Baaghi TV

Tag: چین

  • اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ نہیں،سمیر احمد

    اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ نہیں،سمیر احمد

    لانژو:28 واں چائنہ لانژو سرمایہ کاری وتجارتی میلہ گذشتہ دنوں چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے صدر مقام لانژو میں اختتام پذیر ہوگیا۔ پانچ روزہ ایونٹ میں اسپین، پاکستان، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے متعدد غیر ملکی کاروباری اداروں نے شرکت کی۔ پاکستان کے کاروباری شخص سمیر احمد نے اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ مل کر میلے میں مختلف قسم کی شاندار دستکاری مصنوعات پیش کیں جن میں ریشمی قالین، کشمیری سکارف اور جیکٹس شامل تھیں۔

    سمیر احمد پانچ سال سے چین میں مقیم ہیں۔ ان کا زیادہ ترکاروبار بیجنگ میں ہے۔ وہ مختلف نمائشوں میں شرکت اور چین کے مختلف اہم شہروں میں اپنی مصنوعات کی نمائشں کرتے ہیں۔وہ شنگھائی، شین ژین، گوانگژو، کنمنگ اور لانژو کے شہروں میں پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ نمائشوں میں اپنی مصنوعات کی تشہیرکے ساتھ ساتھ، سمیر کا انٹرنیٹ کے ذریعے خصوصی پاکستانی اشیا فروخت کرنے کا بھی منصوبہ ہے ۔سمیر احمد کا کہنا ہے کہ چین میں کاروبار کرنا بہت آسان ہے، اس میں کچھ بھی پیچیدہ نہیں ۔” مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ ہے۔

    "ان کا کہنا ہے کہ چینی باشندوں کا غیرملکیوں کے ساتھ خلوص اور دوستانہ برتاو ہے جس کی وجہ سے انہیں کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں بھی بڑی سہولت ملی ہے۔ اس کے علاوہ وہ چین کے مستحکم عوامی تحفظ کے ماحول میں خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں۔سمیر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں آپ جہاں بھی جاتے ہیں، لوگ سب سے اہم ہوتے ہیں۔ لوگ آپ کو تحفظ کا حساس دلاتے ہیں یا لوگ آپ کو یہ محسوس کرواتے ہیں کہ آپ ان میں سے ایک ہیں۔

    سمیر احمد کہتے ہیں کہ جب لوگوں کا رویہ آپ کے ساتھ دوستانہ ہوتا ہے تو کوئی بھی جگہ خوبصورت بن جاتی ہے۔ جب لوگوں کا برتاو آپ کے ساتھ صحیح نہیں ہوتا پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہیں آپ ہمیشہ پریشان رہیں گے۔پہلی بار 1993 میں منعقد ہونے والا یہ میلہ چین کے شمال مغربی علاقے کو دنیا کے لیے کھولنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم اور بیلٹ اینڈ روڈ اقتصادی وتجارتی تعاون کا ایک اہم ایونٹ بن گیا ہے۔

  • چین میں لاجسٹکس کی بحالی عالمی سپلائی چین کے استحکام میں معاون سڑکوں سے ریلوے تک

    چین میں لاجسٹکس کی بحالی عالمی سپلائی چین کے استحکام میں معاون سڑکوں سے ریلوے تک

    بیجنگ:شنگھائی پوڈونگ بین الاقوامی ہوائی اڈے سےجون کے آخر سے لے کر جولائی کے پہلے عشرےتک یو میہ تقریباً 10,000 ٹن سامان کی نقل و حمل ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ چین کی سول ایوی ایشن کے سب سے بڑے لاجسٹک مرکز سے کارگو کی نقل و حمل تقریباً معمول پر آ گئی ہے۔ اس کےساتھ ، چین کے تمام علاقوں میں، سڑکوں سے ریلوے تک، ہوائی اڈوں سے بندرگاہوں تک مصروفیات جاری ہیں .

    بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق حال ہی میں چائنا فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جون میں چین کی لاجسٹکس انڈسٹری کا ترقیاتی انڈیکس 52.1 فیصد تھا، جو توسیع کی حد میں واپس آ یا ہے۔ لاجسٹکس کی بحالی اقتصادی بحالی کی علامت ہے، جو چینی معیشت کی طاقت اور لچک کو ظاہر کرتی ہے اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام کے لیے بھی مضبوط معاونت فراہم کرتی ہے۔

    شنگھائی شپنگ ایکسچینج کی طرف سے چین کی برآمدی کنٹینر ٹرانسپورٹیشن مارکیٹ پر جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، مئی میں، سمندری و دریائی بندرگاہوں کے کنٹینر تھرو پٹ میں اضافہ ہوا۔ جون سے لے کر اب تک شنگھائی پورٹ کا اوسط تھروپٹ آف کنٹینر 125,800 TEUs یومیہ رہا ہے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 95% سے زیادہ ہو گیا ہے۔ پہلے پانچ مہینوں میں، تھیان جن پورٹ کا کنٹینر تھروپٹ 8.47 ملین TEUs تک پہنچ گیا، جس میں سال بہ سال 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا اور ایک تاریخی ریکارڈ رقم ہوا ہے۔ جون کے آخر تک، کارگو تھرو پٹ کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ نینگ بو چو شان پورٹ میں کنٹینر روٹس کی تعداد نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور یہ 300 تک پہنچ گئی ہے۔

