Baaghi TV

Tag: چین

  • دنیا میں کوروناپھرسراٹھانےلگا:بھارت میں 24 گھنٹوں میں‌ 12ہزارسےزائدکورونا کیسز

    دنیا میں کوروناپھرسراٹھانےلگا:بھارت میں 24 گھنٹوں میں‌ 12ہزارسےزائدکورونا کیسز

    نئی دہلی :دنیا بھر میں کورونا نے پھر سے تباہیاں مچانی شروع کردی ہیں ، اوراب تو اپنے ماضی کی طرح بڑی تیزی سے حملہ آور ہورہا ہے ، پاکستان کے ہمسائے میں بھارت میں ایک دن میں کورونا وائرس کے تقریباً 13 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے ملک میں وائرس کی زد میں آنے والے افراد کی مجموعی تعداد 4 کروڑ 32 لاکھ 70 ہزار 577 ہوگئی ہے۔

    پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    بھارت کی وفاقی وزارت صحت سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں لگاتار دوسرے دن 12 ہزار سے زائد کووڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں گزشتہ روز 12 ہزار 213 اور آج 12 ہزار 847 نئے کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔پڑوسی ملک میں یومیہ مثبت کیسز کی شرح 2.47 فیصد ہے جبکہ ہفتہ وار مثبت کیسز کی شرح2.41 فیصد ہے۔

    بھارت میں جمعرات کی صبح سے اب تک 14 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 24 ہزار 817 ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک میں 7 ہزار 985 افراد صحتیاب بھی ہوئے۔

    اس وقت بھارت میں 63 ہزار سے زائد فعال کیسز موجود ہیں اور 24 گھنٹے کے دوران فعال کیسز کی تعداد میں 4 ہزار 848 کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔

    اس دوران سب سے زیادہ متاثر دارالحکومت نئی دہلی ہوا ہے جہاں گزشتہ 10 دن کے دوران 7 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے اور 15 جون تک مثبت کیسز کی شرح بھی 7 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ملک میں بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود محکمہ صحت کے حکام نے وائرس کی ایک اور لہر کے امکانات کو مسترد کردیا ہے۔

  • روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    بیجنگ :روس اپنے آپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائے گا:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف مغربی اورنیٹواتحاد کی سازشوں پراپنا ردعمل دیتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ نےآج روس کے مخالفین پرواضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین "خودمختاری اور سلامتی” پر روس کی حمایت جاری رکھے گا،

    چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ژی نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کو فون کال کرتےہوئے تسلی دی کہ روس کے ساتھ ہرمحاذ پرکھڑے ہیں اورچین اور روس کے درمیان تعلقات پہلے سے بہترہوں گے ،چینی صدر نے کہا ہے کہ "چین بنیادی مفادات اور خودمختاری اور سلامتی کے بارے میں روس کی تشویش کو سمجھتا ہے اورچین کبھی بھی روس کو تنہا نہیں چھوڑے گا

    یاد رہے کہ 24 فروری کو روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ شروع کرنے کے بعد سے یہ جوڑے کی دوسری فون پر بات چیت تھی، جسے ماسکو "خصوصی فوجی آپریشن” کا نام دیتا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روس اس وقت مغربی ممالک اور یورپی یونین کے زیرعتاب ہے اوریورپی یونین اور امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے روس پر تنقید اور سزاؤں کی بارش کر دی ہے، جس سے وہ اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ پابندیوں والا ملک بن گیا ہے۔

    تاہم، بیجنگ نے ماسکو کے یوکرین پرحملے پرروس کی مذمت سے نہ صرف انکار کیا ہے بلکہ یہ واضح کردیا ہے کہ یہ روس کا اندرونی معاملہ ہے جس پربیرونی قوتوں کومداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، چین نے امریکہ اوردیگرامریکی اتحادیوں کے پرزورمطالبے کے باوجود تنازع کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی اقدامات کواختیارکرنے کی اہمیت پرزوردیا ہے

    سرکاری روزنامہ گلوبل ٹائمزکے مطابق چینی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین نے "ہمیشہ خود اس معاملے کی تاریخ اور خوبیوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کیے ہیں،” انہوں نے "تمام فریقوں سے یوکرین کے بحران کے مناسب حل کے لیے ذمہ داری کے ساتھ زور دینے کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا،” اور مزید کہا کہ بیجنگ "اس سلسلے میں اپنا مناسب کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔”

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے پوتن کو یہ بھی بتایا کہ چین اقوام متحدہ، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی فورمز پر "ہم آہنگی بڑھانے کے لیے تیار ہے”۔

