کے اپنے دورے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اور بیجنگ کی طرف سے اشتعال انگیزی کے خلاف انتباہ جاری کر رہے ہیں۔