    ریلوے ٹرانسپورٹیشن میں ،چائنا ایکسپریس کی چین-یورپ مال بردار ٹرینز مشرقی، وسطی اور مغربی راہداریوں میں بھرپور انداز میں فعال ہیں، جو چین، یورپ اور “دی بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے لیے نقل و حمل کی مستحکم خدمات فراہم کرتی ہیں۔ چائنا نیشنل ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے متعلقہ انچارج نے کہا کہ سال کی پہلی ششماہی میں محکمہ ریلوے نے آلاشان کھو، اع لیان ہاٹ اور مان چو لی جیسی بندرگاہوں کی توسیع و تزین کی اور ایک نئی ریلوے لائن کھول دی جو بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود سے گزرتے ہوئے یورپ میں داخل ہوتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک چائنا ایکسپریس سے کل 7,473 ٹرینیں کے ذریعے 720,000 TEUs روانہ ہوئے ، جن میں بالترتیب 2% اور 2.6% سالانہ کا اضافہ ہوا ہے۔

    چین کے پاس اقوام متحدہ کی صنعتی درجہ بندی کے زمرے میں شامل تمام اقسام ہیں اور وہ عالمی صنعتی و سپلائی چین میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے صنعتی و سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ نومورا سیکیورٹیز کی طرف سے جاری کی گئی ایک حالیہ پیش گوئی کے مطابق انسداد وبا کے اثرات بتدریج کم ہو رہے ہیں اور حکومت کی اقتصادی حوصلہ افزا پالیسیوں کی بدولت چین کی معیشت بحال ہو رہی ہے ۔ لاجسٹکس کے ہموار بہاؤ کا مطلب ہے کہ اندرونی و بیرونی دوہری گردش مزید ہموار ہو رہا ہے، جو عالمی معیشت کی بحالی کے لیے مزید قوت فراہم کرے گی۔

    چین میں کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن کے ترجمان لی کھوئی وین نے 2022 کی پہلی ششماہی میں درآمدات اور برآمدات کی صورتحال سے میڈیا کو آگاہ کیا ہے۔بد ھ کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ ایک پر یس کا نفر نس میں بتا یا گیا ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت 19.8 ٹریلین یوآن رہی ہے جس میں سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد کا اضافہ ہے۔

    ماہرین کے نزدیک چین کی غیر ملکی تجارت نے مسلسل آٹھ سہ ماہیوں سے سالانہ مثبت نمو برقرار رکھی ہےاورغیرملکی تجارت کے پیمانےمیں مسلسل اضافہ ہواہے۔یہ توقع ظاہرکی گئی ہےکہ سال کےدوسرے نصف میں مسلسل ترقی کی رفتاربرقرار رہےگی۔چین اور“بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے درمیان تجارت کی شرح نمو سال کی پہلی ششماہی میں ملک کی بیرونی تجارت کی مجموعی شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور مذکورہ ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات نسبتاً مستحکم ہیں، اور آئندہ ترقی کی صلاحیت لامحدود ہے۔

    دوسری طرف پا ک چین بحری مشقیں شنگھائی کے قریب سمندر اور فضائی حدود میں تیاریاں شروع ،اطلاعات کے مطابق چین اور پاکستان کی بحری افواج کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کے مطابق، دونوں فریق جولائی کے وسط میں شنگھائی کے قریب سمندر اور فضائی حدود میں “سی گارڈینز-2” کے نام سے مشترکہ بحری فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔ یہ چار روزہ مشقیں 10 سے 13 جولائی تک جاری رہیں گی اور یہ مشقیں ایکشن پلاننگ اسٹیج اور میری ٹائم اسٹیج سمیت دو مرحلوں میں تقسیم ہیں ۔ مشترکہ مشقوں کے پلان کے مطابق مشقیں بحری سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔

    مشقوں کے دوسرے مرحلے میں مشترکہ سمندری حملے، مشترکہ حکمت عملی، مشترکہ اینٹی سب میرین، تباہ شدہ بحری جہازوں کی مشترکہ معاونت اور مشترکہ فضائی اور میزائل شکن مشقوں سمیت 9 اقسام کی مشقیں شامل ہیں۔ ان مشترکہ مشقوں کا مقصد فریقین کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانا، فوجی مہارت اور تجربے کا تبادلہ کرنا، دونوں ممالک اور دونوں فوجوں کے درمیان روایتی دوستی کو مزید گہرا کرنا اور چین پاکستان چار موسموں کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی ترقی کو فروغ دینا ہے.