  • چین کےاندورنی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے:69 ممالک کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

    چین کےاندورنی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے:69 ممالک کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

    جنیوا:چین کے اندورنی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے:69 ممالک کا اقوام متحدہ سے مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق کل یعنی منگل کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جاری 50ویں اجلاس میں 69 ممالک کے ایک گروپ نے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے انسانی حقوق کا کارڈ استعمال کرنے کی مذمت کی

    اس اہم اجلاس میں ان ممالک کی جانب سے کیوبا نے کونسل کو بتایا کہ سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت کے معاملات چین کے اندرونی معاملات ہیں۔انسانی حقوق کی کونسل نے اس موقع پریہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے مسائل کی سیاست کرنے، دوہرے معیار اور انسانی حقوق کے بہانے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں کیوبا کے مستقل مشن کی کونسلر لیزنڈرا اسٹیاسارن آریاس نے علاقائی ممالک کے گروپ کی طرف سے دستخط کیے گئے ایک مشترکہ بیان کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام اور عدم مداخلت۔ خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات بین الاقوامی تعلقات کو کنٹرول کرنے والے بنیادی اصول ہیں۔

    گستاخانہ بیانات،چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا

    آستیاسرن آریاس نے کہا کہ تمام فریقوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے، اور آفاقیت، غیر جانبداری، معروضیت اور غیر انتخابی اصولوں کو برقرار رکھنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ مختلف ممالک کے لوگوں کے اپنے قومی حالات کی روشنی میں اپنی ترقی کی راہوں کا انتخاب کرنے کے حق کا بھی احترام کریں اور ہر قسم کے انسانی حقوق بالخصوص معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کو یکساں اہمیت دیں۔

    امریکہ سُن لےتائیوان کوچین سے الگ کرنےکامطلب چین سے جنگ ہوگی

    کیوبا کی طرف سے پڑھا جانے والا مشترکہ بیان ہالینڈ، امریکہ اور دیگر ممالک کے اس بیان کا ردعمل تھا جس میں انہوں نے چین کے سنکیانگ ایغور خود مختار علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنے "سنگین تحفظات” کا اظہار کیا تھا۔جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں چین کے مستقل نمائندے چن سو نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل "زیادہ سے زیادہ سیاسی اور تصادم کا شکار ہو گئی ہے” اور "غلط معلومات پھیلی ہوئی ہیں”۔ انہوں نے مزید تعاون اور بات چیت پر زور دیا۔

    کونسل سے اپنے الگ الگ خطابات میں 20 سے زائد ممالک نے چین کے موقف کو سمجھنے اور اس کی حمایت پرعزم مصمم کیا

  • روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    اپریل میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مزاکرات اور اہم ملاقاتیں ہو ئیں – وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان مزاکرات سے پہلے ایک حیرت انگیز ورچوئل سمٹ کا اعلان کیا گیا جو ( سمٹ فارمیٹ ڈائیلاگ )یوکرین میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہوا ہے۔

    بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی مزاکرات کے دوران یوکرینکے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا جبکہ دیگر معاملات پربھارت امریکہ معاہدوںپر اتفاق کیا گیا اور معاندوں کا بھی اعلان کیا گیا ۔جو گزشتہ سال بھارت میں امریکی دفاع اور خارجہ سکریٹریز کے مزاکرات کے تیسرے دور میں کیا گیا. امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارت امریکہ 2+2 وزارتی اجلاس بلایا گیا ہے۔ا

    بھارت امریکہ مزاکرات کوخطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بھارت نے یوکرین میں روسی جارحیت کی مذمت کے لیے مغربی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے روسی تیل کی درآمد روکنے کی امریکی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اور تو اور بھارت نے امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کی توثیق کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا، تاہم بھارتی اقدامات نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہے گا کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے الگ ہو جائےجبکہ امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے پر سخت مایوس ہیں، نائب صدر NSA دلیپ سنگھ جب بھارت آئے اور آکر بتایا کہبھارت کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برائن ڈیز نے کہا کہ سنگھ نے بتایا ہےکہ ماسکو کے ساتھ زیادہ واضح اسٹریٹجک صف بندی کے نتائج اہم اور طویل مدتی ہوں گے۔

    بھارت امریکہ 2+2 وزارتیمزاکرات، روس کا یوکرین پر حملہ اور بھارت کی سخت پوزیشن لینے میں عدم دلچسپیی اخبارات کی زینت بنا رہا۔ لیکن اصل دورے سے پہلے کے دنوں میں امریکی پالیسی سازوں نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سےمنفی پہلو کو اجاگر کرتے رہے. ایشیائی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے.۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے 11 اپریلکے مزاکرات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ امرکہ بھارت مذاکرات کے کے دوران اہم اعلانات کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے کاؤنٹرنگ امریکنز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت بھارت کے خلاف پابندیوں کے ممکنہ اطلاق پر آگے کا راستہ واضح نہیں کیا۔ یہ بھارت کے روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی طویل عرصے سے زیر التوا ء خریداری کے ردعمل میں ہے۔اگرچہ یہ خریداری روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کی ہے، لیکن یہ حملہ پابندیوں بھارتے پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار کر رہا ہے .