     

     

     

     

    بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان گہرا تعاون اور کئی سالوں سے جاری مشترکہ فوجی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان اٹوٹ روایتی دوستی کی علامت اور نشان بن چکی ہیں۔ ہم حالیہ برسوں میں دونوں افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کی تاریخ کا جائزہ لے سکتے ہیں: 2003 میں “ڈولفن 0310” مشترکہ بحری تلاش اور بچاؤ کی مشقیں، “چین-پاکستان دوستی-2005” میری ٹائم تلاش اور بچاؤ کی مشقیں، 2011 میں انسدادِ بحری قزاقی کی مشترکہ مشقیں، 2014 کی “ہمالیہ ۔ 1” مشترکہ مشقیں، 2015 کی چین-پاکستان “دوست” مشترکہ میری ٹائم مشقیں، 2017 کی چین-پاکستان بحری مشترکہ مشقیں، پہلی “سی گارڈینز-2020″ مشترکہ میری ٹائم مشقیں… دونوں بحری افواج کے درمیان مشترکہ مشقوں کا یہ سلسلہ پاکستان اور چین کی مستحکم اور طویل المدتی دوستی کا مضبوط ترین نشان بن گیا ہے۔

     

    تکنیکی نقطہ نظر سے، عمومی معنوں میں مشترکہ مشقوں سے مختلف، ” سی گارڈینز-2″ کوئی ایسی مشقیں نہیں ہیں جو صرف سیاسی بیانات پر مرکوز ہوں۔یہ مشقیں نہ صرف دونوں بحری افواج کی بحری جنگی صلاحیتوں اور مشترکہ آپریشنز کو مزید مضبوط کریں گی ، بلکہ ان مشقوں کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کے لیے تیار کردہ” ایلفا فریگیٹ پی این ایس تیمور”، جو ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل فیکٹری سے باہر نکلا ہے،کا تجربہ کیا جائے گا۔ پاکستانی بحریہ نے اس نئے جنگی جہاز کو مشق میں شرکت کے لیے استعمال کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فریق بنیادی طور پر اس جہاز کی ٹیکنالوجی اور آپریشن سے واقف ہو گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اصل جنگی مشقوں کے قریب یہ مشقیں پاکستانی بحریہ کو جہاز کی حقیقی جنگی صلاحیت کی تشکیل کو تیز کرنے میں مدد دیں گی۔
    سیاسی نقطہ نظر سے،

    گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل مشترکہ فوجی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روایتی دوستی، سیاسی باہمی اعتماد اور ہمہ گیر تعاون کا ناگزیر نتیجہ ہیں،اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ بلاشبہ ہم اس بات پر بھی زور دینا چاہتے ہیں کہ یہ مشترکہ مشقیں چینی اور پاکستانی بحری افواج کی جانب سے طے پانے والے سالانہ فوجی تعاون کے منصوبے کے مطابق کی گئی ہیں،

    ان مشقوں کا علاقائی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا ہدف کوئی تیسرا فریق نہیں ہے۔ علاقائی اور عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قوت کے طور پر، چینی اور پاکستانی فوجوں کے درمیان تعاون نے بلاشبہ عالمی برادری کے سامنے عالمی امن اور مستقبل کے لیے دونوں ممالک اور دونوں فوجوں کے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔اور یہ مشترکہ بحری مشقیں یقیناً چین پاکستان دوستی اور تعاون کو مزید تقویت دیں گی۔

     

  • آسٹریلیاکاچین پردباو بڑھانےکےلیےانڈوپیسیفک میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا اعلان

    آسٹریلیاکاچین پردباو بڑھانےکےلیےانڈوپیسیفک میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا اعلان

    واشنگٹن:آسٹریلیاکاچین پردباو بڑھانے کےلیےانڈوپیسیفک میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اعلان کیا کہ آسٹریلیا انڈو پیسیفک میں اپنی قومی سلامتی اوراپنی فوجی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اپنا دفاع مضبوط کرے گا

     

    چین مخالف اتحاد”کواڈ”کے سربراہ کا اکٹھ:چین کوسخت پیغام

     

    آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے واشنگٹن میں سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں اہم تقریر کی جہاں وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کے اپنے پہلے دورے پر پیر کو پہنچے تھے۔

     

     

    وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اس موقع پر کہا کہ "کئی دہائیوں میں پہلی بار ہم اپنے تزویراتی جغرافیہ کی حفاظت، اپنے تجارتی اور سپلائی راستوں کی قابل عملیت، اور سب سے بڑھ کر ایک جامع علاقائی ترتیب کے تحفظ کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جس کی بنیاد سب کے متفقہ اصولوں پر رکھی گئی ہے، مارلس نے کہا کہ آسٹریلیا کی نئی لیبر حکومت نے اس مقصدکے لیے فنڈنگ ​​کو یقینی بنانے کا عہد کیا ہے۔

    چین نمبر1دشمن:ہند بحرالکاہل میں کواڈ کےساتھ مل کرچین کووہ سبق سیکھائیں گےکہ نسلیں…

     

    وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے واضح کیا کہ وزارت دفاع نے 2023 کے اوائل میں ترسیل کے لیے ایک فورس پوزیشن کا جائزہ لیا ہے جو اس بات کا تعین کرے گا کہ دفاعی اثاثوں اور اہلکاروں کو کس طرح بہتر بنایا جائے اور امریکہ کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

     

     

    انہوں نے وعدہ کیا کہ "میں سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آسٹریلیا اپنا حصہ ادا کرے گا۔ یہ حکومت پر عزم ہے کہ آسٹریلیا اپنی سیکورٹی پرکسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گا

     

     

    انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آسٹریلیا کسے اپنے ممکنہ مخالفوں کے طور پر دیکھتا ہے لیکن تقریر میں چین کے حوالے سے کئی بار اشاروں میں بات کی ۔ بیجنگ نے آسٹریلیا کے مشرقی ساحل سے 1,200 میل سے بھی کم فاصلے پر اپریل میں جزائر سلیمان کے ساتھ ایک فوجی معاہدہ کیا تھا۔

     

    چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    وزیر نے کہا کہ آسٹریلیا اپنی مسلح افواج کی رینج اورجارحانہ صلاحیت کو بڑھانے میں سرمایہ کاری کرے گا تاکہ "ممکنہ مخالف قوتوں اور انفراسٹرکچر بہترانداز سے کاونٹرکیا جاسکے”،وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہاکہ اس سلسلے میں‌ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹرائیک ہتھیاروں، سائبر صلاحیتوں اور علاقے سے انکار کے نظام کو تیار کرنا بھی شامل ہے

  • چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    بیجنگ :اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 50 واں اجلاس 13 جون سے 8 جولائی تک سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوا۔ چین کی متعدد سماجی تنظیموں نے تحریری صورت میں کانفرنس میں شرکت کی، جس میں چین کی انسانی حقوق کی ترقی اور کامیابیوں کو متعدد زاویوں سے دکھایا گیا اور عالمی انسانی حقوق کے نظم و نسق میں اصلاحات اور بہتری کے لیے فعال کردار ادا کیا گیا۔

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چائنا ایتھنک مینارٹیز ایسوسی ایشن فار ایکسٹرنل ایکسچینجز نے کہا کہ چین ہمیشہ انسانی حقوق کے “عوام پر مبنی” تصور پر عمل پیرا رہا ہے، اور سنکیانگ کی تیز رفتار اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ اور چند مغربی ممالک سنکیانگ کے بارے میں اکثر جھوٹ گھڑتے ہیں، جس کا مقصد چین کی ساکھ کو داغدار کرنا اور چین کی ترقی کو روکنا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا چاہیے اور غلط معلومات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

    چین کی تبتی ثقافتی تحفظ اور ترقیاتی ایسوسی ایشن نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں 70 سال سے زائد ترقی کے بعد تبت میں اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    غیر سرکاری تنظیموں کے عالمی تبادلے کے فروغ کے لیے بیجنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، چینی سماجی تنظیموں نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے تصور کو برقرار رکھا ہے، اور عالمی انسداد وبا تعاون،افرادی روابط کو فروغ دینے ، ثقافتی تبادلوں کو گہرا کرنے اور عالمی ماحولیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے فعال کوششیں کی ہیں۔

    شام میں صورتحال کی بہتری کے لیے سلامتی کونسل کردار ادا کرے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چانگ جون نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ شام میں کراس بارڈر ڈیلیوری کو ختم کرنے کے لیے جلد از جلد ایک واضح ٹائم ٹیبل پیش کیا جائے۔ کراس بارڈر امداد کا طریقہ کار شام کی مخصوص صورتحال پر مبنی ایک عارضی انتظام ہے۔ سلامتی کونسل کو زمینی حقائق کے مطابق اقدامات آگے بڑھانے چاہیے اور کراس بارڈر ریلیف کو کراس لائن اپروچ سے بدلنا چاہیے۔

     

     

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چانگ جون نے کہا کہ شام میں انسانی صورتحال کو بدستور چیلنجز کا سامنا ہے اور چین ہمیشہ انسانیت، غیر جانبداری کے اصولوں کے مطابق شامی عوام کو انسان دوست امداد پہنچانے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی حمایت کرتا ہے۔ چین بھی موئثر ذرائع سے شام کو مختلف قسم کی امداد فراہم کر رہا ہے، مقامی انسانی صورت حال کی بہتری اور اقتصادی اور لوگوں کے معاش میں درپیش مشکلات پر قابو پانے میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

     

    چانگ جون نے کہا کہ یکطرفہ پابندیوں نے شامی حکومت کے وسائل اور تعمیر نو کی صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے اور یہ شام میں انسانی صورت حال کو بہتر بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ چین نے ایک بار پھر متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف یکطرفہ پابندیاں فوری طور پر ہٹائیں تاکہ شام میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

     

     

    سلامتی کونسل کی قرارداد 2585 کا مینڈیٹ اتوار کو ختم ہو رہا ہے۔ چانگ جون نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ہمت نہ ہاریں، مشاورت جاری رکھیں، اور باہمی اعتماد میں اضافہ کریں، زیادہ لچک کا مظاہرہ کریں، اور مینڈیٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد انتظامات کے لیے عملی حل تلاش کریں۔

  • چینی خاتون ایک دہائی تک روس سے متعلق جعلی اور فرضی تاریخ لکھتی رہی

    چینی خاتون ایک دہائی تک روس سے متعلق جعلی اور فرضی تاریخ لکھتی رہی

    چینی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایک چینی خاتون نے 10 سال تک وکیپیڈیا پر روس کی تاریخ سے متعلق سیکڑوں جعلی اور فرضی معلومات درج کیں۔