    دونوں فریقوں نے سہ فریقی فوجی مشق، ٹائیگر ٹرمف کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ یہ مشق پہلی بار 2019 میں بڑے دھوم دھام سے شروع کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکہ مزاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دیرینہ تجارتی تنازعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اگرچہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مقصد روزمرہ کے تجارتی مسائل کو ہینڈل کرنا نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو تشویش ہے کہ تجارتی تنازعات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    خطے کی حالیہ جیوسٹریٹیجک صورتحال کے نتیجے میں، پاکستان کو روس کے ساتھ 2+2 فارمیٹ کے مذاکرات میں مزید اختلافات کو دور کرنے اور ان کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے جو کہ اب علاقائی انضمام کی کلید ہے۔ پاکستان اور روس دونوں ہی کچھ بنیادی سٹریٹجک شعبوں میں مفادات میں ہم آہنگی رکھتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مزید امکانات فراہم کرے گا۔اسی طرح حال ہی میں ختم ہونے والے بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ نے بھی واشنگٹن کی متعصبانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے.

    حال ہی میں بھارت نے واضح طور پر روس کے خلاف کارروائی میں امریکہ اور مغربی ریاستوں کو پابند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت نے UNGA اور UNSC میں روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ امریکی درخواستوں کو مسترد کرنے کے ان جرات مندانہ اقدامات کے باوجود، بائیڈن انتظامیہ CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    دوسری طرف، امریکہ اور مغربی ریاستیں دوسری ریاستوں پر سخت دباؤ ڈال رہی ہیں جو روس کا ساتھ دے رہی ہیں یا غیر جانبدار ریاستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے خلاف مغربی اور امریکی اقدامات عروج پر ہیں۔ جبکہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ ریاستیں تیزی سے ان کے مخالفانہ اور امتیازی روش کا شکار ہو رہی ہیں۔نتیجتاً، پاکستان کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے لیے روس، چین اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک اب تک پاکستان کے اہم کردار، افغانستان امن عمل میں اس کے مثبت اور قائدانہ کردار اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ امریکی پالیسی نے ہمیں اقتصادی، سیاسی اور سٹریٹجک تعاون کے لیے مغربی کیمپ سے باہر دیکھنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔ روس کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں اضافہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے گا کیونکہ ماسکو کے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا واحد مقصد روس اور چین پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں ان کی اقتصادی پیش رفت کو روکنا ہے۔

  • اگرامریکہ امن چاہتا ہےتوپُرامن رہے،مل بیٹھ کرباہمی اوردنیا کےتنازعات کوحل کرناچاہیے:چین

    اگرامریکہ امن چاہتا ہےتوپُرامن رہے،مل بیٹھ کرباہمی اوردنیا کےتنازعات کوحل کرناچاہیے:چین

    بیجنگ :اگرامریکہ امن چاہتا ہے توپُرامن رہے،مل بیٹھ کرباہمی اوردنیا کے تنازعات کوحل کرنا چاہیے،اطلاعات کے مطابق چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایشیا پیسفک خطے کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے "مشترکہ کوششیں” کرے کیونکہ دونوں فریقین نے خطے کی سلامتی کودونوی بڑی طاقتوں کے درمیان باہمی روابط اورتنازعات کے حل کےلیے مخلصانہ کوششوں‌ سے مشروط قرار دیا مشترکہ کوششوں کا مطالبہ پیر کو لکسمبرگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے ایک اعلیٰ عہدیدار یانگ جیچی اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آیا۔

    تائیوان پر چینی جارحیت ہوئی تو امریکا طاقت کے ساتھ دفاع کرے گا، جوبائیڈن

    بیجنگ سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا کہ یانگ جیچی نے "اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو چین کے ساتھ مثبت بات چیت کرنی چاہیے اور ایشیا پیسیفک خطے کی خوشحالی، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیے۔”