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی خاتون نے 10 سال تک وکیپیڈیا پر روس کی تاریخ سے متعلق سیکڑوں جعلی اور فرضی معلومات درج کیں وکیپیڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ جعلی معلومات کا اندراج خاتون نے اکیلے ہی کیا خاتون کی شناخت زیماؤ کے نام سے ہوئی-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون نے وکیپیڈیا پر اپنے تعارف میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ روس میں تعینات ایک سفارتکار کی بیٹی ہیں اور ان کے پاس روسی تاریخ کی ڈگری ہے لیکن جب ان کا یہ جھوٹ آشکار ہوا تو انہوں نےاعتراف کیا کہ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں، ان کے پاس صرف کالج کی ڈگری ہے لیکن ان کا تخیل بہت وسیع ہے۔

    رپورٹس کےمطابق خاتون نے 10 سال تک روس کی تاریخ پر 200 جھوٹےآرٹیکلز لکھےجن میں جعلی مقامات، واقعات اور کرداروں کے نام تھےیہ حقیقت اس وقت سامنےآئی جب ایک چینی ناول نگار یفان نےاپنی نئی کتاب لکھنے کے لیے چین کے وکیپیڈیا کو استعمال کرنا شروع کیا-

    یفان کو کاشین کے نام سے چاندی کی کان سے متعلق معلومات بہت دلچسپ لگیں اور وہ اس کے بارے میں پڑھتے رہے بعد ازاں انہوں نے روس کے ذرائع سے چاندی کی کان کے بارے میں جاننا چاہا تو انہیں پتا چلا کہ اس نام کی کوئی کان کبھی تھی ہی نہیں یوں یفان نے مزید ریسرچ کی اور انہیں پتا چلا کہ چینی وکیپیڈیا پر درج تمام معلومات ایک ہی خاتون نے کی ہیں جو جعلی ہیں۔

    یفاؤ کا بنایا گیا روس کا فرضی نقشہ جو اب وکی پیڈیا سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے

    ناول نگار یفان کے انکشاف کے بعد وکیپیڈیا نے اس معاملےکی تحقیقات کیں تو پتا چلا کہ 10 سال سےزائد عرصے تک ایک ہی خاتون مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی روسی تاریخ لکھ رہی تھیں اورانہوں نے سیکڑوں آرٹیکلز لکھے ان آرٹیکلز میں فرضی کہانیاں تھیں، فرضی جنگیں اور فرضی کردار تھے جنہیں جوڑ کر جعلی تاریخ لکھی گئی۔

  • روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی

    روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی

    ماسکو:روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق روسی کمپنیوں نے چین اور بھارت کو انتہائی ضروری اشیا جیسے خام مال کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ چارٹرڈ جہازوں کا اہتمام کیا۔ذرائع کے مطابق مغربی پابندیوں کی وجہ سے مسلسل رکاوٹوں کی وجہ سے روس نے یہ اقدام اٹھایا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی مال بردار جہاز انٹیکو اور چین میں مقیم سوئفٹ ٹرانسپورٹ گروپ نے روس کے مشرق بعید میں ووسٹوچنی اور چین کے بندرگاہی شہروں کے درمیان کنٹینر شپنگ خدمات پیش کرنے کے لیے لائنر آپریٹنگ ذیلی کمپنیاں مشترکہ طور پر بنائی ہیں۔

    بیجنگ اور نئی دہلی نے ماسکو پر مغربی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ معمول کے مطابق اقتصادی اور تجارتی تعاون جاری رکھیں گے۔اس سال تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا، دونوں ممالک نے رعایتی روسی توانائی کی درآمدات میں اضافہ کیا۔

    کسٹمز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے مئی کے آخر تک تین مہینوں میں روسی تیل، گیس اور کوئلے پر تقریباً 19 بلین ڈالر خرچ کیے، جو ایک سال پہلے کی رقم سے تقریباً دوگنا ہے۔ ہندوستان نے اسی مدت میں 5.1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو کہ ایک سال پہلے کی قیمت سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

  • چین اور روس نے معمول کے تبادلوں کو برقرار رکھا ہے، چینی وزیر خا رجہ

    چین اور روس نے معمول کے تبادلوں کو برقرار رکھا ہے، چینی وزیر خا رجہ

    بیجنگ:چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، چین اور روس نے دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں معمول کے تبادلوں کو برقرار رکھا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو منظم انداز میں فروغ دیا ہے، جس سے دو طرفہ تعلقات کے مضبوط لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ چین برکس سمٹ میں روس کی فعال شرکت اور عالمی ترقی کو فروغ دینے میں اس کی خدمات کو سراہتا ہے۔ ہم سمٹ کے اہم نتائج کو نافذ کرنے، پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے فروغ کو تیز کرنے، ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی انصاف کے تحفظ کے لیے روس سمیت تمام فریقوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ان خیا لا ت کا اظہار چینی وزیر خا رجہ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات میں کیا۔

    لاوروف نے چین کو برکس سمٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ روس دونوں ممالک کے عوام کو بہتر طور پر فائدہ پہنچانے کے لیے دوطرفہ تعاون کے شعبوں اور پیمانے کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ روس گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو سمیت اہم تصورات کی حمایت کرتا ہے اور چین کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط بنائے گا۔

    چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ چین سب سے پہلے سرد جنگ کے تصور کو بھڑکانے، کیمپ کے تصادم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے، اور “نئی سرد جنگ” پیدا کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ان خیا لات کا اظہار چینی وزیر خا رجہ نےبھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے ساتھ گفتگو میں کیا ۔ اس مو قع پر وانگ ای نے یوکرین کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تین نکات نظر پر روشنی ڈالی ۔

    انہوں نے کہا کہ چین دوہرے معیارات کی مخالفت کرتا ہے جو چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چین یوکرینی بحران کا تائیوان کے مسئلے سے موازنہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے اور اپنے بنیادی مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔

    چین دوسرے ممالک کے جائز ترقیاتی حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچانے کی مخالفت کرتا ہے۔ کچھ ممالک نے یوکرین کے بحران کے بہانے کے طور پر چین اور دیگر ممالک پر اندھا دھند یکطرفہ پابندیاں عائد کیں۔ جو غیر قانونی ہیں، جس سے ملکوں کے درمیان معمول کے تبادلے کو نقصان پہنچایا گیا، بین الاقوامی تجارت کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، اور یوکرین کے بحران کو پیچیدہ بنایا گیا۔

    چین کے بارے میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے نامناسب بیان کے جواب میں، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ متعلقہ امریکی سیاست دانوں نے ہمیشہ "چین کے خطرے” کو ہوا دی ہے اور چین کو بدنام کیا ہے ۔ درحقیقت، اپنی بالادستی اور مفادات کے تحفظ کے لیے، امریکہ نے بارہا اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی، مختلف ممالک میں جنگیں شروع کیں، اور غیر معقول طور پر دیگر ممالک کی کمپنیوں کو دبایا، یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ عالمی امن اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ہم اس امریکی اہلکار کو کہتے ہیں کہ وہ چین کی ترقی کو دیکھیں، جھوٹ اور افواہیں پھیلانا اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا بند کریں۔

    جمعہ کے روز چینی میڈیا کےمطا بق ”برطانوی اہلکار کے بیان کے حوالے سے چاؤ لی جیان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ برطانوی انٹیلی جنس سروسز خاص طور پر "جاسوسی کرنے” میں اچھی ہیں۔ برطانیہ نے خطرناک رپورٹیں شائع کیں جن کا مقصد "چین کے خطرے کے نظریہ” کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور تصادم کو ہوا دینا ہے۔ چین نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ چین کی ترقی کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا یا کسی کی جگہ لینا نہیں، بلکہ چینی عوام کو خوشحال اور خوبصورت زندگی دینا ہے۔

    دوسری طرف چین نے خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان کی علیحدگی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا یا جا ئے گا: چین کی فوجی مشق کا مقصد تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے،کسی دوسرے ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں

    چائنیز پیپلز لبریشن آرمی کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ نے تائیوان جزیرے کے ارد گرد فضائی اور سمندری علاقوں میں کثیر خدماتی مشترکہ جنگی تیاری کے گشت اور حقیقی جنگی مشقیں کیں ۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چیاؤ لی جیان نے کہا کہ آبنائے تائیوان کی مرکزی لائن پر چین کا موقف واضح اور مستقل ہے اور اس حوالے سے تائیوان حکام کی طرف سے سیاسی جوڑ توڑ کامیاب نہیں ہو گا۔

    چیاؤ لی جیان نے کہا کہ چین کی فوجی مشق کا مقصد بیرونی مداخلت اور تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔چین مضبوطی کے ساتھ ملک کے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کرے گا اور "تائیوان کی علیحدگی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائے گا۔

  • امریکہ نےایران پرمزید پابندیاں عائد کیں توچین نےمذمت کردی

    امریکہ نےایران پرمزید پابندیاں عائد کیں توچین نےمذمت کردی

    واشنگٹن:امریکہ نے بدھ کے روز ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔دوسری طرف چین نے بھی اس امریکی رویے کی شدید مذمت کی ہے پارس ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کی شدید مخالفت کی ہے۔

     

     

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژائو لیجیان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین ہمیشہ ہی امریکہ کے یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کا مخالف رہا ہے اور واشنگٹن سے ہم نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اپنی غلط روش اور پالیسی کو ترک کر کے ایران کے جوہری معاہدے پر عمل در آمد کیلئے مثبت کردار ادا کرے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین کے دائرے میں بیجنگ کے تہران کے ساتھ تعلقات ہیں اور ہمارے یہ تعلقات مثبت اور قانونی ہیں اور اس سے کسی بھی فریق کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے بدھ کے روز ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے 2 ایرانی شخصیات ،13 ایرانی اداروں اور 2 تیز رفتار بحری جہاز(ships) کو اپنی غیر قانونی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔

    امریکہ کے اس اقدام کو 2015 کے ایران جوہری معاہدے کی بحالی پر بات چیت کے دوران تہران پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات کو آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

     

     

    بائیڈن انتظامیہ نے یہ پابندیاں ایسے میں عائد کی ہیں جب کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسیوں کی ناکامی کا بار بار اعتراف کر چکے ہیں۔ لیکن امریکی سیاستدان، ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں، پابندیوں کے اتنے عادی ہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ دباؤ اور پابندیوں کا سہارا لیتے رہنے پر مجبور ہیں۔

     

     