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اپنی نام نہاد انڈو پیسیفک پالیسی کو مضبوط کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے تاکہ وسیع ایشیا پیسفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور فوجی اثر و رسوخ پر قابو پایا جا سکے، نئے دو طرفہ اور کثیر الائنس بشمول Quad، AUKUS، اور Indo-Pacific Economic۔ فریم ورک کے لیے مل بیٹھ کربات چیت کرنا بہت ضروری ہے

    صدرجوبائیڈن کےدورے کےموقع پر شمالی کوریا جوہری تجربہ کرسکتا ہے:جنوبی کوریا

    وائٹ ہاؤس کی طرف سے ایک مختصر اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے”متعدد علاقائی اور عالمی سلامتی کے مسائل کے ساتھ ساتھ امریکہ اورچین کے تعلقات میں اہم مسائل” پر تبادلہ خیال کیا۔دلچسپ بات یہ ہےکہ بیجنگ اور واشنگٹن دونوں نے ملاقات کو "صاف، ٹھوس اور نتیجہ خیز گفتگو” قرار دیا۔چینی مندوب کا کہنا تھا کہ ” سلیوان امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ہمارے دونوں ممالک کے درمیان باہمی بات چیت کو منظم کرنے کے لیے مواصلات کی کھلی لائنوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا،” وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا، جیسا کہ بیجنگ کے بیان میں کہا گیا ہے: "مواصلاتی چینلز کو بلا روک ٹوک رکھنا ضروری اور فائدہ مند ہے۔”

    چینی اور امریکی اعلیٰ حکام کی یہ ملاقات گزشتہ ہفتے کے آخر میں سنگاپور میں ہونے والے شنگری لا ڈائیلاگ میں دونوں ممالک کے دفاعی سربراہان کے بیانات کے بعد ہوئی ہے۔جہاں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے چین پر اپنے علاقائی دعوؤں کے حوالے سے "زیادہ جارحانہ اور جارحانہ” رویہ اپنانے کا الزام لگایا، وہیں چینی وزیر دفاع نے "چین کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کی مکمل حفاظت کرنے کا عزم کیا۔”

    بیجنگ نے کہا کہ یانگ نے اس بات پر زور دیا کہ "قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے بارے میں چین کا موقف غیر واضح اور مضبوط ہے۔”انہوں نے خود مختار تائیوان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "چین کے اندرونی معاملات میں دوسرے ممالک کی مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔”چینی سفارت کار نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کو بتایا کہ "چین کے قومی اتحاد میں رکاوٹ ڈالنے یا کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو جائے گی۔”

    جوبائیڈن مجرم اور فاؤچی ملک کیلئے تباہی ہے،ٹرمپ کی لفظی گولہ باری

    اس موقع پر یانگ نے کہا، "تائیوان کا سوال چین-امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیاد سے متعلق ہے، اور اگر اسے صحیح طریقے سے نہیں سنبھالا گیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے،” یانگ نے مزید کہا: "یہ خطرہ نہ صرف موجود ہے، اوراگرمناسب رویہ اختیارنہ کیا گیا تو یہ بڑھتا رہے گا اورایک خلیج پیدا ہوجائے گی ۔

    یانگ نے افسوس کا اظہار کیا: "اب کچھ عرصے سے، امریکہ نے چین کے خلاف ہمہ گیر کنٹینمنٹ اور جبر کو تیز کرنے پر اصرار کیا ہے۔”انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ "کوئی غلط حساب یا وہم نہ رکھیں۔””اسے ایک چین کے اصول اور چین اور امریکہ کے درمیان تین مشترکہ اعلامیہ کی دفعات کی پابندی کرنی چاہیے۔ اسے تائیوان سے متعلق سوالات کو سمجھداری سے اور مناسب طریقے سے ہینڈل کرنا چاہیے،‘‘

    یانگ نے کہا کہ "امریکہ کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے بجائے، اس نے چین اور امریکہ کے تعلقات کو انتہائی مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے اور دو طرفہ تبادلوں اور تعاون کو بہت نقصان پہنچایا ہے”۔”یہ صورتحال چین، امریکہ اور باقی دنیا کے مفاد میں نہیں ہے،” انہوں نے کہا، واشنگٹن کے ساتھ دو طرفہ تعلقات "ایک اہم دوراہے پر کھڑے ہیں۔”

    یانگ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ "باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور جیت کے تعاون” کے تین اصول "چین اور امریکہ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کا صحیح راستہ ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "چین امریکہ کے ساتھ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے طریقوں اور ذرائع پر بات چیت کے لیے تیار ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ "مقابلے کے ذریعے چین-امریکہ تعلقات کی تعریف کی مخالفت کرتا ہے۔”