    امریکی محکمۂ خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے افراد اور اداروں کے ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کا پتہ لگایا ہے جس نے کروڑوں ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فرنٹ کمپنیوں کے ویب کا استعمال کیا ہے۔

  • کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے واپس آنے والے پاکستانیوں‌ کو آن لائن رجسٹریشن کا پیغام

    کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے واپس آنے والے پاکستانیوں‌ کو آن لائن رجسٹریشن کا پیغام

    اسلام آباد:کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے واپس آنے والے پاکستانیوں‌ کو آن لائن رجسٹریشن کا پیغام،اطلاعات کے مطابق ہائیرایجوکیشن کمیشن نے اعلان کیاہے کہ جوپاکستانی طالب علم چین میں زیرتعلیم تھے اورکووڈ کے دنوں میں وہ پاکستان واپس آگئے تھے وہ دوبارہ سے چینی تعلیمی اداروں سے منسلک ہونے کےلیے آن لائن رجسٹرین کرلیں ،

    پاکستانی طلباکے لیے مشکلات کیوں ؟ زلفی بخاری نے چینی حکام کے ساتھ معاملہ اٹھا دیا

    ہائیرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جاری پیغام میں کہا گیا ہےکہ وہ پاکستانی طالب علم چینی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کی پہلی کھیپ، جو COVID-19 کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے تھے، 20 جون 2022 کو کامیابی کے ساتھ واپس چین پہنچ گئے ہیں‌، اور لازمی قرنطینہ مدت مکمل کرنے کے بعد اپنے اداروں میں شامل ہوئے۔

    مگر وہ طالب علم جوکہ ابھی تک پاکستان میں‌ ہیں‌ وہ باقی طلباء جو اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنے کے لیے چین واپس جانا چاہتے ہیں انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی انفارمیشن اوربائیوڈیٹا درج کریں:

    چینی تعلیمی اداروں کے پاکستانی طلبا کی مشکلات، شیخ رشید میدان میں آ گئے

    ہائیرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے مزیدکہا گیا ہے کہ مزید برآں، طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 21 جولائی 2022 تک درست، قابل اعتماد اور درست معلومات پُر کریں۔ جمع کرائی گئی معلومات کی مزید طریقہ کار اور تصدیق کے لیے معلومات چینی حکام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

     

    وزیرخارجہ کا بیجنگ میں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے پورٹل…

    یاد رہے کہ چین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی پاکستان واپسی اورپھرپاکستان سے واپس چینی یونیورسٹیوں میں تعلیم کا معاملہ باغی ٹی وی نے حکام کے سامنے کئی بار پیش کیا ہے اوراس سارے معاملے کوحل کرنے کے لیے مسلسل اداروں سے رابطے میں رہے‌ہیں ، اس موقع پرباغی ٹی وی اپنے ان پاکستانی طلبا کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے جوواپس چین پہنچ چکے ہیں اورجو ابھی پاکستان میں موجود ہیں ان کی واپسی کے لیے کوششوں کے ساتھ دُعا گو بھی ہے

    وہان میں‌پھنسے پاکستانی طلبا کی جان میں جان آگئی ، کپتان کی بات بھی یاد آگئی

  • چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    بیجنگ :امریکی خلائی ادارے ناسا کے چیف آف اسٹاف بل نیلسن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین کے خلائی منصوبے فوجی آپریشن کے تحت جاری ہیں جب کہ امریکہ پرامن،غیر فوجی خلائی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس بیان کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بل نیلسن کا بیان حقائق کے منافی ہے۔خلا میں فوجی مشق امریکہ کرتا ہے جب کہ چین خلا کا پرامن استعمال کر رہا ہے اور اس میں عالمی تعاون کو بھی مثبت انداز میں فروغ دے رہا ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں چاؤ لی جیان نے کہا کہ تین مشترکہ اعلامیے، چین -امریکہ تعلقات کا ” حفاظتی حصار” ہیں اور ان کی پاسداری کی جانی چاہیئے۔

    اس سے پہلے چائنا سینٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ویں عالمی تھنک ٹینک سمٹ میں کئی سیمینار منعقد ہوئے۔ “عالمی معیشت کی متوازن بحالی” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں شریک ملکی اور غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کا خیال تھا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد کمزور ہے اور ترقیاتی عدم توازن بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو عالمی معیشت کی متوازن بحالی کو فروغ دینے کے لیے اتفاق رائے کو بڑھانا چاہیے، تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کےمطا بق کوریا انسٹی ٹیوٹ فار فارن اکنامک پالیسی کے ڈائریکٹر کم ہیونگ جونگ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی جدت طرازی کی قیادت میں پیداوری قوت میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر کے دور میں، تخلیقی ٹیکنالوجیز کی زیادہ ضرورت ہے، اور بین الاقوامی تعاون اس طرح کی تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک سمپوزیم بعنوان ’’عالمی تجارت کے لیے نئے قوانین بنانے کے لیے گفت و شنید کریں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرین کا خیال تھا کہ بین الاقوامی تجارت میں نئے حالات کے پیشِ نظر، موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ترقی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قوانین میں بہتری کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔

    چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لونگ گو چھیانگ نے کہا کہ چین کاربن میں کمی اور کم کاربن کی تبدیلی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے گا، جو عالمی سبز اور کم کاربن کی تبدیلی کے لیے ایک اہم محرک ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ سبز ترقی کا تصور بین الاقوامی تجارت پر زیادہ اثرات ڈالے گا۔
    آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے دورہ سنکیانگ میں ای لی قازق خوداختیار پریفیکچر کا دورہ کیا جو قدیم شاہراہ ریشم کے شمالی حصے کا اہم گڑھ تھا۔ای لی اپنے خوبصورت مناظر اور مختلف قومیتوں کی رنگا رنگ ثقافت کی بدولت سیاحوں کے لیے بے حد کشش رکھتا ہے۔

    جمعرات کےروزچینی میڈ یا کےمطابق آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 صحافی سنکیانگ میں اقتصادی ترقی، قومی اتحاد،سماجی ہم آہنگی ، ماحولیاتی تحفظ،دیہی احیاء اور ثقافتی ترقی کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کی شاندار کہانیاں جاننے کے لیےتین جولائی سے سنکیانگ کے مشترکہ دورے پر ہیں ۔ 1992 میں شروع ہونے والی یہ سرگرمی اب آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان صحافیوں کے تبادلوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

    85سال پہلے آج کے دن چینیوں کے جزبہ کوسلام پیش کرتے ہیں :چین حکومت کا پیغام ،اطلاعات کے مطابق چینی میڈ یا کے مطا بق 7 جولائی کے سانحے کی 85 ویں برسی جمعرات کے روز منا ئی گئی ۔ اسی روز 7 جولائی 1937 کو جاپانی عسکریت پسندوں نے چین کے خلاف جارحیت کی ہمہ جہت جنگ کا آغاز کیا تھا۔جاپان مخالف آٹھ سالہ سخت اور کٹھن جنگ کے دوران، چینی فوج اور عوام نے خونریز لڑائیاں لڑیں، عظیم قومی قربانی کے ساتھ فسطائیت مخالف جنگ میں حتمی فتح حاصل کی، اور اپنے خون سے چینی تہذیب اور عالمی امن کا دفاع کیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 7 جولائی کو چینی عوام اس دن کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں، کیونکہ صرف تاریخ کو ذہن میں رکھ کر اور ایک مضبوط ملک بنا کر ہی تاریخی سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم اپنی قومی تذلیل کو نہیں بھولیں گے، اس لئے ہم امن کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ چینی عوام کی امن سے محبت اور دفاع کے عزم کا اظہار ہے .

     

    تاہم، چین کے پرامن ابھرنے کے پیشِ نظر، مغربی ممالک میں کچھ لوگ ہمیشہ چین کو سمجھنے کے لیے مغربی طرز فکر اور منطق کا استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ چین کے پرامن ابھرنے کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور چین کو ایک مغربی طرز کا تسلط پسند ملک سمجھتے ہیں جو موجودہ ورلڈ آرڈر پر حملہ کرنے والا ہے۔ نام نہاد “تھوسیڈائڈز ٹریپ”تھیوری سے لے کر مختلف “چین کے خطرے کے نظریات” تک، ان غلط فہمیوں نے چین کے ترقی کے رجحان اور مشرق اور مغرب کے درمیان معقول تبادلے اور تعلقات کے بارے میں لوگوں کی عقلی سمجھ کو شدید متاثر کیا ہے۔

     

     

     

    اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے 2015 میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک تقریر میں نشاندہی کی تھی کہ دنیا میں کوئی “تھوسیڈائڈز ٹریپ” نہیں ہے، لیکن بڑی طاقتوں کے درمیان بار بار ہونے والی تزویراتی غلط فہمیاں اپنے لیے “تھوسیڈائڈز ٹریپ” پیدا کر سکتی ہیں۔ ” بعد میں ایک انٹرویو میں، صدر شی نے دوبارہ زور دیا “ہم سب کو “تھوسیڈائڈز ٹریپ” میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نظریہ کہ ایک طاقتور ملک ضرور تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرےگا، چین پر لاگو نہیں ہوتا، اور چین کے پاس اس طرح کے اقدامات کرنے کے لئے جینز نہیں ہیں۔ ”

    غیر ملکیوں کے جارحیت کے تاریخی سانحے اور قومی مصائب کی دردناک یاد کے پیشِ نظر ،چینی عوام امن کی قدر کو اور بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ 5000 سال سے زائد عرصے سے تہذیب کے عمل میں چینی قوم نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کے تصور کی پیروی کی ہے ۔ چین کبھی تسلط کی کوشش نہیں کرے گا، چین کبھی توسیع میں مشغول نہیں ہو گا ، اور ہم کبھی بھی دوسرے لوگوں پر اس المناک تجربے کو مسلط نہیں کریں گے جس کا تجربہ ہم نے خود کیا ہے۔دوسری طرف ، بلاشبہ بالادست طاقتوں کی غنڈہ گردی کے سامنے چینی عوام کبھی سر نہیں جھکائیں گے، ہم قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدیدیت پر انحصار کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ، ہم دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔

     

     

    یہ لکھتے ہوئے مجھے ایک “موت کا جھنڈا” یاد آ رہا ہے جو میں نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوامی جنگ کے