  • گستاخانہ بیانات،چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا

    گستاخانہ بیانات،چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا

    بھارتی حکام کی جانب سے پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں گستاخانہ بیانات دینے پر چین کا بھی ردعمل سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : چین نے نبی پاک ﷺ کے بارے میں گستاخانہ بیانات پر ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر تنقید کی ہے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نےگزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ انا اور نسلی و مذہبی امتیاز کو ختم کرنا، اپنے اور دوسروں کے درمیان فرق کو سمجھنا اور تہذیبوں کے درمیان امن و مکالمت کو فروغ دینا انتہائی اہم ہے۔

    مسلمان بھارت میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ معطل کریں،اسلامی تنظیم کے رہنماؤں کی اپیل

    ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں نازیبا بیانات کی وجہ سے نریندر مودی کی حکومت نے بھارت میں جو صورتِ حال پیدا کی ہے امید ہے اُس میں جلد بہتری آجائے گی۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022 کو بھارت میں ایک ٹی وی شو کے دوران بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان ”نوپور شرما” نےآقائے دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ جملہ بولے۔اس کے خلاف بھارتی مسلمانوں نے اندراج مقدمہ کی درخواست دی لیکن اس پر عمل نہ ہوااور پھر پورے ہندوستان میں اس گستاخی کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا۔اس احتجاج کے دوران کئی مسلمان شہید ہوئے۔دیکھتے ہی دیکھتے پوری مسلم دنیا نے اس کا نوٹس لیا۔

    جدید،نیوکلیئراورخطرناک ہتھیاروں میں اضافہ:بھارت کے خطرناک عزائم سامنے آگئے

    سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، انڈونیشیا عراق اردن، لیبیا، کویت، قطر، بحرین مالدیپ، افغانستان اور پاکستان سمیت او آئی سی نے بھی شدید رد عمل دیا یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اپنے ایک بیان میں تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔

    بھارت:گستاخانہ بیان پر احتجاج کرنیوالے مسلم رہنماؤں کے گھر مسمار

  • چین کی پاکستان کودو ارب ڈالرز قرض کی پیشکش

    چین کی پاکستان کودو ارب ڈالرز قرض کی پیشکش

    چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کے عزم کا اظہار کر دیا اور پاکستان کویقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مشکل وقت میں پہلے سے زیادہ عزم اور سرگرمی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دے گا۔ چین نے پاکستان کوکم شرح پردو ارب ڈالرز کے قرضے کی پیشکش بھی کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین میں پاکستانی سفیر کے توسط سے موصول ہونے والی سفارتی رابطے میں پاکستان کوبتایا گیا ہے کہ چینی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کو وسیع اور مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سفارتی رابظے میں مزیدیہ بھی کہا گیا ہے کہ چین ، پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ موجودہ وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

    زرائع کے مطابق سفارتی رابطےمیں چین کی حکومت نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ شہباز شریف ’’اپنے گورننس کے فلسفے‘‘ کی بنیاد پر اُن چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوں جائیں گے جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں۔

    چین نے پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دو ارب ڈالرز کا قرضہ دینے کی تصدیق کی ہے جو کم شرح پر دیا جائے گا اور یہ شرح اس شرح سے بھی کم ہوگی جس پر چین نے اپنے دیگر قریبی دوست ممالک کو قرضہ جات دیئے ہیں۔

    چینی قیادت ،شہباز شریف کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ مطمئن ہے کیونکہ انہیں شہباز شریف کے ساتھ اس وقت بھی کام کرنے میں اطمینان حاصل تھا جب وہ وزیراعلیٰ تھے۔ تو اس وقت ان کی گڈ گورننس کو دیکھ کر ہی چین کی حکومت نے ان کو’’شہباز اسپیڈ‘‘ کا نام دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت حکومت پاکستان آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، جیسے ہی آئی ایم ایف کی ڈیل مکمل ہو جائے گی تو چین پاکستان کی توقعات سے زیادہ مدد کر گا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں تاہم زیادہ تر معاملات آئی ایم ایف کی ڈیل سے جڑے ہیں۔

    دوست ممالک سے ملنے والی مدد اور یقین دہانیوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کو حوصلہ ملا ہے کیونکہ پہلے ہی اسے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ توقع ہے کہ حکومت جلد ہی عمران خان کی دی ہوئی سبسڈی ختم کرنے کیلئے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی۔ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا اور یہ قدم پاکستان کو 30 جون سے قبل اٹھانا ہے۔

  • پاکستان اور چین کےخلاف بھارتی عزائم بےنقاب :بھارتی فضائیہ میں مزید114 جنگی طیاروں کا اضافہ

    پاکستان اور چین کےخلاف بھارتی عزائم بےنقاب :بھارتی فضائیہ میں مزید114 جنگی طیاروں کا اضافہ

    لاہور: پاکستان اور چین کے خلاف بھارتی عزائم بے نقاب ہوگئے:بھارتی فضائیہ میں مزید114 جنگی طیاروں کا اضافہ ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی طرف سے آتمنیر بھر بھارت اسکیم کے تحت ہندوستانی فضائیہ 114 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جن میں سے 96 ہندوستان میں بنائے جائیں گے، اور باقی 18 غیر ملکی وینڈر سے درآمد کیے جائیں گے۔

    بھارتی فضائیہ کا ایک اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    ہندوستانی فضائیہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ‘بائے گلوبل اینڈ میک ان انڈیا’ اسکیم کے تحت 114 ملٹی رول فائٹر ایئر کرافٹ (ایم آر ایف اے) حاصل کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت ہندوستانی کمپنیوں کو غیر ملکی وینڈر کے ساتھ شراکت کی اجازت ہوگی۔

    اس حوالے سے بھارتی وزارت دفاع کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ "حال ہی میں، ہندوستانی فضائیہ نے غیر ملکی دکانداروں کے ساتھ میٹنگیں کیں اور ان سے میک ان انڈیا پروجیکٹ کو پروموٹ کرنے کےلیے طریقہ کے بارے میں مشاورت کی گئی

    ہیلی کاپٹر حادثہ، پائلٹ کا آخری پیغام کیا تھا؟ بھارتی فضائیہ نے روٹ کلیئر کیا تھا…

    بھارتی وزارت دفاع کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت ابتدائی 18 طیارے درآمد کرنے کے بعد اگلے 36 طیارے ملک کے اندر تیار کیے جائیں گے اور ادائیگیاں جزوی طور پر غیر ملکی کرنسی اور ہندوستانی کرنسی میں کی جائیں گی۔

    ذرائع نےبتایا کہ آخری 60 طیارے ہندوستانی پارٹنرکی اہم ذمہ داری ہوں گےاورحکومت صرف ہندوستانی کرنسی میں ادائیگی کرے گی۔ہندوستانی کرنسی میں ادائیگی سے دکانداروں کو پروجیکٹ میں 60 فیصد سے زیادہ ‘میک ان انڈیا’ ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

     

    ڈرون کا خوف، بھارتی فضائیہ نے دی اینٹی ڈرون سسٹم خریدنے کی منظوری

    عالمی طیارہ ساز کمپنیاں بشمول بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، ساب، ایم آئی جی، ارکٹ کارپوریشن اور ڈسالٹ ایوی ایشن کی طرف سے بھارت میں ٹینڈرشامل ہونے کا قوی امکان ہےبھارتی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے دو حریفوں پاکستان اور چین پر اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے ان 114 لڑاکا طیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔

    ہنگامی احکامات کے تحت خریدے گئے 36 رافیل طیاروں نے 2020 میں شروع ہونے والے لداخ بحران کے دوران چینیوں پر برتری برقرار رکھنے میں بے حد مدد کی لیکن یہ تعداد کافی نہیں ہے اور اس کے لیے اس طرح کی مزید صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی فضائیہ پہلے ہی LCA Mk 1A طیاروں کے 83 کے آرڈر دے چکی ہے لیکن اسے اب بھی زیادہ تعداد میں قابل طیاروں کی ضرورت ہے کیونکہ بڑی تعداد میں MiG سیریز کے طیارے یا تو مرحلہ وار ختم ہو چکے ہیں یا اپنے آخری سانسوں پر ہیں۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت کا پانچویں جنریشن کا ایڈوانس میڈیم کمبیٹ ایئر کرافٹ کا منصوبہ تسلی بخش رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن آپریشنل کارروائیوں میں شامل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ انڈین ایئرفورس اپنے لڑاکا جیٹ کی ضرورت کے لیے ایک ایسا حل اورسرمایہ کاری چاہتا ہے کہ جس میں بننے والے جنگی طیارے جو آپریشنل لاگت پر کم ہو اور بہترخدمات سرانجام دے سکیں

  • جدید،نیوکلیئراورخطرناک ہتھیاروں میں اضافہ:بھارت کے خطرناک عزائم سامنے آگئے

    جدید،نیوکلیئراورخطرناک ہتھیاروں میں اضافہ:بھارت کے خطرناک عزائم سامنے آگئے

    لاہور:بھارت نے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ کیا ہے۔ مودی-شاہ-دوول، تینوں – 2014 سے اپنے جوہری پڑوسیوں جیسے چین اور پاکستان کو مشتعل کرکے پورے علاقائی امن کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔پریمیئر مودی کی قیادت میں گرمجوشی پیدا کرنے والی ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے پڑوسیوں کو کمزور بنیادوں پر بدنام کرنے کے کسی بھی موقع کی تلاش میں ہے۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان کا نیوکلیئر بٹن انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور جنگجوؤں جیسے راج ناتھ سنگھ، اجیت ڈوول اور امیت شاہ کے ہاتھ میں ہے، جو آر ایس ایس کا نظریہ رکھتے ہیں۔یہ سیاست دان سیکولر انڈیا کے تصور کو پس پشت ڈال کر ہندو راشٹرا اور اکھنڈ بھارت (متحدہ ہندوستان) کے نام نہاد خواب کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کا بھارتی نیوکلیئر ہتھیاروں کے حوالے سے عالمی برادری سے…

    بھارت میں ماضی میں بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں، جو واضح طور پر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے جدید ترین ہتھیاروں کی حفاظت اور حفاظت کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کے بارے میں نادانی کی نشاندہی کرتے ہیں۔بھارت کی مختلف ریاستوں میں یورینیم کی چوری کے حالیہ واقعات، پاکستان میں میزائل داغنا اور پوکھران فیلڈ فائرنگ رینج (PFFR) سے 3 بموں کا غلط فائر کرنا، ایٹمی ریاست ہونے کے ناطے بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا عملی مظاہرہ ہیں۔یہ واقعات اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت جان بوجھ کر اپنے جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کو مشتعل کرکے خطے میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کر رہا ہے۔ ان بھارتی واقعات کے سرحد پار رہنے والے لوگوں پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور چین کی فوجی طاقت کو جانچ کر بھارت ایک سٹریٹجک غلطی کر رہا ہے۔اسی طرح اسٹرٹیجک ٹریپ کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں جو بھارت میں رپورٹ ہوتے ہیں اور اس نے ہتھیاروں کے تحفظ میں اپنی لاپرواہی بھی ظاہر کی ہے۔ مثال کے طور پر، 2017 میں، ایک راکٹ گائیڈڈ بم پوکھران رینج سے غلط فائر کیا گیا تھا اور ایک اسٹریٹجک لحاظ سے اہم علاقے موہنا گڑھ کے قریب گرا تھا جو پاکستانی سرحد سے چند میل دور ہے۔

    بھارتی وزیردفاع نے رافیل طیارہ ملنے پر کیا رسوم ادا کیں

    حال ہی میں، ہندوستانی فوج نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ اپنی تیز رفتار ردعمل کی صلاحیتوں کو درست کرنے کے لیے پوکھران میں فضائی مشق کی۔ اس مشق میں گائیڈڈ پریسجن ایریل ڈیلیوری سسٹم کے ساتھ جنگی فری فال جمپس اور نقلی دشمن میکانائزڈ ماحول میں جنگی مشقیں شامل تھیں۔ تاہم، ہندوستانی حکومت ان دانستہ اسٹریٹجک غلطیوں کی کوئی منطقی وجہ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ان سٹریٹجک ٹریپس کی تحقیقات میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے بجائے بھارت ناراض بیانات دے کر چین اور پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کر رہا ہے۔ پاکستان اور اس کی سرحد کے قریب میزائل داغنا عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہیں آگے آنا چاہیے اور بھارت پر اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور اس کے روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے ایک مبہم طریقہ کار کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

    دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی تزویراتی حادثہ دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ انہیں ان واقعات کے حوالے سے بھارتی حکومت سے وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ یہ اب سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ فوجی ڈمپ یا ملٹری کمپاؤنڈ میں پھٹ جائیں تو کیا ہوگا؟ اہلکاروں کی جانوں کا بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ لیکن، بھارتی حکومت اپنی سٹریٹجک غلطیوں کے نتائج کو یکسر نظر انداز کر رہی ہے۔حالیہ واقعات سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات کے امکانات ہیں کہ ہندوستانی جوہری بٹن جنگجو ہندو اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ لگ سکتا ہے، جو چین یا پاکستان کے ساتھ بڑے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ بھارتی اقدامات نے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے ایک اور بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کے جوہری ہتھیاروں کے انچارج لوگوں کے پاس روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کو سنبھالنے کی بنیادی صلاحیت ہے؟ کیا یہ واقعی ایک غیر مجاز یا حادثاتی فائرنگ تھی؟ نئی دہلی کی جانب سے واقعہ کو تسلیم کرنے میں طویل تاخیر کیوں کی گئی؟کیا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انتہا پسند دائیں بازو کے ہندو عناصر نے بھارت میں میزائل سسٹم پر قبضہ کر لیا ہے اور اسے جان بوجھ کر پاکستانی حدود میں فائر کیا ہے؟ کیا بھارتی حکومت نے جنوبی ایشیا کے 1.6 بلین لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں؟ یہ تمام سوالات ہندوستانی پالیسی سازوں کی طرف سے جامع جواب کے متقاضی ہیں۔

    کشمیرایک نیوکلیئر ٹائم بم، اقوام متحدہ امن کا عالمی دن کشمیر کے نام کرے، مشعال ملک

    دوسری طرف پاکستان بھارت کے حالیہ سٹریٹجک جال کو طول نہ دے کر سمجھداری سے کام کر رہا ہے۔عالمی برادری اور ہندوستانی دفاعی تجزیہ کاروں نے پاکستان کے پختہ اور بروقت ردعمل کی تعریف کی ہے۔ پاکستان کے پاس اپنے جوہری ہتھیاروں کے لیے جدید ترین سیکیورٹی اور حفاظتی طریقہ کار موجود ہے۔ اب، کچھ پختگی اور سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کی ہندوستانی باری ہے۔ نئی دہلی، ایک بڑے ملک کے طور پر، جغرافیہ کا ایک کشن رکھتا ہے، جب کہ پاکستان، ایک چھوٹے سے علاقے کے عدم تحفظ کی وجہ سے، پہلے استعمال کا جوہری تحفظ کا نظریہ رکھتا ہے۔

    اس کے ہتھیاروں اور ترسیل کے نظام کو پیشگی ہندوستانی حملے سے تباہ کرنے سے بچنے کے لیے، یہ ضروری سمجھتا ہے کہ دشمنی کے پھوٹ پڑنے کی صورت میں پہلے ہندوستان پر حملہ کیا جائے۔ اس سے برصغیر میں صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ آیا ہندوستان کی دھندلاپن نے اس واقعہ میں حصہ ڈالا یا نہیں یہ غیر یقینی ہے۔ ان ابتدائی دنوں میں ہندوستان کی وضاحت کی بدلتی ہوئی نوعیت تسلی بخش نہیں رہی۔ خطرناک ہتھیاروں سے تمام خطرات کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ برنک مین شپ کسی حد تک کام کرتی ہے، کیونکہ بحران کے دوران سامنے آنے والے عمل صرف جزوی طور پر قابل کنٹرول ہوتے ہیں۔ پھر بھی میزائل کا واقعہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ پالیسی سازوں کو کسی وہم میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ ان ہتھیاروں کو مکمل طور پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔

  • چین میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا ،حکام پریشان

    چین میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا ،حکام پریشان

    بیجنگ:چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک بار پھر کورونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی حکومت کے ترجمان نے ہفتے کے روز بتایا کہ شہر میں 61 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ کیسز ان لوگوں سے آئے ہیں جو بار میں گئے یا ان سے رابطے میں آئے۔ ایسے میں بیجنگ میں نئی ​​پابندیاں لاگو کر دی گئی ہیں۔

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ میں کورونا کے حوالے سے نئی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ آبادی والے شہر چاویانگ میں کئی تفریحی مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شنگھائی کے ایک مشہور بیوٹی سیلون سے سامنے آنے والے کورونا کے کیسز کو لگام دینے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم چین میں انفیکشن کی شرح دنیا کے معیارات سے کم ہے۔

    ساری تدبیریں ناکام : چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شہروں میں سخت لاک ڈاون

    چین میں کورونا کی صورتحال پر صدر شی جن پنگ نے کورونا کیسز کی روک تھام کے لیے زیرو کوویڈ پالیسی کے تحت کام کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اسی وقت، بیجنگ میونسپل حکومت کے ترجمان سو ہیجیان نے کہا کہ ہیون سپر مارکیٹ بار سے متعلق کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس میں متاثرہ افراد کی شناخت مشکل ہے۔

    چین میں کورونا ویکسین کی لاکھوں افراد میں کامیاب آزمائش،ہرقسم کے منفی اثرات سے پاک

    ہیجیان نے کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ اب تک بار سے متعلق 115 کیسز سامنے آئے ہیں اور 6,158 لوگ اس سے رابطے میں آئے ہیں۔ ایسے میں اب بیجنگ کی 22 ملین کی آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